Explained with ayahs 88–89
فرعون کا تکبر اور موسیٰ ؑ کی بد دعا
جب فرعون اور فرعونیوں کا تکبر، تجبر، تعصب بڑھتا ہی گیا۔ ظلم و ستم بےرحمی اور جفا کاری انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ کے صابر نبیوں نے ان کے لیے بد دعا کی کہ یا اللہ تو نے انہیں دنیا کی زینت و مال خوب خوب دیا اور تو بخوبی جانتا ہے کہ وہ تیرے حکم کے مطابق مال خرچ نہیں کرتے۔ یہ صرف تیری طرف سے انہیں ڈھیل اور مہلت ہے۔ یہ مطلب تو ہے جب لیضلِّوا پڑھا جائے جو ایک قرأت ہے اور جب لِیُضِلُّوا پڑھیں تو مطلب یہ ہے کہ یہ اس لئے کہ وہ اوروں کو گمراہ کریں جن کی گمراہی تیری چاہت میں ہے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ یہی لوگ اللہ کے محبوب ہیں ورنہ اتنی دولت مندی اور اس قدر…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 86
اوپر کی آیات حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور یہ دعا زمانہ قیام مصر کے بالکل آخری زمانے کی ہے۔ بیچ میں کئی برس کا طویل فاصلہ ہے جس کی تفصیلات کو یہاں نظر انداز کردیا گیا ہے۔ دوسرے مقامات پر قرآن میں اس بیچ کے دور کا بھی مفصل حال بیان ہوا ہے۔
سورة یُوْنُس 87
یعنی ٹھاٹھ، شان و شوکت اور تمدن وتہذیب کی وہ خوش نمائی جس کی وجہ سے دنیا ان پر اور ان کے طور طریقوں پر ریجھتی ہے اور ہر شخص کا دل چاہتا ہے کہ ویسا ہی بن جائے جیسے وہ ہیں۔
سورة یُوْنُس 88
یعنی ذرائع اور وسائل جن کی فراوانی کی وجہ سے وہ اپنی تدبیروں کو عمل میں لانے کے لیے ہر طرح کی آسانیاں رکھتے ہیں…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں قوم فرعون کی اصلاح سے مایوس ہو کر حضرت موسیٰ ؑ کی بد دعا کا ذکر ہے جس کے شروع میں انہوں نے حق تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عرض کیا ہے کہ آپ نے قوم فرعون کو زینت دنیا کے ساز و سامان اور مال و دولت بہت عطا فرما رکھا ہے، مصر سے لے کر ارض حبشہ تک سونے چاندی اور زبرجد و زمرد یاقوت وغیرہ جواہرات کی کانیں عطا فرما رکھی ہیں (قرطبی) جس کا اثر یہ ہے کہ وہ لوگوں کو تیرے راستہ سے گمراہ کرتے ہیں، کیونکہ عام لوگ ان کے ظاہری ساز و سامان اور عیش و راحت کو دیکھ کر اس شک میں پڑجاتے ہیں کہ اگر یہ گمراہی پر ہوتے تو ان کو اللہ تعالیٰ کی یہ نعمتیں کیوں ملتیں، کیونکہ عام لوگوں کی نظریں اس حقیقت تک نہیں…
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰى رَبَّنَآ اِنَّكَ اٰتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَهٗ زِينَةً وَّاَمْوَالًا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۙرَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْــلِكَ ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓي اَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ۔
یہ دعا حضرت موسیٰ نے اس وقت فرمائی ہے جب سارے جتن کرچکنے کے بعد وہ فرعون اور اس کی قوم کے ایمان سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یہی مرحلہ ہے جس میں حضرت نوح نے اپنی قوم کے معاندین کے لیے ان الفاظ میں دعا کی۔ " قال نوح رب انہم عصونی واتبعوا من لم یزدہ مالہ وولدہ الا خسارا، ومکروا مکرا کبارا۔۔۔ وقد اضلو کثیرا ولا تزد الظالمین الا…
Read the full tafseer →88۔ 1 جب موسیٰ ؑ نے دیکھا کہ فرعون اور اس کی قوم پر وعظ نصیحت کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا اور اس طرح معجزات دیکھ کر بھی ان کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تو پھر ان کے حق میں بد دعا فرمائی۔ جسے اللہ نے یہاں نقل فرمایا ہے۔
88۔ 2 یعنی اگر یہ ایمان لائیں بھی تو عذاب دیکھنے کے بعد لائیں، جو ان کے لئے نفع بخش نہیں ہوگا۔ یہاں ذہن میں یہ اشکال نہیں آنا چاہیے کہ پیغمبر تو ہدایت کی دعا کرتے ہیں نہ کہ ہلاکت کی بد دعا۔ اس لئے کہ دعوت و تبلیغ اور ہر طرح سے تمام حجت کے بعد، جب یہ واضح ہوجائے کہ اب ایمان لانے کی کوئی امید باقی نہیں رہی، تو پھر آخری چارہ کار یہی رہ جاتا ہے کہ اس قوم کے معاملے کو اللہ کے سپرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
35: حضرت موسیٰ ؑ کو تبلیغ کرتے ہوئے مدت گذر چکی تھی جس کے بعد نہ صرف وہ مایوس ہوچکے تھے، بلکہ فرعون نے جو مظالم ڈھائے تھے، وہ اتنے انسانیت سوز تھے کہ کوئی انصاف پسند انسان اس کو سزا کے بغیر چھوڑ دینا پسند نہیں کرسکتا تھا۔ نیز شاید ان کو وحی سے یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ فرعون کی قسمت میں ایمان نہیں ہے، اس لیے انہوں نے آخر میں یہ بد دعا فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ اور موسیٰ نے کہا : اے ہمارے مالک ! تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان آرائش عطا فرمایا ہے۔
زینت سے مراد اسباب زینت ‘ لباس ‘ زیور ‘ فرش فرنیچر ‘ استعمال کا سامان ‘ سواریاں ‘ نوکر چاکر اور خدمتگار وغیرہ۔
واموالا فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک اور بہت مال دنیوی زندگی میں ‘ اے ہمارے رب ! (اس کا نتیجہ یہ ہے) کہ وہ تیرے راستے سے بہکا دیں۔
لِیُضِلُّوْا میں لام عاقبت ہے (یعنی وہ لام جو نتیجہ پر داخل ہوتا ہے اور لام سے پہلے کا کلام بعد والے کلام کا سبب ہوتا ہے) مطلب یہ کہ تیرے دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ گمراہ اور گمراہ کن ہوگئے۔ جیسا دوسری آیت…
Read the full tafseer →11 یعنی ہر قسم کا سامان رونق و آسائش کا دیا۔ مثلاً حسن صورت، سواری، عمدہ پوشاک، اثاث البیت وغیرہ اور مال و دولت کے خزانے، سونے چاندی وغیرہ کی کانیں عطا فرمائیں۔
12 اگر لِیُضِلُّوْا میں لام تعلیل لیا جائے تو مطلب یہ ہے کہ تکوینی طور پر یہ سامان ان نابکاروں کو اس لیے دیا گیا کہ مغرور ہو کر خود گمراہ ہوں اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں خرچ کریں۔ بڑی آزادی سے دل کھول کر زور لگا لیں، آخر میں دیکھ لیں گے کہ وہ کچھ بھی کام نہ آیا۔ جب خالق خیر و شر کا اللہ ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا کوئی فعل خالی از حکمت نہیں ہوسکتا۔ لامحالہ " خلق شر " میں بھی مجموعہ عالم کے اعتبار سے کوئی حکمت ضرور ہوگی۔ وہ ہی حکمت شریروں…
Read the full tafseer →رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَ
ان کے پاس طاقت ہے اقتدار ہے اختیار ہے دولت ہے جاہ وحشم ہے۔ لوگ ان کے رعب و دبدبے کے خوف اور مال و دولت کے لالچ سے گمراہ ہو رہے ہیں۔ پروردگار ! کیا تو نے انہیں یہ سب کچھ اس لیے دے رکھا ہے کہ وہ تیرے بندوں کو تیرے سیدھے راستے سے گمراہ کریں ؟
فَلاَ یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ
اور جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو پھر ان کا ایمان انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا کیونکہ اس وقت کا ایمان اللہ کے ہاں معتبر نہیں ہے۔ یہ حضرت موسیٰ کی آل فرعون سے بیزاری کی آخری حد ہے۔ اگرچہ نبی ایک ایک فرد کے لیے ایمان کا خواہش مند ہوتا ہے ‘ مگر فرعون اور اس کے سردار اہل…
Read the full tafseer →98 جماعتی نظم ونسق کے ساتھ ساتھ دشمن کی طاقت کو کمزور بنانے کے لئے وسائل سوچنا اور اس کے لئے دعا بھی ضروری ہے :۔ کسی دشمن سے مقابلہ کے لیے دو گونہ اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے ایک یہ کہ اپنی جماعت کو مربوط منظم اور طاقتور بنایا جائے دوسرے یہ کہ جہاں تک ممکن ہو دشمن کی جماعت کو کمزور بنایا جائے اب موسیٰ (علیہ السلام) کی مٹھی بھر جماعت کے مقابلہ میں فرعون جیسا جابر اور خود سر بادشاہ تھا جو مال و دولت اور شان و شوکت کی فراوانی کے علاوہ جملہ اسباب و وسائل پر قابض بھی تھا اور انہی وجوہات کی بنا پر وہ سیدنا موسیٰ کی دعوت کے کام میں سدراہ بنا ہوا تھا کیونکہ وہ خوب جانتا تھا کہ اگر موسیٰ کی دعوت کو فروغ…
Read the full tafseer →127۔ (آیت) ” لیضلوا “۔ میں ل عاقبت کا ہے یعنی تیری ان بخششوں اور انعامات کا نتیجہ یہ ہوا۔ یہ مطلب نہیں کہ تیری بخشش وانعام سے مقصود ہی یہ تھا۔ اگرچہ یہ مفہوم بھی تکوینی اعتبار سے بالکل درست ہوسکتا ہے۔ واضح ماقیل فیھا ھو قول الخلیل وسیبویہ انھا لام العاقبۃ والصیرورۃ (قرطبی) اللام لام العاقبۃ لما کانت عاقبۃ قوم فرعون ھو الضلال وقد اعلمہ اللہ تعالیٰ لا جرم عبر عن ھذا المعنی بھذا اللفظ (کبیر)
128۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب ہدایت ان کے مقدر میں نہیں اور جو حکمت تھی وہ حاصل ہوچکی تو اب ان کے نفوس کو باقی ہی کیوں رکھا جائے یہ کفر میں ترقی ہی کرتے جائیں تاآنکہ عذاب الہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–92
آیت نمبر 83 تا 92
ترجمہ : فرعون کی قوم کے نوجوانوں میں سے ایک مٹھی بھر نوجوانوں کے علاوہ کسی نے فرعون اور اپنے سرداروں کے خوف کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہیں مانی کہ وہ ان کو تکلیف دیکر ان کے دین سے پھیر دیں گے اور اس میں شک نہیں کہ فرعون ملک مصر میں (زور وتکبر میں) بہت چڑھا ہوا تھا، اور وہ تھا ہی دعوائے ربوبیت کرکے حد سے تجاوز کرنے والوں میں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم فرمانبردار ہو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے پروردگار تو ہم کو ظالموں کے لئے تختہ مشق نہ بنا یعنی تو ان کو ہم پر…
Read the full tafseer →وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ اور موسیٰ نے کہا : اے ہمارے مالک ! تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان آرائش عطا فرمایا ہے۔
زینت سے مراد اسباب زینت ‘ لباس ‘ زیور ‘ فرش فرنیچر ‘ استعمال کا سامان ‘ سواریاں ‘ نوکر چاکر اور خدمتگار وغیرہ۔
واموالا فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک اور بہت مال دنیوی زندگی میں ‘ اے ہمارے رب ! (اس کا نتیجہ یہ ہے) کہ وہ تیرے راستے سے بہکا دیں۔
لِیُضِلُّوْا میں لام عاقبت ہے (یعنی وہ لام جو نتیجہ پر داخل ہوتا ہے اور لام سے پہلے کا کلام بعد والے کلام کا سبب ہوتا ہے) مطلب یہ کہ تیرے دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ گمراہ اور گمراہ کن ہوگئے۔ جیسا دوسری آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
(87۔ 88) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ وہارون ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ اپنے گھروں کے اندر مسجدیں بنا لو اور اپنی مسجدوں کو قبلہ کی طرف کرو اور پانچوں نمازوں کی پابندی کرو اور آپ مسلمانوں کو مدد اور مصیبت سے نجات اور جنت کی بشارت دے دی حضرت موسیٰ ؑ نے (دعا میں عرض کیا) اے ہمارے پروردگار آپ نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان تجمل اور طرح طرح کے مال، اے ہمارے پروردگار اسی واسطے دیے ہیں کہ وہ اس مال سے آپ کے بندوں کو آپ کی اطاعت اور آپ کے دین سے گمراہ کردیں، سو ان کے مالوں کو نیست ونابود کردیجیے اور ان کے دلوں کو سخت کردیجیے تاکہ یہ ایمان نہ لانے پائیں تاوقتیکہ یہ غرق ہونے کے عذاب کو نہ دیکھ لیں۔
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰى رَبَّنَآ اِنَّكَ اٰتَيْتَ۔۔ : پے در پے معجزات دیکھنے اور مختلف عذابوں کے نزول پر ایمان لانے اور آزادی دینے کے وعدوں کے باوجود جب فرعون اور اس کے ساتھی کفر اور ظلم سے کسی صورت باز نہ آئے تو موسیٰ ؑ نے تنگ آکر ان کے حق میں بددعا کی۔
رَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْــلِكَ : ”لِیُضِلُّوْا“ میں لام عاقبت اور انجام کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت و اموال عطا فرمائے، جس کا انجام یہ ہوا کہ وہ تیرا شکر ادا کرنے کے بجائے اس دولت کے بل بوتے پر لوگوں کو تیری راہ سے گمراہ کرنے لگے۔ یہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 88
قولہ تعالیٰ : (آیت) وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاءہ اس میں اتیت بمعنی اعطیت (تو نے عطا کیا ہے) (آیت) زینتاواموالافی الحیوۃ الدنیا یعنی مال دنیا، ان کے لیے فسطاط مصر سے لے کی سرزمین حبشہ تک ایسے پہاڑ تھے جن میں سونے، چاندی، زبر جد، زمرد اور یاقوت کی کانیں تھیں۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ربنالیضلوا عن سبیلک اس لام کے بارے میں اختلاف ہے۔ اور اس بارے میں جو کہا گیا ہے اصح وہ ہے جو خلیل اور سیبویہ کا قول ہے وہ یہ کے لام برائے عاقبت اور صیرورت ہے۔ اور حدیث میں ہے ” بیشک اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جو ہر روز ندا دیتا ہے جنو موت کے لیے اور بنائو ویران اور خراب ہونے کے لیے “ یعنی جب ان کے…
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کی بدعاء :
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ربنا اطمس علی اموالہم “ کے بارے میں فرمایا اے ہمارے رب ان کے مالوں اور ان کے اہل و عیال کو ہلاک کردے (آیت) ” واشدد علی قلوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اے ہمارے رب ان کے مالوں اور ان کے اہل و عیال کو ہلاک کردے (آیت) ” واشدد علی قلوبہم “ یعنی (ان کے دلوں پر) مہر لگا دے۔ (آیت) فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم “ (عذاب سے مراد ہے) غرق ہوجانا۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے مجھ سے عمر بن عبدالعزیز (رح) نے اللہ…
Read the full tafseer →وَقَالَ [ اور کہا ] مُوْسٰى [ موسیٰ نے ] رَبَّنَآ [ اے ہمارے رب ] اِنَّكَ [ بیشک ] اٰتَيْتَ [ تو نے دیا ] فِرْعَوْنَ [ فرعون کو ] وَمَلَاَهٗ [ اور اس کے سرداروں کو ] زِينَةً [ زینت ] وَّاَمْوَالًا [اور مال ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۙ [ دنیوی زندگی میں ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] لِيُضِلُّوْا [ تاکہ وہ گمراہ کریں (لوگوں کو ) ] عَنْ سَبِيْــلِكَ ۚ [ تیری راہ سے ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] اطْمِسْ [ تو تہس نہس کردے ] عَلٰٓي اَمْوَالِهِمْ [ ان کے مالوں کو ] وَاشْدُدْ [ اور تو سخت کردے ] عَلٰي قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں کو ] فَلَا يُؤْمِنُوْا [ نتیجتا وہ ایمان نہ لائیں ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
مصر میں بنی اسرائیل کا بےبس ہونا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا انہیں توکل کی تلقین فرمانا اور گھروں میں نمازیں پڑھنے کا اہتمام کرنے کا حکم دینا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے اپنی قوم کی طرف بھی مبعوث ہوئے تھے جیسا کہ فرعون اور ان کی طرف بھی ان کی بعثت ہوئی تھی۔ فرعون کی قوم میں سے ایک شخص نے ایمان قبول کیا جس کا ذکر سورة مومن میں ہے اور فرعون کی بیوی بھی مسلمان ہوگئی تھی جس کا سورة تحریم میں ذکر ہے اور بعض لوگوں نے ماشطہ (فرعون کی لڑکی کی کنگھی کرنے والی) اور اس کے خزانچی اور اس کی بیوی کے مومن ہونے کا بھی ذکر کیا ہے ‘ بنی اسرائیل میں سے بھی کچھ لوگوں نے ایمان قبول کیا۔ مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
بقیہ قصہ موسویہ
قال اللہ تعالیٰ ٰ وقال موسیٰ ربنا انک اتیت۔۔۔ الی۔۔۔۔ الذین لایعلمون
اور موسیٰ (علیہ السلام) جب قوم فرعون کے ایمان سے ناامید ہوئے اور بذریعہ وحی ای نور نبوت سے ان کو معلوم ہوگیا کہ ان میں کوئی خیر نہیں تو یہ بد دعا کی۔ اے پروردگا کیا آپ نے فرعون کو اور اس کے گروہ کو سامان آرائش اور قسم قسم کے مال دنیاوی زندگی میں اس لیے عطا کیے ہیں تاکہ عالم کو تیرے راستہ سے گمراہ کریں۔ یعنی اے پروردگار تو نے ان کو یہ مال و دولت اس لیے عطا کیا تھا کہ تیرے نعمت کا شکر کریں اور اس کو آخرت کی عزت کا ذریعہ بنائیں مگر ان لوگوں نے تیری ناشکری کی اور تیرے دئیے مال پر اتنے مغرور ہوئے کہ تیرے احکام کا…
Read the full tafseer →103: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے معجزات ظاہرہ اور دلائل قاہرہ سے دعوت توحید کو واضح اور الم نشرح کردیا مگر قوم جحود و انکار اور ضد وعناد پر مصر رہی اور وہ ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے تو اب ان کے لیے بد دعا کی اور بد دعا کرنے کی وجوہات بھی بیان کردیں کہ اے اللہ تو نے ان کو دنیوی مال و متاع اور شان و شوکت عطا کی ہے اور وہ حب مال وجاہ کی وجہ سے تیری توحید کو نہیں مانتے۔ اے اللہ جن اموال کی وجہ سے وہ مغرور ہیں ان کو تباہ و برباد کردے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دے کہ وہ ایمان کی طرف راغب نہ ہو سکیں کیونکہ اب تیری سنت جاریہ کے مطابق وہ اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی جائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
ربط آیات
گذشتہ آیا میں قریش مکہ ، مشرکین عرب اور بعد میں آنے والے کفار ومشرکین کو کفر وشرک سے باز رہنے کی تنبیہ کی گئی اور مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے قوم نوح (علیہ السلام) کی سرکشی کا ذکر فرمایا۔ پھر فرعون اس کے سرداروں اور قوم کے غرور وتکبر کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا حال بھی بیان کیا۔ گذشتہ درس میں فرمایا کہ نوجوان طبقہ سے تعلق رکھنے والے بہت تھوڑے افراد تھے جو آپ پر ایمان لائے۔ وہ فرعون کی طرف سے فتنے میں مبتلا ہوجانے کے خوف سے اپنے ایمان کا برملا اظہار نہیں کرتے تھے۔ تا ہم موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دی کہ اگر تم خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی…
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰى رَبَّنَآ اِنَّكَ اٰتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَہٗ زِيْنَۃً وَّاَمْوَالًا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا 0 ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْــلِكَ 0 ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓي اَمْوَالِہِمْ وَاشْدُدْ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ 88
زين
الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين،
( زی ن ) الزینہ
زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–89
1 ؎ یعنی تیری اور تیرے بھائی ہارون کی 12 منہ
Read the full tafseer →وَقَالَ مُوْسٰی رَبَّنَآ اِنَّکَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَہٗ زِیْنَۃً وَّاَمْوَالاً فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا لا رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَ ج رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓی اَمْوَالِہِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَلاَ یُوْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ۔ (یونس : 88)
(اور موسیٰ نے دعا کی اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں شان و شوکت اور مال و دولت سے بہرہ مند کر رکھا ہے اے ہمارے رب (کیا یہ اس لیے ہے) کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بےراہ کریں۔ اے ہمارے رب ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کردے کہ وہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ اور ان کی قوم پر فرعون کے مظالم کی انتہا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ظالموں کے لیے بددعا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) طویل عرصہ تک فرعون اور آل فرعون کو سمجھاتے رہے۔ اس دوران یکے بعد دیگرے آل فرعون پر طوفان، ٹڈی، جوئیں، مینڈک اور ہر چیز خون آلودہ ہوجانے کے عذاب آئے مگر یہ اس قدر بد ترین اور ظالم لوگ تھے۔ کہ بار بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیے ہوئے عہد توڑتے اور ہر بار ظلم کے نئے سے نئے انداز اختیار کرلیتے۔ اس طرح ظلم کا دور جب طویل سے طویل تر ہوا۔ صاحب ایمان لوگوں کی ہمتیں جواب دینے لگیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے…
Read the full tafseer →88: وَقَالَ مُوْسٰی رَبَّنَآ اِنَّکَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَہٗ زِیْنَۃً (اور موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ! بیشک آپ 6 نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت دی ہے) زینت ہر ایسی چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان اپنے آپ کو مزین کرتا ہے جیسے لباس زیورات، قالین، اثاث البیت وغیرہ وَّاَمْوَالًا (اور مال) یعنی نقدی، نعمتیں، زمینیں فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَ (دنیا کی زندگی میں اے ہمارے پروردگار جس کا نتیجہ یہ کہ وہ لوگوں کو تیرے راستہ سے ہٹا رہے ہیں) تاکہ وہ لوگوں کو آپ کی اطاعت سے برگشتہ کریں۔
قراءت : کوفی کے نزدیک الدنیاپرو قف نہیں کیونکہ…
Read the full tafseer →88۔” وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ “ دنیا کے سامان سے ” واموالا فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلواعن سبیلک “۔۔” لیضلوا “ کے لام میں اختلاف ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ لام کی ہے۔ معنی یہ کہ تو نے ان کو دیا تا کہ تو ان کو آزمائے تو وہ خود گمراہ ہوئے اور تیرے راستے سے گمراہ کیا ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” لا ستیفنام ماء غدقا ً لففتنھم فیہ “ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ لام عاقبت ہے یعنی تا کہ وہ گمراہ ہوجائیں تو ان کے معاملہ کا انجام گمراہ ہونا ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فالتقطہ ال فرعون لیکون لھم عدوا وحزنا۔۔۔ ربنا اطمس علی اموالھم “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو ہلاک کر دے اور طمس بمعنی…
Read the full tafseer →88۔ فرعون کے ہلاک ہونے سے پہلے اس کی اور اس کے ساتھیوں کی سرکشی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ آیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ ان لوگوں کی سرکشی کا بڑا سبب ان کا مال و متاع ہے کہ مالداری اور عیش و آرام کے غرور میں یہ لوگ خود بھی نصیحت نہیں سنتے اور اوروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس غصہ کے خیال میں دعا مانگی اور حضرت ہارون آمین کہتے گئے دعاء کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ ان لوگوں کو تو نے مال و متاع جو دیا ہے وہ ان سے چھین لے کس لئے کہ ان کا یہ مال ان کے خود گمراہ ہونے اور اوروں کو گمراہ کرنے کا سبب ہے اور اس مال کے چھین لینے کے بعد ان کو ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–93
آیت : ( 75-93)
(ثم بعثنا من بعدھم) ” پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا “ یعنی ان رسولوں کے بعد جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور ہلاک ہوگئے۔ (موسیٰ ) اللہ رحمن کے کلیم موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو ‘ جو ایک اولو العزم رسول تھے۔ ان کا شمار بڑے بڑے رسولوں میں کیا جاتا ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے جن پر شریعت کے بڑے بڑے احکام نازل کئے گئے۔ (وھرون) اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا وزیر بنایا اور ان دونوں کو مبعوث کیا۔ (الی فرعون وملاۂ ) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف “ یعنی فرعون ‘ اس کے اکابرین اور رؤسائے سلطنت کی طرف ‘…
Read the full tafseer →قول باری ہے ربنا لیضلو ا عن سبیلک ۔ اے رب کیا ! کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیرا راہ سے بھٹکائیں ۔ اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ اس میں وارد حرف لام ، لام عاقبت ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے۔۔۔۔ فالتقطہ ال فرعون لیکون لھم عدوا ً او حزنا سے آل فرعون نے اٹھا لیا تا کہ وہ ان کا دشمن اور انکے لیے غم کا سبب بنے۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ لئلا یضلوا عن سبیلک تا کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے نہ بھٹکائیں ۔ حرف لا یہاں محذوف ہے جس طرح اس قول باری میں محذوف ہے ممن ترضون من الشھداء ان تضل احدی ھما یعنی لئلا تضل تا کہ گمراہ نہ ہوجائے ۔ اس طرح یہق ول باری ان تقولوا یوم القیامۃ انا کنا عن ھذا غافلین یعنی…
Read the full tafseer →148 ۔ کافروں کی دنیاوی ترقی ان کی ہلاکت و تباہی میں اضافے کا باعث۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کافروں کو دنیاوی دولت ملنے سے ان کے کفر اور خسارے ہی میں اضافہ ہوتا ہے کہ ایسے کفر و سرکشی پر اس ظاہری دولت کے ملنے کا انجام بہرحال یہی ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اپنے ساتھ دوسروں کی بھی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ اسی لیے حضرات اہل علم اس لام کو لام عاقبت کہتے ہیں۔ جیسا کہ (فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا) کی آیت کریمہ میں ہے (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) یعنی فرعون اور اس کے سرداروں کو مال و دولت کے ملنے کا نتیجہ و انجام بہرحال یہی ہے کہ یہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–92
سیدنا موسیٰ کی تعلیم، قوم کی گمراہی، تباہی اور عبرت کا سامان
تشریح : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کا ذکر اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ کفار کو عبرت دلائی جائے۔ اس سے پہلے قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود بھی نافرمانی کی وجہ سے مختلف عذابوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ان کی قوم اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی توحید کا سبق دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ آپ کی امت زیادہ تھی۔ آپ جہاد پر مامور ہوئے آپ کو حسن تدبر میں کمال حاصل تھا حضرت ہارون (علیہ السلام) آپ کے مددگار بنائے گئے۔ آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–92
آیات 83 تا 92
اسرار و معارف
فرعون کے مظالم سے خوفزدہ چندنوجوان ایمان سے مشرف ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت اختیار کی کہ فرعون روئے زمین پر بیحد ظالم انسان تھا اور حد سے بڑھ کر زیادتیاں کرتا تھا لہٰذا اس کا اور اس کے امرا کے مظالم کا خوف فطری بات تھی مگر نور ایمان کی تڑپ ان سب باتوں کے باوجود اپنا اثررکھتی ہے ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ایمان تو اعتبارہی کا نام ہے جب اللہ سے ایمان نصیب ہواتو اسی پر بھروسہ رکھو ، جس کو بچاناچا ہے بھلافرعون اس کا کیا بگاڑلے گا۔
کام کا بیڑہ اٹھانے کے لئے مل کردعا کی جائے
چنانچہ سب نے کہا کہ ہم اللہ ہی پہ بھروسہ کرتے ہیں اور سب نے…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ ” لیضلوا “ میں لام عاقبت اور انجام کو ظاہر کرنے کے ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مطلب یہ ہوگا ” اے اللہ ان لوگوں کو دنیا کی دولت اور حکومت تو تو نے اس لئے دی تھی کہ اسے نیکی کی راہ میں صرف کریں اور شکر بجا لائیں مگر نتیجہ یہ ہوا کہ ان بدبختوں نے اسے لوگوں کو بہکانے اور گمراہ کرنے میں صرف کیا۔ (قرطبی۔ شوکانی) ۔
2 ۔ یہ بددعا حضرت موسیٰ نے اس وقت کی جب وہ سمجھاتے سمجھاتے مایوس ہوگئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ اب فرعون اور اس کے سردار ایمان لانے والے نہیں جیسا کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) نے آخر تنگ آکر اپنی قوم کے حق میں بددعا کی تھی۔ (شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(10:88) اطمس۔ امر واحد مذکر ھاضر۔ تو مٹا دے طمس سے محو کرنا۔ مٹا دینا۔ اطمس علی اموالہم۔ ان کے مال تباہ کردے۔ ان کے مال غارت کردے۔ جیسے قرآن میں ہے واذا النجوم طمست۔ جب تارے مٹا دئیے جائیں گے۔ یا ولو نشاء لطمسنا علی اعینھم (36:66) اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کی روشنی کو مٹا دیں۔
اشدد۔ امر واحد مذکر۔ تو سخت کردے۔ شد سے (باب نصر۔ ضرب) تو (ان کے دلوں پر) مہر لگا دے۔
ترجمہ آیۃ :۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو اس دنیوی زندگی میں سامان آرائش اور مال و دولت دے رکھے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار کیا یہ اس لئے دے رکھے ہیں کہ وہ (لوگوں کو) تیری راہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
لغات القرآن آیت نمبر 87 تا 89
اوحینا (ہم نے وحی کی) تبوا (تم دونوں ٹھکانا بنا لو، مقرر کرلو اقیموا (تم قائم کرو) زینۃ (دنیاوی زیب وزینت) سبیل (راستہ) اطمس (تباہ کر دے) اشدد (سختی کر) حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) اجیبت (قبول کرلی گئی) دعوتکما (تم دونوں کی دعا استقیما (تم دونوں ثابت قدم رہنا ) لاتتبغن (تم دونوں پیروی نہ کرنا)
تشریح : آیت نمبر 87 تا 89
جب سے حضرت موسیٰ نے اعلان نبوت فرما کر اللہ کے حکم سے کچھ معجزات دکھائے اس وقت سے فرعون کو ہر روز ذلت و روسائی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ، خاص طور پر فرعون کے بھرے دربار میں تمام جادوگروں کا اسلام قبول کر کے فرعون کے ظلم و ستم سے بےنیاز ہوجانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
فرعون کا قصہ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا قبول ہونا
فرعون کے ہلاک ہونے سے پہلے اس کی اور اس کے ساتھیوں کی سرکشی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ آیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ ان لوگوں کی سرکشی کا بڑا سبب ان کے مال ومتاع ہیں، اور مالداری اور عیش و آرام کے غرور میں یہ لوگ خود بھی نصیحت نہیں سنتے اور اوروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس غصہ کے خیال میں دعا مانگی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے گئے۔ دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ ان لوگوں کو تو نے مال ومتاع جو دیا ہے وہ ان سے چھین لے، اس لئے کہ ان کا یہ مال ان کے خود گمراہ ہونے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
[34] یعنی پے در پے نشانات دیکھ لینے اور دین کی حجت پوری ہوجانے کے بعد بھی فرعون اور اس کے اعیان سلطنت اپنی سرکشی اور نافرمانی پر جمے رہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہدایت ان کے مقدر میں نہیں اس لئے ایسے نفوس کو باقی ہی کیوں رکھا جائے کہ وہ کفر میں ترقی کرتے چلے جائیں۔ ایسے بدبختوں کی ہلاکت و بربادی کی تمنا کرنا ایسا ہی ہے جیسے موذی جانوروں، سانپ، بچھو وغیرہ کی ہلاکت کی تمنا کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
(ف 1) قبلۃ : سے غرض یا تو یہ ہے کہ فرعون نے جب عام کلیساؤں میں بنی اسرائیل کو عبادت سے روک دیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم گھروں میں نماز پڑھ لیا کرو ، اور گھر اس نوع کے بناؤ کہ وہ قبلہ رو ہوں اور بیک وقت اس سے عبادت وسکونت کے دونوں کام لئے جائیں ، اور یا یہ مقصد ہے کہ رہائش مکان باہم متقابل بناؤ یعنی تمہاری ایک الگ نو آبادی ہونی چاہئے ، تاکہ آزادی سے تم ایک دوسرے کی مدد کرسکو ،
کامیابی کے لئے نماز دوسری شرط ہے کیونکہ یہی ایک ذریعہ ہے جس سے قوم میں صحیح بیداری پیدا کی جاسکتی ہے یہ وحدت فی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ، نماز سے قوم میں خدا پرستی ، خدا ترسی اور باہمی محبت کے جذبات…
Read the full tafseer →88 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یوں دعا کی اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیوی زندگی میں بہت کچھ سامان آرائش وزینت اور طرح طرح کے اموال اس واسطے دئیے کہ وہ آپ کی راہ سے لوگوں کو بےراہ کریں۔ بس اب ہمارے پروردگار ان کے مالوں کو نیست و نابود اور ملیا میٹ کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کردے یہ لوگ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک تیرا دردناک عذاب نہ دیکھ لیں یعنی اس زینت اور دولت کا انجام یہ ہوا کہ لوگوں کو تیری راہ سے گمراہ کردیا۔
بہر حال جو کچھ مصلحت تھی وہ پوری ہوگئی اب ان کے مالوں کو تو مٹا ڈال اور دلوں کو اور زیادہ سخت کردے تاکہ یہ ہلاکت کے زیادہ مستحق ہوجائیں اور ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
ف 1۔ یعنی جن کو ہمارے وعدہ کے سچے ہونے کا یا توقف میں حکمت ہونے کا یاتبلیغ کے ضروری ہونے کا علم نہیں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کہ اے اللہ ! فرعون اور اس کے سرداروں کو اتنی شان و شوکت کیوں ؟
120 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس دعا کا ذکر جو انہوں نے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی شان و شوکت اور ان کی بد اعمالیوں کو دیکھ کر کی اور واضح طور پر فرمایا کہ اے پروردگار ! تو نے فرعون اور قوم فرعون کو زینت دنیا کا سازو سامان اور مال و دولت وافر عطا فرمایا کہ مصر سے لے کر ارض حبشہ تک سونے ، چاندی اور زبر جد و زمرد اور یاقوت وغیرہ جواہرات کی کانیں عطا فرمائیں جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ تیرے لوگوں کو تیرے راستہ سے گمراہ کرتے ہیں کیونکہ عام لوگ ان کے اس ظاہری سازو سامان اور عیش و راحت کو دیکھ کر اس شک میں…
Read the full tafseer →Mentioned in the second verse (88), there is a curse which Sayyidna Musa (علیہ السلام) invoked after having lost all hopes of reforming the people of the Pharaoh. At its beginning, he submitted before his Lord that He had given the Pharaoh and his group glamour and riches in their worldly life (mines of gold, silver and precious stones in Egypt and Ethiopia - al-Qurtubi). As a result, they misled people from His way. Because, common-people, when they looked at their bulging affluence, they started doubting - had they been in error, why would they have been so blessed? Again, because…
Read the full tafseer →86. These verses are related to the early period of Moses' (peace be on him) mission whereas the prayer itself probably belongs to his last days in Egypt. The intervening period spans several years, the detailed events of which have not been mentioned here. At other places in the Qur'an, however, there are references to the events that took place in that intervening period.
87. This alludes to the pomp and splendour and the glamour of cultural refinement because of which people had become enamoured of them and their life-style, and which had created in the former an irrepressible urge to ape…
Read the full tafseer →