Explained with ayahs 59–60
بغیر شرعی دلیل کے حلال و حرام کی مذمت
مشرکوں نے بعض جانور مخصوص نام رکھ کر اپنے لیے حرام قرار دے رکھے تھے اس عمل کی تردید میں یہ آیتیں ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور چوپایوں میں یہ کچھ نہ کچھ حصہ تو اس کا کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے۔ حضرت عوف بن مالک بن فضلہ ؓ فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت یہ تھی کہ میلا کچیلا جسم بال بکھرے ہوئے۔ آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا، تمہارے پاس کچھ مال بھی ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ کس قسم کا مال ؟ میں نے کہا اونٹ، غلام، گھوڑے، بکریاں وغیرہ غرض ہر قسم کا مال ہے۔ آپ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تجھے…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 63
”یعنی یہ تو آقا کی کمال درجہ مہربانی ہے کہ وہ نوکر کو خود بتاتا ہے کہ میرے گھر میں اور میرے مال میں اور خود اپنے نفس میں تو کونسا طرز عمل اختیار کرے گا تو میری خوشنودی اور انعام اور ترقی سے سرفراز ہوگا، اور کس طریق کار سے میرے غضب اور سزا اور تنزل کا مستوجب ہوگا۔ مگر بہت سے بیوقوف نوکر ایسے ہیں جو اس عنایت کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔ گویا ان کے نزدیک ہونا یہ چاہیے تھا کہ آقا ان کو بس اپنے گھر میں لا کر چھوڑ دیتا اور سب مال ان کے اختیار میں دے دینے کے بعد چھپ کر دیکھتا رہتا کہ کون سا نوکر کیا کرتا ہے، پھر جو بھی اس کی مرضی کے خلاف۔۔ جس کا کسی نوکر کو علم نہیں۔۔ کوئی کام کرتا تو اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
تیسری آیت میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو حلال و حرام کے معاملہ میں اپنی ذاتی رائے کو دخل دیتے ہیں، اور قرآن و سنت کی سند کے بغیر جس چیز کو چاہا حلال قرار دے دیا جس کو چاہا حرام کہہ دیا، اس پر قیامت کی شدید وعید ذکر کی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز یا کسی فعل کے حلال یا حرام ہونے کا اصل مدار انسانی رائے پر نہیں بلکہ وہ خالص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حق ہے ان کے احکام کے بغیر کسی چیز کو نہ حلال کہنا جائز ہے نہ حرام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
59۔ 60۔ قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا ۭ قُلْ اٰۗللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَي اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ۔ وَمَا ظَنُّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَھُمْ لَا يَشْكُرُوْنَ۔
قُلْ اَرَءَيْتُمْ۔۔۔ الایۃ : اپنے جی کے تحریم وتحلیل، اللہ پر افتراء ہے : اوپر والی آیات میں قرآن کا ذکر، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، بطور التفات آگیا تھا۔ اس کے بعد توحید اور قیامت کا وہی سلسلہ بیان پھر لوٹ آیا جو قرآن اور پیغمبر کی صداقت ثابت کرنے کے لیے شروع…
Read the full tafseer →60۔ 1 یعنی قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ان سے کیا معاملہ فرمائے گا۔
60۔ 2 کہ وہ انسانوں کا دنیا میں فوراً مواخذا نہیں کرتا، بلکہ اس کے لئے ایک دن مقرر کر رکھا ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا کی نعمتیں بلا تفریق مومن و کافر، سب کو دیتا ہے۔ یا یہ چیزیں انسانوں کے لئے مفید اور ضروری ہیں، انھیں حلال اور جائز قرار دیا ہے، انھیں حرام نہیں کیا۔
60۔ 3 یعنی اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے، یا اس کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کرلیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
26: عرب کے مشرکین نے مختلف جانوروں کو بتوں کے ناموں پر کر کے انہیں خواہ مخواہ حرام قرار دے دیا تھا، جس کی تفصیل سورة انعام (139، 138:5) میں گذری ہے۔ یہ ان کی اس بدعملی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →وما ظن الذین یفترون علی اللہ الکذب یوم القیمۃ اور جو لوگ اللہ پر دروغ بندی کر رہے ہیں ‘ ان کا خیال قیامت کے دن (کے سلسلہ) میں کیا ہے ‘ کیا ان کا یہ خیال ہے کہ قیامت کے دن ان کو اس دروغ بندی کی سزا نہیں دی جائے گی ؟ نہیں ! ایسا ضرور ہوگا۔ لفظ ما میں وعید کا ابہام بتا رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے کافروں کو یہ تہدید عذاب سخت طور پر دی گئی ہے۔
ان اللہ لذو فضل علی الناس اس میں شک نہیں کہ اللہ لوگوں پر بڑا مہربان ہے۔ اس نے عقل کی نعمت عطا کی اور ہدایت کیلئے کتابیں اتاریں اور پیغمبر بھیجے۔
ولکن اکثرھم لا یشکرون۔ لیکن اکثر لوگ اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اگر شکر ادا کرنا ہوتا تو عقل و نقل کے حکم پر…
Read the full tafseer →9 یعنی یہ لوگ روز قیامت کے متعلق کیا خیال کر رہے ہیں کہ کیا معاملہ ان کے ساتھ ہوگا سخت پکڑے جائیں گے، یا سستے چھوٹ جائیں گے۔ عذاب بھگتنا پڑے گا یا نہیں۔ کن خیالات میں پڑے ہیں۔ یاد رکھیں جو دردناک سزا ملنے والی ہے وہ ٹل نہیں سکتی۔
10 یعنی خدا اپنے فضل سے دنیا میں بہت کچھ مہلت دیتا ہے۔ بہت سی تقصیرات سے درگزر کرتا ہے۔ لیکن بہت لوگ نرمی اور اغماض کو دیکھ کر بجائے شکر گذار ہونے کے اور زیادہ دلیر اور بےخوف ہوجاتے ہیں۔ آخر سزا دینی پڑتی ہے
حلمِ حق باتو مواساہاکند چوں نتو ازحد بگزری رسواکند
Read the full tafseer →آیت 60 وَمَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ
وہ کیا خیال رکھتے ہیں کہ اس دن اس جرم کے بدلے میں ان کے ساتھ کیسا سلوک ہوگا
Read the full tafseer →75 یعنی قیامت کے دن ان حلال اور حرام بنانے والوں سے کیسا سلوک کیا جائے گا ؟ اس دن انھیں جو مار پڑے گی اور دکھ کا عذاب سہنا پڑے گا اس کے متعلق بھی ان افتراء پردازوں نے کبھی غور کیا ہے ؟ اللہ تو لوگوں پر بڑا مہربان ہے جس نے ہر وقت انھیں ہر اچھے اور برے کام کے انجام سے مطلع کردیا ہے لیکن بجائے اس کے کہ لوگ اللہ کی اس مہربانی پر اس کے شکر گزار ہوتے الٹا اس کی حدود کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں پھر اسی کے نام سے منسوب بھی کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →91۔ (اور اس سے ڈرتے نہیں، تو کیا یہ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ قیامت آئے ہی گی نہیں یا آئے گی مگر ان سے کچھ تعرض نہ کرے گی ؟ )
92۔ (چنانچہ سب سے بڑی ناشکری یہی ہے کہ اپنی اصلاح کرنا الگ رہا، اس خبر ہی پر نہیں یقین کرتے اور نہ اس پیش خبری کی کوئی قدر کرتے ہیں) (آیت) ” ان۔۔۔۔ الناس “۔ چناچہ اسی فضل کا مقتضاء یہ ہے کہ اس نے انہیں اتنے قبل سے وقوع قیامت کی اطلاع، اور منکرین کو توبہ واصلاح کی پوری مہلت دے دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیت نمبر 54 تا 60
ترجمہ : اگر ہم اس شخص کے پاس کہ جس نے کفر کرکے ظلم کیا روئے زمین کی پوری دولت ہو تو وہ قیامت کے دن عذاب سے رہائی حاصل کرنے کیلئے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہوجائے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ترک ایمان پر ندامت کو چھپائیں گے، یعنی ان کے پیشوا عار دلانے کے خوف سے ندامت کو ان کمزور لوگوں سے چھپائیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہوگا مگر ان کے یعنی مخلوق کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائیگا اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائیگا، سنو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے، سن رکھو کہ بعث اور جزاء کا اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن اکثر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں وہی زندگی عطاء…
Read the full tafseer →وما ظن الذین یفترون علی اللہ الکذب یوم القیمۃ اور جو لوگ اللہ پر دروغ بندی کر رہے ہیں ‘ ان کا خیال قیامت کے دن (کے سلسلہ) میں کیا ہے ‘ کیا ان کا یہ خیال ہے کہ قیامت کے دن ان کو اس دروغ بندی کی سزا نہیں دی جائے گی ؟ نہیں ! ایسا ضرور ہوگا۔ لفظ ما میں وعید کا ابہام بتارہا ہے کہ اللہ کی طرف سے کافروں کو یہ تہدید عذاب سخت طور پر دی گئی ہے۔
ان اللہ لذو فضل علی الناس اس میں شک نہیں کہ اللہ لوگوں پر بڑا مہربان ہے۔ اس نے عقل کی نعمت عطا کی اور ہدایت کیلئے کتابیں اتاریں اور پیغمبر بھیجے۔
ولکن اکثرھم لا یشکرون۔ لیکن اکثر لوگ اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اگر شکر ادا کرنا ہوتا تو عقل و نقل کے حکم پر چلتے…
Read the full tafseer →(60) اور جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں انکا قیامت کے متعلق کیا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا، واقعی لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ اس نے ان سے عذاب کو ٹال رکھا ہے لیکن اکثر اس احسان کی بےقدری کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →وَمَا ظَنُّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : یعنی ان سے کیا سلوک کیا جائے گا ؟ (فتح الرحمن) کیا ان کا گمان یہ ہے کہ ان کے بلا دلیل اپنے پاس سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے کر اللہ پر بہتان باندھنے پر ان کی کوئی پکڑ نہ ہوگی اور انھیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟
اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ۔۔ : ”فَضٌلً“ کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر بہت بڑے فضل والا ہے کہ پیدا کرکے عقل اور ہر نعمت بخشی، پھر انھیں مہلت دی، نافرمانیوں کے باوجود ان کے رزق میں کمی نہ کی، مگر وہ اس کی نرمی اور استدراج (مہلت دینے) کو دیکھ کر گناہوں پر…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 60۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما ظن الذین یفترون علی اللہ الکذب یوم القیمۃ “ اس میں یوم ظرف ہونے کی بنا پر منصوب ہے یا ظن کی وجہ سے جیسا کہ ما ظنک زیدا ہے اور اس کا معنی ہے کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ان کا مواخذہ نہیں فرمائے گا (1) (معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 165)
(آیت) ” ان اللہ لذو فضل علی الناس “۔ بیشک اللہ تعالیٰ (اس میں) تاخیر کر کے اور مہلت دے کر لوگوں پر فضل وکرم فرماتا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس سے اہل مکہ کا ارادہ کیا ہے جس وقت انہیں حرم پاک میں پرامن بنا دیا۔ (آیت) ” ولکن اکثرھم “۔ یعنی کفار (آیت) ” لا یشکرون “ اللہ تعالیٰ کا اس کی نعمتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ ابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قل ارءیتم ما انزل اللہ لکم من رزق “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ مشرک تھے جو کھیتی میں سے اور جانوروں میں سے جن کے بارے میں وہ چاہتے ہیں ان کو حلال کرلیتے تھے اور جن کے بارے میں وہ چاہتے ہیں ان کو حرام کرلیتے ہیں۔
2:۔ ابن ابی شیبہ والحاکم (اور آپ نے اس کو صحیح کہا) والبیہقی نے ابن سنن میں وابن عساکر نے ابو سعید جو ابو اسید انصاری کے آزاد کردہ غلاموں میں سے تھے ان سے روایت کیا کہ اہل مصر کا ایک وفد عثمان بن عفان کے پاس آیا اور انہوں نے کہا مصحف (یعنی قرآن مجید) لیجئے اور السابعہ…
Read the full tafseer →وَمَا ظَنُّ [ اور کیا گمان ہے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کا جو ] يَفْتَرُوْنَ [ گھڑتے ہیں ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] الْكَذِبَ [ جھوٹ ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [ قیامت کے دن کے بارے میں ] اِنَّ [ بیشک ] اللّٰهَ [ اللہ ] لَذُوْ فَضْلٍ [ یقینا فضل والا ہے ] عَلَي النَّاسِ [ لوگوں پر ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اَكْثَرَھُمْ [ ان کی اکثریت ] لَا يَشْكُرُوْنَ [ شکر نہیں کرتی ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَشْکُرُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل فرماتا ہے رزق حلال عطا فرماتا ہے لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں) حلال کو حرام قرار دے دیتے ہیں۔
اللہ کا یہ فضل بھی ہے کہ اس نے لوگوں کو دولت عقل سے نوازا پیغمبر بھیجے کتابیں نازل فرمائیں جنہوں نے حق اور ناحق واضح کر کے بتایا جس میں حرام و حلال کی تفصیلات بھی ہیں لیکن اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ اللہ کے فضل کی قدر دانی نہیں کرتے اور شکر کے بجائے کفر ان نعمت کی راہ اختیار کرتے ہیں اس کفران نعمت میں معصیت اور کفرو شرک کا اختیار کرنا سب داخل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
تقبیح بعض رسوم جاہلیت
قال اللہ تعالی۔ ق ل ارءیتم ما انزل اللہ لکم من رزق۔۔۔ الی۔۔۔ لا یشکرون
(ربط): گزشتہ آیات میں شرک کا ابطال تھا اب اس آیت میں ایک مشرکانہ رسم کی قباحت کا بیان ہے وہ یہ کہ جاہل تحرم حلال کے رسم بد میں مبتلا ہیں۔ خلاف عقل بےسند باتوں پر چلتے ہیں کسی بات میں احتیاط نہیں حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنا ان کے نزدیک ایک آسان بات ہے خوب سمجھ لو کہ یہ سب اللہ تعالیٰ پر افتراء ہے حلال و حرام اور احکام خداوندی کا علم بدون نبی کے نہیں ہوسکتا لہذا نبی پر ایمان لانا ضروری ہوا تاکہ اس کے واسطے سے احکام خداوندی کا علم ہوسکے۔
(ربط دوم): کہ جب گزشتہ آیات میں توحید اور رسالت اور قیامت پر…
Read the full tafseer →77: یہ تخویف و تہدید ہے “ یَوْمَ الْقِیٰمَة، ” مفعول فیہ ہے۔ “ ظَنٌّ ” کا یعنی یوم قیامت کے بارے میں ان افتراء کرنے والے مشرکین کا کیا گمان ہے کہ میں ان کے ساتھ کیا کرنے والا ہوں۔ کیا میں ان کو چھوڑ دوں گا اور ان سے مؤاخذہ نہیں کروں گا ؟ “ اَیَحْسَبُوْنَ انه لا یؤاخذھم ولا یجازیھم علی اعمالھم فھو استفھام بمعنی التوبیخ والتقریع والوعیذ العظیم لمن یفتري علی اللہ الکذب ” (خازن ج 3 ص 195) استفہام برائے توبیخ و تہدید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ربط آیات
گذشتہ درس میں قرآن کی چار صفات بیان ہوئیں۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ اس کی طرف سے نصیحت ہے ، دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ انسانوں کے لیے ذریعہ ہدایت اور اس ہدایت پر عمل کرنے والوں کے لیے رحمت ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد فرمایا ہے اور وہ اس طرح کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآں کریم کو منبع رشد وہدایت بنایا ہے تو پھر لوگوں کا فرض ہے کہ وہ حلت وحرم کے مسائل میں قرآن ہی کو سند پکڑیں اور اس سلسلے میں کسی دوسری طرف رجوع نہ کریں اور نہ ہی اپنی ذہنی اختراع کے مطابق کسی چیز پر حلال و حرام ہونے کا فتویٰ لگائیں ، مشرکوں کا اپنی مرضی سے کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگانا دراصل اللہ…
Read the full tafseer →وَمَا ظَنُّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللہِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ 0 ۭ اِنَّ اللہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَھُمْ لَا يَشْكُرُوْنَ 60 ۧ
ظن
والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ،
( ظ ن ن ) الظن
اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔
فری
الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
ترکیب : ماذا امر ترکیبہ فی البقرۃ عند قولہ ماذا ینفقون وقیل ماذا اسم واحد مبتداء ویستجعل خبر وقد ضعف وفیہ مافیہ ھو مبتدا حق خبرہ والجملۃ منصوب یَسْتَنْبِؤُنَکَ الا ستباء طلب کردن خبر۔
تفسیر : قل اریتم سے لے کر معجزین تک یہ بات بتلاتا ہے کہ وہ وقت اچانک آجاوے گا ٗ پھر تم کیا کرسکو گے اس وقت کا ایمان لانا بھی فائدہ نہ دے گا۔ ولوان سے لے کر لایظلمون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ حشر کے دن تمہارا مال و اسباب دنیاوی کچھ کام نہ آوے گا۔ تم یہ چاہو گے دنیا بھر کا مال لے کر ہم کو چھوڑ دے۔ الا ان سے لے کر ترجعون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمہارے یہ مال و اسباب بھی سب اسی کے دیے ہوئے ہیں جس پر تم نازاں ہو اور وہ…
Read the full tafseer →وَمَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْفَضْلٍ عَلیَ النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَیَشْکُرُوْنَ ۔ (یونس : 60)
(اور کیا گمان ہے ان لوگوں کا جو اللہ پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان پر کیا گزرے گی۔ بیشک اللہ لوگوں پر بڑے فضل والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ )
گرفت میں تاخیر اللہ کی رحمت ہے
اس آیت کریمہ میں گزشتہ آیت کریمہ میں بیان کردہ مشرکینِ مکہ کے کرتوتوں کے حوالے سے ایک سوال اٹھایا ہے کہ تمہارے طرز عمل نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ تم جو کچھ کہتے اور کرتے ہو اس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ تم سراسر اللہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید دنیا کی دولت سے بےبہا گنا بہتر ہے۔ لیکن دنیا دار لوگ اس کے مقابلہ میں دنیا کے مال کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ دنیا کی ہوس میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہیں کہ اللہ کے حلال کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے حلال کو حرام اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرلینے والوں سے پوچھیں کہ انہوں نے کبھی غور کیا کہ انہیں کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حرام و حلال کو تبدیل کریں۔ کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی اجازت دی ہے ؟ یا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔ کیا انہوں نے اس کی سزا پر کبھی غور کیا ہے کہ قیامت کے دن ان پر کیا…
Read the full tafseer →60: وَ مَاظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ (اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ افتراء باندھتے ہیں) کذب کی نسبت اس کی طرف کرتے ہیں یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (قیامت کے دن) یہ ظن کی وجہ سے منصوب ہے اور وہ گمان اس دن میں واقع ہونے والا ہوگا۔ یعنی مفتری لوگ اس دن کے متعلق کیا گمان کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ حالانکہ وہ تو احسان و برائی پر بدلے کا دن ہے۔ اس آیت میں معاملے کو مبہم رکھ کر سخت وعید کی گئی ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ (بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل
کرنے والے ہیں) اس طرح کہ ان پر عقل کا انعام کیا اور وحی کی رحمت عنایت کی اور حلال و حرام کی تعلیم دے کر…
Read the full tafseer →(60)” وما ظن الذین یفترون علی اللہ الکذب یوم القیامۃ “ کیا ان کا خیال ہے کہ اللہ نہ ان سے مواخذہ کرے گا اور نہ اس پر ان کو عذاب دے گا ۔” ان اللہ لذو فضل علی الناس ولکن اکثرھم لا یشکرون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
59۔ 60۔ اوپر قرآن شریف کی نعمت کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ ان مشرکوں نے فقط اسی نعمت کا انکار نہیں کیا بلکہ یہ لوگ تو اللہ کی اور نعمتوں کے بھی منکر اور ناشکر گزار ہیں کیوں کہ ان لوگوں نے بعض چیزیں اپنے اوپر حرام کرلی ہیں اور بعض حلال تو یہ حلال و حرام کس طرح کا ہے کیا اپنی ہی خواہش اور ہوا و ہوس سے انہوں نے یہ حکم لگایا ہے یا یہ اعتقاد کر کے یہ حکم خدا کا ہے اگر اپنے نفس کی خواہش سے یہ حلال و حرام کرلیا ہے تو یہ کوئی عقلمند نہیں پسند کرنے کا کہ جس چیز کو جی چاہا حلال کرلیا اور جس کو جی چاہا حرام سمجھ لیا اب باقی رہی یہ بات کہ خدا کے حکم سے انہوں نے کسی چیز کو حلال اور کسی چیز کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
آیت : (59-60)
مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینے کے لئے تحریم و تحلیل کے جو ضابطے ایجاد کئے تھے ‘ ان پر نکیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (قل ارئیتم ما انزل اللہ لکم من رزق) ” کہہ دیجئے ‘ بھلا بتلاؤ اللہ نے تمہارے لئے جو روزی اتاری “ یعنی حلال جانوروں کی مختلف اقسام جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذریعہ رزق اور رحمت بنایا ہے۔ (فجعلتم منہ حراما و حلالا) ” پس ٹھہرایا تم نے اس میں سے کچھ کو حرام اور کچھ کو حلال “ یعنی اس فاسد قول پر انکو زجرو توبیخ کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجئے : (اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون) ” کیا اللہ نے تمکو حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–87
حلال و حرام خدا کی طرف سے ہوگا
قول باری ہے قل ارایتم ما انزل اللہ لکم من رزق فعجلتم منہ حراما ً وحلا لا قل اللہ اذن لکم امر علی اللہ تفترون ۔ اے نبی ؐ! ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا ۔ اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حلال اور کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ ان سے پوچھو ” اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو “ اس آیت سے بعض دفعہ کند ذہن قسم کے ایسے لوگ قیاس کے ابطال پر استدلال کرتے ہیں جو اس کے جو از کے قائل نہیں ہیں اس لیے کہ انکے خیال میں قیاس کرنے والا اپنے قیاس کے ذریعے تحلیل و تحریم کرتا رہتا ہے لیکن ان کا یہ قول دراصل ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
103 ۔ اللہ پر افتراء باندھنے والوں کی پکڑ لازمی ہوگی : سو کیا خیال ہے ایسے افتراء پردازوں کا۔ کیا ایسے ایسے جرائم پر ان کی وہاں پر کوئی باز پرس نہ ہوگی ؟ اور ان کو اپنے کئے کا کوئی بھگتان بھگتنا نہ پڑے گا ؟ سو اس طرح کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے کہ ایسوں کی کوئی گرفت و پکڑ نہ ہو کہ یہ اس کے قانون عدل و حکمت کے خلاف ہے۔ پس ایسوں کی باز پرس لازما ہوگی۔ یہاں پر یہ اسلوب کلام بھی ملاحظہ ہو کہ یہاں پر سوال کرنے کے بعد اس کا جواب دیئے بغیر بات کو ختم فرما دیا گیا جو کہ متکلم کے انتہائی غضب کی دلیل ہے۔ مطلب یہ کہ کیا ان کی شامت زدہ لوگوں نے اپنے اس جرم کو کوئی معمولی جرم سمجھ رکھا ہے ؟ اور یہ اس سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–66
اللہ تعالیٰ اور اس کی رحمتیں
تشریح : ان آیات میں اللہ کی بڑائی، قدرت اور انسان پر رحمتوں برکتوں اور فضل کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کی ان تین فضیلتوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ قرآن پاک انسانوں کے لیے نصیحت، شفا اور رحمت کا پیغام ہے۔ اس لیے اس پر پوری طرح عمل کریں خود پڑھیں دوسروں کو پڑھائیں اللہ کے باقی بیشمار فضل و کرم میں ایک بہت بڑا فضل قرآن پاک ہے۔ اس کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر زندگی گزارنے والے اللہ کے دوست ہیں اور ان لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ و رسول کے احکامات کے مطابق شریعت میں اس قدر گم ہو کر زندگی گزارتے ہیں کہ ان کو نہ دنیا میں کسی چیز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
آیات 54 تا 60
اسرار و معارف
آج تو تم دنیا کی دولت پہ بہت خوش ہو بلکہ تمہیں ایمان اور اطاعت گراں گزرتے ہیں مگر جب یہ سب کچھ واقع ہوگا تو اگر ہر ایک ظالم کے پاس اتنی دولت بھی ہوجتنی سب روئے زمین پر ہے اور وہ یہ سب دے کر جان چھڑاناچا ہے تو ایسانہ ہوسکے گا بلکہ عذاب کی ذلت کے باعث مارے شرم کے منہ چھپا تے پھر تے ہوں گے نیزوہ بارگاہ تو ایسی عالی ہے کہ ان ظالموں سے بھی کوئی زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ عین انصاف کے ساتھ معاملہ ہوگا اور انھیں دہی سزاملے گی جس کے یہ مستحق ہوں گے۔
اور یہ خوب اچھی طرح سے جان لو کہ زمینوں اور آسمانوں میں سب کچھ حقیقتا اللہ کریم کا ہے انسان کو عارضی طور پر اگر کچھ عطا ہوتا…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یعنی ان سے کیا برتائو کیا جائے گا۔ (فتح الرحمن) ۔ کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے گناہوں پر ان کی کوئی پکڑ نہ ہوگی اور انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔
3 ۔ اس کی نرمی اور استدارج (مہلت) کو دیکھ کر گناہوں پر اور دلیر ہوجاتے اور اس کے دئیے ہوئے رزق میں سے جسے چاہتے ہیں حلال اور جسے چاہتے ہیں حرام قرار دے لیتے ہیں۔ اس قسم کی ناشکرگزاری میں مشرکین بھی مبتلا تھے اور اہل کتاب بھی کہ انہوں نے اپنی طرف سے بہت سی چیزوں کو مشروع قرار دے رکھا تھا۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(10:60) ما ظن الذین یفترون علی اللہ الکذب۔ میں ما استفہامیہ توبیخ اور وعید کے لئے آیا ہے۔ مبتداء ظن مضاف۔ الذین اسم موصول۔ یفترون علی اللہ الکذب جملہ فعلیہ ہوکر صلہ۔ صلہ اور موصول مل کر مضاف الیہ۔ مضاف اور مجاف الیہ مل کر مبتداء کی خبر۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے خلاف افتراء کا ارتکاب کرتے ہیں کیا خیال ہے ان کا یوم القیامۃ کے متعلق۔ ای ای شیء ظنھم فی ذلک الیوم انی فاعل بھم۔ کیا خیال ہے ان کا کہ اس دن میں ان کے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں (یعنی وہ اپنے کئے کی سزا بھگت کر ہی رہیں گے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 60
جعلتم (تم نے بنا لیا) اللہ (کیا اللہ نے ؟ ) اذن (اجازت دی ہے) تفترون (تم گھڑتے ہو، تم بناتے ہو) ظن (گمان خیال) ذو فضل (فضل و کرم والا) لایشکرون (وہ شکر نہیں کرتے ہیں، وہ قدر نہیں کرتے ہیں)
تشریح آیت نمبر 59 تا 60
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کو بالکل واضح طریقہ سے ارشاد فرما دیا ہے کہ ” ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً “ یعنی اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ اللہ نے تم سب کے لئے رزق کو نازل کیا ہے۔ یہاں رزق سے مراد صرف کھانے پینے کی چیزیں ہی نہیں بلکہ ہر وہ نعمت مراد ہے جس کو ہر شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
اوپر قرآن شریف کی نعمت کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ ان مشرکوں نے فقط اسی نعمت کا انکار نہیں کیا بلکہ یہ لوگ تو اللہ کی اور نعمتوں کے بھی منکر اور ناشکر گزار ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں نے بعض چیزیں اپنے اوپر حرام کرلی ہیں اور بعض حلال۔ تو یہ حلال و حرام کس طرح کا ہے کیا اپنی ہی خواہش سے انہوں نے یہ حکم لگایا ہے۔ اگر خدا کے حکم سے انہوں نے کسی چیز کو حلا ل اور کسی چیز کو حرام سمجھا ہے تو بتا دیں یہ کس ذریعہ سے ان کو معلوم ہوا۔ کس رسول نے انہیں بتایا کیونکہ خدا کا پیغام کی کو معلوم نہیں ہو سکتا مگر رسول کے وسیلہ سے ۔ اور اگر رسول نے انہیں نہیں بتلایا ہے تو خدا پر گویا چھوٹا الزام رکھتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
[27] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کا مقرر کردہ مدت سے نہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
(ف 1) یعنی حرام و حلال کے لئے اللہ تعالیٰ کچھ اصول مقرر کر رکھے ہیں ہر شخص کو بجائے خود اختیار نہیں کہ وہ اللہ کی بعض نعمتوں کو حلال قرار دے اور بعض کے متعلق کہ دے کہ یہ حرام ہیں ۔
حل لغات :
شان : اصل معنے قصد کے ہوتے ہیں عرب کہتے ہیں ، ماء شانت شانہ یعنی ما قصدت قصدہ ، مصدر ہے ، معنی مفعول ، عام طور پر استعمال ہوتا ہے ۔
افاض : اندفع ۔ کسی کام کو شروع کرنا کسی کام کے درپے ہونا ۔
Read the full tafseer →60 اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹا افترا باندھتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا گمان رکھتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر بڑا ہی فضل و انعام ہے لیکن اکثر لوگ فضل خداوندی کے ناسپاس ہیں وہ یوم قیامت کو کیا سمجھ رہے ہیں یعنی یہ دن واقع نہیں ہوگا یا واقع ہوگا تو ہم سے اس دن کچھ پوچھ گچھ نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ کا فضل یعنی اس کے اپنی مخلوق پر بیشمار احسان ہیں گنہگار کو فوری نہیں پکڑتا عام طور سے توبہ کا موقعہ دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ف 1۔ یعنی جو بالکل ڈرتے نہیں کیا یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی مگر ہم سے باز پرس نہیں ہوگی۔
2۔ کہ ساتھ کے ساتھ سزا نہیں دیتا بلکہ توبہ کرنے کے لیے مہلت دے رکھی ہے۔
Read the full tafseer →88 ؎ کیا اللہ نے تم کو اس تصرف کی اجازت دی ہے یا تم بہتان باندھ رہے ہو ؟
86 ؎ اس وقت عرب جاہلیت کی اپنی معاشی ، معاشرتی ، اخلاقی ، مذہبی اور سیاسی زندگی ان رسوم و رواج کی پابند تھی جو انہوں نے خود یا ان کے پہلوئوں نے وضع کئے تھے لیکن اس کے باوجود وہ انہیں احکام خداوندی کہا کرتے تھے اور بڑی سختی سے ان کی پابندی کرتے تھے اور جو شخص ان سے سرمو انحراف کرتا اس کے خلاف ایک طوفان برپا کردیتے نبی اعظم و آخر ﷺ نے ان کے لغو اور ضرر رساں رسم و رواج کی اصلاح کیلئے جب آواز بلند کی تو برافروختہ ہوگئے۔ انہیں ان کی غلط روش پر سرزنش کی جا رہی ہے کہ تم اپنے خود ساختہ رسوم و قوانین کو اللہ کی طرف کیوں منسوب کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
In the third verse (59), warning has been given to people who introduce their personal opinion in the serious matter of Halal (lawful) and Haram (unlawful). They would, at will, declare something to be Halal and dub something to be Haram - without any authority of the Qur'an, and Sunnah. A severe warning of no less a punishment than that of the day of Qiyamah has been given to those who commit this crime (60). This tells us that the fact of something being Halal or Haram does not depend on human opinion. Instead of that, it is the special right and prerogative of Allah Ta` ala and His…
Read the full tafseer →60. The word rizq is often used in daily parlance to denote 'eatables'. Hence, many people think that the reproach embodied in the present verse is directed merely against the wrong customs that have come into vogue in that narrow realm of behaviour which is confined to the dining room. It is not only those who are ignorant but also those who are learned about Islam that are victims of this misconception.
However, use of the word rizq in Arabic is not confined to eatables. It is used in a broad sense, and covers all the things that are granted to man by God for his use. Whatever God has…
Read the full tafseer →