Explained with ayahs 43–49
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی
قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔…
Read the full tafseer →سورة یُوْسُف 36
بیچ میں کئی سال کے زمانہ قید کا حال چھوڑ کر اب سر رشتہ بیان اس مقام سے جوڑا جاتا ہے جہاں سے حضرت یوسف ؑ کے دنیوی عروج شروع ہوا۔
سورة یُوْسُف 37
بائیبل اور تلمود کا بیان ہے کہ ان خوابوں سے بادشاہ بہت پریشان ہوگیا تھا اور اس نے اعلان عام کے ذریعہ سے اپنے ملک کے تمام دانشمندوں، کاہنوں، مذہبی پیشواؤں اور جادوگروں کو جمع کر کے ان سب کے سامنے یہ سوال پیش کیا تھا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور بادشاہ مصر نے (بھی ایک خواب دیکھا اور ارکان دولت کو جمع کر کے ان سے) کہا کہ میں (خواب میں کیا) دیکھتا ہوں کہ سات گائیں فربہ ہیں جن کو سات لاغر گائیں کھا گئیں اور سات بالیں سبز ہیں اور ان کے علاوہ سات اور ہیں جو کہ خشک ہیں (اور خشک بالوں نے اسی طرح ان سات سبز پر لپٹ کر ان کو خشک کردیا) اے دربار والو اگر تم (خواب کی) تعبیر دے سکتے ہو تو میرے اس خواب کے بارے میں مجھ کو جواب دو وہ لوگ کہنے لگے کہ (اول تو یہ کوئی خواب ہی نہیں جس سے آپ فکر میں پڑیں) یونہی پریشان خیالات ہیں اور (دوسرے) ہم لوگ (کہ امور سلطنت میں ماہر ہیں) خوابوں کی تعبیر کا علم بھی نہیں رکھتے (دو جواب اس لئے دیئے کہ…
Read the full tafseer →وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّىْٓ اَرٰي سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ ۭ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُوْنَ۔
بادشاہ کا خواب : جب اللہ تعالیٰ کسی بات کو چاہتا ہے تو خواہ وہ کتنی بعید از قیاس ہو اس کے اسباب خود بخود پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اس دوران میں خود بادشاہ نے ایک خواب دیکھا کہ سات فربہ گائیں ہیں، سات دبلی، اور یہ دبلی گائیں فربہ گایوں کو نگلے جا رہی ہیں۔ اسی طرح سات سبز بالیاں ہیں اور دوسری سات خشک اور یہ سات خشک بالیاں ساتوں سبز بالیوں کو کھا رہی ہیں۔ بادشاہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
44۔ 1 یہ خواب اس بادشاہ کو آیا، عزیز مصر جس کا وزیر تھا۔ اللہ تعالیٰ کو اس خواب کے ذریعے سے یوسف ؑ کی رہائی عمل میں لانی تھی۔ چناچہ بادشاہ کے درباریوں، کاہنوں اور نجومیوں نے اس خواب پریشان کی تعبیر بتلانے سے عجز کا اظہار کردیا، بعض کہتے ہیں کہ نجومیوں کے اس قول کا مطلب مطلقا علم تعبیر کی نفی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ علم تعبیر سے وہ بیخبر نہیں تھے نہ اس کی انہوں نے نفی کی، انہوں نے صرف خواب کی تعبیر بتلانے سے لا علمی کا اظہار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
28: بادشاہ نے جو خواب دیکھا تھا وہ اس کی تعبیر جاننا چاہتا تھا، مگر دربار کے لوگوں نے پہلے تو یہ کہا کہ یہ کوئی بامعنی خواب معلوم نہیں ہوتا، پریشان قسم کے خیالات بعض اوقات ایسے خوابوں کا روپ دھارلیتے ہیں، پھر یہ بھی کہا کہ اگر یہ واقعی کوئی بامعنی خواب ہے تب بھی ہم اس کی تعبیر بتانے سے قاصر ہیں ؛ کیونکہ ہم اس علم سے واقف نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
منظر پھر منتقل ہوجاتا ہے۔ اب ہم بادشاہ کے دربار میں پہنچ جاتے ہیں۔ بادشاہ نے ایک اہم خواب دیکھا ہے۔ وہ اپنے حاشیہ نشینوں اور کاہنوں اور مذہبی لیڈروں سے اس کی حقیقی تاویل دریافت کرتا ہے۔
بادشاہ نے اس خواب کی تعبیر چاہی اور اس کے ارد گرد بیٹھنے والے حاشیہ نشین اور درباری مذہبی لیڈر ان خوابوں کی تعبیر نہ بتا سکے۔ یا انہوں نے محسوس تو کرلیا تھا کہ ملک کو کچھ مشکلات در پیش آنے والی ہیں لیکن وہ بادشاہ کے سامنے کسی بدشگونی کے اظہار کی جرات نہ کرسکے۔ شاہی درباریوں کا یہ طریقہ کار ہوتا ہے کہ وہ بات کو ٹال دیتے ہیں اور یا جو بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے ان اہم…
Read the full tafseer →5 وہ سوکھی بالیں ہری بالوں پر لپٹتی ہیں اور انھیں خشک کردیتی ہیں۔ یہ خواب بادشاہ مصر " ریان بن الولید " نے دیکھا۔ جو آخرکار حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا اور ظاہری عروج کا سبب بنا۔ یوسف (علیہ السلام) کے قصہ میں جابجا اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ خدا جب کوئی بات چاہتا ہے غیر متوقع طریقہ سے اس کے ایسے اسباب فراہم کردیتا ہے جن کی طرف آدمی کا خیال نہیں جاتا۔
6 یعنی اگر اس فن میں کچھ مہارت رکھتے ہو تو میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ۔
Read the full tafseer →آیت 43 وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّىْٓ اَرٰي سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ
اب یہاں سے اس قصے کا ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے۔ اس وقت مصر پر فراعنہ کی حکومت نہیں تھی ‘ بلکہ وہاں چرواہے بادشاہ Hyksos Kings حکمران تھے۔ تاریخ میں اکثر ایسے واقعات ملتے ہیں کہ کچھ صحرائی قبیلوں نے قوت حاصل کر کے متمدن علاقوں پر چڑھائی کی پھر یا تو وہ لوٹ مار کر کے واپس چلے گئے یا ان علاقوں پر اپنی حکومتیں قائم کرلیں۔ ایسی ہی ایک مثال مصر کے چرواہے بادشاہوں کی ہے جو صحرائی قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کسی زمانے میں مصر پر حملہ کیا اور مقامی لوگوں قبطی قوم کو غلام بنا کر وہاں اپنی حکومت قائم…
Read the full tafseer →43 شاہ مصر کا خواب :۔ طویل مدت کے بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس رہا ہونے والے ساقی کو سیدنا یوسف کا پیغام یاد دلایا۔ واقعہ یہ ہوا کہ شاہ مصر کو ایک عجیب اور ڈراؤنا سا خواب آیا۔ خواب میں اس نے دیکھا کہ سات دبلی گائیں ہیں جو اپنے سے بہت بھاری سات موٹی تازی گائیوں کا گوشت کھا رہی ہیں اور گوشت کھا کر انھیں ختم ہی کردیا ہے اور یہ سارا گوشت چٹ کر جانے کے بعد بھی وہ دبلی کی دبلی ہی ہیں۔ جیسے پہلے تھیں اور دوسرا منظر یہ دیکھا ہے کہ سات سوکھی بالیاں ہیں جو سات ہری بھری اور سرسبز بالیوں کے اوپر لپٹ گئی ہیں اور انھیں بھی سوکھا بنادیا ہے۔
Read the full tafseer →90۔ اب تذکرہ ایک عرصہ بعد کا شروع ہوتا ہے بادشاہ مصر نے بھی ایک خواب دیکھا اور اپنے ارکان دولت سے بیان کیا۔۔۔ یہ واضح رہے کہ ملک مصر اس وقت سات صوبوں میں تقسیم تھا اور زراعت کی دیوی گائے کی صورت میں تھی۔ (ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے) توریت میں اس خواب کو بھی حسب معمول بڑی طوالت سے بیان کیا ہے (پیدائش 41: 1۔ 7)
91۔ اب آج کوئی بادشاہ ایسا خواب دیکھے تو شاید پروا بھی نہ کرے لیکن اس وقت مصر میں سحر۔ نجوم وکہانت کے علوم کے ساتھ ساتھ خوابوں کی بھی بڑی اہمیت تھی۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ توریت میں ہے :۔” اور فرعون جاگا اور دیکھا کہ وہ خواب تھا اور یوں ہوا کہ صبح کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
آیت نمبر 43 تا 52
ترجمہ : مصر کے بادشاہ ریان بن ولید نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات فربہ گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں (عجاف) عجفاء کی جمع ہے اور سات ہری بالیں ہیں اور دوسری سات خشک بالیں ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر لپٹی ہوئی ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر غالب آگئی ہیں، اے درباریو تم میرے خواب کی تعبیر بتاؤ، اگر تم تعبیر بتاسکتے ہو تو بتاؤ درباریوں نے خواب دیا یہ منتشر خیالات کے خواب ہیں اور ہم منتشر خیالات کے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے، اور اس نوجوان نے جو دو نوجوانوں میں سے (جیل سے) رہا ہوا تھا اور وہ ساقی تھا جس کو ایک مدت دراز کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا حال یاد…
Read the full tafseer →وقال الملک اني اری سبع بقرٰت سمان یاکلھن سبع عجاف وسبع سنبلت خضر واخر یٰبسٰت یایھا الملا افتوني في رء یاي ان کنتم للرء یا تعبرون اور بادشاہ نے کہا : میں نے خواب میں دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا گئیں اور سات بالیں سبز ہیں (اور ان کے علاوہ سات) اور خشک بالیں ہیں۔ اے درباری سردارو ! اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو تو میرے اس خواب کے بارے میں کچھ دقیق جواب دو ۔
عجاف ‘ عجفائ کی جمع نہیں ہے۔ عجفاء کی جمع عجف آتی ہے لیکن سمان کی (لفظی اور وزنی) مناسبت کی وجہ سے لفظ عجاف ذکر کیا۔
تعبیر کا معنی ہے : مثالی صورتوں سے ان معانی طرف انتقال جن کی عالم مثال (عالم اشباح) میں یہی شکلیں…
Read the full tafseer →(43) بادشاہ مصر نے بھی ایک خواب دیکھا اور وزراء وامراء کو جمع کرکے ان سے کہا کہ میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ سات تنومند گائیں نہر سے نکلیں اور ان کے بعد سات لاغر اور کمزور گائیں آئیں اور ان تنومند کو کھاگئیں اور ان پر کسی چیز کا ظہور نہیں ہوا اور اسی طرح سات بالیں سبز ہیں اور دوسری سات خشک ہیں جو ان کو کھاگئیں اور اس کا کچھ ظہور نہ ہوا
جادوگرو اور نجومیو اور کاہنو میرے اس خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تم اس کی تعبیر جانتے ہو۔
Read the full tafseer →وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّىْٓ۔۔ : مصر کے بادشاہ کا یہ خواب اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں یوسف ؑ کی قید سے عزت و تکریم کے ساتھ رہائی کا سبب تھا، اس خواب نے شاہ مصر کو نہایت خوف زدہ اور پریشان کردیا، چناچہ اس نے اپنے علم تعبیر کے تمام ماہروں اور سب سرداروں کو جمع کرکے خواب سنایا اور تعبیر کی فرمائش کی۔
يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر بھی فتویٰ کا حکم رکھتی ہے، جس طرح فتویٰ علم کے بغیر جائز نہیں، خواب کی تعبیر کا بھی اگر فی الواقع علم ہو تو بتانی چاہیے، ورنہ علم کے بغیر تعبیر کرنے والے اس حدیث کے مصداق ہوں گے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 43
وقال الملک انی ارٰی سبع بقرٰت سمانٍ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی آزادی قریب آئی تو بادشاہ نے خواب دیکھا۔ جبریل امین نازل ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سلام کیا اور آزادی کی خوشخبری سنائی اور کہا : اللہ تعالیٰ تجھے قید سے نکالنے والا ہے اور زمین میں تجھے اقتدار دینے والا ہے، بادشاہ کو اور جابر لوگوں کو تیرا مطیع وفرماپردار بنائے گا اور تجھے تیرے بھائیوں پر کلمہ عطا فرمائے گا اور یہ اس خواب کی وجہ سے ہے جو بادشاہ نے دیکھا اور وہ یہ ہے اور اس کی تاویل ایسی، ایسی ہے پس آپ قید میں اس سے زیادہ نہیں رہے جتنا کہ بادشاہ نے خواب دیکھا تھا حتی کہ باہر آگئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے پہلے خواب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
1:۔ ابن اسحاق وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اس شراب پلانے والے سے فرمایا (آیت) ” اذکرنی عند ربک “ کہ بڑے بادشاہ (یعنی اپنے آقا) (کے پاس) میری مظلومیت اور بغیر جرم کے میری قید کا تذکرہ کرنا۔ اس نے کہا میں ایساکروں گا۔ جب شراب بنانے والا (جیل سے) باہر نکلا تو اسی کام پر لوٹا دیا گیا جس پر وہ تھا اور اس کا آقا (یعنی بادشاہ) اس پر راضی ہوگیا اور شیطان نے بادشاہ کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کرنا بھلا دیا تھا۔ اس کے بعد یوسف (علیہ السلام) کئی سال تک جیل میں رہے، پھر بادشاہ ریان بن الولید نے ایک خواب دیکھا جس کا ان آیات میں ذکر ہے بادشاہ کو…
Read the full tafseer →[وَقَالَ : اور کہا ] [ الْمَلِكُ : اس بادشاہ نے ] [ انىٓ: کہ میں ] [ اَرٰي : دیھکتا ہوں (خواب میں)] [سَبْعَ : سات ] [ بَقَرٰتٍ سِمَان : موٹی گائیں ] [ يَّاْكُلُهُنَّ : کھاتی ہیں ان کو ] [ سَبْعٌ : سات ] [عِجَافٌ: دبلی (گائیں)] وَّسَبْعَ : اور سات ] [ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ : سبز خوشے ] [ وَّاُخَرَ : اور دوسرے ] [ يٰبِسٰتٍ : سوکھے ] [ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ : اے سردارو ] [ اَفْتُوْنِيْ : تم لوگ بتائو مجھ کو ] [فِيْ رُءْيَايَ : میرے خواب (کے بارے) میں ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ] [ لِلرُّءْيَا : خواب کی ] [ تَعْبُرُوْنَ : تعبیر بتاتے ہو ]
س م ن
[سِمَنًا : (س) موٹا ہونا فربہ ہونا۔] [سَمِیْنٌ:…
Read the full tafseer →مصر کے بادشاہ کا خواب دیکھنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا تعبیر دینا
اللہ تعالیٰ کی قضاء اور قدر کے مطابق جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے جیل سے رہا ہونے کا وقت آگیا تو اس کا یہ بہانہ بنا کہ مصر کے بادشاہ نے ایک خواب دیکھا یہ ایک عجیب خواب تھا اور وہ یہ کہ سات موٹی موٹی گائیں ہیں انہیں سات دبلی گائیں کھائے جا رہی ہیں نیز سات ہری بالیں ہیں اور ان کے علاوہ ایسی بالیں ہیں جو خشک ہیں۔ یہ خشک بالیں ہری بالوں پر لپٹ رہی ہیں ان کے لپٹنے سے وہ ہری بالیں بھی خشک ہوگئیں ‘ بادشاہ نے اپنا خواب اپنے درباریوں سے بیان کیا اور ان سے کہا کہ میرے خواب کی تعبیر دو اگر تم تعبیر دینا جانتے ہو ‘ وہ لوگ کہنے لگے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
شاہ مصر کا خواب دیکھنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس کی تعبیر بتانا
قال اللہ تعالیٰ وقال الملک انی اری سبع بقرت .... الیٰ .... وفیہ یعصرون۔
(ربط) حو جل شانہ جب کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایسے اسباب بھی پیدا فرما دیتے ہیں جن کی طرف آدمی کا خیال بھی نہیں جاتا چناچہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید خانہ سے نجات دلانا منظور ہوا تو بادشاہ مصر ریان بن ولید کو ایک خواب دکھایا جو ان کی رہائی اور ظاہری عروج کا سبب بنا اور بادشاہ نے ایسا عجیب خواب دیکھا جس کی تعبیر سے تمام معتبر عاجز آگئے اس خواب کی تعبیر کسی کی سمجھ میں نہیں آئی تو اس وقت اس ساقی کو یوسف (علیہ السلام) یاد آئے اور اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
39:۔ یہ آٹھواں حال ہے۔ شاہ مصر نے خواب میں دیکھا کہ سات دبلی پتلی گائیں دوسری سات موٹی گائیوں کو کھا گئی ہیں اسی طرح اس نے سات تروتازہ خوشے دیکھے جو دوسرے سات خشک خوشوں پر لپٹ گئے ہیں۔ شاہ مصر اس خواب سے گھبرایا اور صبح شہر کے علماء کاہنوں اور نجومیوں کو بلا کر ان کے سامنے اپنا خواب بیان کیا اور ان سے کہا کہ اس کی تعبیر بیان کرو۔ ” قَالُوْا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ “ ان میں سے کسی کی سمجھ میں اس کی تعبیر نہ آئی اس لیے اسے خواب پریشاں کہہ کر ٹال دیا اور کہا کہ خیال پریشان ہے یہ خواب ہے ہی نہیں اس لیے اس کی کوئی تعبیر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
بادشاہ کا خواب
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی قیدیوں کو ان کے خوابوں کی بالکل سچی تعبیر بتائی۔ پھر جو شخص بری ہو کر اپنی ڈیوٹی پر واپس جانے والا تھا اس کو بادشاہ سے سفارش کے لئے بھی کہا مگر وہ شاہی دربار میں پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) کی بات کو فراموش کر بیٹھا۔ پھر سات ، نو یا بارہ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بادشاہ مصر کو ایک خواب آیا جس سے وہ پریشان ہوگیا اور اس نے اپنے درباریوں سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی درباریاس کی تعبیر سے عاجز آگئے اور کہنے لگے کہ یہ بےمعنی خواب ہے اس قسم کے پریشان خواب اکثر آیا کرتے ہیں مگر بادشاہ کی تسلی نہ ہوئی۔ اس دوران میں قید سے…
Read the full tafseer →وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّىْٓ اَرٰي سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُہُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ 0ۭ يٰٓاَيُّہَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُوْنَ 43
ملك) بادشاه)
المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور
وَالمِلْكُ ضربان :
مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20]
( م ل ک ) الملک
۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
3 ؎ اصلی خواب میں جس کو رویا صادقہ کہتے ہیں انسان کی روح کو عالم غیب کی چیزیں جو ہنوز عالم ظہور میں نہیں آئیں دکھائی دے جاتی ہیں لیکن قوت متوہمہ ان معانی مجردہ کو ان کے مناسب اشکال میں ڈھال کر دکھاتی ہے پھر اس کے حل کا نام تعبیر ہے۔ یہ کام اسی سے عمدہ بن سکتا ہے جس کو عالم قدس سے مناسبت ہوتی ہے اور اس مناسبت کے آثار چہرے پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نورانی چہرے سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی انہیں مقدس لوگوں میں سے ہے اس لئے ان سے تعبیر پوچھی 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
وَقَالَ الْمَلِکُ اِنِّیْ ٓ اَرٰی سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْکُلُھُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنْبُلٰتٍ خُضْرٍوَّاُخَرَیٰبِسٰتٍ ط یٰٓاَیُّھَاالْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُئْ یَایَ اِنْ کُنْتُمْ لِلْرُّئْ یَا تَعْبُرُوْنَ ۔ قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلاَمٍ ج وَمَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلاَمِ بِعٰلِمِیْنَ ۔ وَقَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْھُمَا وَادَّکَرَبَعْدَ اُمَّۃٍ اَنَا اُنَبِّئُکُمْ بِتَاوِیْلِہٖ فَاَرْسِلُوْنِ ۔ (سورۃ یوسف : 43، 44، 45)
(اور (ایک عرصہ کے بعد) بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ نے حاکم وقت کے خواب کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا ذریعہ بنا دیا
ایک رات حاکم مصر ” جس کا نام “ الریان بن ولید “ بتلایا جاتا ہے۔ جو عربی النسل اور عمالقہ خاندان کے ساتھ تعلق رکھتا تھا۔ “ اس نے خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھائے جا رہی ہیں۔ اور گندم کی سات بالیاں ہری اور سات سوکھی ہوئی ہیں۔ صبح اٹھتے ہی اس نے اپنا خواب بڑے بڑے لوگوں کو بتلا کر پوچھا اگر تم خواب کی تعبیر جانتے ہو تو میرے خواب کے بارے میں بتلاؤ۔ وہ بڑی سوچ و بچار اور کئی دن کے غورو خوض کے بعد کہنے لگے۔ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ پریشان خیالات ہیں۔…
Read the full tafseer →بادشاہ کا خواب :
43: وَقَالَ الْمَلِکُ اِنِّیْ اَرٰی سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْ کُلُھُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنْچبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَیٰبِسٰتٍ (اور بادشاہ نے کہا بیشک میں نے سات موٹی گائیں دیکھیں جن کو سات دبلی گائیں کھا گئیں۔ اور سات بالیں سبز اور دوسری خشک) جب یوسف (علیہ السلام) کے نکلنے اور رہائی پانے کا زمانہ قریب آیا تو مصر کے بادشاہ ریان بن ولید نے ایک خوفناک عجیب خواب دیکھا۔ اس نے سات موٹی گائیں خشک دریا سے نکلتے ہوئے دیکھیں اور سات دبلی گائیں بھی۔ یہ دبلی گائیں ان موٹی کو نگل گئیں اور بادشاہ نے سات سبز بالیں دیکھیں جن پر دانے لگ چکے ہیں۔ اور سات دوسری خشک بالیں جو کٹنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
تفسیر : 43۔” قالوا ضغاث احلام “ ملا جلا خواب ہے۔ ضغث کی مختلف قسم کیگھاس پھوس اور احلام حلم کی جمع بمعنی خواب اور اس کا فعل حلمت احلم لام کے زبر کے ساتھ ماضی میں اور لام کے پیش کے ساتھ غابر میں ۔ حلما و حلما مشدد اور مخفف ۔” وما نحن ب تاویل الا حلام بعالمین “
Read the full tafseer →43۔ دنیا عالم اسباب ہے ہر مقصد کے پورا ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی سبب دنیا میں پیدا کیا ہے مگر یہ بات اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کس سبب سے کون سا مقصد پورا ہوگا۔ ساقی اور نان بائی کے خواب کی تعبیر جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بتلائی تھی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دل میں یہ خیال گزرا تھا کہ شاید ساقی کا قید سے چھوٹنا حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بھی رہائی کا سبب قرار پاوے گا اس لئے ساقی سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ جب تو قید خانہ سے چھوٹ کر بادشاہ کے پاس جاوے تو میرا ذکر بھی بادشاہ سے کی جو لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں ساقی کا قید سے چھوٹنا اس وقت حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یوسف کو قید خانے سے نکالنا چاہا تو بادشاہ کو ایک عجیب و غریب خواب دکھایا۔ جس کی تعبیر تمام قوم کو متاثر کرتی تھی۔۔۔ تاکہ یوسف اس خواب کی تعبیر بتائیں اور یوں ان کا علم و فضل ظاہر ہو اور دین و دنیا میں ان کو رفعت حاصل ہو۔ اس میں تقدیر کی مناسبت یہ ہے کہ بادشاہ نے۔۔۔ جو رعایا کے تمام امو کا ذمہ دار ہوتا ہے۔۔۔ یہ خواب دیکھا، کیونکہ قوم کے مصالح کا تعلق بادشاہ سے ہوتا ہے۔ اس بادشاہ نے ایک خواب دیکھا جس نے بادشاہ کو خوف زدہ کردیا۔ اس نے اپنی قوم کے اہل علم اور اصحاب الرائے کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا : (انی اری سبع بقرت سمان یاکلھن سبع عجاف) ’ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–49
فانساہ الشیطن کے دو مفہوم
قول باری ہے وقال للذین ظن انہ تاج منھما اذکرنی عند ربک فانساہ الشیطن ذکر ربہ فلبث فی السجن بضع سنین ۔ پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اس سے یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ اپنے رب شاہ مصر سے میرا ذکر کرنا۔ مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب شاہ مصر سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسف کئی سال قید میں پڑا رہا ۔ یہاں ظن یقین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اس لیے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خواب کی اس تعبیر کے وقوع پذیرہونے کا یقین تھا جو آپ نے اسے بتائی تھی ۔ یہاں ظن بمعنی یقین کے استعمال کی مثال یہ آیت ہے۔ انی ظنت انی ملاق حسابیہ مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
75۔ رہا ہونے والے ساتھی سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ایک مطالبہ :
کہ اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر بھی کردینا۔ جیسا کہ تم نے مجھے یہاں دیکھا اور جو کچھ میرے بارے میں سنا۔ شاید کہ اس طرح وہ میرے بارے میں غور کرے اور عدل وانصاف سے کام لے۔ اور اس طرح میرے جیل سے باہر نکلنے کی سبیل پیدا ہوسکے۔ مگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا۔ کہ اللہ پاک یہ نہیں چاہتا کہ اس کے اور اس کے ایسے پاکیزہ بندوں کے درمیان کوئی واسطہ حائل ہو، خواہ وہ جائز اور صحیح واسطہ ہی کیوں نہ ہو۔ سو کسی جائز مقصد کے لیے حدود وقیود کے اندر رہتے ہوئے تدابیرو وسائل کا اختیار کرنا نہ منع ہے۔ اور نہ توکل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
آیات 43 تا 49
اسرار و معارف
اللہ کریم کا اپنا نظام ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کوشش فرمائی تو ساقی کو شیطن نے بات ہی بھلادی مگر جب رہائی کا وقت آیا تو اللہ کریم کی طرف سے غیبی سامان ہونے لگا کہ شاہ مصرنے ایک عجیب خواب دیکھا اور صبح دم بہت گھبرایا ہوا اٹھا درباری علماء یا بخومی وکاہن جمع کئے اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں سات موٹے بیل دیکھے جنہیں دوسرے سات کمزور اور دبلے پتلے بیل کھا رہے تھے اور سات سرسبز بالیں دیکھی ہیں جن کے ساتھ دوسری سات خشک تھیں اس کی تعبیر بتائی جائے۔ وہ سب بھی حیران ہوگئے بات کسی کے پلے نہ پڑی اور کہہ دیا کہ حضور ! یہ محض پریشان خیالی ہے آپ اسے بھول جائیے ۔ یہ…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ اور سوکھی بالیوں نے ہری بالیوں پر لپٹ کر انہیں اپنے اندر چھپالیا۔ یہ خواب بادشاہ نے کئی برس کے بعد دیکھا اور یہی حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی رہائی کا سبب بنا (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(12:43) سمان۔ موٹی۔ سمین کی جمع جو بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہو۔ السمن کے معنی موٹاپا کے ہیں۔ اور یہ ھزال کی ضد ہے۔ قرآن مجید میں ہے لایسمن ولا یغنی من جوع (88:7) جو نہ فربہی لائے اور نہ بھوک میں کچھ کام آئے۔
عجاف۔ لاغر۔ دبلی۔ اعجف کے معنی انتہائی لاغر اور دبلا کے ہیں۔ اس کی مؤنث عجفاء ہے اور جمع عجاف یہ جمع خلاف قیاس ہے کیونکہ افعل فعلاء فعل کے وزن پر اس کی جمع عجف چاہیے تھی۔ دراصل یہ نصل اعجب سے مشتق ہے جس کے معنی پتلے اور باریک تیر کے ہیں اعجف الرجل اس کے مویشی دبلے ہوگئے۔
سنبلت۔ بالیں۔ خوشے۔ سنبلۃ کی جمع۔ خضر۔ سبز۔ ہرے۔ اخضر خضراء خضر کے وزن پر جمع کا صیغہ ہے۔
یبست۔ اسم فاعل جمع مؤنث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 49
الملک بادشاہ سبع سات بقرات (بقرۃ) ، گائیں سمان موٹی تازی، فربہ عجاف دبلی پتلی سنبلت (سنبلۃ) گیہوں کی بالیں جس میں دانہ ہوتا ہے خضرت ہرا بھرا یبست خشک افتونی مجھے بتاؤ رویائی میرا خواب تعبرون تم تعبیر دیتے ہو اضغاث پریشان خیالات ، فضول خیالات احلم (حلم) ۔ خیالات اداکر یاد کیا بعدامۃ مدت کے بعد ارسلون مجھے بھیج دے ارجع میں لوٹوں گا تزرعون تم کھیتی باڑی کرو گے داب لگاتار مسلسل حسدتم تم نے کھیتی کاٹی ذروہ اس کو چھوڑ دو سبع شداد سخت سات (سال) قدمتم تم نے آگے بھیجا تحصنون تم بچاؤ گے عام سال یاغث بارش برسائی جائے گی یعصرون وہ نچوڑیں گے
تشریح : آیت نمبر 43 تا 49
کائنات…
Read the full tafseer →بادشاہ مصر کے خواب کی تعبیر
جب علم الہی کے موافق جو سبب تھا اس کا وقت آگیا تو ریان بن ولید بادشاہ مصر نے یہ خواب دیکھا جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور اس خواب سے وہ ڈر گیا اور اپنے شہر کے جادوگروں اور کاہنوں اور عقلمندوں سب سے اس خواب کی تعبیر پوچھی اور وہ سب اس خواب کی تعبیر بتا نے سے عاجز آگئے۔ اس چرچے سے کئی سال کی بھولی ہوئی بات ساقی کو یاد آئی اور اس نے بادشاہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کیا کہ قید خانہ میں تعبیر خواب کے ایک بڑے عالم ہیں۔ پس بادشاہ نے اس کو بھیج دیا۔ وہ قید خانہ میں پہنچ کر حضرت یوسف علیہ السلا کی خدمت میں عرض کرنے لگا :'' یہ خواب بادشاہ نے دیکھا ہے اور ملک کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–56
[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)
Read the full tafseer →(ف 1) اللہ کی مدد اور نصرت کے عجیب ڈھنک میں ساقی گو بھول گیا ، مگر اللہ کو اپنے بندے کی بیچارگی یاد تھی ، بادشاہ نے عجیب و غریب خواب دیکھا ، اور مصاحبین سے کہا خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تمہیں علم ہے انہوں نے کہا ، یہ خیالات پریشان ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ ہم اس فن کے ماہر بھی نہیں اس وقت ساقی کو یاد آیا ، کہ جیل کی کوٹھڑی میں ایک عالم تعبیر بندے اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے ، چناچہ اس نے بادشاہ سے اجازت چاہی اور کہا مجھے جیل میں جانے کی اجازت مرحمت ہو ، میں انشاء اللہ تعبیر بتلا سکوں گا ، چناچہ اس کو اجازت مل گئی ، یہ یاد رہے کہ شراب ابتدا سے حرام ہے ، یہاں صرف ایک واقعہ کا اظہار ہے کہ پادشاہ وقت…
Read the full tafseer →43 ۔ اور بادشاہ مصر نے ایک خواب دیکھا اور خواب کی تعبیر دریافت کرنے کی غرض سے اہل دربار کو جمع کر کے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات گائیں ہیں خوب موٹی اور فربہ جن کو دوسری سات دبلی اور لاغر گائیں کھا رہی ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ سات بالیں ہیں ہری اور سبز اور دوسری سات بالیں ہیں خشک وہ سات خشک بالیں بھی ان سبز بالوں کو خشک کر رہی ہیں۔
اے اہل دربار اگر تم خواب کی تعبیر بتاسکتے ہو تو میرے اس خواب کے بارے میں مجھ کو جواب دو ۔ یعنی جتنی مدت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قید میں رہنا تھا خواہ وہ سات سال ہوں یا دس ہوں یا بارہ ہوں یا چودہ ہوں بہر حال جب وہ مدت پوری ہوئی تو حضرت حق تعالیٰ نے یوسف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ف 7۔ بضع کا اطلاق عربی میں تین سے دس تک آتا ہے اس کے درمیان جتنے عدد ہیں ہر عدد کا آیت میں احتمال ہے۔
Read the full tafseer →قید سے نجات حاصل کرنے والے شخص کو وہ بات یاد نہ آئی اور شیطان نے اس کو بھلا دیا
۔ 54 یوسف (علیہ السلام) کی مراد تو صرف یہ تھی کہ میرا یہ پیغام اگر بادشاہ تک پہنچ گیا تو عین ممکن ہے کہ توحید کا یہ پیغام اس پر اثر انداز ہوجائے لیکن نجات نے والا قیدی جب وہاں سے واپس آیا تو وہ اپنے کاموں میں ایسا مصروف ہوا کہ اس کو کبھی وہ قید کی باتیں یاد ہی نہ آئیں کہ وہ کیا تھیں اور یہی حال ہمارے اکثر سامعین کا آج بھی ہے کہ سنیں گے سر دھنیں گے لیکن جب مجلس سے اٹھیں گے تو ان کے ذہن میں کچھ بھی نہیں ہوگا کہ ہم نے کیا سنا اور ہم کو اب کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ اگر اس بات کا چرچا ہوجاتا تو ممکن تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
After that, to the person about whom Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) had gathered from the interpretation of his dream that he would be released, he said: When you are released from the prison, mention me before your master as the innocent person who is still languishing in the prison. But, once released, this person forgot about this message of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، as a result of which, his freedom was further delayed and he had to stay in prison for a few more years. The word used in the Qur’ an is: بِضْعَ سِنِينَ (bid'a sinin: a few years). This word holds good for a figure between…
Read the full tafseer →36. Leaving the account of the events of the intervening years of imprisonment, the story has been resumed from the time when Prophet Joseph began to rise in worldly rank.
37. According to the Bible and the Talmud, the king was greatly disturbed, troubled and confused because of these dreams. So he proclaimed throughout the entire land of Egypt, and called upon all the wise men, and the soothsayers, and magicians of the land to interpret his dreams.
Read the full tafseer →