Explained with ayahs 19–20
موت کے بعد زندگی
ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے انہیں سلا دیا تھا، اسی طرح اپنی قدت سے انہیں جگا دیا۔ تین سو نو سال تک سوتے رہے لیکن جب جاگے بالکل ویسے ہی تھے۔ جیسے سوتے وقت تھے، بدن بال کھال سب اصلی حالت میں تھے۔ بس جیسے سوتے وقت تھے ویسے ہی اب بھی تھے۔ کسی قسم کا کوئی تغیر نہ تھا آپس میں کہنے لگے کہ کیوں جی ہم کتنی مدت سوتے رہے ؟ تو جواب ملا کہ ایک دن بلکہ اس سے بھی کم کیونکہ صبح کے وقت یہ سو گئے تھے اور اس وقت شام کا وقت تھا اس لئے انہیں یہی خیال ہوا۔ لیکن پھر خود انہیں خیال ہوا کہ ایسا تو نہیں اس لئے انہوں نے ذہن لڑانا چھوڑ دیا اور فیصلہ کن بات کہہ دی کہ اس کا صحیح علم صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الْكَهْف 16
یعنی جیسے عجیب طریقے سے وہ سلائے گئے تھے اور دنیا کو ان کے حال سے بیخبر رکھا گیا تھا، ویسا ہی عجیب کرشمہ قدرت ان کا ایک طویل مدت کے بعد جاگنا بھی تھا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (جس طرح ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے ان کو اتنے زمانہ دراز تک سلایا) اسی طرح (اس طویل نیند کے بعد) ہم نے ان کو جگا دیا تاکہ وہ آپس میں پوچھ پاچھ کریں (تا کہ باہمی سوال و جواب کے بعد ان کو حق تعالیٰ کی قدرت اور حکمت منکشف ہو چنانچہ) ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ (اس نیند کی حالت میں) تم کس قدر رہے ہو گے (جواب میں) بعض نے کہا کہ (غالبا) ایک دن یا ایک دن سے بھی کچھ کم رہے ہوں گے، دوسرے بعض نے کہا کہ (اس کی تفتیش کی کیا ضرورت ہے) یہ تو (ٹھیک ٹھیک (تمہارے رب ہی کو خبر ہے کہ تم کس قدر (سوتے) رہے اب (اس فضول بحث کو چھوڑ کر ضروری کام کرنا چاہئے وہ یہ کہ) اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ…
Read the full tafseer →وَكَذَلِكَ بَعَثْنَاهُمْ لِيَتَسَاءَلُوا بَيْنَهُمْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالُوا رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هَذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنْظُرْ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا فَلْيَأْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا۔
کارسازی کی ایک اور نشانی : " وکذلک " یعنی ان کے معاملہ میں جس طرح اپنی کارسازی کی وہ شان ہم نے دکھائی جو اوپر مذکور ہوئی اسی طرح اپنی یہ شان بھی دکھائی کہ ان کو اس نیند سے بیدار کیا کہ ان کے اندر باہم اس امر میں سوال و جواب ہو کر یہ خواب…
Read the full tafseer →19۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے انھیں اپنی قدرت سے سلا دیا تھا، اسی طرح تین سو نو سال کے بعد ہم نے انھیں اٹھا دیا اور اس حال میں اٹھایا کہ ان کے جسم اسی طرح صحیح تھے، جس طرح تین سو سال قبل سوتے وقت تھے، اسی لئے آپس میں ایک دوسرے سے انہوں نے سوال کیا۔
19۔ 2 گویا جس وقت وہ غار میں داخل ہوئے، صبح کا پہلا پہر تھا اور جب بیدار ہوئے تو دن کا آخری پہر تھا، یوں وہ سمجھے کہ شاید ہم ایک دن یا اس سے بھی کم، دن کا کچھ حصہ سوئے رہے۔
19۔ 3 تاہم کثرت نوم کی وجہ سے وہ سخت تردد میں رہے اور بالآخر معاملہ اللہ کے سپرد کردیا کہ وہی صحیح مدت جانتا ہے۔
19۔ 4 بیدار ہونے کے بعد، خوراک جو انسان کی سب سے اہم ضرورت ہے، اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
12: پاکیزہ کھانے سے مراد بظاہر حلال کھانا ہے ان حضرات کو فکر یہ تھی کہ بت پرستوں کے شہر میں حلال کھانا ملنا آسان نہیں۔ اس لیے جانے والے کو یہ تاکید کی کہ وہ ایسی جگہ سے کھانا لائے جہاں حلال کھانا میسر ہو۔ نیز چونکہ ان کے خیال میں ابھی تک اسی بت پرست بادشاہ کی حکومت تھی، اس لیے انہیں دوسری فکر یہ تھی کہ کہیں کسی کو ان کے غار میں چھپنے کا پتہ نہ لگ جائے۔ اس لیے جانے والے کو دوسری تاکید یہ کی کہ ہوشیاری سے جا کر کھانا لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
اس قصے کے بیان میں سرپرائز کا عمل جاری ہے۔ اچانک جب یہ منظر سامنے آتا ہے تو نوجوان اب جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ یہ اندازہ صحیح اندازہ نہیں کرسکتے کہ انہوں نے اس غار میں کتنا وقت گزارا ۔ اور کتنی دیر تک سوتے رہے۔ یہ آنکھیں ملتے ہیں ، ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔ پوچھتے ہیں بھائی کتنی دیر ہوگئی۔ طویل نند سے جاگ کر ہر شخ پہلا سوال یہی کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایک طویل نیند کے کچھ آثار بھی پا رہے تھے۔ تو انہوں نے یہی اندازہ لگایا۔
لبثنا یوما او بعض یوم (81 : 91) ” شاید ایک دن یا اس سے کچھ کم “ اس کے بعد انہوں نے یہ موضوع سخن ترک کردیا ، جس پر بحث کا کوئی عملی فائدہ نہ تھا۔ اور اس مسئلے کو اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
3 جس طرح اپنی قدرت سے اتنی لمبی نیند سلایا تھا، اسی طرح بروقت جگا دیا۔ اٹھے تو آپس میں مذاکرہ کرنے لگے کہ ہم کتنی دیر سوئے ہوں گے ؟ بعض نے کہا " ایک آدھ دن۔ " یعنی بہت کم۔ دوسرے بولے کہ (اس بےفائدہ بحث میں پڑنے سے کیا فائدہ ؟ ) یہ تو خدا ہی کے علم میں ہے کہ ہم کتنی مدت سوئے۔ اب تم اپنا کام کرو۔ ایک آدمی کو یہ روپیہ دے کر شہر بھیجو کہ وہ کسی دکان سے حلال اور ستھرا کھانا دیکھ کر خرید لائے۔ یہ ضروری ہے کہ اسے نہایت ہوشیاری سے جانا آنا اور نرمی و تدبیر سے معاملہ کرنا چاہیے کہ کسی شہر والے کو ہمارا پتہ نہ لگے، ورنہ بڑی سخت خرابی ہوگی۔ اگر ظالم بادشاہ کو پتہ چل گیا تو ہم کو یا سنگسار کیا جائے گا یا…
Read the full tafseer →قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۭ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ
جب کچھ ساتھیوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ انہوں نے ایک دن یا اس سے کچھ کم وقت نیند میں گزارا ہے تو ان کے جواب پر کچھ دوسرے ساتھی بول پڑے کہ اس بحث کو چھوڑ دو اللہ کو سب پتا ہے کہ تم لوگ یہاں کتنا عرصہ تک سوئے رہے ہو۔
فَلْيَنْظُرْ اَيُّهَآ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْيَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ
ظاہر ہے کہ اپنے اعتقاد اور نظریے کے مطابق انہیں پاکیزہ کھانا ہی چاہیے تھا۔
وَلْيَتَلَطَّفْ
یعنی جو ساتھی کھانا لینے کے لیے جائے وہ لوگوں سے بات چیت اور لین دین کرتے ہوئے خصوصی طور پر اپنا رویہ نرم رکھے۔ ایسا نہ ہو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
18 طویل نیند کے بعد بیداری کھانے کی فکر اور ایک آدمی کو شہر بھیجنا :۔ جس طرح ہم نے مشکل وقت میں ان پر ایک طویل عرصہ کے لیے نیند طاری کی تھی۔ اسی طرح جب حالات ان کے حق میں ساز گار ہوئے تو انھیں جگا بھی دیا جاگنے پر سب سے پہلا سوال جو ان کے ذہن میں آیا یہ تھا کہ ہم کتنا عرصہ سوئے رہے انہوں نے اس عرصہ کو عام حالات پر قیاس کیا کہ انسان خواہ کتنا ہی تھکا ماندہ ہو ایک دن سے زیادہ سو نہیں سکتا اور عام حالات میں یہی کوئی آٹھ نو گھنٹے سو لیتا ہے۔ لہذا کسی نے کہا کہ ہم دن بھر سوئے رہے ہیں اور کسی نے کہا اتنا کب سوئے ہیں بس کوئی چند گھنٹے ہی سوئے ہوں گے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آخر اس بحث کا کوئی فائدہ…
Read the full tafseer →26۔ (اور اس میں ان پر حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور زیادہ منکشف ہو) (آیت) ” وکذلک بعثنھم “۔ یعنی جس عجیب اعجازی رنگ میں ہم نے ان پر نیند مسلط کردی تھی، اسی اعجازی انداز میں انہیں اس سے جگا بھی دیا۔ (آیت) ” بعثنھم “۔ یعنی انہیں اس نوم طویل و ثقیل سے بیدار کردیا۔ (آیت) ” لیتسآء لوا “۔ میں ل عاقبت کا ہے۔ یعنی اس بیداری کا نتیجہ یہ ہوا، یہ مراد نہیں کہ وہ بیدار ہی اس غرض سے کئے گئے تھے، واللام فیہ لام العاقبۃ لانھم لم یبعثوا للسؤل (معالم)
27۔ (کہ خوراک وغیرہ ضرورت کی چیزیں لائے) (آیت) ’ ’ قال۔۔۔ بما لبثتم “۔ نیند اتنی غفلت کی اور ایسی بیہوشی کی تھی کہ ان لوگوں کو اس کی مدت کا بھی مطلق ادراک نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت نمبر 18 تا 20
ترجمہ : اور اگر آپ ان کو دیکھیں تو بیدار محسوس کریں یعنی بیدار سمجھیں گے اس لئے کہ آنکھیں ان کی کھلی ہوئی ہیں (اَیقاظ) یُقِظ بکسر قاف کی جمع ہے حالانکہ وہ سو رہے ہیں رقود راقد کی جمع ہے اور ہم ان کو دائیں بائیں کروٹ بدلتے رہتے ہیں تاکہ زمین ان کے گوشت کو نہ کھاجائے اور ان کا کتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھا ہے یعنی غار کے صحن میں اور جب اصحاب کہف کروٹ لیتے ہیں تو وہ بھی کروٹ لیتا ہے، یعنی نیند اور بیداری میں وہ کتا انہیں کے مانند ہے اور اگر آپ ان کو جھانک کر دیکھیں تو وہاں سے الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوں اور آپ کے اوپر دہشت غالب آجائے (لملئتَ ) لام کی تخفیف اور تشدید…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا ‘ یعنی جس طرح نشان قدرت بنا کر غار کے اندر ہم نے طویل مدت تک ان کو سلایا اور ان کے اجسام کو سڑنے گلنے سے محفوظ رکھا۔ اسی طرح اس موت نما خواب سے ان کو بیدار کیا تاکہ ان کے بیدار ہونے سے بھی قدرت خداوندی کا مظاہرہ ہو۔
لِيَتَسَاۗءَلُوْا بَيْنَهُمْ تاکہ وہ آپس میں سوال (و جواب یعنی پوچھ گچھ) کریں اور اپنی حالت کا ان کو علم ہوجائے اور اپنے ساتھ اللہ کے سلوک کو پہچان کر قدرت خداوندی کا ان کو مزید یقین ہوجائے اور وقوع قیامت کے عقیدے میں بصیرت آگیں پختگی پیدا ہوجائے۔ اس تفسیر پر لیتساء لوا میں لام علت کے لئے ہوگا۔ یعنی بیدار کر کے اٹھانے کی علت…
Read the full tafseer →(19) اور اسی طرح تین سو نوسال گزر جانے کے بعد ہم نے ان کو جگایا تاکہ آپس میں بات کریں چناچہ مکسلیمنا نامی نے جو ان کا سردار اور ان سب سے بڑا تھا کہا کہ تم حالت نیند میں اس غار کے اندر کس قدر رہے ہو گے بعض بولے غالبا ایک دن رہے ہوں گے مگر جب غار سے باہر نکل کر سورج دیکھا کہ وہ ابھی غروب ہونے کے قریب ہے تو بولے ایک دن سے بھی کچھ کم رہے ہوں گے مکسلیمنا سردار کہنے لگا یہ تو صحیح خبر تمہارے اللہ ہی کو ہے کہ تم کس قدر آب تملیخا کو افسوس شہر کی طرف یہ روپیہ دے کر بھیجو وہ تحقیق کرے کہ کون سا کھانا زیادہ آئے گا اور کون سا کھانا پاکیزہ اور حلال ہے تاکہ وہ اس میں سے تمہارے لیے کچھ کھانا لے آئے اور سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
وَكَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ۔۔ : یعنی جیسے ہم نے انھیں ایک حیرت انگیز طریقے سے غار کے اندر سلایا تھا اسی طرح انھیں اٹھا دیا کہ ان کے جسم صحیح سالم تھے، ان میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی، تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کریں اور جب انھیں پتا چلے کہ وہ اتنی لمبی مدت سونے کے بعد بیدار ہوئے ہیں تو انھیں ہماری قدرت کا اور مردوں کو زندہ کرنے کا اپنی ذات میں عملی مشاہدہ ہوجائے، ان کا ایمان و یقین مزید مضبوط ہوجائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کریں۔
قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ۔۔ : حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”معلوم ہوتا ہے کہ وہ غار میں دن کے پہلے پہر داخل ہوئے تھے اور دن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت نمبر 19 تا 20
قولہ تعالیٰ : وکذلک بعثنھم لیتساء لوا بینھم، البعث سے مراد سکون سے حرکت دینا ہے۔ اور اس کا معنی ہے : جیسا کہ ہم نے ان کے کان سننے سے بند کر دئیے، اور ہم نے ان کے لئے نور ہدایت میں اضافہ کیا، اور ہم نے ان کی کروٹیں بدلیں (اسی طرح) ہم نے انہیں ان کی نید سے بیدار بھی کردیا۔ درآنحالیکہ وہ اپنے کپڑوں اور دیگر احوال میں اپنی پہلی حالت پر ہی تھے۔ شاعر نے کہا ہے :
وفتیان صدق قد بعثت بسحرۃ فقاموام جمیعا بین عاث ونشوان
یعنی میں نے بیدار کردیا۔ اور قول باری تعالیٰ : لیتساء لوا میں لام ضرورت ہے اور یہی لام عاقبت ہے، جیسا کہ اس ارشاد میں لام عاقبۃ ہے : لیکون لھم عدوا وحزنا (القصص :8)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تزور “ سے مراد ہے ہٹ جانا (اور) (آیت) ” تقرضہم “ سے مراد ہے ان کو چھوڑ کر۔
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” تقرضہم “ سے مراد ہے کہ ان کو چھوڑ دیتی تھی (آیت) ” وھم فی فجوۃ منہ “ سے مراد ہے اندر کی جگہ۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم فی فجوۃ منہ “ میں فجوۃ سے مراد ہے زمین کی علیحدہ اور اکیلی جگہ۔
4:۔ ابن منذر نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم فی فجوۃ منہ “ سے مراد ہے کنارہ۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…
Read the full tafseer →[وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [بَعَثْنٰهُمْ : ہم نے اٹھایا ان کو ] [لِيَتَسَاۗءَلُوْا : تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں ] [بَيْنَهُمْ : آپس میں ] [قَالَ : کہا ] [قَاۗىِٕلٌ: ایک کہنے والے نے ] [مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [كَمْ : کتنا (عرصہ)] [لَبِثْتم : تم لوگ ٹھہرے ] [قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [لَبِثْنَا : ہم ٹھہرے ] [يَوْمًا : ایک دن ] [اَوْ : یا ] [بَعْضَ يَوْمٍ : ایک دن کا کچھ (حصّہ)] [قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [رَبُّكُمْ : تمہارا رب ] [اَعْلَمُ : خوب جاننے والا ہے ] [بِمَا : اس کو جو ] [لَبِثْتم : تم لوگ ٹھہرے ] [فَابْعَثُوْٓا : تو (اب) تم لوگ بھیجو ] [اَحَدَكُمْ : اپنے ایک کو ] [بِوَرِقِكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اصحاب کہف کا بیدار ہو کر آپس میں اپنی مدت قیام کے بارے میں سوال و جواب کرنا اور اپنے ایک آدمی کو کھانا لانے کے لیے شہر بھیجنا
اصحاب کہف مدت دراز تک غار میں سوتے رہے پھر جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوئی تو انہیں جگا دیا ان کا اتنی لمبی مدت تک سلا دینا بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر دلالت کرتا ہے پھر ان کا جگا دینا۔ قال صاحب الروح ووجہ الشبہ کون کل منھا آیۃ دالۃ علی کمال قدرتہ الباھرۃ عزوجل۔ جب یہ لوگ جاگ گئے تو ان میں سے ایک شخص نے یہ سوال اٹھایا کہ تم یہاں کتنے دن ٹھہرے ہو ؟ پھر آپس میں جواب دیا کہ ہاں ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں، مطلب یہ تھا کہ ہم یقینی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
بقیہ قصہ مذکورہ
قال اللہ تعالیٰ وتحسبھم ایقاظا وھم رقود .... الیٰ .... لنتخذن علیہم مسجدا۔
اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حیات کی حفاظت کا ایک سامان یہ کیا کہ اے دیکھنے والے اگر تو ان کو دیکھے تو ان کو جاگتا ہوا خیال کرے حالانکہ وہ سو رہے ہیں خواب میں غرق ہیں اور اس نیند کی حالت میں ہم ان کی کروٹیں بدلتے رہتے ہیں کبھی دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف تاکہ زمین ان کے جسموں کو نہ کھا جائے اور ان کا کتا غار کی دہلیز پر اپنی دونوں بانہیں پسارے پڑا ہے ابن کثیر (رح) نے ذکر کیا ہے کہ یہ کتا ان میں سے کسی کے شکار کا تھا اور اس کتے کا نازم قطمیر تھا کہتے ہیں کہ وہ کتا بہشت میں جائے گا۔
سگ اصحاب کہف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19:۔ یہ ” ثم بعثناھم الخ “ کی تفصیل ہے۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا ” کذلک “ میں کاف تشبیہ کے لیے نہیں بلکہ بیان کمال کے لیے ہے۔ یعنی اس قدرت طویل عرصہ کے بعد یوں ہم نے ان کو بیدار کیا۔ یہ ہماری قدرت کا کمال تھا اس میں ان کے اختیار و تصرف کا دخل نہیں تھا۔ ” لیتساء لوا “ میں لام ” بعثنا “ سے متعلق ہے۔ یعنی ہم نے ان کو عرصہ دراز کے بعد بیدار کیا۔ تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ انہیں سوئے ہوئے کتنی مدت ہوئی۔ چناچہ جب وہ بیدار ہوئے تو رئیس بولا ” کم لبثتم “ باقیوں نے کہا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ تم کتنا عرصہ سوتے ہو۔ اس سوال و جواب سے معلوم ہوا کہ اصحاب کہف اپنی مدت خواب کے بارے میں حتمی طور پر کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کی اپنی قوم سے علیحدگی کا حال ذکر کیا ، اللہ کے ان نیک بندوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم اپنے سچے دین پر قائم رہ کر ظالم بادشاہ کا تشدد برداشت نہیں کرسکتے ، لہذا بہتر ہے کہ ہم یہاں سے بھاگ جائیں اور کسی پہاڑ کی غار میں روپوش ہوجائیں ، چناچہ اس منصوبہ کے تحت یہ لوگ شہر کے قریب ہی پہاڑ کی ایک غار میں پناہ گزیں ہوگئے ، وہ وقتا فوقتا اپنے میں سے ایک آدمی کو شہر بھی بھیجتے رہے تاکہ ایک تو وہ ان کے لیے خوردونوش کا سامان لاسکے اور دوسرے شہر کے حالات معلوم کرسکے ، چناچہ ان پر نیند طاری ہونے سے قبل جو شخص شہر سے ہو کر آیا اس نے بتایا کہ شہر میں سرکاری…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ بَعَثْنٰہُمْ لِيَتَسَاۗءَلُوْا بَيْنَہُمْ 0ۭ قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْہُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ 0ۭ قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ 0ۭ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ 0ۭ فَابْعَثُوْٓا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ ہٰذِہٖٓ اِلَى الْمَدِيْنَۃِ فَلْيَنْظُرْ اَيُّہَآ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْيَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْہُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا 19
بعث
أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ترکیب : وتری الشمس جملہ ان کے حال بیان کرنے کے لیے تزا اور اصل میں تتز اور ایک تے حذف ہوگئی من الزور بمعنی المیل ذات الیمین اے جھۃ الیمین ذات صفت ہے موصوف کے قائم مقام واقع ہوئی کیونکہ یہ ذوکا مؤنث ہے تقدیر تز اور عن کھفھم جھۃ ذات الیمین۔ فجوۃ مکان کا صحن یا گوشہ اس کی جمع فجوات آتی ہے ایقاظ جمع یقظ و یقظان رقود مصدر سمی المفعول بہ اور جس نے جمع راقد کہا غلطی کی کیونکہ فاعل کی جمع فعول نہیں آتی۔
اصحاب کہف و رقیم کا قصہ : کہف غار کو کہتے ہیں اور رقیم بمعنی المرقوم ای المکتوب پتھر یا سیسے کی وہ لوح کہ جس پر کچھ کتبہ لوگوں نے اصحاب کہف کا مختصر سا حال ایک لوح پر کندہ کر کے اس غار کے دروازہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
وَکَذٰلِکَ بَعَـثـْنٰـھُمْ لِیَتَسَآئَ لُوْا بَیْنَھُمْ ط قَالَ قَـآئِلٌ مِّنْھُمْ کَمْ لَبِثْـتُمْ ط قَالُوْا لَبِثْـنَا یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍ ط قَالُوْا رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْـتُمْ ط فَابْعَثُوْٓا اَحَدَکُمْ بِوَرِقِکُمْ ھٰذِہٖ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّھَآ اَزْکٰی طَعَامًا فَلْیَاْ تِکُمْ بِرِزْقٍ مِّنْہُ وَلْیَتَلَطَّفْ وَلاَ یُشْعِرَنَّ بِکُمْ اَحَدًا۔ اِنَّھُمْ اِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوْکُمْ اَوْیُعْیِدُوْکُمْ فِیْ مِلَّتِھِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوْٓا اِذًا اَبَدًا۔ (الکہف : 19، 20)
(اور اسی طرح ہم نے ان کو جگایا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں، ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
فہم القرآن
ربط کلام : اصحاب کہف کا اٹھایا جانا، ان کا ایک دوسرے سے اپنے قیام کے بارے میں پوچھنا اور اپنی قوم کے ظلم سے ڈرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو تین سو نو سال کے بعد اٹھایا۔ تاکہ یہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ یہاں کتنی دیر ٹھہرے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ اس بات کو منکرین آخرت کے لیے حجت قرار دیا ہے۔ اصحاب کہف کو تین سو نو سال سلانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اٹھایا، جونہی وہ لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھے تو ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ بھائی ! ہم کتنی دیر یہاں ٹھہرے رہے ہیں ؟ ہر کسی نے سورج کا حساب لگا کر بتایا کہ ہم چند گھنٹے یا ایک دن سوئے رہے ہیں۔ اس اندازے کی دو وجہ تھیں۔ جب وہ سورج کو دیکھتے تو انہیں…
Read the full tafseer →19: وَکَذٰلِکَ بَعَثْنٰھُم (اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا) جس طرح ہم نے اس نیند سے ان کو سلایا۔ اسی طرح ہم نے ان کو سلانے اور اٹھانے پر قدرت کے اظہار کے لئے ان کو بیدار کیا۔ لِیَتَسَآ ئَ لُوْا بَیْنَہُمْ (تاکہ وہ آپس میں سوال و جواب کریں) اور ایک دوسرے کی حالت کو پہچانیں اور اپنے ساتھ اللہ کے سلوک کو معلوم کر کے مزید عبرت حاصل کریں اور اس کی عظیم قدرت پر اس سے استدلال کریں جس سے ان کے یقین میں مزید اضافہ ہو اور اللہ نے جو ان پر انعام فرمایا اس کا شکریہ ادا کریں۔ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْھُمْ (ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا) یعنی ان کے سربراہ نے کہاکمْ لَبِثْتُمْ (تم کتنا ٹھہرے ہو۔ ) یعنی تمہارے…
Read the full tafseer →تفسیر 19 ۔ ” وکذلک بعثناھم “ جیسے ہم نے اصحاب کہف کو نیند سلایا اور ان کے جسموں کو سڑنے سے محفوظ رکھا اس طویل مدت میں۔ اسی طرح اس موت نما خواب میں ان کو بیدار کیا۔ ” لیتساء لوابینھم “ تاکہ وہ اس کے متعلق ایک دوسرے سے سوال کریں۔ ” لیتسالوا “ لازم سے لازم عاقبت مراد ہے۔ ان کے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہے کہ انہوں نے باہم سوال و جواب کیے اصل غرض یہ نہ تھی۔ ” قال قائل منھم “ ان کے سردار مکسلمینا نے کہا ” کم لبثتم “ اس نیند سے۔ ان کو اس بات میں شک ہوا کہ طول نوم رہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ زیادہ دیر سونے سے ان کی کچھ نمازیں فوت ہوگئی تھیں اس لیے انہوں نے بطور تعجب کے یہ بات کہی۔ ” قالوا لبثنا یوماً “ غار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19۔ 20:۔ ان آیتوں میں تین سو برس کے بعد ان جوانوں کے جاگنے کا ذکر ہے ان کے جاگنے سے پہلے انتظام الٰہی کے موافق ایک بکریاں چرانے والے شخص نے اپنی بکریوں کو اس غار میں رکھنے کا ارادہ کر کے غار کے منہ پر کی دیوار کو ڈھا ڈالا مگر اس غار میں اللہ تعالیٰ نے دہشت جو پیدا کردی تھی اس کے سبب سے وہ بکریاں چرانے والا شخص غار کے اندر نہیں گیا اور اپنی بکریاں اس نے وہاں نہیں رکھیں۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تین سو نو برس تک ان جوانوں کو سلایا اب ان کو اسی طرح اس صاحب قدرت نے اٹھا بٹھایا تاکہ ان کو اللہ کی قدرت معلوم ہوجائے کہ بےآب و دانہ کتنی مدت تک وہ کیوں کر سوئے اور اٹھنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(آیت نمبر 19)
(وکذلک بعثنھم) یعنی اسی طرح ہم نے ان کو ان کی طویل نیند سے بیدار کیا (لیتساء لو ابینھم) ” تاکہ آپس میں ایک یک دوسرے سے دریافت کریں۔ “ یعنی سونے کی مدت کے بارے میں حقیقت معلوم کرنے کے لیے ایک دوسرے سے پوچھیں۔ ( قال قائل منھم کم لبثتم قالوا لبثنا یوما اوبعض یوم ) ” ان میں سے ایک نے کہا ‘ تم کتنی مدت ٹھہرے ؟ انہوں نے کہا ‘ ہم ٹھہرے ایک دن یا ایک دن سے کم۔ “ یہ قاہل کے ظن پر مبنی ہے گویا ان کو اپنی مدت کی طوالت کے بارے میں اشتباہ واقع ہوگیا تھا ‘ اس لیے (قالوا ربکم اعلم بما لبثتم ) ” انہوں نے کہا تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے جتنی مدت تم ٹھہرے “ پس انہوں نے اپنے علم کو اس ہستی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
غار میں ان کی مدت قیام
قول باری ہے (قالوا لبثنا یوماً او بعض یوم۔ دوسروں نے کہا شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے) جب اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کرتے ہوئے اس کی تردید نہیں کی تو اس سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ انہوں نے ٹھیک ہی کہا تھا اس لئے کہ ان کے اس قول کی بنیاد ان کے اپنے خیال کے مطابق وہ مدت تھی جس میں وہ نماز میں قیام پذیر رہے۔ انہوں نے یہ بات قیام کی حقیقی مدت کے متعلق نہیں کہی تھی کیونکہ یہ مدت تو ان کی نظروں سے اوجھل تھی۔ یہی مفہوم اس قول باری کا ہے (فاما تہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہ قال کم لبثت قال لبثت یوماً او بعض یوم۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سو سال تک موت کی حالت میں رکھا پھر اسے…
Read the full tafseer →32۔ اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا :۔
اور اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے، جس سے بالآخر وہ خداوند قدوس کی قدرت کاملہ اور رحمت بےپایاں کے اس عظیم مظہر سے آگاہ ہوسکیں، اور اس سے ان کے ایمان میں مزید قوت آئے، یقین میں اور پختگی اور اضافہ نصیب ہو، اور وہ مزید از مزید اس کے اطاعت گزار اور شکر گزار بن کر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکیں، بہرکیف ان کو ہم نے ان کی اس طویل اور معجزانہ نیند کے بعد زندہ کرکے اٹھایا اور اس طور پر کہ نہ ان کے جسموں پر اس کا کوئی اثر اور نشان تھا، اور نہ ان کے کپڑے بوسیدہ ہوئے نہ ان کے بال بڑھے نہ ناخن، تاکہ اس طرح وہ ہماری قدرت کاملہ اور بعث بعد الموت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اصحاب کہف کا جاگنا اور اللہ کی حکمت
تشریح : ان آیات میں اصحاب کہف کے دوبارہ جاگ جانے کی مصلحت بیان کی گئی ہے۔ جس طرح اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو سلائے رکھا اسی طرح ایک طویل مدت کے بعد ان کو جگا بھی دیا۔ اس میں مصلحت یہ تھی کہ جب وہ لوگ جاگے اور کھانے کی تلاش میں بازار گئے تو شہر میں بت پرست روم کو عیسائی ہوئے عرصہ گزر چکا تھا۔ جب انہوں نے اس انتہائی پرانے طرز کے لباس میں اتنے پرانے سکے کے ساتھ اس آدمی کو دیکھا تو سارے شہر میں کھلبلی مچ گئی۔ تحقیقات شروع ہوگئیں تو معلوم کرلیا گیا کہ عرصہ دراز قبل جو لوگ غاروں میں جا چھپے تھے یہ وہی لوگ ہیں۔ اس میں اللہ کی حکمت یہ تھی کہ اس وقت لوگوں میں مرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
جو بھی انہیں دیکھے وہ سمجھے گا کہ یہ جاگ رہے ہیں یعنی نیند کے اثرات تک اس سے ظاہر نہیں ہو پا رہے جیسے آنکھوں کا بند ہونا یا بدن کا ڈھیلا پن یا سانس کا اکھڑنا بلکہ صدیوں کی نیند بھی محض ان کے آرام اور قدرت الہی کے اظہار کے لیے ہے ، ان پر اپنا وہ اثر بھی مرتب نہیں کر پا رہی جو عام حالات میں چند لمحے سونے والے انسان پر بھی مرتب ہوتا ہے اور لطف یہ ہے کہ وہ سو بھی رہے ہیں ان کے اس نیند کے دور میں ہم خود یعنی ذات باری خود ان کو کروٹیں تبدیل کراتی ہے ، کبھی دائیں اور کبھی بائیں ۔
(قرب الہی کا عجیب حال)
یعنی ان پر رب جلیل کا اس قدر احسان ہے کہ نہ یہ کہ صرف خارجی اثرات انہیں…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی ایک الگ تھلگ غار میں ان کا اس طرح لیٹا ہونا اور چوکھٹ پر کتے کا بیٹھا ہونا ایک ایسا دہشت ناک منظر پیش کرتا تھا اگر کوئی شخص اندر جھانکنے کی کوشش بھی کرنا تو خوف کے مارے بھاگ کھڑا ہوتا۔ یہ سب ان کی ایک لمبی مدت تک آرام و سکون سے سلائے رکھنے کے لئے خدائی انتظامات تھے۔2 یعنی جیسے ہم نے ایک حیرت انگیز طریقہ سے انہیں غار کے اندر سلایا اسی طرح …3 اور جب اس پوچھ گچھ کے نتیجہ میں آخر کار انہیں پتہ چلے کہ وہ کتنی مدت سوتے رہے تو انہیں ہماری قدرت کا عملی طور پر ہلکا سا اندازہ ہوجائے۔ (کبیر)4 یعنی حلال اور پاکیزہ کھاتا۔ (شوکانی)5 یعنی شہر میں داخل ہونے اور کھانا خریدنے میں ہوشیاری اور نرمی سے…
Read the full tafseer →(18:19) وکذلک بعثناہم۔ یعنی کماا نمناہم فی الکھف وحفظناہم من البلاء علی طور الزمان بعثناہم من النومۃ التی تشبہ الموت۔ یعنی جس طرح ہم نے ان کو غار (کہف) میں سلا دیا تھا اور طویل مدت تک ان کی ہر بلا سے حفاظت کر رکھی تھی اسی طرح ہم نے ان کو اس نیند سے جو بمشابہ موت کے تھی پھر اٹھا کھڑا کیا۔
لبثتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم رہے (باب سمع) فلبث فیہم الف سنۃ۔ (29:24) تو وہ ان میں ہزار برس رہے۔ ابعثوا۔ بعث سے۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تم بھیجو۔ ورقکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا ورق۔ بمعنی چاندی کا سکہ۔
فلینظر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ پس چاہیے کہ وہ دیکھے (یعنی وہ آدمی جس کو بھیجا جائے۔ وہ دیکھے) ۔ ایھا۔ ای ای…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 21
لیتساء لوا تاکہ وہ آپ میں پوچھیں۔ ابعثوا بھیجو۔ ورق سکہ، روپیہ پیسہ۔ ازکی حلال اور عمدہ۔ ولیتلطف اور دبے پاؤں جائے۔ لایشعرن خبر نہ دینا۔ ان یظھروا یہ کہ انہوں نے خبر پائی۔ یرجمون وہ پتھر ماریں گے۔ سنگسار کردیں گے۔ یعیدون وہ لوٹائیں گے۔ لن تفلحوا تم ہرگز فلاح نہ پاؤں گے۔ ابداً ہمیشہ۔ اعثرنا ہم نے مطلع کردیا ۔ یتنازعون وہ آپس میں جھگڑتے ہیں۔ غلبوا جو غالب ہوگئے۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 21
اصحاب کہف عرصے تک پرسکون نید سوتے رہے۔ پھر اللہ نے ان کو گہری نیند سے جگا دیا۔ جب وہ سو کر اٹھے تو انہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ وہ تین سو نو سال تک اتنی گہری نیند سوتے رہے ہیں کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
مطلب یہ ہے کہ جس طرح تین سو نو برس تک ان کو سلایا اب ان کو اسی طرح اپنی قدرت سے اٹھایا بٹھایا، یا بےآب ودانہ اتنی مدت تک وہ کو نکر سوتے رہے اور اٹھنے کے ساتھ ہی بھوک ان کو کیونکر لگ آئی۔ اتنی مدت تک ان کے جسم اور کپڑوں کو زمین نے کیونکر نہیں کھایا۔ سوتے اٹھتے ہی ان میں سے ایک نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ ہم کتنی دیر سوئے ہوں گے جواب ملا کہ دن بھر یا دوپہر سوئے ہون گے ۔ مگر جب انہوں نے ناخن اور بال بڑھے ہوئے دیکھے تو کہنے لگے :” اللہ ہی کو خوب معلوم ہے کہ کتنی دیر سوئے “ (اس کے بعد کا مطلب اوپر قصے کے اندر آچکا ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
[5] یعنی ان کے غار کا دہانا شمال کے رخ تھا جس کی وجہ سے سورج کی روشنی کسی موسم میں بھی اندرنہ پہنچتی تھی اور باہر سے گزرنے والا یہ نہ دیکھ سکتا تھا کہ اندر کون ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(ف 1) طویل مدت کے بعد اللہ نے ان کو زندہ کیا ، یہ اٹھے اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم کتنی مدت یہاں رہے اور یہ خیال کرکے کہ شاید ایک آدھ دن اس عالم شکر وبیہوشی میں گزرا ہے ، اپنے آدمی کو شہر میں بھیجا کہ وہ نفیس کھانا خرید لائے ، اسے تاکید کی ، کہ خفیہ خفیہ جائے اور ہشیار رہے ، ایسا نہ ہو ، مخالفین پکڑ لیں ، اور پھر غلط عقائد کے ماننے پر مجبور کردیں ،
یہ تمام عرصہ انہیں بہت تھوڑا معلوم ہوا ، اس لئے کہ وہ جس حالت میں تھے ، اسی میں زندہ ہوگئے ، انہوں نے یہ خیال کیا ہوگا کہ زہد و عبادت کی کثرت سے شاید قدرے بےہوشی طاری ہوگی ہو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
- 19 اور جس طرح ہم نے ان کو اپنی قدرت کاملہ سے سلایا اسی طرح ہم نے ان کو جگا دیا اور اٹھا دیا تاکہ وہ آپس میں پوچھ گچھ کریں چناچہ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ تم اس حالت میں یعنی نیند میں یا کھوہ میں کتنی مدت رہے ایک فریق نے جواب دیا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے ہوں گے دوسرے فریق نے کہا یہ تو تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کہ تم کتنے عرصے اور کتنی مدت رہے۔ اب تم اپنے میں سے کسی شخص کو یہ روپیہ دے کر بھیجو وہ جا کر دیکھے کہ کون سا کھانا عمدہ اور حلال و پاکیزہ ہے سوا س حلال کھانے میں سے ہمارے پاس کچھ کھانا لے آئے اور یہ کام خوش تدبیری نرمی اور ہوشیاری سے کرے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ف 1۔ کیونکہ ان کے زمانہ پوشیدگی غار میں بتوں کا ذبیحہ بکثرت بکتا تھا۔
Read the full tafseer →تفسیر :
اس نظام الہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کتنا عرصہ گزرا اللہ ہی جانتا ہے :
20۔ وہ اپنے پروگرام کے مطابق زندگی گزارتے رہے اور اس طرح کتنا عرصہ گزرا اللہ ہی اس بات کو خوب جانتا ہے ہاں حالات یہ بتاتے ہیں کہ اتنی مدت کم از کم گزر چکی تھی کہ وہ ظالم بادشاہ مر چکا تھا یا معزول کیا جا چکا تھا اور ملک کی حالت مکمل نہیں بدلی تھی تو بھی بہرحال بہتر ہوچکی تھی اور رب اللہ وحدہ لا شریک لہ کی مدد قابل سزا نہیں رہا تھا کہ ایک بار وہ نیند سے جاگے وہ اس دفعہ وہ کتنی دیر سوئے تھے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جاگ کر کچھ کرنے کا باقاعدہ پروگرام بنایا تھا اور وہ اس پروگرام کے مطابق غالبا دیر میں جاگے تھے جیسا کہ…
Read the full tafseer →Commentary
The word: کَذٰلِک (kadhalik) in the first sentence is for comparison. The purpose at this place is to describe the mutual likeness of two events. One of these is the event of the long sleep of the People of Kahf for an equally long period of time mentioned in the beginning of the story under the verse: فَضَرَبْنَا عَلَىٰ آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا : "So, We veiled their hearing (putting them to sleep) in the Cave for a number of years - 11." The second event relates to the rising of these people from that long drawn sleep - intact, healthy and fit despite the absence…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
16. They were awakened from their sleep in the same miraculous way that was employed in sending them to sleep and keeping them hidden from the outer world.
Read the full tafseer →