حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْعَلِيٍّ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي .
علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص) ؓ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا ہو، آپ ﷺ نے غزوہ احد کے دن سعد ؓ سے کہا: اے سعد! تم تیر چلاؤ، میرے ماں اور باپ تم پر فدا ہوں ١ ؎۔
It was narrated that ‘Ali said: “I never saw the Messenger of Allah ﷺ mention his parents together for anyone except Sa’d bin Malik. He said to him on the Day of Uhud: ‘Shoot, Sa’d! May my father and mother sacrificed for you!’” (Sahih)