حضرت عباس بن عبدالمطلب کے فضائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ النَّخَعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: كُنَّا نَلْقَى النَّفَرَ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فَيَقْطَعُونَ حَدِيثَهُمْ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَحَدَّثُونَ، فَإِذَا رَأَوْا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ، وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّهُمْ لِلَّهِ، وَلِقَرَابَتِهِمْ مِنِّي .
عباس بن عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں کہ قریش کے (کچھ لوگوں کا حال یہ تھا) جب ہم ان سے ملتے اور وہ باتیں کر رہے ہوتے تو ہمیں دیکھ کر وہ اپنی بات بند کردیتے، ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور جب میرے اہل بیت میں سے کسی کو دیکھتے ہیں تو چپ ہوجاتے ہیں، اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں ایمان اس وقت تک گھر نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ میرے اہل بیت سے اللہ کے واسطے اور ان کے ساتھ میری قرابت کی بناء پر محبت نہ کرے ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abbâs bin ‘Abdul- Muttalib said: “We used to come across groups of Quraish who would be talking, but they would stop talking (when we approached). We mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘What is the matter with people who taik, then when they see a man from my family they stop talking? By Allah, faith will not enter a person’s heart until he loves them for the sake of Allah and because of their closeness to me.’” (Da’if)