Al-Kahf 18:14

Al-Kahf · from ayah 14

18:14

وَّرَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا ۟وَّرَبَطۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۫ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلٰهًـا‌ لَّـقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا‏

اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We made firm their hearts when they stood up and said, "Our Lord is the Lord of the heavens and the earth. Never will we invoke besides Him any deity. We would have certainly spoken, then, an excessive transgression.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 2 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:14

ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبوط کر دیے جب وہ اٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ "ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجا بات کریں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے تھے جب کہ یہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمان وزمین کا پروردگار ہے، ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو پکاریں اگر ایسا کیا تو ہم نے نہایت ہی غلط بات کہی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ان کے دل خوب مضبوط کردیے تھے۔ یہ اس وقت کا ذکر ہے جب وہ اٹھے، اور انہوں نے کہا کہ : ہمارا پروردگار وہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود بنا کر ہرگز نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم یقینا انتہائی لغو بات کہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے ان کی ڈھارس بندھائی جب کھڑے ہوکر بولے کہ ہمارا رب وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو نہ پوجیں گے ایسا ہو تو ہم نے ضرور حد سے گزری ہوئی بات کہی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے ان کے دلوں کو (اپنے ربط و نسبت سے) مضبوط و مستحکم فرما دیا، جب وہ (اپنے بادشاہ کے سامنے) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے: ہمارا رب تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا ہرگز کسی (جھوٹے) معبود کی پرستش نہیں کریں گے (اگر ایسا کریں تو) اس وقت ہم ضرور حق سے ہٹی ہوئی بات کریں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان کے دلوں پر بند باندھ دیا، جب وہ کھڑے ہوئے تو انھوں نے کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی معبود کو ہرگز نہ پکاریں گے، بلاشبہ یقینا ہم نے اس وقت حد سے گزری ہوئی بات کہی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے ان کے دلوں کو اس وقت مضبوط کردیا جب انہوں نے کھڑا ہو کر اعلان کیا کہ : ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور الٰہ کو نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو یہ ایک بعید از عقل بات ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کیا جب کہ وہ اٹھے اور کہا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو ہرگز نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم یہ حق سے نہایت ہٹی ہوئی بات کہیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے اس وقت ان کے دل مضبوط کر دئیے جب کہ انہوں نے (آپس میں یا بادشاہ وقت کے سامنے) کھڑے ہو کر اعلان کردیا، کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا اور کسی بھی معبود کو ہرگز نہیں پکاریں گے، ورنہ ہم یقیناً ایک بڑی ہی بےجا بات کا ارتکاب کریں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے تھے جب وہ لوگ (پختہ اور) مستعد ہوگئے۔ تو بولے ہمارا پروردگار وہی تو ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ہم تو اس کے علاوہ کسی معبود کو نہ پکاریں گے ورنہ پھر تو ہم بڑی ہی بیجا بات کے مرتکب ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے مضبوط کردیا ان کے دلوں کو جب وہ (بادشاہ کے سامنے) کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم ہرگز نہیں پکاریں گے اس کے سوا کسی اور کو معبود (اگر ایسا ہوا) تب تو ہم بہت غلط بات کہیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کے دلوں کو مضبوط کردیا، جب وہ اٹھ کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ہم اس کے سوا کسی کو معبود سمجھ کر نہ پکاریں گے اگر ایسا کیا تو بےوقوفی کی بات کی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and strengthened their hearts when they stood up and proclaimed: "Our Lord is the Lord of the heavens and the earth. We shall call upon no other god beside Him; (for if we did so), we shall be uttering a blasphemy."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We made their hearts firm when they stood up and said, :Our Lord is the Lord of the heavens and the earth. We shall never invoke any god other than Him, otherwise we would be saying something far from the truth.

— Muhammad Taqi Usmani

We made their hearts firm when they stood up and said, :Our Lord is the Lord of the heavens and the earth. We shall never invoke any god other than Him, otherwise we would be saying something far from the truth.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We made their hearts firm and strong when they stood up and said: "Our Lord is the Lord of the heavens and the earth, never shall we call upon any god other than Him; if we did, we should indeed have uttered an enormity in disbelief.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We made firm their hearts when they stood forth and said: Our Lord is the Lord of the heavens and the earth. We cry unto no Allah beside Him, for then should we utter an enormity.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We made firm their hearts when they stood up and said, "Our Lord is the Lord of the heavens and the earth. Never will we invoke besides Him any deity. We would have certainly spoken, then, an excessive transgression.

— Saheeh International

We strengthened their hearts when they stood up against the idols and said, "Our Lord is the Lord of the heavens and the earth. We shall never worship anyone other than Him lest we commit blasphemy.

— Muhammad Sarwar

And We strengthened their hearts with patience, when they stood up and said: Our Lord is the Lord of the heavens and the earth; we will by no means call upon any god besides Him, for then indeed we should have said an extravagant thing.

— Muhammad Habib Shakir

And We braced their hearts when they stood forth and said: our Lord is the Lord of the heavens and the earth; never we shall call upon a god beside him; for then we shall be saying an abomination.

— Abdul Majid Daryabadi

We gave strength to their hearts: Behold, they stood up and said: "Our Lord is the Lord of the heavens and of the earth: never shall we call upon any god other than Him: if we did, we should indeed have uttered an enormity!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–16

اصحاب کہف کا قصہ یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آگئے قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے کانوں میں بالے تھے یہ متقی مومن اور راہ یافتہ نوجوانوں کی جماعت تھی اپنے رب کی وحدانیت کو مانتے تھے اس کی توحید کے قائل ہوگئے تھے اور روز بروز ایمان و ہدایت میں بڑھ رہے تھے۔ یہ اور اس جیسی اور آیتوں اور احادیث سے استدلال کر کے امام بخاری ؒ وغیرہ محدثین کرام کا مذہب ہے کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–15

سورة الْكَهْف 9 اس قصے کی قدیم ترین شہادت شام کے ایک عیسائی پادری جیمس سروجی کے مواعظ میں پائی گئی ہے جو سریانی زبان میں لکھے گئے تھے۔ یہ شخص اصحاب کہف کی وفات کے چند سال بعد 452 میں پیدا ہوا تھا اور اس نے 474 کے لگ بھگ زمانے میں اپنے یہ مواعظ مرتب کیے تھے۔ ان مواعظ میں وہ اس پورے واقعے کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ یہی سریانی روایت ایک طرف ہمارے ابتدائی دور کے مفسرین کو پہنچی جسے ابن جریر طبری نے مختلف سندوں کے ساتھ اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے، اور دوسری طرف یورپ پہنچی جہاں یونانی اور لاطینی زبانوں میں اس کے ترجمے اور خلاصے شائع ہوئے۔ گبن نے اپنی کتاب " تاریخ زوال و سقوط دولت روم " کے باب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–15

وَرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ ابن کثیر کے حوالے سے جو واقعہ کی صورت اوپر بیان کی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی طرف سے ان کے دلوں کو مضبوط کردینے کا واقعہ اس وقت ہوا جب کہ بت پرست ظالم بادشاہ نے ان نوجوانوں کو اپنے دربار میں حاضر کر کے سوالات کئے اس موت وحیات کی کش مکش اور قتل کے خوف کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اپنی محبت اور ہیبت و عظمت ایسی مسلط کردی کہ اس کے مقابلے میں قتل و موت اور ہر مصیبت کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو کر اپنے عقیدے کا صاف صاف اظہار کردیا، کہ وہ اللہ کے سوا کسی معبود کی عبادت نہیں کرتے اور آئندہ بھی نہ کریں گیں، جو لوگ اللہ کے لئے کسی کام کا عزم پختہ کرلیتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لَنْ نَدْعُوَ مِنْ دُونِهِ إِلَهًا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا " ربط اللہ علی قلبہ " کے معنی ہوں گے خدا نے اس کے دل کو قوت و عزیمت دے دی۔ " سط " کے معنی دور ہونے اور " شطط " کے معنی تباعد عن الحق، یعنی حق سے انحراف اور دوری کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہرچند حالات بہت ہی سخت تھے۔ کلمہ حق کی دعوت دینا بڑا جان جوکھم کا کام تھا لیکن ان نوجوانوں کے ایمان میں خدا نے برکت دی جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ صرف اپنے ہی ایمان پر قانع ہو کر گھروں میں بیٹھ رہنے پر راضی نہیں ہوئے بلکہ ہر قسم کے خطرات سے بےپروا ہو کر دعوت توحید…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–15

14۔ 1 یعنی ہجرت کرنے کی وجہ سے اپنے خویش و اقارب کی جدائی اور عیش و راحت کی زندگی سے محرومی کا جو صدمہ انھیں اٹھانا پڑا، ہم نے ان کے دل کو مضبوط کردیا تاکہ وہ صدمات کو برداشت کرلیں۔ نیز حق گوئی کا فریضہ بھی جرأت اور حوصلے سے ادا کرسکیں۔ 14۔ 2 اس قیام سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک وہ طلبی ہے، جو بادشاہ کے دربار میں ان کی ہوئی اور بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر انہوں نے توحید کا وعظ بیان کیا، بعض کہتے ہیں کہ شہر سے باہر آپس میں ہی کھڑے، ایک دوسرے کو توحید کی بات سنائی، جو فرداً فرداً اللہ کی طرف سے ان کے دلوں میں ڈالی گئی اور یوں اہل توحید باہم اکٹھے ہوگئے۔ 14۔ 3 شططا کے معنی جھوٹ کے یا حد سے تجاوز…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–15

7: ابن کثیر کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بادشاہ کو ان کے عقیدے کا پتہ لگا تو اس نے انہیں اپنے دربار میں طلب کرلیا، اور ان سے ان کے عقیدے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بڑی بےباکی سے توحید کا عقیدہ بیان کیا جس کا آگے ذکر آرہا ہے دل کی اسی مضبوطی کا حوالہ اس آیت میں دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اذقاموا (81 : 31) یعنی وہ اٹھے اور انہوں نے ایمان کی تحریک برپا کردی اور وہ عزم و ثبات کا پیکر بن گئے۔ فقالوا ربنا رب السموت والارض (81 : 31) ” انہوں نے کہا ہمارا رب تو بس وہ ی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ “ وہ رب کائنات ہے۔ سب کی سب کا۔ لن دعوا من دونہ الھا (81 : 31) ” ہم اسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے۔ “ کیونکہ وہ واجد ہے اور بلا شریک ہے۔ لقد قلنا اذا شططا (81 : 31) ” اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بےجا بات کریں گے۔ “ حق سے تجاوز کریں گے اور صحیح راستے سے ایک طرف ہوجائیں گے۔ اس کے بعد وہ اس امر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس پر ان کی قوم عمل پیرا تھی ، وہ ان کے عقائد پر تنقید کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی مضبوط و ثابت قدم رکھا کہ اپنی بات صاف کہہ دی۔ 5 یعنی جب " رب " وہ ہی ہے تو معبود کسی اور کو ٹھہرانا حماقت ہے۔ " ربوبیت " و " الوہیت " دونوں اسی کے لیے مخصوص ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَا۟ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلٰـهًا لَّقَدْ قُلْنَآ اِذًا شَطَطًا جس طرح حضرت ابراہیم نے نمرود کے دربار میں ڈٹ کر حق بات کہی تھی ویسے ہی ان نوجوانوں نے بھی علی الاعلان کہا کہ ہم رب کائنات کو چھوڑ کر کسی دیوی یا دیوتا کو اپنا رب ماننے کو تیار نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–15

12 مزید رہنمائی سے مراد اپنے ایمان پر ڈٹ جانا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے اعلان سے معلوم ہو رہا ہے انھیں زبان سے کفر و شرک کا کلمہ کہنا اس قدر دشوار تھا کہ انہوں نے ایسی بات کہنے پر اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑنے کو ترجیح دی اور سوسائٹی کی نظروں سے روپوش ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ (اور دین حق سے انہیں نہ کوئی ترغیب اور طمع پھیر سکی اور نہ کوئی دھمکی اور تخویف بھی) ڈی سیس (دقیانوس) رومل کے زمانہ میں موحد مسیحیوں پر (جو پولوس کی مشرکانہ تعلیم سے متاثر نہیں ہوئے تھے) جو جو مظالم اور جبر وستم ہوئے تھے وہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” وربطنا علی قلوبھم “۔ یعنی ہم نے ہمت، صبر، ثبات و استقلال دیکر ان کے دل مضبوط کردیئے تھے۔ 17۔ ان سب اقوال سے جو بار بار اصحاب کہف کی زبان سے نقل ہوئے ہیں، یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ وہ ہر طرح کے شرک سے بیزار اور توحید میں کامل وراسخ تھے، وہ مسیحی اگر تھے بھی تو صحیح معنی میں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نبی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–17

آیت نمبر 13 تا 17 ترجمہ : ہم آپ کو ان کا صحیح قصہ سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں ترقی دی تھی اور ہم نے ان کے دل قوی کر دئیے تھے یعنی حق بات کہنے کے لئے قوی کر دئیے تھے جب وہ اپنے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوئے اور اس بادشاہ نے ان کو بتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار ہے ہم اس کو چھوڑ کر کسی غیر کی ہرگز بندگی نہ کریں گے اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم نے نہایت ہی غلط بات کی یعنی حد سے گزری ہوئی حرکت کی یعنی بالفرض اگر ہم نے اللہ کے علاوہ کسی غیر کی بندگی کی تو ہم کفر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَّرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے۔ یعنی وطن گھر بار ‘ رشتہ دار ‘ دولت مال وغیرہ کو ترک کرنے پر ان کو صابر بنایا ‘ اظہارِ حق کرنے اور دقیانوس کے حکم کو ٹھکرانے کی ان میں جرأت پیدا کردی ‘ ان کو فناء قلب کا مقام حاصل ہوگیا۔ ساری مخلوق کا تصور و خیال ان کے دلوں سے مٹ گیا ‘ ہر چیز ان کی نظروں میں ہیچ ہوگئی اور اللہ کی محبت ‘ عظمت اور خشیت ان کے دلوں میں جم گئی۔ اِذْ قَامُوْا : جب وہ کھڑے ہوئے یعنی دقیانوس نے جب بت پرستی ترک کرنے پر ان کو ملامت کی تو اس کے سامنے کھڑے ہو کر فخر کے طور پر۔ فَقَالُوْا انہوں نے کہا۔ رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَا۟…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(14) اور ہم نے ان کے دلوں کو ایمان کے ساتھ مضبوط کردیا تھا یا یہ کہ ہم نے ان کو صبر وثابت قدمی کی توفیق عطا فرمائی تھی وہ دقیانوس کافر بادشاہ کے پاس سے کھڑے ہوتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم تو اللہ کو چھوڑ کر کسی معبود کی عبادت نہیں کریں گے ایسی صورت میں ہم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والوں میں سے ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ”رَبْطٌ“ کا معنی باندھنا ہے، یعنی بادشاہ اور قوم کے ڈر سے جس گھبراہٹ اور پریشانی کا خطرہ تھا اس سے بچانے کے لیے ہم نے ان کے دلوں پر بند باندھ دیا، جس سے وہ مضبوط ہوگئے، جس طرح بکھری ہوئی چیزیں گٹھڑی میں ڈال کر ان کو گرہ لگا کر مضبوطی سے باندھ دیا جائے تو وہ بکھرنے سے بچ جاتی ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ان کے دلوں پر بند باندھ دینے سے وہ حق گوئی کے وقت ہر قسم کے خوف سے محفوظ ہوگئے۔ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : یعنی جب وہ بادشاہ کے سامنے اس کے بھرے دربار میں کھڑے ہوئے اور انھوں نے صاف اعلان کردیا کہ ہم نہ بادشاہ کو اپنا رب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 14 قولہ تعالیٰ : وربطنا علی قلوبھم یہ پختہ عزم اور قوت صبر سے عبارت ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ عطا فرمایا یہاں تک کہ انہوں نے کفار کے سامنے کہہ دیا : ربنا رب السموت۔۔۔۔۔۔ لقد قلنا اذا شططا اور جب گھبراہٹ اور سانس کا ٹوٹنا، کمزور ہوجانا تناسب کے اعتبار سے کھلنے کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے تو پھر سانس کی مضبوطی اور قوت ارادی کی شدت کا ربط (باندھنے) کے مشابہ ہونا زیادہ حسین ہے، اور اسی سے کہا جاتا ہے : فلان رابط الجاش، جب گھبراہٹ اور جنگ وغیرہ کے وقت اس کا سانس متفرق نہ ہو۔ اور اسی سے الریط علی قلب ام موسیٰ بھی ہے۔ اور قول باری تعالیٰ بھی ہے : ولیربط علی قلوبکم ویثبت بہ الاقدام۔ (الانفال)…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–15

1:۔ سعید بن منصور، عبدبن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر وہ جوان ہوتا ہے اور کسی عالم کو علم نہیں دیا جاتا مگر وہ جوان ہوتا ہے پھر بطور دلیل یہ آیت پڑھی (آیت) ” قالوا سمعنا فتی یذکرھم یقال لہ ابراہیم “ (الانبیاء آیت 20) (آیت) ” واذقال موسیٰ لفتہ “ انہم فتیۃ امنوا برابھم “ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وزدنہم ھدی “ (یعنی ہم نے ان کو زیادہ کیا (اخلاص میں ) ۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وربطنا علی قلوبہم “ سے مراد ہے کہ (ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّرَبَطْنَا : اور ہم نے مضبوط کیا ] [عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں کو ] [اِذْ : جب ] [قَامُوْا : وہ کھڑے ہوئے ] [فَقَالُوْا : پھر انھوں نے کہا ] [رَبُّنَا : ہمارا رب ] [رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا رب ہے ] [لَنْ نَّدْعُوَا۟: ہم ہرگز نہیں پکاریں گے ] [مِنْ دُوْنِهٖٓ: اس کے علاوہ ] [اِلٰـهًا : کسی الٰہ کو ] [لَّقَدْ قُلْنَآ : بیشک ہم کہہ چکے ] [اِذًا : تب تو ] [شَطَطًا : حد سے گزری ہوئی بات ] ش ط ط [شَطَطًا : (ض) ] مقررہ حد سے آگے بڑھنا۔ حد سے گزرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔ (افعال) اِشْطَاطًا حق سے دور ہونا۔ زیادتی کرنا۔ فَاحْکُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ َلا تُشْطِطْ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–16

اصحاب کہف کا تفصیلی واقعہ جیسا کہ دو تین صفحہ قبل ہم نے ذکر کیا کہ یہ چند نوجوان اپنی بت پرست قوم سے بھاگ نکلے تھے ان کا مقصود اپنا ایمان بچانا تھا اور جان بچانا بھی پیش نظر تھا کیونکہ وہاں جو بادشاہ تھا وہ اہل ایمان کو بت پرستی پر مجبور کرتا تھا اور جو شخص انکار کردے اسے قتل کردیتا تھا۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ نوجوان روم کے بادشاہ اور سرداروں کی اولاد میں سے تھے اس زمانہ کا بادشاہ جس کا نام دقیانوس تھا ظالم آدمی تھا اور وہ لوگوں کو بت پرستی کی دعوت دیتا تھا جب یہ نوجوان تہوار کے موقع پر اپنے اپنے خاندان کے ساتھ نکلے تو بت پرستی کا ماحول اور ماجرا دیکھ کر ان کے قلوب میں بہت زیادہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–17

تفصیل قصہ اصحاب کہف قال اللہ تعالیٰ نحن نقص علیک نباہم .... الیٰ .... فلن تجد لہ ولیا مرشدا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب کہف کا قصہ مجملا ذکر فرمایا اب اس قصہ کی کچھ تفصیل فرماتے ہیں تاکہ اہل صبر و استقامت اور زہر وان منزل آخرت کے لئے مشعل ہدایت بنے چناچہ فطرماتے ہیں۔ اے نبی ﷺ ہم آپ کے سامنے ان کی صحیح صحیح خبر نیان کرتے ہیں جو عین واقعہ کے مطابق ہے یہ اس لئے فرمایا کہ یہ قصہ لوگوں میں مختلف طور پر مشہور تھا جن میں بعض جھوٹی اور غلط روایتیں بھی شامل تھیں اس لئے فرمایا کہ جتنا قصہ ہم نے قرآن میں بیان کردیا وہ بالکل حق اور صدق ہے تحقیق وہ اصحاب چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–15

13:۔ اب یہاں سے اصحاب کہف کے واقعہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے گویا کہ پہلے شبہہ اولیٰ کا اجمالی جواب ذکر کیا گیا اور یہاں اسے تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ شروع فی تفصیل ما اجمل فیما سلف ای نحن نخبرک بتفصیل خبرھم الذی لہ شان و خطر (روح ج 5 ص 216 ابو السعود ج 5 ص 685) ۔ 14:۔ پہلے اجمالی ذکر میں اصحاب کہف کے مومن و موحد ہونے کی طرف اشارہ تھا۔ یہاں ان کے ایمان، توحید پر ان کی استقامت اور شرک سے ان کی بیزاری کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اس تفصیل میں چار چیزیں مذکور ہیں۔ (1) ۔ ” امنوا بربھم “ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آئے۔ (2) ۔ ” و زدنھم ھدی “ انہیں ایمان کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے کر ان کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–15

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا اجمالی ذکر کیا کہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں یہ کوئی واحد حیرت انگیز نشانی نہیں بلکہ کائنات میں اس قسم کی بیشمار نشانیاں بکھری پڑی ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت تامہ پر یقین آتا ہے ، فرمایا یہ چند نوجوان تھے جنہوں نے غار میں پناہ پکڑی اور اپنے رب سے دعا کی کہ اے پروردگار ! ہمیں اپنی جانب سے مہربانی عطا فرما اور ہمارے معاملے میں درستگی پیدا فرما دے اللہ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ان کے کانوں پر تھپکی دے کر سال ہاسال تک سلائے رکھا ، پھر مدت مدید کے بعد انہیں نیند سے بیدار کیا تاکہ واضح ہوجائے کہ ان کے غار میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِہِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَا۟ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلٰـہًا لَّقَدْ قُلْنَآ اِذًا شَطَطًا۝ 14 ربط رَبْطُ الفرس : شدّه بالمکان للحفظ، ومنه : رِبَاطُ الخیل «3» ، وسمّي المکان الذي يخصّ بإقامة حفظة فيه : رباطا، والرِّبَاط مصدر رَبَطْتُ ورَابَطْتُ ، والمُرَابَطَة کالمحافظة، قال اللہ تعالی: وَمِنْ رِباطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقال : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصابِرُوا وَرابِطُوا[ آل عمران/ 200] ، فالمرابطة ضربان : مرابطة في ثغور المسلمین، وهي کمرابطة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–16

ترکیب : ام منقطعہ مقدر ہے بل کے ساتھ جو ایک بات سے دوسری بات کی طرف انتقال کے لیے آتا ہے۔ جمہور کے نزدیک ہمزہ استفہام اوروں کے نزدیک صرف بل مقدر ہے ای بل احسبت عجبا خبر ہے کانوا کی ومن آیاتنا حال ہے اس سے۔ اذا متعلق ہے اذکر مخدوف سے فضربنا کا مفعول حجابا محذوف، عددا منصوب ہے سنین کی لغت ہو کر المعنی سنین ذات العدد ھذا قول الفرار اور ممکن ہے کہ مفعول مطلق ہو والمعنی تعد عددا ای مرفوع ہے مبتدا ہونے کے سبب اور احصٰی اس کی خبر ہے اور یہ سب جملہ متعلق ہے نعلم سے۔ تفسیر : زینت دنیا جس میں منہمک ہو کر انسان عقبیٰ کو کھو بیٹھتا ہے اور خدا پرستوں کو اپنا ہم خیال نہ سمجھ کر برا جانتا بلکہ ان کو ستاتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–14

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ نَبَاَھُمْ بِالْحَقِّ ط اِنَّھُمْ فِـتْیَۃٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّھِمْ زِدْنٰـھُمْ ھُدًی۔ وَّرَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اِذْقَامُوْا فَـقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلٰـھًا لَّقَدْ قُلْنَـآ اِذًا شَطَطًا۔ (الکہف : 13، 14) (ہم آپ ﷺ کو ان کی سرگزشت ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں، وہ (اصحابِ کہف) چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے، ہم نے ان کے ایمان میں برکت عطا فرمائی۔ اور ان کے دلوں کی گرہ مضبوطی سے باندھ دی، جب وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی اور کو ہرگز معبود کے طور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–15

فہم القرآن ربط کلام : تمہید کے بعد اب واقعہ کی تفصیلات بیان ہوتی ہیں۔ قرآن مجید کا ہر لفظ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اسے نبی ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ لیکن بعض واقعات اور احکام کی مرکزیت اور اہمیت ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی طرف منسوب فرماتا ہے۔ اس واقعہ میں توحید کے اثبات اور نوجوانوں کے کردار کو نمایاں کرنے، شرک کے ابطال اور قیامت کا انکار کرنے والوں کے موقف کو بےحیثیت اور بعث بعد الموت ثابت کرنے کے لیے اس بات کو اپنی ذات اقدس کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم اس واقعہ کو آپ کے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ چند نوجوان اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دلوں کو ایمان پر مضبوط کرنا : 14: وَّرَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ (اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیے) ہم نے ان کو وطن چھوڑنے پر مضبوطی سے جمادیا۔ اور دین میں پختگی عنایت کی اور کسی غار میں پناہ گزینی پر پختہ کردیا۔ کلمہ حق پر قائم رہنے کی جرأت دی اور اسلام کے ظاہر کرنے کی جسارت بخشی۔ اِذْ قَامُوْا ( جبکہ وہ کھڑے ہوئے) اس ظالم دقیانوس کے سامنے سے کھڑے ہوئے۔ اور عبادت اصنام کے ترک پر اس کے عتاب کی کوئی پرواہ نہ کی۔ فَقَالُوْارَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (پھرکہنے لگے ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے) یہ بات انہوں نے بطور فخر کہی۔ لَنْ نَّدْعُوَا مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلٰـہًا (ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔ ” وربطنا “ اور ہم نے ان کے دل کو مضبوط کردیا۔ ” علی قلوبھم “ صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ اور ہم نے ان کے دل کو مضبوط کردیا نور ایمان کے ساتھ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے گھروں اور اپنی قوم والوں کو چھوڑنے اور اپنی راحت والی زندگی کو ترک کرنے اور کہف کے دین پر ثابت قدم رکھنے کی توفیق اور صبر سے نوازا۔ ” اذقاموا “ جب دقیانوس نے بت پرستی ترک کرنے پر ان کو ملامت کی تو اس کے سامنے کھڑے ہو کر فخر سے کہا ” فقالوا ربنا رب السموت والارض لن ندعوا من دونہ الھا “ یہ اس وجہ سے کہا کہ ان کی قوم بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ” لقد قلنا اذا شططا “ اگر وہ پکاریں گے غیر اللہ کو تو پھر یہ ایسا ہوگا کہ وہ حق سے دور اور جدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–16

13۔ 16:۔ اوپر مختصر طور پر قصہ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اس کی تفصیل بیان فرمائی۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے یہود کے سکھانے سے قریش نے تم سے ان چند جوان شخصوں کا قصہ جو پوچھا ہے جو جیتے جی غائب ہوگئے وہ صحیح قصہ یوں ہے کہ ان چند جوانوں کی ساری قوم تو بت پرست تھی مگر یہ چند جوان اللہ کی وحدانیت اور عیسائی دین پر قائم تھے پھر فرمایا جب کہ بت پرست بادشاہ دقیانوس نے بت پرستی اختیار کرنے کے لیے ان جوانوں کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ثابت قدمی بڑھا دی اور ان کے دلوں کو خوب مضبوط کردیا جس سے انہوں نے دقیانوس کو یہی جواب دیا کہ ہم سوا اللہ تعالیٰ کے بتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–14

(آیت نمبر (13: یہاں سے اصحاب کہف کے واقعہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس قصے کو حق اور صداقت کے ساتھ اپنے نبی ﷺ پر بیان کرتا ہے جس میں کسی لحاظ سے کوئی شک و شبہ نہیں۔ (انھم فتیۃ امنوا بربھم ) ” وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے “ (فتیۃ) جمع قلت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ نوجوان تعداد میں دس سے کم تھے۔ وہ اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لائے مگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی قدر کی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے راہ ایمان پر گامزن ہونے کے سبب سے ان کی ہدایت کو اور زیادہ کردیا۔ ہدایت سے مراد علم نافع اور عمل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–17

قول باری ہے (لنعلم ای الحزبین احصی بما لبثوا مداً تاکہ ہم دیکھیں ان میں سے کو ن اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے) مفہوم یہ ہے کہ ہم نے انہیں دوبارہ اس لئے زندہ کردیا تاکہ ان کے قیام کی مدت کے بارے میں دونوں گروہوں کے اختلاف کے اندر درست بات ظاہر ہوجائے کیونکہ اس میں عبرت کا پہلو تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–15

16۔ اصحاب کہف کیلئے قدرت کی طرف سے دلوں کی مضبوطی کا انتظام :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم نے مضبوط کردیا ان کے دلوں کو تاکہ وہ حق پر پکے اور ثابت قدم رہیں، اور اس طرح ان کے دل نور ایمان و یقین سے منور ہوگئے اور ان کے قلوب وبواطن اس سے مطمئن ہوگئے کہ حق و ہدایت کی جس راہ کو انہوں نے اپنایا ہے وہی حق وصواب ہے اور اس کیلئے انہوں نے جو بھی قربانی دی وہ عظیم الشان سعادت ہے، سو جب وہ اللہ کی راہ میں اور اس کی توحید کی خاطر اور اس کی رضا کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت و دستور کے مطابق انکے دلوں کو قوت و عزیمت بخشی اور ان کو مضبوط کردیا۔ جس سے وہ راہ حق پر ثابت قدم رہے۔ والحمد للہ جل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–16

اصحاب کہف کا قصہ تشریح : قرآن پاک قصہ کہانیوں کی کتاب نہیں بلکہ اس کے ایک ایک لفظ سے حکمت و دانش، دانائی اور ہدایت کا سبق ملتا ہے اسی طرح اصحاب کہف کا واقعہ توحید، ایمان، توکل اور اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” کیا تم خیال کرتے ہو کہ اصحاب کہف ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے، ، ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ صبر، دعا اور ایمان کی مضبوطی کی مثال پیش کر رہے ہیں۔ ہوا اس طرح کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تبلیغ کی وجہ سے یہودی علماء ان کے دشمن ہوگئے۔ یہاں تک کہ ان کو سولی پر چڑھانے کا منصوبہ تیار ہوگیا مگر اللہ نے ان کو زندہ اوپر اٹھا لیا۔ قرآن میں اسی طرح بتایا گیا ہے۔ تو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 13–17

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف تو سنئے ہم نے آپ کو ان واقعہ کا ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے تو بہت بےسروپا باتین اس میں شامل کر رکھی ہوں گی ، لہذا ارشاد ہوا کہ درست واقعات یہاں کتاب میں بیان کئے جاتے ہیں کہ وہ کچھ نوجوان تھے جو اللہ جل جلالہ پر ایمان لائے ، اپنے پروردگار کی عظمت کو خلوص دل سے تسلیم کرلیا تو ہم نے ان کے لیے راہ ہدایت کی سوجھ بوجھ بڑھا دی اور انہیں نیکی اور بدی میں فرق کا احساس شدت سے ہوگیا ایسا کہ جو بدی کو چھوڑنے اور نیکی کو اپنانے پر مجبور کر دے ۔ (ایمان کی خصوصیت) اس جگہ ایمان کی خصوصیت ارشاد ہوئی ہے کہ اگر خلوص نصیب ہو تو ایمان کے باعث اللہ جل جلالہ کی طرف سے شعور بیدار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی انہیں حق و صداقت پر قائم رہنے کی توفیق بخشی یہاں تک کہ انہوں نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال لینا گوارا کرلیا مگر باطل کے آگے سر جھکانے کو تیار نہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:14) ربطنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے باندھا ۔ ہم نے گرہ دی۔ ربط مصدر۔ (باب ضرب ، نصر) مضبوط باندھنا۔ ربط اللہ علی قلبہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو قوت بخشی اور صبر عطا کیا وربطنا علی قلوبہم۔ اور ہم نے ان کے دلوں کو قوت بخشی۔ ارتبط فرسا۔ سرحد کی حفاظت کے لئے گھوڑا تیار کرنا۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے لولا ان ربطنا علی قلبھا (28:10) اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کئے رکھتے (تو عجب نہ تھا کہ وہ ہمارا سارا معاملہ ظاہر کر دیتیں) ۔ اذ قاموا۔ یہ ربطنا سے متعلق ہے یعنی ہم نے ان کے دل (صبروثبات) سے مضبوط کر دئیے جب وہ اٹھ کھڑے ہوئے (باطل کے مقابلہ میں یا جبار حاکم کے روبرو یا اپنی بت پرست قوم کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–16

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 16 نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ نبا خبر، حال۔ زدنا ہم نے بڑھا دیا۔ ربطنا ہم نے باندھا، مضبوط کردیا۔ شطط عقل سے ور کوئی بات۔ سلطان مبین کھلی اور واضح دلیل۔ اعتزلتموھم تم ان سے الگ ہوگئے۔ فاو تم ٹھکانا بنا لو۔ ینشر وہ پھیلا دے گا۔ مرفق آرام ، آسائش۔ تشریح : آیت نمبر 13 تا 16 گزشتہ آیات میں اصحاب کہف کا مختصر واقعہ بیان کیا گیا تھا۔ ان ایٓات میں اس واقعہ کے کچھ مزید پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ کچھ نوجوان تھے جنہوں نے بادشاہ وقت (دقیانوس) کے غلط عقیدوں، بت پرستی، غرور وتکبر کے سامنے سر جھکانے اور بت پرستی کے بجائے بےپناہ جرأت، ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–16

اصحاب کہف کا بیان شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہود نے قریش کو تین سوال دیئے کہ حضرت محمد ﷺ سے پوچھو تو آپس میں کہنے لگے کہ ان جوانوں کا قصہ بہت عجیب ہے، محمد ﷺ اس کا جواب دیں سکیں تو عجب کی بات ہے۔ حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ کھوہ والوں کا قصہ ہماری اس قدرت کے روبرو عجیب بات نہیں ہے کس لئے کہ آسمان و زمین کی پیدائش رات دن کا بدلنا، چاند سورج اور اس کے سوا بڑی بڑی نشانیاں ہماری قدرت کی ہیں جو اصحاب کہف کے قصہ سے بھی زیادہ ہیں ۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ قصہ اصحاب کہف بیان ہوتا ہے کہ یہ سات آدمی تھے ان کے نام یہ ہیں : (1) مکسلمینا (2) یملیخا (3) مرطوقس (4) پینونس (5) سار ینونس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–16

[4] روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب کہف صحیح دین مسیح (علیہ السلام) پر تھے اور ان کا زمانہ بعد المسیح ہے۔ رومی شہنشاہ ڈی سیس (DECIUS) یا دقیانوس (متوفی 152 ئ) سخت مشرک تھا۔ مسیحی مذہب نیا نیا اس کے زمانے میں سلطنت روم میں پھیلنا شروع ہوا تو اس نے عیسائی موحدین پر سختی شروع کی۔ اس سے تنگ آ کر چند شریف نوجوان شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور قریب کے ایک غار میں جا کر پناہ لی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–15

(ف 1) اصحاب کہف ورقیم چند موحد شخص تھے ، جو بت پرست حکومت کے مظالم سے تنگ آکر گوشہ نشین ہوگئے ، اور آبادیوں سے دور اپنے لئے ایک غار کو پسند کرلیا ، مدت تک دنیا ومافیہا کو فراموش کئے ہوئے اس میں پڑے رہے ، اور یاد الہی میں مشغول رہے ، اور یاد الہی میں مشغول رہے ، اور جب باہر نکلے تو معلوم ہوا کہ ظالم حکومت کا دور ختم ہوچکا ہے ، اور ساری دنیا عیسائیت کے پرچم تلے جمع ہے ۔ یہ ہجرت کی قدیم ترین صورت ہے اسلام یہ نہیں چاہتا ، کہ مسلمان ذہنی وقلبی غلامی کو گوارا کریں ، وہ مسلمان کو ہر وقت اللہ کی محبت میں سرشار دیکھنا چاہتا ہے ۔ حل لغات : فضربنا علی اذانھم : یعنی دنیا کی جانب سے انہیں بالکل بیخبر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 14 اور ہم نے ان کے دلوں کو اس وقت استوار اور مضبوط و مستحکم کردیا جس وقت وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ہم اس کو چھوڑ کر کسی اور معبود کی ہرگز عبادت نہیں کریں گے اور اگر ہم نے ایسا کیا تو یقینا ہم بڑی بےجا اور عقل سے دور بات کہیں گے۔ ربط قلب، ثبات و صبر کا ایک مرتبہ ہے جس سے دل جم جاتا ہے اور مضبوط ہوجاتا ہے جب وہ کھڑے ہوئے یعنی دقیانوس کے سامنے یا لوگوں کے سامنے گفتگو کرنے کھڑے ہوئے تو انہوں نے بیدھڑک ہو کر کہہ دیا کہ ہمارا معبود تو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے اگر ہم اس کو چھوڑ کر کسی اور معبود کا اقرار کریں گے تو عقل سے بہت دور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–16

ف 2۔ چونکہ لوگوں نے اس کو مختلف طور پر مشہور کیا تھا اس لئے فرمایا کہ ٹھیک وہ جو قرآن میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے پوری قوم سے منہ موڑا تو ہم نے ان کی مشکلات کو آسمان کردیا : 14۔ یہ ان کی اس وقت کی حالت کا بیان ہے جب وہ اپنی قوم اور اپنی حکومت کے خلاف توحید الہی کا درس لے کر اٹھے تھے فرمایا (آیت) ” وربطنا علی قلوبھم “۔ ربط کے معنی باندھنے کے ہیں اور دلوں پر ربط سے مراد وہی ہے جو سکینت کے نازل کرنے اور روح القدس سے تائید حاصل کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انکے دلوں کو اور بھی مضبوط کردیا ۔ (شططا) شطط کے معنی بہت ہی زیادہ دوری کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ایسا قول یا ایسی بات جو حق سے بہت ہی دور ہو ظاہر ہے کہ جب خالق کو مخلوق کے ساتھ ملا کر مخلوق کے سپرد خالق کے کام لگائے جائیں اور خالق کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–15

The first sentence of verse 14: وَرَ‌بَطْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ (And We made their hearts firm) refers to the event described by Ibn Kathir a little earlier. This tells us that Allah made the hearts of these people firm when the king who was cruel and worshipped idols summoned them in his court and questioned them. This was a matter of life and death. But, despite their apprehension for the worst, Allah Ta` ala made His love, awe and grandeur prevail over their hearts which empowered them to face any eventuality of death or distress. The outcome was that they proclaimed their belief clearly…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–15

9. The oldest evidence of this story is found in a homily written in Syriac by Jacob of Sarug, a Christian priest of Syria, who was born in A.D. 452, a few years after the death of the companions of the cave. The homily which describes the legend in great detail was composed by him in or about A.D. 474. On the one hand, this same Syriac version came into the hands of our early commentators, and Ibn Jarir Tabari cited it in his commentary with various authorities. And on the other hand, it reached Europe where its translations and abridged versions were published in Greek and Latin. The…

Read the full tafseer →