Explained with ayahs 90–92
دریائے نیل، فرعون اور قوم بنی اسرائیل
فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہونے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی۔ مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کر کے اپنے تمام لوگوں کو لے کر ان کے پیچھے لگا۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں، فوجوں، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا۔ بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا۔ ٹھیک سورج چڑھے، اس نے انہیں اور انہوں نے…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 92
آج تک وہ مقام جزیرہ نمائے سینا کے مغربی ساحل پر موجود ہے جہاں فرعون کی لاش سمندر میں تیری ہوئی پائی گئی تھی۔ اس کو موجودہ زمانے میں جبل فرعون کہتے ہیں اور اسی کے قریب ایک گرم چشمہ ہے جس کو مقامی آبادی نے حمام فرعون کے نام سے موسوم کر رکھا ہے۔ اس کی جائے وقوع ابو زنیمہ سے چند میل اوپر شمال کی جانب ہے، اور علاقے کے باشندے اسی جگہ کی نشان دہی کرتے ہیں کہ فرعون کی لاش یہاں پڑی ہوئی ملی تھی۔ اگر یہ ڈوبنے والا وہی فرعون منفتہ ہے جس کو زمانہ حال کی تحقیق نے فرعون موسیٰ قرار دیا ہے تو اس کی لاش آج تک قاہرہ کے عجائب خانے میں موجود ہے۔ سن 1907 میں سر گرافٹن الیٹ سمتھ نے اس کی ممی پر سے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
سو (بجائے نجات مطلوبہ کے) آج ہم تیری لاش کو (پانی میں تہ نشین ہونے سے) نجات دیں گے تاکہ تو ان کے لئے موجب عبرت ہو جو تیرے بعد (موجود) ہیں (کہ تیری بدحالی اور تباہی دیکھ کر مخالفت احکام الہٰیہ سے بچیں) اور حقیقت یہ ہے کہ (پھر بھی) بہت سے آدمی ہماری (ایسی ایسی) عبرتوں سے غافل ہیں (اور مخالفت احکام سے نہیں ڈرتے) اور ہم نے (غرق فرعون کے بعد) بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا رہنے کو دیا (کہ اس وقت تو مصر کے مالک ہوگئے اور ان کی اول ہی نسل کو بیت المقدس اور ملک شام عمالقہ پر فتح دے کر عطا فرمایا) اور ہم نے ان کو نفیس چیزیں کھانے کو دیں (مصر میں بھی جنت و عیون تھے اور شام کی نسبت بٰرَکنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
90۔ 92:۔ وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُهٗ بَغْيًا وَّعَدْوًا ۭﱑ اِذَآ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ ۙقَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۔ اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۔ فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۔
بنی اسرائیل کی نجات کا خدائی اہتمام : وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ۔۔۔ الایۃ۔ یہ خاص خدائی اہتمام میں بنی اسرائیل کو سمندر…
Read the full tafseer →92۔ 1 جب فرعون غرق ہوگیا تو اس کی موت کا بہت سے لوگوں کو یقین نہ آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا، کہ اس نے اس کی لاش کو باہر خشکی پر پھینک دیا، جس کا مشاہدہ پھر سب نے کیا۔ مشہور ہے کہ آج بھی یہ لاش مصر کے عجائب خانے میں محفوظ ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بالصَّوَابِ۔
Read the full tafseer →36: قانون قدرت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب سر پر آکر آنکھوں سے نظر آنے لگے یا جب کسی پر نزع کی حا لت طاری ہوجائے تو توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے، اور اس وقت کا ایمان معتبر نہیں ہوتا، اس لئے اب فرعون کے عذاب سے نجات پانے کی تو کوئی صورت نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے فرعون کی لاش کو محفوظ رکھا وہ لاش سمندر کی تہہ میں جانے کے بجائے پانی کی سطح پر تیرتی رہی تاکہ سب دیکھنے والے اسے دیکھ سکیں، اتنی بات تو اس آیت سے واضح ہے، اب آخری زمانے کے مؤرخین نے یہ تحقیق کی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں جو فرعون تھا اس کا نام منفتاح تھا اور اس کی لاش صحیح سلامت دریافت ہوگئی ہے، اب تک یہ لاش قاہرہ کے عجائب…
Read the full tafseer →فالیوم ننجیک ببدنک لتکون لمن خلفک ایۃ پس آج کسی اونچے ٹیلہ پر ہم تیرے بدن کو ڈال دیں گے (کہ جسم کو مچھلیاں نہ کھا سکیں اور بدن اپنی شکل کے ساتھ قائم رہے ) تاکہ تو اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے عبرت بن جائے۔ نُنَجِّیْ نجوۃ سے مشتق ہے۔ نجوۃ کا معنی ہے اونچی جگہ۔ یا یہ مطلب ہے کہ پانی کے جس قعر میں تیری قوم غرق ہوگئی (اور ان کے بدن بھی تہہ نشین ہوگئے) ہم ان کی طرح تیرے جسم کو پانی کے اندر نہیں داخل کریں گے بلکہ پانی کے اوپر ترائیں گے۔ ببدنک یعنی بےجان لاشہ ‘ یا مکمل جسم ‘ یا برہنہ جسم۔ یا ببدنک سے مراد یہ ہے کہ تجھے تیرے کرتہ سمیت ہم اوپر لا پھینکیں گے۔ فرعون کا ایک کرتہ سنہری تاروں کے جواہر سے…
Read the full tafseer →5 " موضح القرآن " میں ہے کہ جیسا بےوقت ایمان لایا، بےفائدہ، ویسا ہی اللہ نے مرے پیچھے اس کا بدن دریا میں سے نکال کر ٹیلے پر ڈال دیا کہ " بنی اسرائیل " دیکھ کر شکر کریں اور پیچھے آنے والے اس کے حال سے عبرت پکڑیں۔ ورنہ اس کو بدن کے بچنے سے کیا فائدہ۔ جیسا بےفائدہ ایمان تھا ویسی ہی بےفائدہ نجات مل گئی۔ جدید تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ فرعون کی لاش آج تک محفوظ چلی آتی ہے لیکن الفاظ قرآنی کی صحت اس کے ثبوت پر موقوف نہیں (اتفاق) بنی اسرائیل کے نجات پانے اور فرعون کے غرق ہونے کا واقعہ " عاشوراء " کے دن ہوا۔ اور اتفاق سے آج بھی جب بندہ یہ سطریں لکھ رہا ہے " یوم عاشوراء 1348 ہجری ہے۔ خدا ہم کو دنیا و…
Read the full tafseer →آیت 92 فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً
یعنی تمہارے جسم کو محفوظ رکھا جائے گا ‘ اس کو گلنے سڑنے نہیں دیا جائے گا تاکہ بعد میں آنے والے اسے دیکھ کر عبرت حاصل کرسکیں۔ چناچہ غرق ہونے کے کچھ عرصہ بعد فرعون کی لاش کنارے پر پائی گئی تھی ‘ صرف اس کے ناک کو کسی مچھلی وغیرہ نے کاٹا تھا ‘ باقی لاش صحیح سلامت تھی اور آج تک قاہرہ کے عجائب گھر میں موجود ہے
Read the full tafseer →102 فرعون کی لاش کی حفاظت کا مطلب :۔ یعنی تیری لاش نہ تو سمندر میں ڈوب کر معدوم ہوجائے گی اور نہ مچھلیوں کی خوراک بنے گی، چونکہ فرعون کے ڈوب کر مرجانے کے بعد ایک لہر اٹھی جس نے اس کی لاش کو سمندر کے کنارے ایک اونچے ٹیلے پر پھینک دیا تاکہ باقی لوگ فرعون کا لاشہ دیکھ کر عبرت حاصل کریں کہ جو بادشاہ اتنا طاقتور اور زور آور تھا اور خود خدائی کا دعویدار تھا بالآخر اس کا انجام کیا ہوا ؟ مگر انسانوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایسی نشانیاں دیکھنے اور ان کا اعتراف کرنے کے باوجود عبرت حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ لاش مدتوں اسی حالت میں پڑی رہی اور گلنے سڑنے سے بچی…
Read the full tafseer →136۔ (اور تیرے لئے مزید رسوائی وتفضیح کا سامان بنا رہے) فرعون کا ایمان جس طرح عالم یاس میں تمامتر ظاہری وصوری تھا، معنی و حقیقت سے خالی، اسی طرح اور اسی مناسبت سے اس کے جسم مردہ کی نجات بھی اس کے حق میں تمامتر بےسود رہی۔ (آیت) ” ایۃ “۔ یہاں عبرۃ کے مرادف ہے۔ اے عبرۃ وعظۃ (معالم) عبرۃ (جلالین) عبرۃ ونکالا من الطغیان (روح) ایک غرق شدہ فرعون مصر کی نعش ماہرین اثریات کو مدت ہوئی قدیم مصری شہر تھیبس (THEBES) میں مل گئی تھی اور آج قاہرہ کے عجائب خانہ میں محفوظ ہے اور مؤرخین وماہرین کا خیال ہے کہ یہ فرعون رعمیس ثانی تھا۔ رعمیس ثانی یا تو وہی قرآنی فرعون ہے۔ اور یا فرعون مغروق، اگر کوئی اور ہوا ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–92
آیت نمبر 83 تا 92
ترجمہ : فرعون کی قوم کے نوجوانوں میں سے ایک مٹھی بھر نوجوانوں کے علاوہ کسی نے فرعون اور اپنے سرداروں کے خوف کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہیں مانی کہ وہ ان کو تکلیف دیکر ان کے دین سے پھیر دیں گے اور اس میں شک نہیں کہ فرعون ملک مصر میں (زور وتکبر میں) بہت چڑھا ہوا تھا، اور وہ تھا ہی دعوائے ربوبیت کرکے حد سے تجاوز کرنے والوں میں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم فرمانبردار ہو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے پروردگار تو ہم کو ظالموں کے لئے تختہ مشق نہ بنا یعنی تو ان کو ہم پر…
Read the full tafseer →فالیوم ننجیک ببدنک لتکون لمن خلفک ایۃ پس آج کسی اونچے ٹیلہ پر ہم تیرے بدن کو ڈال دیں گے (کہ جسم کو مچھلیاں نہ کھا سکیں اور بدن اپنی شکل کے ساتھ قائم رہے) تاکہ تو اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے عبرت بن جائے۔ نُنَجِّیْ نجوۃ سے مشتق ہے۔ نجوۃ کا معنی ہے اونچی جگہ۔ یا یہ مطلب ہے کہ پانی کے جس قعر میں تیری قوم غرق ہوگئی (اور ان کے بدن بھی تہہ نشین ہوگئے) ہم ان کی طرح تیرے جسم کو پانی کے اندر نہیں داخل کریں گے بلکہ پانی کے اوپر ترائیں گے۔ ببدنک یعنی بےجان لاشہ ‘ یا مکمل جسم ‘ یا برہنہ جسم۔ یا ببدنک سے مراد یہ ہے کہ تجھے تیرے کرتہ سمیت ہم اوپر لا پھینکیں گے۔ فرعون کا ایک کرتہ سنہری تاروں کے جواہر سے مرصع…
Read the full tafseer →(92) سو آج ہم تیری لاش کو تیری مرصع زر کے ساتھ زمین پر پھینک کر نجات دین گے تاکہ بعد میں آنے والے کفار کے لیے نشان عبرت ہو کہ پھر وہ تیری باتوں پر عمل نہ کریں اور قطعی طور پر یہ جان لیں کہ تو خدا نہیں ہے اور بہت سے کفار ہماری کتاب اور ہمارے رسول کے منکر ہیں۔
Read the full tafseer →فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ۔۔ : ”نُنَجِّیْ“ ”نَجَا یَنْجُوْ“ سے باب تفعیل ہے۔ ”نَجَّاہ اللّٰہُ“ اللہ تعالیٰ نے اسے بچا لیا۔ ”اَلنَّجْوَۃُ“ یا ”اَلنَّجَا“ اونچی جگہ یا ٹیلے کو بھی کہتے ہیں۔ ”نَجَّاہُ“ کا معنی اس صورت میں یہ ہوگا کہ اس نے اسے اونچی جگہ پھینک دیا، یعنی آج ہم تمہارے بےجان لاشے کو سمندر سے بچا لیں گے، یا اونچی جگہ پھینک دیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے ایک عظیم نشانی بنے۔ ”اٰیۃً“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی فرعون اور اس کی ساری فوج کے غرق ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون کی لاش سمندر کے کنارے پر باہر نکال پھینکی، تاکہ وہ بعد والوں کے لیے عظیم نشانی بنے اور بنی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 92
قولہ تعالیٰ : (آیت) فلیوم ننجیک ببدنک یعنی ہم تجھے زمین کے ایک بلند حصے میں پھینک دیں گے اور یہ اس لیے کہا کیونکہ بنی اسرائیل تصدیق نہ کرتے کہ فرعون غرق ہوچکا ہے۔ اور وہ کہتے : اس کی شان اس سے کہیں زیادہ اور عظیم ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اسے زمین کے ایک بلند حصہ پر پھینک دیا یہاں تک کہ انہوں نے اس کا مشاہدہ کرلیا۔ اوس بن حجر بارش کا وصف بیان کرتا ہے : فمن بعقوتہ کمن بنجوتہ والمستکن کمن یمشی بقرواح یزیدی اور ابن السمیقع نے ننحیک حا کے ساتھ پڑھا ہے یہ تنحیۃ سے ماخوذ ہے اور اسے علقمہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے بیان کیا ہے، یعنی تو سمندر کے کنارے پر ہوگا۔ ابن جریج نے کہا ہے : پس اسے ساحل…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو نجات دی بنی اسرائیل کے لئے دریا سے تو انہوں نے اس کی طرف دیکھا اس کے غرق ہونے کے بعد۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن الانباری نے المصاحف میں وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ کے بارے میں فرمایا یعنی آج ہم تیرے جسم کو بچالیں گے بعض بنی اسرائیل نے فرعون کی موت کا انکار کیا تھا۔ تو دریا نے (اللہ کے حکم) سے اس کو دریا کے ساحل پر ڈال دیا یہاں تک کہ بنی سرائیل نے اس کو دیکھا جو سرخ چھوٹے قد والا تھا گویا کہ وہ…
Read the full tafseer →فَالْيَوْمَ [پس آج ] نُنَجِّيْكَ [ بچا رکھیں گے تجھ کو ] بِبَدَنِكَ [ تیرے بدن کے ساتھ ] لِتَكُوْنَ [ تاکہ تو ہوجائے ] لِمَنْ [ ان کے لئے جو ] خَلْفَكَ [ تیرے پیچھے (آنے والے ) ہیں ] اٰيَةً ۭ [ ایک نشانی ] وَاِنَّ [ اور بیشک ] كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ [ لوگوں میں سے اکثر ] عَنْ اٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں سے ] لَغٰفِلُوْنَ [غفلت برتنے والے ہیں ]
ب د ن : (ن) بدنا ، موٹے یا فربہ جسم والا ہونا ۔ بدن ، اسم ذات بھی ہے ۔ جسم ، زیر مطالعہ آیت 92 ۔ بدنۃ ، ج : بدن ، قربانی کے فربہ جانور جو مکہ میں ذبح کئے جائیں ۔ وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ [ اور قربانی کے فربہ جانور ہم نے…
Read the full tafseer →(وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ ) (اور بلاشبہ بہت سے لوگ ہماری آیات سے غافل ہیں) جو فکر نہیں کرتے اور عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اس آیت سے اتنا تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کردیا اور اس کی نعش کو پانی میں بہنے سے اور دریائی جانوروں کے کھانے سے محفوظ فرما دیا۔ اس نعش کو لوگوں نے دیکھا اور اس سے لوگوں کو بھی عبرت ہوئی کہ جو شخص اپنے آپ کو سب سے بڑا رب کہتا تھا اور جسے معبود سمجھا جاتا تھا اس کا یہ انجام ہوا۔ سارا اقتدار تخت وتاج محلات سب دھرے رہ گئے اور سمندر میں ڈوب کر نہ صرف وہ تنہا بلکہ اس کے لشکری بھی ہلاک ہوگئے۔ بنی اسرائیل کو بھی یقین آگیا کہ ہمارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
بقیہ قصہ موسویہ و غرقابی فرعون
قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ وجوزنا ببنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔ عن ایتنا لغفلون
اور جب قبولیت دعاء موسوی کا وقت آپہنچا اور ہم نے فرعون کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات کا ارادہ کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر نکل جائیں کہ قبطیوں پر عذاب نازل ہونے کا وقت قریب آگیا ہے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کی غفلت میں چھ لاکھ بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر مصر سے روانہ ہوئے فرعون کو جب خبر لگی تو اس نے اپنے لشکر سمیت ان کا پیچھا کیا اور ایسے موقعہ پر ان کو جالیا کہ دریائے قلزم ان کے آگے تھا۔ جب بنی اسرائیل نے یہ دیکھا کہ سمندر تو آگے ہے اور دشمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
104: اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبول دعا کی خوشخبری سنائی گئی کہ تمہاری دعا قبول ہوچکی ہے لیکن ابھی چند دن صبر و استقامت سے کام لینا ہوگا “ وَلَا تَتَّبِعٰنِ الخ ” اللہ پر بھروسہ رکھو وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے امور و احکام کی حکمتوں اور مصلحتوں سے بیخبر ہوتے ہیں وہ اللہ کے وعدوں کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں اور صبر و استقامت کے بجائے عجلت اور بےصبری کا اظہار کرتے ہیں اے موسیٰ و ہارون ایسے بیخبر لوگوں کی سی کوئی حرکت تم سے ہرگز سرزد نہ ہونے پائے۔ “ وَجَاوَزنَا بِبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ الْبَحْرَ ” جب اللہ کے وعدے کے مطابق بنی اسرائیل کی نجات اور فرعون اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
ربط آیات
گذشتہ آیات میں فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل پر ہونے والے مظالم کا بیان تھا۔ آخر میں مایوس ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعونیوں کے خلاف بددعا کی کہ پروردگار ! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ یہ عذاب الیم دیکھے بغیر یقین نہ کریں۔ اللہ نے ارشاد فرمایا تمہاری دعا قبول ہوگئی ہے ، لہٰذا تم اپنے طریقے پر قائم رہو اور بےعلم اور ناواقفوں کے راستے کا اتباع نہ کرو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ دعا کی قبولیت کے بعد چالیس سال تک موسیٰ (علیہ السلام) اس دنیا میں رہ کر اپنا کام کرتے رہے گویا چالیس سال تک اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو مزید مہلت دی اور پھر آخر کار…
Read the full tafseer →فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَۃً 0 ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ 92 ۧ
نجو
أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53]
( ن ج و )
اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے نجات دی ۔
بدن
البَدَنُ : الجسدلکن البدن يقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
2 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بڑی غور طلب بات یہ بتلائی جاتی ہے کہ دنیا میں قوی بہیمیہ کے اثر سے خلاف فطرت اللہ افعال سرزد ہونے لگتے ہیں جو انجام کار انہیں کی بربادی اور عذاب اخروی کا باعث ہوجاتے ہیں اور اسی لئے حضرت انبیاء علیہم الاسلام یکے بعد دیگرے بھیجے گئے۔ انبیاء (علیہم السلام) کا وعظ و پند ہرچند نافع ہوا اور یہ ہونا بھی چاہیے تھا مگر جب تک افراد انسانیہ کو کوئی قوی محرک نہیں ابھارتا عموماً اثر نہیں ہوتا اور دنیا میں حکومت و سلطنت بھی ایک بڑا قومی محرک اور انقلاب عظیم ہے پھر جب سلطنت ہی اس بدکاری کی موید ہو تو جب تک اس سے بڑا محرک نہ پیدا کیا جاوے اصلاح ممکن نہیں اور وہ سلطنت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
آٰ لْئٰنَ وَقَدْعَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً ط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰٰیتِنَا لَغٰفِلُوْنَ ۔ (یونس : 91، 92)
(جواب دیا گیا اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا ہے اور تو فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا پس آج ہم تیری لاش کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنا رہے بیشک بہت سے انسان ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔ )
اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب موت کا وقت قریب آجاتا ہے اور اس کے آثار طاری ہونے لگتے ہیں تو اس وقت ایمان قبول نہیں کیا جاتا۔ فرعون جب سمندر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بدعا کا نتیجہ۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اور ان کی قوم کی آہ و زاریوں کو قبول فرمایا اور بنی اسرائیل کو نجات دی۔ فرعون اور اس کے لشکروں کو ڈبکیاں دے دے کر مارا جس کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے کہ اے اہل مکہ ہم نے تم سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا اور ان کے پاس معزز رسول یہ پیغام لے کر آیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذمہ دار اور امانت دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ لہٰذا اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردے یعنی انہیں آزاد کردیا جائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سرکشی نہ کرو میں تمہیں واضح طور پر دلائل دے رہا ہوں۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →جیسی توبہ ایسی نجات :
92: فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ ( آج ہم تمہیں نجات دیتے ہیں) تمہیں اونچی زمین پر ڈالتے ہیں اس کو پانی نے اسطرح ساحل پر پھینکا جیسا کہ وہ بیل ہے۔ بِبَدَنِکَ (تمہارے بدن کو) یہ حال ہے تقدیر عبارت اس طرح ہوگی فی الحال التی لا روح فیک وانماانت بدن۔ ایسی حالت میں کہ تجھ میں روح نہ ہوگی۔ بیشک تو فقط ایک بدن ہوگا۔ یا نمبر 2۔ اپنے بدن کے ساتھ کامل درست ہوگا اس میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔ اور نہ متغیر ہوگا۔ نمبر 3۔ ننگا بلا لباس ایک بدن ہوگا۔ نمبر 4۔ اپنی درع سمیت ہوگا اسکی سونے کی بنی ہوئی ایک زرہ تھی۔ جس سے وہ پہچانا جاتا تھا۔
قراءت : ابوحنیفہ (رح) نے بِاَبْدَانِکَپڑھا ہے اور یہ اس…
Read the full tafseer →92۔ ’ ’ فالیوم ننجیک “ یعنی ہم تجھے بلند زمین پر ڈالیں گے۔ اور یعقوب (رح) نے ” ننجیک “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” ببدنک “ تیرے جسم کے ساتھ جس میں روح نہ ہوگی اور بعض نے بدن یعنی ذرہ کے معنی میں ہے کہ اس کی ایک ذرہ مشہور تھی جس پر جواہرات جڑے ہوئے تھے تو ان لوگوں نے اس کو اس کی ذرہ میں دیکھاتو موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کی ” لتکون لمن خلفک آیۃ “ عبرت اور نصیحت ” وان کثیراً من الناس عن آیاتنا لغافلون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
90۔ 92۔ ان آیتوں میں فرعون اور اس کے رفیقوں کی دریا میں ڈوبنے کی کیفیت بیان کی گئی ہے جب بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مصر سے نکلے جن کی تعداد چھ لاکھ تھی تو فرعون کو یہ خبر معلوم ہوئی اور اس نے شہر میں آدمی بھیج کر اور لشکر اکٹھا کر کے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا بنی اسرائیل بحر قلزم کے کنارے پر پہنچ چکے تھے فرعون کو لشکر سمیت آتے ہوئے دیکھ کر بہت ہی خوف کرنے لگے جب فرعون بالکل قریب آگیا تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ان لوگوں کے ہاتھ سے کیوں کر رہائی ہوگی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے اسی راہ سے جانے کی ہدایت ہوئی ہے خدا خود رستہ بتلا دے گا جب وقت بالکل تنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–93
آیت : ( 75-93)
(ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–109
قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔
Read the full tafseer →156 ۔ فرعون کی لاش کی حفاظت نشان عبرت کے طور پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اب ہم تیری لاش کو ہی بچا لیں گے تاکہ تو نشان عبرت بن جائے اپنے پیچھے آنے والوں کے لیے کہ یہ ہے انجام اس شخص کا جو کہ (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) کا دعویدار تھا تاکہ اس طرح ایک طرف تو بنی اسرائیل کو اس کی موت کا یقین ہوجائے جو کہ صدیوں سے اس کی غلامی میں جکڑے ہوئے طرح طرح سے اس کے ظلم و ستم سہہ رہے تھے کہ ان کو ایسے جابر و ظالم کے مرنے کا یقین ہی نہیں آرہا تھا (ابن کثیر وغیرہ) اور دوسری طرف خود اس کی اپنی قوم قبط کی آنکھیں بھی کھل جائیں کہ جس کی وہ پوجا کر رہے تھے اس کا آخری انجام یہ ہے۔ اسی لیے حضرات علمائے کرام فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–92
سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان
تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–92
آیات 83 تا 92
اسرار و معارف
فرعون کے مظالم سے خوفزدہ چندنوجوان ایمان سے مشرف ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت اختیار کی کہ فرعون روئے زمین پر بیحد ظالم انسان تھا اور حد سے بڑھ کر زیادتیاں کرتا تھا لہٰذا اس کا اور اس کے امرا کے مظالم کا خوف فطری بات تھی مگر نور ایمان کی تڑپ ان سب باتوں کے باوجود اپنا اثررکھتی ہے ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ایمان تو اعتبارہی کا نام ہے جب اللہ سے ایمان نصیب ہواتو اسی پر بھروسہ رکھو ، جس کو بچاناچا ہے بھلافرعون اس کا کیا بگاڑلے گا۔
کام کا بیڑہ اٹھانے کے لئے مل کردعا کی جائے
چنانچہ سب نے کہا کہ ہم اللہ ہی پہ بھروسہ کرتے ہیں اور سب نے…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ یعنی عذاب نازل ہوجانے کے بعد توبہ کرنے اور ایمان لانے سے کیا فائدہ ؟۔ (دیکھئے آیت 15) ۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک اس پر جانگنی (غرغرہ) کی حالت طاری نہیں ہوجاتی۔ (ترمذی) ۔
9 ۔ آج تک جزیرہ نمائے سینا کے مغربی ساحل پر اس مقام کی نشاندہی کی جات ہے جہاں فرعون کی لاش سمندر میں تریتی ہوئی پائی گئی تھی۔ اس زمانے میں اس مقام کو جبل فرعون یا حمام فرعون کہا جاتا ہے اس کی جائے وقوع ابو زنیمہ (جہاں تانبے وغیرہ کی کانیں ہیں) سے چند میل اوپر شمال کی جانب ہے آج قاہرہ کے عجائب گھر میں جن فراعنہ کی لاشیں موجود ہیں۔ ان میں ایک لاش کو…
Read the full tafseer →(10:92) ننجیک ببدنک۔ ہم تیرے بدن کی بچالیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں جو فرعون مصر میں حکمران تھا وہ رعمیسس ثانی (Rameses II) تھا جس کی لاش حنوط کی شکل میں مصر کی حنوط شدہ لاشوں میں دریافت ہوئی ہے (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا۔ زیر عنوان ممی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 92
جاوزنا (ہم نے پارا تار دیا) البحر (سمندر، دریا) اتبع (پیچھے چلا) جنود (لشکر) بغی (زیادتی) عدو (دشمنی) ادر کہ (اس نے اس کو پا لیا) عصیت (تو نے نافرمانی کی) ننجی (ہم نجات دیں گے) خلف (پیچھے) غفلون (غفلت کرنے والے، پروانہ کرنے والے)
تشریح :- آیت نمبر 90 تا 92
اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول اپنی امت کے خیر خواہ بن کر تشریف لاتے ہیں جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو جو دنیا کی چمک دمک کر تکبر اور غرور کا پیکر بن جاتے ہیں ان کو راہ راست پر لائیں۔ ان کو وہ راستہ دکھائیں جس پر چل کر وہ نجات کی منزل تک پہنچ جائیں۔ لیکن جب کفر، شرک، فسق و فجور ضد اور ہٹ دھرمی اس حد تک پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
فرعون کا ڈوبنا ، قادر مطلق کی بہت بڑی نشانی
ان آیتوں میں فرعون اور اس کے رفیقوں کی دریا میں ڈوبنے کی کیفیت بیان کی گئی کہ ہم نے بنی اسرائیل کو دریائے قلزم سے صحیح و سلامت پار اتار دیا۔ پھر فرعون اور اس کے لشکر نے بنی اسرائیل پر ظلم اور زیادتی کرنے کے واسطے ان کا تعاقب کیا۔ جب دریا کے کنارے پر پہنچے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ وہ گھوڑی پر سوار ہو کر فرعون کے سامنے سے نکلے۔ فرعون کا گھوڑا بھی گھوڑی کے پیچھے ہو لیا اور دریا میں جا پڑا اور اس کے لشکر والوں نے اس کی پیروی کر کے اپنے تئیں دریا میں ڈال دیا۔ فرعون جب غرق ہونے لگا ہلاک ہونے کے قریب پہنچا اس وقت اس نے کہا کہ میں اس خدا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
[37] قدیم مصریوں میں حنوط کا طریقہ رائج تھا یعنی بادشاہوں اور امیروں کی نعشیں ایک خاص طرح کا مصالحہ لگا کر ایک عرصے تک کے لئے محفوظ کرلی جاتی تھیں۔ چناچہ اٹھارویں صدی کے اوائل سے اب تک اس طرح کی بیشمار نعشیں جنہیں ممی (Mummy) کہا جاتا ہے مصر میں نکل چکی ہیں۔ یہ یاد رہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں دو فرعون یکے بعد دیگرے تخت نشین ہوئے۔ پہلا رامسیس دوم جس کے زمانے میں موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور چالیس سال تک اس کے ہاں رہے۔ دوسرا منفطہ (Mineptah) جو اول الذکر کا بیٹا تھا۔ یہی وہ فرعون ہے جو بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے ہوئے بحرقلزم میں غرق ہوا تھا۔ 1907 ء میں انگریز مستشرق سرگرافٹن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
(ف 2) فرعون کو دوبا کر مار دیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے مزید رسوائی اور عبرت کے لئے اسے پانی سے باہر نکال پھینکا تاکہ بنی اسرائیل اس پر شکوہ انسان کی لاش کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں ، جو اس سے قبل کبروغرور کے عرش پر متمکن تھا ، آج وہ عذاب الہی کی وجہ سے بےحس و حرکت پڑا ہوا ہے ۔
Read the full tafseer →92 لہٰذا آج ہم تیری لاش کو بچا لیں گے تاکہ اپنوں سے پچھوں کے لئے ایک عبر ت آموز نشانی ہو اور بلاشبہ اکثر لوگ ہماری عبرت انگیز نشانیوں سے غافل ہیں لوگوں کی عبرت کیلئے لاش کو بچا لیا گیا تاکہ پیچھے رہنے والوں کے لئے ایک نشانی ہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ جیسا بےوقت ایمان لایا بےفائدہ ایسا ہی اللہ نے مرگئے پیچھے اس کا بدن دریا میں سے نکال کر ٹیلے پر ڈال دیا کہ بنی اسرائیل دیکھ کر شکر کریں اور عبرت پکڑیں اس کو بدن بچنے سے کیا فائدہ 12
خلاصہ ! یہ کہ پانی میں گلنے سڑنے اور مچھلیوں کا کھا جابننے سے بچالیا لیکن جسم کے بچانے سے اس کو کوئی فائدہ نہیں کہتے ہیں کہ فرعون کی لاش اب تک مصر کے عجائب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
ف 3۔ اس کی لاش کے بچالینے کو اور پانی پر تیر آنے کو نجات فرمانا بطور تحکم کے اور اس کے مایوس کردینے کے ہے ایسی نجات ہوگی جو تیرے لیے زیادہ موجب رسوائی ہو۔
Read the full tafseer →فرعون کو اس وقت اس کی پکار کا واضح جواب سنا دیا گیا کہ اب تیرا کچھ کہنا بےسود ہے
126 ؎ فرعون کی بےوقت درخواست کا جواب اس کو اس نازک وقت میں سنا دیا گیا ۔ اس کا مضمون بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے یعنی مشیت الٰہی کا یہ فیصلہ کہ فرعون کے جسم کو غرق ہونے سے نجات دی جائے گی تاکہ آنے والی قوموں کیلئے قدرت الٰہی کی نشانی ہو اور اس لئے قدیم مفسرین کو حل مطلب میں بہت پریشانیاں اور مشکلات پیش آئیں لیک ن اگر ذرا رقت نظر سے کام لیا جائے تو مطلب بالکل واضح ہے ۔ قدیم مصریوں میں حنوط کا طریقہ رائج تھا یعنی بادشاہوں اور امیروں کی نعشیں ایک خاص طرح کا مصالحہ لگا کر ایک عرصہ تک کیلئے محفوظ کردیتے تھے چناچہ…
Read the full tafseer →Commentary
Addressing Pharaoh in the first verse (92), it was said that Allah will take his body out of the waters after he is drowned so that his body becomes a sign of Divine power, and a lesson for people after him.
It happened when, after having crossed the sea, Sayyidna Musa (علیہ السلام) told Bani Isra'il about the drowning of the Pharaoh, they were so overawed and subdued by him that they refused to believe the news and said that the Pharaoh was not drowned. To guide them right and to teach others a lesson, Allah Ta'ala had the dead body of Pharaoh thrown ashore by a wave of the sea.…
Read the full tafseer →92. Even to this day the exact place where Pharaoh's dead body was found afloat on the surface of the sea is known. Lying on the western coast of the Sinaitic peninsula, it is presently known as the Mount of Pharaoh (Jabal Fir'awn). A warm spring, situated in its vicinity, is also still called the Bath of Pharaoh (Hammam Fir'awn) after Pharaoh. Located a few miles away, Abu Zanimah is identified as the precise spot at which Pharaoh's dead body was found. If the name of the Pharaoh who died by drowning was Minpetah, as has been established by current research, his embalmed body still lies in…
Read the full tafseer →