Yunus 10:91

Yunus · from ayah 91

10:91

آٰلْـٰٔنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ۟آٰلۡـئٰنَ وَقَدۡ عَصَيۡتَ قَبۡلُ وَكُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ

(جواب ملا کہ) اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Now? And you had disobeyed [Him] before and were of the corrupters?

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 9 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:91

(جواب دیا گیا)“اب ایمان لاتا ہے! حالانکہ اِس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(جواب ملا کہ) اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا

— مولانا فتح محمد جالندہری

(جواب دیا گیا کہ) اب ایمان ﻻتا ہے؟ اور پہلے سرکشی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل رہا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(جواب دیا گیا کہ) اب ایمان لاتا ہے ؟ حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا، اور مسلسل فساد ہی مچاتا رہا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا اب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(جواب دیا گیا کہ) اب (ایمان لاتا ہے)؟ حالانکہ تو پہلے (مسلسل) نافرمانی کرتا رہا ہے اور تو فساد بپا کرنے والوں میں سے تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا اب ؟ حالانکہ بیشک تو نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں سے تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(فرمایا) اب (تو ایمان لاتا ہے) جبکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا اب ! حالانکہ تم نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تم فساد برپا کرنے والوں میں سے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(جواب ملا کہ) تو اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمانی ہی پر کمر بستہ رہا، اور فساد برپا کرنے والوں ہی میں شامل رہا

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ) اب ! حالانکہ تو تو سرکشی ہی کرتا رہا قبل تک اور تو مفسدوں (ہی) میں شامل رہا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا اب (تو ایمان لا رہا ہے) ؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمانی کرتا رہا ہے اور تو فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(جو اب ملا کہ) اب ایمان لاتا ہے ؟ حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Thereupon came the response): 'Now you believe, although you disobeyed earlier and were one of the mischief-makers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Allah said,) :Is it now (that you have come to believe) while you were rebellious all along, and you were among the mischief-makers?

— Muhammad Taqi Usmani

(Allah said,) :Is it now (that you have come to believe) while you were rebellious all along, and you were among the mischief-makers?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Now (you believe) while you refused to believe before and you were one of the mischief-makers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

What! Now! When hitherto thou hast rebelled and been of the wrong-doers?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Now? And you had disobeyed [Him] before and were of the corrupters?

— Saheeh International

(God replied), "Now you declare belief in Me! but before this you were a disobedient rebel.

— Muhammad Sarwar

What! now! and indeed you disobeyed before and you were of the mischief-makers.

— Muhammad Habib Shakir

Now indeed! whereas thou hast rebelled afore, and wast of the corrupters.

— Abdul Majid Daryabadi

(It was said to him): "Ah now!- But a little while before, wast thou in rebellion!- and thou didst mischief (and violence)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:91

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 90–92

دریائے نیل، فرعون اور قوم بنی اسرائیل فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہونے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی۔ مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کر کے اپنے تمام لوگوں کو لے کر ان کے پیچھے لگا۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں، فوجوں، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا۔ بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا۔ ٹھیک سورج چڑھے، اس نے انہیں اور انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 90–91

سورة یُوْنُس 91 بائیبل میں اس واقعہ کا کوئی ذکر نہیں ہے، مگر تلمود میں تصریح ہے کہ ڈوبتے وقت فرعون نے کہا میں تجھ پر ایمان لاتا ہوں اے خداوند تیرے سوا کوئی خدا نہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پانچویں آیت میں خود حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے اس کا یہ جواب آیا ہے (آیت) اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ ، یعنی کیا اب تم مسلمان ہوتے ہو جب کہ ایمان و اسلام کا وقت گزر چکا۔ اس سے ثابت ہوا کہ عین موت کے وقت کا ایمان لانا شرعاً معتبر نہیں، اس کی مزید تشریح اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ قبول فرماتے رہتے ہیں جب تک غرغرہ موت کا وقت نہ آجائے (ترمذی)۔ غرغرہ موت سے مراد وہ وقت ہے جب نزع روح کے وقت فرشتے سامنے آجاتے ہیں اس وقت دارالعمل دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کے احکام شروع ہوجاتے ہیں، اس لئے اس وقت کا کوئی عمل قابل قبول…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 90–92

90۔ 92:۔ وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُهٗ بَغْيًا وَّعَدْوًا ۭﱑ اِذَآ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ ۙقَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۔ اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۔ فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۔ بنی اسرائیل کی نجات کا خدائی اہتمام : وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ۔۔۔ الایۃ۔ یہ خاص خدائی اہتمام میں بنی اسرائیل کو سمندر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

91۔ 1 اللہ کی طرف سے جواب دیا گیا کہ اب ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ جب ایمان لانے کا وقت تھا، اس وقت تو نافرمانیوں اور فساد انگیزیوں میں مبتلا رہا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 88–91

35: حضرت موسیٰ ؑ کو تبلیغ کرتے ہوئے مدت گذر چکی تھی جس کے بعد نہ صرف وہ مایوس ہوچکے تھے، بلکہ فرعون نے جو مظالم ڈھائے تھے، وہ اتنے انسانیت سوز تھے کہ کوئی انصاف پسند انسان اس کو سزا کے بغیر چھوڑ دینا پسند نہیں کرسکتا تھا۔ نیز شاید ان کو وحی سے یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ فرعون کی قسمت میں ایمان نہیں ہے، اس لیے انہوں نے آخر میں یہ بد دعا فرمائی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آلن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین۔ (ا اللہ نے فرمایا :) کیا اب (تجھے یقین ہوا اور تو نے مانا) حالانکہ اس سے پہلے (ساری عمر) تو نافرمانی کرتا رہا اور تباہی پیدا کرنے والوں میں رہا۔ خود بھی گمراہ رہا اور دوسروں کو بھی ایمان سے بہکاتا رہا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جب اللہ فرعون کو غرق کرنے لگا (یعنی بحکم خدا فرعون ڈوبنے لگا) تو بولا : اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لاآ اِلٰہَ الاَّ الَّذِیْٓ اٰمَنَت بِہٖ بَنُوْٓا اِسْرَآءِ یْلَ ۔ حضرت جبرئیل نے (رسول اللہ (ﷺ) سے) کہا : محمد ! کاش آپ وہ منظر دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں سمندر کی کیچڑ ٹھونس رہا تھا کیونکہ مجھے اندیشہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 90–91

4 موسیٰ (علیہ السلام) کئی لاکھ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے، فرعون کو خبر ہوئی تو ایک لشکر جرار لے کر تعاقب کیا۔ تاکہ اس کے پنجہ ظلم سے چھوٹنے نہ پائیں۔ بنی اسرائیل جب بحرقلزم کے کنارے پہنچے تو سخت پریشان ہوئے، آگے سمندر اور پیچھے فرعون کا لشکر دباتا چلا آرہا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے تسلی دی اور حق تعالیٰ کے حکم سے لاٹھی دریا پر ماری۔ سمندر کا پانی ادھر ادھر کھڑا ہوگیا اور درمیان میں خدا نے بارہ راستے خشک بنا دیئے۔ یہ پار ہوئے، ادھر فرعون لشکر سمیت سمندر کے کنارے پہنچ گیا۔ خشک راستے دیکھ کر سب نے اسی میں گھوڑے ڈال دیے جب ایک ایک کر کے تمام فوج دریا کے وسط میں پہنچی، پانی کو حکم ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 90–91

حَتّٰیٓ اِذَآ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ یعنی جب فرعون غرق ہونے لگا تو :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

101 فرعون کا غرقابی کے وقت ایمان لانا :۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے اس اقرار کے جواب میں فرمایا کہ جیسا اقرار تم اب کر رہے ہو ویسا اقرار پہلے بھی کئی دفعہ کرچکے ہو پھر بعد میں عہد شکنی کرکے بغاوت ہی کرتے رہے ہو لہذا تمہارا اب کا یہ اقرار قطعاً ناقابل اعتبار ہے اگر تمہیں اب بھی ہم نجات دے دیں تو پھر بھی تم وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو اور اس مطلب پر دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب فرعون نے یہ کلمات کہے تھے تو جبریل نے مجھے کہا کہ : کاش اے محمد ! آپ دیکھتے میں نے اس وقت دریا سے کیچڑ لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونس دیا کہ مبادا اب بھی کہیں اللہ کی رحمت اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

135۔ (سو اب نہ ایمان مقبول، نہ نجات آخرت کی کوئی صورت) (آیت) ” آلئن “۔ یہ اب ! جبکہ انکشاف آخرت شروع ہوچکا اور قبول ایمان کا وقت نہیں رہا۔ اتؤمن بالساعۃ فی وقت الاضطرار حین ادرکک الغرق وائست من نفسک (مدارک) (آیت) ” وقد عصیت قبل “۔ یعنی عین اس لمحہ سے قبل تک تیری ساری عمر تو ہماری مخالفت وسرکشی ونافرمانی میں گزری اور اب جب مشاہدہ ہمارے عذاب کا ہونے لگا اقرار کو چلا ہے۔ انما تؤمن عند نزول العذاب والایمان فی ھذا الوقت غیر مقبول (کبیر) (آیت) ” من المفسدین “۔ مفسد یہاں منکر اور باغی، گمراہ کرنے والے کے معنی میں ہے۔ اے الذین اضل الناس (ابن کثیر) حیرت ہے کہ قرآن کی ان تصریحات کے باوجود بھی صوفیہ غیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–92

آیت نمبر 83 تا 92 ترجمہ : فرعون کی قوم کے نوجوانوں میں سے ایک مٹھی بھر نوجوانوں کے علاوہ کسی نے فرعون اور اپنے سرداروں کے خوف کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہیں مانی کہ وہ ان کو تکلیف دیکر ان کے دین سے پھیر دیں گے اور اس میں شک نہیں کہ فرعون ملک مصر میں (زور وتکبر میں) بہت چڑھا ہوا تھا، اور وہ تھا ہی دعوائے ربوبیت کرکے حد سے تجاوز کرنے والوں میں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم فرمانبردار ہو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے پروردگار تو ہم کو ظالموں کے لئے تختہ مشق نہ بنا یعنی تو ان کو ہم پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

آلن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین۔ (ا اللہ نے فرمایا :) کیا اب (تجھے یقین ہوا اور تو نے مانا) حالانکہ اس سے پہلے (ساری عمر) تو نافرمانی کرتا رہا اور تباہی پیدا کرنے والوں میں رہا۔ خود بھی گمراہ رہا اور دوسروں کو بھی ایمان سے بہکاتا رہا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ فرعون کو غرق کرنے لگا (یعنی بحکم خدا فرعون ڈوبنے لگا) تو بولا : اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لاآ اِلٰہَ الاَّ الَّذِیْٓ اٰمَنَت بِہٖ بَنُوْٓا اِسْرَآءِ یْلَ ۔ حضرت جبرئیل نے (رسول اللہ ﷺ سے) کہا : محمد ! کاش آپ وہ منظر دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں سمندر کی کیچڑ ٹھونس رہا تھا کیونکہ مجھے اندیشہ تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(91) تب حضرت جبریل امین ؑ نے اس سے فرمایا اب غرق ہونے کے وقت ایمان لاتا ہے (جب کہ اس کا اعتبار نہیں) اور غرق ہونے سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا رہا اور ارض مصر میں قتل وشرک اور غیر اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دے کر فساد پھیلاتا رہا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ۔۔ : کیا اب ؟ یہ اللہ کی طرف سے ڈانٹ تھی اور بتانا تھا کہ عذاب نازل ہوجانے کے بعد توبہ کرنے اور ایمان لانے سے کوئی فائدہ نہیں، فرمایا : (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا) [ المؤمن : 85 ] ”پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔“ اور دیکھیے سورة یونس (51) اور نساء (18) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ) [ ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغر۔۔ : 3537، عن ابن عمر ]”بیشک اللہ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، جب تک اس کا غرغرہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 91 کہا گیا ہے کہ : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : یہ حضرت جبریل (علیہ السلام) امین کا قول ہے اور بعض نے کہا ہے : یہ حضرت میکائیل (علیہ السلام) کا قول ہے یا ان دونوں کے علاوہ کسی اور فرشتے کا قول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (رح) : یہ فرعون کا اپنی ذات کے بارے میں قول ہے۔ اور وہاں زبان کے ساتھ یہ قول نہیں ہوا بلکہ یہ اس کے دل میں واقع ہوا ہے پس اس نے اپنے دل میں جو کہا ہے اس حیثیت سے کہ ندامت نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا۔ اور اس کی نظیر یہ ہے (آیت) انما نطعمکم لوجہ اللہ (الدھر : 9) اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی ہے اس کے سبب جو ان کے دلوں میں مخفی تھا، نہ کہ انہوں نے یہ اپنے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں میں سے آخری دریا سے باہر نکلا اور فرعون کے ساتھیوں میں آخری دریا سے باہر نکلا اور فرعون کے ساتھیوں میں آخری آدمی بھی داخل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم فرمایا کہ ان پر مل جا فرعون نے ایک انگلی باہر نکالی (یہ کہتے ہوئے) کہ میں اس خدا پر ایمان لے آیا جس پر بنی اسرائیل ایمان لے آئے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں جانتا تھا کہ رب تعالیٰ رحیم ہیں اور مجھے خوف ہوا کہ اسے رحمت آئے گی (اور اس کی مغفرت ہوجائے) تو میں نے اس کو اپنے پروں میں چھپالیا اور میں نے کہا (آیت) ” آلئن وقد عصیت قبل “ جب موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اٰۗلْئٰنَ [ کیا اب ] وَقَدْ عَصَيْتَ [ اور تو نافرمانی کرچکا ہے ] قَبْلُ [ پہلے ] وَكُنْتَ [ اور تو تھا ] مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ [ نظم بگاڑنے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 89–91

فرعون اور آل فرعون کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا ‘ فرعون کا غرق ہونا ‘ اور عبرت کیلئے اس کی نعش کا باقی رکھا جانا فرعون اور اس کی قوم مصر میں صاحب اقتدار تھے ان کے پاس اموال تھے ‘ زیب وزینت کے ساتھ رہتے تھے اور بنی اسرائیل جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں مصر جا کر آباد ہوگئے تھے وہ وہاں پر دیسی تھے اور چونکہ اہل مصر یعنی قبطیوں کی قوم میں سے نہ تھے اس لئے ان سے محنت کے کام لئے جاتے تھے بلکہ ان سے بیگاریں لیتے تھے۔ بنی اسرائیل مال کے اعتبار سے بھی بہت کمزور تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ الٰہی میں عرض کیا کہ اے اللہ ! آپ نے ان لوگوں کو دنیاوی سازو سامان دیا ہے جو اس بات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 90–92

بقیہ قصہ موسویہ و غرقابی فرعون قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ وجوزنا ببنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔ عن ایتنا لغفلون اور جب قبولیت دعاء موسوی کا وقت آپہنچا اور ہم نے فرعون کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات کا ارادہ کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر نکل جائیں کہ قبطیوں پر عذاب نازل ہونے کا وقت قریب آگیا ہے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کی غفلت میں چھ لاکھ بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر مصر سے روانہ ہوئے فرعون کو جب خبر لگی تو اس نے اپنے لشکر سمیت ان کا پیچھا کیا اور ایسے موقعہ پر ان کو جالیا کہ دریائے قلزم ان کے آگے تھا۔ جب بنی اسرائیل نے یہ دیکھا کہ سمندر تو آگے ہے اور دشمن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 89–92

104: اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبول دعا کی خوشخبری سنائی گئی کہ تمہاری دعا قبول ہوچکی ہے لیکن ابھی چند دن صبر و استقامت سے کام لینا ہوگا “ وَلَا تَتَّبِعٰنِ الخ ” اللہ پر بھروسہ رکھو وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے امور و احکام کی حکمتوں اور مصلحتوں سے بیخبر ہوتے ہیں وہ اللہ کے وعدوں کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں اور صبر و استقامت کے بجائے عجلت اور بےصبری کا اظہار کرتے ہیں اے موسیٰ و ہارون ایسے بیخبر لوگوں کی سی کوئی حرکت تم سے ہرگز سرزد نہ ہونے پائے۔ “ وَجَاوَزنَا بِبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ الْبَحْرَ ” جب اللہ کے وعدے کے مطابق بنی اسرائیل کی نجات اور فرعون اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–92

ربط آیات گذشتہ آیات میں فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل پر ہونے والے مظالم کا بیان تھا۔ آخر میں مایوس ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعونیوں کے خلاف بددعا کی کہ پروردگار ! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ یہ عذاب الیم دیکھے بغیر یقین نہ کریں۔ اللہ نے ارشاد فرمایا تمہاری دعا قبول ہوگئی ہے ، لہٰذا تم اپنے طریقے پر قائم رہو اور بےعلم اور ناواقفوں کے راستے کا اتباع نہ کرو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ دعا کی قبولیت کے بعد چالیس سال تک موسیٰ (علیہ السلام) اس دنیا میں رہ کر اپنا کام کرتے رہے گویا چالیس سال تک اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو مزید مہلت دی اور پھر آخر کار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اٰۗلْــٰٔــنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۝ 91 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 90–92

2 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بڑی غور طلب بات یہ بتلائی جاتی ہے کہ دنیا میں قوی بہیمیہ کے اثر سے خلاف فطرت اللہ افعال سرزد ہونے لگتے ہیں جو انجام کار انہیں کی بربادی اور عذاب اخروی کا باعث ہوجاتے ہیں اور اسی لئے حضرت انبیاء علیہم الاسلام یکے بعد دیگرے بھیجے گئے۔ انبیاء (علیہم السلام) کا وعظ و پند ہرچند نافع ہوا اور یہ ہونا بھی چاہیے تھا مگر جب تک افراد انسانیہ کو کوئی قوی محرک نہیں ابھارتا عموماً اثر نہیں ہوتا اور دنیا میں حکومت و سلطنت بھی ایک بڑا قومی محرک اور انقلاب عظیم ہے پھر جب سلطنت ہی اس بدکاری کی موید ہو تو جب تک اس سے بڑا محرک نہ پیدا کیا جاوے اصلاح ممکن نہیں اور وہ سلطنت سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 91–92

آٰ لْئٰنَ وَقَدْعَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً ط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰٰیتِنَا لَغٰفِلُوْنَ ۔ (یونس : 91، 92) (جواب دیا گیا اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا ہے اور تو فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا پس آج ہم تیری لاش کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنا رہے بیشک بہت سے انسان ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔ ) اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب موت کا وقت قریب آجاتا ہے اور اس کے آثار طاری ہونے لگتے ہیں تو اس وقت ایمان قبول نہیں کیا جاتا۔ فرعون جب سمندر میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 90–92

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بدعا کا نتیجہ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اور ان کی قوم کی آہ و زاریوں کو قبول فرمایا اور بنی اسرائیل کو نجات دی۔ فرعون اور اس کے لشکروں کو ڈبکیاں دے دے کر مارا جس کی تفصیل یوں بیان کی گئی ہے کہ اے اہل مکہ ہم نے تم سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا اور ان کے پاس معزز رسول یہ پیغام لے کر آیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذمہ دار اور امانت دار رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ لہٰذا اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردے یعنی انہیں آزاد کردیا جائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سرکشی نہ کرو میں تمہیں واضح طور پر دلائل دے رہا ہوں۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

91: ٰٓ الْئٰنَ ( کیا اب) تو اضطرار کی گھڑی میں ایمان لاتا ہے۔ جبکہ تو غرق ہو رہا ہے۔ اور اپنے بچنے کی امیدٹوٹ چکی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جب پانی نے اس کو ڈبونے کی لگام چڑھائی تو یہ کہہ اٹھا۔ نحو : آٰ لْئٰنَ کا عامل اَتُؤْمِنُ محذوف ہے۔ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ (حالانکہ تو نے اس سے قبل نافرمانی کی اور تو مفسدین میں سے تھا) ان گمراہوں میں سے تھا جو ایمان سے برگشتہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ روایت میں ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے اس سے ایک استفتاء طلب کیا۔ ماقول الا میر فی عبدلرجل نشأ فی مالہ و نعمتہ فکفر نعمتہ وجحد حقہ وادعیالسیادۃ دونہ۔ امیر کیا کہتے ہیں ایسے غلام کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 91۔” الا ان وقد عصیت قبل و کنت من المفسدین “ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا تو وہ کہنے لگا ” امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنو اسرائیل “ تو جبرئیل (علیہ السلام) کہنے لگے کہ اے محمد ﷺ اگر آپ مجھے دیکھتے کہ میں دریا کی کیچڑ اٹھا کر اس کو منہ میں ٹھونس رہا تھا۔ اس خوف سے کہ اس کو رحمت نہ پکڑے ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کے ہلاک ہونے کی خبر دی تو بنو اسرائیل کہنے لگے کہ فرعون نہیں مرا تو اللہ تعالیٰ نے سمندرکو حکم دیا تو اس نے فرعون کو ساحل پر ڈال دیا وہ سرخ چھوٹا ہوگیا تھا۔ گویا کہ وہ بیل ہے تو اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 90–92

90۔ 92۔ ان آیتوں میں فرعون اور اس کے رفیقوں کی دریا میں ڈوبنے کی کیفیت بیان کی گئی ہے جب بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مصر سے نکلے جن کی تعداد چھ لاکھ تھی تو فرعون کو یہ خبر معلوم ہوئی اور اس نے شہر میں آدمی بھیج کر اور لشکر اکٹھا کر کے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا بنی اسرائیل بحر قلزم کے کنارے پر پہنچ چکے تھے فرعون کو لشکر سمیت آتے ہوئے دیکھ کر بہت ہی خوف کرنے لگے جب فرعون بالکل قریب آگیا تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ ان لوگوں کے ہاتھ سے کیوں کر رہائی ہوگی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے اسی راہ سے جانے کی ہدایت ہوئی ہے خدا خود رستہ بتلا دے گا جب وقت بالکل تنگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–93

آیت : ( 75-93) (ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–109

قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

154 ۔ فرعون کو اس کے دعوائے ایمان کا جواب : سو غرقابی کے اس موقع پر فرعون نے اپنے ایمان کا اعلان کیا لیکن اس کو جواب ملا کہ اب ایمان لاتے ہو جبکہ اس سے پہلے تم کفر ہی کرتے رہے تھے ؟ اور اس کو یہ جواب اللہ پاک کی طرف سے یا جبریل امین کی جانب سے دیا گیا۔ (جامع البیان وغیرہ) سو اس کے بارے میں یہ دونوں ہی احتمال موجود ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ مطلب بہرحال ایک ہی ہے کہ تو اب ایمان لا رہا ہے جبکہ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا موقع ہاتھ سے نکل گیا اور اللہ کے عذاب نے تجھے دبوچ لیا۔ سو یہ وقت ایمان لانے کا نہیں بلکہ اپنے کفر و انکار اور تمردو سرکشی کے بھگتان کے بھگتنے کا ہے۔ سو اس میں اس لعین کی نہایت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–92

سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–92

آیات 83 تا 92 اسرار و معارف فرعون کے مظالم سے خوفزدہ چندنوجوان ایمان سے مشرف ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت اختیار کی کہ فرعون روئے زمین پر بیحد ظالم انسان تھا اور حد سے بڑھ کر زیادتیاں کرتا تھا لہٰذا اس کا اور اس کے امرا کے مظالم کا خوف فطری بات تھی مگر نور ایمان کی تڑپ ان سب باتوں کے باوجود اپنا اثررکھتی ہے ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ایمان تو اعتبارہی کا نام ہے جب اللہ سے ایمان نصیب ہواتو اسی پر بھروسہ رکھو ، جس کو بچاناچا ہے بھلافرعون اس کا کیا بگاڑلے گا۔ کام کا بیڑہ اٹھانے کے لئے مل کردعا کی جائے چنانچہ سب نے کہا کہ ہم اللہ ہی پہ بھروسہ کرتے ہیں اور سب نے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 90–91

ف 6 ۔ یعنی سمندر میں ان کے پیچھے گھس گیا۔ فرعون کے بنی اسرائیل کا تعاقب کرنے اور پھر سمندر میں ان کے پیچھے گھسنے کی کیفیت تفصیل سے دوسرے مقامات پر مذکور ہے۔ (مثلاً دیکھئے الشعراء رکوع 4) ۔ 7 ۔ یعنی بنی اسرائیل کو ستناے اور ان پر ظلم کرنے کے لے بغی اس زیادتی کو کہتے ہیں جو قول سے ہو اور عدو جو فعل سے ہو۔ (قرطبی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:91) الئن۔ اصل میںء الئن تھا۔ ء استفہام انکار و توبیخ کے لئے ہے اسم ظرف زمان ہے۔ اس کا عامل محذوف ہے۔ گویا عبارت کی تقدیر یوں ہے اتؤمن الئن (حین یلست من الحیات) کیا اب ایمان لاتے ہو جب زندگی سے بالکل مایوس ہوگئے ہو۔ (اور موت سامنے دکھائی دے رہی ہے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 90–92

لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 92 جاوزنا (ہم نے پارا تار دیا) البحر (سمندر، دریا) اتبع (پیچھے چلا) جنود (لشکر) بغی (زیادتی) عدو (دشمنی) ادر کہ (اس نے اس کو پا لیا) عصیت (تو نے نافرمانی کی) ننجی (ہم نجات دیں گے) خلف (پیچھے) غفلون (غفلت کرنے والے، پروانہ کرنے والے) تشریح :- آیت نمبر 90 تا 92 اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول اپنی امت کے خیر خواہ بن کر تشریف لاتے ہیں جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو جو دنیا کی چمک دمک کر تکبر اور غرور کا پیکر بن جاتے ہیں ان کو راہ راست پر لائیں۔ ان کو وہ راستہ دکھائیں جس پر چل کر وہ نجات کی منزل تک پہنچ جائیں۔ لیکن جب کفر، شرک، فسق و فجور ضد اور ہٹ دھرمی اس حد تک پہنچ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 90–92

فرعون کا ڈوبنا ، قادر مطلق کی بہت بڑی نشانی ان آیتوں میں فرعون اور اس کے رفیقوں کی دریا میں ڈوبنے کی کیفیت بیان کی گئی کہ ہم نے بنی اسرائیل کو دریائے قلزم سے صحیح و سلامت پار اتار دیا۔ پھر فرعون اور اس کے لشکر نے بنی اسرائیل پر ظلم اور زیادتی کرنے کے واسطے ان کا تعاقب کیا۔ جب دریا کے کنارے پر پہنچے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ وہ گھوڑی پر سوار ہو کر فرعون کے سامنے سے نکلے۔ فرعون کا گھوڑا بھی گھوڑی کے پیچھے ہو لیا اور دریا میں جا پڑا اور اس کے لشکر والوں نے اس کی پیروی کر کے اپنے تئیں دریا میں ڈال دیا۔ فرعون جب غرق ہونے لگا ہلاک ہونے کے قریب پہنچا اس وقت اس نے کہا کہ میں اس خدا پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[36] یعنی جب مشاہدہ ہمارے عذاب کا ہونے لگا اور انکشاف آخرت شروع ہوچکا اس وقت ایمان لاتا ہے !

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

فرعون کا حال : (ف 1) ایمان اس وقت تک قبول ہے جب تک جسم میں جان ہو ، موت کے یقینی علامات وآثار کا ظہور نہ ہوا ہو کیونکہ مقصد عمل ہے اور جب عمل کی تمام امیدیں ہی منقطع ہوجائیں ، تو پھر ایمان کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ، فرعون عمر بھر تو خدا کی نافرمانی میں مشغول رہا اور جب قلزم میں غرق ہونے لگا موت سامنے دکھائی دینے لگی ، اس وقت تضرع وزاری کرنے لگا ، اللہ نے فرمایا اس وقت جب کہ یاس وقنوط کے بادل تمہارے مطلع دل پر چا رہے ہوں ، ایمان و توبہ مقبول نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

91 اس کو جواب دیا گیا اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پیشتر تو نافرمانی کرتا رہا اور تو بڑے مفسدوں اور شرارت کرنے والوں میں سے تھا یعنی عذاب کے معائنہ کے بعد ایمان مفید اور نافع نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یعنی سارف عمر مخالف رہا اب عذاب دیکھ کر ایمان لایا اس وقت کا یقین لانا کیا معتبر

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 91–92

ف 3۔ اس کی لاش کے بچالینے کو اور پانی پر تیر آنے کو نجات فرمانا بطور تحکم کے اور اس کے مایوس کردینے کے ہے ایسی نجات ہوگی جو تیرے لیے زیادہ موجب رسوائی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون کی بےوقت تصدیق اس کے کچھ بھی کام نہ آئی 125 ؎ اور عذاب کا فرشتہ جب آ کر شہ رگ کو دبوچ لے اور پردہ غیب میں مستور حقائق جب بےحجاب دکھائی دینے لگیں تو اس وقت ایمان لانا شریعت میں معتبر نہیں اس لئے حالت اضطرار میں جب فرعون نے ایمان لانے کا اعلان کیا تو اسے اس کے منہ پر پٹخ دیا گیا اگرچہ بائبل میں فرعون کے ایمان لانے کا تذکرہ نہیں لیکن تلمود میں صراحتہ ً مذکور ہے کہ اس وقت فرعون نے کہا ” میں تجھ پر ایمان لاتا ہوں اے خداوند ! تیرے سوا کوئی خدا نہیں “۔ (تفہیم القرآن جلد دوم ص 310)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The answer to this appearing in the fifth verse (91) came from Allah Almighty Himself. It says: آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ﴿91﴾ Is it now [ that you come to believe ] while you were rebellious before and you were among the mischief-makers? This proves that the profession of faith exactly at the time of death is not legally trustworthy. It is further clarified by the Hadith in which the Holy Prophet ﷺ said, 'Allah Ta'ala keeps accepting the Taubah (repentance) of a servant until comes the time of the ghargharah of death. (Tirmidhi) The ghargharah of death means…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 90–91

91. Though this event is not mentioned in the Bible, it is explicitly recorded in the Talmud in the following words: 'Who is like Thee, O Lord, among the gods?' We settled the Children of Israel in a blessed land,94 and provided them with all manner of good things. They only disagreed among themselves after knowledge (of the truth had) come to them.95 Surely your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning their disagreements.

Read the full tafseer →