Explained with ayahs 9–12
اصحاف کہف
اصحاف کہف کا قصہ اجمال کے ساتھ بیان ہو رہا ہے پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہوگا فرماتا ہے کہ وہ واقعہ ہماری قدرت کے بیشمار واقعات میں سے ایک نہایت معمولی واقعہ ہے۔ اس سے بڑے بڑے نشان روز مرہ تمہارے سامنے ہیں آسمان زمین کی پیدائش رات دن کا آنا جانا سورج چاند کی اطاعت گزاری وغیرہ قدرت کی ان گنت نشانیاں ہیں جو بتلایا رہی ہیں کہ اللہ کی قدرت بےانداز ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اس پر کوئی مشکل نہیں اصحاب کہف سے تو کہیں زیادہ تعجب خیز اور اہم نشان قدرت تمہارے سامنے دن رات موجود ہیں کتاب و سنت کا جو علم میں نے تجھے عطا فرمایا ہے وہ اصحاب کہف کی شان سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سی حجتیں میں نے اپنے بندوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
سورة الْكَهْف 6
عربی زبان میں " کہف " وسیع غار کو کہتے ہیں اور " غار " کا لفظ تنگ کھوہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مگر اردو میں غار کہف کا ہم معنی ہے۔
سورة الْكَهْف 7
الرقیم کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض صحابہ وتابعین سے منقول ہے کہ یہ اس بستی کا نام ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا، اور وہ ایلہ (یعنی عَقَبہ) اور فلسطین کے درمیان واقع تھی۔ اور بعض قدیم مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ کتبہ ہے جو اس غار پر اصحاب کہف کی یادگار میں لگایا گیا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی تفسیر " ترجمان القرآن " میں پہلے معنی کو ترجیح دی ہے اور یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ مقام وہی ہے جسے بائیبل کی کتاب یشوع (باب 18۔ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
اصحاب کہف کی جگہ اور ان کا زمانہ
امام تفسیر قرطبی اندلسی نے اپنی تفسیر میں اس جگہ چند واقعات کچھ سماعی کچھ چشم دید نقل کئے ہیں، جو مختلف شہروں سے متعلق ہیں، قرطبی نے سب سے پہلے تو ضحاک کی روایت سے یہ نقل کیا ہے کہ رقیم روم کے ایک شہر کا نام ہے، جس کے ایک غار میں اکیس آدمی لیٹے ہوئے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سو رہے ہیں، پھر امام تفسیر ابن عطیہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے بہت سے لوگوں سے سنا ہے کہ شام میں ایک غار ہے جس میں کچھ مردہ لاشیں ہیں، وہاں کے مجاورین یہ کہتے ہیں کہ یہی لوگ اصحاب کہف ہیں، اور اس غار کے پاس ایک مسجد اور مکان کی تعمیر ہے جس کو رقیم کہا جاتا ہے، اور ان مردہ لاشوں کے ساتھ ایک…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَى لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا۔
" لنعلم " پر " ل " غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے اور " نعلم " کے معنی یہاں دیکھنے اور جانچنے کے ہیں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس طویل نیند کے بعد پھر ہم نے ان کو جگایا تاکہ یہ بات اس نتیجہ تک منتہی ہو کہ وہ دو گروہ ہو کر آپس میں اس سوال پر بحث کریں کہ اس حالت خواب میں وہ کتنی مدت رہے ؟ کوئی کچھ کہے گا کوئی کچھ۔ اس طرح ہم ان کو جانچ لیں گے کہ اس مدت کا ان میں سے کوئی گروہ اندازہ کرسکا اور بالآخر یہ بات واضح ہوجائے کہ ان میں سے کوئی بھی اس کا اندازہ نہ کرسکا۔ نیز ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ یہی حال برزخی…
Read the full tafseer →12۔ 1 ان دو گروہوں سے مراد اختلاف کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ یا تو اسی دور کے لوگ تھے جن کے درمیان ان کی بابت اختلاف ہوا، یا عہد رسالت کے مومن و کافر مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصحاب کہف ہی ہیں ان کے دو گروہ بن گئے تھے۔ ایک کہتا تھا ہم اتنا عرصہ سوئے رہے، دوسرا، اس کی نفی کرتا اور فریق اول سے کم و بیش مدت بتلاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
6: آگے آرہا ہے کہ جب یہ لوگ بیدار ہوئے تو آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ وہ کتنی دیر سوئے ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
اس قصے کے مناظر میں سے یہ پہلا منظر ہے۔
انھم فتیۃ امنوا بربھم (81 : 31) ” وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔ “ اور مزید یہ کہ وزدنھم ھدی (81 : 31) ” وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔ “ اور مزید یہ کہ وزدنھم ھدی (81 : 31) ” اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ “ عینی ان کو یہ الہام کردیا تھا کہ وہ اپنے معاملات میں کس طرح تدابیر اختیار کریں اور پھر و ربطنا علی قلوبھم (81 : 31) ” اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے۔ “ چناچہ یہ لوگ اپنے ایمان پر ثابت قدم ہوگئے۔ راسخ العقیدہ ہوگئے اور جس سچائی کو انہوں نے اختیار کیا تھا اور جان لیا تھا اس پر استقامت اختیار کرلی تھی اور…
Read the full tafseer →2 سالہاسال کے بعد حق تعالیٰ نے ان کو جگا دیا۔ تاکہ ظاہر ہوجائے کہ اختلاف کرنے والوں میں سے کسی نے ان کی مدت نوم کا زیادہ صحیح اندازہ رکھا۔ ظاہر ہے کہ ایسی نوم طویل کے بعد جب بیدار ہوئے تو قدرتی طور پر خود سونے والوں میں اور دوسرے دیکھنے والوں میں بھی اختلافات اور چہ میگوئیاں ہوں گی کوئی کم مدت بتلائے گا کوئی زیادہ۔ کوئی اقرار کرے گا۔ کوئی مستبعد سمجھ کر انکار کر دے گا تو انھیں جگا کر یہ دیکھنا تھا کہ کون سی جماعت ٹھیک حقیقت پر پہنچتی ہے اور اس حقیقت پر پہنچ کر " بعث بعد الموت " کا عقدہ حل کرتی ہے جس میں اس وقت لوگ جھگڑ رہے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 12 ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَيُّ الْحِزْبَيْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْٓا اَمَدًا
ان دو گروہوں سے کون لوگ مراد ہیں اس کا ذکر آگے آئے گا۔
Read the full tafseer →11 اسی حالت میں سوئے ہوئے انھیں صدیاں گزر گئیں پھر جب اللہ نے چاہا انھیں بیدار کردیا۔ بیدار کرنے کے بعد ان کا آپس میں پہلا سوال یہ تھا کہ ہم کو اس حالت میں سوئے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہوگا ؟ اس مدت کے تعین میں ان میں اختلاف واقع ہوگیا اس لیے کہ ان کے پاس یہ مدت معلوم کرنے یا اس کی تعین کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا سوا اس کے کہ وہ دھوپ سے وقت کے متعلق کچھ اندازہ کرسکیں۔
Read the full tafseer →13۔ جب وہ لوگ اس خارق عادت نیند سے جاگے تو ان میں آپس میں یہ بحث شروع ہوگئی کہ ہمیں سوتے ہوئے کتنی مدت گزری (آیت) ” بعثنھم “۔ اس گہری طویل نیند سے انہیں بیدار کیا۔ (آیت) ” لنعلم “ ‘۔ یعنی تاکہ ہم اپنے اس علم کو خلق کے روبروہی مشاہدۃ وعیانا لے آئیں۔ اے لنظھرلھم ماعلمناہ من امرھم (بحر) (آیت) ” الحزبین “۔ دو گروہوں سے مراد یا تو وہی اصحاب کہف کے اندر کے دو گروہ ہیں۔ یا ایک طرف وہ جاگنے والے اصحاب کہف اور دوسری طرف ان کے معاصر اہل شہر، اور جمہور اسی طرف گئے ہیں۔ وقال ابن عطیۃ والظاھر ان الحزب الواحد ھم الفتیۃ اے ظنوا بعثھم قلیلا والحزب الثانی ھم اھل المدینۃ الذین بعث الفتیۃ علی عھدھم وھذا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت نمبر 9 تا 12
ترجمہ : کیا آپ خیال کرتے ہیں یعنی گمان کرتے ہیں کہ غار والے اور رقیم والے کہف پہاڑ کے غار کو کہتے ہیں اور رقیم وہ تختی تھی جس میں اصحاب کہف کے نام اور ان کے اسماء کندہ تھے، اور رسول اللہ ﷺ سے ان کا قصہ معلوم کیا گیا تھا، کہ وہ اپنے قصہ کے اعتبار سے ہماری آیات (قدرت) میں کچھ زیادہ عجیب تھے عجبًا کان کی خبر ہے اور اس کا ماقبل (یعنی من آیاتنا) کانوا کی ضمیر سے حال ہے یعنی وہ آیات قدرت میں عجیب تھے نہ کہ باقی آیات، یا عجائبات میں زیادہ عجیب تھے۔ حقیقت حال ایسی نہیں ہے، اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب چند نوجوانوں نے ایک غار میں پناہ لی تھی فِتیۃً فَتِیٌّ کی جمع ہے یعنی کامل نوجوان جب…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ : پھر ہم نے ان کو اٹھایا ‘ یعنی بیدار کیا۔
لِنَعْلَمَ اَيُّ الْحِزْبَيْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْٓا اَمَدًا : تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ ان دونوں گروہوں میں کون
گروہ ان کے رہنے کی مدت سے زیادہ واقف تھا۔
الْحِزْبَیْنِ دو گروہ۔ دو جماعتیں۔
اَمَدٌغایت ‘ مدت۔ علم سے مراد ہے علم حالی جس کا تعلق استقبال سے تھا۔
Read the full tafseer →(12) پھر جس حالت پر وہ سوئے تھے اسی طرح ہم نے ان کو بیدار کیا تاکہ ہم ظاہری طور پر بھی معلوم کرلیں کہ مومنین اور کافروں میں سے کس نے ان لوگوں کی غار میں ٹھہرنے کی مدت کو زیادہ محفوظ رکھا ہے۔
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَيُّ الْحِزْبَيْن۔۔ : ”بَعَثَ“ کا معنی کسی ساکن چیز کو حرکت میں لانا ہے۔ یہ لفظ مردہ کو زندہ کرنے اور سوئے ہوئے کو جگانے کے لیے آتا ہے، یعنی پھر ہم نے انھیں اٹھایا، تاکہ ہم معلوم کریں کہ ان سونے والوں کے دو گروہوں میں سے کون سا گروہ ہے جو اپنے وہاں ٹھہرنے کی مدت کو زیادہ یاد رکھنے والا ہے۔ یہ ترجمہ اس وقت ہے جب ”اَحْصٰى“ کو اسم تفضیل مانیں اور یہ معنی راجح ہے، کیونکہ باب افعال سے بھی ”أَفْعَلُ“ کے وزن پر اسم تفضیل آجاتا ہے۔ دوسرا معنی اس صورت میں ہے کہ ”اَحْصٰى“ کو ماضی معروف قرار دیں، اس وقت معنی یہ ہوگا کہ دونوں گروہوں میں سے کون ہے جس نے اس مدت کو یاد رکھا ہے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 12
قولہ تعالیٰ : ثم بعثنھم پھر ہم نے انہیں نیند سے بیدار کردیا۔ اور جس آدمی کو نیند سے اٹھایا یا بیدار کیا جائے تو اسے مبعوث کہا جاتا ہے، کیونکہ اسے اٹھنے اور تصرف کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
قولہ تعالیٰ : لنعلم ای الحزبین احصی، لنعلم یہ اس شے کے وجود اور مشاہدہ کی طرف نکلنے سے عبارت ہے ؛ اور یہ عرب کلام کے طریقہ پر ہے، یعنی تاکہ ہم جان لیں وہ موجود ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے دو گروہوں میں سے کون صحیح شمار کرسکتا ہے۔ اور زہری نے لیعلم یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور الحزبان کا معنی دو فریق ہیں۔ اور آیت سے یہ ظاہر ہے کہ ایک گروہ ان نوجوانوں کا ہے جنہوں نے یہ گمان کیا کہ وہ تھوڑا سا ٹھہرے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
1:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الکھف “ سے مراد ہے وہ غار جو وادی میں ہوتی ہے۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والرقیم “ سے مراد ہے۔
3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والرقیم “ ایک وادی ہے جو فلسطین اور ایلہ کے قریب ہے۔
4:۔ ابن جریر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ رقیم کیا ہے کتاب ہے یا عمارت ہے۔
رقیم کی مختلف تفسیریں :
5:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والرقیم “ کے بارے میں ان میں بعض کہتے…
Read the full tafseer →[ثُمَّ : پھر ] [بَعَثْنٰهُمْ : ہم نے اٹھایا ان کو ] [لِنَعْلَمَ : تاکہ ہم جان لیں کہ ] [اَيُّ الْحِزْبَيْنِ : دو گروہوں کے کس نے ] [اَحْصٰى: شمار پورا کیا ] [لِمَا : اس کا جو ] [لَبِثُوْٓا : وہ لوگ ٹھہرے ] [اَمَدًا : بلحاظ مدت کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
اصحاب کہف اور اصحاب رقیم کون تھے
یہاں سے اصحاب کہف کا قصہ شروع ہو رہا ہے کہف غار کو کہتے ہیں جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، چند نوجوان اپنے زمانہ کے بادشاہ اور دیگر کافرین سے اپنی جان اور دین و ایمان بچانے کے لیے ایک غار میں پناہ گزین ہوگئے تھے اس لیے انہیں اصحاب کہف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ان کا واقعہ انشاء اللہ آئندہ آنے والے دو رکوع میں بیان کیا جائے گا لیکن چونکہ مذکورہ آیت میں (اَصْحَابُ الْکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ ) فرمایا ہے اس لیے رقیم کا معنی بھی جاننا چاہیے اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اصحاب کہف کے کتے کا نام ہے یہ حضرت انس صحابی ؓ اور حضرت شعبی تابعی ؓ سے منقول ہے اور حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ذکر اجمالی قصہ اصحاب کہف
قال اللہ تعالیٰ ام حسبت ان اصحب الکھف والرقیم .... الیٰ .... لما لبثوا امدا۔
(ربط) اوپر آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا ذکر تھا اب اصحاب کہف کا قصہ بیان کرتے ہیں جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی بھی دلیل ہے اور قیامت کی بھی دلیل ہے۔ چنون کہ قریش نے یہود کے سکھلانے سے آپ ﷺ کی آزمائش کے لیے آپ سے تین سوال کئے تھے ایک روح کے متعلق جس کا جواب پہلی سورت میں گزر چکا ہے اب دوسرے سوال کے جواب میں اصحاب کہف کا قصہ کر کرتے ہیں کہ صدہا سال کے ماقبل کے واقعات کا صحیح صحیح علم بدون اللہ کے وحی کے ناممکن ہے اور ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نے اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا واقعہ نہ کسی سے سنا اور نہ کسی کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
11:۔ پہلے شبہ کا جواب :۔ یہاں سے لے کر احصی لما لبثوا امدا تک پہلے شبہ کا اجمالی رد ہے۔ شبہہ یہ تھا کہ اصحاب کہف عرصہ دراز تک غار میں سوئے رہے اس دوران میں انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچی۔ یہاں تک کہ اس عرصہ میں دھوپ بھی ان پر نہیں پڑی۔ سورج جب غار کے سامنے آتا تو رخ بدل لیتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ متصرف فی الامور اور مختار تھے۔ اس بنا پر لوگوں نے ان کو کارساز اور غیب داں سمجھ کر پکارنا اور ان کے نام کی نذریں نیازیں دینا شروع کردیا۔ چناچہ وہ سات روٹیاں ان کے نام پر اور ایک ان کے کتے کے نام پر دیتے ہیں۔ ان آیتوں میں کئی طریقوں سے مذکورہ شبہہ کا جواب دیا گیا ہے۔
اول و دوم ” کانوا من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ربط آیات :
سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حقانیت وصداقت کو بیان کیا اور پھر اس کے ذریعے لوگوں کو ڈرانے کا حکم دیا ، ایک عام تخویف ہے کہ سارے کے سارے لوگ اللہ کے آنے والے عذاب سے ڈر جائیں اور دوسری تخویف ان لوگوں کے لیے خاص ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں اور عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر کو تسلی دی کہ جو لوگ گمراہی کو ترک کرکے ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ، آپ ان کے لیے زیادہ فکر مند نہ ہوں ، بلکہ فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں باقی معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں اس کے بعد اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اس نے زمین بھر کی چیزوں کو باعث رونق…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنٰہُمْ لِنَعْلَمَ اَيُّ الْحِزْبَيْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْٓا اَمَدًا 12ۧ
بعث
أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] ، زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] ، ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] ،
فالبعث ضربان :
- بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ترکیب : ام منقطعہ مقدر ہے بل کے ساتھ جو ایک بات سے دوسری بات کی طرف انتقال کے لیے آتا ہے۔ جمہور کے نزدیک ہمزہ استفہام اوروں کے نزدیک صرف بل مقدر ہے ای بل احسبت عجبا خبر ہے کانوا کی ومن آیاتنا حال ہے اس سے۔ اذا متعلق ہے اذکر مخدوف سے فضربنا کا مفعول حجابا محذوف، عددا منصوب ہے سنین کی لغت ہو کر المعنی سنین ذات العدد ھذا قول الفرار اور ممکن ہے کہ مفعول مطلق ہو والمعنی تعد عددا ای مرفوع ہے مبتدا ہونے کے سبب اور احصٰی اس کی خبر ہے اور یہ سب جملہ متعلق ہے نعلم سے۔
تفسیر : زینت دنیا جس میں منہمک ہو کر انسان عقبیٰ کو کھو بیٹھتا ہے اور خدا پرستوں کو اپنا ہم خیال نہ سمجھ کر برا جانتا بلکہ ان کو ستاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
اِذْا اَوَی الْفِتْیَۃُ اِلَی الْـکَھْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً وَّھَیِّیْٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا۔ فَضَرَبْنَا عَلٰٓی اٰذَانِہِمْ فِی الْـکَھْفِ سِنِیْنَ عَدَدًا۔ ثُمَّ بَعَثْـنٰـھُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰی لِمَا لَبِثُوْٓا اَمَدًا۔ (الکہف : 10 تا 12)
(جس وقت کچھ نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور انھوں نے دعا کی اے ہمارے رب ! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اس معاملے میں ہمارے لیے رہنمائی کا سامان فرما۔ تو ہم نے غار میں کئی سالوں کے لیے انھیں تھپک کے سلا دیا۔ پھر ہم نے ان کو بیدار کیا کہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون مدت قیام کو صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ دنیا کی بدولت رسول معظم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی مخالفت کررہے تھے۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان کیا ہے۔ جس میں اہل کفر کو یہ بتلایا ہے کہ اس طرح کا سلوک اصحاب کہف کے ساتھ بھی کیا گیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بالآخر ان کی دعوت کو شہرت عام اور دوام بخشا۔
اصحاب کہف کے واقعہ میں سب سے بڑی تعجب خیز بات یہ ہے کہ چند نوجوان اپنی جان اور ایمان بچانے کے لیے ایک غار میں داخل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تین سونو سال تک سلائے رکھا۔ جو انسانی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا۔ اس سے پہلے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ایک سو سال تک موت کی آغوش میں رکھا…
Read the full tafseer →نیند سے بیداری :
12: ثُمَّ بَعَثْنٰھُمْ (پھر ہم نے ان کو اٹھایا) نیند سے بیدار کیا لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ (تاکہ ہم معلوم کرلیں کہ ان دونوں گروہوں میں کون گروہ) جو دو گروہ ان کے قیام کی مدت میں اختلاف کررہے تھے۔ کیونکہ جب وہ بیدار ہوئے تو خود بھی انہوں نے اختلاف کیا اور اس کا تذکرہ اس ارشاد : قال قائل منہم کم لبثتم قالوا لبثنا یومًا اوبعض یوم قالوا ربکم اعلم بما لبثتم اور وہ لوگ جنہوں نے ربکم اعلم بما لبثتم کہا تھا یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اندازہ کیا کہ وہ زیادہ دیر رہے ہیں۔
نمبر 2۔ الحزبین سے وہ دوسرے لوگ مراد ہیں جو ان کے متعلق اختلاف کرنے والے تھے۔ اَحْصٰی لِمَالَبِثُوْا اَمَدًا (ان…
Read the full tafseer →تفسیر 12 ۔ ” ثم بعثناھم “ پھر ان کو نیند سے اٹھایا۔ ” لنعلم “ اپنے علم کے مشاہدہ سے معلوم کرلیں۔ ” ای العزبین “ وہ دو جاعتیں ” احصی لما لبثوا امدا “ ان بستی والوں نے اس میں اختلاف کیا کہ وہ یہاں کتنی مدت ٹھہرے رہے۔ جتنی دیر میں ہم نے ان پر نیند کو مسلط کر رکھا تھا، ہم نے ان کو اپنی حفاظت میں رکھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ عددا منصوب ہے تفسیر ہونے کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
9۔ 12:۔ ان آیتوں میں اصحاب کہف کے قصہ کی بابت پیغمبر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ کھوہ والوں کا قصہ ہماری قدرت کے روبرو عجیب بات نہیں ہے کس لیے کہ آسمان و زمین کی پیدائش رات دن کا بدلنا چاند سورج اور اس کے سوا بڑی بڑی نشانیاں ہماری قدرت کی ہیں جو اصحاب کہف کے قصہ سے بھی عجیب ہیں سیرۃ محمد بن اسحاق تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں ان آیتوں کی تفسیر کے متعلق جس قدر قصہ مجاہد سے ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کہف کے معنے غار کے ہیں اور جو لوگ غار میں پہنچے عیسائی تھے روم کے بت پرست دقیانوس بادشاہ نے ان لوگوں کو عیسائی مذہب کی حفاظت کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وہ دعا مانگی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان کی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
(آیت نمبر (9
یہ استفہام ‘ نفی اور نہی کے معنیٰ میں ہے۔ یعنی اصحاب کہف کے قصہ اور ان کے واقعات کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے انہونی بات ‘ اس کی حکمت میں انوکھا واقعہ نہ سمجھو اور نہ یہ سمجھو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں اور اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بیشمار تعجب خیز معجزات ہیں جو اصحاب کہف کے معجزے کی جنس میں سے ہیں یا اس سے بھی بڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو آفاق اور ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھاتا رہا ہے جن سے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت واضح ہوتے ہیں۔ نفی سے مراد یہ نہیں کہ اصحاب کہف کا قصہ عجائبات میں سے نہیں بلکہ یہ قصہ تو اللہ تعالیٰ کے معجزات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
قول باری ہے (لنعلم ای الحزبین احصی بما لبثوا مداً تاکہ ہم دیکھیں ان میں سے کو ن اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے) مفہوم یہ ہے کہ ہم نے انہیں دوبارہ اس لئے زندہ کردیا تاکہ ان کے قیام کی مدت کے بارے میں دونوں گروہوں کے اختلاف کے اندر درست بات ظاہر ہوجائے کیونکہ اس میں عبرت کا پہلو تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
14۔ اصحاب کہف کیلئے قدرت کی غیبی امداد کا ایک نمونہ ومنظر :۔
سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اصحاب کہف کی حفاظت کیلئے قدرت کی طرف سے خاص انتظام فرما دیا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کے کانوں پر تھپکی دے کر ان کو برسہابرس تک اسی غار میں سلا دیا، تاکہ زمانہ دراز کی ان کی اس نیند میں کوئی آواز وغیرہ خلل انداز نہ ہوسکے، اور وہ سکون اور آرام سے وہاں رہ سکیں، سو اس سے دنیا کو یہ عظیم درس دیا گیا کہ جو کوئی صدق دل سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرکے اس کی راہ میں نکلتا ہے۔ اور اس کی رضا کیلئے اور اس کے دین کی خاطر تکلیف اٹھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی نصرت و امداد کیلئے اسی طرح غیب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
اصحاب کہف کا قصہ
تشریح : قرآن پاک قصہ کہانیوں کی کتاب نہیں بلکہ اس کے ایک ایک لفظ سے حکمت و دانش، دانائی اور ہدایت کا سبق ملتا ہے اسی طرح اصحاب کہف کا واقعہ توحید، ایمان، توکل اور اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” کیا تم خیال کرتے ہو کہ اصحاب کہف ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے، ، ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ صبر، دعا اور ایمان کی مضبوطی کی مثال پیش کر رہے ہیں۔ ہوا اس طرح کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تبلیغ کی وجہ سے یہودی علماء ان کے دشمن ہوگئے۔ یہاں تک کہ ان کو سولی پر چڑھانے کا منصوبہ تیار ہوگیا مگر اللہ نے ان کو زندہ اوپر اٹھا لیا۔ قرآن میں اسی طرح بتایا گیا ہے۔ تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
سورة الکہف :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة کہف بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس میں انہی دو سوالوں کے جوابات ارشاد فرمائے گئے جو کفار مکہ نے یہود مدینہ سے پوچھ کر کئے تھے ، تیسرے سوال کا جواب سورة بنی اسرائیل میں اجمالا بیان ہوچکا جو روح کے بارے میں تھا ، مگر ان دونوں کے جواب مفصل دیئے گئے ، اگرچہ ان کی تفصیل بھی جغرافیائی محل وقوع تاریخی اعتبار سے زمانہ افراد کی حتمی تعداد وغیرہ باتوں کو بیان نہیں کرتی ، کہ قرآن حکیم کا موضوع تاریخ و جغرافیہ نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور ان کی اصلاح احوال ہے تو جس حد تک واقعہ سے اس امر میں مدد حاصل ہوتی ہو اس حد تک اس واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 1 سلف و خلف رحم اللہ میں سے بہت سے مفسرین کا بیان ہے کہ یہ چند آدمی شہزادے تھے۔ ان کی قوم بتوں کی پوجا کرتی اور ان کے نام پر چڑھاوے چڑھاتی تھی لیکن اللہ نے انہیں توفیق دی اور انہوں نے توحید کی راہ اختیار کی۔ اس پر ان کا بادشاہ جس کا نام دقیانوس بتایا جاتا ہے۔ ان کے درپے آزاد ہوگیا اور پوری قوم کو ان کے خلاف بھانے لگا اسی کشمکش میں انہوں نے فتنہ سے بچنے کے لئے غار میں پناہ لی۔ عموماً قدیم وجیہہ محققین کا خیال یہ ہے کہ ان کا زمانہ حضرت عیسیٰ کے بعد کا ہے اور یہ کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ہی کا دین قبول کیا تھا مگر ابن کثیر نے حضرت عیسیٰ سے پہلے کا زمانہ بتایا ہے کیونکہ اگر وہ عیسیٰ کے دین پر ہوتے…
Read the full tafseer →(18:12) بعثنہم۔ ہم نے ان کو اٹھا کھڑا کیا۔ لنعلم۔ لام تعلیل کا ہے نعلم مضارع جمع متکلم منصوب بوجہ عمل لا۔
ای الحزبین۔ دونوں گروہوں میں سے کون سا گروہ۔ حزبین۔ تثنیہ حزب واحد گروہ، جماعت ۔ فرقہ۔ ان دو فرقوں سے کونسا فرقہ مراد ہے۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔
(1) ایک فرقہ اصحاب کہف کا دوسرا فرقہ اہل شہر کا جو اس زمانہ میں وہاں آباد تھے جب اصحاب کہف کو دوبارہ اٹھایا گیا تھا۔
(2) دونوں گروہ اہالیانِ شہر میں سے تھے۔ ایک مؤمنوں کا گروہ۔ دوسرا کافروں کا۔
(3) اس زمانہ کے مؤمنوں میں سے ہی دو گروہ تھے۔
(4) کافروں کے دو گروہ مراد ہیں۔ ایک گروہ یہود ایک گروہ نصاریٰ ۔
(5) دونوں گروہ اصحاب کہف میں سے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 12
حسبت تو نے گمان کیا۔ اصحب ساتھی۔ الکھف لمبا چوڑا غار۔ الرقیم کوہ، غار کا دوسرا نام۔ اویٰ ٹھکانہ بنا یا۔ الفتیۃ (فتی) جوان، نوجوان، نوعمر۔ ھیء بتا دے۔ مہیا کردے۔ رشد صحیح راستہ۔ نجات کا راستہ ہے۔ ضربنا ہم نے مارا۔ پردہ ڈالدیا۔ اذان (اذن) کان۔ سنین (سنۃ) سال ، کئی برس۔ عدد گنتی۔ الحزبین (حزب) دو جماعتیں۔ دو گروہ۔ احصی زیادہ واقف۔ لبثوا وہ ٹھہرے، رکے رہے۔ امد مدت۔
تشریح : آیت نمبر 9 تا 12
بعض یہودیوں کے کہنے پر کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے اصحاب کہف کے واقعہ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہوئے پوچھا تھا اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ ان کے اس سوال کا جواب نہ دے سکیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
اصحاب کہف کا بیان
شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہود نے قریش کو تین سوال دیئے کہ حضرت محمد ﷺ سے پوچھو تو آپس میں کہنے لگے کہ ان جوانوں کا قصہ بہت عجیب ہے، محمد ﷺ اس کا جواب دیں سکیں تو عجب کی بات ہے۔ حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ کھوہ والوں کا قصہ ہماری اس قدرت کے روبرو عجیب بات نہیں ہے کس لئے کہ آسمان و زمین کی پیدائش رات دن کا بدلنا، چاند سورج اور اس کے سوا بڑی بڑی نشانیاں ہماری قدرت کی ہیں جو اصحاب کہف کے قصہ سے بھی زیادہ ہیں ۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ قصہ اصحاب کہف بیان ہوتا ہے کہ یہ سات آدمی تھے ان کے نام یہ ہیں : (1) مکسلمینا (2) یملیخا (3) مرطوقس (4) پینونس (5) سار ینونس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
[3] یعنی ایسے بیخبر ہو کر سوئے کہ کوئی آواز بھی ان کے کان میں نہ پہنچتی تھی۔ اس اسلوب بیان میں زیادہ مبالغہ ہے بہ نسبت اس کے کہ کہا جائے کہ آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
سورة کہف کی دس آیتیں :
(ف 1) ابتدا کی ان دس آیتوں میں جو معارف بیان فرمائے ہیں ان کو سمجھ لینے کے بعد گمراہی کا کوئی احتمال نہیں رہتا ، اور قلب و دماغ انواروصداقت سے مستنیر ہوجاتے ہیں ذلیل میں یہ معارف درج ہیں ۔
1۔ قرآن حکیم اللہ کی کتاب ہے ، اس میں کسی قسم کا الجھاؤ نہیں مطالب واضح اور صاف ہیں ۔
2۔ یہ ہماری تمام ضروریات دینی کی کفیل ہے ، اس صحیفہ قیم کے بعد مزید تجدید وبعثت کی ضرورت نہیں ۔
3۔ توحید کی راہ استقامت اور سلامت روی کی راہ ہے ، مسلمان کا نصب العین ہمیشہ یہی رہے گا کہ ایک خدا کے سامنے جھکے ،
4۔ عقیدہ شرک کی تمام صورتیں اور شکلیں غیر علمی اور غیر یقینی ہیں اور اللہ کی تقدیس پر…
Read the full tafseer →- 12 پھر ہم نے ایک مدت دراز کے بعد ان کو نیند سے جگا دیا تاکہ ہم اس بات کو معلوم کریں کہ غار میں ٹھیرے رہنے کی مدت ہر دو فریق میں سے کس نے زیادہ یاد رکھی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں دو فرقے تاریخ لکھنے والوں میں کہ کوئی کتے برس لکھتے ہیں کوئی کتے یا وہی اصحاب کہف جاگ کر تجویز کرنے لگے کہ ہم ایک دن سوئے بعضے کہنے لگے اس سے کم 12
بہرحال برس ہا برس کے بعد جب اٹھے اور شہر میں آئے تو باہم اختلاف ہونا قدرتی امر تھا ان میں آپس میں بھی اختلاف ہو اور دیکھنے والوں میں تاریخیں دیکھی جانے لگیں ہم معلوم کرلیں کہ ایک طویل مدت کے بعد اٹھنا قیامت کے یقین اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر لوگ ایمان لاتے ہیں یا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 1۔ یعنی ایسے غرق ہو کر سوئے کہ کوئی آواز ان کے کان میں نہ پہنچتی تھی، اور اس میں زیادہ مبالغہ ہے بہ نسبت اس کے کہ کہا جاوے کہ آنکھ پر پردہ ڈال دیا کیونکہ آنکھ تو بدون نوم ثقیل کے بھی مبصرات سے معطل ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت پر اٹھا کھڑا کیا اور ان کا پروگرام ظاہر ہوگیا :
12۔ ” پھر ہم نے ان کو اٹھا لیا تاکہ معلوم کرلیں کہ دو جماعتوں میں سے کس نے اس مدت کو محفوظ رکھا جس میں وہ ہے ۔ “
یہاں دو جماعتوں سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین نے غار والوں ہی کو دو جماعتوں میں تقسیم کیا اور کہا ہے کہ انہوں نے آپس میں اختلاف کیا جیسا کہ آگے آرہا ہے ، لیکن ہمارے خیال میں ان مفسرین کی بات میں زیادہ وزن ہے اور زیادہ صحیح ہے جنہوں نے دو جماعتوں سے ایک اصحاب کہف اور دوسرے اہل ملک یا اہل شہر مراد لئے ہیں جو ان کے مخالف تھے ۔ ایک نے حق کی پیروی کی اور دوسری نے ظلم وتشدد پر کمر باندھی پھر چند سالوں کی مدت دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
People of Kahf: Place and Period
Tafsir authority al-Qurtubi of al-Andulus (Spain) has reported some events at this juncture in his Tafsir. Some of these events, that belong to different cities, he had heard or seen himself. First of all, he says on the basis of a report from Dahhak that al-Raqim is the name of a town in Rum (the Greco-Roman territory) where twenty-one men are lying in a cave as if they are sleeping. Then, he reports from Tafsir authority, Ibn ` Atiyyah that he had heard from many people that there was a cave in Sham (Syria) which had some dead bodies in it. Attendants said…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
6. The Arabic word Kahf literally means a vast cave.
7. There is a difference of opinion about the meaning of arraqim. Some companions and their followers opined that it was the name of that habitation where this event took place and that it was situated somewhere between Aylah and Palestine. There are other commentators who take it to mean the inscription that had been set up at the cave as a memorial to the sleepers of the cave. Abul Kalam Azad, in his commentary, Tarjmanul-Quran, has preferred the first meaning and opined that it is the same place which has been called Rekem in the Bible…
Read the full tafseer →