دوبارہ جینے کی حجت
ارشاد ہے کہ اسی طرح ہم نے اپنی قدرت سے لوگوں کو ان کے حال پر اگاہ کردیا تاکہ اللہ کے وعدے اور قیامت کے آنے کی سچائی کا انہیں علم ہوجائے۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے کے وہاں موجود لوگوں کو قیامت کے آنے میں کچھ شکوک پیدا ہو چلے تھے۔ ایک جماعت تو کہتی تھی کہ فقط روحیں دوبارہ جی اٹھیں گی، جسم کا اعادہ نہ ہوگا پس اللہ تعالیٰ نے صدیوں بعد اصحاب کہف کو جگا کر قیامت کے ہونے اور جسموں کے دوبارہ جینے کی حجت واضح کردی ہے اور عینی دلیل دے دی۔ مذکور ہے کہ جب ان میں سے ایک صاحب دام لے کر سودا خریدنے کو غار سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ان کی دیکھی ہوئی ایک چیز نہیں سارا نقشہ بدلا ہوا ہے اس شہر کا…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 17
یعنی جب وہ شخص کھانا خریدنے کے لیے شہر گیا تو دنیا بدل چکی تھی۔ بت پرست روم کو عیسائی ہوئے ایک مدت گزر چکی تھی۔ زبان تہذیب، تمدن، لباس ہر چیز میں نمایاں فرق آگیا تھا۔ دو سو برس پہلے کا یہ آدمی اپنی سج دھج، لباس، زبان ہر چیز کے اعتبار سے فوراً ایک تماشا بن گیا۔ اور جب اس نے قیصر ڈیسیس کے وقت کا سکہ کھانا خریدنے کے لیے پیش کیا تو دکاندار کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ سریانی روایت کی رو سے دکاندار کو اس پر شبہ یہ ہوا کہ شاید یہ کسی پرانے زمانے کا دفینہ نکال لایا ہے۔ چناچہ اس نے آس پاس کے لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا اور آخرکار اس شخص کو حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہاں جا کر یہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (ہم نے جس طرح اپنی قدرت سے ان کو سلایا اور جگایا) اسی طرح ہم نے (اپنی قدرت و حکمت سے اس زمانے کے) لوگوں کو ان (کے حال) پر مطلع کردیا تاکہ (منجملہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہو کہ) وہ لوگ (اس واقعہ سے استدلال کر کے) اس بات کا یقین (یا زیادہ یقین) کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، اور وہ یہ کہ قیامت میں کوئی شک نہیں (یہ لوگ اگر پہلے سے قیامت میں زندہ ہونے پر ایمان رکھتے تھے تو زیادہ یقین اس واقعہ سے ہوگیا، اور اگر قیامت کے منکر تھے تو اب یقین حاصل ہوگیا یہ واقعہ تو اصحاب کہف کی زندگی میں پیش آیا، پھر ان صاحبوں نے وہیں غار میں وفات پائی، تو ان کے متعلق اہل عصر میں اختلاف…
Read the full tafseer →وَكَذَلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا
اس کذلک کا عطف اوپر والے کذلک پر ہے یعنی جس طرح ہم نے وہ شان دکھائی اسی طرح ہم نے یہ شان بھی دکھائی کہ لوگوں کو ان سے باخبر کردیا۔ یہاں اس بات کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ لوگ ان سے کس طرح آگاہ ہوئے۔ ہوسکتا ہے جو صاحب کھانا لینے کے لیے بازار گئے۔ انہی کو دیکھ کر بعض زیرک لوگوں نے تاڑ لیا ہو اور پھر ان کا…
Read the full tafseer →21۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے سلایا اور جگایا، اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کردیا۔ بعض روایات کے مطابق یہ آگاہی اس طرح ہوئی جب اصحاب کہف کا ایک ساتھی چاندی کا سکہ لے کر شہر گیا، جو تین سو سال قبل کے بادشاہ دقیانوس کے زمانے کا تھا اور وہ سکہ اس نے ایک دکاندار کو دیا، تو وہ حیران ہوا، اس نے ساتھ والی دکان والے کو دکھایا، وہ دیکھ کر حیران ہوا، جب کہ اصحاب کہف کا ساتھی یہ کہتا رہا کہ میں اس شہر کا باشندہ ہوں اور کل ہی یہاں سے گیا ہوں، لیکن اس ' کل ' کو تین صدیاں گزر چکی تھیں، لوگ کس طرح اس کی بات مان لیتے ؟ لوگوں کو شبہ گزرا کہ کہیں اس شخص کو مدفون خزانہ ملا ہو۔ یہ بات بادشاہ یا حاکم مجاز…
Read the full tafseer →13: جب وہ صاحب جن کا نام بعض روایتوں میں ”تملیخا“ بتایا گیا ہے کھانا لینے کے لیے شہر پہنچے، اور دکان دار کو وہ سکہ پیش کیا جو تین سو سال پرانا تھا، اور اس پر پرانے بادشاہ کی علامتیں تھیں وہ دکان دار بڑا حیران ہوا، اور ان کو لے کر اس وقت کے بادشاہ کے پاس پہنچا۔ یہ بادشاہ نیک تھا، اور اس نے یہ قصہ سن رکھا تھا کہ کچھ نوجوان دقیانوس کے ظلم سے تنگ آ کر کہیں غائب ہوگئے تھے۔ اس نے معاملے کی مزید تحقیق کی تو پتہ چل گیا کہ یہ وہی نوجوان ہیں۔ اس پر بادشاہ نے ان کا خوب اکرام کیا، لیکن یہ حضرات دوبارہ اسی غار میں چلے گئے اور وہیں پر اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی۔
14: ان اصحاب کہف کا اتنی لمبی مدت تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
اس واقعہ سے قرآن مجید کے پیش نظر کیا نتیجہ نکالنا مقصود ہے ؟ یہ کہ بعث بعد الموت کے لئے یہ واقعہ ایک قریب انفہم اور محسوس نمونہ ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ موجودہ انسانی ڈھانچے کو بھی صدیوں تک زندہ رکھ سکتا ہے اور دوبارہ بھی اٹھا سکتا ہے اور قیام قیامت اور بعث بعد الموت حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یوں اللہ نے ان نوجوانوں کو ان کی نیند سے جگایا اور ان کی قوم کو بتایا کہ صدیوں تک یہ لوگ یونہی پڑے تھے۔
اب بعض لوگوں نے کہا
بعض لوگوں نے کہا ان پر دیوار چن دو کیونکہ ان کے عقائد کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔
ان کا رب ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے یعنی ان کے عقائد اور ان کی پوزیشن کے…
Read the full tafseer →4 ایک ان میں سے روپیہ لے کر شہر میں داخل ہوا۔ وہاں سب چیز اوپری دیکھی۔ اس مدت میں کئی قرن بدل چکے تھے۔ شہر کے لوگ اس روپیہ کا سکہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ کس بادشاہ کا نام ہے اور کس عہد کا ہے۔ سمجھے کہ اس شخص نے کہیں سے پرانا گڑا ہوا مال پا لیا ہے۔ شدہ شدہ معاملہ بادشاہ تک پہنچا۔ اس نے وہ پرانی تختی طلب کی جس پر چند نام اور پتے لکھے تھے کہ یہ لوگ دفعۃً نامعلوم طریقے سے فلاں سنہ میں غائب ہوگئے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوگیا کہ یہ وہی مفقود الخبر جماعت ہے۔ اس وقت شہر میں " بعث بعد الموت " کے متعلق بڑا جھگڑا ہو رہا تھا کوئی کہتا تھا کہ مرنے کے بعد جینا نہیں کوئی کہتا تھا کہ محض روحانی بعث ہے جسمانی نہیں۔…
Read the full tafseer →آیت 21 وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ
چنانچہ اصحاب کہف کا ایک ساتھی جب کھانا لینے کے لیے شہر گیا تو اپنے لباس حلیے اور کرنسی وغیرہ کے باعث فوری طور پر اسے پہچان لیا گیا کہ وہ موجودہ زمانے کا انسان نہیں ہے۔ پھر جب اس سے تفتیش کی گئی تو سارا راز کھل گیا۔ اس وقت اگرچہ اس واقعہ کو تین سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا مگر اس کے باوجود یہ بات ابھی تک لوگوں کے علم میں تھی کہ فلاں بادشاہ کے ڈر سے اس شہر سے سات آدمی کہیں روپوش ہوگئے تھے اور پوری مملکت میں تلاش بسیار کے باوجود کہیں ان کا سراغ نہ مل سکا تھا۔ اسی طرح یہ بات بھی لوگوں کے علم میں تھی کہ اس پورے واقعے کو ایک تختی پر لکھ کر ریکارڈ کے…
Read the full tafseer →19 سلطنت کی تبدیلی اور حالات کی سازگاری :۔ جب کھانا لانے والا شہر پہنچا تو وہاں دنیا ہی بدل چکی تھی۔ لوگوں کے تہذیب و تمدن لباس اور وضع قطع میں نمایاں فرق واقع ہوچکا تھا۔ زبان میں خاصا فرق پڑگیا تھا اور جب لوگوں نے اس نوجوان کو دیکھا تو سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے لیکن وہ ان سے گریز کرتا رہا پھر جب اس نے کھانا خریدنے کے وقت کئی صدیاں پہلے کا سکہ پیش کیا تو دکاندار اور آس پاس والے سب آدمی اس نوجوان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگے انھیں یہ شبہ ہوا کہ شاید اس شخص کو پرانے زمانے کا کوئی دفینہ مل گیا ہے چناچہ اسی شک و شبہ کی بنا پر لوگوں نے اسے پکڑ کر حکام بالا کے سامنے پیش کردیا اور جب اس نوجوان نے…
Read the full tafseer →31۔ اصحاب کہف کی غازنشینی کو کوئی تین سو سال کی مدت ہوئی تھی کہ دنیائے مسیحیت میں یہ سوال زور شور سے چھڑ گیا کہ عقیدہ نشر وجزائے جسمانی آیا صحیح ہے بھی ؟ وقت کا ایک مشہور پادری تھیوڈر حشر اجساد کا صاف منکر تھا، بحث و مباحثہ کے عین شباب کے زمانہ میں اصحاب کہف اپنی نوم طویل سے جاگے۔ اور ان کے عجیب معاملہ کا علم عوام و خواص سب کو ہوا۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” وکذلک اعثرنا علیھم “۔ یعنی جس طرح ہم نے اپنی خاص قدرت و حکمت سے ان اصحاب کہف کو سلایا اور جگایا تھا۔ اسی طرح اپنی خصوصی حکمت وقدرت سے عام خلقت کو ان کے حال پر مطلع بھی کردیا۔ (آیت) ” لیعلموا ان وعداللہ حق “۔ یعنی تاکہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
آیت نمبر 21 تا 26
ترجمہ : اور ہم نے اسی جس طرح کہ ان کو بیدار کیا، ان کے حالات پر ان کی قوم کو اور مومنین کو مطلع کردیا تاکہ ان کی قوم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کا بعث بعد الموت کا وعدہ حق ہے، اس طریقہ پر کہ جو ذات اصحاب کہف کو ایک طویل زمانہ قیامت میں کوئی شک نہیں ہے اِذ، اَعْثَرنَا کا معمول ہے اور جبکہ مومنین اور کفار آپس میں ان نوجوانوں کے لئے (یاد گار کے طور) عمارت کے بنانے میں اختلاف کر رہے تھے، چناچہ کفار نے کہا ان کے اردگرد کوئی یادگاری عمارت بنادو کہ جو ان کو مستور کر دے ان کا رب ان کے احوال سے خوب واقف ہے (آخر کار) ان لوگوں نے جواب نوجوانوں کے معاملہ میں غالب رہے اور وہ مومنین تھے کہ…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيْهَا
اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان پر مطلع کردیا تاکہ وہ لوگ اس بات کا یقین کرلیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت (کے آنے) میں کوئی شک نہیں ہے۔
یعنی جس طرح ہم نے اصحاب کہف کو سلایا اور بصیرت پیدا کرنے کے لئے جگایا ‘ اٹھایا اسی طرح ہم نے لوگوں کو بھی ان پر مطلع کردیا تاکہ طویل نیند کے بعد بیدار کردینے سے وہ اطلاع پانے والے سمجھ جائیں کہ موت کے بعد قبروں سے (زندہ کر کے) اٹھانے کا اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ حق ہے اور امکان قیامت میں کوئی شک نہیں جس خدا نے اصحاب کہف کی روحوں کو اپنے پاس…
Read the full tafseer →(21) اور اسی طرح ہم نے اپنی قدرت و حکمت سے افسوس شہر کے مسلمانوں اور کافروں کو ان کی حالت سے مطلع کردیا اور اس وقت ان شہر والوں کا بادشاہ یستفاد نامی مسلمان شخص تھا اور دقیانوس مجوسی بادشاہ اس سے قبل مرچکا تھا مگر اس کے بعث بعد الموت میں تسلی نہیں ہوئی تھی تاکہ اب اس شہر کے مسلمان اور کافر بھی اس بات کا یقین کرلیں کہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہونا یقینی ہے اور یہ کہ قیامت کے قائم ہونے میں کوئی شک نہیں۔
اور وہ وقت بھی قابل ذکر جب کہ اس زمانہ کے لوگ ان کے معاملہ میں باہم جھگڑا رہے تھے کافر کہنے لگے کہ ان کے پاس کوئی گرجا یا عمارت بنا دو کیوں کہ یہ ہمارے دین پر تھے بالآخر جو لوگ اپنے کام پر…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ۔۔ : یعنی جس طرح ہم نے انھیں ثابت قدم رکھا اور حیرت انگیز طریقے سے سلائے رکھا اسی طرح ہم نے شہر والوں کو ان کی حقیقت حال اور جگہ سے مطلع کردیا۔ بہت سے مفسرین کا بیان ہے اور واقعہ کی صورت خود بخود بھی یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب وہ شخص کھانا خریدنے کے لیے روانہ ہوا تو اس نے دیکھا کہ شہر کے راستے، لوگوں کی تہذیب، رہن سہن، زبان اور لباس ہر چیز بدل چکی ہے، اس نے خیال کیا کہ شاید میں پاگل ہوگیا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں۔ بالآخر وہ شہر پہنچا اور ایک دکاندار سے کھانا خریدنے لگا اور اس نے سکہ نکالا تو دکاندار ششدر رہ گیا اور اس نے ایک دوسرے دکاندار کو بلایا، بالآخر کچھ لوگ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 21
قولہ تعالیٰ : وکذلک اعثرنا علیھم یعنی ہم نے ان پر اطلاع کردی اور ہم نے ان پر ظاہر کردیا۔ اور اعثر یہ عثر سے ہمزہ کے ساتھ متعدی بنایا گیا ہے۔ اور عثار کا اصل معنی تو پاؤں کا پھسلنا ہے۔ لیعلموا ان وعد اللہ حق یعنی تاکہ وہ امت مسلمہ جان لے جن کے عہد میں اصحاب کہف کو بیدار کیا گیا۔ اور وہ یہ کہ دقیانوس فوت ہوگیا اور صدیاں گزر گئیں اور اس علاقے کا بادشاہ ایک صالح اور نیک آدمی بنا، اور وہاں کے باسیوں کا حشر اور قبروں سے جسموں کے اٹھائے جانے کے بارے اختلاف ہوگیا، اور بعض لوگ اس میں شک کرنے لگے اور انہوں نے اسے بعید از حقیقت سمجھا اور کہنے لگے : بیشک ارواح کو اٹھایا جائے گا اور جسم کو تو…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک اعثرنا علیہم “ سے مراد ہے کہ ہم نے (ان کو اطلاع دی۔
اصحاب کہف کے اسماء :
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ بادشاہ نے اپنی قوم میں سے شیوخ کو بلوایا اور اصحاب کہف کے بارے میں ان سے مشورہ کیا شیوخ نے کہا کہ بادشاہ کو دقیوس کہا جاتا تھا اس کے زمانہ میں کچھ نوجوان گم ہوگئے تھے اس نے ان کے نام ایک تختی پر لکھ دیئے تھے اور اسے شہر کے دروازہ پر لگاد یا بادشاہ نے اس تختی کو منگوایا اور اس کو پڑھا اس میں ان کے نام لکھے ہوئے تھے بادشاہ بہت خوش ہوا اور کہا یہ وہ لوگ ہیں جو مرچکے تھے پھر زندہ کئے گئے اور پھر ان کے درمیان یہ بات عام…
Read the full tafseer →[وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [اَعْثَرْنَا : ہم نے اطلاع کردی ] [عَلَيْهِمْ : ان (اصحاب کہف) کی ] [لِيَعْلَمُوْٓا : تاکہ وہ لوگ جان لیں ] [ان : کہ ] [وَعْدَ اللّٰهِ : اللہ کا وعدہ ] [حَقٌّ: حق ہے ] [وَّان : اور یہ کہ ] [السَّاعَةَ : قیامت ] [لَا رَيْبَ : کوئی بھی شک نہیں ہے ] [فِيْهَا : اس میں ] [اِذْ : جب ] [يَتَنَازَعُوْنَ : وہ لوگ کھینچا تانی کرتے تھے ] [بَيْنَهُمْ : آپس میں ] [اَمْرَهُمْ : انکے معاملہ میں ] [فَقَالُوا : تو انھوں نے کہا ] [ابْنُوْا : تم لوگ تعمیر کرو ] [عَلَيْهِمْ : ان (اصحاب کہف کی جگہ) پر ] [بُنْيَانا : ایک عمارت ] [رَبُّهُمْ : ان کا رب ] [اَعْلَمُ : خوب جانتا ہے ] [بِهِمْ…
Read the full tafseer →علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ دقیانوس بادشاہ مرگیا تھا (جس کے زمانہ میں یہ حضرات کہف میں داخل ہوئے تھے) سینکڑوں سال گزر گئے بادشاہ آتے جاتے رہے آخر میں ایک نیک شخص اس علاقہ کا بادشاہ ہوا اور وہ اور اس کی رعایا اس بات کو تو مانتے تھے کہ موت کے بعد حشر نشر ہے لیکن کچھ لوگوں نے کہا کہ روحیں محشور ہوں گی۔ کیونکہ جسم کو زمین کھا جاتی ہے، ان لوگوں نے جسم کے ساتھ حشر ہونے کو بعید سمجھا اور کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ جسم اور روح دونوں کو اٹھایا جائے گا بادشاہ کو اس اختلاف سے حیرانی ہوئی اور اصل حقیقت جاننے کے لیے اس نے اتنا اہتمام کیا کہ ٹاٹ کے کپڑے پہن لیے اور راکھ پر بیٹھ گیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
بقیہ قصہ مذکورہ
قال اللہ تعالیٰ وتحسبھم ایقاظا وھم رقود .... الیٰ .... لنتخذن علیہم مسجدا۔
اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حیات کی حفاظت کا ایک سامان یہ کیا کہ اے دیکھنے والے اگر تو ان کو دیکھے تو ان کو جاگتا ہوا خیال کرے حالانکہ وہ سو رہے ہیں خواب میں غرق ہیں اور اس نیند کی حالت میں ہم ان کی کروٹیں بدلتے رہتے ہیں کبھی دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف تاکہ زمین ان کے جسموں کو نہ کھا جائے اور ان کا کتا غار کی دہلیز پر اپنی دونوں بانہیں پسارے پڑا ہے ابن کثیر (رح) نے ذکر کیا ہے کہ یہ کتا ان میں سے کسی کے شکار کا تھا اور اس کتے کا نازم قطمیر تھا کہتے ہیں کہ وہ کتا بہشت میں جائے گا۔
سگ اصحاب کہف…
Read the full tafseer →21:۔ یہاں بھی کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ یعنی ہم نے اس زمانہ میں اصحاب کہف پر قرب و جوار کے لوگوں کو مطلع کیا۔ تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ اس کی آمد میں کوئی شک نہیں جس وقت اصحاب کہف بیدار ہوئے۔ اس زمانے کے لوگ ایک مسئلہ پر دو فریق ہوچکے تھے۔ اس وقت کا بادشاہ مومن و موحد تھا وہ اور اس کے طرف دار کہتے تھے کہ قیامت ضرور آئے گی لیکن مشرکین قیامت کے منکر تھے۔ اصحاب کہف کے سینکڑوں برس سونے کے بعد بیدار ہونے کا واقعہ یش آگیا۔ جس سے بادشاہ اور اس کے ہم خیال لوگ بہت خوش ہوئے کیونکہ انہیں اپنے دعوی پر ایک دلیل مشاہدہ ہاتھ آگئی۔ اس سے ایک طرف ان کے اپنے ایمان و یقین میں قوت اور مضبوطی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اصحاب کہف کے بہت سے حالات بیان ہوچکے ہیں کہ وہ اپنے ایمان کے بچاؤ کی خاطر اپنے شہر سے بھاگ کر غار میں پناہ گزین ہوگئے ، پھر اللہ نے ان پر تین سو سال تک کے لیے نیند طاری کردی ، دوران نیند بھی ان کا حال ذکر کیا ، پھر جب بیدار ہوئے تو انہیں بھوک محسوس ہوئی ، چناچہ انہوں نے کچھ سکے دیگر اپنے ایک ساتھی کو شہر میں بھیجا تاکہ کھانے پینے کی چیزیں لے آئے ، اور ساتھ اسے تاکید کردی کہ شہر میں جا کر نہایت احتیاط سے کام لینا کہ کہیں ان کا راز ہی فاش نہ ہوجائے کہنے لگے کہ اگر لوگوں کو تمہاری موجودگی کا پتہ چل گیا تو پھر دین بدل لینے کی وجہ سے یا وجہ تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْہِمْ لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَيْبَ فِيْہَا 0ۚۤ اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَہُمْ اَمْرَہُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَيْہِمْ بُنْيَانًا 0ۭ رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِہِمْ 0ۭ قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓي اَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْہِمْ مَّسْجِدًا 21
عثر
عَثَرَ الرّجلُ يَعْثُرُ عِثَاراً وعُثُوراً : إذا سقط، ويتجوّز به فيمن يطّلع علی أمر من غير طلبه . قال تعالی: فَإِنْ عُثِرَ عَلى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْماً [ المائدة/ 107] ، يقال : عَثَرْتُ علی كذا . قال :
وَكَذلِكَ أَعْثَرْنا عَلَيْهِمْ [ الكهف/ 21] ، أي : وقّفناهم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ترکیب : ان یظہروا شرط یرجمو اور یعیدو جواب شرط ولن تفلحوا اذابدا ای ان رجعتم الی دینھم لن تسعدوا فی الدنیا ولافی الآخرۃ اعثرنا اے اطلعنا غیرھم علی احوالھم یقال عثرت علی کذا اے علمۃ یعلموا کا فاعل ضمیر راجع الناس کی طرف۔ اذا ظرف اعثرنا کا۔
تفسیر : اس لیے ان لوگوں کو اصحاب الکہف والرقیم کہتے ہیں۔ فرماتا ہے کہ اے پیغمبر ! کیا آپ ان کو ہماری آیات قدرت میں سے عجیب تر خیال کرتے ہیں ؟ یہ کچھ زیادہ عجیب نہیں اس سے بڑھ کر ہماری نشانیاں ہر روز تمہارے سامنے موجود ہیں وہ کیا ؟ آسمان و زمین کا پیدا کرنا ان میں، چاند و سورج کا حرکت کرنا، ہوائوں کا بدلنا، انسان و حیوان و نباتات و جمادات کی پیدائش وغیرہ…
Read the full tafseer →وَکَذٰلِکَ اَعْثَرْنَاعَلَیْھِمْ لِیَعْلَمُوْٓااَنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ لاَرَیْبَ فِیْھَاق ج اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَھُمْ اَمْرَھُمْ فَقَالُوْا ابْنُوْا عَلَیْھِمْ بُنْیَانًا ط رَبُّھُمْ اَعْلَمُ بِہِمْ ط قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓی اَمْرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَّسْجِدًا۔ (الکہف : 21)
(اسی طرح ہم نے ان پر لوگوں کو مطلع کردیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے، اور قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں، وہ وقت بھی یاد کرو جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے ان کے معاملے میں، پھر کہنے لگے ان پر ایک عمارت بنادو، ان کا رب انھیں خوب جانتا ہے، کہا ان لوگوں نے جو ان کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اصحاب کہف کو تین سو نو سال کے بعد اٹھانے کی حکمت اور عقیدہ آخرت کا ایک اور ٹھوس ثبوت۔
یہ حقیقت پہلے بھی کئی بار عرض کی جاچکی ہے کہ عقیدہ آخرت اسلام کا تیسر ابنیادی عقیدہ اور اصول ہے جس کے لیے ناصرف قرآن مجید نے عقلی اور نقلی دلائل دیئے ہیں۔ بلکہ اس حقیقت کے اثبات کے لیے انسانی تاریخ میں پھیلے ہوئے ایسے واقعات بیان فرمائے ہیں کہ جن سے ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ضرور انسان کو پیدا فرمائے گا۔ اصحاب کہف کو بھی تین سونو سال کے بعد اس لیے جگایا اور اٹھایا گیا تاکہ انہیں اور ان کے حوالے سے لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر صورت قیامت برپا کرنے کا وعدہ پور اکرے…
Read the full tafseer →21: وَکَذٰلِکَ اَعْثَرْنَا عَلَیْھِمْ (اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے متعلق مطلع کردیا) اور جیسا کہ ہم نے سلایا اور ان کو نیند سے جگایا اسی طرح ان کے بارے میں لوگوں کو حکمت کی بناء پر مطلع کردیا۔ لِیَعْلَمُوْا ( تاکہ وہ لوگ اس بات کا یقین کرلیں) یعنی وہ لوگ جن کو ہم نے ان کے حالات کے متعلق مطلع کیا۔ اَنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ (کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے) وعدہ سے بعث بعد الموت والا وعدہ مراد ہے۔ حق کا مطلب یہ ہے کہ یقینا ہو کر رہے گا۔ کیونکہ ان کی نیند والی حالت اور اس کے بعد اس سے بیداری والی کیفیت اس آدمی جیسی ہے جو فوت ہو پھر اس کو اٹھایا جائے۔ وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ لَارَیْبَ فِیْھَا (اور بیشک…
Read the full tafseer →تفسیر۔ 21 ۔ ” وکذلک اعثرنا “ اسی طرح ہم نے ان کو مطلع کردیا۔ ” علیھم “ کہا جاتا ہے۔ ” عثرت علی الشیٔ“ جب وہ کسی چیز پر مطلع ہوجائے۔ ” لیعلموا ان وعداللہ حق “ اس سے مراد اصحاب بیدروس جو بعث کا منکر تھا۔ ” وان الساعۃ لاریب فیھا اذ یتنازعون بینھم امرھم “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جنگل میں ان لوگوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا۔ مسلمانوں نے کہا کہ اس جگہ مسجد بنادی جائے تاکہ اس میں لوگ نماز پڑھیں کیونکہ وہ ہمارے دین پر تھے اور مشرکین کا قول ہے کہ ہم ان کی جگہ عمارتیں بنائیں گے کیونکہ یہ لوگ ہمارے ہم مذہب تھے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ ان میں بعث بعد الموت کے متعلق اختلاف ہوگیا۔ مسلمان کہنے لگے کہ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →21۔ شروع سورة سے اصحاب کہف کا قصہ جو یہاں تک گزرا کہ یہ لوگ تین سو برس تک پہاڑ کی کھوہ میں بےآب و دانہ سوتے اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تین سو برس تک جسم کو اس نے زمین میں رکھ کر پھر اٹھا بٹھایا تو قیامت کے آنے اور مر کر پھر جینے میں کون شک کرسکتا ہے مر کر جینا تو ایسا ہی ہے جس طرح ماؤں کے پیٹوں میں بچوں کے پتلے تیار ہوتے ہیں اور ان میں روح پھونک دی جاتی ہے اسی طرح حشر کے دن پتلے تیار کیے جائیں گے اور ان میں روح پھونک دی جائے گی تین سو برس بےآب و دانہ روح کا جسم میں اور جسم کا مٹی میں رہنا اور جسم کو مٹی کا نہ کھانا اس سے زیادہ مشکل ہے جو کچھ حشر کے دن ہوگا جس کی قدرت کے آگے ایسے مشکل کام آسان…
Read the full tafseer →(آیت نمبر (21:
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کو اصحاب کہف کے احوال سے مطلع کیا اور یہ اطلاع یوں ہوئی (واللہ اعلم) کہ اصحاب کہف جب اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو کھانا لانے کے لیے شہر بھیجا اور اسے ہدایت کی کہ وہ خود اپنے آپ کو اور ان کے معاملے کو چھپائے رکھے۔
مگر اللہ تعالیٰ ایک ایسا معاملہ چاہتا تھا جس میں لوگوں کی بھلائی اور ان کے لیے زیادہ اجر تھا۔ انہوں نے صاحاب کہف میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے اس بات کی نشانی کا عینی مشاہدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کا قیامت کا وعدہ سچا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور اس کا آنا بعید نہیں۔ اس سے پہلے وہ اس امر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
غار میں ان کی مدت قیام
قول باری ہے (قالوا لبثنا یوماً او بعض یوم۔ دوسروں نے کہا شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے) جب اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کرتے ہوئے اس کی تردید نہیں کی تو اس سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ انہوں نے ٹھیک ہی کہا تھا اس لئے کہ ان کے اس قول کی بنیاد ان کے اپنے خیال کے مطابق وہ مدت تھی جس میں وہ نماز میں قیام پذیر رہے۔ انہوں نے یہ بات قیام کی حقیقی مدت کے متعلق نہیں کہی تھی کیونکہ یہ مدت تو ان کی نظروں سے اوجھل تھی۔ یہی مفہوم اس قول باری کا ہے (فاما تہ اللہ مائۃ عام ثم بعثہ قال کم لبثت قال لبثت یوماً او بعض یوم۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سو سال تک موت کی حالت میں رکھا پھر اسے…
Read the full tafseer →37۔ اصحاب کہف کی بیداری کے متعلق خاص اہتمام کا ذکر وبیان :۔
سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ جس طرح ہم نے اصحاب کہف کو خاص طور پر اور عجیب و غریب طریقے سے سلایا جگایا اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال پر مطلع کیا یعنی ان لوگوں کو جو کہ حشرونشر اور بعث بعد الموت کے بارے میں اختلاف میں پڑے ہوئے تھے، سو ان لوگوں کو ان حضرات کے حال پر مطلع کردیا تاکہ ان کی آنکھیں کھل جائیں اور یہ یقین کرلیں کہ جس قادر مطلق نے ان لوگوں کو اس قدر طویل مدت نیند میں گزارنے کے باوجود اس طرح صحیح وسالم اٹھا دیا کہ نہ ان کے جسموں میں کچھ فرق آیا نہ ان کی جوانیوں میں، اور نہ ان کے کپڑوں میں وہ قادر مطلق مرنے کے بعد بھی لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اصحاب کہف کا جاگنا اور اللہ کی حکمت
تشریح : ان آیات میں اصحاب کہف کے دوبارہ جاگ جانے کی مصلحت بیان کی گئی ہے۔ جس طرح اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو سلائے رکھا اسی طرح ایک طویل مدت کے بعد ان کو جگا بھی دیا۔ اس میں مصلحت یہ تھی کہ جب وہ لوگ جاگے اور کھانے کی تلاش میں بازار گئے تو شہر میں بت پرست روم کو عیسائی ہوئے عرصہ گزر چکا تھا۔ جب انہوں نے اس انتہائی پرانے طرز کے لباس میں اتنے پرانے سکے کے ساتھ اس آدمی کو دیکھا تو سارے شہر میں کھلبلی مچ گئی۔ تحقیقات شروع ہوگئیں تو معلوم کرلیا گیا کہ عرصہ دراز قبل جو لوگ غاروں میں جا چھپے تھے یہ وہی لوگ ہیں۔ اس میں اللہ کی حکمت یہ تھی کہ اس وقت لوگوں میں مرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
جو بھی انہیں دیکھے وہ سمجھے گا کہ یہ جاگ رہے ہیں یعنی نیند کے اثرات تک اس سے ظاہر نہیں ہو پا رہے جیسے آنکھوں کا بند ہونا یا بدن کا ڈھیلا پن یا سانس کا اکھڑنا بلکہ صدیوں کی نیند بھی محض ان کے آرام اور قدرت الہی کے اظہار کے لیے ہے ، ان پر اپنا وہ اثر بھی مرتب نہیں کر پا رہی جو عام حالات میں چند لمحے سونے والے انسان پر بھی مرتب ہوتا ہے اور لطف یہ ہے کہ وہ سو بھی رہے ہیں ان کے اس نیند کے دور میں ہم خود یعنی ذات باری خود ان کو کروٹیں تبدیل کراتی ہے ، کبھی دائیں اور کبھی بائیں ۔
(قرب الہی کا عجیب حال)
یعنی ان پر رب جلیل کا اس قدر احسان ہے کہ نہ یہ کہ صرف خارجی اثرات انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 6 تمہاری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوجائیں گی۔7 یعنی جس طرح ہم نے ان کو ثابت قدم رکھا اور حیرت انگیز طریقہ سے سلائے رکھا اسی طرح ہم نے شہروالوں کو ان کی حقیقت حال اور جگہ سے مطلع کردیا۔ بہت سے مفسرین کا بیان ہے کہ ہوا یہ کہ جب وہ شخص کھانا خرینے کے لئے روانہ ہوا تو اس نے دیکھا کہ شہر کے راستے لوگوں کی تہذیب اور رہن سہن زبان و لباس ہر چیز بدل چکی ہے۔ اس نے خیال کیا کہ شاید میں پاگل ہوگیا ہوں یا خواب دیکھ رہا ہوں۔ بالآخر وہ ایک شہر پہنچا اور ایک دکاندار سے کھاتا خریدنے لگا اور اس نے سکہ نکالا تو دکاندار ششدر رہ گیا اور اس نے ایک دوسرے دکادنار کو بلایا بالآخر کچھ لوگ جمع ہوگئے اور انہیں شک گزرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(18:20) انہم۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب اہل شہر کے لئے ہے۔
ان یظھروا علیکم۔ اگر وہ تمہاری خبر پالیں گے۔ اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے۔ ظھر بالمقابل بطن کے ہو تو بمعنی ظاہر ہونا۔ نمایاں ہونا جیسے ما ظھر منہا وما بطن (6:15) ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ ظھر بمعنی زیادہ ہونا اور پھیل جانا کے بھی آیا ہے۔ مثلاً ظھر الفساد فی البر والبحر۔ (30:14) خشکی اور تری میں (لوگوں کے اعمال کے سبب) فساد پھیل گیا۔ ظھرجب بصلہ علی آئے تو بمعنی پانا کے ہوتا ہے، جیسے آیۃ ہذا میں ۔ اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے۔
یرجموکم۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ مجزوم بوجہ جواب شرط کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو سنگسار کردیں گے وہ تم کو پتھر مار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 21
لیتساء لوا تاکہ وہ آپ میں پوچھیں۔ ابعثوا بھیجو۔ ورق سکہ، روپیہ پیسہ۔ ازکی حلال اور عمدہ۔ ولیتلطف اور دبے پاؤں جائے۔ لایشعرن خبر نہ دینا۔ ان یظھروا یہ کہ انہوں نے خبر پائی۔ یرجمون وہ پتھر ماریں گے۔ سنگسار کردیں گے۔ یعیدون وہ لوٹائیں گے۔ لن تفلحوا تم ہرگز فلاح نہ پاؤں گے۔ ابداً ہمیشہ۔ اعثرنا ہم نے مطلع کردیا ۔ یتنازعون وہ آپس میں جھگڑتے ہیں۔ غلبوا جو غالب ہوگئے۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 21
اصحاب کہف عرصے تک پرسکون نید سوتے رہے۔ پھر اللہ نے ان کو گہری نیند سے جگا دیا۔ جب وہ سو کر اٹھے تو انہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ وہ تین سو نو سال تک اتنی گہری نیند سوتے رہے ہیں کہ اس…
Read the full tafseer →شروع سورة سے اصحاب کہف کا قصہ جو یہاں تک گزرا کہ یہ لوگ 309 برس تک پہاڑ کی کھوہ میں بےآب ودانہ سوتے رہے اور جب اللہ نے چاہا ان کو اٹھا کر کھڑا کردیا۔ یہ آیت اس قصہ کا نتیجہ ہے۔ حاصل اس نتیجہ کا یہ ہے کہ جب اللہ اس بات پر قادر ہے کہ 309 برس تک جسم کو اس نے زمین میں رکھ کر پھر اٹھا بٹھایا، تو قیامت کے آنے اور مر کر پھر جینے میں کون شک کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →[6] وہ شخص جو سکہ لے کر کھانا خریدنے چلا تھا جب بازار پہنچا تو کیونکہ قرنہا قرن کی مدت گزر چکی تھی، شہریوں کے وضع، لباس، زبان اور مکانات سب کی ہیئت بالکل بدل چکی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت کا تختہ الٹ چکا تھا اور بادشاہت اب بجائے دشمنان مسیحیت کے خود مسیحیوں کی قائم تھی، وہ شخص اپنی سج دھج، لباس اور زبان سے ایک تماشا بن گیا اور جب اس نے جیب سے پرانے زمانے کا سکہ کھانا خریدنے
کے لئے نکالا تو لوگوں کی حیرت بدرجہا بڑھ گئی۔ سب نے اسے گھیر لیا اور اسے مجبوراً اپنا پتہ بتانا پڑا اور اپنی سرگزشت دہرانی پڑی۔ کچھ لوگ اس کے بیان کی تصدیق کے لئے اس کے ساتھ غار کے دہانے تک آئے۔ اب جو اصحاب کہف کو…
Read the full tafseer →اصحاب کہف کی دوبارہ عزت افزائی :
(ف 2) اللہ کی کرشمہ سازیاں ملاحظہ ہوں ، اصحاب کہف کا یہ آدمی جب شہر میں پہنچا ، تو اس کے پاس پرانا سکہ تھا ، لیکن پرانی حکومت کا نظام الٹ چکا تھا ، لوگ حیران ہوئے کہ یہ لوگ کیونکر یہاں موجود ہیں ؟ کیفیت دریافت کرنے پر معلوم ہوا ، کہ یہ لوگ اس زمانہ کی حکومت کے مظالم سے تنگ آکر پہاڑ کے کسی غار میں پناہ گزین ہوگئے تھے چناچہ یہ لوگ پکڑ لئے گئے ، مگر اس وقت ان کے ہم عقیدہ لوگ ہی برسر اقتدار تھے ، اس لئے ان لوگوں کی بہت عزت کی گئی اب یہ بحث تھی کہ ان کی جگہ غار پر عمارت بنائی جائے ، جو بطور یادگار کے رہے ، غور فرمائیے ، یا تو وہ زمانہ تھا کہ یہ لوگ ابنائے قوم سے…
Read the full tafseer →-2 1 اور جس طرح ہم نے ان کو سلایا اور جگایا اسی طرح ان کے احوال سے اس زمانے کے لوگوں کو مطلع کردیا تاکہ منجملہ اور فوائد کے اس شہر کے لوگ اور وہاں کی حکومت سب اس امر کا یقین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور وعدہ یہ کہ قیامت کے واقعہ ہونے میں ذرا شک کی گنجائش نہیں وہ وقت قابل ذکر ہے جب کہ اس زمانہ کے لوگ ان کے بارے میں باہم جھگڑ رہے تھے سو ان لوگوں نے کہا کہ ان لوگوں کی کھوہ اور غار کے منہ پر ایک عمارت تعمیر کرا دو ان کا پروردگار ہی ان کے حالات کو خوب جانتا تھا۔
بالآخر جو لوگ اپنے کام پر غالب اور قابو یافتہ تھے یعنی ذی اقتدار تھے انہوں نے کہا ہم تو اصحاب کہف کے غار پر یعنی اس کے قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ف 1۔ کیونکہ ان کے زمانہ پوشیدگی غار میں بتوں کا ذبیحہ بکثرت بکتا تھا۔
Read the full tafseer →جس بات کو چھپانا چاہتے تھے وہ کھل گئی اور ان کی وہ پذیرائی ہوئی جس کے وہ مستحق تھے :
23۔ اصحاب کہف جس احتیاط سے کام لینا چاہتے تھے اب اس کا وقت گزر چکا تھا اور یقینا ان کے بارے میں کسی کو معلوم نہ ہوا ان کے حق میں بہتر نہیں رہا تھا گویا ان کے واقعہ کو واضح ہوجانا چھپے رہنے سے زیادہ بہتر تھا اس لئے ان کی تدبیر کے خلاف اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ہاتھ نے اپنا کام کر دکھایا اور وہ ہو کر رہا جو مشیت میں ہونا طے پایا تھا ۔ (عشر) جس کے معنی بغیر چاہے کسی چیز پر مطلع ہوجانے کے ہیں اور اس مادہ کے دو ہی لفظ قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں ایک اس جگہ (اعثرنا) اور دوسرا سورة المائدہ کی آیت 107 میں (عثر) کا لفظ…
Read the full tafseer →Commentary
Described in this verse which opens with the words: وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ (And in this way We made them known) is the disclosure of the secret of the People of Kahf before the residents of the city. Along with it given there is a view of His wisdom, and of the belief in the Hereafter and the Last Day when the dead will rise again, and that they will ultimately be-lieve in it. How this came about has been mentioned briefly in Tafsir al-Qurtubi as follows:
The secret of the People of Kahf:
How did the people of the city learn about it?
When the People of Kahf went out,…
Read the full tafseer →17. The secret of their sleep was revealed when one of them went to Ephesus to buy food for them and offered a coin of the period of Emperor Decius. As it was a changed world, he naturally attracted attention for he was wearing a costume of 300 year old fashion and spoke a language different from that in vogue. This was because during those two centuries the language, culture, dress etc. had undergone a marked change. So the shopkeeper looked askance at him and, according to a Syriac tradition, he suspected that he had dug up some ancient treasure. Accordingly, he gathered some people of his…
Read the full tafseer →