سنت کی پیروی کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 1 · 266 hadiths · Page 7 of 14

121Sunan Ibne-Majah

سیدنا علی مرتضیٰ (رض) کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَنَالَ مِنْهُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ، وَقَالَ: تَقُولُ هَذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ .

سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد ؓ ان کے پاس ملنے آئے، لوگوں نے علی ؓ کا تذکرہ کیا تو معاویہ ؓ نے علی ؓ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا، اس پر سعد ؓ ناراض ہوگئے اور بولے: آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس کا مولیٰ میں ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں ، اور آپ ﷺ سے میں نے یہ بھی سنا: تم (یعنی علی) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، نیز میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا: آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔

It was narrated that Sa’d bin Abu Waqqas said: “Mu’äwiyah came on one of his pilgrimages and Sa’d entered Upon him. They mentioned ‘Ali, and Mu’áwiyah criticized him. Sa’d became angry and said: ‘Are you saying this of a man of whom I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “If I am a person’s close friend, ‘Ali is also his close friend.” And I heard him say: “You are to me like Hárum was to Musa, except that there will be no Prophet ﷺ after me.” And I heard him say; “I will give the baimer today to a man who loves Allah and His Messenger.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٠١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٩ (٣٧٠٦)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤ (٢٤٠٤)، سنن الترمذی/المناقب ٢١ (٣٧٢٤)، مسند احمد (١/٨٤، ١١٨) (صحیح )
122Sunan Ibne-Majah

حضرت زبیر (رض) کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ: مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، فَقَالَ: مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا ثَلَاثًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ .

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم (یعنی یہود بنی قریظہ) کی خبر لائے؟، زبیر ؓ نے کہا: میں ہوں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے؟ ، زبیر ؓ نے کہا: میں، یہ سوال و جواب تین بار ہوا، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کے حواری (خاص مددگار) ہوتے ہیں، اور میرے حواری (خاص مددگار) زبیر ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Jâbir said: “The Messenger of Allah ﷺ . said on the Day of Quraizah: ‘Who will bring us news of the people?’ Zubair said: ‘I will.’ The Prophet ﷺ said: ‘Who will bring us news of the people?’ Zubair said: ‘I will,’ three times. The Prophet ﷺ said: ‘Every Prophet ﷺ has a Hawdri (sincere supporter or disciple), and my Hawari is Zubair.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ واقعہ غزوہ احزاب کا ہے جو سن ( ٥ ) ہجری میں واقع ہوا، جب کفار قریش قبائل عرب اور خیبر کے یہودی سرداروں کے ساتھ دس ہزار کی تعداد میں مدینہ پر چڑھ آئے، نبی اکرم ﷺ نے سلمان فارسی ؓ کے مشورہ سے خندق کھدوائی، اس لئے اس غزوہ کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے، مسلمان بڑی کس مپرسی کے عالم میں تھے، اور یہود بنی قریظہ نے بھی معاہدہ توڑ کر کفار مکہ کا ساتھ دیا، ایک دن بہت سردی تھی، نبی اکرم ﷺ نے صحابہ سے یہ چاہا کہ کوئی اس متحدہ فوج کی خبر لائے جن میں بنی قریظہ بھی شریک تھے، لیکن سب خاموش رہے، اور اس مہم پر زبیر ؓ گئے، اور ان کو سردی بھی نہ لگی، اور خبر لائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حملہ آوروں پر بارش اور ٹھنڈی ہوا بھیج دی ہے جس سے ان کے خیمے اکھڑ گئے، ہانڈیاں الٹ گئیں، اور لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، زبیر ؓ نبی کریم ﷺ کی پھوپھی صفیہ ؓ کے بیٹے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٤١ (٢٨٤٦)، صحیح مسلم/فضائل الصحابہ ٦ (٢٤١٥)، سنن الترمذی/المنا قب ٢٥ (٣٨٤٥)، (تحفة الأشراف: ٣٠٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٩، ١٠٢، ٣/٣٠٧) (صحیح )
123Sunan Ibne-Majah

حضرت زبیر (رض) کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ .

زبیر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد ١ ؎ کے دن میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کو جمع کیا ٢ ؎۔

It was narrated that Zubair said: “The Messenger of Allah ﷺ named his parents together for me on the Day of Uhud.”

Notes · وضاحت
١ ؎: تخریج میں مذکورہ مراجع میں یہ ہے کہ واقعہ غزوہ احزاب خندق کا ہے، اس لئے احد کا ذکر یہاں خطا اور وہم کے قبیل سے ہے۔ ٢ ؎: یعنی کہا: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں، یہ زبیر ؓ کے حق میں بہت بڑا اعزاز ہے، آگے حدیث میں یہ فضیلت سعد بن ابی وقاص ؓ کو بھی حاصل ہے، لیکن وہاں پر علی ؓ نے اس فضیلت کو صرف سعد بن ابی وقاص ؓ کے ساتھ خاص کردیا ہے، اس میں تطبیق کی صورت اس طرح ہے کہ یہ علی ؓ کے علم کے مطابق تھا، ورنہ صحیح احادیث میں یہ فضیلت دونوں کو حاصل ہے، واضح رہے کہ ابن ماجہ میں زبیر ؓ کی یہ بات غزوہ احد کے موقع پر منقول ہوئی ہے، جب کہ دوسرے مراجع میں یہ غزوہ احزاب کی مناسبت سے ہے، اور آگے آ رہا ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ کے لئے آپ ﷺ نے یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ١٣ (٣٧٢٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦ (٢٤١٦)، سنن الترمذی/المناقب ٢٣ (٣٧٤٣)، (تحفة الأشراف: ٣٦٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦٤، ١٦٦) (صحیح )
124Sunan Ibne-Majah

حضرت زبیر (رض) کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَهَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا عُرْوَةُ كَانَ أَبَوَاكَ مِنْ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ سورة آل عمران آية 172: أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ .

عروہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: عروہ! تمہارے نانا (ابوبکر) اور والد (زبیر) ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا (سورة آل عمران: 172) ، یعنی ابوبکر اور زبیر بن عوام ؓ۔

It was narrated from Hishám bin ‘Urwah that his father said: “ Aisha (RA) said to me: ‘O ‘Urwah, your two fathers were of those who answered (the Call of Allah and the Messenger (Muhammad) after being wounded, (they were) Abu Bakr (RA) and Zubair” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: پوری آیت یوں ہے: الذين استجابوا لله والرسول من بعد مآ أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم یعنی: جن لوگوں نے زخمی ہونے کے بعد اللہ اور رسول کا کہنا مانا، جو لوگ ان میں نیک و صالح اور پرہیز گار ہوئے ان کو بڑا ثواب ہے (سورة آل عمران: 172)۔ اس آیت کا شان نزول امام بغوی نے یوں ذکر کیا ہے کہ جب ابو سفیان اور کفار مکہ جنگ احد سے واپس لوٹے، اور مقام روحا میں پہنچے تو اپنے لوٹنے پر نادم و شرمندہ ہوئے اور ملامت کی، اور کہنے لگے کہ ہم نے محمد کو نہ قتل کیا، نہ ان کی عورتوں کو قید کیا، پھر ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ دوبارہ واپس چل کر مسلمانوں کا کام تمام کردیا جائے، جب یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے اپنی طاقت کے اظہار کے لئے صحابہ کرام کی ایک جماعت اکٹھا کی، اور ابوسفیان اور کفار مکہ کے تعاقب میں روانہ ہونا چاہا، اور اعلان کردیا کہ ہمارے ساتھ غزوہ احد کے شرکاء کے علاوہ اور کوئی نہ نکلے، جابر بن عبداللہ ؓ نے اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی، نبی کریم ﷺ، ابوبکر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن الیمان، اور ابوعبیدہ بن جراح وغیرہم کی معیت میں ستر آدمیوں کو لے کر روانہ ہوئے، اور حمراء الأسد (مدینہ سے بارہ میل ( ١٩ کلومیٹر) کے فاصلے پر ایک مقام) پر پہنچے، اس کے بعد بغوی (رح) نے یہی روایت ام المؤمنین عائشہ ؓ سے نقل کی ہے، غرض وہاں معبد خزاعی نامی ایک آدمی تھا جو نبی کریم ﷺ سے محبت رکھتا تھا، اور وہاں کے بعض لوگ ایمان لا چکے تھے تو معبد نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ہم کو آپ کے اصحاب کے زخمی ہونے کا بہت رنج ہوا، غرض وہ وہاں سے ابوسفیان کے پاس آیا، اور ان کو صحابہ کرام ؓ کی شجاعت کی خبر دی، ابوسفیان اور ان کے ساتھی اس خبر کو سن کر ٹھنڈے ہوگئے، اور مکہ واپس لوٹ گئے، غرض اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی فضیلت میں یہ آیت نازل فرمائی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٩٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي ١٦ (٤٠٧٧)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦ (٢٤١٨)، مسند احمد (١/١٦٤، ١٦٦) (صحیح )
125Sunan Ibne-Majah

حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ طَلْحَةَ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: شَهِيدٌ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ .

جابر ؓ فرماتے ہیں کہ طلحہ ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ شہید ہیں جو روئے زمین پر چل رہے ہیں ۔

It was narrated from Jábir that Talhah passed by the Prophet ﷺ and he said: “A martyr walking upon the face of the earth,”

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٢٢ (٣٧٣٩)، (تحفة الأشراف: ٣١٠٣) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٢٦ )
126Sunan Ibne-Majah

حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَلْحَةَ، فَقَالَ: هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ .

معاویہ بن ابی سفیان ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے طلحہ ؓ کو دیکھا تو فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کردیا ۔

It was narrated that Mu’âwiyah bin Abu Sufyán said: “The Prophet ﷺ looked at Talhah and said: ‘This is one of those who fulfilled their covenant.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٣٤ (٣٢٠٢)، المناقب ٢٢ (٣٧٤٠)، (تحفة الأشراف: ١١٤٤٥) (حسن )
127Sunan Ibne-Majah

حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا إِسْحَاق، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ .

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ ہم معاویہ ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا ١ ؎۔

It was narrated that Musa bin Talhah said: We were with Mu’âwiyah and he said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Talhah is one of those who fulfilled their covenant.’(Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: پوری آیت یوں ہے: من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا یعنی مومنوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس وعدے کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا سچ کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کردیا، اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں، اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی (سورة الأحزاب: 23)۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (حسن )
128Sunan Ibne-Majah

حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ .

قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ ؓ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل (بیکار) ہوگیا تھا، جنگ احد میں انہوں نے اس کو ڈھال بنا کر رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی تھی۔

It was narrated that Qais said: “I saw the paralyzed hand of Talhah, with which he had defended the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Uhud,” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ فضائل أصحاب ١٤ (٣٧٢٤)، المغازي ١٨ (٤٠٦٣)، (تحفة الأشراف: ٥٠٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٦١) (صحیح )
129Sunan Ibne-Majah

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْعَلِيٍّ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي .

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص) ؓ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا ہو، آپ ﷺ نے غزوہ احد کے دن سعد ؓ سے کہا: اے سعد! تم تیر چلاؤ، میرے ماں اور باپ تم پر فدا ہوں ١ ؎۔

It was narrated that ‘Ali said: “I never saw the Messenger of Allah ﷺ mention his parents together for anyone except Sa’d bin Malik. He said to him on the Day of Uhud: ‘Shoot, Sa’d! May my father and mother sacrificed for you!’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ فضیلت غزوہ احزاب کے موقع پر زبیر ؓ کو بھی حاصل ہے، اور حدیث میں علی ؓ نے جو بیان کی وہ ان کے اپنے علم کے مطابق ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر ( ١٢٣ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٨٠ (٢٩٠٥)، الأدب ١٠٣ (٦١٨٤)، المغازي ١٨ (٤٠٥٨، ٤٠٥٩)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥ (٢٤١١)، سنن الترمذی/المناقب ٢٧ (٣٧٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٠١٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٢، ١٢٤، ١٣٧، ١٥٨) (صحیح )
130Sunan Ibne-Majah

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، وَإِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ: ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي .

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے غزوہ احد کے دن اپنے والدین کو جمع کیا، اور فرمایا: اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔

It was narrated that Sa’eed bin Musayyab said: “I heard Sa’d bin Abu Waqqâs say: ‘The Messenger of Allah ﷺ mentioned his parents together for me on the Day of Uhud. He said: ‘Shoot, Sa’d! May my father and mother be sacrified for you!’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل أصحاب النبي ﷺ ١٥ (٣٧٢٥)، المغازي ١٨ (٤٠٥٥، ٤٠٥٦، ٤٠٥٧)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥ (٢٤١١، ٢٤١٢)، سنن الترمذی/الأدب ٦١ (٢٨٣٠)، المناقب ٢٧ (٣٧٥٤)، (تحفة الأشراف: ٣٨٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٤، ١٨٠) (صحیح )
131Sunan Ibne-Majah

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَخَالِي يَعْلَى، وَوَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ .

قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو کہتے سنا: میں پہلا عربی شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا۔

It was narrated that Qais said: “I heard Sa’d bin Abu Waqqas say: ‘I am the first of the Arabs to shoot an arrow in the cause of Allah.’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ١٥ (٣٧٢٨)، الرقاق ١٧ (٦٤٥٣)، صحیح مسلم/الزھد ١٢ (٢٩٦٦)، سنن الترمذی/الزھد ٣٩ (٢٣٦٥)، (تحفة الأشراف: ٣٩١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٤، ١٨١، ١٨٦)، سنن الدارمی/الفرائض ٢ (٢٩٠٢) (صحیح )
132Sunan Ibne-Majah

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولَ، قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ، وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَإِنِّي لَثُلُثُ الْإِسْلَامِ .

سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ جس دن میں نے اسلام قبول کیا اس دن کسی نے اسلام نہ قبول کیا تھا، اور میں (ابتدائی عہد میں) سات دن تک مسلمانوں کا تیسرا شخص تھا ١ ؎۔

It was narrated that Hâshim bin Hâsham said: “I heard Sa’eed bin Musayyab say: ‘Sa’d bin Abu Waqqas said: ‘No one else became Muslim on the same day as I did; for seven days I was one-third of Islam.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سات دن تک کوئی اور مسلمان نہ ہوا، یعنی میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اسلام لانے میں پہل کی، یہ بات ان کے اپنے علم کی بنیاد پر ہے۔
133Sunan Ibne-Majah

عشرہ مبشرہ کے فضائل

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ، عَنْ جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْل، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ، فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ ، فَقِيلَ لَهُ: مَنِ التَّاسِعُ؟ قَالَ: أَنَا .

سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دسویں شخص تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، عبدالرحمٰن جنت میں ہیں ، سعید ؓ سے پوچھا گیا: نواں کون تھا؟ بولے: میں ١ ؎۔

It was narrated that Sa’eed bin Zaid bin ‘Anir bin Nufail said: “The Messenger of Allah ﷺ was one of the Ten (given glad tidings of Paradise). He i said: ‘ Abu Bakr (RA) will be in Paradise; ‘Umar will be in Paradise; ‘Uthman will be in Paradise; ‘Ali will be in Paradise; Talhah will be in Paradise; Zubair will be in Paradise; Sa’d will be in Paradise; ‘Abdur-Rahmân will be in Paradise.” He was asked: ‘Who will be the ninth?’ He said: ‘I will.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اور آگے کی حدیث (جس میں مذکور ہے کہ دسویں آدمی ابوعبیدہ ؓ ہیں) میں کوئی تعارض نہیں، اس لئے کہ یہ دونوں الگ الگ مجلس کی حدیثیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/السنة ٩ (٤٦٥٠)، (تحفة الأشراف: ٤٤٥٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المنا قب ٢٦ (٣٧٤٨)، ٢٨ (٣٧٥٧)، مسند احمد (١/ ١٨٧) (صحیح )
134Sunan Ibne-Majah

عشرہ مبشرہ کے فضائل

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: اثْبُتْ حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ، وَعَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَابْنُ عَوْفٍ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ .

سعید بن زید ؓ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ٹھہر، اے حرا! ١ ؎ (وہ لرزنے لگا تھا) تیرے اوپر سوائے نبی، صدیق اور شہید کے کوئی اور نہیں ہے ، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے نام گنوائے: ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعید بن زید ؓ۔

It was narrated that Sa’eed bin Zaid said: “I bear witness that I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Stand firm, O (mountain of) Hirâ’, for there is no one upon you but a Prophet, a Siddiq or a martyr.” Then he listed them as follows: “The Messenger of Allah ﷺ , Abu Bakr, ‘Umar, ‘Uthmân, ‘Ali, Talhah, Zubair, Sa’d, Ibn ‘Awf and Sa’eed bin Zaid.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حرا مکہ میں ایک پہاڑ کا نام ہے، جو نبی اکرم ﷺ کی آمد کی خوشی میں جھومنے لگا تو آپ ﷺ نے یہ فرمایا، اور جو فرمایا وہ ہو کر رہا، سوائے سعد ؓ کے جن کا انتقال اپنے قصر میں ہوا، یا یہ کہ ان کا انتقال کسی ایسے مرض میں ہوا جس سے وہ شہادت کا درجہ پا گئے، آپ ﷺ نے تغلیبا سب کو شہید کہا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/السنة ٩ (٤٦٤٨)، سنن الترمذی/المناقب ٢٦ (٣٧٤٧)، ٢٨ (٣٧٥٧)، (تحفة الأشراف: ٤٤٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ١٨٨، ١٨٩) (صحیح )
135Sunan Ibne-Majah

ابوعبیدہ بن جراح (رض) کے فضائل

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ: سَأَبْعَثُ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ، قَالَ: فَتَشَوَّفَ لَهَا النَّاسُ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ .

حذیفہ بن الیمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران سے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایک ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو انتہائی درجہ امانت دار ہے ، حذیفہ ؓ نے کہا: لوگ اس امین شخص کی جانب گردنیں اٹھا کر دیکھنے لگے، آپ ﷺ نے ابوعبیدہ بن جراح کو بھیجا۔

It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah ﷺ said to the people of Najrân: “I will send a trustworthy man with you, who is indeed trustworthy.” The people craned their necks to see, and he sent Abu ‘Ubaidah bin Jarrâh. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٢١ (٣٧٤٥)، المغازي ٧٣ (٤٣٨٠)، أخبار الأحاد ١ (٧٢٥٤)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٧ (٢٤٢٠)، سنن الترمذی/المناقب ٣٣ (٣٧٩٦)، (تحفة الأشراف: ٣٣٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤١٤، ٤/٩٠، ٥/ ٣٨٥، ٣٩٨، ٤٤٠، ٤٠١) (صحیح )
136Sunan Ibne-Majah

ابوعبیدہ بن جراح (رض) کے فضائل

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ: هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ .

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ بن جراح ؓ کے متعلق فرمایا: یہ اس امت کے امین ہیں ۔

It was narrated from ‘Abdullâh that the Messenger of Allah ﷺ said to Abu ‘Ubaidah bin Jarrâh: “This is the trustworthy man of this Ummah.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٣١٦)، مسند احمد (١/١٨، ٤١٤، ٢/١٢٥، وانظر ما قبلہ) (صحیح )
137Sunan Ibne-Majah

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے فضائل

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كُنْتُ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَاسْتَخْلَفْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ .

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو خلیفہ مقرر کرتا تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کو مقرر کرتا ۔

It was narrated that ‘Ali said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If I were to appoint anyone as my successor without consulting anyone, I would have appointed Abdullah Ibn Masud.”

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٣٨ (٣٨٠٨، ٣٨٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٦، ٩٥، ١٠٧، ١٠٨) (ضعیف) (حارث ضعیف اور متہم بالرفض ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٣٢٧ )
138Sunan Ibne-Majah

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے فضائل

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ .

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ابوبکرو عمر ؓ نے انہیں بشارت سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص چاہتا ہو کہ قرآن کو بغیر کسی تبدیلی اور تغیر کے ویسے ہی پڑھے جیسے نازل ہوا ہے تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کی قراءت کے مطابق پڑھے ١ ؎۔

It was narrated from ‘Abdullâh bin Mas’ud that Abu Bakr (RA) and ‘Umar gave him the glad tidings that the Messenger of Allah ﷺ had said: “Whoever would like to recite the Qur’an as fresh as when it was revealed, let him recite it like lbn’Umm ’Abd.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی قراءت کی فضیلت معلوم ہوئی، اور ان کا طرز قراءت بھی معلوم ہوا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧، ٢٦، ٣٨) (صحیح )
139Sunan Ibne-Majah

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے فضائل

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ، وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ، اور یہ کہ میری آواز سن لو، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullâh said: “The Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘The sign that you have been permitted to come in is that you raise the curtain and that you hear me speaking quietly, until I forbid you.’ (i.e. unless I forbid you).” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی فضیلت ظاہر ہے، چونکہ وہ خادم خاص تھے، اور برابر شریک مجلس رہا کرتے تھے، بار بار اجازت طلب کرنے میں حرج تھا، اس لئے نبی اکرم ﷺ نے ان کو یہ مخصوص اجازت عطا فرمائی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٦ (٢١٦٩)، (تحفة الأشراف: ٩٣٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٨، ٣٩٤، ٤٠٤) (صحیح )
140Sunan Ibne-Majah

حضرت عباس بن عبدالمطلب کے فضائل

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ النَّخَعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: كُنَّا نَلْقَى النَّفَرَ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فَيَقْطَعُونَ حَدِيثَهُمْ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَحَدَّثُونَ، فَإِذَا رَأَوْا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ، وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّهُمْ لِلَّهِ، وَلِقَرَابَتِهِمْ مِنِّي .

عباس بن عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں کہ قریش کے (کچھ لوگوں کا حال یہ تھا) جب ہم ان سے ملتے اور وہ باتیں کر رہے ہوتے تو ہمیں دیکھ کر وہ اپنی بات بند کردیتے، ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور جب میرے اہل بیت میں سے کسی کو دیکھتے ہیں تو چپ ہوجاتے ہیں، اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں ایمان اس وقت تک گھر نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ میرے اہل بیت سے اللہ کے واسطے اور ان کے ساتھ میری قرابت کی بناء پر محبت نہ کرے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abbâs bin ‘Abdul- Muttalib said: “We used to come across groups of Quraish who would be talking, but they would stop talking (when we approached). We mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘What is the matter with people who taik, then when they see a man from my family they stop talking? By Allah, faith will not enter a person’s heart until he loves them for the sake of Allah and because of their closeness to me.’” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل بیت کی محبت ایمان کی نشانی ہے، اور محبت ان کی یہی ہے کہ ایمان و عمل میں ان کی روش پر چلا جائے، اور ان کا طریقہ اختیار کیا جائے، ؓ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٣٧، مصباح الزجاجة: ٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٥) (ضعیف) (اس سند میں اعمش مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے، ابوسبرہ نخعی لین الحدیث نیز محمد بن کعب قرظی کی عباس ؓ سے روایت کے بارے میں انقطاع و ارسال کی بات بھی کہی گی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٤٣٠ )