Explained with ayahs 31–33
اللہ کی الوہیت کے منکر
اللہ کی ربوبیت کو مانتے ہوئے اس کی الوہیت کا انکار کرنے والے قریشیوں پر اللہ کی حجت پوری ہو رہی ہے کہ ان سے پوچھو گے کہ آسمانوں سے بارش کون برساتا ہے ؟ پھر اپنی قدرت سے زمین کو پھاڑ کر کھیتی و باغ کون اگاتا ہے ؟ دانے اور پھل کون پیدا کرتا ہے ؟ اس کے جواب میں یہ سب کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی۔ اس کے ہاتھ میں ہے چاہے روزی دے چاہے روک لے۔ کان آنکھیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔ دیکھنے کی سننے کی حالت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اگر وہ چاہے اندھا بہرا بنا دے۔ پیدا کرنے والا وہی، اعضا کا دینے والا وہی ہے۔ وہ اسی قوت کو چھین لے تو کوئی نہیں دے سکتا۔ اس کی قدرت و عظمت کو دیکھو کہ مردے سے…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 38
یعنی اگر یہ سارے کام اللہ کے ہیں، جیسا کہ تم خود مانتے ہو، تب تو تمہارا حقیقی پروردگار، مالک، آقا، اور تمہاری بندگی و عبادت کا حق دار اللہ ہی ہوا۔ دوسرے جن کا ان کاموں میں کوئی حصہ نہیں آخر ربوبیت میں کہاں سے شریک ہوگئے ؟
سورة یُوْنُس 39
خیال رہے کہ خطاب عام لوگوں سے ہے اور ان سے سوال یہ نہیں کیا جا رہا کہ ”تم کدھر پھرے جاتے ہو“ بلکہ یہ ہے کہ ”تم کدھر پھرائے جا رہے ہو“۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی ایسا گمراہ کن شخص یا گروہ موجود ہے جو لوگوں کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ پر پھیر رہا ہے۔ اسی بنا پر لوگوں سے اپیل یہ کی جا رہی ہے کہ تم اندھے بن کر غلط رہنمائی کرنے والوں کے پیچھے کیوں…
Read the full tafseer →آخری آیت میں فرمایا (آیت) فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۚ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ، یعنی یہی ہے وہ ذات جس کی صفات کمال کا ذکر ابھی ابھی گزرا ہے پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ کا معبود برحق ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس حق کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف رخ پھیرنا کس قدر نامعقول بات ہے۔
اس آیت کے مسائل و فوائد میں سے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ آیت میں (آیت) مَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حق اور ضلال کے درمیان کوئی واسطہ نہیں جو حق نہیں ہوگا وہ ضلال و گمراہی میں داخل ہوگا، ایسا کوئی کام نہیں ہوسکتا جو نہ حق ہو نہ گمراہی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۔ فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۚ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ښ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ۔
مشرکین کا تضاد فکر : اس آیت کے تمام الفاظ اور فقروں کی تشریح دوسرے مقامات میں ہوچکی ہے۔ اس کے مختلف ٹکڑوں میں جو ترتیب و تدریج ہے وہ بھی واضح ہے۔ اہل عرب کے متعلق یہ بات بھی ہم تفصیل سے بیان کرچکے ہیں کہ وہ کائنات کا خالق ومالک اور…
Read the full tafseer →32۔ 1 یعنی رب اور اللہ (معبود) تو یہی ہے جس کے بارے میں تمہیں خود اعتراف ہے کہ ہر چیز کا خالق ومالک اور مدبر وہی ہے، پھر اس معبود کو چھوڑ کر جو تم دوسرے معبود بنائے پھرتے ہو، وہ گمراہی کے سوا کچھ نہیں تمہاری سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی ؟ تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟
Read the full tafseer →19: قرآن کریم نے مجہول کا جو صیغہ استعمال فرمایا ہے آیت نمبر 32 اور 34 کے ترجمے میں اس کا مفہوم ”کوئی“ کا لفظ بڑھا کر ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور بظاہر قرآن کریم نے مجہول کا صیغہ یہ اشارہ کرنے کے لیے استعمال فرمایا ہے کہ درحقیقت ان کی نفسانی خواہشات ہیں جو انہیں الٹی سمت لے جا رہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
فذلکم اللہ بس یہ (تمام امور سر انجام دینے والا) ہی تو اللہ ہے جو معبود ہونے کا مستحق ہے۔
ربکم الحق جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ جس کی ربوبیت وجدان سے بھی ثابت ہے اور دلیل سے بھی۔ جب اسی نے تم کو پیدا کیا ‘ رزق دیا اور تمہارے سارے امور کا انتظام کیا تو اس کے سوا اور تمہارا رب کون ہو سکتا ہے ‘ وہی حق ہے۔ نہ اس کی ہستی قابل شک ہے نہ اس کی مالکیت لائق شبہ۔
فماذا بعد الحق الا الضلل پھر (امر) حق کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا رہ گیا۔ سوال انکاری ہے یعنی حق کے بعدگمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ پس حق کو ترک کرنے والا اور اللہ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک کرنے والا گمراہ ہے۔
فانی تصرفون۔ پھر (حق کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →1 مشرکین کو بھی اعتراف تھا کہ یہ امور کلیہ اور عظیم الشان کام اللہ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ اس لیے فرمایا کہ جب اصل خالق ومالک اور تمام عالم کا مدبر اسی کو مانتے ہو، پھر ڈرتے نہیں کہ اس کے سوا دوسروں کو معبود بناؤ۔ معبود تو وہ ہی ہونا چاہیے، جو خالق کل، مالک الملک، رب مطلق اور تصرف علی الاطلاق ہو۔ اس کا اقرار کر کے کہاں الٹے پاؤں واپس جا رہے ہو۔ جب سچا وہ ہی ہے تو سچ کے بعد بجز جھوٹ کے کیا رہ گیا۔ سچ کو چھوڑ کر جھوٹے اوہام میں بھٹکنا عاقل کا کام نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت 32 فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّج فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ الاَّ الضَّلٰلُج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ
یہی حق ہے جس کو تم اپنی فطرت کی نظر سے پہچان چکے ہو۔ اب اسی کو مضبوطی سے تھام لو اور پھر سے گمراہی میں مبتلا ہونے سے بچ جاؤ۔ یعنی تمہاری فطرت کے اندر حق کی پہچان موجود ہے۔ اس کی گواہی خود تمہاری اپنی زبانیں دے رہی ہیں۔ تم اللہ کو اپنا اور اس کائنات کا خالق ومالک مانتے ہو ‘ زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو۔ تو یہاں تک پہنچ کر پھر کیوں گمراہی میں اوندھے منہ گرجاتے ہو۔ تمہاری عقل کہاں الٹ جاتی ہے ؟
Read the full tafseer →46 یعنی توحید فی الربوبیت کے متعلق تم لوگوں کا جو عقیدہ ہے وہ عین حقیقت ہے اور درست اور سچ ہے اب اس حقیقت کے علاوہ جو کچھ بھی ہوگا وہ باطل ہی ہوسکتا ہے جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ توحید فی الربوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ عبادت بھی صرف اسی کی کی جائے اور یہی بات حق اور درست ہے اور اگر تم اللہ کے علاوہ دوسروں کی بھی عبادت کرو گے یا انہیں پکارو گے تو پھر یہ سراسر گمراہی ہی ہوگی۔
47 اس سوال میں مجہول کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گمراہ کرنے والا دوسرا شخص یا گروہ موجود ہے جس کا کام ہی یہ ہے کہ لوگوں کو درست انداز فکر سے ہٹا کر غلط رخ پر ڈال دے لہذا یہ سوال کیا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →56۔ (حق کو چھوڑے ہوئے اور باطل کی طرف رخ کئے ہوئے) (آیت) ” فذلکم اللہ “۔ یعنی یہی اللہ جس کے صفات وافعال اوپر بیان ہوچکے اور جس کی ذات میں سارے کمالات ربوبیت جمع ہیں۔ (آیت) ” فما ذا بعد الحق الا الضلل “۔ مطلب یہ کہ امر حق کی جو ضد ہے اسی کا نام گمراہی ہے اور توحید کا حق ہونا ثابت ہوچکا پس شرک تو یقیناً گمراہی ہی ہوا قاضی ابوبکر ابن العربی مالکی (رح) نے آیت کے تحت میں شطرنج نردوغیرہ کے جواز وعدم جواز پر تفصیلی بحث کی ہے۔ اور اسی ضمن میں مسئلہ غناء پر بھی گفتگو کی ہے اور لکھا ہے کہ غناء کو اکثر علما نے ایک ہیجان انگیز لہو قرار دیا ہے لیکن اس کی حرمت پر قرآن وسنت سے کوئی دلیل قائم نہیں۔ بلکہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : ان سے پوچھو آسمان سے بارش کے ذریعہ اور زمین سے نباتات کے ذریعہ تم کو کون رزق دیتا ہے ؟ یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ؟ سَمْعٌ بمعنی اَسْمَاعٌ ہے یعنی کس نے ان کو پیدا کیا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور وہ کون ہے جو مخلوق کے معاملات کا نظم کرتا ہے ضرور وہ یہی کہیں گے وہ اللہ ہے تو ان سے کہو کہ پھر اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے کہ ایمان لے آؤ، سو یہ جو ان تمام چیزوں کا کرنے والا ہے اللہ ہے جو تمہارا حقیقی رب ہے، پھر حق کے بعد بجز گمراہی کے اور باقی رہ ہی کیا گیا ؟ استفہام تقریری ہے یعنی اس کے بعد کچھ باقی…
Read the full tafseer →فذلکم اللہ بس یہ (تمام امور سر انجام دینے والا) ہی تو اللہ ہے جو معبود ہونے کا مستحق ہے۔
ربکم الحق جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ جس کی ربوبیت وجدان سے بھی ثابت ہے اور دلیل سے بھی۔ جب اسی نے تم کو پیدا کیا ‘ رزق دیا اور تمہارے سارے امور کا انتظام کیا تو اس کے سوا اور تمہارا رب کون ہوسکتا ہے ‘ وہی حق ہے۔ نہ اس کی ہستی قابل شک ہے نہ اس کی مالکیت لائق شبہ۔
فماذا بعد الحق الا الضلل پھر (امر) حق کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا رہ گیا۔ سوال انکاری ہے یعنی حق کے بعدگمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ پس حق کو ترک کرنے والا اور اللہ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک کرنے والا گمراہ ہے۔
فانی تصرفون۔ پھر (حق کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →(32) جو یہ تمام امور سرانجام دیتا ہے وہی تمہارا رب حقیقی ہے اور اسی کی عبادت حق اور ضروری ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بعد اور کس کی عبادت کی گنجائش رہ گئی، ماسوا شیطان کی پوجا کی پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان جھوٹے معبودوں کو کہاں لاتے ہو۔
Read the full tafseer →فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ثابت شدہ، سچا، یعنی تمہارے رزق، موت و حیات، تمہارے جسم کا مالک و خالق اور پوری کائنات کی تدبیر کرنے والا جب تم بھی اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہو تو جان لو کہ پھر تمہارا سچا، ثابت شدہ اور حق رب تو یہی اللہ ہے۔ اب خواہ کوئی بھی چیز ہو وہ یا تو حق ہوگی یا باطل، دونوں نہیں ہوسکتیں کہ حق بھی ہو باطل بھی، تو جب اللہ کا رب اور مالک ہونا حق ہے اور صرف اسی کا صاحب اختیار ہونا حق ہے تو پھر کسی اور کا صاحب اختیار ہونا یا اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کی قوت رکھنے والا ہونا باطل نہیں تو اور کیا ہے ؟ اس کے باوجود تمہارا دل کیسے مانتا ہے کہ حق کو چھوڑ کر گمراہی اور توحید کو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 32۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فذلکم اللہ ربکم الحق، فما ذا بعد الحق الا الضلل “۔ اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” فذلکم اللہ ربکم الحق “۔ یعنی وہ جو اس قسم کے کام کرتا ہے وہ تمہارا حقیقی پروردگار ہے، نہ کہ وہ جنہیں تم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو۔ (آیت) ” فما ذا بعد الحق “۔ ذا صلہ ہے ای بابعد عبادۃ الالہ الحق اذاترکت عبادتہ الا الضلال (یعنی الہ حقیقی کی عبادت کے بعد جب تو اس کی عبادت کو چھوڑ دے گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہے) اور بعض متقدمین نے کہا ہے : اس آیت کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد جو ہے وہ گمراہی ہے، کیونکہ اس کا اول حصہ (آیت) ” فذلکم اللہ ربکم الحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
معبودان باطلہ کی بیزاری :
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویوم نحشرھم “ میں ” الحشر “ سے مراد ہے موت۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فزیلنا بینہم “ یعنی ہم نے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ جس میں نرمی ہوگی۔ مشرک لوگ توحید والوں کے سامنے یہ اظہار کریں گے کہ ان کی مغفرت کردی جائے گی تو وہ کہیں گے (آیت) ” واللہ ربنا ما کنا مشرکین (22) “ (الانعام آیت…
Read the full tafseer →فَذٰلِكُمُ [ پس یہ ] اللّٰهُ [ اللہ ہے ] رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۚ [ جو تمہارا حقیقی پرورش کرنے والا ہے ] فَمَاذَا [ پھر کیا ہے ] بَعْدَ الْحَقِّ [ حق کے بعد ] اِلَّا الضَّلٰلُ ښ [ سوائے گمراہی کے ] فَاَنّٰى [ تو کہاں سے ] تُصْرَفُوْنَ [ تم لوگ پھیرے جاتے ہو ]
نوٹ ۔ 1: آیت 32 میں تصرفون اور آیت 35 میں توفکون یہ دونوں مضارع ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ کہاں سے تم لوگ لوٹ جاتے ہو بلکہ یہ کہا ہے کہ لوگوں کو لوٹایا جاتا ہے ۔ اس میں صاف ظاہر ہے کہ گمراہ کرنے والا کوئی شخص یا گروہ ہوتا ہے جو لوگوں کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ پر پھیر دیتا ہے ۔ اسی بنا پر لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ تم اندھے بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
مشرکین سے سوال کہ تمہیں کون رزق دیتا ہے اور تمہارے کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے اور تمام کاموں کی تدبیر کون کرتا ہے ؟
دنیا میں جو لوگ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ان سے دریافت فرمائیے کہ آسمان سے اور زمین سے تمہیں کون رزق دیتا ہے اور تمہارے سننے کی قوت اور دیکھنے کی قوت کا کون مالک ہے یعنی تمہارے کانوں اور آنکھوں پر کسے پورا اختیار ہے کون ہے جس نے یہ چیزیں تمہیں دی ہیں اور جو ان کی حفاظت فرماتا ہے۔ وہ چاہتا ہے تو ان کو سلب کرلیتا ہے ‘ اور یہ بھی بتاؤ کہ مردہ سے زندہ کو کون نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ کو کون نکالتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
احقاق توحید وابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل من یرزقکم من السماء والارض۔۔۔ الی۔۔۔ علیکم بما یفعلون
(ربط): گزشتہ آیات میں بھی دلائل قاطعہ کے ساتھ اثبات توحید اور ابطال شرک کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں پھر یہی ابطال شرک کا مضمون اس طرح بیان ہوتا ہے کہ مکر کو سوائے اعتراف اور اقرار کے کوئی چارہ نہ رہے۔
ان آیات میں حق تعالیٰ نے بطلان شرک پر دلیل یہ بیان فرمائی کہ قابل پرستش اور لائق عبادت وہ ذات ہے جس میں یہ اوصاپائے جاتے ہیں اور کافر بھی اس کا انکار نہیں کرسکتے۔ کہ یہ اوصاف بجز وحدہ لاشریک لہ کے کسی اور میں نہیں پائے جاتے تو پھر کیوں دوسروں کی پرستش کرتے ہیں۔ اور اس مقام پر الوہیت کے چار خواص ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
48: یہ دلیل مذکور کا ثمرہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو صٖفات بالا سے متصف ہے وہی تمہارا کارساز ہے نہ وہ جنہیں تم نے بنا رکھا ہے۔ “ اي ھذا الذي یفعل ھذه الاشیاء ھو ربکم الحق لا ما اشرکتم معه ” (قرطبی ج 8 ص 335) ۔ “ فَانّٰی تُصْرَفُوْنَ ” یعنی مسئلہ واضح ہوجانے کے بعد پھر کس وجہ سے حق سے پھرے جا رہے ہو “ اَلَّذِیْنَ فَسَقُوْا ” فسق سے درجہ کاملہ یعنی کفر مراد ہے اور جملہ “ لَا یُؤْمِنوْنَ ۔ حَقَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ ” کا بیان ہے جو لوگ مسئلہ توحید کی اس قدر وضاحت کے بعد بھی نہ مانیں اور ضد وعناد سے کفر پر اڑے رہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خداوند تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ مہر جباریت کی وجہ سے انہیں ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
ربط آیات۔
گذشتہ آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے حشر کے عنوان سے توحید کا مسئلہ بیان فرمایا تھا۔ یعنی حشر کے میدان میں مشرکین کا شدید محاسبہ ہوگا اور ان کی سخت تذلیل ہوگی۔ اس طرح گویا اللہ نے شرک اور مشرکین کا رد فرمایا۔ اب آج کے درس کا مضمون بھی توحید کے حق میں اور شرک کی تردید میں ہے۔ اس کے بعد پھر اس سورة کے مرکزی مضمون قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر آئے گا۔ آج کی آیات میں توحید کے عقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں اور ان کا انداز یہ ہے کہ اس سوال کا جواب طلب کیا گیا ہے کہ ت میں داخلی نعمتیں عطا کرنے والی کونسی ذات ہے انسان ذرا بھی غور وفکر کرے گا۔ تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ تمام نعمتیں مہیا کرنے…
Read the full tafseer →فَذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ 0 ۚ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ 0 ۚۖ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ 32
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
ترکیب : عامل یوم اذکر محذوف مکانکم ظرف مبنی ہے لوقوعہ موقع الامر ای الزموا وفیہ ضمیر فاعل وانتم توکید لہ والکاف والمیم فی موضع جر عند قوم وعند آخرین الکاف للخطاب لا موضع لھا کاف فی ایاکم وشرکاء کم عطف علی الفاعل فزیلنا عین الکلمۃ و اولانہ من زال 2 ؎ یزول وقیل ہومن زلت الشیء ازیلہ فعینہ یائ۔
تفسیر : ویوم نحشرھم یہ بیان سابقہ کا تتمہ ہے یعنی ان بت پرستوں کے ساتھ حشر کے روز یہ کیا جاوے گا جو لوگ دنیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو پوجتے ہیں خواہ ملائکہ کو ‘ خواہ جنوں اور ارواح انبیاء و اولیاء اللہ کو ‘ خواہ عناصر اور کواکب کو ‘ خواہ ان کے نام کی مورتیں بنا کر یا یونہی ان کو پکارتے ہر کاروبار میں ان…
Read the full tafseer →فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ ج فَمَاذَا بَعْدَالْحَقِّ اِلاَّ الضَّلٰلُ صلے جفَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ ۔
(یونس : 32)
(یہ ہے اللہ تعالیٰ جو تمہارا حقیقی رب ہے۔ تو حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا ہے، تو کہاں تمہاری عقل الٹ جاتی ہے۔ )
مشرکینِ عرب کے مذہب کی تاریخ جو ہم تک پہنچی ہے اور جس کی طرف قرآن کریم بھی جابجا اشارے کرتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو نہ صرف خالق و رازق، سمع و بصر کا مالک اور زندگی اور موت کا منبع مانتے تھے بلکہ کائنات کا مدبر اور منتظم بھی اسی کو تصور کرتے تھے۔ وہ اپنے بتوں اور دوسرے شرکاء کو اللہ تعالیٰ کی ان صفات میں شریک نہیں سمجھتے تھے اور نہ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کو ان کے شرک کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا لیکن دنیا میں بھی ان سے سوال کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس نہ قیامت کو اپنے شرک کا جواب ہوگا اور نہ دنیا میں جواب دے سکتے ہیں۔
اس سے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مشکل کشا ہونے کے دلائل دیئے تھے۔ جس کا اقرار مشرک صرف سمندری سفر میں بھنور میں پھنسنے کے وقت کرتے تھے۔ یہی مشرک اور مؤاحد کے درمیان فرق ہے۔ مشرک جب اپنے مشکل کشاؤں سے مایوس ہوجاتا ہے تب خالصتاً ایک اللہ کو پکارتا ہے، مؤاحد ہر حال میں ایک اللہ کو پکارتا ہے۔ اب توحید کے وہ دلائل دیے جاتے ہیں۔ جن کا مشرک ہر حال میں اقرار کرتے ہیں۔ چناچہ رسول محترم ﷺ اور ہر مؤاحد…
Read the full tafseer →32: فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ (سو وہ اللہ تعالیٰ ہے) یعنی وہ ذات جس کی یہ قدرت ہے وہی تو اللہ تعالیٰ ہے۔ رَبُّکُمُ الْحَقُّّ (تمہارا سچا رب) جس کی ربوبیت ایسی ثابت ہے جس میں اس کو کوئی شک نہیں ہوسکتا جو حقیقت کی نگاہ ڈالے۔ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلاَّ الضَّلٰلُ (سو پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے) یعنی حق و باطل کے درمیان کوئی واسطہ نہیں جو حق راستہ سے ہٹا وہ گمراہی میں جاپڑا۔ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ (تم کدھر پھرے جارہے ہو) حق چھوڑ کر گمراہی کی طرف اور توحید کو ترک کر کے شرک کی طرف۔
Read the full tafseer →(32) ” فذلکم اللہ ربکم “ جو یہ تمام کام کرتا ہے وہ یہ تمہارا رب ہے ” الحق فما ذا بعد الحق الا الضلال فانی تصرفون “ پس تم اس کی عبادت سے کہاں پھرے جا رہے ہو حالانکہ تم اس کا اقرار کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
32۔ 33۔ جب حضرت ﷺ کو خدا کا یہ حکم ہوا کہ ان مشرکوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ کارخانہ دنیا کا کس نے بنایا کان آنکھ نطفہ اور نطفہ سے آدمی کس نے پیدا کیا جس کے جواب میں مشرکین یہی کہیں گے اللہ نے تو فرمایا اب ان کے جواب کے جواب میں یہ کہنا چاہئے کہ جب تم یہ بات مان چکے کہ سوائے خدا کے اور کسی میں بھی کسی بات کی قدرت نہیں تو پھر کیوں نہیں خدا سے ڈرتے ہو اور خالص اسی کی بندگی کرتے۔ بتوں سے کیوں غرض رکھتے ہو یہ حق کے بعد کیسی گمراہی ہے اپنی زبان سے آپ اقرار کرتے ہو کہ خدا کی ذات ایک ہے اسی میں ہر ایک بات کی قدرت ہے پھر بھی خدا کی طرف رجوع نہیں ہوتے بتوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو پھر فرمایا کہ خدا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
آیت : (31-33)
(قل) یعنی ان کے تو حیدر بوبیت کے اقرار کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر حجت بناتے ہوئے ان مشرکین سے کہہ دیجئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ (من یرزقکم من السماء والارض) ” کون ہے جو تمہیں روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے “ یعنی آسمان سے رزق نازل کر کے اور زمین سے رزق کی مختلف اقسام کو نکال کر اور اس میں رزق کے اسباب کو آسان بنا کر ؟ (امن یملک السمع والابصار) ” یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا “ یعنی کون ہے جس نے ان دونوں قویٰ کو تخلیق کیا اور وہ ان کا مالک ہے ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر ان دونوں قویٰ کا ذکر فرمایا ‘ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →64 ۔ مشرکوں کی مت ماری پر تنبیہ : سو مشرکوں کی مت ماری پر تنبیہ کے طور پر اور ان کے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ مقدمات تو سب مانتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی خالقیت، مالکیت، رزاقیت اور تدبیر و تصرف سب کو تسلیم کرتے ہو، لیکن پھر بھی شرک کرتے ہو ؟ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ سو لوگوں کی گمراہی کا ایک بڑا اور بنیادی سبب ان کے گمراہ لیڈر اور پیشوا ہیں واضح رہے کہ ارشاد ربانی میں پھیرنے والے کوئی اور لوگ ہیں اور وہ ان کے گرو اور پنڈت پادری وغیرہ وہ گمراہ کن لیڈر اور پیشوا ہیں جو طرح طرح کی فریب کاریوں سے ان بےزبان بھیڑوں کی اون مونڈتے رہتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو حق اور اہل حق سے دور و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
اللہ ہی معبود برحق ہے
تشریح : ان آیات میں ان مشرکین و کفار کے بارے میں ذکر ہے کہ یہ لوگ اصل میں اللہ ہی کو اپنا خالق ومالک مانتے ہیں کیونکہ یہ عالم ارواح میں اللہ سے وعدہ کرچکے ہیں یعنی، (عہد الست) جس کا مطلب اللہ کو رب ماننے کا وعدہ اور یہ کہ مالک و خالق رب العالمین صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہی ہے۔ پھر بھی یہ لوگ کفر و شرک کی ظلمتوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو ہٹ دھرمی اور ناسمجھی نے اس قدر گھیر رکھا ہے کہ یہ سیدھا راستہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اگر تھوڑی سی عقل بھی یہ استعمال کریں تو کوئی مشکل بات نہیں یہ فوراً سمجھ سکتے ہیں کہ اصل خالق ومالک تو صرف وہی اللہ ہی ہے جس نے انہیں پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیات 31 تا 40
اسرار و معارف
اگر انھیں اب بھی اس بات کی سمجھ نہ آئی ہو تو آپ ان سے پوچھتے کہ ذرایہ بتاؤ ! آسمانوں سے پانی برسا کر کھیتیاں اور پھل کون اگاتا ہے اور ارض وسما کی نعمتوں کو کون پیدا کرتا ہے اور تمہاری خدمت پہ لگا دیتا ہے ۔ یہ ہوا ، یہ فضا ، یہ طرح طرح کے پھل چشمے جانور دورھ گھی اور گوشت یہ تمہاری زندگی کے سامان کون پیدا کرتا ہے ؟ ارے یہ تو خارجی چیزیں ہیں خود تمہارے وجود کے اندر جو نعمتیں رکھی ہیں مثلا حواس ہی کو لے لوتویہ آنکھ کان وغیرہ تمہارے وجود کا حصہ ہونے کے باوجود کس کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جب چاہتا ہے میں روشن کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے یہ کام چھوڑ بیٹھتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ یعنی اس کے باوجود تمہارا دل کیسے مانتا ہے کہ حق کو چھوڑ کر گمراہی اور توحید کو چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرو ؟
Read the full tafseer →(10:32) الحق۔ ربکم کی صفت ہے۔ ماذا۔ ما استفہامیہ ہے اور ذا بمعنی الذی۔ یعنی کیا ہے۔ کون ہے۔ فما ذو بعد الحق الا الضلال۔ کیا ہے حق کے بعد سوائے گمراہی کے۔ فانی تصرفون۔ انی اسم ظرف ہے۔
(1) جب ظرف زمان ہو تو بمعنی متی۔ جب ۔ جس وقت۔
(2) اگر ظرف مکان ہو تو بمعنی این۔ جہاں۔ کہاں۔ ہوتا ہے۔
(3) اگر استفہامیہ ہو تو بمعنی کیف۔ کیسے۔ کیونکر۔ ہوتا ہے۔
آیت ہذا میں 2 اور 3 ہر دو معنی ہوسکتے ہیں۔ یعنی تم کدھر بھٹکائے جا رہے ہو۔ یا تم کیسے بھٹکائے جا رہے ہو۔ تصرفون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے تم پھیرے جاتے ہو۔ تمہیں پھیر دیا جا ریا ہے۔ صرف۔ سے بمعنی پھرنا۔ اس سے تصریف پھیرنا۔ بدلنا۔ (باب تفعیل سے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 33
امن (کون ہے وہ ؟ ) یملک (مالک ہے) یدبر (تدبیر کرتا ہے، کام چلاتا ہے) ذلکم (اسی میں) انی (کہاں ؟ ) تصرفون (تم پلٹ رہے ہو) حقت (ثابت ہوگی، سچ ثابت ہوئی) فسقوا (جنہوں نے نافرمانی کی)
تشریح : آیت نمبر 31 تا 33
انسان کی عقل اگر دنیاوی مفادات اور باپ دادا کی اندھی تقلید کے اثرات سے دھندلا نہ گئی ہو اور وہ خلوص سے اس کائنات کے نظام پر غور و فکر کرے گا تو اس کا دل و دماغ اور فکر چلا اٹھیں گے کہ اس کائنات کی ہر چیز کا بنانے والا، اس کا انتظام کرنے والا صرف ایک اللہ ہے جس کا نہ کوئی شریک ہے، نہ ساتھی ہے وہ کسی کام میں کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ بےکار پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
جب آنحضرت ﷺ کو خدا کا یہ حکم ہوا کہ ان مشرکوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ کارخانہ دنیا کس نے بنایا۔ کان آنکھ نطفہ اور نطفہ سے آدمی کس نے پیدا کیا۔ جس کے جواب میں مشرکین یہی کہیں گے اللہ نے تو فرمایا اب ان کے جواب کے جواب میں یہ کہنا چاہیے کہ جب تم یہ بات مان چکے ہو کہ سوائے خدا کے اور کسی میں بھی کسی بات کی قدرت نہیں تو پھر کیوں نہیں خدا سے ڈرتے ہو اور خالص اسی کی بندگی کرتے ہو، بتوں سے کیوں غرض رکھتے ہو۔ یہ حق کے بعد کیسی گمراہی ہے۔ اپنی زبان سے آپ اقرار کرتے ہو کہ خدا کی ذات ایک ہے۔ اسی میں ہر ایک بات کی قدرت ہے، پھر بھی خدا کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ بتوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ پھر فرمایا کہ خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–38
[22] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حواشی 33، 34 صفحہ 923۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–36
دعوت توحید :
(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے توحید کی جانب انسانوں کو دعوت دی ہے ، ان سے پوچھا ہے کہ تمہیں رزق کون دیتا ہے ، کون تمہارے لئے کھانے پینے کا سامان مہیا کرتا ہے ، وہ کون ہے ، جس نے کان عطا کہئے کس نے آنکھیں بخشیں ، زندگی کو موت سے اور موت کو زندگی کے خوشگوار لمحات میں تبدیل کرنے والا کون ہے ؟ کائنات کا نظم ونسق کس کے اشارہ چشم کا محتاج ہے ، ظاہر ہے ان باتوں کا فطرت انسانی کی جانب سے یہی جواب ملے گا ، کہ اللہ قرآن حکیم میں پوچھتا ہے ، کہ جب اللہ ہی اس کا رحیات کو چلا رہا ہے ، تو پھر تم میں کیوں توحید کے جذبات پیدا نہیں ہوتے ، تمہیں کیا ہوگیا ہے ، کہ ایسے حکیم وقدیر…
Read the full tafseer →32 پس یہی اللہ تعالیٰ تو تمہارا حقیقی اور سچا رب ہے پھر امر حق کے ثابت اور متحقق ہوجانے کے بعد سوائے گمراہی کے اور کیا رہ گیا پھر حق کو چھوڑ کر گمراہی اور باطل کی طرف کہاں پھرے جاتے ہو۔ یعنی امر حق ثابت ہوجانے کے بعد جو رہا وہ گمراہی ہے اب امر حق سے منہ موڑ کر جدھر جائو گے وہ گمراہی اور بطلان کے سوا اور کیا ہے۔
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی جو امر حق کی ضد ہوگی وہ گمراہی ہے اور توحید کا حق ہوناثابت ہوگیا پس شرک یقینا گمراہی ہے۔
6۔ آگے تسلی ہے رسول اللہ ﷺ کو کہ ان لوگوں کی باطل پرستی پر مغموم ہوا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →سب کا حقیقی پروردگار اللہ ہی ہے گمراہوں کی قسمت میں ہدایت کہاں ؟
۔ 53 دو اور دو کو چار نہ ماننے والوں کا نہ کوئی علاج تھا اور نہ ہے سوائے اللہ کے کہ اس نے پہلوئوں کا علاج کیا کہ ان کو تہس نہس کر کے نئے لوگ پیدا کئے اور وہی اس وقت کے مشرکوں کا علاج کرسکتا ہے۔ قرآن کریم کی صدا اس وقت بھی وہی تھی جو آج ہے اور آج بھی وہی ہے جو اس وقت تھی اور اللہ کے کاموں میں اس کا کوئی شریک جو نہ اس وقت تھا اور نہ اب ہے۔ جو ذات الہ ان صفات کمال سے متصف ہے جو ان خوبیوں کی مالک ہے وہی تو خدا برحق ہے ، اس کے علاوہ اگر کوئی کسی کو اپنا خدا اور معبود بنائے گا تو وہ یقینا گمراہ ہوجائے گا۔ ذرا غور تو کرو کہ کہاں ظن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
In the concluding verse (32), it was said: فَذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (So, that is Allah, your Lord in truth. And what is there, after truth, but error?), that is, ` this is the Sacred Being whose attributes of perfection have just been mentioned. Once you have found the Truth, there remains nothing else to find except error and straying. In other words, once it stands proved that Allah Ta` ala is the only true and rightful object of worship, it is terribly senseless to abandon this truth and allow yourself to be diverted…
Read the full tafseer →38. Since it is God alone Who has the power to do all that has been mentioned here - the provision of livelihood, the bestowing of vision and hearing, the granting of life and causing death, and since even the unbelievers affirmed that it is Allah alone Who causes all that, then it is obvious that He alone deserves to be held as the true Lord, Provider and Master of man, and hence the Only One Who deserves to be worshipped. How, then, can any others than Allah - those who have no share in any of the things mentioned above - be considered to have any share in His Lordship?
39. Addressing the…
Read the full tafseer →