Explained with ayahs 31–33
اللہ کی الوہیت کے منکر
اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ ان سے پوچھو گے کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے ؟ پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اگاتا ہے ؟ دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے ؟ اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی۔ اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے۔ کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضا کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا۔ اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 40
یعنی ایسی کھلی کھلی اور عام فہم دلیلوں سے بات سمجھائی جاتی ہے، لیکن جنہوں نے نہ ماننے کا فیصلہ کرلیا ہو وہ اپنی ضد کی بنا پر کسی طرح مان کر نہیں دیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
خلاصہ تفسیر
حل لغت
لَّا يَهِدِّيْٓ، یہ لفظ دراصل لا یھتدی تھا تعلیل کرکے لَّا يَهِدِّيْٓ بن گیا، معنی لا یھتدی کے ظاہر ہیں، یعنی وہ شخص جو ہدایت نہیں پاتا۔
(آگے تسلی ہے رسول اللہ ﷺ کی کہ ان لوگوں کی باطل پرستی پر مغموم ہوا کرتے تھے ارشاد ہے کہ جس طرح یہ لوگ ایمان نہیں لاتے) اسی طرح آپ کے رب کی یہ (ازلی) بات کہ یہ ایمان نہ لاویں گے تمام متمرد (سرکش) لوگوں کے حق میں ثابت ہوچکی ہے (پھر آپ کیوں مغموم ہوں اور) آپ (ان سے) یوں (بھی) کہئے کہ کیا تمہارے (تجویز کئے ہوئے) شرکاء میں (عام اس سے کہ ذوی العقول ہوں جیسے شیاطین یا غیر ذوی العقول جیسے بت) کوئی ایسا ہے جو پہلی بار بھی (مخلوق کو) پیدا کرے پھر…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَي الَّذِيْنَ فَسَقُوْٓا اَنَّھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔
ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی : " کذلک " کا اشارہ مشرکین کی اس متضاد و متناقض روش کی طرف ہے ہے جو اوپر مذکور ہوئی اور کلمہ رب سے مراد وہ سنت الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہدایت و ضلالت کے باب میں مقرر فرمائی ہے اور جس کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان وہدایت کی راہ انہی لوگوں پر کھولتا ہے جو اپنے عقل و دل کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جو لوگ عقل و فطرت کو ٹھکرا کر اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے فاسقوں کے اوپر ان کی اختیار کردہ ضلالت ہی کو مسلط کردیتا…
Read the full tafseer →33۔ 1 یعنی جس طرح مشرکین تمام تر اعتراف کے باوجود اپنے شرک پر قائم ہیں اور اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ اسی طرح تیرے رب کی بات ثابت ہوگئی کہ ایمان والے نہیں ہیں، کیونکہ یہ غلط راستہ چھوڑ کر صحیح راستہ اختیار کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں تو ہدایت اور ایمان انہیں کس طرح نصیب ہوسکتا ہے ؟ یہ وہی بات ہے جسے دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے (وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ) 39۔ الزمر :71) لیکن عذاب کی بات کافروں پر ثابت ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
20: یعنی ان کی تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے جو بات لکھی ہوئی تھی کہ یہ لوگ اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے اختیار کو صحیح استعمال نہیں کریں گے، اور ایمان نہیں لائیں گے وہ بات سامنے آگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
فذلکم اللہ بس یہ (تمام امور سر انجام دینے والا) ہی تو اللہ ہے جو معبود ہونے کا مستحق ہے۔
ربکم الحق جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ جس کی ربوبیت وجدان سے بھی ثابت ہے اور دلیل سے بھی۔ جب اسی نے تم کو پیدا کیا ‘ رزق دیا اور تمہارے سارے امور کا انتظام کیا تو اس کے سوا اور تمہارا رب کون ہو سکتا ہے ‘ وہی حق ہے۔ نہ اس کی ہستی قابل شک ہے نہ اس کی مالکیت لائق شبہ۔
فماذا بعد الحق الا الضلل پھر (امر) حق کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا رہ گیا۔ سوال انکاری ہے یعنی حق کے بعدگمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ پس حق کو ترک کرنے والا اور اللہ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک کرنے والا گمراہ ہے۔
فانی تصرفون۔ پھر (حق کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →2 یعنی اللہ نے ازل سے ان متمرد سرکشوں کی قسمت میں ایمان نہیں لکھا۔ جس کا سبب علم الٰہی میں ان کی سرکشی اور نافرمانی ہے۔ اس طرح خدا کی لکھی ہوئی بات ان پر فسق و نافرمانی کی وجہ سے راست آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت 32 فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّج فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ الاَّ الضَّلٰلُج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ
یہی حق ہے جس کو تم اپنی فطرت کی نظر سے پہچان چکے ہو۔ اب اسی کو مضبوطی سے تھام لو اور پھر سے گمراہی میں مبتلا ہونے سے بچ جاؤ۔ یعنی تمہاری فطرت کے اندر حق کی پہچان موجود ہے۔ اس کی گواہی خود تمہاری اپنی زبانیں دے رہی ہیں۔ تم اللہ کو اپنا اور اس کائنات کا خالق ومالک مانتے ہو ‘ زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو۔ تو یہاں تک پہنچ کر پھر کیوں گمراہی میں اوندھے منہ گرجاتے ہو۔ تمہاری عقل کہاں الٹ جاتی ہے ؟
Read the full tafseer →48 یعنی ایسے لوگ جو حقائق کے مقابلہ پر محض ضد اور تعصب سے کام لے رہے ہوں ان کے متعلق اللہ کا یہی فیصلہ ہوا کرتا ہے کہ جو لوگ ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں وہ کبھی راہ راست پر نہیں آسکتے اور نہ ہی انہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →57۔ (تو پھر آپ ان کے ایمان نہ لانے پر اس قدر مغموم ومحزون کیوں ہوں) (آیت) ” کذلک “۔ اس کا تعلق اوپر کے کلام سے ہے یعنی جس طرح اللہ کی وحدت و ربوبیت حق ہے۔ وضوح حق کے بعد ضلال کا اور قیام دلائل کے بعد انکار پر جمے رہنے کا حمق وعصیان ہونا بالکل ثابت ومسلم ہے اسی طرح کلمہ رب یعنی تخویف عذاب نافرمانوں کے حق میں ثابت وحق ہے۔ (آیت) ” الذین فسقوا “۔ یعنی وہ لوگ جو اپنی ضد اور ہٹ سے کفر پر قائم رہے۔ اے تمرددوا فی کفر ھم یہ ہوں گے کہ ان سرکش نافرمانوں پر عذاب الہی کا تحقق اس لئے ہو کر رہے گا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لارہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : ان سے پوچھو آسمان سے بارش کے ذریعہ اور زمین سے نباتات کے ذریعہ تم کو کون رزق دیتا ہے ؟ یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ؟ سَمْعٌ بمعنی اَسْمَاعٌ ہے یعنی کس نے ان کو پیدا کیا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو مخلوق کے معاملات کا نظم کرتا ہے ضرور وہ یہی کہیں گے وہ اللہ ہے تو ان سے کہو کہ پھر اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے کہ ایمان لے آؤ، سو یہ جو ان تمام چیزوں کا کرنے والا ہے اللہ ہے جو تمہارا حقیقی رب ہے، پھر حق کے بعد بجز گمراہی کے اور باقی رہ ہی کیا گیا ؟ استفہام تقریری ہے یعنی اس کے بعد کچھ باقی…
Read the full tafseer →کذالک حقت کلمت ربک علی الذین فسقوا انھم لایومنؤن۔ اسی طرح آپ کے رب کی یہ (ازلی) بات کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے ‘ تمام سرکش لوگوں کے حق میں ثابت ہوچکی ہے۔
یعنی جس طرح اللہ کی ربوبیت ثابت شدہ ہے اور جس طرح حق کے بعد محض گمراہی کا ہونا طے شدہ ہے ‘ یا جس طرح اللہ نے ان لوگوں کو ایمان سے پھیر دیا ہے ‘ اسی طرح اللہ کا سابق ازلی فیصلہ کہ میں جہنم کو انسانوں سے اور جنات سے بھر دوں گا ‘ پورا ہوگیا (حضرت مؤلف کے نزدیک کلمۂ رب سے مراد ہے اللہ کا یہ فیصلہ کہ جہنم کو انس و جن سے بھروں گا اور حضرت مولانا تھانوی کے ترجمہ سے واضح ہو رہا ہے کہ کلمۂ رب ہے اللہ کا یہ ازلی فیصلہ کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں…
Read the full tafseer →(33) اسی طرح آپ کے رب کا عذاب ان کافروں کے لیے ہے کیوں کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے، علم ازلی میں ثابت ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ۔۔ : یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کا رب ہونا ثابت ہوا، یا جس طرح یہ ثابت ہوا کہ حق کے بعد گمراہی کے سواکچھ نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جو لوگ فسق اختیار کریں، یعنی جان بوجھ کر ضد اور سرکشی اختیار کریں وہ ایمان نہیں لایا کرتے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی چونکہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ سرکش اور نافرمان ہوں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ایمان لکھا ہی نہیں۔“ (موضح)
Read the full tafseer →آیت نمبر : 33۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” کذلک حقت کلمت ربک “ یعنی یونہی آپ کے رب کا حکم اس کا فیصلہ اور اس کا علم سابق ثابت ہوچکا ہے، (آیت) ” علی الذین فسقوا “ ان پر جو طاعت سے نکل گئے اور انہوں نے کفر کیا اور تکذیب کی۔ (آیت) ” انھم لایؤمنون “۔ کہ وہ تصدیق نہیں کریں گے، اور اس میں قدریہ کے خلاف مکمل دلیل موجود ہے، نافع اور ابن عامر نے یہاں اور اس کے آخر میں (آیت) ” کذلک حقت کلمت ربک “ اور سورة غافر میں تینوں مقامات پر اسے جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے صیغہ مفرد کے ساتھ۔ اور ان محل نصب میں ہے، یعنی بانھم یا لانھم “ ، زجاج نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ یہ کلمات سے بدل ہونے کی وجہ سے محل رفع…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کذلک حقت کلمت ربک “ سے مراد ہے کہ آپ کے رب کی بات سبقت لے گئی۔
2:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” حقت “ کا معنی ہے ” صدقت “ یعنی آپ کے رب کی بات سچی ہے۔
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ [ اس طرح ] حَقَّتْ [ حق ہوا ] كَلِمَتُ رَبِّكَ [ آپ کے رب کا فرمان ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جنھوں نے ] فَسَقُوْٓا [ نافرمانی کی ] اَنَّھُمْ [ کہ وہ لوگ ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
مشرکین سے مزید سوالات اور توحید پر آنے کی دعوت
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ مشرکین نے جو شرک کو اپنا رکھا ہے اور سمجھانے کے باوجود توحید پر نہیں آتے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ ان کے بارے میں مغموم نہ ہوں ان کو ایمان لانا نہیں ‘ اس کے بعد فرمایا کہ ان سے دریافت کیجئے کہ وہ کون ہے جو ابتداءً مخلوق کو پیدا فرماتا ہے پھر موت دے کر دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ اس بات کو جان لو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پیدا فرماتا ہے اور موت دے کر وہی دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد تم کہاں الٹے پھرے جا رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
احقاق توحید وابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل من یرزقکم من السماء والارض۔۔۔ الی۔۔۔ علیکم بما یفعلون
(ربط): گزشتہ آیات میں بھی دلائل قاطعہ کے ساتھ اثبات توحید اور ابطال شرک کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں پھر یہی ابطال شرک کا مضمون اس طرح بیان ہوتا ہے کہ مکر کو سوائے اعتراف اور اقرار کے کوئی چارہ نہ رہے۔
ان آیات میں حق تعالیٰ نے بطلان شرک پر دلیل یہ بیان فرمائی کہ قابل پرستش اور لائق عبادت وہ ذات ہے جس میں یہ اوصاپائے جاتے ہیں اور کافر بھی اس کا انکار نہیں کرسکتے۔ کہ یہ اوصاف بجز وحدہ لاشریک لہ کے کسی اور میں نہیں پائے جاتے تو پھر کیوں دوسروں کی پرستش کرتے ہیں۔ اور اس مقام پر الوہیت کے چار خواص ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
48: یہ دلیل مذکور کا ثمرہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو صٖفات بالا سے متصف ہے وہی تمہارا کارساز ہے نہ وہ جنہیں تم نے بنا رکھا ہے۔ “ اي ھذا الذي یفعل ھذه الاشیاء ھو ربکم الحق لا ما اشرکتم معه ” (قرطبی ج 8 ص 335) ۔ “ فَانّٰی تُصْرَفُوْنَ ” یعنی مسئلہ واضح ہوجانے کے بعد پھر کس وجہ سے حق سے پھرے جا رہے ہو “ اَلَّذِیْنَ فَسَقُوْا ” فسق سے درجہ کاملہ یعنی کفر مراد ہے اور جملہ “ لَا یُؤْمِنوْنَ ۔ حَقَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ ” کا بیان ہے جو لوگ مسئلہ توحید کی اس قدر وضاحت کے بعد بھی نہ مانیں اور ضد وعناد سے کفر پر اڑے رہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خداوند تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ مہر جباریت کی وجہ سے انہیں ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
ربط آیات۔
گذشتہ آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے حشر کے عنوان سے توحید کا مسئلہ بیان فرمایا تھا۔ یعنی حشر کے میدان میں مشرکین کا شدید محاسبہ ہوگا اور ان کی سخت تذلیل ہوگی۔ اس طرح گویا اللہ نے شرک اور مشرکین کا رد فرمایا۔ اب آج کے درس کا مضمون بھی توحید کے حق میں اور شرک کی تردید میں ہے۔ اس کے بعد پھر اس سورة کے مرکزی مضمون قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر آئے گا۔ آج کی آیات میں توحید کے عقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں اور ان کا انداز یہ ہے کہ اس سوال کا جواب طلب کیا گیا ہے کہ ت میں داخلی نعمتیں عطا کرنے والی کونسی ذات ہے انسان ذرا بھی غور وفکر کرے گا۔ تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ تمام نعمتیں مہیا کرنے…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَي الَّذِيْنَ فَسَقُوْٓا اَنَّھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 33
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] .
والثاني :
يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ…
Read the full tafseer →1 ؎ یعنی توحید اور ایمان قبول نہ کرنے میں ان بدبختوں کے پاس کوئی حجت نہیں اب بھی وہ نہیں مانتے تو نصیبہ ازلی کی مار ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →کَذٰلِکَ حَقَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیْنَ فَسَقُوْآ اَنُّہُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (یونس : 33)
(اسی طرح پوری ہوچکی ہے تیرے رب کی بات ان لوگوں پر جو حدود سے نکل گئے ہیں کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ )
گزشتہ آیات کریمہ میں قرآن کریم نے زوردار دلائل کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ جس اللہ کو تم اپنا خالق تسلیم کرتے ہو وہی تمہاری زندگی اور موت کا مالک ہے۔ اسی کے ہاتھ میں پوری کائنات کا انتظام و انصرام ہے اور و ہی کائنات کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے تمہیں پیدا کرکے چھوڑ نہیں دیا بلکہ تمہاری تمام زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرنا اور جس کائنات میں تم رہتے ہو اس کے معاملات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کو ان کے شرک کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا لیکن دنیا میں بھی ان سے سوال کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس نہ قیامت کو اپنے شرک کا جواب ہوگا اور نہ دنیا میں جواب دے سکتے ہیں۔
اس سے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مشکل کشا ہونے کے دلائل دیئے تھے۔ جس کا اقرار مشرک صرف سمندری سفر میں بھنور میں پھنسنے کے وقت کرتے تھے۔ یہی مشرک اور مؤاحد کے درمیان فرق ہے۔ مشرک جب اپنے مشکل کشاؤں سے مایوس ہوجاتا ہے تب خالصتاً ایک اللہ کو پکارتا ہے، مؤاحد ہر حال میں ایک اللہ کو پکارتا ہے۔ اب توحید کے وہ دلائل دیے جاتے ہیں۔ جن کا مشرک ہر حال میں اقرار کرتے ہیں۔ چناچہ رسول محترم ﷺ اور ہر مؤاحد…
Read the full tafseer →کفار کی ضد :
33: کَذٰلِکَ (اسی طرح) اس حق کی طرح حَقَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ (تیرے رب کی بات ثابت ہوگئی۔ ) قراءت : شامی، مدنی نے کَلِمٰتُ پڑھا ہے یعنی جیسا کہ حق و ثابت ہوا کہ حق کے بعد گمراہی ہے۔ نمبر 2۔ جیسا ثابت ہوا کہ وہ حق سے پھرے ہوئے ہیں پس اسی طرح تیرے رب کی بات سچی ہوگئی۔ عَلَی الَّذِیْنَ فَسَقُوْا (ان لوگوں کے متعلق جو فاسق ہیں) یعنی جو اپنے کفر میں سرکشی تک پہنچنے والے اور اسکی انتہائی حد تک نکلنے والے ہیں۔ اَنَّھُمْ لَایُؤْ مِنُوْنَ (کہ یہ ایمان نہ لائیں گے) یہ کلمۃٌ سے بدل ہے یعنی ایمان کی نفی ان پر ثابت ہوچکی یا نمبر 2۔ اللہ کی بات ان پر ثابت ہوچکی کہ ان کا ایمان ثابت نہ ہوگا۔…
Read the full tafseer →تفسیر (33)” کذلک “ کلبی (رح) فرماتے ہکذا اسی طرح ” حقت “ واجب ہوگیا ۔ ” کلمۃ ربک “ اس کا سابق حکم ” علی الذین فسواق “ کفر کیا ، ” انھم لا یومنون “۔
ابو جعفر اور نافع اور ابن عمر نے کلمات ربک جمع کا صیغہ پڑھا ہے یہاں اور المومن میں اور دیگرحضرات نے واحد کا صیغہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
32۔ 33۔ جب حضرت ﷺ کو خدا کا یہ حکم ہوا کہ ان مشرکوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ کارخانہ دنیا کا کس نے بنایا کان آنکھ نطفہ اور نطفہ سے آدمی کس نے پیدا کیا جس کے جواب میں مشرکین یہی کہیں گے اللہ نے تو فرمایا اب ان کے جواب کے جواب میں یہ کہنا چاہئے کہ جب تم یہ بات مان چکے کہ سوائے خدا کے اور کسی میں بھی کسی بات کی قدرت نہیں تو پھر کیوں نہیں خدا سے ڈرتے ہو اور خالص اسی کی بندگی کرتے۔ بتوں سے کیوں غرض رکھتے ہو یہ حق کے بعد کیسی گمراہی ہے اپنی زبان سے آپ اقرار کرتے ہو کہ خدا کی ذات ایک ہے اسی میں ہر ایک بات کی قدرت ہے پھر بھی خدا کی طرف رجوع نہیں ہوتے بتوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو پھر فرمایا کہ خدا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
آیت : (31-33)
(قل) یعنی ان کے تو حیدر بوبیت کے اقرار کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر حجت بناتے ہوئے ان مشرکین سے کہہ دیجئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ (من یرزقکم من السماء والارض) ” کون ہے جو تمہیں روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے “ یعنی آسمان سے رزق نازل کر کے اور زمین سے رزق کی مختلف اقسام کو نکال کر اور اس میں رزق کے اسباب کو آسان بنا کر ؟ (امن یملک السمع والابصار) ” یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا “ یعنی کون ہے جس نے ان دونوں قویٰ کو تخلیق کیا اور وہ ان کا مالک ہے ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر ان دونوں قویٰ کا ذکر فرمایا ‘ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
65 ۔ تردید شرک کے لئے ایک ٹھوس عقلی دلیل : کہ جو خود مخلوق ہے وہ خدا اور خدا کا شریک نہیں ہوسکتا سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کیا تمہارے ان شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہو پھر وہ دوبارہ پیدا کرے ؟ اور جب نہیں اور قطعًا اور یقینًا نہیں تو پھر تم لوگ ان کو آخر معبود کیوں اور کیسے قرار دیتے ہو ؟ اور ان کی پوجا پاٹ کیوں کرتے ہو ؟ جو نہ پہلی مرتبہ پیدا کرسکیں اور نہ دوسری مرتبہ۔ آخر تمہاری مت کہاں ماری گئی ؟ اور تمہاری عقلیں کہاں اور کیسی الٹی ہوگئیں ؟ جو تم ان بےبس اور بےحقیقت بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی پوجا پاٹ میں لگے ہو۔ اور اس طرح تم لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
اللہ ہی معبود برحق ہے
تشریح : ان آیات میں ان مشرکین و کفار کے بارے میں ذکر ہے کہ یہ لوگ اصل میں اللہ ہی کو اپنا خالق ومالک مانتے ہیں کیونکہ یہ عالم ارواح میں اللہ سے وعدہ کرچکے ہیں یعنی، (عہد الست) جس کا مطلب اللہ کو رب ماننے کا وعدہ اور یہ کہ مالک و خالق رب العالمین صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہی ہے۔ پھر بھی یہ لوگ کفر و شرک کی ظلمتوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو ہٹ دھرمی اور ناسمجھی نے اس قدر گھیر رکھا ہے کہ یہ سیدھا راستہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اگر تھوڑی سی عقل بھی یہ استعمال کریں تو کوئی مشکل بات نہیں یہ فوراً سمجھ سکتے ہیں کہ اصل خالق ومالک تو صرف وہی اللہ ہی ہے جس نے انہیں پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40
اسرار و معارف
اگر انھیں اب بھی اس بات کی سمجھ نہ آئی ہو تو آپ ان سے پوچھتے کہ ذرایہ بتاؤ ! آسمانوں سے پانی برسا کر کھیتیاں اور پھل کون اگاتا ہے اور ارض وسما کی نعمتوں کو کون پیدا کرتا ہے اور تمہاری خدمت پہ لگا دیتا ہے ۔ یہ ہوا ، یہ فضا ، یہ طرح طرح کے پھل چشمے جانور دورھ گھی اور گوشت یہ تمہاری زندگی کے سامان کون پیدا کرتا ہے ؟ ارے یہ تو خارجی چیزیں ہیں خود تمہارے وجود کے اندر جو نعمتیں رکھی ہیں مثلا حواس ہی کو لے لوتویہ آنکھ کان وغیرہ تمہارے وجود کا حصہ ہونے کے باوجود کس کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جب چاہتا ہے میں روشن کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے یہ کام چھوڑ بیٹھتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کا رب ہونا ثابت ہوا یا جس طرح یہ ثابت ہوا کہ حق کے بعد گمراہی کے سوا کچھ نہیں یا جس طرح یہ ثابت ہوا کہ یہ لوگ راہ راست پھرے ہوئے ہیں۔ (کبیر۔ ابن کثیر) ۔
11 ۔ یعنی چونکہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ سرکش و نافرمان ہوں گے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ایمان لکھا ہی نہیں۔ (از موضح) ۔
Read the full tafseer →(10:33) کذلک۔ اسی طرح۔
فسقوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے فسق کیا۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ وہ حدود شریعت سے نکل گئے۔ یعنی جس طرح یہ ثابت ہوگیا کہ حق نہ ہوگا تو نتیجۃً گمراہی ہوگی۔ اسی طرح تیرے رب کا فرمان فاسقوں کے بارے میں پورا ہو رہیگا کہ یہ چونکہ حدود شریعت سے نکل گئے ہیں لہٰذا اب یہ ایمان لانے سے رہے۔ یعنی اب یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ انھم لا یؤمنون۔ بدل ہے الکلمۃ کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 33
امن (کون ہے وہ ؟ ) یملک (مالک ہے) یدبر (تدبیر کرتا ہے، کام چلاتا ہے) ذلکم (اسی میں) انی (کہاں ؟ ) تصرفون (تم پلٹ رہے ہو) حقت (ثابت ہوگی، سچ ثابت ہوئی) فسقوا (جنہوں نے نافرمانی کی)
تشریح : آیت نمبر 31 تا 33
انسان کی عقل اگر دنیاوی مفادات اور باپ دادا کی اندھی تقلید کے اثرات سے دھندلا نہ گئی ہو اور وہ خلوص سے اس کائنات کے نظام پر غور و فکر کرے گا تو اس کا دل و دماغ اور فکر چلا اٹھیں گے کہ اس کائنات کی ہر چیز کا بنانے والا، اس کا انتظام کرنے والا صرف ایک اللہ ہے جس کا نہ کوئی شریک ہے، نہ ساتھی ہے وہ کسی کام میں کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ بےکار پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
جب آنحضرت ﷺ کو خدا کا یہ حکم ہوا کہ ان مشرکوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ کارخانہ دنیا کس نے بنایا۔ کان آنکھ نطفہ اور نطفہ سے آدمی کس نے پیدا کیا۔ جس کے جواب میں مشرکین یہی کہیں گے اللہ نے تو فرمایا اب ان کے جواب کے جواب میں یہ کہنا چاہیے کہ جب تم یہ بات مان چکے ہو کہ سوائے خدا کے اور کسی میں بھی کسی بات کی قدرت نہیں تو پھر کیوں نہیں خدا سے ڈرتے ہو اور خالص اسی کی بندگی کرتے ہو، بتوں سے کیوں غرض رکھتے ہو۔ یہ حق کے بعد کیسی گمراہی ہے۔ اپنی زبان سے آپ اقرار کرتے ہو کہ خدا کی ذات ایک ہے۔ اسی میں ہر ایک بات کی قدرت ہے، پھر بھی خدا کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ بتوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ پھر فرمایا کہ خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–38
[22] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حواشی 33، 34 صفحہ 923۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
دعوت توحید :
(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے توحید کی جانب انسانوں کو دعوت دی ہے ، ان سے پوچھا ہے کہ تمہیں رزق کون دیتا ہے ، کون تمہارے لئے کھانے پینے کا سامان مہیا کرتا ہے ، وہ کون ہے ، جس نے کان عطا کہئے کس نے آنکھیں بخشیں ، زندگی کو موت سے اور موت کو زندگی کے خوشگوار لمحات میں تبدیل کرنے والا کون ہے ؟ کائنات کا نظم ونسق کس کے اشارہ چشم کا محتاج ہے ، ظاہر ہے ان باتوں کا فطرت انسانی کی جانب سے یہی جواب ملے گا ، کہ اللہ قرآن حکیم میں پوچھتا ہے ، کہ جب اللہ ہی اس کا رحیات کو چلا رہا ہے ، تو پھر تم میں کیوں توحید کے جذبات پیدا نہیں ہوتے ، تمہیں کیا ہوگیا ہے ، کہ ایسے حکیم وقدیر…
Read the full tafseer →33 اور اے پیغمبر جس طرح یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اسی طرح آپ کے رب کی یہ بات تمام سرکش اور منکرین کے حق میں ثابت ہوکر رہی کہ یہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو بات ازل میں طے کی تھی وہی پوری ہوئی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے ازل میں ان کی قسمت میں یقین نہیں لکھا اور سبب اس کا بےحکمی ان کی 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 7۔ چناچہ اس نے عقل دی انبیاء بھیجے بخلاف شیاطین کے کہ اولا وہ ان افعال پر قادر نہیں اور محض تعلیم جس کی قدرت ان کو دی گئی ہے وہ اس کا اضلال واغوا میں صرف کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →تیرے پروردگار کی فرمودہ ان پر صادق آگیا کہ وہ ایمان لانے والے نہیں
۔ 54 پاتا کون ہے ؟ وہی جو تلاش کرتا ہے ، جستجو کرتا ہے۔ لیکن جو حق کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں ان کے لئے حق کو پانے کی کوئی اور راہ ؟ اور جنہوں نے نہ ماننے کی قسم کھائی ہو ان کا کوئی علاج ؟ فرمایا آپ بات واضح کردیں اور برملا کہہ دیں کہ ” تیرے پروردگار کا فرمودہ ان پر صادق آگیا جو ہدایت سے باہر ہوگئے ہیں کہ وہ ایمان لانے والے نہیں۔ “ یہ علم الٰہی کی بات ہے جس میں خطا کا کوئی امکان ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
In the concluding verse (32), it was said: فَذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (So, that is Allah, your Lord in truth. And what is there, after truth, but error?), that is, ` this is the Sacred Being whose attributes of perfection have just been mentioned. Once you have found the Truth, there remains nothing else to find except error and straying. In other words, once it stands proved that Allah Ta` ala is the only true and rightful object of worship, it is terribly senseless to abandon this truth and allow yourself to be diverted…
Read the full tafseer →40. Even though God's Message has been elaborated with the help of clear and easy-to-understand arguments, those who have already made up their minds against it will continue in their stubbornness and will simply refuse to accept it.
Read the full tafseer →