Explained with ayahs 88–89
فرعون کا تکبر اور موسیٰ ؑ کی بد دعا
جب فرعون اور فرعونیوں کا تکبر، تجبر، تعصب بڑھتا ہی گیا۔ ظلم و ستم بےرحمی اور جفا کاری انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ کے صابر نبیوں نے ان کے لیے بد دعا کی کہ یا اللہ تو نے انہیں دنیا کی زینت و مال خوب خوب دیا اور تو بخوبی جانتا ہے کہ وہ تیرے حکم کے مطابق مال خرچ نہیں کرتے۔ یہ صرف تیری طرف سے انہیں ڈھیل اور مہلت ہے۔ یہ مطلب تو ہے جب لیضلِّوا پڑھا جائے جو ایک قرأت ہے اور جب لِیُضِلُّوا پڑھیں تو مطلب یہ ہے کہ یہ اس لئے کہ وہ اوروں کو گمراہ کریں جن کی گمراہی تیری چاہت میں ہے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ یہی لوگ اللہ کے محبوب ہیں ورنہ اتنی دولت مندی اور اس قدر…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 90
جو لوگ حقیقت کو نہیں جانتے اور اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں کو نہیں سمجھتے وہ باطل کے مقابلہ میں حق کی کمزوری، اور اقامت حق کے لیے سعی کرنے والوں کی مسلسل ناکامیاں اور ائمہ باطل کے ٹھاٹھ اور ان کی دنیوی سرفرازیاں دیکھ کر یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے کہ اس کے باغی دنیا پر چھائے رہیں، اور شاید حضرت حق خود ہی باطل کے مقابلہ میں حق کی تائید کرنا نہیں چاہتے۔ پھر وہ نادان لوگ آخرکار اپنی بدگمانیوں کی بنا پر یہ نتیجہ نکال بیٹھتے ہیں کہ اقامت حق کی سعی لاحاصل ہے اور اب مناسب یہی ہے کہ اس ذرا سی دینداری پر راضی ہو کر بیٹھ رہا جائے جس کی اجازت کفروفسق کی سلطانی…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کی اس دعا کی قبولیت کو بیان فرمایا ہے مگر عنوان میں حضرت ہارون ؑ کو بھی شریک دعا قرار دے کر یہ خطاب کیا گیا (آیت) قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَایعنی تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، وجہ یہ تھی کہ جب حضرت موسیٰ ؑ یہ دعا کر رہے تھے تو حضرت ہارون آمین کہتے جاتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ کسی دعا پر آمین کہنا بھی دعا ہی میں داخل ہے، اور چونکہ دعا کا مسنون طریقہ قرآن کریم میں آہستہ آواز سے کرنے کا بتلایا گیا ہے تو اس سے آمین کو بھی آہستہ کہنے کی ترجیح معلوم ہوتی ہے۔
اس آیت میں قبولیت دعا کی اطلاع ان دونوں پیغمبروں کو دے دیگئی، مگر تھوڑا سا امتحان ان کا بھی لیا گیا کہ قبولیت…
Read the full tafseer →قَالَ قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَــقِيْمَا وَلَا تَتَّبِعٰۗنِّ سَبِيْلَ الَّذِيْنَ لَايَعْلَمُوْنَ۔ مکذبین پر ہلاکت کی تیر بہدف دعا : جو دعا صحیح طریقہ اور ٹھیک وقت پر کی جاتی ہے اس کی قبولیت میں دیر نہیں ہوتی۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون پر دعوت و اصلاح اور انذار و تبلیغ کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی چونکہ وہ کما حقہ ادا ہوچکی تھی اس وجہ سے ان کی دعا قبول ہوگئی اور ان کو یہ ہدایت ہوئی کہ اب آگے کے مرحلہ میں ان سرکشوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ جو معاملہ کرنے والا ہے اس کو جی کڑا کر کے دیکھنا۔ ان کی درگت دیکھ کر ان کے لیے دل میں نہ کوئی نرمی ورافت پیدا ہو، نہ ان کے حق میں کوئی کلمہ سفارش کہنا…
Read the full tafseer →89۔ 1 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اپنی بد دعا پر قائم رہنا، چاہے اس کے ظہور میں تاخیر ہوجائے۔ کیونکہ تمہاری دعا تو یقینا قبول کرلی گئی لیکن ہم اسے عملی جامہ کب پہنائیں گے ؟ یہ خالص ہماری مشیت و حکمت پر موقوف ہے۔ چناچہ بعض مفسرین نے بیان کیا کہ اس بد دعا کے چالیس سال بعد فرعون اور اس کی قوم ہلاک کی گئی اور بد دعا کے مطابق فرعون جب ڈوبنے لگا تو اس وقت اس نے ایمان لانے کا اعلان کیا، جس کا اسے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ دوسرا مطلب یہ کہ تم اپنی تبلیغ و دعوت۔ بنی اسرائیل کی ہدایت و راہنمائی اور اس کو فرعون کی غلامی سے نجات دلانے کی جد و جہد جاری رکھو۔
98۔ 2 یعنی جو لوگ اللہ کی سنت، اس کے قانون، اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
35: حضرت موسیٰ ؑ کو تبلیغ کرتے ہوئے مدت گذر چکی تھی جس کے بعد نہ صرف وہ مایوس ہوچکے تھے، بلکہ فرعون نے جو مظالم ڈھائے تھے، وہ اتنے انسانیت سوز تھے کہ کوئی انصاف پسند انسان اس کو سزا کے بغیر چھوڑ دینا پسند نہیں کرسکتا تھا۔ نیز شاید ان کو وحی سے یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ فرعون کی قسمت میں ایمان نہیں ہے، اس لیے انہوں نے آخر میں یہ بد دعا فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →قال قد اجیبت دعوتکما اللہ نے (حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون سے) فرمایا : تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی۔
حضرت موسیٰ دعا کر رہے تھے اور حضرت ہارون آمین کہہ رہے تھے ‘ اسلئے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ کی دعا چالیس برس کے بعد قبول ہوئی تھی۔
فاستقیما پس تم قائم رہنا۔ یعنی رسالت اور دعوت پر قائم رہنا اور میرے حکم پر چلنا یہاں تک کہ ان پر عذاب آجائے گا۔
ولا تتبعٰن سبیل الذین لا یعلمون۔ اور نادانوں کے طریق کی پیروی نہ کرنا کہ نادانوں کی طرح نزول عذاب میں جلدی کرنے لگو۔ یا اللہ کے وعدہ پر پورا بھروسہ نہ رکھو۔
Read the full tafseer →2 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ دعا کرتے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے جاتے تھے۔ اس لحاظ سے " دعوتکما " فرمایا۔
3 یعنی اپنا کام استقلال اور ثابت قدمی سے انجام دیتے رہو۔ اگر قبول دعاء کے آثار دیر سے ظاہر ہوں تو نادان لوگوں کی طرح شتابی مت کرو، وقت مقدر پر یہ ہی ہو کر رہے گا۔ گھبرانے سے کچھ حاصل نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 89 قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُکُمَا فَاسْتَقِیْمَا
ایسا نہ ہو کہ وقت آنے پر تمہارا دل پسیج جائے اور پھر دعا کرنے لگو کہ اے اللہ اب ان کو معاف فرما دے !
Read the full tafseer →99 کامیابی کے لئے صبرو استقلال کی اہمیت :۔ پیغمبروں کی دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انھیں اور مسلمانوں کی جماعت کو صبر، استقلال اور ثابت قدمی کی تلقین فرمائی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو لوگ زندگی کی کامیابی کا منتہائے مقصود صرف دنیا کے مال و دولت اور شان و شوکت ہی کو سمجھ بیٹھے ہیں ان کی طرف مطلقاً التفات نہ کرو کیونکہ ان کا یہ نظریہ محض جہالت پر مبنی ہے اور اللہ تعالیٰ جلد ہی تمہیں ان لوگوں سے نجات دے دے گا۔
Read the full tafseer →129۔ (اور اب یہ نافرمان ہلاک ہی ہو کر رہیں گے) اس جواب کے صیغہ تثنیہ سے معلوم ہوا کہ دعاء میں حضرت ہارون (علیہ السلام) بھی شریک تھے۔ بلاغت قرآنی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو چیزیں سیاق سے از خود روشن ہوجائیں قرآن ان کی صراحت غیرضروری سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے۔
130۔ (ہمارے دعو وں کے برحق اور قطعی ہونے کا، گوان کا ظہور بہ توقف وبتا خیر ہو) (آیت) ” فاستقیما “۔ یعنی اپنے فرض منصبی پر قائم رہو اور دعوت وتبلیغ میں بدستور لگے رہو۔ (آیت) ” لایعلمون “۔ یعنی ہماری حکمت تاخیر ومصالح توقف سے بیخبر ہیں۔ لایعلمون صدق الاجابۃ و حکمۃ الامھال (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–92
آیت نمبر 83 تا 92
ترجمہ : فرعون کی قوم کے نوجوانوں میں سے ایک مٹھی بھر نوجوانوں کے علاوہ کسی نے فرعون اور اپنے سرداروں کے خوف کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہیں مانی کہ وہ ان کو تکلیف دیکر ان کے دین سے پھیر دیں گے اور اس میں شک نہیں کہ فرعون ملک مصر میں (زور وتکبر میں) بہت چڑھا ہوا تھا، اور وہ تھا ہی دعوائے ربوبیت کرکے حد سے تجاوز کرنے والوں میں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم فرمانبردار ہو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے پروردگار تو ہم کو ظالموں کے لئے تختہ مشق نہ بنا یعنی تو ان کو ہم پر…
Read the full tafseer →قال قد اجیبت دعوتکما اللہ نے (حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون سے) فرمایا : تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی۔
حضرت موسیٰ دعا کر رہے تھے اور حضرت ہارون آمین کہہ رہے تھے ‘ اسلئے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ کی دعا چالیس برس کے بعد قبول ہوئی تھی۔
فاستقیما پس تم قائم رہنا۔ یعنی رسالت اور دعوت پر قائم رہنا اور میرے حکم پر چلنا یہاں تک کہ ان پر عذاب آجائے گا۔
ولا تتبعٰن سبیل الذین لا یعلمون۔ اور نادانوں کے طریق کی پیروی نہ کرنا کہ نادانوں کی طرح نزول عذاب میں جلدی کرنے لگو۔ یا اللہ کے وعدہ پر پورا بھروسہ نہ رکھو۔
Read the full tafseer →(89) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ وہارون ؑ سے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی سو تم ایمان، اطاعت خداوندی اور تیلغ رسالت پر قائم رہو اور ان لوگوں کے طریقہ کو مت اختیار کرنا، جو توحید خداوندی کو نہیں سمجھتے اور ان اس کی تصدیق کرتے یعنی فرعون اور اس کی قوم۔
Read the full tafseer →قَالَ قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا : یعنی یقیناً تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی۔ معلوم ہوا کہ موسیٰ ؑ کے ساتھ ہارون ؑ بھی اس دعا میں شریک تھے۔ بعض اہل علم کے اقوال ہیں کہ موسیٰ ؑ دعا کرتے تھے اور ہارون ؑ آمین کہتے تھے، مگر یہ بات قرآن مجید سے یا حدیث سے مجھے نہیں ملی۔
فَاسْتَــقِيْمَا : اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ دعوت پر ثابت قدم رہو، بیشک تمہاری دعا قبول ہے، مگر قبولیت ظاہر ہونے میں دیر ہوسکتی ہے، اس لیے دیر کی وجہ سے دعوت میں کوتاہی نہ کرنا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے کہ قبولیت کا اثر کب ظاہر ہوگا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اب اپنی اس بد دعا پر قائم رہنا، ایسا نہ ہو کہ میرا عذاب آنے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 89
قولہ تعالیٰ : (آیت) قال قد اجیبت دعوتکما ابو العالیہ نے کہا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا مانگی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) نے آمین کہی، چونکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے دعا پر آمین کہی اسی وجہ سے انہیں داعی (دعا مانگنے والا) کہا گیا اور التامین علی الدعا کا معنی آمین کہنا ہے۔ اور تیرا قول ” آمین “ یہ بھی دعا ہے، یعنی اے میرے پروردگار ! میرے لیے اسے قبول فرما۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر دعا بھی کی۔ اور اہل معانی نے کہا ہے : یہ اس قبیل میں سے ہے جس میں عرب واحد کو خطاب تثنیہ کے صیغے کے ساتھ خطاب کرتے ہیں،…
Read the full tafseer →1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تحقیق تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی پھر فرمایا کہ ان کے رب نے انکی دعا قبول فرمائی اور وہ حائل ہوگیا فرعون اور (اس کے) ایمان کے درمیان۔
موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی دعا :
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب دعا فرماتے تھے تو ہارون (علیہ السلام) ان کی دعا پر آمین کہتے تھے اور ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ وہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں سے ایک نام ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قد اجیبت دعوتکما “
3:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قد اجیبت دعوتکما “ یعنی…
Read the full tafseer →قَالَ [ کہا (اللہ نے ) ] قَدْ اُجِيْبَتْ [ قبول کی گئی ہے ] دَّعْوَتُكُمَا [ تم دونوں کی دعا ] فَاسْتَــقِيْمَا [ پس ڈٹے رہو ] وَلَا تَتَّبِعٰۗنِّ [ اور تم دونوں ہرگز پیروی مت کرنا ] سَبِيْلَ الَّذِيْنَ [ ان کے راستے کی جو ] لَايَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
فرعون اور آل فرعون کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا ‘ فرعون کا غرق ہونا ‘ اور عبرت کیلئے اس کی نعش کا باقی رکھا جانا
فرعون اور اس کی قوم مصر میں صاحب اقتدار تھے ان کے پاس اموال تھے ‘ زیب وزینت کے ساتھ رہتے تھے اور بنی اسرائیل جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں مصر جا کر آباد ہوگئے تھے وہ وہاں پر دیسی تھے اور چونکہ اہل مصر یعنی قبطیوں کی قوم میں سے نہ تھے اس لئے ان سے محنت کے کام لئے جاتے تھے بلکہ ان سے بیگاریں لیتے تھے۔ بنی اسرائیل مال کے اعتبار سے بھی بہت کمزور تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ الٰہی میں عرض کیا کہ اے اللہ ! آپ نے ان لوگوں کو دنیاوی سازو سامان دیا ہے جو اس بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
بقیہ قصہ موسویہ
قال اللہ تعالیٰ ٰ وقال موسیٰ ربنا انک اتیت۔۔۔ الی۔۔۔۔ الذین لایعلمون
اور موسیٰ (علیہ السلام) جب قوم فرعون کے ایمان سے ناامید ہوئے اور بذریعہ وحی ای نور نبوت سے ان کو معلوم ہوگیا کہ ان میں کوئی خیر نہیں تو یہ بد دعا کی۔ اے پروردگا کیا آپ نے فرعون کو اور اس کے گروہ کو سامان آرائش اور قسم قسم کے مال دنیاوی زندگی میں اس لیے عطا کیے ہیں تاکہ عالم کو تیرے راستہ سے گمراہ کریں۔ یعنی اے پروردگار تو نے ان کو یہ مال و دولت اس لیے عطا کیا تھا کہ تیرے نعمت کا شکر کریں اور اس کو آخرت کی عزت کا ذریعہ بنائیں مگر ان لوگوں نے تیری ناشکری کی اور تیرے دئیے مال پر اتنے مغرور ہوئے کہ تیرے احکام کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
104: اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبول دعا کی خوشخبری سنائی گئی کہ تمہاری دعا قبول ہوچکی ہے لیکن ابھی چند دن صبر و استقامت سے کام لینا ہوگا “ وَلَا تَتَّبِعٰنِ الخ ” اللہ پر بھروسہ رکھو وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے امور و احکام کی حکمتوں اور مصلحتوں سے بیخبر ہوتے ہیں وہ اللہ کے وعدوں کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں اور صبر و استقامت کے بجائے عجلت اور بےصبری کا اظہار کرتے ہیں اے موسیٰ و ہارون ایسے بیخبر لوگوں کی سی کوئی حرکت تم سے ہرگز سرزد نہ ہونے پائے۔ “ وَجَاوَزنَا بِبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ الْبَحْرَ ” جب اللہ کے وعدے کے مطابق بنی اسرائیل کی نجات اور فرعون اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
ربط آیات
گذشتہ آیا میں قریش مکہ ، مشرکین عرب اور بعد میں آنے والے کفار ومشرکین کو کفر وشرک سے باز رہنے کی تنبیہ کی گئی اور مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے قوم نوح (علیہ السلام) کی سرکشی کا ذکر فرمایا۔ پھر فرعون اس کے سرداروں اور قوم کے غرور وتکبر کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا حال بھی بیان کیا۔ گذشتہ درس میں فرمایا کہ نوجوان طبقہ سے تعلق رکھنے والے بہت تھوڑے افراد تھے جو آپ پر ایمان لائے۔ وہ فرعون کی طرف سے فتنے میں مبتلا ہوجانے کے خوف سے اپنے ایمان کا برملا اظہار نہیں کرتے تھے۔ تا ہم موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دی کہ اگر تم خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی…
Read the full tafseer →قَالَ قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَــقِيْمَا وَلَا تَتَّبِعٰۗنِّ سَبِيْلَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ 89
جوب
الجَوْبُ : قطع الجَوْبَة، وهي کا لغائط من الأرض، ثم يستعمل في قطع کلّ أرض، قال تعالی: وَثَمُودَ الَّذِينَ جابُوا الصَّخْرَ بِالْوادِ [ الفجر/ 9] ، ويقال : هل عندک جَائِبَة خبر ؟ وجوابُ الکلام : هو ما يقطع الجوب فيصل من فم القائل إلى سمع المستمع، لکن خصّ بما يعود من الکلام دون المبتدأ من الخطاب، قال تعالی: فَما کانَ جَوابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قالُوا [ النمل/ 56]
والجواب يقال في مقابلة السؤال،
والسؤال علی ضربین :
طلب مقال، وجوابه المقال .
وطلب نوال، وجوابه النّوال .
فعلی الأول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–89
1 ؎ یعنی تیری اور تیرے بھائی ہارون کی 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ قَدْاُجِیْبَتْ دَّعْوَتُکُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَلاَ تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔
(یونس : 89)
(اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا تم دونوں کی دعا قبول کی گئی تم دونوں ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کی راہ کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ )
قبولیتِ دُعا
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) نے جب دعوت و تبلیغ اور انذار وتبشیر کا حق پوری طرح ادا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو پروردگار نے دعا فوراً قبول فرمالی۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب دعا کے پیچھے بندگی اور ادائے فرض کا پورا سرمایہ موجود ہو تو پروردگار دعا قبول کرنے میں کبھی تاخیر سے کام نہیں لیتے البتہ اس کا وقوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ اور ان کی قوم پر فرعون کے مظالم کی انتہا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ظالموں کے لیے بددعا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) طویل عرصہ تک فرعون اور آل فرعون کو سمجھاتے رہے۔ اس دوران یکے بعد دیگرے آل فرعون پر طوفان، ٹڈی، جوئیں، مینڈک اور ہر چیز خون آلودہ ہوجانے کے عذاب آئے مگر یہ اس قدر بد ترین اور ظالم لوگ تھے۔ کہ بار بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیے ہوئے عہد توڑتے اور ہر بار ظلم کے نئے سے نئے انداز اختیار کرلیتے۔ اس طرح ظلم کا دور جب طویل سے طویل تر ہوا۔ صاحب ایمان لوگوں کی ہمتیں جواب دینے لگیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے…
Read the full tafseer →89: قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُکُمَا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی) کہا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا فرما رہے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہنے والے تھے۔ نکتہ : اس سے یہ ثابت ہوا کہ آمین دعا ہے پس اس کا مخفی کہنا اولیٰ ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ تمہاری دعا مستجاب ہے۔ اور جو تم نے طلب کیا وہ ہو کر رہے گا۔ لیکن اس کا ایک وقت ہے۔ فَاسْتَقِیْمَا پس تم دونوں استقامت اختیار کرو) تم دونوں دعوت و تبلیغ کے فریضہ پر مستقیم رہو۔ وَلَاتَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَایَعْلَمُوْنَ (تم دونوں بےعلموں کے راستہ پر مت چلو) جاہلوں کے راستہ کی اتباع نہ کرو جو قبولیت دعا کی…
Read the full tafseer →تفسیر : سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کو کفر پر موت دے۔
89۔” قال “ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو کہا ” قد اجیبت دعوتکما ‘ یہاں دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی ، حالانکہ دعا تو صرف موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تھی اس کی وجہ یہ ہے کہ روایت کیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا کر رہے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے اور آمین کہنا دعا ہے اور بعض قصص میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اور قبولیت کے درمیان چالیس سال کا وقفہ تھا۔ ” فاستقیما “ رسالت اور دعوت پر اور میرے حکم کو جاری رکھو یہاں تک کہ ان پر اللہ کا عذاب آجائے۔” ولا تتبعان سبیل الذین لا یعلمون “۔
Read the full tafseer →89۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی کہ اے رب ہمارے تو نے فرعون کو دنیا میں مال و دولت و جاہ و عزت دے رکھی ہے کیا یہ سب کچھ اس واسطے ہے کہ یہ خود بھی گمراہ رہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے تو ان کے مال و دولت کو خاک میں ملا دے اور ان کے دلوں کو اور بھی سخت کر دے تاکہ جب تک یہ عذاب کو آنکھوں سے نہ دیکھ لیویں اس وقت تک ان کے دل نرم نہ ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ تمہارے اور تمہارے بھائی ہارون (علیہ السلام) دونوں کی دعا قبول کی گئی مگر تم جلدی نہ کرو خاطر جمع رکھو اور اپنے کام پر جمے رہو۔ عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تھی اور ہارون (علیہ السلام) نے آمین کہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–93
آیت : ( 75-93)
(ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–109
قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
153 ۔ فرعون کے آخری اور ہولناک انجام کا ذکر : سو فرعون بنی اسرائیل کا پیچھا کرنے کو نکلا اور اس کا نتیجہ و انجام نہایت ہی ہولناک شکل میں اس کے سامنے آیا۔ وہ تو ان کے پیچھے اس لیے نکلا تھا کہ وہ ان کو پکڑ کر تہ تیغ کردے۔ یا ان کو واپس لے جاکر مصر میں غلامی کی زنجیروں میں پھر سے جکڑ دے۔ (المراغی) مگر وہ خود غرق آب ہو کر اپنے آخری انجام کو پہنچ گیا کہ اس کو دی گئی مہلت کی مدت پوری ہوگئی تھی۔ اس لیے اس کا مقدر اس کو خود ہی وہاں کھینچ لایا۔ سو یہ اللہ پاک کی بےآواز لاٹھی کی ضرب کا ایک نمونہ اور مظہر ہے کہ فرعون نکلا تو تھا بنی اسرائیل کو پکڑنے کے لئے لیکن خود غرقاب ہو کر فی النار والسقر ہوگیا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–92
سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان
تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–92
آیات 83 تا 92
اسرار و معارف
فرعون کے مظالم سے خوفزدہ چندنوجوان ایمان سے مشرف ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت اختیار کی کہ فرعون روئے زمین پر بیحد ظالم انسان تھا اور حد سے بڑھ کر زیادتیاں کرتا تھا لہٰذا اس کا اور اس کے امرا کے مظالم کا خوف فطری بات تھی مگر نور ایمان کی تڑپ ان سب باتوں کے باوجود اپنا اثررکھتی ہے ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ایمان تو اعتبارہی کا نام ہے جب اللہ سے ایمان نصیب ہواتو اسی پر بھروسہ رکھو ، جس کو بچاناچا ہے بھلافرعون اس کا کیا بگاڑلے گا۔
کام کا بیڑہ اٹھانے کے لئے مل کردعا کی جائے
چنانچہ سب نے کہا کہ ہم اللہ ہی پہ بھروسہ کرتے ہیں اور سب نے…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) دعا کر رہے تھے اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) آمین کہہ رہے تھے۔ اس لئے دونوں کی طرف اضافت کردی۔ (شوکانی) ۔
4 ۔ یعنی دعوت کا کام کرتے رہو۔ آخر کار تمہاری دعا کا اثر ظاہر ہو کر رہے گا۔ (شوکانی) ۔
5 ۔ جو دعوت کے کام میں حوصلہ چھوڑ بیٹھتے ہیں یا دعا کرتے ہی یہ چاہتے ہیں کہ ان کا مطلب پورا ہوجائے اور اگر فوراً پورا نہ ہو تو شکایت کرنے لگتے ہیں کہ ہم نے بہتری دعائیں کیں مگر پروردگار نے قبول ہی نہ کی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کی دعات اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ جلدی نہیں کرتا اور جلدی کرنا یہ ہے کہ وہ گبھرا کر کہتا ہے کہ…
Read the full tafseer →(10:89) استقیما۔ امر تثنیہ مذکر حاضر۔ تم دونوں ثابت قدم رہو۔ استقامت سے (باب استفعال)
لاتتبعن۔ فعل نہی۔ تثنیہ مذکر حاضر۔ بانون ثقیلہ اتباع مصدر۔ (اتفعال) تم دونوں ہرگز پیروی نہ کرنا۔ تم دونوں ہرگز اتباع نہ کرنا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 89
اوحینا (ہم نے وحی کی) تبوا (تم دونوں ٹھکانا بنا لو، مقرر کرلو اقیموا (تم قائم کرو) زینۃ (دنیاوی زیب وزینت) سبیل (راستہ) اطمس (تباہ کر دے) اشدد (سختی کر) حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) اجیبت (قبول کرلی گئی) دعوتکما (تم دونوں کی دعا استقیما (تم دونوں ثابت قدم رہنا ) لاتتبغن (تم دونوں پیروی نہ کرنا)
تشریح : آیت نمبر 87 تا 89
جب سے حضرت موسیٰ نے اعلان نبوت فرما کر اللہ کے حکم سے کچھ معجزات دکھائے اس وقت سے فرعون کو ہر روز ذلت و روسائی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ، خاص طور پر فرعون کے بھرے دربار میں تمام جادوگروں کا اسلام قبول کر کے فرعون کے ظلم و ستم سے بےنیاز ہوجانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
فرعون کا قصہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا قبول ہونا
فرعون کے ہلاک ہونے سے پہلے اس کی اور اس کے ساتھیوں کی سرکشی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ آیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ ان لوگوں کی سرکشی کا بڑا سبب ان کے مال ومتاع ہیں، اور مالداری اور عیش و آرام کے غرور میں یہ لوگ خود بھی نصیحت نہیں سنتے اور اوروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس غصہ کے خیال میں دعا مانگی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے گئے۔ دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ ان لوگوں کو تو نے مال ومتاع جو دیا ہے وہ ان سے چھین لے، اس لئے کہ ان کا یہ مال ان کے خود گمراہ ہونے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
[34] یعنی پے در پے نشانات دیکھ لینے اور دین کی حجت پوری ہوجانے کے بعد بھی فرعون اور اس کے اعیان سلطنت اپنی سرکشی اور نافرمانی پر جمے رہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہدایت ان کے مقدر میں نہیں اس لئے ایسے نفوس کو باقی ہی کیوں رکھا جائے کہ وہ کفر میں ترقی کرتے چلے جائیں۔ ایسے بدبختوں کی ہلاکت و بربادی کی تمنا کرنا ایسا ہی ہے جیسے موذی جانوروں، سانپ، بچھو وغیرہ کی ہلاکت کی تمنا کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
(ف 1) قبلۃ : سے غرض یا تو یہ ہے کہ فرعون نے جب عام کلیساؤں میں بنی اسرائیل کو عبادت سے روک دیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم گھروں میں نماز پڑھ لیا کرو ، اور گھر اس نوع کے بناؤ کہ وہ قبلہ رو ہوں اور بیک وقت اس سے عبادت وسکونت کے دونوں کام لئے جائیں ، اور یا یہ مقصد ہے کہ رہائش مکان باہم متقابل بناؤ یعنی تمہاری ایک الگ نو آبادی ہونی چاہئے ، تاکہ آزادی سے تم ایک دوسرے کی مدد کرسکو ،
کامیابی کے لئے نماز دوسری شرط ہے کیونکہ یہی ایک ذریعہ ہے جس سے قوم میں صحیح بیداری پیدا کی جاسکتی ہے یہ وحدت فی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ، نماز سے قوم میں خدا پرستی ، خدا ترسی اور باہمی محبت کے جذبات…
Read the full tafseer →89 اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں بھائیوں کی دعا قبول کرلی گئی سو تم دونوں اپنے حال پر ثابت رہو اور ان لوگوں کی راہ نہ چلنا جو حکمت خداوندی کا علم نہیں رکھتے یعنی ایسے جاہل ہیں کہ حضرت حق کی مصلحت اور اس کی حکمت کو جانتے ہی نہیں کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کی دعا پر حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے اس لئے قبولیت دعا میں دونوں کو شریک کیا ثابت رہو یعنی تبلیغ کرتے رہو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شتابی نہ کرو حکم کی راہ دیکھو 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
ف 1۔ یعنی جن کو ہمارے وعدہ کے سچے ہونے کا یا توقف میں حکمت ہونے کا یاتبلیغ کے ضروری ہونے کا علم نہیں۔
Read the full tafseer →موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کی دعا قبول کرتے ہوئے ان کو اطلاع کردی گئی
122 ؎ اب اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو خبر دی جا رہی ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوچکی ہے اور مشیت ایزدی میں ان کی ہلاکت کا وقت طے ہوچکا ہے اور تم دونوں یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) اپنے موقف پر جمے رہو اور حکم الٰہی کا انتظار کرو اور جونہی حکم تم کو دیا جائے اس کی پیرو اختیار کرو اور ان مفسدین کی پیروی مت کرو۔ چناچہ حدیث میں آتا کہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا کرتے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے اس لئے یہ مسئلہ اسلام میں طے ہے کہ دعا کرنے والا آمین کہنے والا سب دعا میں…
Read the full tafseer →In the third verse (89), it was said that the prayer of Sayyidna Musa (علیہ السلام) has been accepted. But, by taking Sayyidna Harun (علیہ السلام) as associated with the act of prayer, the actual address was made in the words: قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا (The prayer of you both has been granted). There was a reason for it. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) السلام was making this prayer, Sayyidna Harun (علیہ السلام) kept saying Amin (Amen). This tells us that the saying of Amin آمِین (so be it) is also a part of the prayer itself. And since the masnun method of du` a or prayer given in the…
Read the full tafseer →90. Those who are ignorant of reality and who have no grasp of the beneficent considerations underlying God's decisions are liable to misunderstand things. Such people observe the weakness of the forces that stand for truth as against the forces of falsehood. They observe that those who seek to make the truth prevail suffer a series of reverses. By way of contrast, they observe the dazzling worldly success of those who stand for falsehood. On such occasions they fall prey to several misconceptions. They begin to suspect that perhaps God Himself wants that His rebels should continue to hold…
Read the full tafseer →