عباد بن عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص رمضان میں مسجد کے اندر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں تو بھسم ہوگیا، آپ ﷺ نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی سے صحبت کرلی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: صدقہ کر دو ، وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، اور نہ میرے اندر استطاعت ہے، فرمایا: بیٹھ جاؤ ، وہ بیٹھ گیا، اتنے میں ایک شخص غلے سے لدا ہوا گدھا ہانک کر لایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ابھی بھسم ہونے والا کہاں ہے؟ وہ شخص کھڑا ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے صدقہ کر دو ، بولا: اللہ کے رسول! کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم! ہم بھوکے ہیں، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، فرمایا: اسے تم ہی کھالو ۔
Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : A man came to the Prophet ﷺ during Ramadan in the mosque. He said: Messenger of Allah, I am burnt. The Prophet ﷺ asked him what happened to him. He said: I had sexual intercourse with my wife. He said: Give sadaqah (alms). He said: I swear by Allah, I possess nothing with me, and I cannot do this. He said: Sit down. He sat down. While he was waiting, a man came forward driving his donkey loaded with food. The Messenger of Allah ﷺ said: Where is the man who was burnt just now ? Thereupon the man stood up. The Messenger of Allah ﷺ said: Give it as sadaqah (alms). He asked: Messenger of Allah, to others than us ? By Allah. we are hungry, we have nothing (to eat). He said: Eat it yourselves.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہی قصہ مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک ایسا تھیلا لایا گیا جس میں بیس صاع کھجوریں تھیں۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Aisha (RA) through a different chain of narrators. This version adds: A huge basket containing twenty sas (of dates) was brought.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٧٦) (منكر) (مقدار کی بات منکر ہے جو مؤلف کے سوا کسی کے یہاں نہیں ہے) نوٹ: سند ایک ہے، لیکن اگلی حدیث کے حکم میں اختلاف ہے
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن کا روزہ توڑ دیا تو اس کی قضاء زمانہ بھر کے روزے بھی نہیں کرسکیں گے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone breaks his fast one day in Ramadan without a concession granted to him by Allah, a perpetual fast will not atone for it.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٢٧ (٧٢٣)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٥ (١٦٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨٦، ٤٤٢، ٤٥٨، ٤٧٠)، سنن الدارمی/الصوم ١٨ (١٧٥٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابوالمطوس لین الحدیث اور اس کے والد مجہول ہیں )
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے ابن کثیر اور سلیمان کی حدیث نمبر (٢٣٩٦) کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators similar to the tradition narrated by Ibn Kathir and Sulaiman. Abu Dawud said: Sufyan and Shubah differed among themselves on the name of the narrator Ibn al-Mutawwas and Abu al-Mutawwas.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھول کر کھا پی لیا، اور میں روزے سے تھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, I ate and drank in forgetfulness when I was fasting. Hie said: Allah had fed you and given you drink.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٤٣٠، ١٤٤٦٠، ١٤٤٧٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٢٦(١٩٣٣)، صحیح مسلم/الصیام ٣٣ (١١٥٥)، سنن الترمذی/الصوم ٢٦ (٧٢١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٥ (١٦٧٣)، مسند احمد (٢/٣٩٥، ٥١٣، ٤١٥، ٤٩١)، سنن الدارمی/الصوم ٢٣ (١٧٦٧) (صحیح )
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے سنا: مجھ پر ماہ رمضان کی قضاء ہوتی تھی اور میں انہیں رکھ نہیں پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آجاتا۔
Narrated Aisha (RA) : If I had some part of the fast of Ramadan to make up, I would not be able to atone for it except in Shaban.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٤٠ (١٩٥٠)، صحیح مسلم/الصیام ٢٦ (١١٤٦)، ن الصیام ٣٦ (٢٣٢١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٣ (١٦٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصیام ٦٦ (٧٨٣)، موطا امام مالک/الصیام ٢٠ (٥٤)، مسند احمد (٦/١٢٤، ١٧٩) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص فوت ہوجائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے۔
Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone dies when some fast is due from him (i. e. which he could not keep) his heir must fast on his behalf. Abu Dawud said: This applies to the fast which a man vows ; and this is the opinion of Ahmad bin Hanbal.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب آدمی رمضان میں بیمار ہوجائے پھر مرجائے اور روزے نہ رکھ سکے تو اس کی جانب سے کھانا کھلایا جائے گا اور اس پر قضاء نہیں ہوگی اور اگر اس نے نذر مانی تھی تو اس کا ولی اس کی جانب سے پورا کرے گا۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : If a man falls ill during Ramadan and he dies, while he could not keep the fast, food will be provided (for the poor men) on his behalf ; there is no atonement (for his fasts) due from him. If there is some vow which he could not fulfill, his heir must atone on his behalf.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی روزے رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو ۔
Narrated Aisha (RA) : Hamzat al-Aslami asked the Prophet ﷺ : Messenger of Allah, I am a man who keeps perpetual fast, may I fast while on a journey? He replied: Fast if you like, or break your fast if you like.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ١٧ (١١٢١)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٣٣ (١٩٤٢)، سنن الترمذی/الصوم ١٩ (٧١١)، سنن النسائی/الصیام ٣١ (٢٣٠٨)، ٤٣ (٢٣٨٦)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٠ (١٦٦٢)، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٣٤)، مسند احمد (٦/٤٦، ٩٣، ٢٠٢، ٢٠٧)، سنن الدارمی/الصوم ١٥(١٧٤٨) (صحیح )
Narrated Aishah: Hamzat al-Aslami asked the Prophet ﷺ: Messenger of Allah, I am a man who keeps perpetual fast, may I fast while on a journey? He replied: Fast if you like, or break your fast if you like.
حمزہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں سواریوں والا ہوں، انہیں لے جایا کرتا ہوں، ان پر سفر کرتا ہوں اور انہیں کرایہ پر بھی دیتا ہوں، اور بسا اوقات مجھے یہی مہینہ یعنی رمضان مل جاتا ہے اور میں جوان ہوں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ روزہ مؤخر کرنے سے آسان یہ ہے کہ اسے رکھ لیا جائے، تاکہ بلاوجہ قرض نہ بنا رہے، اللہ کے رسول! میرے لیے روزہ رکھنے میں زیادہ ثواب ہے یا چھوڑ دینے میں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حمزہ! جیسا بھی تم چاہو ۔
Narrated Hamzat al-Aslami (RA) : I said: Messenger of Allah. I am a master of mounts and I use them! I myself travel on them and I rent them. This month, that is, Ramadan, happend to come to me (while I am on a journey), and I find myself strong enough (to fast) as I am young, and I find that it is easier for me to fast than to postpone it, and i becomes debt due from me. Does it bring me more reward, Messenger of Allah, if I fast, or if I break ? He replied: Whichever you like, Hamzah.
Takhrij · تخریج
تفرد المؤلف بہذا السیاق، وانظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٤٠) (ضعیف) (اس کے رواة محمد بن حمزة اور محمد بن عبد المجید لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے یہاں تک کہ مقام عسفان پر پہنچے، پھر آپ ﷺ نے (پانی وغیرہ کا) برتن منگایا اور اسے اپنے منہ سے لگایا تاکہ آپ اسے لوگوں کو دکھا دیں (کہ میں روزے سے نہیں ہوں) اور یہ رمضان میں ہوا، اسی لیے ابن عباس ؓ کہتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ left Madina for Makkah till he reached Usfan, He then called for a vessel (of water). It was raised to his mouth to show it to the people, and that was in Ramadan. Ibn Abbas used to say: The Prophet ﷺ fasted and he broke his fast. He who likes may fast and he who likes may break.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٨ (١٩٤٨)، صحیح مسلم/الصیام ١٥ (١١١٣)، سنن النسائی/الصیام ٣١ (٢٢٩٣)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ١٠(١٦٦١)، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢١)، مسند احمد (١/٢٤٤، ٣٥٠)، سنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧٤٩) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ رمضان میں سفر کیا تو ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا تو نہ تو روزہ توڑنے والوں نے، روزہ رکھنے والوں پر عیب لگایا، اور نہ روزہ رکھنے والوں نے روزہ توڑنے والوں پر عیب لگایا۔
Narrated Anas (RA) : We travelled along with the Prophet ﷺ during Ramadan. Some of us were fasting and other broke their fast. Those who fasted did not find fault with those who broke, and those who broke their fast did not find fault with those who fasted.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٧ (١٩٤٧)، صحیح مسلم/الصیام ١٥ (١١١٨)، (تحفة الأشراف: ٦٦٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢٣) (صحیح )
قزعہ کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری ؓ کے پاس آیا اور وہ لوگوں کو فتوی دے رہے تھے، اور لوگ ان پر جھکے جا رہے تھے تو میں تنہائی میں ملاقات کی غرض سے انتظار کرتا رہا، جب وہ اکیلے رہ گئے تو میں نے سفر میں رمضان کے مہینے کے روزے کا حکم دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم فتح مکہ کے سال رمضان میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر پر نکلے، سفر میں اللہ کے رسول بھی روزے رکھتے تھے اور ہم بھی، یہاں تک کہ جب منزلیں طے کرتے ہوئے ایک پڑاؤ پر پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اب تم دشمن کے بالکل قریب آگئے ہو، روزہ چھوڑ دینا تمہیں زیادہ توانائی بخشے گا ، چناچہ دوسرے دن ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہیں رکھا، پھر ہمارا سفر جاری رہا پھر ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: صبح تم دشمن کے پاس ہو گے اور روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ قوت بخش ہے، لہٰذا روزہ چھوڑ دو ، یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے تاکید تھی۔ ابوسعید کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس سے پہلے بھی روزے رکھے اور اس کے بعد بھی۔
Narrated Qazaah (RA) : I came to Abu Saeed al-Khudri while he was giving his legal opinion to the people who bent down on him. So I waited to see hi when he was alone. When he became alone, I asked him about keeping fast while travelling. He said: we went out along with the Prophet ﷺ in Ramadan in the year of conquest of Makkah. The Messenger of Allah ﷺ fasted and we fasted until he reached a certain stage. He said: You have come near your enemy; the breaking of fast will bring you more strength. Then morning came when some of us fasted and other broke their fast. He (Abu Saeed al-Khudri) said: We then proceeded and alighted at a stage. He said: You are going to attack your enemy tomorrow morning ; breaking the fast will bring you more strength ; so break your fast (i. e. do not keep fast). This resolution (of breaking the fast) took place (due to the announcement) from the Messenger of Allah ﷺ . Abu Saeed said: Then I found myself keeping fast along with the Prophet ﷺ before and after that.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ١٦ (١١٢٠)، (تحفة الأشراف: ٤٢٨٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصیام ٣١ (٢٣١١)، مسند احمد (٣/٣٥) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ saw a man who had been put in the shade and saw a crowd of people around him (in the course of a journey). He said: Fasting while on journey is not part of righteousness.
انس بن مالک ١ ؎ ؓ سے روایت ہے (جو بنی قشیر کے برادران بنی عبداللہ بن کعب کے ایک فرد ہیں) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے گھوڑ سوار دستے نے ہم پر حملہ کیا، میں اللہ کے رسول ﷺ کے پاس پہنچا، یا یوں کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف چلا، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: بیٹھو، اور ہمارے کھانے میں سے کچھ کھاؤ ، میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا بیٹھو، میں تمہیں نماز اور روزے کے بارے میں بتاتا ہوں: اللہ نے (سفر میں) نماز آدھی کردی ہے، اور مسافر، دودھ پلانے والی، اور حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے ، قسم اللہ کی! آپ ﷺ نے دونوں کا ذکر کیا یا ان دونوں میں سے کسی ایک کا، مجھے رسول اللہ ﷺ کے کھانے میں سے نہ کھا پانے کا افسوس رہا۔
Narrated Anas ibn Malik: A man from Banu Abdullah ibn Kab brethren of Banu Qushayr (not Anas ibn Malik, the well-known Companion), said: A contingent from the cavalry of the Messenger of Allah ﷺ raided us. I reached (for he said went) to the Messenger of Allah ﷺ who was taking his meals. He said: Sit down, and take some from this meal of ours. I said: I am fasting, he said: Sit down, I shall tell you about prayer and fasting. Allah has remitted half the prayer to a traveller, and fasting to the traveller, the woman who is suckling an infant and the woman who is pregnant, I swear by Allah, he mentioned both (i. e. suckling and pregnant women) or one of them. I was grieved for not taking the food of the Messenger of Allah ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ انس بن مالک ؓ رسول اللہ ﷺ کے خادم خاص کے علاوہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٢١ (٧١٥)، سنن النسائی/الصیام ٢٨ (٢٢٧٦)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٢ (١٦٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٧، ٥/٢٩) (حسن صحیح )
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ کسی غزوے میں نکلے، گرمی اس قدر شدید تھی کہ شدت کی وجہ سے ہم میں سے ہر شخص اپنا ہاتھ یا اپنی ہتھیلی اپنے سر پر رکھ لیتا، اس موقعے پر رسول اللہ ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ ؓ کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔
Narrated Abu al-Darda: We went out along with the Messenger of Allah ﷺ for some battle in intense heat, so much so that one of us placed his hand on his head, or placed his palm on his head, due to intense heat, No one of us fasted except the Messenger of Allah ﷺ and Abdullah bin Rawahah.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٥(١٩٤٥)، صحیح مسلم/الصیام ١٧(١١٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٧٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ١٠ (١٦٦٣)، مسند احمد (٥/١٩٤، ٦/١٤٤) (صحیح )
سلمہ بن محبق ہذلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس منزل پر ایسی سواری ہو جو اسے ایسی جگہ پہنچا سکے جہاں اسے راحت و آسودگی ملے تو وہ جہاں بھی رمضان کا مہینہ پالے روزے رکھے ۔
Narrated Salamah ibn al-Muhabbaq al-Hudhali (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone has a riding beast which carries him to where he can get sufficient food, he should keep the fast of Ramadan wherever he is when it comes.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٥٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٤، ٤٧٦، ٥/٧) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الصمد ضعیف ہیں )
سلمہ بن محبق ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حالت سفر میں رمضان جسے پالے …، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
Narrated Salamah bin al-Muhabbaq (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone is on a journey and Ramadan comes. . . He then narrated the rest of the tradition to the same effect.
عبید بن جبر کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے صحابی ابو بصرہ غفاری ؓ کے ہمراہ رمضان میں ایک کشتی میں تھا جو فسطاط شہر کی تھی، کشتی پر بیٹھے ہی تھے کہ صبح کا کھانا آگیا، (جعفر کی روایت میں ہے کہ) شہر کے گھروں سے ابھی آگے نہیں بڑھے تھے کہ انہوں نے دستر خوان منگوایا اور کہنے لگے: نزدیک آجاؤ، میں نے کہا: کیا آپ (شہر کے) گھروں کو نہیں دیکھ رہے ہیں؟ (ابھی تو شہر بھی نہیں نکلا اور آپ کھانا کھا رہے ہیں) کہنے لگے: کیا تم رسول اللہ ﷺ کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟ (جعفر کی روایت میں ہے) تو انہوں نے کھانا کھایا۔
Narrated Abu Busrah al-Ghifari,: Jafar ibn Jubayr said: I accompanied Abu Busrah al-Ghifari, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ , in a boat proceeding from al-Fustat (Cairo) during Ramadan. He was lifted (to the boat), then his meal was brought to him. The narrator Jafar said in his version: He did not go beyond the houses (of the city) but he called for the dining sheet. He said (to me): Come near. I said: Do you not see the houses? Abu Busrah said: Do you detest the sunnah (practice) of the Messenger of Allah ﷺ ? The narrator Jafar said in his version: He then ate (it).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٤٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧، ٣٩٨) سنن الدارمی/الصوم ١٧(١٧٥٤) (صحیح )
منصور کلبی سے روایت ہے کہ دحیہ بن خلیفہ کلبی ؓ ایک بار رمضان میں دمشق کی کسی بستی سے اتنی دور نکلے جتنی دور فسطاط سے عقبہ بستی ہے اور وہ تین میل ہے، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھ کے کچھ لوگوں نے تو روزہ توڑ دیا لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے روزہ توڑنے کو ناپسند کیا، جب وہ اپنی بستی میں لوٹ کر آئے تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! آج میں نے ایسا منظر دیکھا جس کا میں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا، لوگوں نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے طریقے سے اعراض کیا، یہ بات وہ ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے، جنہوں نے سفر میں روزہ رکھا تھا، پھر انہوں نے اسی وقت دعا کی: اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے (ی عنی اس پر آشوب دور میں زندہ رہنے سے موت اچھی ہے) ۔
Narrated Dihyah (RA) : Mansur al-Kalbi said: Dihyah ibn Khalifah once went out from a village of Damascus at as much distance as it measures between Aqabah and al-Fustat during Ramadan; and that is three miles. He then broke his fast and the people broke their fast along with him. But some of them disliked to break their fast. When he came back to his village, he said: I swear by Allah, today I witnessed a thing of which I could not even think to see. The people detested the way of the Messenger of Allah ﷺ and his Companions. He said this to those who fasted. At this moment he said: O Allah, make me die.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٥٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٩٨) (ضعیف) (اس کے راوی منصور کلبی مجہول ہیں )