عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول ﷺ نے (حالت روزے میں) سینگی لگوانے اور مسلسل روزے رکھنے سے منع فرمایا، لیکن اپنے اصحاب کی رعایت کرتے ہوئے اسے حرام قرار نہیں دیا، آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! آپ تو بغیر کھائے پیئے سحر تک روزہ رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں سحر تک روزے کو جاری رکھتا ہوں اور مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے ۔
Narrated Abdur-Rahman bin Abi Laila (RA) : A man from the Companions of the Prophet ﷺ told me that the Messenger of Allah ﷺ prohibited cupping and perpetual fasting, but he had not made them unlawful showing mercy on his Companions. Thereupon he was asked: Messenger of Allah, you observe perpetual fast till dawn. He replied: I observe perpetual fast till dawn (for) my Lord gives me food and drink.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٤، ٣١٥، ٥/٣٦٣، ٣٦٤) (صحیح )
نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہوگیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا ۔
Narrated A man from the Companions: The Messenger of Allah ﷺ said: Neither vomiting, nor emission, nor cupping breaks the fast of the one who is fasting.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٠١) (ضعیف) (اس کے ایک راوی رجل مبہم ہے )
معبد بن ہوذہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مشک ملا ہوا سرمہ سوتے وقت لگانے کا حکم دیا اور فرمایا: روزہ دار اس سے پرہیز کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے یحییٰ بن معین نے کہا کہ یہ یعنی سرمہ والی حدیث منکر ہے۔
Narrated Mabad bin Hudhah (RA) : The Prophet ﷺ commanded to apply collyrium mixed with musk at the time of sleep. He said: A man who is fasting should abstain from it. Abu Dawud said: Yahya bin Main said to me: This tradition about the use of collyrium is munkar (i. e. contradicts the sound traditions on the subject).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٤٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٦، ٤٩٩، ٥٠٠)، سنن الدارمی/الصوم ٢٨ (١٧٧٤) (ضعیف) (اس کے راوی نعمان بن معبد مجہول ہیں )
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی روزے دار کے سرمہ لگانے کو ناپسند کرتے نہیں دیکھا اور ابراہیم نخعی روزے دار کو صبر (ایک قسم کا سرمہ ہے) کے سرمے کی اجازت دیتے تھے۔
Al-Amash said: I did not see any of our companions who abominated the use of collyrium by a man who fasting. Ibrahim would permit the man who was fasting to apply collyrium with aloes.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٤٠٠، ١٨٧٨٦) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو قے ہوجائے اور وہ روزے سے ہو تو اس پر قضاء نہیں، ہاں اگر اس نے قصداً قے کی تو قضاء کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حفص بن غیاث نے بھی ہشام سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: if one has a sudden attack of vomiting while one is fasting, no atonement is required of him, but if he vomits intentionally he must make atonement.
معدان بن طلحہ کا بیان ہے کہ ابوالدرداء ؓ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو قے ہوئی تو آپ نے روزہ توڑ ڈالا، اس کے بعد دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ثوبان ؓ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ ابوالدرداء نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو قے ہوگئی تو آپ نے روزہ توڑ دیا اس پر ثوبان نے کہا: ابوالدرداء نے سچ کہا اور میں نے ہی (اس وقت) رسول اللہ ﷺ کے لیے وضو کا پانی ڈالا تھا۔
Narrated Madan bin Talhah (RA) : That Abu ad-Darda narrated to him: The Messenger of Allah ﷺ vomited and broke his fast. Then I met Thawban, the client of the Messenger of Allah ﷺ , in the mosque in Damascus, I said (to him): Abu al-Darda has told me that the Messenger of Allah ﷺ vomited and broke his fast. He said: He spoke the truth ; and I poured out water for his ablution ﷺ .
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور چمٹ کر سوتے، لیکن آپ ﷺ اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to kiss and embrace while he was fasting, but he was the one of you who had most control over his desire.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٢ (١١٠٦)، سنن الترمذی/الصوم ٣٢ (٧٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٠، ١٥٩٣٢، ١٧٤٠٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢٤ (١٩٢٨)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٩ (١٦٨٤)، موطا امام مالک/الصیام ٦(١٨)، مسند احمد (٦/٢٣٠)، سنن الدارمی/المقدمة ٥٣ (٦٩٨) والصوم ٢١ (١٧٦٣) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے کہا: میں خوش ہوا تو میں نے بوسہ لیا اور میں روزے سے تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو آج بہت بڑی حرکت کر ڈالی، روزے کی حالت میں بوسہ لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: بھلا بتاؤ اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کرلو (تو کیا ہوا) ، میں نے کہا: اس میں تو کچھ حرج نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو بس کوئی بات نہیں ۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : I got excited, so I kissed while I was fasting, I then said: Messenger of Allah, I have done a big deed; I kissed while I was fasting. He said: What do you think if you rinse your mouth with water while you are fasting. The narrator Isa ibn Hammad said in his version: I said to him: There is no harm in it. Then both of them agreed on the version: He said: Then what?
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، اور ایک دوسرا شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کردیا، جس کو آپ ﷺ نے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا اور جسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man asked the Prophet ﷺ whether one who was fasting could embrace (his wife) and he gave him permission; but when another man came to him, and asked him, he forbade him. The one to whom he gave permission was an old man and the one whom he forbade was a youth.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢١٩٨) (حسن صحیح )
ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حالت جنابت میں صبح کرتے۔ عبداللہ اذرمی کی روایت میں ہے: ایسا رمضان میں احتلام سے نہیں بلکہ جماع سے ہوتا تھا، پھر آپ روزہ سے رہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کتنی کم تر ہے اس شخص کی بات جو یہ یعنی يصبح جنبا في رمضان کہتا ہے، حدیث تو (جو کہ بہت سے طرق سے مروی ہے) یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ جنبی ہو کر صبح کرتے تھے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) and Umm Salamah, wives of the Prophet ﷺ : The Messenger of Allah ﷺ would be overtaken by the dawn when he was in a state of sexual defilement. The narrator Abdullah al-Adhrami said in his version: During Ramadan, due to sexual intercourse and no owing to a dream (i. e. nocturnal emission), and would fast. Abu Dawud said: How brief is this sentence uttered by the narrator, this is, he was overtaken by daw when he was in the state of sexual defilement? The tradition says: The Prophet ﷺ was overtaken by dawn in the state of sexual defilement when he was fasting.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میں جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنا چاہتا ہوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں پھر غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھ لیتا ہوں ، اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آپ تو ہماری طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر رکھے ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ غصہ ہوگئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں تم میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، اور مجھے کیا کرنا ہے اس بات کو بھی تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔
Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : A man said to Messenger of Allah ﷺ : Messenger of Allah, I was overtaken by dawn while I was sexually defiled, and I want to keep fast. The Messenger of Allah ﷺ said: I am also overtaken by dawn while I am in the state of sexual defilement ; I also want to keep fast. I take a bath and I keep fast. The man said: Messenger of Allah, you are not like us ; Allah has forgiven you your past and future sins. The Messenger of Allah ﷺ became angry and said: I swear by Allah, I hope I shall be the most fearful of you of Allah, and most familiar of you with what I follow.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ١٣ (١١١٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام ٤ (٩)، مسند احمد (٦/٦٧، ١٥٦، ٢٤٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہوگیا آپ ﷺ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرلیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم ایک گردن آزاد کرسکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کی طاقت ہے؟ کہا: نہیں، فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ ، کہا: نہیں، فرمایا: بیٹھو ، اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا آگیا، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو ، کہنے لگا: اللہ کے رسول! مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ ہے ہی نہیں، اس پر رسول ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہوگئے اور فرمایا: اچھا تو انہیں ہی کھلا دو ۔ مسدد کی روایت میں ایک دوسری جگہ ثناياه کی جگہ أنيابه ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and said: I am undone. He asked him: What has happened to you ? He said: I had intercourse with my wife in Ramadan (while I was fasting). He asked: Can you set a slave free ? He said: No. He again asked: Can you fast for two consecutive months ? He said: No. He asked: Can you provide food for sixty poor people ? He said: No. He said: Sit down. Then a huge basket containing dates (araq) was brought to the Prophet ﷺ . He then said to him: Give it as sadaqah (i. e. alms). He said: Messenger of Allah, there is no poorer family than mine between the two lave plains of it (Madina). The Messenger of Allah ﷺ laughed so that his eye-teeth became visible, and said: Give it to your family to eat. Musaddad said in another place: his canine teeth.
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں زہری نے یہ الفاظ زائد کہے کہ یہ (کھجوریں اپنے اہل و عیال کو ہی کھلا دینے کا حکم) اسی شخص کے ساتھ خاص تھا اگر اب کوئی اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اسے کفارہ ادا کئے بغیر چارہ نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد، اوزاعی، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے ابن عیینہ کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے اور اوزاعی نے اس میں واستغفر الله اور اللہ سے بخشش طلب کر کا اضافہ کیا ہے۔
This tradition has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. Al-Zuhri added in his version: This was a special concession for him. If a man commits this act today, the expiation is necessary for him. Abu Dawud said: Al-Laith bin Saad, al-Awzai, Mansur bin al-Mutamir and Irak bin Malik have narrated this tradition like the one narrated by Ibn Uyainah. Al-Awzai narrated in his version the words: Beg pardon of Allah.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٥) (صحیح) (لیکن زہری کے بات خلاف اصل ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک غلام آزاد کرنے، یا دو مہینے کا مسلسل روزے رکھنے، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا، وہ شخص کہنے لگا کہ میں تو (ان میں سے) کچھ نہیں پاتا، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: بیٹھ جاؤ ، اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا آگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں لے لو اور صدقہ کر دو ، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ ضرورت مند تو کوئی ہے ہی نہیں، اس پر آپ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت نظر آنے لگے اور اس سے فرمایا: تم ہی اسے کھا جاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے زہری سے مالک کی روایت کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ دیا، اس میں ہے أو تعتق رقبة أو تصوم شهرين أو تطعم ستين مسكينا ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : (A man broke his fast intentionally) during Ramadan. The Messenger of Allah ﷺ commanded him to emancipate a slave, or fast for two months, or feed sixty poor men. He said: I cannot provide. The Messenger of Allah ﷺ said: Sit down. Thereafter a huge basket of dates (araq) was brought to the Messenger of Allah ﷺ . He said: Take this and give it as sadaqah (alms). He said: Messenger of Allah, there is no poorer than I. The Messenger of Allah ﷺ thereupon laughed so that his canine teeth became visible and said: Eat it yourself. Abu Dawud said: Ibn Juraij narrated it from al-Zuhri in the wordings of the narrator Malik that a man broke his fast. This version says: You should either free a slave, or fast for two months, or provide food for sixty poor men.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی غائب کے بجائے حاضر کے صیغے کے ساتھ اور بغیر متتابعين کے ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٣٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اس نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آگے اوپر والی حدیث کا ذکر ہے اس میں ہے: پھر آپ ﷺ کے پاس ایک بڑا تھیلا آیا جس میں پندرہ صاع کے بقدر کھجوریں تھیں، اور اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے تم اور تمہارے گھر والے کھاؤ، اور ایک دن کا روزہ رکھ لو، اور اللہ سے بخشش طلب کرو ۔
Abu Hurairah said: A man came to the Prophet ﷺ . He broke his fast during Ramadan. He then narrated the rest of this tradition adding: Then a huge basket containing fifteen sas of dates was brought to him. He said: Eat it yourself and your family and keep one fast and beg pardon of Allah.