Al-Kahf 18:17

Al-Kahf · from ayah 17

18:17

وَتَرَی الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ ؕ— ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ ؕ— مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ— وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا ۟۠وَتَرَى الشَّمۡسَ اِذَا طَلَعَتۡ تَّزٰوَرُ عَنۡ كَهۡفِهِمۡ ذَاتَ الۡيَمِيۡنِ وَاِذَا غَرَبَتۡ تَّقۡرِضُهُمۡ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمۡ فِىۡ فَجۡوَةٍ مِّنۡهُ‌ ؕ ذٰ لِكَ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ‌ ؕ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِ ‌ۚ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرۡشِدًا

اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جس کو خدا ہدایت دے یا وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [had you been present], you would see the sun when it rose, inclining away from their cave on the right, and when it set, passing away from them on the left, while they were [laying] within an open space thereof. That was from the signs of Allah. He whom Allah guides is the [rightly] guided, but he whom He leaves astray - never will you find for him a protecting guide.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 2 of surah · Ruku 14 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:17

تم انہیں غار میں دیکھتے تو تمہیں یوں نظر آتا کہ سورج جب نکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولی مرشد نہیں پا سکتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جس کو خدا ہدایت دے یا وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ دیکھیں گے کہ آفتاب بوقت طلوع ان کے غار سے دائیں جانب کو جھک جاتا ہے اور بوقت غروب ان کے بائیں جانب کترا جاتا ہے اور وه اس غار کی کشاده جگہ میں ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کی رہبری فرمائے وه راه راست پر ہے اور جسے وه گمراه کردے ناممکن ہے کہ آپ اس کا کوئی کارساز اور رہنما پاسکیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (وہ غار ایسا تھا کہ) تم سورج کو نکلتے وقت دیکھتے تو وہ ان کے غار سے دائیں طرف ہٹ کر نکل جاتا، اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں طرف کترا کر چلا جاتا، اور وہ اس غار کے ایک کشادہ حصے میں (سوئے ہوئے) تھے۔ یہ سب کچھ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جسے اللہ ہدایت دیدے، وہی ہدایت پاتا ہے، اور جسے وہ گمراہ کردے اس کا تمہیں ہرگز کوئی مددگار نہیں مل سکتا جو اسے راستے پر لائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اے محبوب! تم سورج کو دیکھو گے کہ جب نکلتا ہے تو ان کے غار سے داہنی طرف بچ جاتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کترا جاتا ہے حالانکہ وہ اس غار کے کھلے میدان میں میں ہیں یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جسے اللہ راہ دے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو ہرگز اس کا کوئی حمایتی راہ دکھانے والا نہ پاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ دیکھتے ہیں جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب ہٹ جاتا ہے اور جب غروب ہونے لگتا ہے تو ان سے بائیں جانب کترا جاتا ہے اور وہ اس غار کے کشادہ میدان میں (لیٹے) ہیں، یہ (سورج کا اپنے راستے کو بدل لینا) اﷲ کی (قدرت کی بڑی) نشانیوں میں سے ہے، جسے اﷲ ہدایت فرما دے سو وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ اس کے لئے کوئی ولی مرشد (یعنی راہ دکھانے والا مددگار) نہیں پائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تو سورج کو دیکھے گا جب وہ نکلتا ہے تو ان کی غار سے دائیں طرف کنارہ کرجاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بائیں طرف کو کترا جاتا ہے اور وہ اس (غار) کی کھلی جگہ میں ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے گمراہ کر دے، پھر تو اس کے لیے ہرگز کوئی رہنمائی کرنے والا دوست نہ پائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ دیکھیں گے کہ جب سورج نکلتا ہے تو ان کی غار سے دائیں طرف سے ہٹا رہتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو بائیں طرف کترا کر غروب ہوتا ہے اور وہ نوجوان اس غار کی وسیع جگہ میں لیٹے ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پاسکتا ہے اور جسے وہ بھٹکا دے تو آپ اس کے لئے ایسا کوئی مددگار نہ پائیں گے جو اسے راہ راست پر لاسکے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم دیکھے سورج کو کہ جب طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب کو بچا رہتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کو کترا جاتا ہے اور وہ اس کے صحین میں ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جس کو اللہ ہدایت دے وہی راہ یاب ہوتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کردے تو تم اس کے لیے کوئی دستگیری کرنے والا اور رہنمائی کرنے والا نہیں پا سکتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم (اگر انھیں غار میں دیکھتے تو) سورج کو دیکھتے کہ جب وہ نکلتا ہے تو کنی کترا جاتا ہے ان کے غار سے داہنی طرف کو اور جب ڈوبتا ہے تو ان کے بائیں جانب سے کنی کتراتا ہوا گزر جاتا ہے، جب کہ وہ اس غار کے اندر ایک کھلی جگہ میں پڑے تھے، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے، جسے اللہ ہدایت دے وہی ہے ہدایت پانے والا، اور جسے وہ گمراہ کر دے، تو تم اس کے لئے نہیں پا سکو گے کوئی حمایتی راہ دکھانے والا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب دھوپ نکلتی ہے تو تو اسے دیکھے گا کہ وہ ان کے غار سے داہنی جانب کو بچی رہتی ہے اور جب وہ چھپتی ہے تو وہ ان سے کترا جاتی ہے بائیں جانب اور وہ اس (غار) کے ایک کشادہ موقع میں تھے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ جسے اللہ ہدایت دیتا ہے وہی ہدایت پاتا ہے اور جسے وہ بےراہ کردیتا ہے تو آپ اس کے لئے نہ پائیں گے کوئی مددگار راہ بتانے والا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم سورج کو دیکھتے کہ جب وہ طلوع ہوتا تو ان کی غار سے داہنی طرف ہٹ جاتا اور جب وہ غروب ہوتا تو بائیں جانب ان سے کنی کترا جاتا اور وہ اس کی کھلی جگہ میں (لیٹے ہوئے) تھے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جسے اللہ ہدایت دیتا ہے وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو اس کے لیے تم نہیں پاؤ گے کوئی مدد گار راہ پر لانے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ دھوپ ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس غار کی کھلی جگہ میں ہیں۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جس کو اللہ ہدایت دے وہ ہدایت پا جاتا ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لیے کوئی مددگار راہ بتانے والا نہ پائو گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Had you seen them in the Cave it would have appeared to you that when the sun rose, it moved away from their Cave to the right; and when it set, it turned away from them to the left, while they remained in a spacious hollow in the Cave. This is one of the Signs of Allah. Whomsoever Allah guides, he alone is led aright; and whomsoever Allah lets go astray, you will find for him no guardian to direct him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

You would see the sun, when it rose, turning away from their Cave towards the right; and when it set, it bypassed them towards the left, and they were (lying) in the hollow thereof. That is one of the signs of Allah. Whomsoever Allah guides is the one who gets the right path and whomsoever He lets go astray, for him you will find no one to help, no one to lead.

— Muhammad Taqi Usmani

You would see the sun, when it rose, turning away from their Cave towards the right; and when it set, it bypassed them towards the left, and they were (lying) in the hollow thereof. That is one of the signs of Allah. Whomsoever Allah guides is the one who gets the right path and whomsoever He lets go astray, for him you will find no one to help, no one to lead.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And you might have seen the sun, when it rose, declining to the right from their cave, and when it set, turning away from them to the left, while they lay in the midst of the cave. That is from the Ayat of Allah. He whom Allah guides, he is the rightly-guided; but he whom He sends astray, for him you will find no guardian to lead him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And thou mightest have seen the sun when it rose move away from their cave to the right, and when it set go past them on the left, and they were in the cleft thereof. That was (one) of the portents of Allah. He whom Allah guideth, he indeed is led aright, and he whom He sendeth astray, for him thou wilt not find a guiding friend.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [had you been present], you would see the sun when it rose, inclining away from their cave on the right, and when it set, passing away from them on the left, while they were [laying] within an open space thereof. That was from the signs of Allah. He whom Allah guides is the [rightly] guided, but he whom He leaves astray - never will you find for him a protecting guide.

— Saheeh International

No sunlight could reach them during their sleep in the cave. One could see the rising sun decline to the right of their cave and the setting sun move its way to the left whilst they were sleeping in an opening of the cave. This is one of the miracles of God. Whomever God guides receives the right guidance and you will never find a guardian or guide for those whom He causes to go astray.

— Muhammad Sarwar

And you might see the sun when it rose, decline from their cave towards the right hand, and when it set, leave them behind on the left while they were in a wide space thereof. This is of the signs of Allah; whomsoever Allah guides, he is the rightly guided one, and whomsoever He causes to err, you shall not find for him any friend to lead (him) aright.

— Muhammad Habib Shakir

And thou Woudst behold the sun when it riseth veering away from their cave on the right, and when it setteth, passing them by on the left, while they were in the spacious part thereof: that is of the signs of Allah. Whomsoever Allah guideth, he indeed is the guided; and whomsoever He sendeth astray, for him thou wilt never find a directing friend.

— Abdul Majid Daryabadi

Thou wouldst have seen the sun, when it rose, declining to the right from their Cave, and when it set, turning away from them to the left, while they lay in the open space in the midst of the Cave. Such are among the Signs of Allah: He whom Allah, guides is rightly guided; but he whom Allah leaves to stray,- for him wilt thou find no protector to lead him to the Right Way.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

غار اور سورج کی شعائیں یہ دلیل ہے اس امر کی کہ اس غار کا منہ شمال رخ ہے۔ سورج کے طلوع کے وقت ان کے دائیں جانب دھوپ کی چھاؤں جھک جاتی ہے پس دوپہرے کے وقت وہاں بالکل دھوپ نہیں رہتی۔ سورج کی بلندی کے ساتھ ہی ایسی جگہ سے شعاعیں دھوپ کی کم ہوتی جاتی ہیں اور سورج کے ڈوبنے کے وقت دھوپ ان کے غار کی طرف اس کے دروازے کے شمال رخ سے جاتی ہے مشرق جانب سے۔ علم ہیئت کے جاننے والے اسے خوب سمجھ سکتے ہیں۔ جنہیں سورج چاند اور ستاروں کی چال کا علم ہے۔ اگر غار کا دروازہ مشرق رخ ہوتا تو سورج کے غروب کے وقت وہاں دھوپ بالکل نہ جاتی اور اگر قبلہ رخ ہوتا تو سورج کے طلوع کے وقت دھوپ نہ پہنچتی اور نہ غروب کے وقت پہنچتی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْكَهْف 12 بیچ میں یہ ذکر چھوڑ دیا گیا کہ اس قرارداد باہمی کے مطابق یہ لوگ شہر سے نکل کر پہاڑوں کے درمیان ایک غار میں جا چھپے تاکہ سنگسار ہونے یا مجبوراً مرتد ہوجانے سے بچ سکیں۔ سورة الْكَهْف 13 یعنی ان کے غار کا دہانہ شمال کے رخ تھا جس کی وجہ سے سورج کی روشنی کسی موسم میں بھی اندر نہ پہنچی تھی اور باہر سے گزرنے والا یہ نہ دیکھ سکتا تھا کہ اندر کون ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور اے مخاطب (وہ غار ایسی وضع پر واقع ہوا ہے کہ) جب دھوپ نکلتی ہے تو تو اس کو دیکھے گا کہ وہ غار سے داہنی جانب کو بچی رہتی ہے (یعنی غار کے دروازے سے داہنی طرف الگ ہو کر رہتی ہے) اور جب وہ چھپتی ہے تو (غار کے) بائیں طرف ہٹی رہتی ہے (یعنی اس وقت بھی غار کے اندر دھوپ نہیں جاتی کہ جا کہ ان کو دھوپ کی تپش سے تکلیف نہ پہونچے) اور وہ لوگ اس غار کے ایک فراخ موقع میں تھے (یعنی ایسے غاروں میں جو عادۃ کہیں تنگ کہیں کشادہ ہوتے ہیں، تو وہ اس غار کے ایسے موقع پر تھے جو کشادہ تھا تاکہ ہوا بھی پہنچنے اور جگہ کی تنگی سے جی بھی نہ گھبرائے) یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے (کہ اسباب ظاہری کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ تَزَاوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِنْهُ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا تز اور اصل میں تتز اور ہے۔ اس کے معنی ہٹ جانے، کترا جانے اور منحرف ہوجانے کے ہیں۔ تقرضہم قرض کے معنی کاٹنے اور کترانے کے ہیں۔ اسی سے " قرض المکان " کا محاورہ پیدا ہوا جس کے معنی ہیں اس جگہ سے ہٹ گیا، کترا گیا، گریز کر گیا۔ فجوۃ دو چیزوں کے درمیان خلاء شگاف اور گوشہ کو کہتے ہیں یہیں سے اس کا اطلاق مکان کے صحن پر بھی ہوتا ہے۔ غار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17۔ 1 یعنی سورج طلوع کے وقت دائیں جانب کو اور غروب کے وقت بائیں جانب کو کترا کر نکل جاتا اور یوں دونوں وقتوں میں ان پر دھوپ نہ پڑتی، حالانکہ وہ غار میں کشادہ جگہ پر محو استراحت تھے۔ فجوۃ کے معنی ہیں کشادہ جگہ۔ 17۔ 2 یعنی سورج کا اس طرح نکل جانا کہ باوجود کھلی جگہ ہونے کے وہاں دھوپ نہ پڑے، اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ 17۔ 3 جیسے دقیانوس بادشاہ اور اس کے پیروکار ہدایت سے محروم رہے تو کوئی انھیں راہ یاب نہیں کرسکا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

9: اس غار کا محل وقوع کچھ ایسا تھا کہ اس میں دھوپ نہیں آتی تھی۔ طلوع آفتاب کے وقت سورج اس کی دائیں جانب ہٹ کر نکل جاتا تھا اور غروب کے وقت بائیں جانب اور اس طرح یہ لوگ دھوپ کی تپش سے محفوظ بھی رہے اور اس سے ان کے جسم اور کپڑے بھی خراب نہیں ہوئے اور دھوپ کے قریب سے گذرنے کی وجہ سے گرمی کے فوائد بھی حاصل ہوتے رہے۔ 10: یعنی ان لوگوں کا اس غار میں پناہ لینا، اتنے لمبے عرصے تک سوتے رہنا اور دھوپ سے محفوظ رہنا، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی نشانی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ عجیب مصورانہ منظر ہے ، غار کے اندر پڑے ہوئے نوجوانوں کی ہو بہو تصویر کشی کی گئی ہے۔ الفاظ کے ذریعے ایسی تصویر کشی جس طرح فلم چل رہی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں۔ سورج طلوع ہوتا ہے اور وہ ایک طرف ہو کر گزر جاتا ہے گویا وہ عمداً ایسا کر رہا ہے تو اور کا لفظ سورج کے طلوع کے عمل کے ساتھ ساتھ سورج کے ارادے کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یعنی وہ ان کو چھوڑ کر دائیں طرف نکل جاتا ہے اور جب وہ غروب وہتا ہے کہ وہ شمال کی طرف ہو کر گزر جاتا ہے اور یہ لوگ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔ اس منظر کی تکمیل سے پہلے درمیان میں ایک قرآنی تبصرہ بھی آجاتا ہے۔ قرآن کا یہ مخصوص اسلوب کلام ہے کہ قصے کے درمیان مناسب جگہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے انھیں ایسے ٹھکانے کی طرف راہنمائی کی جہاں مامون و مطمئن ہو کر آرام کرتے رہیں نہ جگہ کی تنگی سے جی گھٹے، نہ کسی وقت دھوپ ستائے۔ غار اندر سے کشادہ اور ہوا دار تھا اور جیسا کہ ابن کثیر نے لکھا شمال رویہ ہونے کی وجہ سے ایسی وضع و ہئیت پر واقع تھا جس میں دھوپ بقدر ضرورت پہنچتی اور بدون ایذاء دئیے نکل جاتی تھی۔ 1 یعنی ظاہری و باطنی راہنمائی سب اسی کے قبضہ میں ہے۔ دیکھ لو جب دنیا بچل رہی تھی کس طرح اصحاب کہف کو راہ ہدایت پر ثابت قدم رکھا اور ظاہری طور پر بھی کیسے عجیب غار کی راہ بتلائی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَات الشِّمَالِ یعنی اس غار کا منہ شمال کی طرف تھا جس کی وجہ سے سورج کی براہ راست روشنی یا دھوپ اس میں دن کے کسی وقت بھی نہیں پڑتی تھی۔ ہمارے ہاں بھی دھوپ اور سائے کا یہی اصول کار فرما ہے۔ سورج کسی بھی موسم میں شمال کی طرف نہیں جاتا۔ اسی اصول کے تحت کارخانوں وغیرہ کی بڑی بڑی عمارات میں یہاں north light shells کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ ایسے shells سے روشنی تو بلڈنگ میں آئے مگر دھوپ براہ راست نہ آئے۔ وَهُمْ فِيْ فَجْــوَةٍ مِّنْهُ یعنی غار اندر سے کافی کشادہ تھی اور اصحاب کہف اس کے اندر کھلی جگہ میں سوئے ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 غار کا محل وقوع اور ہوا کی آمد ورفت :۔ اس غار کا منہ شمال کی جانب تھا اور دوسری طرف کچھ چھوٹے موٹے سوراخ تھے لیکن وہ اتنے تنگ تھے کہ ان میں سے آدمی گزر نہیں سکتا تھا اس طرح غار میں ہوا کی آمدورفت بھی رہتی تھی اور گاہے گاہے سورج کی روشنی اور دھوپ بھی اندر پہنچ جاتی تھی لیکن چونکہ اس کا دہانہ شمال کی جانب تھا لہذا دھوپ کی شدت اور تمازت سے یہ لوگ بالکل محفوظ تھے۔ سانس لینے کے لیے جس قدر تازہ ہوا یا آکسیجن کی ضرورت تھی وہ بھی انھیں مہیا ہو رہی تھی اور صحت کے لیے جتنی دھوپ ضروری تھی وہ بھی چھوٹے موٹے سوراخ سے اندر پہنچ جاتی تھی۔ 16 یعنی اللہ تعالیٰ کا ان توحید پرستوں کو ایسی غار کی جانب رہنمائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20۔ (اس لئے نہ ہوا سے محروم تھے نہ روشنی سے) کوہستانی غار اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ اندر ہی اندر بہت دور تک چلے جاتے ہیں۔ کہیں تنگ اور کہیں کشادہ۔ یہ جگہ جہاں یہا اصحاب کہف اہل توحید مقیم تھے تنگ نہ تھی۔ خوب کشادہ تھی (آیت) ” وتری الشمس اذا طلعت “۔ یعنی اے مخاطب تو آفتاب کو اس کے طلوع کے وقت وہاں یوں دیکھتا۔ شہر افسوس کا عرض البلد درجہ 30 شمال ہے۔ ایسے مقام پر جو غار شمال رویہ ہوگا۔ اس کے اندر سورج کی شعاعیں قدرۃ داخل نہ ہوسکیں گی، اور اس کے اندر کے رہنے والے اگر شمال ہی کی طرف رخ رکھیں گے تو دھوپ کی تیزی سے برابر امن میں رہیں گے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن (آیت) ” تزور۔۔ الشمال “۔ یعنی دھوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–17

آیت نمبر 13 تا 17 ترجمہ : ہم آپ کو ان کا صحیح قصہ سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں ترقی دی تھی اور ہم نے ان کے دل قوی کر دئیے تھے یعنی حق بات کہنے کے لئے قوی کر دئیے تھے جب وہ اپنے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوئے اور اس بادشاہ نے ان کو بتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار ہے ہم اس کو چھوڑ کر کسی غیر کی ہرگز بندگی نہ کریں گے اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم نے نہایت ہی غلط بات کی یعنی حد سے گزری ہوئی حرکت کی یعنی بالفرض اگر ہم نے اللہ کے علاوہ کسی غیر کی بندگی کی تو ہم کفر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَتَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَات الشِّمَالِ وَهُمْ فِيْ فَجْــوَةٍ مِّنْهُ : اور (اے رسول یا اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ دھوپ جب نکلتی ہے تو ان کے غار سے بائیں جانب کو بچی رہتی ہے اور چھپتی ہے تو بائیں طرف کو ہٹی رہتی ہے اور وہ غار کے فراخ مقام میں ہیں۔ تَزٰوَرُمڑ جاتا ہے پھرجاتا ہے۔ یہ لفظ زور سے بنا ہے زور کا معنی ہے جھکاؤ۔ ذَاتَ الْیَمِیْنَ دائیں جانب ذات الشِّمَالِ بائیں جانب غار سے دائیں بائیں جانب۔ تَقْرِضُ کترا جاتا ہے ‘ ان کو کاٹ دیتا ہے ان کو چھوڑ دیتا ہے۔ فَجْوٰۃٍکشادہ جگہ ‘ یعنی وسط غار میں اصحاب کہف پڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(17) اور وہ غار ایسی وضع پر ہے کہ دھوپ نکلنے کے وقت تو غار کے داہنی جانب کو بچھی رہتی ہے اور ڈوبنے کے وقت بائیں طرف کو ہٹی رہتی ہے اور وہ لوگ اس غار کے ایک کونے میں تھے یا یہ کہ وہ لوگ اس غار کے ایک کشادہ روشن موقع میں تھے اصحاب کہف کا جو واقعہ بیان کیا جا رہا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے جسے اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ہدایت عطا فرمائے، وہ ہی ہدایت پاتا ہے اور جس کو وہ اپنے دین سے گمراہ کر دے تو آپ اس کے لیے کوئی مددگار اور ہدایت کا راستہ بتانے والا نہ پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَتَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ۔۔ : یعنی ان کے غار کا منہ شمال کی طرف تھا، جب سورج چڑھتا تو دھوپ دائیں طرف ہوجاتی اور غروب کے وقت بائیں طرف ہوجاتی تھی۔ ان کے بدن غار کے کشادہ حصے میں سورج کی تیز شعاؤں سے محفوظ تھے۔ مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ : ”ھُوَ“ معرفہ کے بعد خبر ”الْمُهْتَدِ“ بھی معرفہ ہے، اس سے حصر کا معنی حاصل ہوا، یعنی جسے اللہ سیدھی راہ پر چلائے سو وہی سیدھی راہ پانے والا ہے، جیسا کہ اصحاب کہف کو ایمان کی نعمت، پھر اعلان حق کی ہمت، پھر ہجرت کی توفیق اور غار میں جانے کا راستہ عطا فرمایا، جہاں زندہ رہنے کے لیے دھوپ اور ہوا کی جس مقدار میں ضرورت تھی موجود تھی اور وہ لوگوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–18

آیت نمبر 17 تا 18 قولہ تعالیٰ : وتری الشمس اذا طلعت تزورعن کھفھم ذات الیمین یعنی اے مخاطب ! تو سورج کو دیکھے گا کہ وہ اپنے طلوع کے وقت ان کی غار سے جھک کر اور ہٹ کر گزرتا ہے۔ اور اس کا معنی یہ ہے : بلاشبہ اگر تو انہیں دیکھے تو یقیناً تو انہیں اسی طرح دیکھے نہ یہ کہ مخاطب نے انہیں فی الحقیقت دیکھا۔ اور تزور کا معنی دور ہٹ جانا اور مائل ہونا، جھک جانا ہے، یہ الازورار سے ماخوذ ہے۔ اور الزور کا معنی جھکنا ہے۔ اور الأزور فی العین نظر سے ایک طرف ہٹ جانے والا، اور غیر عین میں بھی یہ استعمال ہو سکتا ہے، جیسا کہ ابن ابی ربیعہ نے کہا ہے : عجنبی خیفۃ القوم ازور (میرا پہلو قوم کے خوف سے ایک طرف جھک گیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–20

1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تزور “ سے مراد ہے ہٹ جانا (اور) (آیت) ” تقرضہم “ سے مراد ہے ان کو چھوڑ کر۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” تقرضہم “ سے مراد ہے کہ ان کو چھوڑ دیتی تھی (آیت) ” وھم فی فجوۃ منہ “ سے مراد ہے اندر کی جگہ۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم فی فجوۃ منہ “ میں فجوۃ سے مراد ہے زمین کی علیحدہ اور اکیلی جگہ۔ 4:۔ ابن منذر نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھم فی فجوۃ منہ “ سے مراد ہے کنارہ۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَتَرَى: اور تو دیکھے ] [الشَّمْسَ : سورج کو ] [اِذَا : جب ] [طَلَعَتْ : وہ طلوع ہوتا ہے ] [تَّزٰوَرُ : تو وہ بچ کر نکلتا ہے ] [عَنْ كَهْفِهِمْ : ان کے غار سے ] [ذَاتَ الْيَمِيْنِ : دا ہنی جانب ] [وَاِذَا : اور جب ] [غَرَبَتْ : وہ غروب ہوتا ہے ] [تَّقْرِضُهُمْ : تو وہ کترا جاتا ہے ان سے ] [ذَاتَ الشِّمَالِ : بائیں جانب ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [فِيْ فَجوةٍ : صحن میں ہیں ] [مِّنْهُ : اس کے ] [ذٰلِكَ : یہ ] [مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ : اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ] [مَنْ : جس کو ] [يَّهْدِ : ہدایت دی ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [فَهُوَ : تو وہ ] [الْمُهْتَدِ : ہی ہدایت پانے والا ہے ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

غار کی کیفیت، سورج کا کترا کر جانا کتے کا ہاتھ بچھا کر بیٹھا رہنا ان آیات میں اصحاب کہف کی حالت کا بیان فرمایا ہے جو غار میں داخل ہونے کے بعد پیش آئی، یہ لوگ غار کے اندر ایک کشادہ جگہ میں پہنچ کر لیٹ گئے، اس غار کی جائے وقوع اس طرح سے تھی کہ روزانہ سورج مشرق سے نکلتا اور مغرب میں چھپ جاتا تھا لیکن اس کی دھوپ ان پر نہیں پڑتی تھی جب سورج نکل کر چڑھتا تھا اور دھوپ پھیلتی تھی تو غار کی داہنی جانب سے اس طرح ہٹی ہوئی رہ جاتی تھی کہ اس کے دروازہ تک نہ پہنچتی تھی اور جب سورج چھپنے لگتا تھا تو اس وقت جو تھوڑی بہت دھوپ ہوتی ہے وہ غار کی بائیں جانب رہ جاتی تھی یعنی اس وقت بھی دروازہ پر دھوپ نہ پڑتی تھی۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–17

تفصیل قصہ اصحاب کہف قال اللہ تعالیٰ نحن نقص علیک نباہم .... الیٰ .... فلن تجد لہ ولیا مرشدا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اصحاب کہف کا قصہ مجملا ذکر فرمایا اب اس قصہ کی کچھ تفصیل فرماتے ہیں تاکہ اہل صبر و استقامت اور زہر وان منزل آخرت کے لئے مشعل ہدایت بنے چناچہ فطرماتے ہیں۔ اے نبی ﷺ ہم آپ کے سامنے ان کی صحیح صحیح خبر نیان کرتے ہیں جو عین واقعہ کے مطابق ہے یہ اس لئے فرمایا کہ یہ قصہ لوگوں میں مختلف طور پر مشہور تھا جن میں بعض جھوٹی اور غلط روایتیں بھی شامل تھیں اس لئے فرمایا کہ جتنا قصہ ہم نے قرآن میں بیان کردیا وہ بالکل حق اور صدق ہے تحقیق وہ اصحاب چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ یہاں سے لے کر ” ذلک من ایت اللہ “ تک ” کانوا من ایتنا عجبا “ کی تفصیل ہے۔ ” وتری “ سے خطاب ہر مخاطب سے ہے ” تزٰور “ اصل میں تتز اور تھا۔ ایک تا تخفیفا حذف کردی گئی۔ تزاورای تمیل۔ ایک طرف ہوجاتا ہے۔ تقرضھم ای تعدل عنھم یعنی غار کے دھانے سے کترا کر گذرتا ہے۔ ” فجوۃ “ ای متسع من الکہف۔ غار کے اندر فراخ جگہ۔ دونوں جملوں کا حاصل یہ ہے کہ غار کچھ اس طرح واقع تھا کہ غار کے اندر سونے والوں پر دن کے کسی وقت بھی دھوپ نہیں پڑ سکتی۔ مگر تازہ ہوا ہر وقت پہنچ سکتی تھی۔ تو غار میں عرصہ دراز تک سوئے رہنا اور ہر قسم کی تکلیف اور گزند سے محفوط رہنا۔ یہاں تک کہ اس اثنا میں ان پر سورج کی کرن تک نہیں پڑی اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–18

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے متعلق فرمایا کہ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے اللہ نے ان کے لیے ہدایت کا سامان زیادہ کردیا ، پھر ان کے دلوں کو مضبوط کردیا جب انکو مشرک اور ظالم بادشاہ کے سامانے پیش کیا گیا تو انہوں نے کھڑے ہو کر صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ، ہم اس کے سوا کسی دوسری ذات کو معبود ماننے کے لیے تیار نہیں اگر ہم ایسا کریں گے تو سخت زیادتی کرنے والے ہوں گے ، ہماری قوم کے جن لوگوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں فرمایا اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر افتراء باندھتا ہے ، خدا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَہْفِہِمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُہُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَہُمْ فِيْ فَجْــوَۃٍ مِّنْہ ُ ۝ 0ۭ ذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللہِ ۝ 0ۭ مَنْ يَّہْدِ اللہُ فَہُوَالْمُہْتَدِ۝ 0ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا۝ 17ۧ شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–19

ترکیب : وتری الشمس جملہ ان کے حال بیان کرنے کے لیے تزا اور اصل میں تتز اور ایک تے حذف ہوگئی من الزور بمعنی المیل ذات الیمین اے جھۃ الیمین ذات صفت ہے موصوف کے قائم مقام واقع ہوئی کیونکہ یہ ذوکا مؤنث ہے تقدیر تز اور عن کھفھم جھۃ ذات الیمین۔ فجوۃ مکان کا صحن یا گوشہ اس کی جمع فجوات آتی ہے ایقاظ جمع یقظ و یقظان رقود مصدر سمی المفعول بہ اور جس نے جمع راقد کہا غلطی کی کیونکہ فاعل کی جمع فعول نہیں آتی۔ اصحاب کہف و رقیم کا قصہ : کہف غار کو کہتے ہیں اور رقیم بمعنی المرقوم ای المکتوب پتھر یا سیسے کی وہ لوح کہ جس پر کچھ کتبہ لوگوں نے اصحاب کہف کا مختصر سا حال ایک لوح پر کندہ کر کے اس غار کے دروازہ پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَتَرَی الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ کَھْفِھِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُھُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَھُمْ فِیْ فَجْوَۃٍ مِّنْہُ ط ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ ط مَنْ یَّھْدِاللّٰہُ فَھُوَالْمُھْتَدِ ج وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَلَـہٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۔ (الکہف : 17) (اور آپ ﷺ سورج کو دیکھتے ہیں کہ جب طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب کو بچ کے نکل جاتا ہے، اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں طرف کو کترا جاتا ہے اور وہ اس کی کشادہ جگہ میں ہیں، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جس کو اللہ ہدایت دے وہی راہ یاب ہوتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کردے تو آپ ﷺ اس کے لیے کوئی دستگیری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، جس غار میں نوجوان داخل ہوئے اس کا نقشہ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رہنمائی سے انہیں ایسی غارکا انتخاب کرنے کی توفیق عنایت فرمائی کہ جس کا اندرونی اور بیرونی نقشہ یوں بیان فرمایا ہے کہ صبح کے وقت سورج غار کے دہانے پر دائیں طرف مڑجاتا اور غروب کے وقت دہانے سے بائیں سمت ہوجاتا۔ اس طرح وہ دوپہر اور پچھلے پہر سورج کی تمازت سے محفوظ کردیئے گئے۔ اس غار کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔ گویا کہ غار ہر اعتبا رسے محفوظ ہونے کے ساتھ تازہ ہوا اور مناسب روشنی کی مرکز بنادی گئی۔ غار اندر سے اس قد رکشادہ اور ہموار تھی جس کے لیے ” فجوۃ “ کا لفظ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قراءت : مدنی و شامی نے مَرْفِقًا پڑھا ہے۔ کیفیت ِغار : 17: وَتَرَی الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰ وَرُ (اے مخاطب تم دیکھو گے کہ دھوپ جب نکلتی ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب کو بچھی جاتی ہے) قراءت : کوفی نے تَزْوَرُ پڑھا ہے۔ اور شامی نے تَزَّاور اور دیگر نے تز اور۔ اس کی اصل تتز اور ہے۔ تخفیف کردی تاءؔ کو زاء میں ادغام کر کے یا پھر اس کو حذف کردیا۔ یہ تمام الزور سے ہے اور وہ میلان کو کہا جاتا ہے اور اسی سے زارہ کہتے ہیں جبکہ وہ اس کی طرف مائل ہو۔ الزور (جھوٹ) سچ سے میلان اختیار کرنا۔ عَنْ کَھْفِھِمْ (ان کے غار سے) اس سے مائل ہوجاتا اور اس کی شعاعیں ان پر نہ پڑتیں۔ ذَاتَ الْیَمِیْنِ (دائیں جانب)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔ ” وتری الشمس اذا طلعت تز اور “ ابن عامر، یعقوب نے زاء کے سکون کے ساتھ اور راء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے تحمر کے وزن پر۔ اہل کوفہ نے زاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے زاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان سب کا معنی ایک ہی ہے، مڑ جانا پھرجانا۔ ” عن کھفھم ذات الیمین “ وہ دائیں جانب ” واذا غربت تقرضھم “ ان کو چھوڑ دیتا ہے اور ان کو کاٹ دیتا ہے۔ ” ذات الشمال “ قرض اصل میں کاٹنا پھرجانے کو کہا جاتا ہے۔ ” وھم فی فجوۃ منہ “ کشادہ جگہ، اس کی جمع ” فجوات “ آتی ہے۔ ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ غار کا رخ بنات النعش کی طرف تھا۔ غار کے محاذات میں قریب ترین مشرق و مغرب راس سرطان کا مشرق و مغرب تھا۔ جس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

17: اس قصہ میں اللہ کی قدرت کی جس طرح اور نشانیاں ہیں یہ بھی ایک نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان جوانوں کے جسموں کو دھوپ مینہ اور برف کے صدمہ سے بچا دیا ہے مینہ اور برف ہر روز کے صدمہ کی چیزیں نہیں ہیں موسمی چیزیں ہیں اس واسطے فقط دھوپ کا ذکر فرمایا کہ بارہ مہینے کے صدمہ کی چیز ہے بعضے علماء نے غار کے دیواروں کی بلندی کو دھوپ کے غار میں نہ آنے کا سبب قرار دیا ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ دیواروں کی بلندی مینہ اور برف کو نہیں روک سکتی اس واسطے یہی قول صحیح ہے کہ جس صاحب قدرت نے اس غار سے مینہ اور برف کو روکا اس نے دھوپ کو غار کے دائیں بائیں کر کے غار کو دھوپ سے بچا دیا علاوہ اس کے ان جوانوں کا سونا غار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–18

(آیت نمبر (17: یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج کی تمازت سے ان کی حفاظت کی۔ انہیں ایک ایسا غار مہیا کیا کہ جب سورج طلوع ہوتا تو اس کردائیں طرف سے گزر جاتا اور جب غروب ہوتا تو اس کی بائیں طرف سے گزر جاتا اس طرح سورج کی تمازت ان تک نہ پہنچ پاتی ‘ جو ان کے ابدان کو خراب کرتی۔ (و ھم فی فجوۃ منہ ) ” اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ “ یعنی وہ غار کے اندر ایک کھلی جگہ میں لیٹے ہوئے تھے تاکہ وہاں تازہ ہوا کا گزر ہو اور یوں وہ گھٹن اور بدن کے خراب ہونے سے بچیں رہیں خاص طور پر جبکہ انہیوں نے طویل عرصہ تک پڑے رہنا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے جو اس کی قدرت اور رحمت پر دلالت کرتی ہے نیز ان کی دعا کے قبول ہونے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–17

قول باری ہے (لنعلم ای الحزبین احصی بما لبثوا مداً تاکہ ہم دیکھیں ان میں سے کو ن اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے) مفہوم یہ ہے کہ ہم نے انہیں دوبارہ اس لئے زندہ کردیا تاکہ ان کے قیام کی مدت کے بارے میں دونوں گروہوں کے اختلاف کے اندر درست بات ظاہر ہوجائے کیونکہ اس میں عبرت کا پہلو تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

23۔ اللہ پر بھروسہ غیبی امداد سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ :۔ سو اس سے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسے اور اسی پر اعتماد کا درس دیا گیا ہے سو اس بھروسے اور اعتماد کا نتیجہ یہ ہوا کہ غار میں انکے لئے قدرت کی طرف سے خاص انتظام فرمایا گیا کہ سورج اپنے طلوع و غروب میں ان سے کنی کتراتا ہوا گزر جاتا ہے اور اس طرح یہ نوجوان سورج کی تمازت و گرمی اور اس کے مضر اثرات سے محفوظ ومصون رہتے تھے، جو کہ قدرت کی عنایت کا ایک کھلا اور عظیم الشان مظہر تھا، سو اس سے یہ ظاہر اور واضح ہوجات ہے کہ جو لوگ صدق دل سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے اور اسی پر اعتماد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انکو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے اسی طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–18

غار کا بہترین بندوبست تشریح : ان آیات میں اللہ کی طرف سے ان کی حفاظت کا خاص بندوبست بتایا گیا ہے۔ پہلا تو یہ کہ وہ گہری نیند سوئے پڑے ہیں اور جب بندہ سو جاتا ہے تو سکون میں ہوجاتا ہے نہ کسی قسم کی فکر نہ پریشانی اور نہ ڈر۔ دوسرا یہ کہ غار کا منہ کیونکہ شمال کی طرف ہے اس لیے دھوپ کسی بھی موسم میں اندر نہیں پہنچتی اور وہ لوگ اس کی سختی سے بچے رہتے ہیں جب کہ ہوا اور روشنی برابر ان کو پہنچتی رہتی ہے۔ یہ بھی اللہ کی قدرت کی بہترین نشانیاں ہیں۔ نیک فطرت لوگوں کے ایمان کو اللہ اور بھی بڑھا دیتا ہے اور بد فطرت کو تو کوئی بھی ہدایت نہیں دیتا یہاں تک کہ اللہ بھی ان کے لیے نیکی اور راستی کے دروازے نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 13–17

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف تو سنئے ہم نے آپ کو ان واقعہ کا ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے تو بہت بےسروپا باتین اس میں شامل کر رکھی ہوں گی ، لہذا ارشاد ہوا کہ درست واقعات یہاں کتاب میں بیان کئے جاتے ہیں کہ وہ کچھ نوجوان تھے جو اللہ جل جلالہ پر ایمان لائے ، اپنے پروردگار کی عظمت کو خلوص دل سے تسلیم کرلیا تو ہم نے ان کے لیے راہ ہدایت کی سوجھ بوجھ بڑھا دی اور انہیں نیکی اور بدی میں فرق کا احساس شدت سے ہوگیا ایسا کہ جو بدی کو چھوڑنے اور نیکی کو اپنانے پر مجبور کر دے ۔ (ایمان کی خصوصیت) اس جگہ ایمان کی خصوصیت ارشاد ہوئی ہے کہ اگر خلوص نصیب ہو تو ایمان کے باعث اللہ جل جلالہ کی طرف سے شعور بیدار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی ان کے غار کا منہ شمال کے رخ تھا۔7 کہ انہیں غار کی راہ دکھائی جہاں زندہ رہنے یک لئے دھوپ اور ہوا کی جس مقدار کی ضرورت تھی وہ انہیں ملتی رہی اور وہ لوگوں کی نگاہ سے محفوظ بھی رہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:17) تز اور مضارع واحد مؤنث غائب الزور کے معنی ملاقات کرنا۔ زیارت کرنا باب تفاعل سے باہم ایک دوسرے کی زیارت کرنا الزور کے معنی سینے کے ایک طرف جھکا ہونے کے بھی ہیں۔ اسی لئے جس کے سینے میں ٹیڑھا پن ہو اسے الازور کہتے ہیں جب تز اور کے صلہ میں عن آئے تو رخ بچانے، سینہ موڑنے ، بچ کر نکلنے اور کترانے کے معنی ہوتے ہیں لہٰذا تز اور عنہ اس نے اس سے پہلو تہی کی۔ اس سے ایک جانب ہٹ گیا۔ یہاں اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں۔ تز اور اصل میں تتز اور تھا تخفیف کے لئے ایک ت کو حذف کیا گیا۔ تز اور عن کھفہم کے معنی ہیں کہ سورج ان کے غار سے ایک طرف کو ہٹ کر نکل جاتا ہے۔ تقرضہم۔ مضارع واحد مؤنث غائب ہم ضمیر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–18

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 18 طلعت نکلی ہے۔ نکلا ہے۔ تز اور بچ جاتا ہے۔ ذات الیمین دائیں جانب۔ تقرض کترا جاتی ہے۔ ذات الشمال بائیں طرف ۔ فجوۃ کشادہ۔ کھلی جگہ۔ مرشد راستہ پر لانے والا۔ ایقاظ جاگتا ہوا۔ رقود سوئے ہوئے۔ نقلب ہم بدلتے ہیں۔ کلب کتا۔ باسط پھیلانے والا۔ ذراعین دونوں بازو۔ الوصید دہلیز۔ غار کا منہ ۔ اطلعت تو نے جھانکا۔ ولیت تو مڑ جاتا ہے۔ فرار بھاگنا۔ ملئت بھر دیا گیا۔ رعب دہشت، رعب۔ تشریح آیت نمبر 17 تا 18 اصحاب کہف اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں اس لئے اللہ نے اپنی قدرت کا ملہ سے ان کے لئے ایسا نظام فرما دیا کہ جس پر جتنا بھی غور کیا جائے گا علم و عقل رکھنے والے اس کو ایک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

قدرت کی یہ بھی نشانیاں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان جوانوں کے جسموں کو دھوپ مینہ اور برف کے صدمہ سے بچا دیا ہے اور تازہ ہوائیں ان کو پہنچتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–20

[5] یعنی ان کے غار کا دہانا شمال کے رخ تھا جس کی وجہ سے سورج کی روشنی کسی موسم میں بھی اندرنہ پہنچتی تھی اور باہر سے گزرنے والا یہ نہ دیکھ سکتا تھا کہ اندر کون ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) یعنی ان لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو جگہ پسند فرمائی ہے ، وہ دھوپ سے محفوظ ہے ، سورج طلوع و غروب کے وقت کترا کر نکل جاتا ہے ، اور یہ لوگ آفتاب کی تمازت سے محفوظ رہتے ہیں ، البتہ ہوا پہنچتی رہتی ہے ، کیونکہ ہوا کے لئے غار کا دہانہ موجود ہے ، خدا کی جانب سے یہ حسن انتظام خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ حل لغات : شططا : غلو ، مبالغہ ، اندازہ سے گزرنا ، حد سے زیادہ ، بعید از عقل ۔ مرفقا : وسیلہ ، راحت ، آسائش ۔ فجوۃ : کشادہ جگہ ، فراخ مقام :

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 17 اور اے مخاطب جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو تو دیکھے گا کہ دھوپ ان کے غار سے دائیں جانب کو بچتی رہتی ہے اور جب آفتاب غروب ہوتا ہے تو دھوپ ان سے بائیں جانب کترا جاتی ہے اور ان اصحاب کہف کی حالت یہ ہے کہ وہ اس کھوہ کے کشادہ اور فراخ میدان میں ہیں یہ بات باوجود میدان میں ہونے یک وہ آفتاب کی تمازت اور دھوپ کی گرمی سے محفوظ ہیں اللہ تعالیٰ کے نشان ہائے قدرت میں سے ایک نشانی ہے جس کی رہنمائی اللہ تعالیٰ فرمائے اور جس کو ہدایت دے وہی ہے راہ یافتہ اور جس کو وہ بےراہ رکھے اور جس سے وہ دست کش ہوجائے تو آپ اس کا کوئی ایسا مددگار نہ پائیں گے جو اس کی رہنمائی کرسکے۔ یعنی اس کھوہ کا جائے وقوع کچھ ایسا واقع…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ یعنی غار کے دروازے سے الگ رہتی ہے۔ 4۔ یعنی اس وقت بھی دروازے پر نہیں پڑتی تاکہ دھوپ سے ایذا نہ ہو۔ غار کی داہنی اور بائیں جانب یا تو اس میں داخل ہونے والے کے اعتبار سے پس تقدیر اول پردہ غار شمال الرویہ ہوگا، اور تقدیر ثانی پر جنوب رویہ، اور شرق رویہ ہونے میں طلوع کے وقت ان پر دھوپ پڑتی اور غروب رویہ ہونے میں غروب کے وقت اور مقصود اس سے اس جگہ کا محفوظ ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس غار میں انہوں نے پناہ لی اس کا نقشہ بھی بڑا ہی عجیب تھا ۔ 17۔ فرمایا وہ غار جس میں وہ پناہ گزیں ہوئے تھے اس طرح واقع ہوئی تھی کہ اس میں گھسنے اور داخل ہونے کہ جگہ تو تنگ تھی ، لیکن اندر سے بہت کشادہ تھی خواہ وہ اس غار کو پہلے جانتے تھے یا اتفاقات کے تحت وہ اس طرف آنکلے تھے دونوں ہی صورتوں میں یہ اللہ تعالیٰ ہی کی مدد سے ایسا ہوا تھا گویا قدرت نے پہلے ہی ان کے لئے یہ ایک شاندار اور نہایت پختہ بلڈنگ تیار کر رکھی تھی جو معلوم ہوتا ہے کہ جنوبا شمالا واقع ہونے کے باعث طلوع اور غروب ہونے کے وقتوں میں سورج کے بالمقابل نہیں پڑتی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سورج نکلتے وقت وہاں سے داہنی جانب کو ہٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary In these verses, Allah Ta` ala has told us about three states of the People of Kahf. All three are indeed unique and it was the karamah, a matter of wonder, that manifested itself in an extraordinary way around these people devoted to Allah (a thing of wonder that manifests itself at the hands of a prophet of Allah is called a mujizah or miracle, while if it appears at the hand of some other pious persons, it is called 'Karamah' ). First of all, to be overtaken by continuous sleep for a long time and to stay alive in that state without eating and drinking is by itself a matter of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12. It has not been mentioned that in accordance with this mutual resolve, they left the city and went to a secret cave in the mountains in order to escape from death or forced apostasy. 13. This is to show that the mouth of the cave faced the north. That is why the light of the sun could not enter inside the cave and the one who passed by it could not see who was inside it.

Read the full tafseer →