اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور دیکھتا ہے
اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے نبی ﷺ کو خبر دیتا ہے کہ خود آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کی تمام امت کے تمام احوال ہر وقت اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ساری مخلوق کے کل کام اس کے علم میں ہیں۔ اس کے علم سے اور اس کی نگاہ سے آسمان و زمین کا کوئی ذرہ بھی پوشیدہ نہیں۔ سب چھوٹی بڑی چیزیں ظاہر کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ جیسے فرمان ہے (وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ ۭ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۭ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ 59) 6۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
سورة یُوْنُس 64
یہاں اس بات کا ذکر کرنے سے مقصود نبی کو تسکین دینا اور نبی کے مخالفین کو متنبہ کرنا ہے۔ ایک طرف نبی سے ارشاد ہو رہا ہے کہ پیغام حق کی تبلیغ اور خلق اللہ کی اصلاح میں جس تن دہی و جاں فشانی اور جس صبر و تحمل سے تم کام کر رہے ہو وہ ہماری نظر میں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس پرخطر کام پر مامور کر کے ہم نے تم کو تمہارے حال پر چھوڑ دیا ہو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں اور جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے اس سے بھی ہم بیخبر نہیں ہیں۔ دوسری طرف نبی کے مخالفین کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ ایک داعی حق اور خیر خواہ خلق کی اصلاحی کوششوں میں روڑے اٹکا کر تم کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ کوئی…
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں اللہ جل شانہ کے علم محیط اور اس کی بےمثال وسعت کا ذکر رسول کریم ﷺ کو مخاطب کرکے کیا گیا ہے کہ آپ جس کام اور جس حال میں ہمیشہ ہوتے ہیں یا قرآن پڑھتے ہیں اس کا کوئی جزء ہم سے مخفی نہیں اسی طرح تمام انسان جو کچھ عمل کرتے ہیں وہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں اور آسمان و زمین میں کوئی ایک ذرہ بھی ہم سے چھپا ہوا نہیں ہے بلکہ ہر چیز کتب مبین یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوتی ہے۔
بطاہر اس جگہ علم الہٰی کی وسعت اور ہر چیز کو محیط ہونے کے بیان میں حکمت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جائے کہ اگرچہ مخالف اور دشمن آپ کے بہت ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی حفاظت آپ کے ساتھ ہے آپ کو کوئی گزند نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
61۔ 65:۔ وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ ۭ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرَ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۔ پیغمبر ﷺ اور صحابہ کو تسلی : یہ پیغمبر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے بطور التفات تسلی اور بشارت ہے کہ مخالفوں کی ان غوغا آرائیوں کی ذرا پروا نہ کرو۔ تم جہاں کہیں اور جس حال میں بھی ہو عبادت و طات اور تزکیر و دعوت کی جس مہم میں بھی مصروف ہو، پورے انہماک اور پوری یکسوئی و دل…
Read the full tafseer →61۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی اور مومنین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تمام مخلوقات کے احوال سے واقف ہے اور لحاظہ اور ہر گھڑی انسانوں پر اس کی نظر ہے۔ زمین آسمان کی کوئی بڑی چھوٹی چیز اس سے مخفی نہیں۔ یہ وہی مضمون ہے جو اس سے قبل سورة انعام، آیت 59 میں گزر چکا ہے ' اسی کے پاس غیب کے خزانے ہیں، جنہیں وہ جانتا ہے، اسے جنگلوں اور دریاؤں کی سب چیزوں کا علم ہے، اور کوئی پتہ نہیں جھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب مبین میں (لکھی ہوئی) ہے ' وہ آسمان اور زمین میں موجود اشیاء کی حرکتوں کو جانتا ہے تو انسان اور جنوں کی حرکات…
Read the full tafseer →27: قیامت میں انسانوں کے دوبارہ زندہ ہونے کو مشرکین عرب اس وجہ سے ناممکن سمجھتے تھے کہ اربوں انسان جب مر کر مٹی کے ذرات میں تبدیل ہوچکے ہوں گے، اس کے بعد ان سب کو اکٹھا کر کے دوبارہ زندگی کیسے دی جاسکتی ہے ؟ یہ کیسے معلوم ہوگا کہ مٹی کا کونسا ذرہ اصل کس انسان کے جسم کا حصہ تھا۔ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم کو اپنے اوپر قیاس مت کرو۔ اللہ تعالیٰ کا علم اتنا وسیع ہے کہ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →وما تکون فی شان وما تتلوا منہ من قرآن ولا تعملون من عمل الا کنا علیکم شہودًا اذ تفیضون فیہ اور (اے رسول (ﷺ) ! ) آپ (خواہ) کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور (اسی طرح ‘ اے لوگو ! ) تم جو کام بھی کرتے ہو ‘ ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام کو کرنا شروع کرتے ہو۔
تَکُوْنُ کا خطاب رسول اللہ (ﷺ) کو ہے اور لاَ تَعْمَلُوْنَ کا خطاب سب لوگوں کو۔ شَأنٍ کا معنی ہے امر ‘ حالت۔ ایک محقق کا قول ہے کہ شان کا اطلاق عظیم حالت اور جلیل القدر امر پر ہوتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : (شان کا معنی ہے قصد) شَأَنْتُ شَانَہٗ میں نے اس کا جیسا قصد کیا۔ مِنْہُ کی ضمیر شان کی طرف راجع ہے۔…
Read the full tafseer →1 پہلے قرآن کریم کے اوصاف بیان کیے تھے وہ سراپا نور ہدایت، شفائے قلوب، نعمت عظمیٰ اور رحمت کبریٰ ہیں۔ پھر اشارہ کیا کہ ہدایت و بصیرت کی ایسی صاف روشنی کو چھوڑ کر لوگ اپنے اوہام و خیالات کے اندھیرے میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور خدا پر افتراء کر کے اس کے فضل و انعام کی ناقدری کرتے ہیں۔ اس آیت میں متنبہ کیا کہ لوگ کس حال میں ہیں اور پیغمبر ﷺ کی کیا شان ہے۔ آپ شب و روز مالک حقیقی کی وفاداری، ہمدردی خلائق کی جن شون عظیمہ کے مظہر بنتے ہیں، خصوصاً آپ ﷺ کی جو امتیازی شان قرآن پڑھنے پڑھانے کے وقت ظاہر ہوتی ہے یعنی قرآن کے ذریعے سے جو جہاد آپ کر رہے ہیں وہ سب خدا کے حضور میں ہے اور لوگ جو کچھ اچھا یا برا…
Read the full tafseer →اِلاَّ کُنَّا عَلَیْکُمْ شُہُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْہِ ط
اس انداز تخاطب میں ایک خاص کیف ہے۔ پہلے واحد کے صیغے میں حضور اکرم سے خطاب ہے اور آپ کو خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ آپ جس کیفیت میں بھی ہوں ‘ قرآن پڑھ رہے ہوں یا پڑھ کر سنا رہے ہوں ‘ ہم بذات خود آپ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں آپ کی آواز سن رہے ہوتے ہیں۔ پھر اسی خوشخبری کو جمع کے صیغے میں تمام مسلمانوں کے لیے عام کردیا گیا ہے کہ تم لوگ جو بھی بھلائی کماتے ہو ‘ قربانیاں دیتے ہو ایثار کرتے ہو ‘ ہم خود اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم تمہارے ایک ایک عمل کے گواہ اور قدردان ہیں۔ ہمارے ہاں اپنے بندوں کے بارے میں تغافل یا ناقدری نہیں ہے۔
وَمَا یَعْزُبُ…
Read the full tafseer →76 آپ کی اور مشرکوں کی سرگرمیوں کا تقابل :۔ اس آیت میں بیک وقت رسول اللہ کو بھی مخاطب بنایا گیا ہے اور مشرکین مکہ کو بھی۔ اور ان دونوں کی سرگرمیوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے یعنی ایک طرف تو آپ کی ذات مبارک ہے جنہوں نے لوگوں کی ہدایت کے لیے دن رات ایک کردیا تھا اور اسی مقصد کے لیے اپنی جان تک کھپا رہے ہیں لوگوں کو جا جا کر قرآن سنا رہے ہیں اور اس کے ذریعہ جہاد کر رہے ہیں اور جب لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ کو انتہائی صدمہ ہوتا ہے دوسری طرف آپ کے مخالفین ہیں جو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو دکھ دینے اور تکلیفیں پہنچانے، مسلمانوں کا مذاق اڑانے اور اسلام کی ہر راہ کو روکنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں…
Read the full tafseer →93۔ (تو ہم کو کسی کے بھی حال سے کسی حال میں غافل نہ سمجھنا) قرآن مجید کی متعدد آیتوں کی طرح یہ آیت بھی پوری طرح واضح اس وقت ہوتی ہے، جب اہل ضلال کے عقائد بھی پیش نظر ہوں، بعض جاہلی قوموں کا عقیدہ ہے کہ خدا تو ہے اور صفت علم سے متصف بھی ہے لیکن اس کا علم صرف قدیم ہے۔ اس کی واضح تردید میں ارشاد ہورہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم اس وقت بھی ہوتا رہتا ہے، جو کوئی فعل واقعۃ وعملا وقوع میں آنے لگتا ہے۔ (آیت) ” وما تتلوا منہ من قران “۔ رسول اللہ ﷺ کے احوال تو سب ہی اعلی تھے لیکن قرآن مجید پڑھنا اور قرآن کے ذریعہ تبلیغ وہدایت کرنا ان میں بھی ایک درجہ امتیاز رکھتا تھا۔ اس لئے اس کا ذکر خاص طور پر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
آیت نمبر 61 تا 70
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ تم جس شان (حال) میں بھی ہوتے ہو اور اس شان (حال) کی وجہ سے قرآن سے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے، جو کچھ تلاوت کرتے ہو، یا من جانب اللہ جو قرآن تلاوت کرتے ہو، اور تم جو بھی عمل کرتے ہو یہ آپ ﷺ کو اور آپ کی امت کو خطاب ہے ہم (اس عمل سے) باخبر ہوتے ہیں جبکہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو، ذرہ برابر کوئی چیز (ایسی نہیں) نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (اور نہ اس مقدار سے) چھوٹی اور نہ بڑی کہ وہ کتاب مبین (یعنی) لوح محفوظ میں موجود نہ ہو، ذرّہ چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں، یاد رکھو یہ امر واقعہ ہے کہ اللہ کے دوستوں کیلئے آخرت میں نہ کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی غم…
Read the full tafseer →وما تکون فی شان وما تتلوا منہ من قرآن ولا تعملون من عمل الا کنا علیکم شہودًا اذ تفیضون فیہ اور (اے رسول ﷺ ! ) آپ (خواہ) کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور (اسی طرح ‘ اے لوگو ! ) تم جو کام بھی کرتے ہو ‘ ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام کو کرنا شروع کرتے ہو۔
تَکُوْنُ کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور لاَ تَعْمَلُوْنَ کا خطاب سب لوگوں کو۔ شَأنٍ کا معنی ہے امر ‘ حالت۔ ایک محقق کا قول ہے کہ شان کا اطلاق عظیم حالت اور جلیل القدر امر پر ہوتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : (شان کا معنی ہے قصد) شَأَنْتُ شَانَہٗ میں نے اس کا جیسا قصد کیا۔ مِنْہُ کی ضمیر شان کی طرف راجع ہے۔ قرآن…
Read the full tafseer →(61) اے محمد ﷺ آپ خواہ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن کریم کی سورت یا آیت پڑھتے ہوں اور اسی طرح اور لوگ بھی جو نیکیاں اور برائیاں کرتے ہیں۔
ہمیں تمہاری سب حالتوں اور تمہاری تلاوت اور تمہارے سب کاموں کی خبر رہتی ہے، جب تم اس کام کو کرنا شروع کرتے ہو اور قرآن کریم کی تکذیب میں لگتے ہو اور بندوں کے اعمال میں سے آپ کے رب کے علم سے کوئی چیز بھی ذرہ برابر غائب نہیں اور نہ کوئی چیز اس مقدار مذکور سے چھوٹی ہے اور نہ کوئی چیز اس سے بڑی اور بھاری ہے مگر یہ سب بوجہ احاطہ علم الہی کے لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ۔۔ : اس آیت کے شرو ع میں دو صیغے ”تَكُوْنُ“ اور ”تَتْلُوْا“ واحد مذکر حاضر کے ہیں جن کا معنی ”تو“ ہے اور دو صیغے ”تَعْمَلُوْنَ“ اور ”تُفِيْضُوْنَ“ جمع مذکر حاضر کے ہیں جن کا معنی ”تم“ ہے۔ مفسرین نے اس کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک تو یہ کہ پہلے دونوں الفاظ کے مخاطب نبی کریم ﷺ ہیں اور بعد والے دونوں الفاظ کے مخاطب تمام لوگ ہیں۔ متن میں آیت کا ترجمہ لفظوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ پہلے دونوں الفاظ میں خطاب اگرچہ نبی ﷺ سے ہے، مگر اس میں بھی تمام لوگ شامل ہیں، اس لیے بعد والے صیغے جمع لائے گئے ہیں، مراد ہر مخاطب ہے، جیسا کہ اللہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 61
قولہ تعالیٰ : (آیت) وماتکون فی شان اس میں ما برائے انکار ہے، یعنی آپ کسی حال میں نہیں ہوتے، مراد یہ کہ وہ عبادت کی حالت ہو یا اس کے سوا کی مگر اللہ تعالیٰ آپ پر مطلع ہے۔ شان حالت اور امر (کام) کو کہتے ہیں اس کی جمع شئون ہے۔ اخفش نے کہا : عرب کہتے ہیں : ماشاء نت شاء نہ یعنی میں نے اس کا کام نہیں کیا (ماعملت عملہ) ، (آیت) وماتتلو منہ من قرآن فراء اور زجاج نے کہا ہے : منہ ہاضمیر شان کی طرف لوٹ رہی ہے، یعنی آپ ﷺ جو نیاکام کرتے ہیں پھر اس کی وجہ سے قرآن کریم پڑھا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کا حکم کیا ہے یا اس بارے میں قرآن کریم نازل ہوتا ہے اور اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اور علامہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ تفیضون فیہ “ یعنی جب بھی تم کوئی کام کرتے ہو۔
2:۔ الفریابی وابن جریر نے مجاہد سے اسی طرح روایت کیا۔
3:۔ عبد بن حمید والفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یعزب “ یعنی غائب نہیں ہوتا ہے۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما یعزب عن رب من مثقال ذرۃ “ سے مراد ہے کہ ایک ذرہ کے وزن کے برابر بھی اس سے غیب نہیں ہے (آیت) ” ولا اصغر من ذلک ولا اکبر الا فی کتب مبین “ کتاب مبین سے مراد ہے کہ وہ کتاب ہے جو اللہ کے پاس ہے۔
Read the full tafseer →وَمَا تَكُوْنُ [ اور آپ نہیں ہوتے ] فِيْ شَاْنٍ [ کسی کام میں ] وَّمَا تَتْلُوْا [ اور آپ نہیں پڑھتے ] مِنْهُ [ اس سے ] مِنْ قُرْاٰنٍ [ کچھ قرآن میں سے ] وَّلَا تَعْمَلُوْنَ [ اور تم لوگ عمل نہیں کرتے ] مِنْ عَمَلٍ [ کوئی بھی عمل ] اِلَّا [ مگر (یہ کہ ) ] كُنَّا [ہم ہوتے ہیں ] عَلَيْكُمْ [ تو لوگوں پر ] شُهُوْدًا [ موجود ] اِذْ [ جب ] تُفِيْضُوْنَ [ تم لوگ پھیلاتے ہو (یعنی تبلیغ کرتے ہو) ] فِيْهِ ۭ [ اس میں ] وَمَا يَعْزُبُ [ اور پوشیدہ نہیں ہوپاتی ] عَنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب سے ] مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ [ کسی بھی ذرہ کے ہم وزن (کوئی چیز ) ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَلَا فِي السَّمَاۗءِ […
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر محیط ہے کوئی ذرہ اور چھوٹی بڑی چیز اور مخلوق کا کوئی حال اس سے پوشیدہ نہیں
ان آیات میں اللہ جل شانہ کی صفت علم کو بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ آپ جس حال میں بھی ہوں اور اسی حال میں سے یہ بھی ہے کہ آپ قرآن کے کسی حصہ کی تلاوت کر رہے ہوں اور آپ کے علاوہ دوسرے اشخاص اور افراد جو بھی کوئی عمل کرتے ہوں یہ سب حالات اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں کسی کی کوئی حالت اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ اور آسمان میں اور زمین میں جو بھی ذرہ کے برابر کوئی چیز ہے اللہ تعالیٰ شانہ کو اس کا علم ہے اور اس کے علم سے غائب نہیں ہے آسمان و زمین کے علاوہ بھی مخلوق ہے اور وہ بھی اس کے علم میں ہے۔…
Read the full tafseer →بیان احاطہ علم خداوندی برائے تہدید مشرکین
قال اللہ تعالیٰ وما تکون فی شان۔۔۔ الی۔۔۔ الی فی کتب مبین
(ربط): اوپر سے حق تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے علم وقدرت کا ذکر چلا آرہا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علمی کو بیان کرتے ہیں۔ کہ اس کا علم تمام کائنات کو محیط ہے آسمان اور زمین کا کوئی ذرہ اس سے پوشیدہ نہیں
برو علم یک ذرہ پوشیدہ نیست
کہ پیدا وپنہاں بنزدش یکے نیست
اور اس احاطۂ علمی کے بیان سے دوچیزیں مقصود ہیں۔ ایک تو کفار کی تہدید مقصود ہے کہ تم ہمارے نبی اور رسول اور دین کی عداوت میں جو کچھ کر رہے ہو وہ ہم پر پوشیدہ نہیں تمہاری سازشوں اور تدبیروں سے کچھ نہیں بنتا اللہ تعالیٰ اپنے نبی کا…
Read the full tafseer →78: یہ توحید پر آٹھویں عقلی دلیل ہے اور اس سے شرک فی العلم کی نفی مقصود ہے “ مِنْ قُرْاٰنٍ ” میں “ مِنْ ” بیانیہ ہے۔ “ قُرْاٰن ”، “ مِنْهُ ” کی ضمیر مجرور کا بیان ہے۔ “ وَ لَا تَعْلَمُوْنَ الخ ” یہ خاص سے عام کی طرف ترقی ہے۔ “ اعلم انه تعالیٰ خصص الرسول فی اول ھذه الایة بالخطاب فی امرین ثم اتبع ذلک بتعمیم الخطاب مع کل المکلفین الخ ” (کبیر ج 17 ص 121) ۔ “ اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ ” یعنی جب تم اپنے کاموں میں منہمک ہوتے ہو۔ حاصل یہ کہ اے پیغمبر ﷺ آپ کوئی بھی کام کریں مثلاً قوم کو اللہ کا قرآن پڑھ کر سنا رہے ہوں، آپ کی اور آپ کی تلاوت کی کیا خصوصیت ہے تم سب لوگ جو کام بھی کرتے ہو جب تم اس میں ہمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
ربط آیات
یہ بھی دراصل توحید کے اثبات اور مشرکین کے رد کا بیان ہے۔ اس سے پہلے اللہ نے قرآن کریم کے اوصاف بیان کیے قرآن پاک کے پروگرام کے علاوہ اپنے گمان محض اور ناقص عقل سے حلت و حرمت کے حکم لگانے کی مذمت بیان فرمائی۔ ایسے لوگوں کی سزا کے متعلق اللہ نے اشارۃ فرمایا کہ یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ قیامت والے دن ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟ اب آج کے درس میں اللہ نے اپنے اوصاف بیان فرمائے ہیں اور اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کی تعریف بیان کی ہے آپ کے پیروکاروں کا بھی ضمنا ذکر کیا گیا ہے۔
نظر خداوندی
ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” وما تکون فی شان “ اور نہیں ہوتے آپ کسی حال میں (آیت) ” وما تتلوا منہ من…
Read the full tafseer →وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْہُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُہُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْہِ 0 ۭ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرَ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ 61
شأن
الشَّأْنُ : الحال والأمر الذي يتّفق ويصلح، ولا يقال إلّا فيما يعظم من الأحوال والأمور . قال اللہ تعالی: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] ، وشَأْنُ الرّأس جمعه : شَئُونٌ ، وهو الوصلة بين متقابلاته التي بها قوام الإنسان .
( ش ء ن ) شان کے معنی حالت اور اس…
Read the full tafseer →1 ؎ کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے، وہ علم الٰہی کا دفتر ہے اور مبین یعنی واضح اور صاف کوئی ابہام نہیں ہوتا یعنی علم الٰہی سے کوئی چیز باہر نہیں۔ بڑی سے بڑی ہو یا چھوٹی سے چھوٹی اور نہ انسان کا کوئی حال اس سے مخفی ہے۔ 12 منہ
ترکیب : فی شان خبر کان وما تتلوا نافیۃ منہ ای الشان اور اللہ من قرآن مفعول تتلوا۔ اذا ظرف لشہود من مثقال فی موضع رفع یعزبای یغیب بضم الزاء و کسرھا ولا اصغر والا اکبر بفتح الراء فی موضع جر صفۃ لذرۃ او لمثقال ویقران بالرفع حملا علی موضع من مثقال شرکاء مفعول یدعون و مفعول یتبع محذوف دل علیہ ان یتبعون الخ ان العزۃ مستانف والوقف علی قولھم لازم ان عندکم ان معنی بہذا یتعلق…
Read the full tafseer →وَمَا تَکُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْہُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلاَ تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلاَّ کُنَّا عَلَیْکُم شُھُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْہِ ط وَمَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّکَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّمَآئِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْبَرَ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ (یونس : 61)
(اور آپ ﷺ جس حال میں بھی ہوتے ہیں اور قرآن سے جو بھی آپ ﷺ پڑھ کر سناتے ہیں اور (اے مسلمانو ! ) تم جو کام بھی کرتے ہو ہم تمہارے پاس موجود ہوتے ہیں جس وقت تم اس میں مشغول ہوتے ہو۔ اور تیرے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں، زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منکرین اور مشرکین کی اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہرزہ سرائی اور عقیدہ توحید کی وجہ سے رسول کریم ﷺ کو ایذا دینے پر آپ کو تسلی دیتے ہوئے منکرین حق کو انتباہ کیا گیا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ڈھارس بندھانے منکرین اور مشرکین کو انتباہ کرنے کے ساتھ آپ کی محنت اور مشن کو خراج تحسین سے نوازا جارہا ہے۔ کہ اے رسول ﷺ ! آپ کا رات کو اٹھ اٹھ کر قرآن پڑھنا۔ دن کو اس کی تبلیغ کرنا اور اس کے رد عمل میں آپ کا غم زدہ ہونا ہماری نگاہوں سے اوجھل نہیں ہے۔ آپ کے شب وروز کا ایک ایک لمحہ ہمارے سامنے ہے۔
سورۃ الشعراء میں نبی کریم ﷺ کو بڑے دلر با انداز میں اطمینان دلایا گیا ہے
(الَّذِی یَرَاک حینَ تَقُومُ…
Read the full tafseer →ہم تمہارے ہرحال سے واقف ہیں :
61: وَمَا تَکُوْنُ فِیْ شَاْنٍ (نہیں ہوتے آپ کسی حالت میں) ما ؔ نافیہ ہے اور تکون کا خطاب نبی اکرم ﷺ کو ہے۔ الشان معاملہ اور حالت وَّمَا تَتْلُوْا مِنْہُ (اور نہیں پڑھتے آپ اس میں سے) ہٗ کی ضمیر قرآن مجید کی طرف ہے گویا اسطرح کہا گیا ماتتلوا من التنزیل، مِنْ قُرْاٰنٍ (قرآن میں سے) کیونکہ قرآن کا ہر جزء قرآن ہے۔ ذکر سے قبل ضمیر عظمت شان کیلئے لائی گئی ہے یا ہ کی ضمیر کا مرجع اللہ عزوجل کی ذات ہے۔
وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ ( اور تم نہیں کرتے) تم تمام مِنْ عَمَلٍ (کوئی عمل) جو عمل بھی ہو اِلَّا کُنَّا عَلَیْکُمْ شُھُوْدًا (مگر کہ تم پر ہم حاضر و ناظر ہوتے ہیں) مشاہدہ کر…
Read the full tafseer →تفسیر : 61” وما تکون “ اے محمد ” فی شان “ اعمال میں سے کسی عمل پر ” وما تتلوا منہ “ اللہ سے ” من قرآن “ اترنے والا ۔ اور بعض نے کہا ہے منہ یعنی قرآن کی شان میں آپ (علیہ السلام) کے بارے میں نازل ہوئی تھی پھر آپ (علیہ السلام) اور امت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ۔ ” ولا تعلمون من عمل الا کنا علیکم شھودا اذ تفیضون فیہ “ یعنی تم داخل ہوتے ہو اور گھستے ہو اس میں ۔ ھاء عمل کی طرف لوٹ رہی ہے اور افاضت کا عمل میں داخل ہونا ۔ ابن انباری (رح) فرماتے ہیں تم اس میں مشغول ہوتے اور بعض نے کہا ہے کہ کثرت کرتے ہو اور اضافہ کثرت کے ساتھ رفع کرنا۔” وما یعزب عن ربک “ نہیں ہوتا تیرے رب سے اور کسائی (رح) نے ” یعذب “…
Read the full tafseer →61۔ اللہ پاک نے اپنے رسول ﷺ کو اس آیت میں یہ جتلایا ہے کہ آپ یا آپ کی امت کے لوگ جو کام کرتے ہیں خدا اس کو دیکھتا ہے ہر شخص کا چلنا پھرنا برے اچھے عمل قرآن مجید کی تلاوت کا کرنا سب اس پر ظاہر ہے کیوں کہ زمین و آسمان میں جتنی چھوٹی بڑی چیزیں ہیں علم الٰہی کے نتیجہ کے طور پر وہ سب ذرہ ذرہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں۔ اس سے کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی اس لئے جب جبرئیل (علیہ السلام) ایک آدمی کی صورت بن کر آئے اور آپ سے سوال کیا کہ احسان کیا شی ہے آپ نے فرمایا کہ خدا کی عبادت کرنے کی حالت میں یہ سمجھنا کہ ہم خدا کو دیکھ رہے ہیں اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو یہ خیال کرنا کہ خدا ہم کو دیکھ رہا ہے یہ حدیث…
Read the full tafseer →آیت : ( 61)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عمومی مشاہدہ کے بارے میں خبر دیتا ہے ‘ نیز وہ فرماتا ہے کہ وہ بندوں کے تمام احوال اور ان کی حرکات و سکنات سے آگاہ اور اس ضمن میں اللہ تعالیٰ انہین دائمی مراقبہ کی دعوت دیتا ہے۔ فرمایا : (وما تکون فی شان) ” اور تم جس حال میں ہوتے ہو “ یعنی آپ اپنے دینی اور دنیاوی احوال میں سے جس حال میں بھی ہوتے ہیں۔ (وما تتلو انہ من قرآن) ” یا قرآن میں کچھ پڑھتے ہو “ یعنی آپ قرآن میں سے جو کچھ تلاوت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کیا (ولا تعملون من عمل) ” اور جو بھی عمل آپ کرتے ہیں “ یعنی کوئی چھوٹا یا بڑا عمل۔ (الا لنا علیکم ھودا اذ تفیضون فیہ) ” مگر ہم تم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
107 ۔ اللہ کے ولیوں پر نہ کوئی خوف اور نہ کوئی غم واندوہ : یعنی نہ گزشتہ پر ان کو کوئی غم اور نہ مستقبل کے بارے میں کوئی خوف۔ اگرچہ ایسے پاکیزہ نفوس اور خوش نصیب حضرات کی اس دنیا میں بھی یہی شان ہوتی ہے کہ نہ ان کو ماضی کے بارے میں کوئی حزن و ملال ہوتا ہے اور نہ آئندہ کے بارے میں کوئی فکر و اندیشہ۔ بلکہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں مطمئن اور اپنے خالق ومالک کی رضا پر راضی رہتے ہیں کہ انہوں نے صدق دل سے اپنا سارا معاملہ اللہ پاک ہی کے حوالے کر رکھا ہوتا ہے، جس سے وہ سکون و اطمینان کی ایسی دولت سے سرشار ومالا مال ہوتے ہیں کہ دوسرے کسی کے لئے اس کو سمجھنا اور جاننا ہی ممکن نہیں ہوتا۔ جیسا کہ بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–66
اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمتیں
تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، قدرت اور انسان پر رحمتوں برکتوں اور فضل کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی ان تین فضیلتوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن پاک انسانوں کے لیے نصیحت، شفا اور رحمت کا پیغام ہے۔ اس لیے اس پر پوری طرح عمل کریں خود پڑھیں دوسروں کو پڑھائیں اللہ کے باقی بیشمار فضل و کرم میں ایک بہت بڑا فضل قرآن پاک ہے۔ اس کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر زندگی گزارنے والے اللہ کے دوست ہیں اور ان لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ و رسول کے احکامات کے مطابق شریعت میں اس قدر گم ہو کر زندگی گزارتے ہیں کہ ان کو نہ دنیا میں کسی چیز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
آیات 61 تا 70
اسرار و معارف
اور آپ جس میں ہوں جس جگہ جو عمل کریں ۔ آپ قرآن میں سے تلاوت کریں یا کسی بھی دوسرے عمل میں مصروف ہوں اور صرف آپ ہی کیا سارے لوگ بھی جو کچھ کرتے ہیں ۔ سب ہمارے روبرو ہے ۔ آپ کی محنت ومشقت اور عبادت و مجاہدہ بھی اور کفار کی عداوت ودشمنی بھی بلکہ ہر نیک و بد پہ ہم ذاتی طور پر شاہد ہیں ۔ نہ صرف انسان اعمال وکرداربل کہ زمین وآسمان کا کوئی ذرہ یا اس سے بھی کوئی چھوٹی بڑی شے آپ کے رب کریم سے کسی لمحے پوشیدہ نہیں اللہ کا علم تو بہت عظیم اور اس کی شان کے مطابق ہے ۔ یہ سب کچھ تو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور کوئی ذرہ یا اس کی حرکت اس باہر نہیں لہٰذا آپ اپنا کام جاری رکھیں اور…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ اس آیت میں ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ لوگوں کو ہمارا پیغام پہنچانے کے لئے آپ جو کوشش کر رہے ہیں وہ سب ہماری نظر میں ہے اور دوسری طرف مخالفین کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ حق کی مخالفت کرکے یہ نہ سمجھ لینا کہ ہم تمہاری حرکتوں سے بیخبر ہیں اور تم سے کوئی باز پرس نہ ہوگی۔ (کنز فی الروح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
(10:61) شان (ش ء ن مادہ) کے معنی حالت اور اس اتفاقی معاملہ کے ہیں جو کسی کے مناسب حال ہو۔ اس کا اطلاق صرف اہم امور اور حالات پر ہوتا ہے۔ شان الرأس۔ چھوٹی چھوٹی ہڈیوں کے ملنے کی جگہ جس سے انسان کا قوام ہے۔ اس کی جمع شؤن آتی ہے شان دھندا۔ فکر ۔ حال۔ کسی اہم معاملہ یا حال کو خواہ برا ہو یا بھلا ۔ شان کہتے ہیں۔
وما تتلوا منہ من قران۔ منہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب شان کے لئے ہے۔ ابو البقاء نے اس من کو اجلیہ کہا ہے یعنی جو اہم کام آپ کر رہے ہیں اور (اس کے ثبوت اور تقویت کے لئے) جو آیات قرآنی آپ پڑھتے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں۔ دوسرا من زائدہ ہے اور قرآن مفعول بہٖ ہے۔
وما تکون سے لے کر من قرآن تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65
ماتکون (تو نہیں ہوتا) شان (حال ، کیفیت) شھود (موجود ، گواہ ) تفیضون (تم کرتے ہو، تم مشغول ہوتے ہو) مایغرب (غائب نہیں رہتا ہے، دور نہیں ہوتا ہے) مثقال ذرۃ (ذرہ برابر، تھوڑا سا بھی) اصغر (چھوٹا، یہ لفظ اکبر کے مقابلہ میں ہے) کتاب مبین (کھلی کتاب (لوح محفوظ ؛ ) اولیاء (ولی) دوست ، حمایت کرنے والا لایحزنون (وہ رنجیدہ نہ ہوں گے) البشریٰ (خوش خبری) کلمت اللہ (اللہ کی باتیں، اللہ کے احکامات ، الفوزا العظیم (بڑی کامیابی ) العزۃ (عزت و عظمت ، غلبہ)
تشریح : آیت نمبر 61 تا 65
گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے غفلت میں پڑے ہوئے انسانوں کو بیدار کرنے اور…
Read the full tafseer →عبادت کا طریقہ : اللہ پاک نے اپنے رسول ﷺ کو اس آیت میں یہ بتلایا ہے کہ آپ یا آپ کی امت کے لوگ جو کام کرتے ہیں خدا اس کو دیکھتا ہے۔ ہر شخص کا چلنا پھرنا ، برے یا اچھے عمل کرنا قرآن مجید کی تلاوت کرنا، سب اس پر ظاہر ہے۔ کیونکہ زمین وآسمان میں جتنی چھوٹی بڑی چیزیں ہیں علم الہیٰ کے نتیجے کے طور پر وہ سب ذرہ ذرہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں۔ اس سے کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی ۔ اس لئے جب جبرائیل (علیہ السلام) ایک آدمی کی صورت بن کر آئے اور آپ سے سوال کیا کہ احسان کیا شے ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ خدا کی عبادت کرنے کی حالت میں یہ سمجھنا کہ ہم خدا کو دیکھ رہے ہیں ، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو یہ خیال کہ خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–74
[28] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
(ف 1) کتاب مبین سے مراد علم الہی ہے جسے شرع کی اصطلاح میں لوح محفوظ کہتے ہیں ۔
Read the full tafseer →61 اور اے پیغمبر ﷺ ! آپ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے خواہ آپ کہیں سے قرآن کریم پڑہتے ہوں اور تم لوگ جو بھی کام کرتے ہو ہم کو سب کی خبر رہتی ہے اور ہم بہرحال تم پر مطلع اور نگہبان ہوتے ہیں جب تم اس کام کو کرنا شروع کرتے ہو اور آپ کے پروردگار کے علم سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز ذرے کی مقدار سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز مقدار میں ذرہ سے بڑی ہے مگر یہ کہ وہ سب کھلی کتاب لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے یعنی اے پیغمبر ﷺ ! آپ کوئی کام بھی کریں یا آپ کے حالات کچھ بھی ہوں خواہ آپ قرآن کریم پڑتے ہوں اور یہی حالت تم سب لوگوں کی ہے کہ تم جو کام کرتے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ف 3۔ یعنی اللہ ان کو خوفناک اور غم ناک حوادث سے بچاتا ہے خوف سے خوف حق اور غم سے غم آخرت مراد نہیں بلکہ دنیوی خوف وغم کی نفی مراد ہے۔ جس کا احتمال مخالفت اعداء سے ہوسکتا ہے وہ مومنین کاملین کو نہیں ہوتا ہر وقت ان کا اللہ پر اعتماد ہوتا ہے ہر واقعہ کی حکمت کا اعتقاد رکھتے ہیں اس میں مصلحت سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ اپنے بندوں پر بڑا ہی فضل کرتا ہے لیکن بہت کم ہی شکر گزار ہوتے ہیں
88 ؎ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہی تو ہے کہ اس نے تم کو اپنی اصلاح کرلینے کی مہلت دے رکھی ہے اور جو لوگ حرام و حلال کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھتے ہیں کیا یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن ان سے باز پرس نہ ہوگی ، کیوں نہیں ؟ یقیناً ہوگی کیونکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام (علیہ السلام) بھیج کر اور کتابیں اتار کر لوگوں پر بڑا فضل و کرم کیا ہے لیکن اکثر لوگ پھر بھی اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور اللہ ہے کہ اپنے بندوں پر انعامات و احسانات کے دروازے کھولے ہوئے ہیں۔ ان کی آفرینش ، ان کی بقا اور ان کی نشو…
Read the full tafseer →In the fifth verse (61), mention has been made of the all-encompassing knowledge of the most exalted Allah and its unmatched multi-dimensional extensions. The address is to the Holy Prophet ﷺ . He is being told that nothing he does by way of his work or recital of the Qur'an remains hidden from Allah. Similarly, whatever all human beings do remains before Him. And not even a single particle in the heavens and the earth is concealed from Him. Rather, everything is written in the clear Book, that is, the Preserved Tablet (al lawh al-mahfuz).
At this place, as it seems, the wisdom of describing…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
64. The purpose of the statement is to console the Prophet (peace be on him) and to warn his enemies. On the one hand, the Prophet (peace be on him) is being reassured that the resoluteness, diligence and perseverance which characterize his efforts in preaching the truth and attempting to reform people is well known to God. It can hardly be conceived that after entrusting to the Prophet (peace be on him) a perilous task that God would leave him alone, unassisted. God knows full well all what the Prophet (peace be on him) does, and is also well aware of how others behave towards him. At the…
Read the full tafseer →