Explained with ayahs 25–26
اصحاب کہف کتنا سوئے ؟
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ؑ کو اس مدت کی خبر دیتا ہے، جو اصحاب کہف نے اپنے سونے کے زمانے میں گزاری کہ وہ مدت سورج کے حساب سے تین سو سال کی تھی اور چاند کے حساب سے تین سو نو سال کی تھے۔ فی الواقع شمسی اور قمری سال میں سو سال پر تین سال کر فرق پڑتا ہے، اسی لئے تین سو الگ بیان کر کے پھر نو الگ بیان کئے۔
پھر فرماتا ہے کہ جب تجھ سے ان کے سونے کی مدت دریافت کی جائے اور تیرے پاس اسکا کچھ علم نہ ہو اور نہ اللہ نے تجھے واقف کیا ہو تو تو آگے نہ بڑھ اور ایسے امور میں یہ جواب دیا کر کہ اللہ ہی کو صحیح علم ہے، آسمان اور زمین کا غیب وہی جانتا ہے، ہاں جسے وہ جو بات بتادے وہ جان لیتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
سورة الْكَهْف 25
اس فقرے کا تعلق ہمارے نزدیک جملۂ معترضہ سے پہلے کے فقرے کے ساتھ ہے۔ یعنی سلسلۂ عبارت یوں ہے کہ " کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا،۔۔۔۔۔۔۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور بعض لوگ اس مدت کے شمار میں نو سال اور بڑھ گئے ہیں "۔ اس عبارت میں 3 سو اور نو سال کی تعداد جو بیان کی گئی ہے ہمارے خیال میں یہ دراصل لوگوں کے قول کی حکایت ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کا اپنی قول۔ اور اس پر دلیل یہ ہے کہ بعد کے فقرے میں اللہ تعالیٰ خود فرما رہا ہے کہ تم کہو، اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت رہے۔ اگر 309 کی تعداد اللہ نے خود بیان فرمائی ہوتی، تو اس کے…
Read the full tafseer →ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصحاب کہف کے معاملے میں خود ان کے زمانے میں، پھر عہد نبوی کے اندر یہود و نصاری میں دو باتیں زیر اختلاف تھیں ایک اصحاب کہف کی تعداد دوسری غار میں ان کے سوتے رہنے کی مدت، قرآن نے ان دونوں کو بیان تو کردیا، مگر اس فرق کے ساتھ ان کی تعداد کا بیان صریح الفاظ میں نہیں آیا، اشارے کے طور پر آیا، کہ جو قول صحیح تھا اس کی تردید نہیں کی اور مدت کی تعیین کو صاف وصریح الفاظ میں بتلایا وَلَبِثُوْا فِيْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا وجہ یہ ہے کہ قرآن نے اپنے اس اسلوب سے اس طرف اشارہ فرمایا کہ تعداد کی بحث تو بالکل ہی فضول ہے، اس سے کسی دینوی دینی مسئلہ…
Read the full tafseer →وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا۔
آیت 25 کا تعلق اوپر کے الفاظ سے : آیت 22 سے جو جملہ معترضہ شروع ہوا تھا وہ آیت 24 پر ختم ہوا۔ اب یہ آیت انہی اقوال سے متعلق ہے جو اوپر اصحابِ کہف کی تعداد سے متعلق نقل ہوئے ہیں۔ یعنی جس طرح وہ ان کی تعداد کے بارے میں یہ کہیں گے اسی طرح غار میں ان کی مدت قیام سے متعلق دعوی کریں گے کہ وہ غار میں تین سو سال اور مزید برآں نو سال رہے۔ عام طور پر لوگوں نے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر کے مفہوم میں لیا ہے لیکن ہمارے نزدیک ان کی مدت قیام کے باب میں قرآن نے کوئی قطعی بات نہیں کہی ہے۔ آیت 11 میں سنین عددا کے الفاظ ہیں۔ وہ اس بات…
Read the full tafseer →25۔ 1 جمہور مفسرین نے اسے اللہ کا قول قرار دیا ہے۔ شمسی حساب سے تین سو سال اور قمری حساب سے 39 سال بنتے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ انھیں لوگوں کا قول ہے جو ان کی مختلف تعداد بتاتے ہیں، جس کی دلیل اللہ کا یہ قول ہے ' کہ اللہ ہی کو ان کے ٹھرے رہنے کا بخوبی علم ہے ' جس کا مطلب وہ مذکورہ مدت کی نفی لیتے ہیں۔ لیکن جمہور کی تفسیر کے مطابق اس کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب یا کوئی اور اس بتلائی ہوئی مدت سے اختلاف کرے تو آپ ان سے کہہ دیں کہ تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ جب اس نے تین سو نو سال مدت بتلائی ہے تو یہی صحیح ہے کیونکہ وہی جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت غار میں رہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
18: جب آنحضرت ﷺ سے اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، اس وقت آپ نے سوال کرنے والوں سے ایک طرح کا وعدہ کرلیا تھا کہ میں اس سوال کا جواب کل دوں گا، اس وقت آپ انشاء اللہ کہنا بھول گئے تھے اور آپ کو یہ امید تھی کہ کل تک وحی کے ذریعے آپ کو ان واقعات سے باخبر کردیا جائے گا، اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ مستقل ہدایت عطا فرمائی کہ کسی بھی مسلمان کو آئندہ کے بارے میں کوئی بات انشاء اللہ کہے بغیر نہیں کہنی چاہیے، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں چونکہ آپ نے انشاء اللہ نہیں فرمایا تھا اس لئے اگلے روز وحی نہیں آئی ؛ بلکہ کئی روز کے بعد وحی آئی اور اس میں…
Read the full tafseer →یہ ہے ان کے بارے میں فیصلہ کن بات۔ اللہ جو عالم ہے غیوب السموات والارض کا اس نے یہ اطلاع دے دی۔ وہی ہے جو بہترین سننے والا ہے اور وہی ہے جو بہترین دیکھنے والا ہے۔ اس اعلان کے بعد کسی کے لئے کوئی بحث وجدال کی گنجائش نہیں ہے۔
اس قصے پر اب یہ تبصرہ سامنے آتا ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ولی ہے اور اس کے حکم اور اس کے قانون میں بھی کوئی شریک نہیں ہے۔
Read the full tafseer →5 یعنی شمسی حساب سے پورے تین سو سال کھوہ میں سوتے رہے اور قمری حساب سے نو سال زیادہ ہوئے (مہینوں اور دنوں کی کسور محسوب نہیں کی گئیں) یا تین سو سال کے بعد ممکن ہے قدرے نیند سے چونکے ہوں پھر سو گئے اور نو سال تک سوتے رہے۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ تین سو نو سال جاگنے کے بعد سے عہد نبوی ﷺ تک کی مدت بیان فرمائی۔ یعنی لوگوں سے مل ملا کر پھر سو رہے جس کو آپ ﷺ کے زمانہ تک اتنا عرصہ گزرا واللہ اعلم۔
(لطیفہ) ہمارے زمانہ میں صوبہ زیشوان میں ایک شخص دو سو باون سال کی عمر رکھتا ہے۔ چوبیسویں شادی ابھی حال میں کی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 25 وَلَبِثُوْا فِيْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا
یعنی غار میں ان کے سونے کی مدت شمسی کیلنڈر میں تین سو سال جبکہ قمری کیلنڈر کے مطابق تین سو نو سال بنتی ہے۔
Read the full tafseer →25 اصحاب کہف کے غار میں سونے کی مدت :۔ یہ مدت شمسی تقویم کا حساب رکھنے والوں کے مطابق تین سو سال تھی اور قمری تقویم کا حساب رکھنے والوں کے مطابق تین سو نو سال تھی۔
اس آیت میں مذکور مدت اس لحاظ سے تو ٹھیک ہے کہ اگر مہینوں اور دنوں کی کسور کو چھوڑ دیا جائے تو تین سو شمسی سالوں کے قمری سال تین سو نو ہی بنتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ آیا یہ مدت کی تعیین اللہ کا کلام ہے یا لوگوں کے اقوال ہیں جو یہاں اللہ تعالیٰ نے حکایتاً نقل فرمائے ہیں تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ یہ لوگوں کے اقوال ہیں اگر یہ اللہ کا قول ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس سے اگلی آیت میں یوں نہ فرماتے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنی مدت وہ (غار…
Read the full tafseer →39۔ یعنی حساب شمسی مسیحی رکھو تو پورے تین سو سال اور حساب قمری اسلامی رکھو تو 309 سال تین سال کا فرق ہر صدی میں سنہ قمری اور سنہ شمسی کے در میان ہوجایا کرتا ہے۔ اکابر سلف سے بھی یہی سہل تفسیر مروی ہے۔ بلکہ ایک روایت میں تو خود حضرت علی ؓ سے ہے۔ حکی التقاش انھا ثلث ماءۃ شمسیۃ ولما کان الخطاب للعرب زیدت التسع اذ حساب العربیۃ ھو بالقمر لاتفاق الحسابین (بحر) روی عن علی ؓ انہ قال عند اھل الکتاب انھم لبثوا ثلثماۃ شمسیۃ واللہ تعالیٰ ذکر ثلثماءۃ قمریۃ (معالم) کان مقدارہ ثلثماءۃ سنۃ تزید تسع سنین بالھلالیۃ وھی ثلثماءۃ سنۃ بالشمسیۃ فان تفاوت مابین کل ماءۃ سنۃ بالقمریۃ الی الشمسیۃ ثلاث سنین (ابن کثیر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
آیت نمبر 21 تا 26
ترجمہ : اور ہم نے اسی جس طرح کہ ان کو بیدار کیا، ان کے حالات پر ان کی قوم کو اور مومنین کو مطلع کردیا تاکہ ان کی قوم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کا بعث بعد الموت کا وعدہ حق ہے، اس طریقہ پر کہ جو ذات اصحاب کہف کو ایک طویل زمانہ قیامت میں کوئی شک نہیں ہے اِذ، اَعْثَرنَا کا معمول ہے اور جبکہ مومنین اور کفار آپس میں ان نوجوانوں کے لئے (یاد گار کے طور) عمارت کے بنانے میں اختلاف کر رہے تھے، چناچہ کفار نے کہا ان کے اردگرد کوئی یادگاری عمارت بنادو کہ جو ان کو مستور کر دے ان کا رب ان کے احوال سے خوب واقف ہے (آخر کار) ان لوگوں نے جواب نوجوانوں کے معاملہ میں غالب رہے اور وہ مومنین تھے کہ…
Read the full tafseer →وَلَبِثُوْا فِيْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا : اور اصحاب کہف اپنے غار میں تین سو
برس سے نو برس زیادہ (سوتے) رہے۔ پہلے مجمل طور پر فرمایا تھا فَضَرَبْنَا عَلٰی اٰذَانِہِمْ فِی الْکَہْفِ سِنِیْنَ عَدَدًا اس آیت میں تفصیل فرما دی اور تعداد بتادی۔
قتادہ نے کہا اللہ نے اہل کتاب کا یہ قول نقل کیا ہے اہل کتاب اصحاب کہف کے سوتے رہنے کی معین تعداد بیان کرتے تھے اس قول کو اللہ نے ذکر کیا اور پھر اس کی تردید میں فرمایا۔ اگلی آیت میں۔
Read the full tafseer →(25) اور وہ غار میں بیدار ہونے سے پہلے تین سو نو سال تک رہے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”۔ والبثوا فی کہفہم“۔ (الخ)
ابن مردویہ ؒ نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”ولبثوا فی کہفھم ثلث مائۃ“۔ تو آپ سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ اس سے تین سو سال مراد ہیں یا تین سو مہینے پھر اس پر یہ جملہ نازل ہوا۔ (آیت) ”سنین وازدادواتسعا“۔ یعنی تین سو برس تک رہے اور نو برس اوپر اور ہے۔
Read the full tafseer →وَلَبِثُوْا فِيْ كَهْفِهِمْ۔۔ : بعض مفسرین نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نو سالوں کا ذکر الگ اس لیے فرمایا کہ اگر شمسی سال ہوں تو تین سو سال اور قمری ہوں تو ان کے ٹھہرنے کی مدت تین سو نو سال تھی۔ ان حضرات کا کہنا یہ ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ”ثَلاَثَمِاءَۃٍ وَ تِسْعَ سِنِیْنَ“ (یعنی تین سو نو سال) کہنا کافی بھی تھا اور مختصر بھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شمسی اور قمری کے اس فرق کی کوئی دلیل نہیں۔ نو سالوں کو الگ ذکر کرنے کی وجہ آیات کے فواصل (آخری الفاظ) ہیں، جن سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے اور بلاغت کے لحاظ سے قرآن کے الفاظ ”ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا“ کے درمیان اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 25
یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے غار میں ٹھہرنے کی مدت کے بارے خبر ہے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت میں وقالوا لبثوا ہے۔ علامہ طبری (رح) نے کہا ہے : بیشک نبی اسرائیل نے اس مدت میں اختلاف کیا جو مدت ان پر ان کے اظہار کے بعد سے لے کر حضور نبی مکرم ﷺ کی تشریف آوری کی مدت تک گزر چکی تھی، پس ان میں سے بعض نے کہا : بیشک وہ تین سو نو سال تک ٹھہرے رہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو اطلاع دی کہ یہ مدت ان کے سوئے رہنے کی ہے، اور وہ جو اس کے بعد ہے وہ آدمی کیلئے مجہول ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اس کا علم اس کی طرف لوٹا دے۔ (یعنی یہ کہ اس مدت کے بارے رب کریم بہتر جانتا ہے) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
1:۔ خطیب نے تاریخ میں حکیم بن عقال (رح) سے روایت کیا کہ میں عثمان بن عفان ؓ کو یوں پڑھتے ہوئے سنا (آیت) ” ولبثوا فی کہفہم ثلث مائۃ سنین “ تنوین کے ساتھ۔
2:۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی کسی آیت کی تفسیر کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی یہی تفسیر ہے تو وہ اتنی دور سے گرجاتا ہے جو فاصلہ آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے پھر یہ (آیت) ” ولبثوا فی کہفہم “ تلاوت فرمائی پھر فرمایا وہ لوگ کتنے سال غار میں رہے تو لوگوں نے کہا تین سو نوسال انہوں نے فرمایا اگر یہی مقدار ہوتی تو اللہ تعالیٰ نہ فرماتے (آیت) ” قل اللہ اعلم بما لبثوا “ لیکن اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اقوال ذکر…
Read the full tafseer →[وَلَبِثُوْا : اور وہ لوگ ٹھہرے ] [فِيْ كَهْفِهِمْ : اپنے غار میں ] [ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ : تین سو سال ] [وَازْدَادُوْا : اور وہ زیادہ ہوئے ] [تِسْعًا : نو (سال)]
Read the full tafseer →اصحاب کہف کتنا عرصہ غار میں رہے
پہلی آیات میں غار مذکورہ میں اصحاب کہف کے رہنے کی مدت بیان فرمائی اور فرمایا کہ وہ اپنے غار میں تین سو نو سال رہے پھر دوسری آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدت اقامت کو خوب زیادہ جاننے والا ہے وہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اصحاب کہف کا غار بھی زمین ہی میں ہے اور وہ لوگ بھی زمین ہی میں تھے پھر ان کا اور ان کے غار کا اسے کیوں علم نہیں ہوگا ؟ مزید توضیح اور تاکید کے لیے فرمایا (اَبْصِرْبِہٖ وَ اَسْمِعْ ) عربی زبان میں یہ دونوں تعجب کے صیغہ ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ سے بڑھ کر کوئی دیکھنے والا یا سننے والا نہیں ہے اس کی صفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
ذکر اختلاف اہل کتاب دربارہ شمار اصحاب کہف
قال اللہ تعالیٰ سیقولون ثلثلۃ رابعھم .... الیٰ .... ولا یشرک فی حکمہ احدا۔
گزشتہ آیات میں لوگوں کے نزاع اور اختلاف کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں لوگوں کے دوسرے نزاع کو بیان کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ اہل کتاب جو علم کے مدعی ہیں اور بطور امتحان آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں وہ خود اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں مختلف ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
عنقریب اہل کتاب یہ قصہ سن کر ان کی تعداد کے بیان کرنے میں اختلاف کریں گے بعض تو یہ کہیں گے کہ وہ تین آدمی تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور بعض یہ کہیں گے کہ وہ پانچ آدمی تھے چھٹا ان کا کتا تھا اور یہ دونوں گروہ بےتحقیق باتیں…
Read the full tafseer →30:۔ یہ امر متفرع ذکر کرنے کے بعد اصل واقعہ کی طرف عود ہے جو چیز پہلے ” فضربنا علی اذانہم فی الکہف سنین عددا “ میں بالاجمال ذکر کی تھی یہاں اس کی تفصیل کردی۔ یعنی اصحاب کہف نیند کی حالت میں غار میں تین سو نو برس ٹھہرے۔ قال مجاھد ھو بیان لمجمل قولہ تعالیٰ فضربنا علی اذانھم فی الکہف سنین عددا (بحر ج 6 ص 116) ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ” لبثوا الخ “ بھی ” یقولون “ کے تحت داخل ہے اور اس سے بھی بعض لوگوں کا قول نقل کرنا مقصود ہے۔ مگر یہ خیال سراسر غلط ہے قرآن کا اسلوب نظم اس کی تائید نہیں کرتا کیونکہ دونوں مضمونوں کے درمیان دو تین مختلف مضامین کا فاصلہ حائل ہے۔ ” قل اللہ اعلم بما لبثوا الخ “ ازالہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(شان نزول)
گذشتہ آیت میں اصحاب کہف کی تعداد کا ذکر تھا اس بارے میں زیادہ کرید کرنے سے منع فرمایا گیا کہ ایسے معاملہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سونپنا ہی زیادہ مناسب ہے ، آج کے درس میں اصحاب کہف کے غار میں ٹھہرنے کی مدت کا بیان ہے البتہ درمیان میں ایک بات نصیحت کے طور پر فرمائی گئی ہے کہ کسی کام کا ارادہ کرتے وقت ساتھ انشاء اللہ کہہ کر اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا چاہئے کیونکہ اس کی منشاء کے بغیر کوئی کوئی انجام نہیں دیا جاسکتا ، اسی بات کا تعلق اصحاب کہف کے واقعہ کے ساتھ بھی ہے گذشتہ دروس میں بیان کیا جا چکا ہے کہ مشرکین نے یہودیوں کے ایما پر حضور ﷺ سے روح ، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق تین…
Read the full tafseer →وَلَبِثُوْا فِيْ كَہْفِہِمْ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا 25
لبث
لَبِثَ بالمکان : أقام به ملازما له . قال تعالی: فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] ،
( ل ب ث ) لبث بالمکان
کے معنی کسی مقام پر جم کر ٹھہرنے اور مستقل قیام کرنا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] تو وہ ان میں ۔ ہزار برس رہے ۔
كهف
الْكَهْفُ : الغار في الجبل، وجمعه كُهُوفٌ. قال تعالی: أَنَّ أَصْحابَ الْكَهْفِ الآية [ الكهف/ 9] .
( ک ہ)
الکھف کے معنی پہاڑ میں غار کے ہیں اس کو جمع کھوف آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : أَنَّ أَصْحابَ الْكَهْفِ الآية [ الكهف/ 9] کہ غار اور لوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
1 ؎ یعنی انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ تو جب یاد آئے کہہ لیا کرو۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
وَلَبِثُوْا فِیْ کَـھْفِھِمْ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا۔ قُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا ج لَـہٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اَبْصِرْبِہٖ وَاَسْمِعْ ط مَالَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ ز وَّلاَ یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖ اَحَدًا۔ (الکہف : 25، 26)
( اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور نو سال مزیدبراں۔ کہہ دیجیے اللہ ہی خوب جانتا ہے جتنی مدت وہ رہے ہیں، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اسی کو معلوم ہیں، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا، زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبرگیر اس کے سوا نہیں اور وہ اپنے اختیار میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ )
آیت کے مفہوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اصحاب کہف کی غار میں مدت قیام تین سونو سال بتلانے کے بعد پھر یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! لوگوں کو بتلا دیں کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اس میں کتنی مدت ٹھہرے رہے۔ وہی زمین و آسمان کی پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔ وہ ہر چیز کو خوب دیکھتا اور ہر بات کو اچھی طرح سننے والا ہے۔ پھر ارشاد فرمایا کہ ایسی باتوں کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہاں یہ یاد رکھیں کہ اللہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی ذات اور صفات میں وحدہ لاشریک ہے اسی طرح کائنات کا خالق ومالک ہونے کے ساتھ واحد حاکم ہے۔ اس کے ہر حکم میں حکمتیں پنہاں ہوتی ہیں۔…
Read the full tafseer →غار میں تین سو نو سال قیام :
25: وَلَبِثُوْا فِیْ کَہْفِھِمْ ثَلٰثَ مِا ئَۃ سِنِیْنَ (اور وہ ٹھہرے رہے اپنے غار میں تین سو سال) مراد اس سے زندگی کی حالت میں انکا اس میں ٹھہرنا ہے۔ جبکہ اس مدت میں ان کے کانوں پر نیند کی تھپکی دیدی گئی تھی یہ فضر بنا علی اذانھم الی آخرہٖ میں جس کو مجمل رکھا گیا تھا اس کا بیان ہے اور سنین کا لفظ یہ ثلث مائۃ کا عطف بیان ہے۔
قراءت : حمزہ اور علی نے ثلاثۃ مائۃ سنین اضافت کے ساتھ پڑھا اس طرح کہ تمیز میں جمع کو واحد کی جگہ رکھ دیا گیا جیسا کہ دوسری آیت میں بھی موجود ہے بالاکثرین اعمالا ] الکہف : 3[ وَازْدَادُوْتِسْعًا (اور نو برس زیادہ رہے ) ۔
نحو : یہاں تِسْعًا کے…
Read the full tafseer →تفسیر 25 ۔ ” ولبثوا فی کھفھم “ ان سے اصحاب کہف مراد ہیں۔ بعض نے کہا کہ یہ اہل کتاب ہی کا قول ہے کہ انہوں نے اس طرح کہا تھا۔ اگر یہ خبر اللہ عزوجل کی طرف سے ہے ان کے ٹھہرنے کی مدت کے برابر۔ پھر اس کو اس طرح نہ فرماتے ” قل اللہ اعلم بما لبثوا “ اللہ ہی کو خوب معلوم ہے کہ وہ کتنی مدت وہاں ٹھہرے رہے۔ یہ حضرت قتادہ کا قول ہے اور اس پر عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرأت دلالت کرتی ہے۔ ” وقالوا لبثوا فی کھفھم “ پھر اللہ تعالیٰ گنے اس کی تردید کی اور ارشاد فرمایا ” قل اللہ اعلم بما لبثوا “ اور دوسرے قراء کا قول ہے کہ اس کی خبر اللہ تعالیٰ کی جانب ہی سے ہے کہ اللہ ہی ان کی مدت ٹھہرنے کو جانتا ہے اور یہی قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
23۔ 26:۔ شروع سورة میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے قیس نے تین باتیں اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھیں تو آپ نے وحی کے بھروسہ پر یہ وعدہ کیا کہ کل تک میں ان باتوں کا جواب دے دوں گا مگر اس وعدہ کے وقت انشاء اللہ کا کہنا آپ ﷺ کو یاد نہ رہا اس لیے پندرہ روز تک وحی نہیں آئی۔ مجاہد کے قول کے موافق اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان آیتوں کے ذریعہ حکم دیا کہ آئندہ ہر ایک وعدہ کے ساتھ لفظ انشاء اللہ کہنا چاہیے واذکر ربک اذا نسیت سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہ بات نکالی ہے کہ اگر قسم کھا کر کوئی شخص ایک بات کہے اور انشاء اللہ بھول جائے اور پھر جب وہ بات یاد آئے اور انشاء اللہ کہہ لیوے تو ایسی قسم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(آیت نمبر (25:
چونکہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے منع کردیا ہے کیونکہ انہیں اس کے متعلق کچھ علم نہیں ‘ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور حاضر کا علم رکھتا ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔۔۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سوئے رہنے کی مدت سے آگاہ فرمایا۔ اس مدت کو وہ اکیلا ہی جانتا ہے کیونکہ اس کا تعلق آسمانوں اور زمین کے غیبی امور سے ہے اور غیبی امور کا علم اللہ تعالیٰ سے مختص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان امور کے بارے میں اپنے رسولوں کی زبانی آگاہ فرمایا ہے وہی حق یقینی ہے جس میں کوئی شک نہیں اور وہ امور جن کے بارے میں وہ اپنے انبیاء و رسل کو مطلع نہیں کرتا مخلوق میں سے کوئی بھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام
قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
47۔ غار میں بقاء کی مدت کے بارے میں ارشاد :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوگ اس غار میں تین سو برس رہے اور نو مزید برآں یعنی شمسی حساب سے یہ مدت پورے تین سو سال بنتی تھی، اور قمری حساب سے تین سو نو سال، سو یہ فرق شمسی اور قمری حساب کے فرق پر مبنی ہے، کیونکہ عربوں کے یہاں قمری حساب کا رواج تھا، جب کہ یہود کے یہاں شمسی حساب کا، جو کہ اصل میں آنحضرت ﷺ سے اس سوال کے محرک تھے، اور قمری حساب سے ہر سو سال شمسی سال کے مقابلے میں تین سال زیادہ بنتا ہے اور اس طرح اس فرق کا اظہار وبیان آنحضرت ﷺ کا ایک معجزہ قرار پاتا ہے، کہ آپ ﷺ نے صدیوں پہلے کہ اس واقعہ کو اس باریکی سے بیان فرما دیا، حالانکہ آپ نے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
اصحاب کہف کی تعداد اور غار میں ٹھہرنے کی مدت
تشریح : ان آیات میں مزید کچھ نکات اور نصیحتیں بیان کی گئی ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے ذریعے ہمیں بتائے گئے ہیں۔ پہلے تو یہ نصیحت کی گئی کہ جو کچھ علم اللہ نے دیا ہے بس اسی کو سمجھ لو جن باتوں کو اللہ نے واضح نہیں کیا ان کے کھوج میں مت لگو، یعنی اللہ نے اصحاب کہف کے ذریعے سے جو سبق دینے تھے ان پر غور کرو۔ ان کی تعداد جگہ اور زمانے کو اللہ نے واضح نہیں کیا اس لیے جتنا جانتے ہو بتا دو ۔ دوسری نصیحت یہ کی کہ جو بھی بات آئندہ کے لیے کہو تو اس کے لیے انشاء اللہ ضرور بولو، کیونکہ مستقبل کا کسی کو علم نہیں، سوائے اس کے جو اللہ نے چاہا۔
غریب اور مخلص مؤمنوں یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کے مرتبہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کہہ دیں کل یہ کام کر دوں گا کہ آپ تو سراپا ہدایت تھے اور آپ کے معجزات دیکھ کر لوگ آپ ہی کی پرستش نہ کرنے لگ جائیں ، اور یہ نہ سمجھ لیں کہ سب کچھ کرنا آپ ﷺ کے ذاتی اختیار میں ہے ، لہذا کبھی مت کہیے کہ میں یہ کام کر دوں گا ، سوائے اس کے کہ انشاء اللہ ملا لیجئے یعنی اللہ جل جلالہ نے چاہا تو یہ کام کر دوں گا ۔
جب آپ ﷺ پر یہ تین سوال پیش کئے گئے تو آپ ﷺ نے فرما دیا کہ کل جواب دوں گا اور انشاء اللہ ساتھ نہ فرمایا تو کم وبیش پندرہ روز تک کوئی وحی نازل نہ ہوئی جس پر آپ ﷺ بھی بہت افسردہ ہوئے اور کفار نے بڑا مذاق اڑایا مگر پھر اس آیۃ کریمہ…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی شمشی حساب سے تین سو سال تک اور قمری حساب سے تین سو نو سال تک سوتے رہے کیونکہ تین سو خمشی سالوں کا گر قمری سالوں سے حساب کیا جائے تو تین سو نو سال بنتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(18:24) الا ان یشاء اللہ میں الا حرف استثناء ہے تقدیر کلام یوں ہے۔ الا ان تقول ان شاء اللہ۔ الا۔ تو یہ بھی کہے کہ اگر اللہ نے چاہا۔ نسیت۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ نسیانمصدر۔ تو بھول جاوے۔ (یعنی انشاء اللہ کہنا بھول جاوے۔ یا اللہ کا نام لینا بھول جاوے)
عسی ان یھدین عسی افعال مقارب میں سے ہے۔ عنقریب ہے، ممکن ہے، توقع ہے۔ ان حرف ناصب فعل مستقبل یھدین مضارع منصوب۔ بوجہ عمل ان۔ ھدایۃ سے۔ ن وقایہ اور یمتکلم محذوف کہ وہ مجھے ہدایت کر دے۔ میری رہنمائی کردے۔
لاقرب من ھذا۔ اس سے بھی قریب تر ۔ اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ہے ھذا کا اشارہ اصحاب کہف کے قصہ کی طرف ہے یا اس کا اس بات کی طرف اشارہ ہے جس کے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 26
لبثوا وہ ٹھہر رہے، رکے رہے۔ ثلث مائۃ تین سو، (سال) ۔
ازدادوا انہوں نے بڑھایا۔ تسعاً (نو 9) ۔ اعلم زیادہ بہتر جانتا ہے۔ ابصربہ اس کے ساتھ زیادہ دیکھنے کی طاقت۔ اسمع بہ اس کے سننے کی زیادہ طاقت۔ احد کوئی ایک، کسی کو۔
تشریح : آیت نمبر 25 تا 26
اللہ کو اس بات کا پوری طرح اور بہتر علم ہے کہ اللہ کے وہ نیک بندے جنہیں اصحاب کہف کہا جاتا ہے وہ تین سو نوسال تک اس غار میں سوتے رہے ہیں۔ وہ جتنی دیر بھی سوئے انہیں اٹھنے کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے وہ دن بھر یا آدھے دن تک سوتے رہے ہیں۔ انہیں اس کا اندازہ ہی نہ تھا کہ ان پر صدیاں بیت گئیں۔ جس شہر میں وہ رہتے تھے اس شہر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
اس آیت میں فرمایا کہ اصحاب کہف غار میں سو کر پھر جو جاگے، یہ مدت شمسی سال کے حساب سے تو تین سو اور قمری کے حساب سے تین سو نو برس کی ہے اور ان کے دوبارہ سو جانے اور قصے کے قرآن میں نازل ہونے تک کی مدت اللہ خوب جانتا ہے۔ کیونکہ آسمان و زمین کے دیکھنے سننے کی سب غیب کی باتیں اسی کو اچھی طرح معلوم ہیں۔ سوا اس کے اور کسی کا اس میں کچھ دخل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–41
[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
مستقبل کے متعلق ادعا نہ کرو :
(ف 2) ہر کام کے لئے اللہ کی طرف سے ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور ہر بات میں مصلحتیں ہوتی ہیں جنہیں کوتاہ نظر انسان نہیں دیکھ سکتا اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی ہر بات میں اس عارفانہ نظریہ کو ملحوظ رکھے یعنی کبھی ادعا کے ساتھ مستقبل کے متعلق کچھ نہ کہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ پردہ غیب سے کیا ظہور پذیر ہونے والا ہے ، اسے نہیں معلوم کل جو آفتاب طلوع ہوگا ، وہ میری تائید میں طلوع ہوگا یا مخالفت میں اصحاب کہف پر ظلم توڑنے والے لوگوں کو دیکھئے ، حکومت وقت کے وعادی کیا تھے یہی ناکہ ہم خدا پرستوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے ، اور ان کا نشان تک باقی نہیں رہنے دیں گے ، اور اس ادعا کا…
Read the full tafseer →-25 اور وہ اصحاب کہف اپنے اس غار اور کھوہ میں تین سو برس رہے اور نو برس اوپر ینی اصحاب کہف جہاں جا کر چھپے تھے وہاں کے سونے اور جاگنے کی مدت تین سو نو برس تھی گویا صحیح بات یہ ہے کہ ان کی نیند کی مدت تین سو نو برس تھی اس کے بعد جاگے اگر اس میعاد پر بھی یہ اپنی عادت کے موافق اختلاف کریں تو آگے اس کا جواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
ف 7۔ آپ سے روح و اصحاب کہف و ذوالقرنین کا قصہ پوچھا گیا تو آپ نے وحی کے بھروسہ پر زبان سے انشاء اللہ بغیر کہے وعدہ فرمایا کہ کل جواب دوں گا۔ چناچہ پندرہ روز تک وحی نازل نہ ہوئی اور آپ کو بڑا غم ہوا، اس کے بعد جواب کے ساتھ یہ حکم بھی نازل ہوا کہ یہ لوگ آپ سے کوئی بات قابل جواب دریافت کریں اور آپ ان سے جواب کا وعدہ کریں تو اس کے ساتھ انشاء اللہ یا اس کے ہم معنی کوئی بات ملا لیا کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آپ ﷺ کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کے لئے دوسری ہدایت :
27۔ فرمایا جب بھی تم کوئی بات کرو یا کرنا چاہو تو حتمی طور پر مت کیا کرو کہ اس کام کو کل میں ضرور کروں گا اس لئے کہ کسی انسان کو آنے والے کل کے متعلق علم نہیں کہ وہ کل کیسے اور کس طرح آئے گا یا ہماری زندگی میں وہ کل آئے گا بھی یا نہیں ۔ ہاں ! جب کسی کام کے کرنے کا پختہ ارادہ کرلو تو اس طرح کہو کہ انشاء اللہ میں کل ایسا کرنا چاہتا ہوں ۔ میرا ارادہ میں ہے کہ میں کل اللہ چاہے تو ضرور ایسا کروں گا یہ اس لئے کہ آنے والے کل کے متعلق کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کیسا ہوگا ؟ جب وہ انشاء اللہ یا اللہ چاہے کہ الفاظ استعمال کرے گا اور دل میں اس کا پختہ…
Read the full tafseer →As for the period of sleep in the Cave given as three hundred nine years in the third verse (27), this statement concerning the time duration, as evident from the sequential arrangement of the Qur’ an, is but from Allah Ta’ ala. Ibn Kathir has declared this to be the position of the majority of commentators, earlier and later. Abu Hayyan and al-Qurtubi have also adopted this view. But, they have also reported another saying from Qatadah and others. It holds that this statement of three hundred nine years is also the saying of some of those who had differed and that the saying of Allah was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25. This sentence is connected with the theme preceding the parenthetical clause like this. Some people will say:“They were three and the fourth was their dog...”, and some people will say that they remained in the cave for three hundred years and some others would add nine more years (to the reckoning of the period). We are of the opinion that the number of the years, 300 or 309, has not been stated by Allah Himself but Allah has cited these as sayings of the people. This opinion is based on this succeeding sentence: Allah knows best about the period of their stay there. If the number of…
Read the full tafseer →