Al-Kahf 18:16

Al-Kahf · from ayah 16

18:16

وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَی الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَیُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا ۟وَاِذِ اعۡتَزَلۡـتُمُوۡهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاۡوٗۤا اِلَى الۡـكَهۡفِ يَنۡشُرۡ لَـكُمۡ رَبُّكُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِهٖ وَيُهَيِّئۡ لَـكُمۡ مِّنۡ اَمۡرِكُمۡ مِّرۡفَقًا

اور جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی یہ خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کردے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

[The youths said to one another], "And when you have withdrawn from them and that which they worship other than Allah, retreat to the cave. Your Lord will spread out for you of His mercy and will prepare for you from your affair facility."

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 2 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:16

اب جبکہ تم ان سے اور اِن کے معبودانِ غیر اللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لیے سر و سامان مہیا کر دے گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی یہ خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کردے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب کہ تم ان سے اور اللہ کے سوا ان کے اور معبودوں سے کناره کش ہوگئے تو اب تم کسی غار میں جا بیٹھو، تمہارا رب تم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے لئے تمہارے کام میں سہولت مہیا کردے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (ساتھیو) جب تم نے ان لوگوں سے بھی علیحدگی اختیار کرلی ہے اور ان سے بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں تو چلو اب تم اس غار میں پناہ لے لو، تمہارا پروردگار تمہارے لیے اپنا دامن رحمت پھیلا دے گا، اور تمہارے کام میں آسانی کے اسباب مہیا فرمائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب تم ان سے اور جو کچھ وہ اللہ سوا پوجتے ہیں سب سے الگ ہوجاؤ تو غار میں پناہ لو تمہارا رب تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلادے گا اور تمہارے کام میں آسانی کے سامان بنادے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (ان نوجوانوں نے آپس میں کہا:) جب تم ان سے اور ان (جھوٹے معبودوں) سے جنہیں یہ اﷲ کے سوا پوجتے ہیں کنارہ کش ہو گئے ہو تو تم (اس) غار میں پناہ لے لو، تمہارا رب تمہارے لئے اپنی رحمت کشادہ فرما دے گا اور تمہارے لئے تمہارے کام میں سہولت مہیا فرما دے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب تم ان سے الگ ہوچکے اور ان چیزوں سے بھی جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں تو کسی غار کی طرف (جاکر) پناہ لے لو، تمہارا رب تمہارے لیے اپنی کچھ رحمت کھول دے گا اور تمہارے لیے تمہارے کام میں کوئی سہولت مہیا کر دے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اب جبکہ تم لوگوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے اور ان کے معبودوں سے جنہیں یہ لوگ پوجتے ہیں، کنارہ کر ہی لیا ہے تو آؤ اس غار میں پناہ لے لو، تمہارا پروردگار تم پر اپنی رحمت وسیع کردے گا اور تمہارے معاملہ میں آسانی پیدا کردے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اب کہ تم ان کو اور ان کے معبودوں کو، جن کو وہ خدا کے سوا پوجتے ہیں، چھوڑ کر الگ ہوگئے ہو تو غار میں پناہ لو، تمہارا رب تمہارے لیے اپنا دامن رحمت پھیلائے گا اور تمہارے اس مرحلہ میں تمہاری مایحتاج مہیا فرمائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اب جب کہ تم الگ ہوگئے ہو ان سے بھی، اور ان کے ان (باطل) معبودوں سے بھی، جن کو یہ لوگ پوجتے (اور پکارتے) ہیں اللہ کے سوا، تو اب تم (سیدھے) چل کر پناہ لے لو فلاں غار میں، تمہارا رب پھیلا دے گا تم پر اپنی رحمت (کی چادر) اور مہیا فرما دے گا تمہارے معاملے میں آسانی (اور کامیابی) کا سامان،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب تم انہیں بھی چھوڑ چکے اور ان معبودان غیر اللہ کو بھی تو اب (فلاں) غار میں چل کر پناہ لوتم پر تمہارا پروردگار اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے کام میں کامیابی کا سامان درست کردے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اب جبکہ تم نے خود کو ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں ان سے علیحدہ کرلیا ہے تو اب کسی غار میں پناہ لے لو تمہارا رب پھیلا دے گا تمہارے لیے اپنی رحمت اور تمہارے معاملے میں تمہارے لیے سہولت کا سامان پیدا فرمادے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ہم نے ان مشرکوں سے اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کنارہ کرلیا تو اب اس غار میں جا بیٹھو تمہارا رب تم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے معاملہ میں تمہارے واسطے آسانی پیدا کر دے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And now that you have dissociated yourselves from them and from whatever they worship beside Allah, go and seek refuge in the Cave. Your Lord will extend His mercy to you and will provide for you the means for the disposal of your affairs."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When you have turned away from them, and those whom they worship, except Allah, then seek refuge in the cave, and your Lord will extend His mercy for you, and provide you ease in your matters.

— Muhammad Taqi Usmani

When you have turned away from them, and those whom they worship, except Allah, then seek refuge in the cave, and your Lord will extend His mercy for you, and provide you ease in your matters.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(The young men said to one another:) "And when you withdraw from them, and that which they worship, except Allah, then seek refuge in the cave; your Lord will open a way for you from His mercy and will make easy for you your affair."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when ye withdraw from them and that which they worship except Allah, then seek refuge in the Cave; your Lord will spread for you of His mercy and will prepare for you a pillow in your plight.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[The youths said to one another], "And when you have withdrawn from them and that which they worship other than Allah, retreat to the cave. Your Lord will spread out for you of His mercy and will prepare for you from your affair facility."

— Saheeh International

(They were told), "Now that you have abandoned them and what they worship instead of God, seek refuge in the cave. God will, certainly, grant you mercy and provide you with help to safely get out of this trouble."

— Muhammad Sarwar

And when you forsake them and what they worship save Allah, betake yourselves for refuge to the cave; your Lord will extend to you largely of His mercy and provide for you a profitable course in your affair.

— Muhammad Habib Shakir

And now when ye have withdrawn from them and that which they worship, except God, betake yourselves to the cave; your Lord will unfold for you some of His mercy, and will prepare for you of your affair an easy arrangement.

— Abdul Majid Daryabadi

"When ye turn away from them and the things they worship other than Allah, betake yourselves to the Cave: Your Lord will shower His mercies on you and disposes of your affair towards comfort and ease."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–16

اصحاب کہف کا قصہ یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آگئے قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے کانوں میں بالے تھے یہ متقی مومن اور راہ یافتہ نوجوانوں کی جماعت تھی اپنے رب کی وحدانیت کو مانتے تھے اس کی توحید کے قائل ہوگئے تھے اور روز بروز ایمان و ہدایت میں بڑھ رہے تھے۔ یہ اور اس جیسی اور آیتوں اور احادیث سے استدلال کر کے امام بخاری ؒ وغیرہ محدثین کرام کا مذہب ہے کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْكَهْف 11 جس زمانے میں ان خدا پرست نوجوانوں کو آبادیوں سے بھاگ کر پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی تھی اس وقت شہر افسُس ایشیائے کوچک میں بت پرستی اور جادوگری کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ وہاں ڈائنا دیوں کا ایک عظیم الشان مندر تھا جس کی شہرت تمام دنیا میں پھیلی ہوئی تھی اور دور دور سے لوگ اس کی پوجا کے لیے آتے تھے۔ وہاں کے جادو گر، عامل، فال گیر اور تعویذ نوید دنیا بھر میں مشہور تھے۔ شام و فلسطین اور مصر تک ان کا کاروبار چلتا تھا اور اس کاروبار میں یہودیوں کا بھی اچھا خاصا حصہ تھا جو اپنے فن کو حضرت سلیمان ؑ کی طرف منسوب کرتے تھے (ملاحظہ ہو سائیکلو پیڈیا آف ببلیکل لٹریچر عنوان ephesus شرد اور اوہام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فَاْوٗٓا اِلَى الْكَهْفِ ابن کثیر نے فرمایا کہ اصحاب کہف نے جو صورت اختیار کی کہ جس شہر میں رہ کر اللہ کی عبادت نہ ہو سکتی تھی اس کو چھوڑ کر غار میں پناہ لی، یہی سنت ہے تمام انبیاء کی کہ ایسے مقامات سے ہجرت کر کے وہ جگہ اختیار کرتے ہیں جہاں عبادت کی جاسکے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلا اللَّهَ فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيُهَيِّئْ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ مِرفَقًا مرفق اس چیز کو کہتے ہیں جو آدمی کی ضرورت اور منفعت کی ہو وَيُهَيِّئْ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ مِرفَقًا، یعنی اس مرحلہ میں جس چیز کے تم محتاج ہوگے اللہ تعالیٰ وہ تمہارے لیے مہیا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت کی بشارت : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے بشارت ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہاں کلام کا اتنا حصہ حذف ہے جو سیاق کلام سے خود واضح ہے یعنی بالآخر ان کے اور ان کی قوم کے درمیان کش مکش اتنی بڑھ گئی کہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یعنی جب تم نے اپنی قوم کے معبودوں سے کنارہ کشی کرلی ہے، تو اب جسمانی طور پر بھی ان سے علیحدگی اختیار کرلو۔ یہ اصحاب کہف نے آپس میں کہا۔ چناچہ اس کے بعد وہ ایک غار میں جا چھپے، جب ان کے غائب ہونے کی خبر مشہور ہوئی تو تلاش کیا گیا، لیکن وہ اسی طرح ناکام رہے، جس طرح نبی کی تلاش میں کفار مکہ غار ثور تک پہنچ جانے کے باوجود، جس میں آپ حضرت ابوبکر کے ساتھ موجود تھے، ناکام رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

8: یعنی جب تم نے دین حق اختیار کرلیا ہے، اور تمہارے شہر کے لوگ تمہارے مخالف ہوگئے ہیں، تو اب اس دین کے مطابق عبادت کرنے کی یہی صورت ہے کہ شہر سے باہر پہاڑ پر جو غار ہے اس میں جا بیٹھو کہ کسی کو تمہارا پتہ نہ چلے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واذا اعتزلتموھم و مایعبدون الا اللہ فاو وآ الی الکھف ینشرلکم ربکم من رحمتہ ویھیمی لکم من امرکم مرفقاً (81 : 61) ” اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبود ان غیر اللہ سے بےتعلق ہوچکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو ، تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا امن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لئے سرو سامان مہیا کرے گا۔ “ یہاں حقیقی مومن دلوں کی اصل حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ یہ نوجوان اپنی قوم کو چھوڑ کر علیحدہ ہوگئے ہیں۔ یہ اپنے علاقے کو چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ رہے ہیں ، گھروں اور کاروبار اور کرہ ارض اور اس دنیا کی زیب وزینت کو چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ رہے ہیں ، گھروں اور کاروبار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جب مشرکین کے دین سے ہم علیحدہ ہیں تو ظاہری طور پر بھی ان سے علیحدہ رہنا چاہیے۔ اور جب ان کے باطل معبودوں سے کنارہ کیا تو ہر طرف سے ٹوٹ کر تنہا اپنے معبود کی طرف جھکنا اور اسی سے رحمت و تلطف کا امیدوار رہنا چاہیے۔ آپس میں یہ مشورہ کر کے پہاڑی کی کھوہ میں جا بیٹھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

لَوْلَا يَاْتُوْنَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطٰنٍۢ بَيِّنٍ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کوئی دلیل یا سند وہ اپنے اس دعوے کے ساتھ کیوں پیش نہیں کرتے ؟ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا شاہی دربار میں اس تند و تیز مکالمے کے بعد جب انہیں چند دن کی مہلت کے ساتھ اپنا دین چھوڑنے یا موت کا سامنا کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا گیا تو وہ آپس میں یوں مشورہ کرنے لگے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 ڈائنا دیوی کے مندر کی شہرت اور شرکیہ رسوم ورواج :۔ جس زمانے میں ان توحید پرست نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تھی اس وقت شہر افسُسْ جس کے یہ لوگ باشندے تھے، ایشیائے کوچک میں بت پرستی اور جادوگری کا سب سے بڑا مرکز تھا وہاں ڈائنا دیوی کا ایک عظیم الشان مندر تھا جس کی شہرت تمام دنیا میں پھیلی ہوئی تھی اور دور دور سے لوگ اس کی پوجا پاٹ کے لیے آتے تھے۔ وہاں کے جادوگر، عامل، فال گیر اور تعویذ لکھنے والے دنیا بھر میں مشہور تھے۔ شام و فلسطین اور مصر تک ان کا کاروبار چلتا تھا اور اس کاروبار میں یہودیوں کا بھی خاصا حصہ تھا جو اپنے فن کو سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے تھے شرک اور اوہام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ یہ سب گفتگو اہل توحید کے آپس میں بہ طور مشورہ ہورہی ہے۔ (آیت) ” اعتزلتموھم “۔ میں ضمیر ” ھم “۔ انہیں مشرک قوموں کی جانب ہے۔ (آیت) ” فاؤا الی الکھف “۔ فلاں غار میں چل کر پناہ لو، کہ وہاں حکومت کے جو ور ستم سے بھی امن ملے گا اور اپنے طور پر ذکر و عبادت بھی بہ اطمینان و فراغت ہوسکے گی (آیت) ” ینشر۔۔۔ مرفقا “۔ مخلص اہل توحید کا تکیہ واعتماد اپنے پروردگار کی رحمت و ربوبیت پر اسی طرح ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–17

آیت نمبر 13 تا 17 ترجمہ : ہم آپ کو ان کا صحیح قصہ سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں ترقی دی تھی اور ہم نے ان کے دل قوی کر دئیے تھے یعنی حق بات کہنے کے لئے قوی کر دئیے تھے جب وہ اپنے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوئے اور اس بادشاہ نے ان کو بتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار ہے ہم اس کو چھوڑ کر کسی غیر کی ہرگز بندگی نہ کریں گے اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم نے نہایت ہی غلط بات کی یعنی حد سے گزری ہوئی حرکت کی یعنی بالفرض اگر ہم نے اللہ کے علاوہ کسی غیر کی بندگی کی تو ہم کفر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗٓا اِلَى الْكَهْفِ : اور جب تم ان (بت پرستوں) سے اور ان کے ان معبودوں (یعنی بتوں) سے جن کو اللہ کے سوا وہ پوجتے ہیں الگ ہوگئے ہو تو چل کر غار میں اپنا ٹھکانہ بنا لو (تا کہ باہر والا کوئی تم کو دیکھنے ہی نہ پائے) اصحاب کہف کی قوم والے دوسرے مشرکوں کی طرح صنم پرستی کے ساتھ خدا کی بھی پوجا کرتے تھے ‘ اس لئے اصحاب کہف کو اپنے قول میں الا اللہ کہنے کی ضرورت ہوئی (مطلب یہ کہ تم بت پرستوں اور بت پرستی سے تو الگ ہوگئے ہو مگر خدا پرستی سے الگ نہیں ہو۔ خدا پرستی میں ان کے ساتھ ہو اور بت پرستی میں ان سے بیزار) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(16) جب تم نے ان کو اور ان کے دین کو اور ان کے بتوں کو جن کی یہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں الگ کردیا ہے تم خالص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اور اس غار میں چل کر پناہ لو تم پر تمہارا رب اپنی رحمت پھیلائے گا اور تمہارے لیے کل کو کامیابی کا سامان درست فرمائے گا یعنی آخر الامر کامیابی ہوگی یہ نوجوانوں کی آپس میں گفتگو تھی،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۭوَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ۔۔ :”مِّرْفَقًا“”اَلْاِرْتِفَاقُ“ کا معنی فائدہ اٹھانا ہے، یعنی کوئی سہولت، آسانی۔ ان کی قوم اور بادشاہ میں سے کسی نے ان کی دعوت قبول نہ کی تو انھوں نے مشورہ کیا کہ جب تم ان لوگوں سے اور ان کے معبودوں سے علیحدہ ہوچکے تو اب یہاں رہ کر جان یا ایمان بچانا مشکل ہے، اس لیے کسی پہاڑ کے کھلے غار میں پناہ لے لو۔ رہا کھانا پینا اور دوسری ضروریات زندگی تو جب تم اپنے رب کی راہ میں ہجرت کر رہے ہو تو وہ خود اپنی رحمت کا دامن پھیلا دے گا اور ہر معاملے میں تمہارے لیے آسانی مہیا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی اس کا وعدہ فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة نساء…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 16 قولہ تعالیٰ : واذا عتزلتموھم کہا گیا ہے کہ یہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، یعنی جب تم ان سے الگ ہوگئے تو غار میں پناہ لو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان کے سردار تملیخا کا قول ہے ؛ جیسا کہ ابن عطیہ نے ذکر کیا ہے۔ اور غزنوی نے کہا ہے : ان کا رئیس مکسلمینا تھا، اس نے ان کو یہ کہا، یعنی جب تم ان سے الگ ہوگئے ہو اور تم ان سے الگ ہوگئے ہو جن کی وہ عبادت کرتے ہیں۔ پھر استثنا کی اور کہا الا اللہ یعنی بیشک تم اس (اللہ تعالیٰ ) کی عبادت کو نہ چھوڑو، پس یہ استثنا منقطع ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : اور یہ اس تقدیر پر ہے کہ بیشک وہ لوگ جن سے اصحاب کہف فرار ہوئے وہ اللہ تعالیٰ کو نہ پہچانتے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ سعید بن منصور، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطاء خراسانی (رح) سے (آیت) ” واذا عتزلتموہم وما یعبدون الا اللہ “ کے بارے میں روایت کرتے ہیں تھے کہ نوجوانوں کی قوم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتی تھی اور دوسرے لوگ ان کے ساتھ مختلف معبودوں کی عبادت کرتے تھے یہ نوجوان ان معبودوں کی عبادت سے الگ ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سے الگ نہیں ہوئے۔ 2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا عتزلتموہم وما یعبدون الا اللہ “ یہ حضرت ابن مسعود ؓ کے مصحف میں یہ عبارت اس طرح تھی، (آیت) ” وما یعبدون من دون اللہ “ گویا کہ یہ قرأت اس آیت کی تفسیر ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذِ : اور جب ] [اعْتَزَلْتموْهُمْ : تم لوگ کنارہ کش ہوگئے ان سے ] [وَمَا : اور اس سے جس کی ] [يَعْبُدُوْنَ : وہ لوگ بندگی کرتے ہیں ] [اِلَّا اللّٰهَ : اللہ کے سوا ] [فَاْوٗٓا : تو (اب) تم لوگ پناہ لو ] [اِلَى الْكَهْفِ : غار کی طرف ] [يَنْشُرْ : پھیلا دے گا ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [رَبُّكُمْ : تمہارا رب ] [مِّنْ رَّحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں سے (کچھ)] [وَيُهَــيِّئْ : اور وہ اسباب پیدا کرے گا ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [مِّنْ اَمْرِكُمْ : تمہارے کام میں ] [مِّرْفَقًا : سہارا دینے کا ذریعہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–16

اصحاب کہف کا تفصیلی واقعہ جیسا کہ دو تین صفحہ قبل ہم نے ذکر کیا کہ یہ چند نوجوان اپنی بت پرست قوم سے بھاگ نکلے تھے ان کا مقصود اپنا ایمان بچانا تھا اور جان بچانا بھی پیش نظر تھا کیونکہ وہاں جو بادشاہ تھا وہ اہل ایمان کو بت پرستی پر مجبور کرتا تھا اور جو شخص انکار کردے اسے قتل کردیتا تھا۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ نوجوان روم کے بادشاہ اور سرداروں کی اولاد میں سے تھے اس زمانہ کا بادشاہ جس کا نام دقیانوس تھا ظالم آدمی تھا اور وہ لوگوں کو بت پرستی کی دعوت دیتا تھا جب یہ نوجوان تہوار کے موقع پر اپنے اپنے خاندان کے ساتھ نکلے تو بت پرستی کا ماحول اور ماجرا دیکھ کر ان کے قلوب میں بہت زیادہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–17

تفصیل قصہ اصحاب کہف قال اللہ تعالیٰ نحن نقص علیک نباہم .... الیٰ .... فلن تجد لہ ولیا مرشدا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب کہف کا قصہ مجملا ذکر فرمایا اب اس قصہ کی کچھ تفصیل فرماتے ہیں تاکہ اہل صبر و استقامت اور زہر وان منزل آخرت کے لئے مشعل ہدایت بنے چناچہ فطرماتے ہیں۔ اے نبی ﷺ ہم آپ کے سامنے ان کی صحیح صحیح خبر نیان کرتے ہیں جو عین واقعہ کے مطابق ہے یہ اس لئے فرمایا کہ یہ قصہ لوگوں میں مختلف طور پر مشہور تھا جن میں بعض جھوٹی اور غلط روایتیں بھی شامل تھیں اس لئے فرمایا کہ جتنا قصہ ہم نے قرآن میں بیان کردیا وہ بالکل حق اور صدق ہے تحقیق وہ اصحاب چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ یہ ” اذ اوی الفتیۃ الخ “ کی تفصیل ہے اصحاب کہف کے رئیس یملیخا یا مکسلمینا نے ان سے کہا۔ جب تم ان مشرکوں سے اور ان کے ان ٹھاکروں سے علیحدہ ہوجاؤ۔ جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں تو کسی غار میں گھس جاؤ۔ ھو من قول رئیسھم یملیخا فیما ذکر ابن عطیۃ وقال الغزنوی رئیسھم مکسلمینا (قرطبی ج 10 ص 367) ۔ ” ینشر لکم ربکم من رحمتہ “ یہ ” ربنا اتنا من لدنک رحمۃ “ سے متعلق ہے۔ تو اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا۔ اور تمہارے اس کام میں آرام اور آسانی کا سامان بہم پہنچا دے گا۔ ” مرفقا “ مفعلا کے وزن پر مصدر ہے۔ جس کے معنی رفق اور آسانی کے ہیں۔ قال ابو زید ھو مصدر کالرفق علی مفعل (بحر ج 6 س…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–18

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے متعلق فرمایا کہ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے اللہ نے ان کے لیے ہدایت کا سامان زیادہ کردیا ، پھر ان کے دلوں کو مضبوط کردیا جب انکو مشرک اور ظالم بادشاہ کے سامانے پیش کیا گیا تو انہوں نے کھڑے ہو کر صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ، ہم اس کے سوا کسی دوسری ذات کو معبود ماننے کے لیے تیار نہیں اگر ہم ایسا کریں گے تو سخت زیادتی کرنے والے ہوں گے ، ہماری قوم کے جن لوگوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں فرمایا اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر افتراء باندھتا ہے ، خدا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْہُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللہَ فَاْوٗٓا اِلَى الْكَہْفِ يَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ وَيُہَيِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا۝ 16 عزل الاعْتِزَالُ : تجنّب الشیء عمالة کانت أو براءة، أو غيرهما، بالبدن کان ذلک أو بالقلب، يقال : عَزَلْتُهُ ، واعْتَزَلْتُهُ ، وتَعَزَّلْتُهُ فَاعْتَزَلَ. قال تعالی: وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَما يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ الكهف/ 16] ( ع ز ل ) الا عتزال کے معنی ہیں کسی چیز سے کنارہ کش ہوجانا عام اس سے کہ وہ چیز کوئی پیشہ ہو یا کوئی بات وغیرہ ہو جس سے بری ہونے کا اعلان کیا جائے نیز وہ علیحدہ گی بذریعہ بدن کے ہو یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–16

ترکیب : ام منقطعہ مقدر ہے بل کے ساتھ جو ایک بات سے دوسری بات کی طرف انتقال کے لیے آتا ہے۔ جمہور کے نزدیک ہمزہ استفہام اوروں کے نزدیک صرف بل مقدر ہے ای بل احسبت عجبا خبر ہے کانوا کی ومن آیاتنا حال ہے اس سے۔ اذا متعلق ہے اذکر مخدوف سے فضربنا کا مفعول حجابا محذوف، عددا منصوب ہے سنین کی لغت ہو کر المعنی سنین ذات العدد ھذا قول الفرار اور ممکن ہے کہ مفعول مطلق ہو والمعنی تعد عددا ای مرفوع ہے مبتدا ہونے کے سبب اور احصٰی اس کی خبر ہے اور یہ سب جملہ متعلق ہے نعلم سے۔ تفسیر : زینت دنیا جس میں منہمک ہو کر انسان عقبیٰ کو کھو بیٹھتا ہے اور خدا پرستوں کو اپنا ہم خیال نہ سمجھ کر برا جانتا بلکہ ان کو ستاتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذِ اعْـتَزَلْتُمُوْھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ اِلاَّاللّٰہَ فَاْوٗٓا اِلَی الْـکَھْفِ یَنْشُرْلَـکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ وَیُھَیِّیْٔ لَـکُمْ مِّنْ اَمْرِکُمْ مِّرْفَـقًا۔ (الکہف : 16) (اور اب جبکہ تم ان کو اور ان کے معبودوں کو جنھیں وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں چھوڑ کر الگ ہوگئے ہو تو غار میں پناہ لے لو تو پھیلائے گا تمہارے لیے تمہارا رب اپنی رحمت کا دامن اور مہیا کرے گا تمہارے لیے تمہاری ضرورت کا سامان۔ ) مِرْفَقْ… ضرورت اور منفعت کی چیز کو کہتے ہیں۔ ایمان کو بچانے کے لیے ہر ممکن تدبیر گزشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف نے جب بت پرستی اور شرک کو چھوڑ کر توحید اور بندگیِ رب کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، بالآخر مجبور ہو کر نوجوانوں کا قوم سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ۔ نامعلوم نوجوانوں نے کتنی مدّت اور کس قدر مظالم برداشت کیے ہوں گے۔ یہاں تک کہ وہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ یقیناً انہوں نے با ربا رسوچا ہوگا کہ جائیں تو کہاں جائیں ؟ سلطنت رومہ میں ہر جگہ شرک کا غوغہ مچ رہا ہے۔ وقت کی حکومت ان کی دشمن ہوچکی ہے۔ جب حکومت اور عوام اس بات پر متفق ہوگئے کہ ان کو پتھر مارمار کر جان سے مار دینا چاہیے تو اس صورت حال میں اللہ کی توحید کے متوالوں اور اس کی عظمت پر سب کچھ قربان کردینے والوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں ان لوگوں سے اپنی جان اور ایمان بچانا چاہیے۔ جو اللہ کے سوا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

باہمی فیصلہ : 16: وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْ ھُمْ (جب تم ان سے الگ ہوجائو) اس میں انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو مخاطب کیا جبکہ اپنے دین کو بچانے کیلئے بھاگنے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ وَمَا یَعْبُدُوْنَ (اور جن کی یہ عبادت کرتے ہیں) ھم ضمیر پر عطف کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی واذا عتزلتموھم واعتزلتم معبودتہم۔ اِلَّا اللّٰہَ (اللہ تعالیٰ کے سوا) یہ مستثنیٰ متصل ہے۔ کیونکہ وہ خالق کا اقرار کرتے تھے۔ اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے۔ جیسا کہ اہل مکہ نمبر 2۔ مستثنی منقطع ہے ای اذاعتزلتم الکفار والاصنام التی یعبدونھا من دون اللّٰہ۔ جب تم کفار اور ان اصنام سے الگ ہوجائو جن کی وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔ پھر بعض نے بعض کے ساتھ کہا ” واذاعتزلتموھم “ تمہاری قوم ” وما تعبدون الا اللہ “ بعض نے کہا کہ اس کو یعبدون بھی پڑھ سکتے ہیں۔ معروف و مشہور قرأت یہی ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے اور ان کے ساتھ بتوں کی بھی عبادت کرتے۔ اس لیے ان کی عبادت کے ساتھ ساتھ الا اللہ کہنے کی ضرورت پیش آئی۔ بعض نے کہا کہ اللہ نے فرمایا کہ اصحاب کہف اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ ” فاؤوا الی الکھف “ یعنی غار کی طرف منتقل ہو جائو۔ ” ینشرلکم “ تمہارے لیے رزق کو کشادہ کر دے گا۔ ” ربکم من رحمتہ ویھیی لکم “ اور اس کو تمہارے لیے آسان کر دے گا۔ ” من امرکم مرفقا “ وہ ذریعہ جس سے فائدہ حاصل ہو۔ ابو جعفر، نافع ابن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–16

13۔ 16:۔ اوپر مختصر طور پر قصہ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اس کی تفصیل بیان فرمائی۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے یہود کے سکھانے سے قریش نے تم سے ان چند جوان شخصوں کا قصہ جو پوچھا ہے جو جیتے جی غائب ہوگئے وہ صحیح قصہ یوں ہے کہ ان چند جوانوں کی ساری قوم تو بت پرست تھی مگر یہ چند جوان اللہ کی وحدانیت اور عیسائی دین پر قائم تھے پھر فرمایا جب کہ بت پرست بادشاہ دقیانوس نے بت پرستی اختیار کرنے کے لیے ان جوانوں کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ثابت قدمی بڑھا دی اور ان کے دلوں کو خوب مضبوط کردیا جس سے انہوں نے دقیانوس کو یہی جواب دیا کہ ہم سوا اللہ تعالیٰ کے بتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر 16 یعنی انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ چونکہ تم جسمانی اور دینی طور پر اپنی قوم سے الگ ہوگئے ہو، اس لئے اب ان کے شر سے نجات پانا اور اس کے لئے اسباب اختیار کرنا باقی ہے کیونکہ وہ ان کے ساتھ جنگ کرسکتے ہیں۔ نہ اس بنا پر ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں کہ ان کا دین ان کی قوم کے دین سے مختلف ہے۔ (فاوالی الکھف ) ” پس جگہ پکڑ و غار کی طرف “ یعنی غار میں جاکر چھپ جاؤ۔ ( ینشر لکھم ربکم من رحمتہ ویھی لکم من امرکم مر فقا ) ” پھیلا دے گا تم پر تمہارا رب اپنی رحمت اور مہیا کرے گا تمہیں تمہارے کام میں آسانی “ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی اس دعا کے بارے میں خبر دی تھی۔ (ربنا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–17

قول باری ہے (لنعلم ای الحزبین احصی بما لبثوا مداً تاکہ ہم دیکھیں ان میں سے کو ن اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے) مفہوم یہ ہے کہ ہم نے انہیں دوبارہ اس لئے زندہ کردیا تاکہ ان کے قیام کی مدت کے بارے میں دونوں گروہوں کے اختلاف کے اندر درست بات ظاہر ہوجائے کیونکہ اس میں عبرت کا پہلو تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

20۔ اہل کفر و شرک سے علیحدگی کا اعلان :۔ سو انہوں نے آپس میں کہا کہ اب جبکہ تم ان لوگوں سے الگ ہوگئے ہو ذہنی اور فکری طور پر۔ اپنے عقیدہ و ایمان کی بناء پر اور دین و ایمان کا برملا اظہار و اعلان کرکے، اور تمہارا ان لوگوں سے کوئی رشتہ اور تعلق باقی نہیں رہ گیا۔ کہ تم ایمان و یقین اور توحید والے اور یہ کفرو شرک کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں، تو اب تم ظاہری اور جسمانی طور پر اور جگہ اور مکان کے اعتبار سے بھی ان سے الگ ہوجاؤ کہ اب ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا اور ان سے خلط ملط رکھنا جائز نہیں جس سے ہمارے دین و ایمان کی دولت کو خطرہ ہو کیونکہ دین و ایمان کی حفاظت سب سے اہم اور سب پر مقدم ہے۔ 21۔ اپنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–16

اصحاب کہف کا قصہ تشریح : قرآن پاک قصہ کہانیوں کی کتاب نہیں بلکہ اس کے ایک ایک لفظ سے حکمت و دانش، دانائی اور ہدایت کا سبق ملتا ہے اسی طرح اصحاب کہف کا واقعہ توحید، ایمان، توکل اور اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” کیا تم خیال کرتے ہو کہ اصحاب کہف ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے، ، ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ صبر، دعا اور ایمان کی مضبوطی کی مثال پیش کر رہے ہیں۔ ہوا اس طرح کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تبلیغ کی وجہ سے یہودی علماء ان کے دشمن ہوگئے۔ یہاں تک کہ ان کو سولی پر چڑھانے کا منصوبہ تیار ہوگیا مگر اللہ نے ان کو زندہ اوپر اٹھا لیا۔ قرآن میں اسی طرح بتایا گیا ہے۔ تو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 13–17

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف تو سنئے ہم نے آپ کو ان واقعہ کا ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے تو بہت بےسروپا باتین اس میں شامل کر رکھی ہوں گی ، لہذا ارشاد ہوا کہ درست واقعات یہاں کتاب میں بیان کئے جاتے ہیں کہ وہ کچھ نوجوان تھے جو اللہ جل جلالہ پر ایمان لائے ، اپنے پروردگار کی عظمت کو خلوص دل سے تسلیم کرلیا تو ہم نے ان کے لیے راہ ہدایت کی سوجھ بوجھ بڑھا دی اور انہیں نیکی اور بدی میں فرق کا احساس شدت سے ہوگیا ایسا کہ جو بدی کو چھوڑنے اور نیکی کو اپنانے پر مجبور کر دے ۔ (ایمان کی خصوصیت) اس جگہ ایمان کی خصوصیت ارشاد ہوئی ہے کہ اگر خلوص نصیب ہو تو ایمان کے باعث اللہ جل جلالہ کی طرف سے شعور بیدار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 اس شہر سے نکل کر پاس ایک پہاڑی میں کھوہ تھی۔ آپس میں مشورہ کر کے وہاں جا بیٹھے نیند غالب ہوئی سو گئے کسی کو معلوم نہ ہوا تب سے اب تک سوتے ہیں۔ بیچ میں ایک بار اللہ نے جگا دیا جس سے لوگوں پر خبر کھلی، پھر سو رہے۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:16) اعتزلتموہم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ وائو اشباع کا ہے۔ اعتزال مصدر۔ تم نے ان سے کنارہ کرلیا۔ (اور جب) تم نے (ان مشرکوں سے اور جن کی یہ خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں) ان سے کنارہ کرلیا۔ قرآن مجید میں ہے فاعتزلوا النسائ۔ (2:222) عورتوں سے کنارہ کش رہو اسی سے ہے معتزلۃ عقل پرست فرقہ جو اہل سنت سے الگ ہوگیا تھا۔ خواجہ حسن بصری (رح) ایک دن کس مسئلہ پر دلائل دے رہے تھے کہ ان کا ایک شاگرد واصل بن عطاء اختلاف رائے کی بنا پر الگ ہو کر ایک گروہ سے اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے لگا۔ خواجہ حسن بصری نے فرمایا اعتزل عنا۔ وہ ہم سے کنارہ کش ہوگیا۔ اسی بناء پر واصل بن عطاء کے پیروکار معتزلہ مشہور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–16

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 16 نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ نبا خبر، حال۔ زدنا ہم نے بڑھا دیا۔ ربطنا ہم نے باندھا، مضبوط کردیا۔ شطط عقل سے ور کوئی بات۔ سلطان مبین کھلی اور واضح دلیل۔ اعتزلتموھم تم ان سے الگ ہوگئے۔ فاو تم ٹھکانا بنا لو۔ ینشر وہ پھیلا دے گا۔ مرفق آرام ، آسائش۔ تشریح : آیت نمبر 13 تا 16 گزشتہ آیات میں اصحاب کہف کا مختصر واقعہ بیان کیا گیا تھا۔ ان ایٓات میں اس واقعہ کے کچھ مزید پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ کچھ نوجوان تھے جنہوں نے بادشاہ وقت (دقیانوس) کے غلط عقیدوں، بت پرستی، غرور وتکبر کے سامنے سر جھکانے اور بت پرستی کے بجائے بےپناہ جرأت، ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–16

اصحاب کہف کا بیان شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہود نے قریش کو تین سوال دیئے کہ حضرت محمد ﷺ سے پوچھو تو آپس میں کہنے لگے کہ ان جوانوں کا قصہ بہت عجیب ہے، محمد ﷺ اس کا جواب دیں سکیں تو عجب کی بات ہے۔ حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ کھوہ والوں کا قصہ ہماری اس قدرت کے روبرو عجیب بات نہیں ہے کس لئے کہ آسمان و زمین کی پیدائش رات دن کا بدلنا، چاند سورج اور اس کے سوا بڑی بڑی نشانیاں ہماری قدرت کی ہیں جو اصحاب کہف کے قصہ سے بھی زیادہ ہیں ۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ قصہ اصحاب کہف بیان ہوتا ہے کہ یہ سات آدمی تھے ان کے نام یہ ہیں : (1) مکسلمینا (2) یملیخا (3) مرطوقس (4) پینونس (5) سار ینونس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–16

[4] روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب کہف صحیح دین مسیح (علیہ السلام) پر تھے اور ان کا زمانہ بعد المسیح ہے۔ رومی شہنشاہ ڈی سیس (DECIUS) یا دقیانوس (متوفی 152 ئ) سخت مشرک تھا۔ مسیحی مذہب نیا نیا اس کے زمانے میں سلطنت روم میں پھیلنا شروع ہوا تو اس نے عیسائی موحدین پر سختی شروع کی۔ اس سے تنگ آ کر چند شریف نوجوان شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور قریب کے ایک غار میں جا کر پناہ لی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے : (ف 1) جب کوئی قوم اللہ کے لئے اپنی آسائیشوں کو ترک کردے اور توحید کے لئے تکلفات کو چھوڑ دے ، عقیدے کی حفاظت وصیانت کے لئے دکھ اور مصائب برداشت کرلے ، تو اللہ کی رحمتیں اسے گھیر لیتی ہیں ، اصحاب کہف ، یہ چند نفوس قدسیہ تھے ، مظالم واستبداء سے گھبرا کر اللہ کی پناہ میں آگئے ، اور دین حق کے تحفظ کے لئے فار اور کھوہ کی زندگی پر قناعت کرلی ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کہ جب تم نے بت پرستوں سے قطع تعلق کرلیا ہے ، اور یہاں آگئے ہو تو خوف وہراس کی ضرورت نہیں ، ہم تمہاری مدد کریں گئے ، اور یہاں وہ لطف تمہیں میسر ہوگا ، جو بڑے بڑے ایوانوں میں تمہیں میسر نہ ہوتا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 16 اور اس جواب کے بعد ان نوجوانوں نے آپس میں کہا کہ جب تم ان لوگوں سے عقیدے اور دین میں جدا ہی ہوگئے اور سوائے اللہ تعالیٰ کے ان کے تمام معبودوں سے بھی الگ ہوگئے اور کنارہ کشی اختیار کرچکے تو اب تم پہاڑ کے کسی غار میں چل بیٹھو جہاں تم پر تمہارا پروردگار اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے اس کام میں تمہارے لئے آرام و سہولت مہیا کر دے گا۔ یعنی جب تم اپنی قوم کی بد عقیدگی اور ان کے جھوٹے معبودوں سے کنارہ کش ہی ہوگئے تو اب تم اپنی فکر کرو اور کسی پہاڑ کی کھوہ میں چل بیٹھو وہاں تم پر تمہارا پروردگار اپنی رحمت اور مہربانی پھیلائے گا اور تمہارے کام میں بھی سہولت و آسانی مہیا فرما دے گا۔ حضرت شاہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–16

ف 2۔ چونکہ لوگوں نے اس کو مختلف طور پر مشہور کیا تھا اس لئے فرمایا کہ ٹھیک وہ جو قرآن میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حکمرانوں کا الٹی میٹم سن کر انہوں نے مشورہ کیا اور غار میں پناہ لینے کیلئے چل نکلے : 16۔ مسیحی دعوت کے ابتدائی قرنوں ہی میں زہد وتقوی کی ایک خاص صورت بنا لی گئی تھی اگرچہ وہ اختراعی تھی یہی وجہ ہے کہ اس کی حالتیں مختلف رہیں ۔ یہی وہ چیز ہے جس نے آگے چل کر باقاعدہ رہبانیت کی مختلف شکلیں اختیار کرلی تھیں ، اس زندگی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ لوگ ترک علائق کے بعد کسی پہاڑ کی غار میں یہ کسی غیرآباد گوشہ میں معتکف ہوجاتے تھے اور اس طرح کی داستانیں سننے آتی رہتی تھیں اور اللہ کے نیک بندے ظلم وستم سے بچنے کے لئے تدابیر اختیار کرتے تھے ، ان لوگوں نے بھی اس مہلت کو غنیمت جانا جو حکومت وقت نے ان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

About the verse: فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ (then seek refuge in the Cave - 16), Ibn Kathir says that the course adopted by the People of Kahf was that they left the city in which it was not possible to worship Allah and took refuge in the Cave. This is the Sunnah, the way of all prophets. They migrate from such places and opt for a place where ` Ibadah could be done.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11. When these God worshiping youths fled the habitations to take refuge in the hills, the city of Ephesus was the principal center of idol worship and sorcery in Asia Minor. There was a great temple dedicated to the goddess Diana, which was well known in the whole world and attracted devotees from far places. The sorcerers, workers of magic and occult arts, soothsayers and amulet writers of Ephesus were well known and their black business had spread throughout Syria and Palestine, even as far as Egypt. The Jews also had a big share in it, who attributed this art to Prophet Solomon.…

Read the full tafseer →