Explained with ayahs 13–16
اصحاب کہف کا قصہ
یہاں سے تفصیل کے ساتھ اصحاب کہف کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جو دین حق کی طرف مائل ہوئے اور ہدایت پر آگئے قریش میں بھی یہی ہوا تھا کہ جوانوں نے تو حق کی آواز پر لبیک کہی تھی لیکن بجز چند کے اور بوڑھے لوگ اسلام کی طرف جرات سے مائل نہ ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کے کانوں میں بالے تھے یہ متقی مومن اور راہ یافتہ نوجوانوں کی جماعت تھی اپنے رب کی وحدانیت کو مانتے تھے اس کی توحید کے قائل ہوگئے تھے اور روز بروز ایمان و ہدایت میں بڑھ رہے تھے۔ یہ اور اس جیسی اور آیتوں اور احادیث سے استدلال کر کے امام بخاری ؒ وغیرہ محدثین کرام کا مذہب ہے کہ ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
سورة الْكَهْف 9
اس قصے کی قدیم ترین شہادت شام کے ایک عیسائی پادری جیمس سروجی کے مواعظ میں پائی گئی ہے جو سریانی زبان میں لکھے گئے تھے۔ یہ شخص اصحاب کہف کی وفات کے چند سال بعد 452 میں پیدا ہوا تھا اور اس نے 474 کے لگ بھگ زمانے میں اپنے یہ مواعظ مرتب کیے تھے۔ ان مواعظ میں وہ اس پورے واقعے کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ یہی سریانی روایت ایک طرف ہمارے ابتدائی دور کے مفسرین کو پہنچی جسے ابن جریر طبری نے مختلف سندوں کے ساتھ اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے، اور دوسری طرف یورپ پہنچی جہاں یونانی اور لاطینی زبانوں میں اس کے ترجمے اور خلاصے شائع ہوئے۔ گبن نے اپنی کتاب " تاریخ زوال و سقوط دولت روم " کے باب…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ہم ان کا واقعہ آپ سے ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں (اس میں اشارہ کردیا کہ اس کے خلاف جو کچھ دنیا میں مشہور ہے وہ درست نہیں) وہ لوگ (اصحاب کہف) چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر (اس زمانے کے دین عیسوی کے مطابق) ایمان لائے تھے، اور ہم نے ان کی ہدایت میں اور ترقی کردی (کہ صفات ایمان ثابت قدمی اور بلاؤں پر صبر دنیا سے اعراض، آخرت کی فکر وغیرہ بھی عطا کردیں، انہی صفات ایمان و ہدایت میں ایک بات یہ تھی کہ) ہم نے ان کے دل مضبوط کر دئیے جبکہ وہ پختہ ہو کر (آپس میں یا مخالف بادشاہ کے رو برو) کہنے لگے کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم تو اس کو چھوڑ کر کسی معبود کی عبادت نہ کریں گے…
Read the full tafseer →اجمال کے بعد تفصیل بالحق کا مفہوم : نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى۔
اب یہ اجمال کے بعد ان کی سرگزشت کی تفسیل سنائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ " بالحق " کی قید ایک تو اس حقیقت کو ظاہر کررہی ہے کہ ان لوگوں کی نسبت جو روایات ان کے نام لیواؤں میں معروف تھیں قرآن نے ان سے غض بصر کرکے واقعہ کی اصل صورت پیش کی ہے۔ دوسری یہ کہ قرآن کے سامنے دوسروں کی طرح محض داستان سرائی نہیں ہے بلکہ اصل مقصود اس حکمت و موعظت سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے جو اس سرگزشت کے اندر مضمر ہے فرمایا کہ یہ کچھ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور انہوں نے اپنے…
Read the full tafseer →13۔ 1 اب اختصار کے بعد تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ یہ نوجوان، بعض کہتے ہیں عیسائیت کے پیروکار تھے اور بعض کہتے ہیں ان کا زمانہ حضرت عیسیٰ ؑ سے پہلے کا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا، دقیانوس، جو لوگوں کو بتوں کی عبادت کرنے اور ان کے نام کی نذر نیاز دینے کی ترغیب دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے چند نوجوانوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ عبادت کے لائق تو صرف ایک اللہ ہی ہے جو آسمان و زمین کا خالق اور کائنات کا رب ہے۔ فِتْیِۃ جمع قلت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے ان کی تعداد 9 یا اس سے بھی کم تھی۔ یہ الگ ہو کر کسی ایک جگہ اللہ واحد کی عبادت کرتے، آہستہ آہستہ لوگوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
6: آگے آرہا ہے کہ جب یہ لوگ بیدار ہوئے تو آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ وہ کتنی دیر سوئے ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
اس قصے کے مناظر میں سے یہ پہلا منظر ہے۔
انھم فتیۃ امنوا بربھم (81 : 31) ” وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔ “ اور مزید یہ کہ وزدنھم ھدی (81 : 31) ” وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔ “ اور مزید یہ کہ وزدنھم ھدی (81 : 31) ” اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ “ عینی ان کو یہ الہام کردیا تھا کہ وہ اپنے معاملات میں کس طرح تدابیر اختیار کریں اور پھر و ربطنا علی قلوبھم (81 : 31) ” اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے۔ “ چناچہ یہ لوگ اپنے ایمان پر ثابت قدم ہوگئے۔ راسخ العقیدہ ہوگئے اور جس سچائی کو انہوں نے اختیار کیا تھا اور جان لیا تھا اس پر استقامت اختیار کرلی تھی اور…
Read the full tafseer →3 یعنی ایمان سے زیادہ درجہ دیا اولیاء کا۔
Read the full tafseer →آیت 13 نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاَهُمْ بالْحَقِّ
یہ واقعہ جیسے وقوع پذیر ہوا تھا بالکل ویسے ہی ہم آپ کو بلا کم وکاست سنانے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
12 مزید رہنمائی سے مراد اپنے ایمان پر ڈٹ جانا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے اعلان سے معلوم ہو رہا ہے انھیں زبان سے کفر و شرک کا کلمہ کہنا اس قدر دشوار تھا کہ انہوں نے ایسی بات کہنے پر اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑنے کو ترجیح دی اور سوسائٹی کی نظروں سے روپوش ہوگئے۔
Read the full tafseer →14۔ (اس افراط وتفریط، مبالغہ بیانی، وحاشیہ آرائی سب سے الگ کرکے جو عام طور سے اس قصہ سے متعلق شائع ہوچکی تھی)
15۔ (کہ وہ تثلیث کے بجائے حسب تعلیم مسیح (علیہ السلام) توحید ہی پر قائم رہے) (آیت) ” امنوا بربھم “۔ یعنی اپنے وقت کی باطل پرستیوں کو چھوڑ انہوں نے دین توحید اختیار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
آیت نمبر 13 تا 17
ترجمہ : ہم آپ کو ان کا صحیح قصہ سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں ترقی دی تھی اور ہم نے ان کے دل قوی کر دئیے تھے یعنی حق بات کہنے کے لئے قوی کر دئیے تھے جب وہ اپنے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوئے اور اس بادشاہ نے ان کو بتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار ہے ہم اس کو چھوڑ کر کسی غیر کی ہرگز بندگی نہ کریں گے اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم نے نہایت ہی غلط بات کی یعنی حد سے گزری ہوئی حرکت کی یعنی بالفرض اگر ہم نے اللہ کے علاوہ کسی غیر کی بندگی کی تو ہم کفر میں…
Read the full tafseer →نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاَهُمْ بالْحَقِّ ۭ اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنٰهُمْ هُدًى: ہم آپ سے ان
کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اور ترقی کردی تھی۔
الحَقسچ۔ فِتْیَۃٌ کا مفرد فَتِیٌّہے جیسے صِبْیَۃٌ کا مفرد صَبِیٌّ۔ ہدٰیسے مراد ہے ایمان اور بصیرت یعنی ہم نے ان کو حقیقی ایمان عطا کیا تھا۔ مجازی ایمان تو زبانی اقرار اور قلبی تصدیق کا نام ہے اس میں نفس کا طغیان اور کفران باقی رہتا ہے اور حقیقی ایمان کا حصول نفس کو فنا کرنے کے بعد ہوتا ہے (نفس کی سرکشی اور انانیت فنا ہوجاتی ہے تو حقیقی ایمان نصیب ہوتا…
Read the full tafseer →(13) ہم بذریعہ قرآن کریم آپ سے ان کا واقعہ بیان کرتے ہیں، یہ چند نوجوان تھے ہم نے ان کو دین کے معاملہ میں بصیرت عطا کی تھی یا یہ کہ اس چیز میں ان کو ثابت قدمی عطا کی تھی یا یہ کہ ان کو ایمان پر ثابت قدمی عطا کی تھی۔
Read the full tafseer →ۧنَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاَهُمْ بالْحَقِّ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مشہور تھا، مگر اس میں بہت سی خرافات اور غلط باتیں شامل تھیں، اس لیے فرمایا کہ ہم تجھ سے ان کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ rnۭ اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ۔۔ : حافظ ابن کثیر ؓ کے بیان کا خلاصہ یہ ہے، اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ چند نوجوان تھے اور نوجوان بوڑھوں کی نسبت حق کو زیادہ قبول کرنے والے ہوتے ہیں، اسی لیے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہنے والے اکثر نوجوان تھے۔ قریش کے بوڑھے بزرگ اپنے دین ہی پر باقی رہے، ان میں سے بہت کم ہی ایمان لائے۔ کئی ایک ائمہ مثلاً بخاری ؓ وغیرہ نے ”وَزِدْنٰهُمْ هُدًى“ (اور ہم نے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 13
قولہ تعالیٰ : نحن نقص علیک نباھم بالحق جب قول باری تعالیٰ : لنعلم ای الحزبین احصی نوجوانوں کے ٹھہرے رہنے کی مدت میں واقع ہونے والے اختلاف کا تقاضا کرتا ہے، اس کے پیچھے یہ خبر بیان کی کہ اللہ عزوجل ان کے بارے اس حق کو جانتا ہے جو امر واقع ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : انھم فتیۃ یعنی وہ جوان اور نئی عمر کے لوگ ہیں ان کیلئے جوانی کا حکم تھا اس وقت جب وہ بلاواسطہ ایمان لائے، اسی طرح زبان نے کہا ہے : الفتوۃ (سخاوت) اصل ایمان ہے۔ اور حضرت جنید (رح) نے کہا ہے : الفتوۃ کا معنی سخاوت کرنا، اذیت کو روکنا اور شکایت و ترک کرنا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : الفتوۃ کا معنی محارم سے اجتناب کرنا اور مکارم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
1:۔ سعید بن منصور، عبدبن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر وہ جوان ہوتا ہے اور کسی عالم کو علم نہیں دیا جاتا مگر وہ جوان ہوتا ہے پھر بطور دلیل یہ آیت پڑھی (آیت) ” قالوا سمعنا فتی یذکرھم یقال لہ ابراہیم “ (الانبیاء آیت 20) (آیت) ” واذقال موسیٰ لفتہ “ انہم فتیۃ امنوا برابھم “
2:۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وزدنہم ھدی “ (یعنی ہم نے ان کو زیادہ کیا (اخلاص میں ) ۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وربطنا علی قلوبہم “ سے مراد ہے کہ (ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط…
Read the full tafseer →[نَحْنُ : ہم ] [نَقُصُّ : بیان کرتے ہیں ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [نَبَاَهُمْ : ان کی خبر ] [بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [انهُمْ : بیشک وہ ] [فِتْيَةٌ: کچھ ایسے نوجوان تھے جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [بِرَبِهِمْ : اپنے رب پر ] [وَزِدْنٰهُمْ : اور ہم نے زیادہ کیا ان کو ] [هُدًى: بلحاظ ہدایت کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
اصحاب کہف کا تفصیلی واقعہ
جیسا کہ دو تین صفحہ قبل ہم نے ذکر کیا کہ یہ چند نوجوان اپنی بت پرست قوم سے بھاگ نکلے تھے ان کا مقصود اپنا ایمان بچانا تھا اور جان بچانا بھی پیش نظر تھا کیونکہ وہاں جو بادشاہ تھا وہ اہل ایمان کو بت پرستی پر مجبور کرتا تھا اور جو شخص انکار کردے اسے قتل کردیتا تھا۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ نوجوان روم کے بادشاہ اور سرداروں کی اولاد میں سے تھے اس زمانہ کا بادشاہ جس کا نام دقیانوس تھا ظالم آدمی تھا اور وہ لوگوں کو بت پرستی کی دعوت دیتا تھا جب یہ نوجوان تہوار کے موقع پر اپنے اپنے خاندان کے ساتھ نکلے تو بت پرستی کا ماحول اور ماجرا دیکھ کر ان کے قلوب میں بہت زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
تفصیل قصہ اصحاب کہف
قال اللہ تعالیٰ نحن نقص علیک نباہم .... الیٰ .... فلن تجد لہ ولیا مرشدا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب کہف کا قصہ مجملا ذکر فرمایا اب اس قصہ کی کچھ تفصیل فرماتے ہیں تاکہ اہل صبر و استقامت اور زہر وان منزل آخرت کے لئے مشعل ہدایت بنے چناچہ فطرماتے ہیں۔
اے نبی ﷺ ہم آپ کے سامنے ان کی صحیح صحیح خبر نیان کرتے ہیں جو عین واقعہ کے مطابق ہے یہ اس لئے فرمایا کہ یہ قصہ لوگوں میں مختلف طور پر مشہور تھا جن میں بعض جھوٹی اور غلط روایتیں بھی شامل تھیں اس لئے فرمایا کہ جتنا قصہ ہم نے قرآن میں بیان کردیا وہ بالکل حق اور صدق ہے تحقیق وہ اصحاب چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
13:۔ اب یہاں سے اصحاب کہف کے واقعہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے گویا کہ پہلے شبہہ اولیٰ کا اجمالی جواب ذکر کیا گیا اور یہاں اسے تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ شروع فی تفصیل ما اجمل فیما سلف ای نحن نخبرک بتفصیل خبرھم الذی لہ شان و خطر (روح ج 5 ص 216 ابو السعود ج 5 ص 685) ۔
14:۔ پہلے اجمالی ذکر میں اصحاب کہف کے مومن و موحد ہونے کی طرف اشارہ تھا۔ یہاں ان کے ایمان، توحید پر ان کی استقامت اور شرک سے ان کی بیزاری کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اس تفصیل میں چار چیزیں مذکور ہیں۔ (1) ۔ ” امنوا بربھم “ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آئے۔ (2) ۔ ” و زدنھم ھدی “ انہیں ایمان کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے کر ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا اجمالی ذکر کیا کہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں یہ کوئی واحد حیرت انگیز نشانی نہیں بلکہ کائنات میں اس قسم کی بیشمار نشانیاں بکھری پڑی ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت تامہ پر یقین آتا ہے ، فرمایا یہ چند نوجوان تھے جنہوں نے غار میں پناہ پکڑی اور اپنے رب سے دعا کی کہ اے پروردگار ! ہمیں اپنی جانب سے مہربانی عطا فرما اور ہمارے معاملے میں درستگی پیدا فرما دے اللہ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ان کے کانوں پر تھپکی دے کر سال ہاسال تک سلائے رکھا ، پھر مدت مدید کے بعد انہیں نیند سے بیدار کیا تاکہ واضح ہوجائے کہ ان کے غار میں…
Read the full tafseer →نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ ۭ اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنٰهُمْ هُدًى 13 ڰ
قصص
الْقَصُّ : تتبّع الأثر، يقال : قَصَصْتُ أثره، والْقَصَصُ : الأثر . قال تعالی: فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وَقالَتْ لِأُخْتِهِقُصِّيهِ [ القصص/ 11]
( ق ص ص ) القص
کے معنی نشان قد م پر چلنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ قصصت اثرہ یعنی میں اس کے نقش قدم پر چلا اور قصص کے معنی نشان کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] تو وہ اپنے اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔ وَقالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ [ القصص/ 11] اور اسکی بہن کہا کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ترکیب : ام منقطعہ مقدر ہے بل کے ساتھ جو ایک بات سے دوسری بات کی طرف انتقال کے لیے آتا ہے۔ جمہور کے نزدیک ہمزہ استفہام اوروں کے نزدیک صرف بل مقدر ہے ای بل احسبت عجبا خبر ہے کانوا کی ومن آیاتنا حال ہے اس سے۔ اذا متعلق ہے اذکر مخدوف سے فضربنا کا مفعول حجابا محذوف، عددا منصوب ہے سنین کی لغت ہو کر المعنی سنین ذات العدد ھذا قول الفرار اور ممکن ہے کہ مفعول مطلق ہو والمعنی تعد عددا ای مرفوع ہے مبتدا ہونے کے سبب اور احصٰی اس کی خبر ہے اور یہ سب جملہ متعلق ہے نعلم سے۔
تفسیر : زینت دنیا جس میں منہمک ہو کر انسان عقبیٰ کو کھو بیٹھتا ہے اور خدا پرستوں کو اپنا ہم خیال نہ سمجھ کر برا جانتا بلکہ ان کو ستاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ نَبَاَھُمْ بِالْحَقِّ ط اِنَّھُمْ فِـتْیَۃٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّھِمْ زِدْنٰـھُمْ ھُدًی۔ وَّرَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اِذْقَامُوْا فَـقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلٰـھًا لَّقَدْ قُلْنَـآ اِذًا شَطَطًا۔ (الکہف : 13، 14)
(ہم آپ ﷺ کو ان کی سرگزشت ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں، وہ (اصحابِ کہف) چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے، ہم نے ان کے ایمان میں برکت عطا فرمائی۔ اور ان کے دلوں کی گرہ مضبوطی سے باندھ دی، جب وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی اور کو ہرگز معبود کے طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
فہم القرآن
ربط کلام : تمہید کے بعد اب واقعہ کی تفصیلات بیان ہوتی ہیں۔ قرآن مجید کا ہر لفظ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اسے نبی ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ لیکن بعض واقعات اور احکام کی مرکزیت اور اہمیت ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی طرف منسوب فرماتا ہے۔
اس واقعہ میں توحید کے اثبات اور نوجوانوں کے کردار کو نمایاں کرنے، شرک کے ابطال اور قیامت کا انکار کرنے والوں کے موقف کو بےحیثیت اور بعث بعد الموت ثابت کرنے کے لیے اس بات کو اپنی ذات اقدس کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم اس واقعہ کو آپ کے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ چند نوجوان اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان…
Read the full tafseer →تفصیلی واقعہ :
13: نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ نَبَاَھُمْ بِالْحَقِّ (ہم آپ سے انکا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں) سچائی کے ساتھ اِنَّھُمْ فِتْیَۃٌ (بیشک وہ نوجوان تھے) فِتْیَۃٌ جمع فتیٰ ہے۔ الفتوتؔ سخاوت کرنا، ایذاء سے اپنے کو روکنا، شکوی کو ترک کرنا، محارم سے اجتناب، مکارم کا استعمال کرنے کے مجموعہ کو کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں۔ الفتیؔ اس کو کہا جاتا ہے جو فعل کے کرنے سے قبل اس کا دعوٰی نہ کرے اور کرنے کے بعد اپنے آپ کو پاک قرار نہ دے۔ اٰمَنُوْا بِرَبِّھِمْ وَزِدْنٰـھُمْ ھُدًی (وہ اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔ ہم نے ان کی ہدایت میں اور ترقی دے دی) یقین بڑھا دیا۔ یہ دقیانوس بادشاہ کے خاص لوگوں میں سے…
Read the full tafseer →تفسیر 13 ۔ ” نحن نقص علیک “ ہم آپ پر پڑھتے ہیں۔ ” نباھم “ اصحاب کہف کا واقعہ ” بالحق “ سچائی کے ساتھ۔ ” انھم فتیۃ “ کہ وہ جوان شخص تھا ” امنوا بربھم وزدناھم ھدی “ ایمان اور بصیرت کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
13۔ 16:۔ اوپر مختصر طور پر قصہ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اس کی تفصیل بیان فرمائی۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے یہود کے سکھانے سے قریش نے تم سے ان چند جوان شخصوں کا قصہ جو پوچھا ہے جو جیتے جی غائب ہوگئے وہ صحیح قصہ یوں ہے کہ ان چند جوانوں کی ساری قوم تو بت پرست تھی مگر یہ چند جوان اللہ کی وحدانیت اور عیسائی دین پر قائم تھے پھر فرمایا جب کہ بت پرست بادشاہ دقیانوس نے بت پرستی اختیار کرنے کے لیے ان جوانوں کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ثابت قدمی بڑھا دی اور ان کے دلوں کو خوب مضبوط کردیا جس سے انہوں نے دقیانوس کو یہی جواب دیا کہ ہم سوا اللہ تعالیٰ کے بتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(آیت نمبر (13:
یہاں سے اصحاب کہف کے واقعہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس قصے کو حق اور صداقت کے ساتھ اپنے نبی ﷺ پر بیان کرتا ہے جس میں کسی لحاظ سے کوئی شک و شبہ نہیں۔ (انھم فتیۃ امنوا بربھم ) ” وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے “ (فتیۃ) جمع قلت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ نوجوان تعداد میں دس سے کم تھے۔ وہ اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لائے مگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی قدر کی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے راہ ایمان پر گامزن ہونے کے سبب سے ان کی ہدایت کو اور زیادہ کردیا۔ ہدایت سے مراد علم نافع اور عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
قول باری ہے (لنعلم ای الحزبین احصی بما لبثوا مداً تاکہ ہم دیکھیں ان میں سے کو ن اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے) مفہوم یہ ہے کہ ہم نے انہیں دوبارہ اس لئے زندہ کردیا تاکہ ان کے قیام کی مدت کے بارے میں دونوں گروہوں کے اختلاف کے اندر درست بات ظاہر ہوجائے کیونکہ اس میں عبرت کا پہلو تھا۔
Read the full tafseer →15۔ اہل ایمان کیلئے ہدایت میں اضافے کا ذکر وبیان :۔
چنانچہ ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کی ہدایت میں اور ترقی دے دی تھی تاکہ وہ راہ حق میں صبر واستقامت سے کام لے سکیں۔ سو ان کی قوت ایمانی میں اضافہ کیا گیا۔ انکے اخلاص واستقامت اور صفاء باطن کی بناء پر، جس کے نتیجے میں ان کو راہ حق و ہدایت میں ثابت قدمی نصیب ہوئی۔ صحیح فیصلہ کرنے اور عمل صالح، اور صحیح راہ کو اپنانے کی توفیق ملی اور زہد فی الدنیا سے مشرف ہوئے اور سب سے کٹ کر ایک اللہ کے بن جانے کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔ سو اللہ تعالیٰ اپنے صالح بندوں کو اپنی عنایات سے اسی طرح نوازتا ہے، کہ اس کی شان ہی نوازنا ہے اور مسلسل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
اصحاب کہف کا قصہ
تشریح : قرآن پاک قصہ کہانیوں کی کتاب نہیں بلکہ اس کے ایک ایک لفظ سے حکمت و دانش، دانائی اور ہدایت کا سبق ملتا ہے اسی طرح اصحاب کہف کا واقعہ توحید، ایمان، توکل اور اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” کیا تم خیال کرتے ہو کہ اصحاب کہف ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے، ، ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ صبر، دعا اور ایمان کی مضبوطی کی مثال پیش کر رہے ہیں۔ ہوا اس طرح کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تبلیغ کی وجہ سے یہودی علماء ان کے دشمن ہوگئے۔ یہاں تک کہ ان کو سولی پر چڑھانے کا منصوبہ تیار ہوگیا مگر اللہ نے ان کو زندہ اوپر اٹھا لیا۔ قرآن میں اسی طرح بتایا گیا ہے۔ تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
تو سنئے ہم نے آپ کو ان واقعہ کا ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے تو بہت بےسروپا باتین اس میں شامل کر رکھی ہوں گی ، لہذا ارشاد ہوا کہ درست واقعات یہاں کتاب میں بیان کئے جاتے ہیں کہ وہ کچھ نوجوان تھے جو اللہ جل جلالہ پر ایمان لائے ، اپنے پروردگار کی عظمت کو خلوص دل سے تسلیم کرلیا تو ہم نے ان کے لیے راہ ہدایت کی سوجھ بوجھ بڑھا دی اور انہیں نیکی اور بدی میں فرق کا احساس شدت سے ہوگیا ایسا کہ جو بدی کو چھوڑنے اور نیکی کو اپنانے پر مجبور کر دے ۔
(ایمان کی خصوصیت)
اس جگہ ایمان کی خصوصیت ارشاد ہوئی ہے کہ اگر خلوص نصیب ہو تو ایمان کے باعث اللہ جل جلالہ کی طرف سے شعور بیدار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 1 سلف و خلف رحم اللہ میں سے بہت سے مفسرین کا بیان ہے کہ یہ چند آدمی شہزادے تھے۔ ان کی قوم بتوں کی پوجا کرتی اور ان کے نام پر چڑھاوے چڑھاتی تھی لیکن اللہ نے انہیں توفیق دی اور انہوں نے توحید کی راہ اختیار کی۔ اس پر ان کا بادشاہ جس کا نام دقیانوس بتایا جاتا ہے۔ ان کے درپے آزاد ہوگیا اور پوری قوم کو ان کے خلاف بھانے لگا اسی کشمکش میں انہوں نے فتنہ سے بچنے کے لئے غار میں پناہ لی۔ عموماً قدیم وجیہہ محققین کا خیال یہ ہے کہ ان کا زمانہ حضرت عیسیٰ کے بعد کا ہے اور یہ کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ہی کا دین قبول کیا تھا مگر ابن کثیر نے حضرت عیسیٰ سے پہلے کا زمانہ بتایا ہے کیونکہ اگر وہ عیسیٰ کے دین پر ہوتے…
Read the full tafseer →(18:13) نباہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی خبر۔ ان کا قصہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 16
نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ نبا خبر، حال۔ زدنا ہم نے بڑھا دیا۔ ربطنا ہم نے باندھا، مضبوط کردیا۔ شطط عقل سے ور کوئی بات۔ سلطان مبین کھلی اور واضح دلیل۔ اعتزلتموھم تم ان سے الگ ہوگئے۔ فاو تم ٹھکانا بنا لو۔ ینشر وہ پھیلا دے گا۔ مرفق آرام ، آسائش۔
تشریح : آیت نمبر 13 تا 16
گزشتہ آیات میں اصحاب کہف کا مختصر واقعہ بیان کیا گیا تھا۔ ان ایٓات میں اس واقعہ کے کچھ مزید پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔
فرمایا کہ کچھ نوجوان تھے جنہوں نے بادشاہ وقت (دقیانوس) کے غلط عقیدوں، بت پرستی، غرور وتکبر کے سامنے سر جھکانے اور بت پرستی کے بجائے بےپناہ جرأت، ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
اصحاب کہف کا بیان
شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہود نے قریش کو تین سوال دیئے کہ حضرت محمد ﷺ سے پوچھو تو آپس میں کہنے لگے کہ ان جوانوں کا قصہ بہت عجیب ہے، محمد ﷺ اس کا جواب دیں سکیں تو عجب کی بات ہے۔ حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ کھوہ والوں کا قصہ ہماری اس قدرت کے روبرو عجیب بات نہیں ہے کس لئے کہ آسمان و زمین کی پیدائش رات دن کا بدلنا، چاند سورج اور اس کے سوا بڑی بڑی نشانیاں ہماری قدرت کی ہیں جو اصحاب کہف کے قصہ سے بھی زیادہ ہیں ۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ قصہ اصحاب کہف بیان ہوتا ہے کہ یہ سات آدمی تھے ان کے نام یہ ہیں : (1) مکسلمینا (2) یملیخا (3) مرطوقس (4) پینونس (5) سار ینونس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
[4] روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب کہف صحیح دین مسیح (علیہ السلام) پر تھے اور ان کا زمانہ بعد المسیح ہے۔ رومی شہنشاہ ڈی سیس (DECIUS) یا دقیانوس (متوفی 152 ئ) سخت مشرک تھا۔ مسیحی مذہب نیا نیا اس کے زمانے میں سلطنت روم میں پھیلنا شروع ہوا تو اس نے عیسائی موحدین پر سختی شروع کی۔ اس سے تنگ آ کر چند شریف نوجوان شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور قریب کے ایک غار میں جا کر پناہ لی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(ف 1) اصحاب کہف ورقیم چند موحد شخص تھے ، جو بت پرست حکومت کے مظالم سے تنگ آکر گوشہ نشین ہوگئے ، اور آبادیوں سے دور اپنے لئے ایک غار کو پسند کرلیا ، مدت تک دنیا ومافیہا کو فراموش کئے ہوئے اس میں پڑے رہے ، اور یاد الہی میں مشغول رہے ، اور یاد الہی میں مشغول رہے ، اور جب باہر نکلے تو معلوم ہوا کہ ظالم حکومت کا دور ختم ہوچکا ہے ، اور ساری دنیا عیسائیت کے پرچم تلے جمع ہے ۔
یہ ہجرت کی قدیم ترین صورت ہے اسلام یہ نہیں چاہتا ، کہ مسلمان ذہنی وقلبی غلامی کو گوارا کریں ، وہ مسلمان کو ہر وقت اللہ کی محبت میں سرشار دیکھنا چاہتا ہے ۔
حل لغات :
فضربنا علی اذانھم : یعنی دنیا کی جانب سے انہیں بالکل بیخبر…
Read the full tafseer →- 13 ہم ان اصحاب کہف کی خبر اور ان کا واقعہ آپ کو ٹھیک ٹھیک بیان کرتے اور سناتے ہیں چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت کے اعتبار سے اور زیادہ کردیا۔ یعنی یہ نوجوان خاندانی تھے ان کو بت پرستی سے نفرت تھی اور یہ دین عیسوی یا دین موسوی کی شریعت پر ایمان لے آئے تھے۔ ابن کثیر کی رائے یہ ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے قبل کا واقعہ یہ نوجوان اپنے بزرگوں کے ساتھ بت پرستوں کا کوئی میلہ دیکھنے گئے تھے وہاں ان کو بت پرستی سے نفرت ہوئی اور یہ موحد ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ایمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ف 2۔ چونکہ لوگوں نے اس کو مختلف طور پر مشہور کیا تھا اس لئے فرمایا کہ ٹھیک وہ جو قرآن میں ہے۔
Read the full tafseer →اب ہم پورا واقعہ ذرا تفصیل کے ساتھ آپ کو سناتے ہیں وہ چند نوجوانوں کی داستان ہے :
13۔ گویا ایک مجمل خلاصہ لوگوں کو پہلے سنا دیا جنہوں نے سوال کیا تھا اور یہ خلاصہ آیت دس سے بارہ تک گزر چکا ہے اور اب ذرا تفصیل سے ان کی داستان سنائی جاتی ہے فرمایا وہ چند نوجوان تھے جنہوں نے سچائی کی راہ میں دنیا اور دنیا کی راحتوں سے منہ موڑا اور ایک غار میں پناہ گزیں ہوگئے ان کے پیچھے ظلم وستم کی قوتیں تھیں سامنے غار کی تاریکی اور وحشت تاہم وہ ذرا بھی ہراساں نہ ہوئے انہوں نے کہا ” خدایا ! تیری ہی رحمت کا آسرا ہے اور تیری ہی چارہ سازی پر بھروسہ ۔ “ چناچہ کئی سال تک وہ وہیں رہے اور اس طرح رہے کہ دنیا کی صداؤں کی…
Read the full tafseer →Commentary
The word: فِتْيَةٌ(fityah) in: إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ (They were young men - 13) is the plural of: فَتٰی (fata) which means someone young. According to Tafsir scholars, this word indicates that the time ripe for correction of deeds and morals, and the inculcation of guidance and righteousness, is invariably the time when one is young. When old, formerly acquired deeds and morals become so deeply rooted that - no matter how evident becomes the truth against these - it is very difficult to break loose from their shackles. Those among the noble Companions who responded to and believed in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
9. The oldest evidence of this story is found in a homily written in Syriac by Jacob of Sarug, a Christian priest of Syria, who was born in A.D. 452, a few years after the death of the companions of the cave. The homily which describes the legend in great detail was composed by him in or about A.D. 474. On the one hand, this same Syriac version came into the hands of our early commentators, and Ibn Jarir Tabari cited it in his commentary with various authorities. And on the other hand, it reached Europe where its translations and abridged versions were published in Greek and Latin. The…
Read the full tafseer →