Explained with ayahs 19–20
موت کے بعد زندگی
ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں سلا دیا تھا، اسی طرح اپنی قدت سے انہیں جگا دیا۔ تین سو نو سال تک سوتے رہے لیکن جب جاگے بالکل ویسے ہی تھے۔ جیسے سوتے وقت تھے، بدن بال کھال سب اصلی حالت میں تھے۔ بس جیسے سوتے وقت تھے ویسے ہی اب بھی تھے۔ کسی قسم کا کوئی تغیر نہ تھا آپس میں کہنے لگے کہ کیوں جی ہم کتنی مدت سوتے رہے ؟ تو جواب ملا کہ ایک دن بلکہ اس سے بھی کم کیونکہ صبح کے وقت یہ سو گئے تھے اور اس وقت شام کا وقت تھا اس لئے انہیں یہی خیال ہوا۔ لیکن پھر خود انہیں خیال ہوا کہ ایسا تو نہیں اس لئے انہوں نے ذہن لڑانا چھوڑ دیا اور فیصلہ کن بات کہہ دی کہ اس کا صحیح علم صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الْكَهْف 16
یعنی جیسے عجیب طریقے سے وہ سلائے گئے تھے اور دنیا کو ان کے حال سے بیخبر رکھا گیا تھا، ویسا ہی عجیب کرشمہ قدرت ان کا ایک طویل مدت کے بعد جاگنا بھی تھا۔
Read the full tafseer →اَوْ يَرْجُمُوْكُمْ رجم کے معنی سنگسار کرنے کے ہیں، بادشاہ نے غار میں جانے سے پہلے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر اپنا یہ دین نہ چھوڑو گے تو قتل کر دئیے جاؤ گے، اس آیت سے معلوم ہوا کہ ان کے یہاں ان کے دین سے پھرجانے والے کی سزائے قتل بصورت سنگساری دی جاتی تھی تاکہ سب لوگ اس میں شریک ہوں، اور ساری قوم اپنے غیظ و غضب کا اظہار کر کے قتل کر ے۔
شاید شریعت اسلام میں شادی شدہ مرد و عورت کے زنا کی سزا بھی جو سنگسار کر کے قتل کرنا تجویز کیا گیا ہے اس کا بھی منشا یہ ہو کہ جس شخص نے حیا کے سارے پردوں کو توڑ کر اس فعل قبیح کا ارتکاب کیا ہے اس کا قتل منظر عام پر سب لوگوں کی شرکت کے ساتھ ہونا چاہئے تاکہ اس کی…
Read the full tafseer →إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فِي مِلَّتِهِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوا إِذًا أَبَدًا۔
اس سے اس اندیشہ کا اظہار ہوتا ہے جس کی بنا پر احتیاط اور راز داری کی تاکید کی گئی۔ جس زمانے میں ان لوگوں نے غار میں پناہ لی ہے اہل حق پر ظلم و تشدد اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا اور ان لوگوں نے سنگسار کردیے جانے کے اندیشے سے یہ پناہ ڈھونڈی تھی۔ اسی اندیشہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فرایا کہ اگر کہیں لوگوں کو پتہ چل گیا تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔ پہلے تو کسی نہ کسی بچ نکلے لیکن اب اگر پا گئے تو یا تو سنگسار کردیں گے یا مرتد کرکے چھوڑیں گے۔ پھر کسی طرح بھی ان سے نجات حاصل کرنا ممکن نہ…
Read the full tafseer →20۔ 1 یعنی آخرت کی جس کامیابی کے لئے ہم نے صعوبت، مشقت برداشت کی، ظاہر بات ہے کہ اگر اہل شہر نے ہمیں مجبور کرکے پھر آبائی دین کی طرف لوٹا دیا، تو ہمارا اصل مقصد ہی فوت ہوجائے گا، ہماری محنت بھی برباد جائے گی اور ہم نہ دین کے رہیں گے نہ دنیا کے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
12: پاکیزہ کھانے سے مراد بظاہر حلال کھانا ہے ان حضرات کو فکر یہ تھی کہ بت پرستوں کے شہر میں حلال کھانا ملنا آسان نہیں۔ اس لیے جانے والے کو یہ تاکید کی کہ وہ ایسی جگہ سے کھانا لائے جہاں حلال کھانا میسر ہو۔ نیز چونکہ ان کے خیال میں ابھی تک اسی بت پرست بادشاہ کی حکومت تھی، اس لیے انہیں دوسری فکر یہ تھی کہ کہیں کسی کو ان کے غار میں چھپنے کا پتہ نہ لگ جائے۔ اس لیے جانے والے کو دوسری تاکید یہ کی کہ ہوشیاری سے جا کر کھانا لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
اس واقعہ سے قرآن مجید کے پیش نظر کیا نتیجہ نکالنا مقصود ہے ؟ یہ کہ بعث بعد الموت کے لئے یہ واقعہ ایک قریب انفہم اور محسوس نمونہ ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ موجودہ انسانی ڈھانچے کو بھی صدیوں تک زندہ رکھ سکتا ہے اور دوبارہ بھی اٹھا سکتا ہے اور قیام قیامت اور بعث بعد الموت حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یوں اللہ نے ان نوجوانوں کو ان کی نیند سے جگایا اور ان کی قوم کو بتایا کہ صدیوں تک یہ لوگ یونہی پڑے تھے۔
اب بعض لوگوں نے کہا
بعض لوگوں نے کہا ان پر دیوار چن دو کیونکہ ان کے عقائد کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔
ان کا رب ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے یعنی ان کے عقائد اور ان کی پوزیشن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
3 جس طرح اپنی قدرت سے اتنی لمبی نیند سلایا تھا، اسی طرح بروقت جگا دیا۔ اٹھے تو آپس میں مذاکرہ کرنے لگے کہ ہم کتنی دیر سوئے ہوں گے ؟ بعض نے کہا " ایک آدھ دن۔ " یعنی بہت کم۔ دوسرے بولے کہ (اس بےفائدہ بحث میں پڑنے سے کیا فائدہ ؟ ) یہ تو خدا ہی کے علم میں ہے کہ ہم کتنی مدت سوئے۔ اب تم اپنا کام کرو۔ ایک آدمی کو یہ روپیہ دے کر شہر بھیجو کہ وہ کسی دکان سے حلال اور ستھرا کھانا دیکھ کر خرید لائے۔ یہ ضروری ہے کہ اسے نہایت ہوشیاری سے جانا آنا اور نرمی و تدبیر سے معاملہ کرنا چاہیے کہ کسی شہر والے کو ہمارا پتہ نہ لگے، ورنہ بڑی سخت خرابی ہوگی۔ اگر ظالم بادشاہ کو پتہ چل گیا تو ہم کو یا سنگسار کیا جائے گا یا…
Read the full tafseer →آیت 20 اِنَّهُمْ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوْكُمْ اَوْ يُعِيْدُوْكُمْ فِيْ مِلَّتِهِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوْٓا اِذًا اَبَدًا
اگر انہوں نے تمہیں مجبور کردیا کہ تم پھر سے ان کا دین قبول کرلو تو ایسی صورت میں تم ہمیشہ کے لیے ہدایت سے دور ہوجاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
18 طویل نیند کے بعد بیداری کھانے کی فکر اور ایک آدمی کو شہر بھیجنا :۔ جس طرح ہم نے مشکل وقت میں ان پر ایک طویل عرصہ کے لیے نیند طاری کی تھی۔ اسی طرح جب حالات ان کے حق میں ساز گار ہوئے تو انھیں جگا بھی دیا جاگنے پر سب سے پہلا سوال جو ان کے ذہن میں آیا یہ تھا کہ ہم کتنا عرصہ سوئے رہے انہوں نے اس عرصہ کو عام حالات پر قیاس کیا کہ انسان خواہ کتنا ہی تھکا ماندہ ہو ایک دن سے زیادہ سو نہیں سکتا اور عام حالات میں یہی کوئی آٹھ نو گھنٹے سو لیتا ہے۔ لہذا کسی نے کہا کہ ہم دن بھر سوئے رہے ہیں اور کسی نے کہا اتنا کب سوئے ہیں بس کوئی چند گھنٹے ہی سوئے ہوں گے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آخر اس بحث کا کوئی فائدہ…
Read the full tafseer →30۔ (اور تم شرک و ارتداد کی ملعونیت ونحوست کے چکر میں پڑے رہو گے) (آیت) ” انھم “۔ یعنی شرک اہل شہر یا مشرک اہل حکومت۔ (آیت) ” یرجموکم “۔ سزائے سنگساری دنیا کی قدیم ترین سزاؤں میں سے ہے اور اس پر تاریخ کی شہادت موجود ہے کہ شہنشاہ ڈس سیس (دقیانوس) کے زمانہ میں جو مشرک مسیحیت اختیار کرلیتے تھے وہ مرتد سمجھے جاتے اور شدید ترین عقوبت کے مستحق قرار پاتے۔ (آیت) ” اویعیدوکم فی ملتھم “۔ یعنی یہ بت پرست حکومت ترغیب سے یا ترہیب سے، طمع یا خوف کے پھندے لگا کر تمہیں پھر دین توحید سے بچلا کر دین شرک میں واپس لے لیں گے۔ (آیت) ” ولن تفلحوا اذا ابدا “۔ یعنی جب ملت کفر میں شریک و شامل ہوگئے تو پھر تو فلاح دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت نمبر 18 تا 20
ترجمہ : اور اگر آپ ان کو دیکھیں تو بیدار محسوس کریں یعنی بیدار سمجھیں گے اس لئے کہ آنکھیں ان کی کھلی ہوئی ہیں (اَیقاظ) یُقِظ بکسر قاف کی جمع ہے حالانکہ وہ سو رہے ہیں رقود راقد کی جمع ہے اور ہم ان کو دائیں بائیں کروٹ بدلتے رہتے ہیں تاکہ زمین ان کے گوشت کو نہ کھاجائے اور ان کا کتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھا ہے یعنی غار کے صحن میں اور جب اصحاب کہف کروٹ لیتے ہیں تو وہ بھی کروٹ لیتا ہے، یعنی نیند اور بیداری میں وہ کتا انہیں کے مانند ہے اور اگر آپ ان کو جھانک کر دیکھیں تو وہاں سے الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوں اور آپ کے اوپر دہشت غالب آجائے (لملئتَ ) لام کی تخفیف اور تشدید…
Read the full tafseer →اِنَّهُمْ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ کیوں کہ ان لوگوں نے اگر تمہاری اطلاع پا لی یا تم پر ان کا قابو چل گیا۔ يَرْجُمُوْكُمْ : پتھر مار مار کر وہ تم کو ہلاک کردیں گے۔ (اگر تم نے مرتد ہونا قبول نہیں کیا اور ان کے بتوں کی پوجا نہ کی) ۔
اَوْ يُعِيْدُوْكُمْ فِيْ مِلَّتِهِمْ (یا اگر تم نے ارتداد کو قبول کرلیا) تو تم کو اپنے مذہب میں لوٹا لیں گے۔ شاید اصحاب کہف پہلے ان کے ہم مذہب تھے پھر مؤمن بن گئے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جبراً تم کو اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے۔ اس مطلب پر اعادہ کا معنی (لوٹا لینا نہ ہوگا بلکہ داخل کرنا ہوگا۔
وَلَنْ تُفْلِحُوْٓا اِذًا اَبَدًا : اور اس وقت (یعنی اگر تم نے ان کے مذہب میں…
Read the full tafseer →(20) اگر یہ مجوس تمہاری خبر پالیں تو تمہیں قتل کر ڈالیں گے یا پھر تمہیں اپنے مجوسیت کے طریقہ پر کرلیں گے اب اگر تم ان کے دین کو اختیار کرلو گے تو پھر کبھی عذاب خداوندی سے نجات نہیں ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
وَكَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ۔۔ : یعنی جیسے ہم نے انھیں ایک حیرت انگیز طریقے سے غار کے اندر سلایا تھا اسی طرح انھیں اٹھا دیا کہ ان کے جسم صحیح سالم تھے، ان میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی، تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں اور جب انھیں پتا چلے کہ وہ اتنی لمبی مدت سونے کے بعد بیدار ہوئے ہیں تو انھیں ہماری قدرت کا اور مردوں کو زندہ کرنے کا اپنی ذات میں عملی مشاہدہ ہوجائے، ان کا ایمان و یقین مزید مضبوط ہوجائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کریں۔
قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ۔۔ : حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”معلوم ہوتا ہے کہ وہ غار میں دن کے پہلے پہر داخل ہوئے تھے اور دن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت نمبر 19 تا 20
قولہ تعالیٰ : وکذلک بعثنھم لیتساء لوا بینھم، البعث سے مراد سکون سے حرکت دینا ہے۔ اور اس کا معنی ہے : جیسا کہ ہم نے ان کے کان سننے سے بند کر دئیے، اور ہم نے ان کے لئے نور ہدایت میں اضافہ کیا، اور ہم نے ان کی کروٹیں بدلیں (اسی طرح) ہم نے انہیں ان کی نید سے بیدار بھی کردیا۔ درآنحالیکہ وہ اپنے کپڑوں اور دیگر احوال میں اپنی پہلی حالت پر ہی تھے۔ شاعر نے کہا ہے :
وفتیان صدق قد بعثت بسحرۃ فقاموام جمیعا بین عاث ونشوان
یعنی میں نے بیدار کردیا۔ اور قول باری تعالیٰ : لیتساء لوا میں لام ضرورت ہے اور یہی لام عاقبت ہے، جیسا کہ اس ارشاد میں لام عاقبۃ ہے : لیکون لھم عدوا وحزنا (القصص :8)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تزور “ سے مراد ہے ہٹ جانا (اور) (آیت) ” تقرضہم “ سے مراد ہے ان کو چھوڑ کر۔
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” تقرضہم “ سے مراد ہے کہ ان کو چھوڑ دیتی تھی (آیت) ” وھم فی فجوۃ منہ “ سے مراد ہے اندر کی جگہ۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم فی فجوۃ منہ “ میں فجوۃ سے مراد ہے زمین کی علیحدہ اور اکیلی جگہ۔
4:۔ ابن منذر نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم فی فجوۃ منہ “ سے مراد ہے کنارہ۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…
Read the full tafseer →[انهُمْ : بیشک وہ لوگ ہیں (کہ)] [ان : اگر ] [يَّظْهَرُوْا : وہ غالب ہوئے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [يَرْجُمُوْكُمْ : تو وہ رجم کردیں گے تم لوگوں کو ] [اَوْ : یا ] [يُعِيْدُوْكُمْ : لوٹائیں گے تم کو ] [فِيْ مِلَّتِهِمْ : اپنے مذہب میں ] [وَلَنْ تُفْلِحُوْٓا : اور تم لوگ ہرگز مراد نہ پائو گے ] [اِذًا : تب تو ] [اَبَدًا : کبھی بھی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اصحاب کہف کا بیدار ہو کر آپس میں اپنی مدت قیام کے بارے میں سوال و جواب کرنا اور اپنے ایک آدمی کو کھانا لانے کے لیے شہر بھیجنا
اصحاب کہف مدت دراز تک غار میں سوتے رہے پھر جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوئی تو انہیں جگا دیا ان کا اتنی لمبی مدت تک سلا دینا بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر دلالت کرتا ہے پھر ان کا جگا دینا۔ قال صاحب الروح ووجہ الشبہ کون کل منھا آیۃ دالۃ علی کمال قدرتہ الباھرۃ عزوجل۔ جب یہ لوگ جاگ گئے تو ان میں سے ایک شخص نے یہ سوال اٹھایا کہ تم یہاں کتنے دن ٹھہرے ہو ؟ پھر آپس میں جواب دیا کہ ہاں ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں، مطلب یہ تھا کہ ہم یقینی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
بقیہ قصہ مذکورہ
قال اللہ تعالیٰ وتحسبھم ایقاظا وھم رقود .... الیٰ .... لنتخذن علیہم مسجدا۔
اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حیات کی حفاظت کا ایک سامان یہ کیا کہ اے دیکھنے والے اگر تو ان کو دیکھے تو ان کو جاگتا ہوا خیال کرے حالانکہ وہ سو رہے ہیں خواب میں غرق ہیں اور اس نیند کی حالت میں ہم ان کی کروٹیں بدلتے رہتے ہیں کبھی دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف تاکہ زمین ان کے جسموں کو نہ کھا جائے اور ان کا کتا غار کی دہلیز پر اپنی دونوں بانہیں پسارے پڑا ہے ابن کثیر (رح) نے ذکر کیا ہے کہ یہ کتا ان میں سے کسی کے شکار کا تھا اور اس کتے کا نازم قطمیر تھا کہتے ہیں کہ وہ کتا بہشت میں جائے گا۔
سگ اصحاب کہف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19:۔ یہ ” ثم بعثناھم الخ “ کی تفصیل ہے۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا ” کذلک “ میں کاف تشبیہ کے لیے نہیں بلکہ بیان کمال کے لیے ہے۔ یعنی اس قدرت طویل عرصہ کے بعد یوں ہم نے ان کو بیدار کیا۔ یہ ہماری قدرت کا کمال تھا اس میں ان کے اختیار و تصرف کا دخل نہیں تھا۔ ” لیتساء لوا “ میں لام ” بعثنا “ سے متعلق ہے۔ یعنی ہم نے ان کو عرصہ دراز کے بعد بیدار کیا۔ تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ انہیں سوئے ہوئے کتنی مدت ہوئی۔ چناچہ جب وہ بیدار ہوئے تو رئیس بولا ” کم لبثتم “ باقیوں نے کہا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ تم کتنا عرصہ سوتے ہو۔ اس سوال و جواب سے معلوم ہوا کہ اصحاب کہف اپنی مدت خواب کے بارے میں حتمی طور پر کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کی اپنی قوم سے علیحدگی کا حال ذکر کیا ، اللہ کے ان نیک بندوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم اپنے سچے دین پر قائم رہ کر ظالم بادشاہ کا تشدد برداشت نہیں کرسکتے ، لہذا بہتر ہے کہ ہم یہاں سے بھاگ جائیں اور کسی پہاڑ کی غار میں روپوش ہوجائیں ، چناچہ اس منصوبہ کے تحت یہ لوگ شہر کے قریب ہی پہاڑ کی ایک غار میں پناہ گزیں ہوگئے ، وہ وقتا فوقتا اپنے میں سے ایک آدمی کو شہر بھی بھیجتے رہے تاکہ ایک تو وہ ان کے لیے خوردونوش کا سامان لاسکے اور دوسرے شہر کے حالات معلوم کرسکے ، چناچہ ان پر نیند طاری ہونے سے قبل جو شخص شہر سے ہو کر آیا اس نے بتایا کہ شہر میں سرکاری…
Read the full tafseer →اِنَّہُمْ اِنْ يَّظْہَرُوْا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوْكُمْ اَوْ يُعِيْدُوْكُمْ فِيْ مِلَّتِہِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوْٓا اِذًا اَبَدًا 20
ظھیر
، وَما لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرٍ [ سبأ/ 22] ، أي : معین «3» . فَلا تَكُونَنَّ ظَهِيراً لِلْكافِرِينَ
[ القصص/ 86] ، وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذلِكَ ظَهِيرٌ [ التحریم/ 4] ، وَكانَ الْكافِرُ عَلى رَبِّهِ ظَهِيراً
[ الفرقان/ ] ، أي : معینا للشّيطان علی الرّحمن . وقال أبو عبیدة «1» : الظَّهِيرُ هو المَظْهُورُ به . أي : هيّنا علی ربّه کا لشّيء الذي خلّفته، من قولک :
ظَهَرْتُ بکذا، أي : خلفته ولم ألتفت إليه .
ظھیر
الظھیر۔ مدد گار ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَما لَهُ مِنْهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ترکیب : ان یظہروا شرط یرجمو اور یعیدو جواب شرط ولن تفلحوا اذابدا ای ان رجعتم الی دینھم لن تسعدوا فی الدنیا ولافی الآخرۃ اعثرنا اے اطلعنا غیرھم علی احوالھم یقال عثرت علی کذا اے علمۃ یعلموا کا فاعل ضمیر راجع الناس کی طرف۔ اذا ظرف اعثرنا کا۔
تفسیر : اس لیے ان لوگوں کو اصحاب الکہف والرقیم کہتے ہیں۔ فرماتا ہے کہ اے پیغمبر ! کیا آپ ان کو ہماری آیات قدرت میں سے عجیب تر خیال کرتے ہیں ؟ یہ کچھ زیادہ عجیب نہیں اس سے بڑھ کر ہماری نشانیاں ہر روز تمہارے سامنے موجود ہیں وہ کیا ؟ آسمان و زمین کا پیدا کرنا ان میں، چاند و سورج کا حرکت کرنا، ہوائوں کا بدلنا، انسان و حیوان و نباتات و جمادات کی پیدائش وغیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
وَکَذٰلِکَ بَعَـثـْنٰـھُمْ لِیَتَسَآئَ لُوْا بَیْنَھُمْ ط قَالَ قَـآئِلٌ مِّنْھُمْ کَمْ لَبِثْـتُمْ ط قَالُوْا لَبِثْـنَا یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍ ط قَالُوْا رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْـتُمْ ط فَابْعَثُوْٓا اَحَدَکُمْ بِوَرِقِکُمْ ھٰذِہٖ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّھَآ اَزْکٰی طَعَامًا فَلْیَاْ تِکُمْ بِرِزْقٍ مِّنْہُ وَلْیَتَلَطَّفْ وَلاَ یُشْعِرَنَّ بِکُمْ اَحَدًا۔ اِنَّھُمْ اِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوْکُمْ اَوْیُعْیِدُوْکُمْ فِیْ مِلَّتِھِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوْٓا اِذًا اَبَدًا۔ (الکہف : 19، 20)
(اور اسی طرح ہم نے ان کو جگایا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں، ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
فہم القرآن
ربط کلام : اصحاب کہف کا اٹھایا جانا، ان کا ایک دوسرے سے اپنے قیام کے بارے میں پوچھنا اور اپنی قوم کے ظلم سے ڈرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو تین سو نو سال کے بعد اٹھایا۔ تاکہ یہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ یہاں کتنی دیر ٹھہرے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ اس بات کو منکرین آخرت کے لیے حجت قرار دیا ہے۔ اصحاب کہف کو تین سو نو سال سلانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اٹھایا، جونہی وہ لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھے تو ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ بھائی ! ہم کتنی دیر یہاں ٹھہرے رہے ہیں ؟ ہر کسی نے سورج کا حساب لگا کر بتایا کہ ہم چند گھنٹے یا ایک دن سوئے رہے ہیں۔ اس اندازے کی دو وجہ تھیں۔ جب وہ سورج کو دیکھتے تو انہیں…
Read the full tafseer →20: اِنَّھُمْ اِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ کیونکہ اگر ان لوگوں نے تمہاری اطلاع پائی۔ انہم کی ضمیر اہل کی طرف جارہی ہے جو کہ ایّھا میں مقدر ہے اور ان یظہر کا مطلب مطلع ہونا اور قابو پالینا ہے۔ یَرْجُمُوْکُمْ وہ تم کو سنگسار کردیں گے۔ یعنی بدترین انداز سے تمہیں قتل کردیں گے۔ اَوْیُعِیْدُوْکُمْ فِیْ مِلَّتِھِمْ ( یا وہ تم کو اپنے مذہب میں لوٹا لیں گے زبردستی۔ یہاں عود کا معنی صیرورت ہوجانا اور یہ کلام عرب میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ (صیرورت کا معنی داخل کرنا) وَلَنْ تُفْلِحُوْا اِذًا اَبَدًا (اور اس وقت کبھی بھی تم فلاح نہیں پائو گے) اذا یہاں شرط پر دلالت کر رہا ہے تقدیر عبارت اس طرح ہوگی ولن…
Read the full tafseer →تفسیر 20 ۔ ” انھم ان یظھروا علیکم “ وہ تمہاری جگہ کو پہچان گئے۔ ” یرجموکم “ ابن جریج کا قول ہے کہ وہ تمہیں برا بھلا کہیں گے اور تمہیں زبانی ایذاء دیں گے اور بعض نے کہا کہ وہ تمہیں قتل کردیں گے اور بعض نے کہا کہ ان لوگوں کی یہ عادت تھی کہ وہ ایمان والوں کو پتھر مار مار کر بری طرح قتل کرتے تھے اور بعض نے کہا کہ وہ تمہیں مار دیں گے۔ ” او یعیدکم فی ملتھم “ یا وہ تم کو اپنی ملت کی طرف پھیر دیں گے (کفر کی طرف) … ” ولن تفلعوا اذا ابدا “ اگر تم ان کی طرف لوٹ جائو گے تو کبھی فلاح نہیں پائو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19۔ 20:۔ ان آیتوں میں تین سو برس کے بعد ان جوانوں کے جاگنے کا ذکر ہے ان کے جاگنے سے پہلے انتظام الٰہی کے موافق ایک بکریاں چرانے والے شخص نے اپنی بکریوں کو اس غار میں رکھنے کا ارادہ کر کے غار کے منہ پر کی دیوار کو ڈھا ڈالا مگر اس غار میں اللہ تعالیٰ نے دہشت جو پیدا کردی تھی اس کے سبب سے وہ بکریاں چرانے والا شخص غار کے اندر نہیں گیا اور اپنی بکریاں اس نے وہاں نہیں رکھیں۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تین سو نو برس تک ان جوانوں کو سلایا اب ان کو اسی طرح اس صاحب قدرت نے اٹھا بٹھایا تاکہ ان کو اللہ کی قدرت معلوم ہوجائے کہ بےآب و دانہ کتنی مدت تک وہ کیوں کر سوئے اور اٹھنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(آیت نمبر 19)
(وکذلک بعثنھم) یعنی اسی طرح ہم نے ان کو ان کی طویل نیند سے بیدار کیا (لیتساء لو ابینھم) ” تاکہ آپس میں ایک یک دوسرے سے دریافت کریں۔ “ یعنی سونے کی مدت کے بارے میں حقیقت معلوم کرنے کے لیے ایک دوسرے سے پوچھیں۔ ( قال قائل منھم کم لبثتم قالوا لبثنا یوما اوبعض یوم ) ” ان میں سے ایک نے کہا ‘ تم کتنی مدت ٹھہرے ؟ انہوں نے کہا ‘ ہم ٹھہرے ایک دن یا ایک دن سے کم۔ “ یہ قاہل کے ظن پر مبنی ہے گویا ان کو اپنی مدت کی طوالت کے بارے میں اشتباہ واقع ہوگیا تھا ‘ اس لیے (قالوا ربکم اعلم بما لبثتم ) ” انہوں نے کہا تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے جتنی مدت تم ٹھہرے “ پس انہوں نے اپنے علم کو اس ہستی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
غار میں ان کی مدت قیام
قول باری ہے (قالوا لبثنا یوماً او بعض یوم۔ دوسروں نے کہا شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے) جب اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کرتے ہوئے اس کی تردید نہیں کی تو اس سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ انہوں نے ٹھیک ہی کہا تھا اس لئے کہ ان کے اس قول کی بنیاد ان کے اپنے خیال کے مطابق وہ مدت تھی جس میں وہ نماز میں قیام پذیر رہے۔ انہوں نے یہ بات قیام کی حقیقی مدت کے متعلق نہیں کہی تھی کیونکہ یہ مدت تو ان کی نظروں سے اوجھل تھی۔ یہی مفہوم اس قول باری کا ہے (فاما تہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہ قال کم لبثت قال لبثت یوماً او بعض یوم۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سو سال تک موت کی حالت میں رکھا پھر اسے…
Read the full tafseer →36۔ دین حق سے انحراف باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ :۔
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے آپس میں کہا کہ اگر تم اپنے دین سے پھر کر ان کے مذہب میں داخل گئے تو تم کبھی فلاح نہیں پاس کو گے کیونکہ شرک والے مذہب میں جانے کے بعد کوئی فلاح نہیں پاسکتا مگر ان کو کیا پتہ کہ ان کی اس نیند کے دوران ایک زمانہ دراز گزر چکا ہے اور اب اس شہر اور ملک کی اس عرصے میں تو کایا ہی پلٹ چکی ہے، اب وہاں مشرک بادشاہ کی بجائے ایک مؤحد حکمران کا راج اور اقتدار ہے، سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے ولی نہ عالم غیب ہوتے ہیں، نہ حاضر وناظر اور نہ مختار کل، پس جھوٹ ہے وہ سب کچھ جو کہ اہل بدعت کہتے ہیں، اور اللہ کے ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اصحاب کہف کا جاگنا اور اللہ کی حکمت
تشریح : ان آیات میں اصحاب کہف کے دوبارہ جاگ جانے کی مصلحت بیان کی گئی ہے۔ جس طرح اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو سلائے رکھا اسی طرح ایک طویل مدت کے بعد ان کو جگا بھی دیا۔ اس میں مصلحت یہ تھی کہ جب وہ لوگ جاگے اور کھانے کی تلاش میں بازار گئے تو شہر میں بت پرست روم کو عیسائی ہوئے عرصہ گزر چکا تھا۔ جب انہوں نے اس انتہائی پرانے طرز کے لباس میں اتنے پرانے سکے کے ساتھ اس آدمی کو دیکھا تو سارے شہر میں کھلبلی مچ گئی۔ تحقیقات شروع ہوگئیں تو معلوم کرلیا گیا کہ عرصہ دراز قبل جو لوگ غاروں میں جا چھپے تھے یہ وہی لوگ ہیں۔ اس میں اللہ کی حکمت یہ تھی کہ اس وقت لوگوں میں مرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
جو بھی انہیں دیکھے وہ سمجھے گا کہ یہ جاگ رہے ہیں یعنی نیند کے اثرات تک اس سے ظاہر نہیں ہو پا رہے جیسے آنکھوں کا بند ہونا یا بدن کا ڈھیلا پن یا سانس کا اکھڑنا بلکہ صدیوں کی نیند بھی محض ان کے آرام اور قدرت الہی کے اظہار کے لیے ہے ، ان پر اپنا وہ اثر بھی مرتب نہیں کر پا رہی جو عام حالات میں چند لمحے سونے والے انسان پر بھی مرتب ہوتا ہے اور لطف یہ ہے کہ وہ سو بھی رہے ہیں ان کے اس نیند کے دور میں ہم خود یعنی ذات باری خود ان کو کروٹیں تبدیل کراتی ہے ، کبھی دائیں اور کبھی بائیں ۔
(قرب الہی کا عجیب حال)
یعنی ان پر رب جلیل کا اس قدر احسان ہے کہ نہ یہ کہ صرف خارجی اثرات انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 6 تمہاری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوجائیں گی۔7 یعنی جس طرح ہم نے ان کو ثابت قدم رکھا اور حیرت انگیز طریقہ سے سلائے رکھا اسی طرح ہم نے شہروالوں کو ان کی حقیقت حال اور جگہ سے مطلع کردیا۔ بہت سے مفسرین کا بیان ہے کہ ہوا یہ کہ جب وہ شخص کھانا خرینے کے لئے روانہ ہوا تو اس نے دیکھا کہ شہر کے راستے لوگوں کی تہذیب اور رہن سہن زبان و لباس ہر چیز بدل چکی ہے۔ اس نے خیال کیا کہ شاید میں پاگل ہوگیا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں۔ بالآخر وہ ایک شہر پہنچا اور ایک دکاندار سے کھاتا خریدنے لگا اور اس نے سکہ نکالا تو دکاندار ششدر رہ گیا اور اس نے ایک دوسرے دکادنار کو بلایا بالآخر کچھ لوگ جمع ہوگئے اور انہیں شک گزرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(18:20) انہم۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب اہل شہر کے لئے ہے۔
ان یظھروا علیکم۔ اگر وہ تمہاری خبر پالیں گے۔ اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے۔ ظھر بالمقابل بطن کے ہو تو بمعنی ظاہر ہونا۔ نمایاں ہونا جیسے ما ظھر منہا وما بطن (6:15) ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ ظھر بمعنی زیادہ ہونا اور پھیل جانا کے بھی آیا ہے۔ مثلاً ظھر الفساد فی البر والبحر۔ (30:14) خشکی اور تری میں (لوگوں کے اعمال کے سبب) فساد پھیل گیا۔ ظھرجب بصلہ علی آئے تو بمعنی پانا کے ہوتا ہے، جیسے آیۃ ہذا میں ۔ اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے۔
یرجموکم۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ مجزوم بوجہ جواب شرط کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو سنگسار کردیں گے وہ تم کو پتھر مار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 21
لیتساء لوا تاکہ وہ آپ میں پوچھیں۔ ابعثوا بھیجو۔ ورق سکہ، روپیہ پیسہ۔ ازکی حلال اور عمدہ۔ ولیتلطف اور دبے پاؤں جائے۔ لایشعرن خبر نہ دینا۔ ان یظھروا یہ کہ انہوں نے خبر پائی۔ یرجمون وہ پتھر ماریں گے۔ سنگسار کردیں گے۔ یعیدون وہ لوٹائیں گے۔ لن تفلحوا تم ہرگز فلاح نہ پاؤں گے۔ ابداً ہمیشہ۔ اعثرنا ہم نے مطلع کردیا ۔ یتنازعون وہ آپس میں جھگڑتے ہیں۔ غلبوا جو غالب ہوگئے۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 21
اصحاب کہف عرصے تک پرسکون نید سوتے رہے۔ پھر اللہ نے ان کو گہری نیند سے جگا دیا۔ جب وہ سو کر اٹھے تو انہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ وہ تین سو نو سال تک اتنی گہری نیند سوتے رہے ہیں کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
مطلب یہ ہے کہ جس طرح تین سو نو برس تک ان کو سلایا اب ان کو اسی طرح اپنی قدرت سے اٹھایا بٹھایا، یا بےآب ودانہ اتنی مدت تک وہ کو نکر سوتے رہے اور اٹھنے کے ساتھ ہی بھوک ان کو کیونکر لگ آئی۔ اتنی مدت تک ان کے جسم اور کپڑوں کو زمین نے کیونکر نہیں کھایا۔ سوتے اٹھتے ہی ان میں سے ایک نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ ہم کتنی دیر سوئے ہوں گے جواب ملا کہ دن بھر یا دوپہر سوئے ہون گے ۔ مگر جب انہوں نے ناخن اور بال بڑھے ہوئے دیکھے تو کہنے لگے :” اللہ ہی کو خوب معلوم ہے کہ کتنی دیر سوئے “ (اس کے بعد کا مطلب اوپر قصے کے اندر آچکا ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
[5] یعنی ان کے غار کا دہانا شمال کے رخ تھا جس کی وجہ سے سورج کی روشنی کسی موسم میں بھی اندرنہ پہنچتی تھی اور باہر سے گزرنے والا یہ نہ دیکھ سکتا تھا کہ اندر کون ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(ف 1) طویل مدت کے بعد اللہ نے ان کو زندہ کیا ، یہ اٹھے اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم کتنی مدت یہاں رہے اور یہ خیال کرکے کہ شاید ایک آدھ دن اس عالم شکر وبیہوشی میں گزرا ہے ، اپنے آدمی کو شہر میں بھیجا کہ وہ نفیس کھانا خرید لائے ، اسے تاکید کی ، کہ خفیہ خفیہ جائے اور ہشیار رہے ، ایسا نہ ہو ، مخالفین پکڑ لیں ، اور پھر غلط عقائد کے ماننے پر مجبور کردیں ،
یہ تمام عرصہ انہیں بہت تھوڑا معلوم ہوا ، اس لئے کہ وہ جس حالت میں تھے ، اسی میں زندہ ہوگئے ، انہوں نے یہ خیال کیا ہوگا کہ زہد و عبادت کی کثرت سے شاید قدرے بےہوشی طاری ہوگی ہو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
- 19 اور جس طرح ہم نے ان کو اپنی قدرت کاملہ سے سلایا اسی طرح ہم نے ان کو جگا دیا اور اٹھا دیا تاکہ وہ آپس میں پوچھ گچھ کریں چناچہ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ تم اس حالت میں یعنی نیند میں یا کھوہ میں کتنی مدت رہے ایک فریق نے جواب دیا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے ہوں گے دوسرے فریق نے کہا یہ تو تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ تم کتنے عرصے اور کتنی مدت رہے۔ اب تم اپنے میں سے کسی شخص کو یہ روپیہ دے کر بھیجو وہ جا کر دیکھے کہ کون سا کھانا عمدہ اور حلال و پاکیزہ ہے سوا س حلال کھانے میں سے ہمارے پاس کچھ کھانا لے آئے اور یہ کام خوش تدبیری نرمی اور ہوشیاری سے کرے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ف 1۔ کیونکہ ان کے زمانہ پوشیدگی غار میں بتوں کا ذبیحہ بکثرت بکتا تھا۔
Read the full tafseer →تفسیر :
اپنے خدشے کو مزید واضح کیا اور جانے والے کو بتایا کہ اگر راز کھل گیا تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ :
22۔ پروگرام کے مطابق بھیجنے والے آدمی کو انہوں نے مزید تاکید کی کہ اگر ان کے اس جگہ رہائش پذیر ہوجانے کا راز کسی پر کھل گیا تو اس کے نتیجہ میں کیا کچھ ممکن ہے یعنی یہ راز کوئی معمولی راز نہیں بلکہ اس کے نتیجہ میں ہم لوگ رجم بھی کئے جاسکتے ہیں اور ہم کو دوبارہ کفر وشرک کی حلت پر مجبور بھی کیا جاسکتا ہے ، اور اگر ایسا ہوگیا تو ہماری دنیا تو پہلے گئی اس طرح ہم دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے ‘ ہمیں وہ سزا بھگتنا ہوگی جو دوسروں کے لئے بھی باعث عبرت ہو اور اس کے نتیجے میں ہماری تحریک کو بھی مزید…
Read the full tafseer →The word: رجم (rajm) in: يَرْجُمُوكُمْ means they will stone you to death - 19.' It will be recalled that the king had warned them - before they went to the Cave - that they will be killed if they kept adhering to their present faith. This verse tells us that a renegade in their faith used to be punished by being stoned to death in which everyone participated, expressed collective anger and lent a hand in killing him.
Perhaps, the punishment for adultery committed by a married man or woman by stoning to death, as proposed in the Shari` ah of Islam, may be aimed at exposing the one guilty of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
16. They were awakened from their sleep in the same miraculous way that was employed in sending them to sleep and keeping them hidden from the outer world.
Read the full tafseer →