عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک فتنہ ایسا ہوگا جو سارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس میں قتل ہونے والے سب جہنمی ہوں گے، اس فتنہ میں زبان تلوار کی کاٹ سے زیادہ موثر ہوگی ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "There will be a tribulation which will utterly destroy the Arabs, and those who are slain will be in Hell. At that time the tongue will be worse than a blow of the sword." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا نہ ہو زبان سے ناحق بات نکلے اور مفت گنہگار ہو یا فتنے میں شریک سمجھا جائے یا اس کی بات سے فتنہ کو بڑھاوا ملے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الفتن والملاحم ٣ (٤٢٦٥)، سنن الترمذی/الفتن ١٦ (٢١٧٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢١١، ٢١٢) (ضعیف) (سند میں لیث بن أبی سلیم اور زیاد ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم فتنوں سے بچے رہنا کیونکہ اس میں زبان ہلانا تلوار چلانے کے برابر ہے ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Beware of tribulations, for at that time the tongue will be like the blow of a sword," (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٦٧٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٧) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن الحارث متروک، اور محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، نیز عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ کا کسی صحابی سے سماع ثابت نہیں ہے )
علقمہ بن وقاص ؓ کہتے ہیں کہ ان کے سامنے سے ایک معزز شخص کا گزر ہوا، تو انہوں نے اس سے عرض کیا: آپ کا مجھ سے (دہرا رشتہ ہے) ایک تو قرابت کا، دوسرے مسلمان ہونے کا، میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ ان امراء کے پاس آتے جاتے اور ان سے حسب منشا باتیں کرتے ہیں، میں نے صحابی رسول بلال بن حارث مزنی ؓ کو یہ کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس بات کا اثر کیا ہوگا، لیکن اس بات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے حق میں قیامت تک کے لیے اپنی خوشنودی اور رضا مندی لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوتی ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کیا اثر ہوگا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے حق میں اپنی ناراضگی اس دن تک کے لیے لکھ دیتا ہے جس دن وہ اس سے ملے گا ۔ علقمہ ؓ نے کہا: دیکھو افسوس ہے تم پر! تم کیا کہتے اور کیا بولتے ہو، بلال بن حارث ؓ کی حدیث نے بعض باتوں کے کہنے سے مجھے روک دیا ہے، خاموش ہوجاتا ہوں ١ ؎۔
It was narrated that ‘Alqamah bin Waqqás said that a man passed by him, who held a prominent position, and ‘Alqamah said to him: “You have kinship and rights, and I see you entering upon these rulers and spealdng to them as Allah wills you should speak. But I heard Bilâl bin Hârith Al-Muzani, the Companion of the Messenger of Allah ﷺ , say that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘One of you may speak a word that pleases Allah, and not know how far it reaches, but Allah will record for him his pleasure, until the Day of Resurrection due to that word. And one of you may speak a word that angers Allah, and not know how far it reaches, but Allah will record against him his anger until the Day he meets Him due to that word.” Alqamah said: “So look, woe to you at what you say and what you speak about, for there is something that I wanted to say but I refrained because of what I heard from Bilâl bin Hârith.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: علقمہ ؓ کا مقصد یہ تھا کہ بات کہنے میں احتیاط اور غور لازم ہے، یہ نہیں کہ جو منہ میں آیا کہہ دیا، غیر محتاط لوگوں کی زبان سے اکثر ایسی بات نکل جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناگوار ہوتی ہے، پس وہ ایک بات کی وجہ سے جہنمی ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٨، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٨)، وقد أخر جہ: سنن الترمذی/الزہد ١٢ (٢٣١٩)، موطا امام مالک/الکلام ٢ (٥)، مسند احمد (٣/٤٦٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی اپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے، اور وہ اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا، حالانکہ اس بات کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جاتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A man may speak a Wordthat angers Allah and not anything wrong with it, but it Will cause him to sink down in Hell the depth of seventy aUlumns." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ٢٣ (٦٤٧٨)، صحیح مسلم/الزہد والرقاق ٦ (٢٩٨٨)، سنن الترمذی/الزہد ١٠ (٢٣١٤)، موطا امام مالک/الکلام ٢ (٦)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٥٣٣) (صحیح) (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کمافی التخریج )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever believes in Allah and the Last Day, let him say something good, or else remain silent: (Sahih)
سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں، آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: اللہ میرا رب (معبود برحق) ہے اور پھر اس پر قائم رہو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو ہم پر کس بات کا زیادہ ڈر ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اس کا ۔
Sufy an bin Abdullah Thaqafi said: "I said: O Messenger of Allah, tell me of something that I can adhere to: He said: Say: "Allah is my Lord," then stand straight (adhere steadfastly to Islam). He said: O Messenger of Allah, what is the thing that you fear most for me? The Messenger of Allah ﷺ took hold of his own tongue, then he said: This:" (Sahih)
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، ایک دن میں صبح کو آپ سے قریب ہوا، اور ہم چل رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے، اور جہنم سے دور رکھے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے، اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ایسے ہی مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات میں آدمی کا نماز (تہجد) ادا کرنا ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت:تتجافى جنوبهم عن المضاجع (سورة السجدة: 16) تلاوت فرمائی یہاں تک کہ جزاء بما کانوا يعملون تک پہنچے، پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتادوں؟ وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے ، پھر فرمایا: کیا ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتادوں ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں ضرور بتائیے، تو آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا: اسے اپنے قابو میں رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا ہم جو بولتے ہیں اس پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟، آپ ﷺ نے فرمایا: معاذ! تیری ماں تجھ پر روئے! لوگ اپنی زبانوں کی کارستانیوں کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے ۔
It was narrated that Muadh bin Jabal said: I was with the Messenger of Allah ﷺ on a journey. One morning I drew close to him when we were on the move and said: O Messenger of Allah ﷺ tell me of an action that will gain me admittance to Paradise and keep me far away from Hell. He said: You have asked for something great, but It is easy for the one for whom Allah makes it easy. Worship Allah and do not associate anything in worship with Him, establish prayer, pay charity, fast Ramadan,and perform Hajj to the House. Then he said: Shall I not tell you of the means of goodness? Fasting is a shield, and charity extinguishes sin as water extinguishes fire, and a mans prayer in the middle of the night. Then he recited: "Their sides forsake their beds" until he reached: "As a reward for what they used to do." Then he said: Shall I not tell you of the head of the matter, and its pillar and pinnacle? (It is) Jihad: Then he said: Shall I not tell you of the basis of all of that? I said: Yes. He took hold of his tongue then : Restrain this. I said: O Prohet of Allah, will we be brought to account for what we say? He said: May your mother not found you, O Muadh Are people thrown onto their faces in Hell for anything other than the harvest of their tongues?"(Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الإیمان ٧ (٢٦١٦)، (تحفة الأشراف: ١١٣١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣١) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٢٤٦ )
ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انسان کی ہر بات کا اس پر وبال ہوگا، اور کسی بات سے فائدہ نہ ہوگا سوائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے ۔
It was narrated from Umm Habibah, the wife of the Prophet ﷺ ,that the Prophet ﷺ said: "The words of the son of Adam count against him, not for him, except enjoining what is good and forbidding what is evil, and remembering Allah." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزہد ٦٢ (٢٤١٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٧٧) (ضعیف) (سند میں ام صالح مجہول الحال ہیں )
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ سے سوال کیا گیا کہ ہم امراء (حکمرانوں) کے پاس جاتے ہیں، تو وہاں کچھ اور باتیں کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو کچھ اور باتیں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اس کو نفاق سمجھتے تھے۔
It was narrated that Abu Sha`tha` said: “It was said to Ibn Umar (RA): ‘We enter upon our rulers and say one thing, when we leave them we say something else. He said: At the time of Messenger of Allah ﷺ , we used to regard that as hypocrisy.(sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٠٩٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٠٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الأحکام ٢٧ (٧١٧٨)، مسند احمد (٢/١٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ جس بات کا تعلق اس سے نہ ہو اسے وہ چھوڑ دے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Part of a persons goodness in Islam is his leaving alone that which does not concern him." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی ٹوہ اور جستجو میں نہ لگے، جو چیز حرام یا مکروہ ہو اس کا چھوڑنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، خواہ اس کا اسلام عمدہ ہو یا نہ ہو لیکن عمدہ اور اچھا مسلمان وہ ہے جو بیکار اور غیر مفید بات کو بھی چھوڑ دے، اگرچہ وہ حرام یا مکروہ نہ ہو یعنی مباح بات ہو لیکن اس کے کرنے میں آخرت کا فائدہ نہ ہو۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے اچھی زندگی والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اس کی پشت پر اڑ رہا ہو، اور جہاں دشمن کی آواز سنے یا مقابلے کا وقت آئے تو فوراً مقابلہ کے لیے اس جانب رخ کرتا ہو، اور موت یا قتل کی جگہیں تلاش کرتا پھرتا ہو اور وہ آدمی ہے جو اپنی بکریوں کو لے کر تنہا کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہو، یا کسی وادی میں جا بسے، نماز قائم کرتا ہو، زکاۃ دیتا ہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہو حتیٰ کہ اس حالت میں اسے موت آجائے کہ وہ لوگوں کا خیرخواہ ہو ۔
It was narrated from Abu "The!rah that the Prophet ﷺ said: best lifestyle is that of a man who holds onto the reins of his horse for the sake of Allah, riding on its back. Every time he hears a conunotion he rushes towards it, seeking death wherever he thinks he can find it; and a man who tends sheep at the top of one of these peaks, or in the bottom of one of these valleys, establishing the prayer, paying the charity, and worshipping his Lord until the inevitable (death) comes to him and there is nothing between him and the people except good." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٤ (١٨٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٣) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: لوگوں میں سب سے بہتر اور اچھا کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو ، اس نے پوچھا: پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں تنہا اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہو ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that a man came to the Prophet ﷺ and said: "Which of the people is best?" He said: "A man who strives in Jihad in the cause of Allah with himself and his wealth." He said: "Then who?" He said: IIA man in a mountain pass who worships Allah and leaves the people from his evil."(Sahih)
حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کے بلاوے پر ادھر جائے گا وہ انہیں جہنم میں ڈال دیں گے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے ان کے کچھ اوصاف بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ لوگ ہم ہی میں سے ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے ، میں نے عرض کیا: اگر یہ وقت آئے تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور امام کو لازم پکڑو، اور اگر اس وقت کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو ان تمام فرقوں سے علیحدگی اختیار کرو، اگرچہ تمہیں کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے حتیٰ کہ تمہیں اسی حالت میں موت آجائے ا ؎۔
It was narrated from Hudhaifa bin Yaman that the Messenger of Allah ﷺ said: "There will be callers at the gates of Hell; whoever responds to them they through them into it." I said: "O Messenger of Allah, describe them to us." He said: They will be from our people,speaking our language.” I said: ‘What do you command me to do, if I will to see that? He said: Adhere to the main body of the Muslims and their leader. If there is no such body and no leader, then withdraw from all their groups, even if you bite onto the trunk of a tree until death finds you in that state.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے یعنی جنگل میں جا کر عزلت اور گوشہ نشینی اختیار کرنا اور مرنے تک ایک درخت کی جڑ چوسنے پر قناعت کرنا، اور ان سب فرقوں سے الگ رہنا ایسے فتنہ کے زمانے میں جب نہ تو کوئی مسلمانوں کا امام ہو نہ جماعت ہو بہتر اور باعث نجات ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ اس وقت مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑ کی چوٹیوں یا بارش کے مقامات میں چلا جائے گا، وہ اپنا دین فتنوں سے بچاتا پھر رہا ہوگا ۔
It was narrated from Abu Saeed AI-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "Soon the best wealth of a Muslim will be sheep which he follows in the mountain peaks and places where rainfall is to be found, fleeing for the sake of his religion from tribulations." (Sahih)
حذیفہ بن الیمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کچھ ایسے فتنے پیدا ہوں گے کہ ان کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے ہوں گے، لہٰذا اس وقت تمہارے لیے کسی درخت کی جڑ چبا کر جان دے دینا بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ تم ان بلانے والوں میں سے کسی کی پیروی کرو ۔
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah ﷺ said: "There will be tribulations at the gates of which will be callers (calling people) to Hell. Dying when you are biting onto the stump of a tree will be better for you than following anyone of them." (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: The believer should not be stung from the samehole twice.:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوعزہ حجمی نامی شاعر مسلمانوں کی ہجو کرتا تھا، بدر کے موقع پر قیدی ہوا اور آئندہ ہجو نہ کرنے کا عہدکر کے اس نے آزادی حاصل کرلی، مکہ مکرمہ جا کر اس نے دوبارہ مسلمانوں کے خلاف شاعری شروع کردی پھر وہ غزوہ احد میں دوبارہ قید ہوا، اور اپنی تنگدستی کا بہانہ بنا کر دوبارہ آزادی طلب کی تو اس موقع پر آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٨١١، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١١٥) (صحیح )
شعبی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر ؓ کو منبر پر یہ کہتے سنا، اور انہوں نے اپنی دو انگلیوں سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: حلال واضح ہے، اور حرام بھی، ان کے درمیان بعض چیزیں مشتبہ ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جان پاتے (کہ حلال ہے یا حرام) جو ان مشتبہ چیزوں سے بچے، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لیا، اور جو شبہات میں پڑگیا، وہ ایک دن حرام میں بھی پڑجائے گا، جیسا کہ چرا گاہ کے قریب جانور چرانے والا اس بات کے قریب ہوتا ہے کہ اس کا جانور اس چراگاہ میں بھی چرنے لگ جائے، خبردار!، ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، آگاہ رہو! بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب تک وہ صحیح رہتا ہے تو پورا جسم صحیح رہتا ہے، اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، آگاہ رہو!، وہ دل ہے ١ ؎۔
While on the pulpit, pointing with his fingers towards his ears, Numan bin Bashir said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: That which is lawful is plain that which is unlawful is plain,and between them are matters that are not clear, about which not many people know. Thus he who guards against the unclear matters, he clears himself with regard to his religion and his honour. But he who falls into the unclear matters; he falls into that which is unlawful. Like the shepherd who pastures around a sanctuary, all but grazing therein. Every king has a sanctuary. And beware! Allahs sanctuary is His prohibitions. Beware! In the body there is a piece of flesh which, if it is sound, the whole body will be sound, and if it is corrupt, the whole body will be corrupt. It is the heart." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بڑی اہم بات ہے جس پر اسلام کے اکثر احکام کا دارومدار ہے، مشتبہ کاموں سے ہمیشہ بچے رہنا ہی تقویٰ اور صلاح کا طریقہ ہے، عمر ؓ نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ نے سود کا بیان کھول کر نہیں کیا تو سود سے بچو اور جس چیز میں سود کا شک ہو اس سے بچو اور دوسری حدیث میں ہے کہ جس کام میں تم کو شک ہو اس کو چھوڑ دو تاکہ تم شک میں نہ پڑو، اور آپ نے سودہ ؓ کو عبد بن زمعہ سے پردہ کا حکم دیا حالانکہ اس کا نسب زمعہ سے ثابت کیا کیونکہ اس میں عتبہ کے نطفہ ہونے کا شبہ تھا اور عقبہ بن حارث نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے دولہا اور دلہن دونوں کو دودھ پلایا ہے حالانکہ وہ دونوں اس کو نہیں جانتے تھے نہ ان کے گھر والے پھر اس کا ذکر آپ ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا کیا علاج ہے کہ ایسا کہا گیا یعنی گو کامل شہادت سے دودھ پلانا ثابت نہیں ہوا مگر کہا تو گیا تو شبہ ہوا غرض عقبہ ؓ کو عورت چھوڑ دینے کا اشارہ کیا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب پھر اجنبی ہوجائے گا، تو ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Islam began as something strange and will go back to being strange, so glad tidings to the strangers." (Sahih)