Al-Kahf 18:15

Al-Kahf · from ayah 15

18:15

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً ؕ— لَوْلَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍ بَیِّنٍ ؕ— فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا ۟ؕهٰٓؤُلَاۤءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً‌ ؕ لَوۡ لَا يَاۡتُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ بِسُلۡطٰنٍۢ بَيِّنٍ‌ ؕ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا

ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے) پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے۔ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے

— Fateh Muhammad Jalandhari

These, our people, have taken besides Him deities. Why do they not bring for [worship of] them a clear authority? And who is more unjust than one who invents about Allah a lie?"

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 2 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:15

(پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا) "یہ ہماری قوم تو ربِّ کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ آخر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے) پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے۔ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ ہے ہماری قوم جس نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ ان کی خدائی کی یہ کوئی صاف دلیل کیوں پیش نہیں کرتے اللہ پر جھوٹ افترا باندھنے والے سے زیاده ﻇالم کون ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں جنہوں نے اس پروردگار کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ (اگر ان کا عقیدہ صحیح ہے تو) وہ اپنے معبودوں کے ثبوت میں کوئی واضح دلیل کیوں پیش نہیں کرتے ؟ بھلا اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ جو ہماری قوم ہے اس نے اللہ کے سوا خدا بنا رکھے ہیں، کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی روشن سند، تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں جنہوں نے اس کے سوا کئی معبود بنا لئے ہیں، تو یہ ان (کے معبود ہونے) پر کوئی واضح سند کیوں نہیں لاتے؟ سو اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ ہماری قوم ہے، جنھوں نے اس کے سوا کئی معبود بنا لیے، یہ ان پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے، پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(پھر آپس میں کہنے لگے) یہ ہماری قوم کے لوگ جنہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو الٰہ بنا رکھا ہے تو پھر یہ ان کے الٰہ ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ بھلا اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر تہمت لگائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا کچھ دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ یہ ان کے حق میں واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے ! تو ان سے بڑا ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ جو ہماری قوم ہے انہوں نے اس (وحدہ، لا شریک) کے سوا طرح طرح کے معبود بنا رکھے ہیں، یہ لوگ کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی واضح دلیل، سو اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

ان لوگوں (یعنی) ہماری قوم والوں نے اللہ کے علاوہ اور معبود قرار دے رکھے ہیں یہ لوگ ان معبودوں کے وجود پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لائے ؟ سو اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جو اللہ پر جھوٹ تہمت لگائے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہماری اس قوم نے بنالیے ہیں اس کے سوا دوسرے معبود تو کیوں نہیں پیش کرتے وہ ان کے بارے میں کوئی واضح دلیل تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں بھلا یہ ان کے الٰہ ہونے پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Then they conferred among themselves and said): "These men, our own people, have taken others as gods beside Him: why do they not bring any clear evidence that they indeed are gods? Who can be more unjust than he who foists a lie on Allah?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

These, our people, have adopted gods other than Him. Why do they not bring a clear proof in their favor? So, who is more unjust than the one who fabricates a lie against Allah?

— Muhammad Taqi Usmani

These, our people, have adopted gods other than Him. Why do they not bring a clear proof in their favor? So, who is more unjust than the one who fabricates a lie against Allah?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

These our people have taken for worship gods other than Him. Why do they not bring for them a clear authority And who does more wrong than he who invents a lie against Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

These, our people, have chosen (other) gods beside Him though they bring no clear warrant (vouchsafed) to them. And who doth greater wrong than he who inventeth a lie concerning Allah?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

These, our people, have taken besides Him deities. Why do they not bring for [worship of] them a clear authority? And who is more unjust than one who invents about Allah a lie?"

— Saheeh International

Our people have considered other things equal to God. Why cannot they present clear proof in support of their claim. Who is more unjust than one who invents falsehood against God?"

— Muhammad Sarwar

These our people have taken gods besides Him; why do they not produce any clear authority in their support? Who is then more unjust than he who forges a lie against Allah?

— Muhammad Habib Shakir

These, our people, have taken for themselves gods beside Him - wherefore bring they not for them an authority manifest? --and who doth greater wrong than he who fabricateth against God a lie?

— Abdul Majid Daryabadi

"These our people have taken for worship gods other than Him: why do they not bring forward an authority clear (and convincing) for what they do? Who doth more wrong than such as invent a falsehood against Allah?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–16

اصحاب کہف کا قصہ یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آگئے قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے کانوں میں بالے تھے یہ متقی مومن اور راہ یافتہ نوجوانوں کی جماعت تھی اپنے رب کی وحدانیت کو مانتے تھے اس کی توحید کے قائل ہوگئے تھے اور روز بروز ایمان و ہدایت میں بڑھ رہے تھے۔ یہ اور اس جیسی اور آیتوں اور احادیث سے استدلال کر کے امام بخاری ؒ وغیرہ محدثین کرام کا مذہب ہے کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–15

سورة الْكَهْف 9 اس قصے کی قدیم ترین شہادت شام کے ایک عیسائی پادری جیمس سروجی کے مواعظ میں پائی گئی ہے جو سریانی زبان میں لکھے گئے تھے۔ یہ شخص اصحاب کہف کی وفات کے چند سال بعد 452 میں پیدا ہوا تھا اور اس نے 474 کے لگ بھگ زمانے میں اپنے یہ مواعظ مرتب کیے تھے۔ ان مواعظ میں وہ اس پورے واقعے کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ یہی سریانی روایت ایک طرف ہمارے ابتدائی دور کے مفسرین کو پہنچی جسے ابن جریر طبری نے مختلف سندوں کے ساتھ اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے، اور دوسری طرف یورپ پہنچی جہاں یونانی اور لاطینی زبانوں میں اس کے ترجمے اور خلاصے شائع ہوئے۔ گبن نے اپنی کتاب " تاریخ زوال و سقوط دولت روم " کے باب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–15

وَرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ ابن کثیر کے حوالے سے جو واقعہ کی صورت اوپر بیان کی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی طرف سے ان کے دلوں کو مضبوط کردینے کا واقعہ اس وقت ہوا جب کہ بت پرست ظالم بادشاہ نے ان نوجوانوں کو اپنے دربار میں حاضر کر کے سوالات کئے اس موت وحیات کی کش مکش اور قتل کے خوف کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اپنی محبت اور ہیبت و عظمت ایسی مسلط کردی کہ اس کے مقابلے میں قتل و موت اور ہر مصیبت کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو کر اپنے عقیدے کا صاف صاف اظہار کردیا، کہ وہ اللہ کے سوا کسی معبود کی عبادت نہیں کرتے اور آئندہ بھی نہ کریں گیں، جو لوگ اللہ کے لئے کسی کام کا عزم پختہ کرلیتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قوم کو چیلنج : هَؤُلاءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَوْلا يَأْتُونَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطَانٍ بَيِّنٍ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا۔ " قوم " سے مراد یہاں " رقیم " کے لوگ ہیں۔ یہ ان حق پرست نوجوانوں کا اپنی پوری قوم کے لیے ایک چیلنج ہے اور عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں ھؤلاء کا لفظ جس انداز سے استعمال ہوا ہے اس سے ایک قسم کی حقارت کا بھی اظہار ہورہا ہے۔ پھر غائب کے صیغوں میں بھی حقارت مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ڈنکے کی چوٹ اعلان کردیا کہ یہ ہماری قوم کے بدھوؤں نے اللہ کے سوا جو اور معبود بنا رکھے ہیں تو یہ اپنے ان معبودوں کے حق میں کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–15

14۔ 1 یعنی ہجرت کرنے کی وجہ سے اپنے خویش و اقارب کی جدائی اور عیش و راحت کی زندگی سے محرومی کا جو صدمہ انھیں اٹھانا پڑا، ہم نے ان کے دل کو مضبوط کردیا تاکہ وہ صدمات کو برداشت کرلیں۔ نیز حق گوئی کا فریضہ بھی جرأت اور حوصلے سے ادا کرسکیں۔ 14۔ 2 اس قیام سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک وہ طلبی ہے، جو بادشاہ کے دربار میں ان کی ہوئی اور بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر انہوں نے توحید کا وعظ بیان کیا، بعض کہتے ہیں کہ شہر سے باہر آپس میں ہی کھڑے، ایک دوسرے کو توحید کی بات سنائی، جو فرداً فرداً اللہ کی طرف سے ان کے دلوں میں ڈالی گئی اور یوں اہل توحید باہم اکٹھے ہوگئے۔ 14۔ 3 شططا کے معنی جھوٹ کے یا حد سے تجاوز…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–15

7: ابن کثیر کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بادشاہ کو ان کے عقیدے کا پتہ لگا تو اس نے انہیں اپنے دربار میں طلب کرلیا، اور ان سے ان کے عقیدے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بڑی بےباکی سے توحید کا عقیدہ بیان کیا جس کا آگے ذکر آرہا ہے دل کی اسی مضبوطی کا حوالہ اس آیت میں دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ھولآء قومنا اتخذوا من دونہ الھۃ لولا یاتون علیھم بسلطن بین (81 : 51) ” یہ ہماری قوم تو رب کائنات کو چھوڑ کر دور سے خدا بنا بیٹھی ہے ، یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی بین دلیل کیوں نہیں لاتے۔ “ اسلامی نظریہ حیات میں یہ بات عقیدے کا حصہ ہے کہ انسان جو موقف اختیار کرے اس پر اس کے پاس دلیل بین ہو۔ ایسی دلیل ہو جو دل کو لگتی ہو ، اور عقل اسے تسلیم کرتی ہو ، اگر ایسا نہیں ہے تو وہ کذب اور افتراء ہے اور یہ چونکہ کذب علی اللہ ہے ، اس لئے یہ زیادہ گھنائونا جھوٹ ہے۔ فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً (81 : 51) ” آخر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ “ یہاں تک تو اسے قصے سے معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 جیسے موحدین توحید پر صاف صاف دلیلیں پیش کرتے ہیں، اگر مشرکین اپنے دعوے میں سچے ہیں تو کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے۔ لائیں کہاں سے ؟ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اس سے بڑا جھوٹ کیا ہوگا کہ خدا کے شریک ٹھہرائے جائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

لَوْلَا يَاْتُوْنَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطٰنٍۢ بَيِّنٍ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کوئی دلیل یا سند وہ اپنے اس دعوے کے ساتھ کیوں پیش نہیں کرتے ؟ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا شاہی دربار میں اس تند و تیز مکالمے کے بعد جب انہیں چند دن کی مہلت کے ساتھ اپنا دین چھوڑنے یا موت کا سامنا کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا گیا تو وہ آپس میں یوں مشورہ کرنے لگے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–15

12 مزید رہنمائی سے مراد اپنے ایمان پر ڈٹ جانا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے اعلان سے معلوم ہو رہا ہے انھیں زبان سے کفر و شرک کا کلمہ کہنا اس قدر دشوار تھا کہ انہوں نے ایسی بات کہنے پر اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑنے کو ترجیح دی اور سوسائٹی کی نظروں سے روپوش ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18۔ یعنی اس کی ذات وصفات میں کسی شرکت کا گزر سمجھے۔ (آیت) ” لولایاتون علیھم بسلطن بین “۔ یہاں دلیل کا مطالبہ مشرکوں سے کیا ہے کہ تم اپنے دھرم کی حقانیت کے اگر قائل ہو تو لاؤ کوئی دلیل پیش کرکے تو دکھاؤ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–17

آیت نمبر 13 تا 17 ترجمہ : ہم آپ کو ان کا صحیح قصہ سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں ترقی دی تھی اور ہم نے ان کے دل قوی کر دئیے تھے یعنی حق بات کہنے کے لئے قوی کر دئیے تھے جب وہ اپنے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوئے اور اس بادشاہ نے ان کو بتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار ہے ہم اس کو چھوڑ کر کسی غیر کی ہرگز بندگی نہ کریں گے اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم نے نہایت ہی غلط بات کی یعنی حد سے گزری ہوئی حرکت کی یعنی بالفرض اگر ہم نے اللہ کے علاوہ کسی غیر کی بندگی کی تو ہم کفر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

هٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً ہماری اس قوم نے اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بنا رکھا ہے یعنی بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ لَوْلَا يَاْتُوْنَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطٰنٍۢ بَيِّنٍ : بتوں کو پوجنے کی کوئی واضح دلیل یہ کیوں نہیں پیش کرتے۔ بغیر واضح دلیل کے دین کے عقائد ناقابل قبول ہیں ‘ گمان اور باپ دادا کی پیروی عقائد کی صحت کو ثابت نہیں کرسکتی ‘ عقائد میں بلا دلیل اتباع درست نہیں۔ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا جو شخص اللہ پر دروغ بندی کرے اس سے بڑھ کر ظالم بھلا کون ہے۔ یعنی جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو ساجھی مانتا ہو اور کسی کو اللہ کی اولاد قرار دیتا ہو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(15) ہماری اس قوم نے تو اللہ تعالیٰ کے علاوہ بتوں کو معبود قرار دے رکھا ہے، یہ لوگ اپنی اس پر ستش پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے کہ اللہ تعالیٰ نے انکو اس چیز کا حکم دے رکھا ہے، اور اس شخص سے زیادہ کون غضب ڈھانے ولا ہوگا کہ جو اللہ تعالیٰ پر تہمت لگائے اور اس کے لیے شریک تجویز کرے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

هٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً۔۔ : انھوں نے صرف توحید کے اعلان پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی قوم کے فعل کا رد بھی فرمایا کہ یہ ہماری قوم کے لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی کوئی دلیل کیوں نہیں پیش کرتے۔ معلوم ہوا یہ اپنے دعویٰ میں سراسر جھوٹے ہیں۔ چند آیات جن میں مشرکین سے شرک کی دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے، دیکھیے انعام (148) اور احقاف (4)۔ فَمَنْ اَظْلَمُ۔۔ : یعنی اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنا محض جھوٹ ہے اور جو اللہ پر جھوٹ باندھے اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 15 قولہ تعالیٰ : ھؤلآء قومنا اتخذوا من دونہ الھۃ یعنی ان میں سے بعض نے بعض کو کہا : ہماری قوم ہے، یعنی یہ ہمارے زمانے اور ہمارے شہر کے لوگ ہیں، بتوں کی عبادت کرتے ہیں بغیر حجت کے محض تقلید کرتے ہوئے۔ لولا یعنی ھلا (کیوں نہیں) یاتون علیھم بسلطن بین یعنی اپنے بتوں کی عبادت کرنے پر کوئی دلیل کیوں نہیں پیش کرتے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : علیھم یہ ضمیر ان کے البوں کے طرف لوٹ رہی ہے، یعنی وہ بتوں کے الٰہ ہونے پر کوئی دلیل کیوں نہیں قائم کرتے، پس ان کا قول : لولا یہ تخضیض یعنی تعجیر ہے اور جب ان کے لئے یہ ممکن نہیں تو پھر واجب نہیں کہ ان کے دعویٰ کی طرف توجہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–15

1:۔ سعید بن منصور، عبدبن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر وہ جوان ہوتا ہے اور کسی عالم کو علم نہیں دیا جاتا مگر وہ جوان ہوتا ہے پھر بطور دلیل یہ آیت پڑھی (آیت) ” قالوا سمعنا فتی یذکرھم یقال لہ ابراہیم “ (الانبیاء آیت 20) (آیت) ” واذقال موسیٰ لفتہ “ انہم فتیۃ امنوا برابھم “ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وزدنہم ھدی “ (یعنی ہم نے ان کو زیادہ کیا (اخلاص میں ) ۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وربطنا علی قلوبہم “ سے مراد ہے کہ (ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ ] [قَوْمُنَا : ہماری قوم ہے ] [اتَّخَذُوْا : انھوں نے بنائے ] [مِنْ دُوْنِهٖٓ: اس (اللہ) کے علاوہ ] [اٰلِهَةً : کچھ الٰہ ] [لَوْلَا : کیوں نہیں ] [يَاْتُوْنَ : وہ لوگ لاتے ] [عَلَيْهِمْ : ان (اِلہٰوں) پر ] [بِسُلْطٰنٍۢ بَيِّنٍ : کوئی واضح دلیل ] [فَمَنْ : تو کون ] [اَظْلَمُ : زیادہ ظالم ہے ] [مِمَّنِ : اس سے جس نے ] [افْتَرٰى: گھڑا ] [عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [كَذِبًا : کوئی جھوٹ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–16

اصحاب کہف کا تفصیلی واقعہ جیسا کہ دو تین صفحہ قبل ہم نے ذکر کیا کہ یہ چند نوجوان اپنی بت پرست قوم سے بھاگ نکلے تھے ان کا مقصود اپنا ایمان بچانا تھا اور جان بچانا بھی پیش نظر تھا کیونکہ وہاں جو بادشاہ تھا وہ اہل ایمان کو بت پرستی پر مجبور کرتا تھا اور جو شخص انکار کردے اسے قتل کردیتا تھا۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ نوجوان روم کے بادشاہ اور سرداروں کی اولاد میں سے تھے اس زمانہ کا بادشاہ جس کا نام دقیانوس تھا ظالم آدمی تھا اور وہ لوگوں کو بت پرستی کی دعوت دیتا تھا جب یہ نوجوان تہوار کے موقع پر اپنے اپنے خاندان کے ساتھ نکلے تو بت پرستی کا ماحول اور ماجرا دیکھ کر ان کے قلوب میں بہت زیادہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–17

تفصیل قصہ اصحاب کہف قال اللہ تعالیٰ نحن نقص علیک نباہم .... الیٰ .... فلن تجد لہ ولیا مرشدا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب کہف کا قصہ مجملا ذکر فرمایا اب اس قصہ کی کچھ تفصیل فرماتے ہیں تاکہ اہل صبر و استقامت اور زہر وان منزل آخرت کے لئے مشعل ہدایت بنے چناچہ فطرماتے ہیں۔ اے نبی ﷺ ہم آپ کے سامنے ان کی صحیح صحیح خبر نیان کرتے ہیں جو عین واقعہ کے مطابق ہے یہ اس لئے فرمایا کہ یہ قصہ لوگوں میں مختلف طور پر مشہور تھا جن میں بعض جھوٹی اور غلط روایتیں بھی شامل تھیں اس لئے فرمایا کہ جتنا قصہ ہم نے قرآن میں بیان کردیا وہ بالکل حق اور صدق ہے تحقیق وہ اصحاب چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–15

13:۔ اب یہاں سے اصحاب کہف کے واقعہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے گویا کہ پہلے شبہہ اولیٰ کا اجمالی جواب ذکر کیا گیا اور یہاں اسے تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ شروع فی تفصیل ما اجمل فیما سلف ای نحن نخبرک بتفصیل خبرھم الذی لہ شان و خطر (روح ج 5 ص 216 ابو السعود ج 5 ص 685) ۔ 14:۔ پہلے اجمالی ذکر میں اصحاب کہف کے مومن و موحد ہونے کی طرف اشارہ تھا۔ یہاں ان کے ایمان، توحید پر ان کی استقامت اور شرک سے ان کی بیزاری کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اس تفصیل میں چار چیزیں مذکور ہیں۔ (1) ۔ ” امنوا بربھم “ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آئے۔ (2) ۔ ” و زدنھم ھدی “ انہیں ایمان کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے کر ان کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–15

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا اجمالی ذکر کیا کہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں یہ کوئی واحد حیرت انگیز نشانی نہیں بلکہ کائنات میں اس قسم کی بیشمار نشانیاں بکھری پڑی ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت تامہ پر یقین آتا ہے ، فرمایا یہ چند نوجوان تھے جنہوں نے غار میں پناہ پکڑی اور اپنے رب سے دعا کی کہ اے پروردگار ! ہمیں اپنی جانب سے مہربانی عطا فرما اور ہمارے معاملے میں درستگی پیدا فرما دے اللہ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ان کے کانوں پر تھپکی دے کر سال ہاسال تک سلائے رکھا ، پھر مدت مدید کے بعد انہیں نیند سے بیدار کیا تاکہ واضح ہوجائے کہ ان کے غار میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِہَۃً ۝ 0ۭ لَوْلَا يَاْتُوْنَ عَلَيْہِمْ بِسُلْطٰنٍؚبَيِّنٍ۝ 0ۭ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَي اللہِ كَذِبًا۝ 15ۭ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–16

ترکیب : ام منقطعہ مقدر ہے بل کے ساتھ جو ایک بات سے دوسری بات کی طرف انتقال کے لیے آتا ہے۔ جمہور کے نزدیک ہمزہ استفہام اوروں کے نزدیک صرف بل مقدر ہے ای بل احسبت عجبا خبر ہے کانوا کی ومن آیاتنا حال ہے اس سے۔ اذا متعلق ہے اذکر مخدوف سے فضربنا کا مفعول حجابا محذوف، عددا منصوب ہے سنین کی لغت ہو کر المعنی سنین ذات العدد ھذا قول الفرار اور ممکن ہے کہ مفعول مطلق ہو والمعنی تعد عددا ای مرفوع ہے مبتدا ہونے کے سبب اور احصٰی اس کی خبر ہے اور یہ سب جملہ متعلق ہے نعلم سے۔ تفسیر : زینت دنیا جس میں منہمک ہو کر انسان عقبیٰ کو کھو بیٹھتا ہے اور خدا پرستوں کو اپنا ہم خیال نہ سمجھ کر برا جانتا بلکہ ان کو ستاتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھٰٓؤْ لَآئِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً ط لَوْلاَ یَاْ تُوْنَ عَلَیْھِمْ بِسُلْطٰنٍ م بَیِّنٍ ط فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا۔ (الکہف : 15) (یہ ہے ہماری قوم جنھوں نے اللہ کے سوا کچھ دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ یہ ان پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے، تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ ) نوجوانوں کی یکسوئی گزشتہ آیت اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف اپنے مؤقف اور اپنے رویئے میں بالکل یکسو تھے۔ وہ ایک لمحہ کے لیے بھی سوچنے کو تیار نہ تھے کہ وہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کرلیں۔ وہ دل کے پورے یقین کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچ چکے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–15

فہم القرآن ربط کلام : تمہید کے بعد اب واقعہ کی تفصیلات بیان ہوتی ہیں۔ قرآن مجید کا ہر لفظ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اسے نبی ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ لیکن بعض واقعات اور احکام کی مرکزیت اور اہمیت ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی طرف منسوب فرماتا ہے۔ اس واقعہ میں توحید کے اثبات اور نوجوانوں کے کردار کو نمایاں کرنے، شرک کے ابطال اور قیامت کا انکار کرنے والوں کے موقف کو بےحیثیت اور بعث بعد الموت ثابت کرنے کے لیے اس بات کو اپنی ذات اقدس کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم اس واقعہ کو آپ کے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ چند نوجوان اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قومی مذہب : 15: ھٰٓؤُلَآ ئِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً (ہماری اس قوم نے اس کے سوا دوسروں کو معبود بنا رکھا ہے) نحو : ھؤلاء مبتدا ہے اور قَوْمُنَا اس کا عطف بیان ہے۔ اِتَّخَذُوْا اس کی ایک خبر ہے۔ یہ جملہ خبر یہ ہے۔ جو انکار کے معنی میں ہے۔ لَوْلَا یَاْتُوْنَ عَلَیْھِمْ بِسُلْطٰنٍم بَیِّنٍ (وہ اس پر کوئی واضح دلیل کیونکر نہیں لاتے) یہاں لولاؔ یہ ھَلَّا کے معنی میں ہے۔ یَأتُوْنَسے مراد ان بتوں کی عبادت کرنے پر۔ مضاف کو حذف کردیا۔ سُلْطَانٍ بَیِّنٍ سے حجت ظاہرہ مراد ہے۔ درحقیقت اس میں ان کو رلانا مقصود ہے۔ کیونکہ بتوں کی عبادت پر صحیح دلیل کاملنا محال ہے۔ فَمَنْ اَظْلَمُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔ ” ھولاء قومنا “ اس شہر والوں نے ” اتخذوا من دونہ “ اللہ کے سوا معبود بنا رکھا ہے۔ ” الھۃ “ بت جن کو وہ پوجتے تھے ” لولا “ کیوں نہیں ” یاتون علیھم “ ان کی عبادت پر ” بسلطان بین “ واضح حجت کے ساتھ ” فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا “ ان کا یہ گمان تھا کہ اس کا کوئی شریک ہے یا اس کی کوئی اولاد ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–16

13۔ 16:۔ اوپر مختصر طور پر قصہ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اس کی تفصیل بیان فرمائی۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے یہود کے سکھانے سے قریش نے تم سے ان چند جوان شخصوں کا قصہ جو پوچھا ہے جو جیتے جی غائب ہوگئے وہ صحیح قصہ یوں ہے کہ ان چند جوانوں کی ساری قوم تو بت پرست تھی مگر یہ چند جوان اللہ کی وحدانیت اور عیسائی دین پر قائم تھے پھر فرمایا جب کہ بت پرست بادشاہ دقیانوس نے بت پرستی اختیار کرنے کے لیے ان جوانوں کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ثابت قدمی بڑھا دی اور ان کے دلوں کو خوب مضبوط کردیا جس سے انہوں نے دقیانوس کو یہی جواب دیا کہ ہم سوا اللہ تعالیٰ کے بتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر 15 یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان، ہدایت اور تقویٰ سے نوازا، وہ اپنی قوم کے شرک کی طرف متوجہ ہوئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کو معبود بنا رکھا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کے نظریات پر ناراضی کا اظہار کیا اور ان پر واضح کیا کہ ان کے مشرکانہ عقائد یقین پر مبنی نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس وہ جہالت اور ضلالت میں مبتلا ہیں، چناچہ انہوں نے کہا : (لولا یاتون علیھم بسلطٰن بین) ، ، کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی واضح دلیل، ، یعنی وہ اپنے باطل عقائد پر کوئی حجت وبرہان پیش نہیں کرسکتے نہ ان کے پاس اس کا کوئی چارہ ہے یہ تو ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان طرازی ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–17

قول باری ہے (لنعلم ای الحزبین احصی بما لبثوا مداً تاکہ ہم دیکھیں ان میں سے کو ن اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے) مفہوم یہ ہے کہ ہم نے انہیں دوبارہ اس لئے زندہ کردیا تاکہ ان کے قیام کی مدت کے بارے میں دونوں گروہوں کے اختلاف کے اندر درست بات ظاہر ہوجائے کیونکہ اس میں عبرت کا پہلو تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–15

16۔ اصحاب کہف کیلئے قدرت کی طرف سے دلوں کی مضبوطی کا انتظام :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم نے مضبوط کردیا ان کے دلوں کو تاکہ وہ حق پر پکے اور ثابت قدم رہیں، اور اس طرح ان کے دل نور ایمان و یقین سے منور ہوگئے اور ان کے قلوب وبواطن اس سے مطمئن ہوگئے کہ حق و ہدایت کی جس راہ کو انہوں نے اپنایا ہے وہی حق وصواب ہے اور اس کیلئے انہوں نے جو بھی قربانی دی وہ عظیم الشان سعادت ہے، سو جب وہ اللہ کی راہ میں اور اس کی توحید کی خاطر اور اس کی رضا کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت و دستور کے مطابق انکے دلوں کو قوت و عزیمت بخشی اور ان کو مضبوط کردیا۔ جس سے وہ راہ حق پر ثابت قدم رہے۔ والحمد للہ جل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–16

اصحاب کہف کا قصہ تشریح : قرآن پاک قصہ کہانیوں کی کتاب نہیں بلکہ اس کے ایک ایک لفظ سے حکمت و دانش، دانائی اور ہدایت کا سبق ملتا ہے اسی طرح اصحاب کہف کا واقعہ توحید، ایمان، توکل اور اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” کیا تم خیال کرتے ہو کہ اصحاب کہف ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے، ، ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ صبر، دعا اور ایمان کی مضبوطی کی مثال پیش کر رہے ہیں۔ ہوا اس طرح کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تبلیغ کی وجہ سے یہودی علماء ان کے دشمن ہوگئے۔ یہاں تک کہ ان کو سولی پر چڑھانے کا منصوبہ تیار ہوگیا مگر اللہ نے ان کو زندہ اوپر اٹھا لیا۔ قرآن میں اسی طرح بتایا گیا ہے۔ تو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 13–17

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف تو سنئے ہم نے آپ کو ان واقعہ کا ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے تو بہت بےسروپا باتین اس میں شامل کر رکھی ہوں گی ، لہذا ارشاد ہوا کہ درست واقعات یہاں کتاب میں بیان کئے جاتے ہیں کہ وہ کچھ نوجوان تھے جو اللہ جل جلالہ پر ایمان لائے ، اپنے پروردگار کی عظمت کو خلوص دل سے تسلیم کرلیا تو ہم نے ان کے لیے راہ ہدایت کی سوجھ بوجھ بڑھا دی اور انہیں نیکی اور بدی میں فرق کا احساس شدت سے ہوگیا ایسا کہ جو بدی کو چھوڑنے اور نیکی کو اپنانے پر مجبور کر دے ۔ (ایمان کی خصوصیت) اس جگہ ایمان کی خصوصیت ارشاد ہوئی ہے کہ اگر خلوص نصیب ہو تو ایمان کے باعث اللہ جل جلالہ کی طرف سے شعور بیدار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 اور جب سند نہیں ملاتے تو معلوم ہوا کہ اپنے دعویٰ میں سراسر جھوٹے ہیں۔4 یعنی کسی دوسرے کو اس کا شریک قرار دے حالانکہ اس نے کسی کو اپنا شریک نہیں بنایا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:15) ھؤلاء قومنا اتخذوا۔ ھؤلاء مبتداء قومنا عطف بیان اتخذوا خبر۔ علیہم۔ ای علی عبادتہم (ان کی عبادت کے متعلق) مضاف کو حذف کردیا گیا۔ او علی الوہیتم ان کی الوہیت پر۔ سلطان۔ بین۔ کھلی دلیل۔ فمن۔ میں من استفہامیہ ہے کون۔ کس نے۔ مثلاً قالوا یویلنا من بعثنا من مرقدنا (36: 52) کہی گے ہائے ہماری کم بختی کس نے ہم کو ہماری خواب گاہوں سے اٹھایا ؟

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–16

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 16 نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ نبا خبر، حال۔ زدنا ہم نے بڑھا دیا۔ ربطنا ہم نے باندھا، مضبوط کردیا۔ شطط عقل سے ور کوئی بات۔ سلطان مبین کھلی اور واضح دلیل۔ اعتزلتموھم تم ان سے الگ ہوگئے۔ فاو تم ٹھکانا بنا لو۔ ینشر وہ پھیلا دے گا۔ مرفق آرام ، آسائش۔ تشریح : آیت نمبر 13 تا 16 گزشتہ آیات میں اصحاب کہف کا مختصر واقعہ بیان کیا گیا تھا۔ ان ایٓات میں اس واقعہ کے کچھ مزید پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ کچھ نوجوان تھے جنہوں نے بادشاہ وقت (دقیانوس) کے غلط عقیدوں، بت پرستی، غرور وتکبر کے سامنے سر جھکانے اور بت پرستی کے بجائے بےپناہ جرأت، ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–16

اصحاب کہف کا بیان شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہود نے قریش کو تین سوال دیئے کہ حضرت محمد ﷺ سے پوچھو تو آپس میں کہنے لگے کہ ان جوانوں کا قصہ بہت عجیب ہے، محمد ﷺ اس کا جواب دیں سکیں تو عجب کی بات ہے۔ حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ کھوہ والوں کا قصہ ہماری اس قدرت کے روبرو عجیب بات نہیں ہے کس لئے کہ آسمان و زمین کی پیدائش رات دن کا بدلنا، چاند سورج اور اس کے سوا بڑی بڑی نشانیاں ہماری قدرت کی ہیں جو اصحاب کہف کے قصہ سے بھی زیادہ ہیں ۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ قصہ اصحاب کہف بیان ہوتا ہے کہ یہ سات آدمی تھے ان کے نام یہ ہیں : (1) مکسلمینا (2) یملیخا (3) مرطوقس (4) پینونس (5) سار ینونس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–16

[4] روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب کہف صحیح دین مسیح (علیہ السلام) پر تھے اور ان کا زمانہ بعد المسیح ہے۔ رومی شہنشاہ ڈی سیس (DECIUS) یا دقیانوس (متوفی 152 ئ) سخت مشرک تھا۔ مسیحی مذہب نیا نیا اس کے زمانے میں سلطنت روم میں پھیلنا شروع ہوا تو اس نے عیسائی موحدین پر سختی شروع کی۔ اس سے تنگ آ کر چند شریف نوجوان شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور قریب کے ایک غار میں جا کر پناہ لی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–15

(ف 1) اصحاب کہف ورقیم چند موحد شخص تھے ، جو بت پرست حکومت کے مظالم سے تنگ آکر گوشہ نشین ہوگئے ، اور آبادیوں سے دور اپنے لئے ایک غار کو پسند کرلیا ، مدت تک دنیا ومافیہا کو فراموش کئے ہوئے اس میں پڑے رہے ، اور یاد الہی میں مشغول رہے ، اور یاد الہی میں مشغول رہے ، اور جب باہر نکلے تو معلوم ہوا کہ ظالم حکومت کا دور ختم ہوچکا ہے ، اور ساری دنیا عیسائیت کے پرچم تلے جمع ہے ۔ یہ ہجرت کی قدیم ترین صورت ہے اسلام یہ نہیں چاہتا ، کہ مسلمان ذہنی وقلبی غلامی کو گوارا کریں ، وہ مسلمان کو ہر وقت اللہ کی محبت میں سرشار دیکھنا چاہتا ہے ۔ حل لغات : فضربنا علی اذانھم : یعنی دنیا کی جانب سے انہیں بالکل بیخبر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 15 یہ جو ہماری قوم کے لوگ ہیں انہوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود قرار دے رکھے ہیں یہ لوگ ان غیر اللہ کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے تو بھلا ایسے شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا کرے جھوٹ افترا یہی کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کسی کو معبود بتائیں اگر یہ ہماری قوم کے لوگ مدعی ہیں تو کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے جس طرح موحدین اور قائل توحید لوگ پیش کرتے ہیں اور بےدلیل ہونے کے باوجود غیر کی عبادت کا اقرار اللہ تعالیٰ کی مقدس ذات پر محض افتراء ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–16

ف 2۔ چونکہ لوگوں نے اس کو مختلف طور پر مشہور کیا تھا اس لئے فرمایا کہ ٹھیک وہ جو قرآن میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے قوم سے کہا تم نے جو معبود بنا رکھے ہیں آخر تمہارے پاس اس کی دلیل کیا ہے ؟ : 15۔ انہوں نے آپس میں بھی بیٹھ کر سیر حاصل بحث کی کہ آج کل جو کچھ ہماری قوم کر رہی ہے یہ زندہ قوموں کا شیوہ نہیں اور قوم کو بھی مخاطب کرکے کہا کہ ” یہ جو تم نے اللہ کے سوا دوسروں کو پکڑ رکھا ہے تو آخر تمہارے پاس اس کی دلیل کیا ہے ؟ ذرا اپنی وہ دلیل تو بیان کرو اگر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو تم ہی بتاؤ کہ اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اللہ کے ذمہ وہ باتیں لگا دے جو اس میں نہیں ہیں اور جس سے اللہ اللہ نہ رہے بلکہ وہ خود مخلوق تصور ہونے لگے تم ہی بتاؤ کہ یہ اللہ پر بہتان نہیں تو اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–15

The first sentence of verse 14: وَرَ‌بَطْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ (And We made their hearts firm) refers to the event described by Ibn Kathir a little earlier. This tells us that Allah made the hearts of these people firm when the king who was cruel and worshipped idols summoned them in his court and questioned them. This was a matter of life and death. But, despite their apprehension for the worst, Allah Ta` ala made His love, awe and grandeur prevail over their hearts which empowered them to face any eventuality of death or distress. The outcome was that they proclaimed their belief clearly…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–15

9. The oldest evidence of this story is found in a homily written in Syriac by Jacob of Sarug, a Christian priest of Syria, who was born in A.D. 452, a few years after the death of the companions of the cave. The homily which describes the legend in great detail was composed by him in or about A.D. 474. On the one hand, this same Syriac version came into the hands of our early commentators, and Ibn Jarir Tabari cited it in his commentary with various authorities. And on the other hand, it reached Europe where its translations and abridged versions were published in Greek and Latin. The…

Read the full tafseer →