Sunan Ibne-Majah 139

سنت کی پیروی کا بیان

139Sunan Ibne-Majah

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے فضائل

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ، وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ، اور یہ کہ میری آواز سن لو، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullâh said: “The Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘The sign that you have been permitted to come in is that you raise the curtain and that you hear me speaking quietly, until I forbid you.’ (i.e. unless I forbid you).” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی فضیلت ظاہر ہے، چونکہ وہ خادم خاص تھے، اور برابر شریک مجلس رہا کرتے تھے، بار بار اجازت طلب کرنے میں حرج تھا، اس لئے نبی اکرم ﷺ نے ان کو یہ مخصوص اجازت عطا فرمائی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٦ (٢١٦٩)، (تحفة الأشراف: ٩٣٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٨، ٣٩٤، ٤٠٤) (صحیح )