روزوں کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 9 · 163 hadiths · Page 6 of 9

2414Sunan Abu Dawood

سفر کی وہ مسافت جس کی وجہ سے روزہ افطار کیا جاسکتا ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَيَخْرُجُ إِلَى الْغَابَةِ فَلَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْصِرُ.

نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ غابہ ١ ؎ جاتے تو نہ تو روزہ توڑتے، اور نہ ہی نماز قصر کرتے۔

Nafi said: Ibn Umar used to go out to al-Ghabah (jungle), but he neither broke his fast, nor shortened his prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: غابہ ایک جگہ ہے جو مدینہ سے تھوڑی دور کے فاصلہ پر شام کے راستے میں پڑتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:؟؟؟ ) (صحیح موقوف )
2415Sunan Abu Dawood

یہ نہ کہنا چاہیے کہ میں نے رمضان بھر روزہ رکھا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي صُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَقُمْتُهُ كُلَّهُ. فَلَا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ، أَوْ قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ نَوْمَةٍ أَوْ رَقْدَةٍ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور پورے رمضان کا قیام کیا ۔ راوی حدیث کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ آپ ﷺ کی یہ ممانعت خود اپنے آپ کو پاکباز و عبادت گزار ظاہر کرنے کی ممانعت کی بنا پر تھی، یا اس وجہ سے تھی کہ وہ لازمی طور پر کچھ نہ کچھ سویا ضرور ہوگا (اس طرح یہ غلط بیانی ہوجائے گی) ۔

Narrated Abu Bakrah (RA) : The Prophet ﷺ said: One of you should not say: I fasted the whole of Ramadan, and I prayed during the night in the whole of Ramadan. I do not know whether he disliked the purification; or he (the narrator) said: He must have slept a little and taken rest.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٤ (٢١١١)، (تحفة الأشراف: ١١٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٠، ٤١، ٤٨، ٥٢) (ضعیف) (اس کے راوی حسن بصری مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
2416Sunan Abu Dawood

عید الفطر اور عید الا ضحی کے دن روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، أَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَتَأْكُلُونَ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ.

ابو عبید کہتے ہیں کہ میں عمر ؓ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے: عید الاضحی کے روزے سے تو اس لیے کہ تم اس میں اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو، اور عید الفطر کے روزے سے اس لیے کہ تم اپنے روزوں سے فارغ ہوتے ہو۔

Narrated Abu Ubaid: I attended the Eid (prayer) along with Umar. He offered prayer before the sermon. He then said: The Messenger of Allah ﷺ prohibited fasting on these two days. As regards Id al-Adha, you eat the meat of your sacrificial animals. As for Eid al-Fitr, you break (i. e. end) your fast.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٦ (١٩٩٠)، الأضاحی ١٦ (٥٥٧١)، صحیح مسلم/الصیام ٢٢ (١١٣٧)، سنن الترمذی/الصوم ٥٨ (٧٧١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٦ (١٧٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٦٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العیدین ٢ (٥)، مسند احمد (١/٢٤، ٣٤، ٤٠) (صحیح )
2417Sunan Abu Dawood

عید الفطر اور عید الا ضحی کے دن روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا: ایک عید الفطر کے دوسرے عید الاضحی کے، اسی طرح دو لباسوں سے منع فرمایا ایک صمّاء ١ ؎ دوسرے ایک کپڑے میں احتباء ٢ ؎ کرنے سے (جس سے ستر کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے) نیز دو وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: ایک فجر کے بعد، دوسرے عصر کے بعد۔

Narrated Abu Saeed Al Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade fasting on two days, al-Fitr (breaking the fast of Ramadan) and al-Adha (the day of sacrifice), and wearing a tight single garment the raising of which discloses private parts, and sitting with ones legs drawn up and wrapped in ones garment, and forbade praying at two hours, after the Fajr prayer and after the Asr prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: صماء کی صورت یہ ہے کہ آدمی پورے جسم پر کپڑا لپیٹ لے جس میں کوئی ایسا شگاف نہ ہو کہ ہاتھ باہر نکال سکے اور اپنے ہاتھ سے کوئی موذی چیز دفع کرسکے۔ ٢ ؎: احتباء کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے، انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ دے لے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٦ (٨٨٤)، وجزاء الصید ٢٦ (١٨٦٤)، والصوم ٦٨ (١٩٩٦)، صحیح مسلم/الصوم ٢٢ (٨٢٧)، سنن الترمذی/الصوم ٥٨ (٧٧٢)، (تحفة الأشراف: ٤٤٠٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٦ (١٧٢٢)، مسند احمد (٣/٣٤، ٩٦)، سنن الدارمی/الصوم ٤٣ (١٧٩٤) (صحیح )
2418Sunan Abu Dawood

ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمَا طَعَامًا، فَقَالَ: كُلْ. فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَمْرٌو: كُلْ، فَهَذِهِ الْأَيَّامُ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِإِفْطَارِهَا وَيَنْهَانَا عَنْ صِيَامِهَا. قَالَ مَالِكٌ: وَهِيَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ.

ام ہانی ؓ کے غلام ابو مرہ سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو ؓ کے ہمراہ ان کے والد عمرو بن العاص ؓ کے پاس گئے تو انہوں نے دونوں کے لیے کھانا پیش کیا اور کہا کہ کھاؤ، تو عبداللہ بن عمرو ؓ نے کہا: میں تو روزے سے ہوں ، اس پر عمرو ؓ نے کہا: کھاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ان دنوں میں روزہ توڑ دینے کا حکم فرماتے اور روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ مالک کا بیان ہے کہ یہ ایام تشریق کی بات ہے۔

Abu Murrah, the client of Umm Hani, entered along with Abdullah bin Amr upon his father Amr bin As and he brought food for him. He said: Eat. He said: I am fasting. Amr said: Eat, these are the days on which the Messenger of Allah ﷺ used to command us to break fast, and forbid us to keep fast. The narrator Malik said: These are the day of al-tashriq (i. e. 11th, 12th, and 13th of Dhu al-Hijjah).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٤٤(١٣٧)، مسند احمد (٤/١٩٧)، سنن الدارمی/الصوم ٤٨ (١٨٠٨) (صحیح )
2419Sunan Abu Dawood

ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْمُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یوم عرفہ یوم النحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہے، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔

Narrated Uqbah ibn Amir: The Prophet ﷺ said: The day of Arafah, the day of sacrifice, the days of tashriq are (the days of) our festival, O people of Islam. These are the days of eating and drinking.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٥٩ (٧٧٣)، سنن النسائی/المناسک ١٩٥ (٣٠٠٧)، (تحفة الأشراف: ٩٩٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٢)، سنن الدارمی/الصوم ٤٧ (١٨٠٥) (صحیح )
2420Sunan Abu Dawood

روزہ کے لئے جمعہ کے دن کو مخصوص نہ کرے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَصُمْ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ بِيَوْمٍ أَوْ بَعْدَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں کوئی جمعہ کو روزہ نہ رکھے سوائے اس کے کہ ایک دن پہلے یا بعد کو ملا کر رکھے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: None of you must fast on Friday unless he fasts the day before or the day after.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٢٤ (١١٤٤)، سنن الترمذی/الصوم ٤٢ (٧٤٣)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٧ (١٧٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٠٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ٦٣(١٩٨٥)، مسند احمد (٢/٤٥٨) (صحیح )
2421Sunan Abu Dawood

سینچر کو روزہ کے لئے مخصوص نہ کرے

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ. ح وحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ قُبَيْسٍ مِنْ أَهْلِ جَبَلَة، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، جَمِيعًا عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ أُخْتِهِ، وَقَالَ يَزِيدُ الصَّمَّاءِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِي مَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضَغْهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثٌ مَنْسُوخٌ.

عبداللہ بن بسر سلمی مازنی ؓ اپنی بہن مّاء ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرض روزے کے علاوہ کوئی روزہ سنیچر (ہفتے) کے دن نہ رکھو اگر تم میں سے کسی کو (اس دن کا نفلی روزہ توڑنے کے لیے) کچھ نہ ملے تو انگور کا چھل کہ یا درخت کی لکڑی ہی چبا لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ منسوخ حدیث ہے ١ ؎۔

Narrated As-Samma sister of Abdullah ibn Busr (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not fast on Saturday except what has been made obligatory on you; and if one of you can get nothing but a grape skin or a piece of wood from a tree, he should chew it.

Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اس میں کراہت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی سنیچر کو روزہ کے لئے مخصوص کر دے، کیونکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، اس تأویل کی صورت میں امام ابوداود کا اسے منسوخ کہنا درست نہیں ہے، اور کسی صورت میں اس حدیث میں اور اگلے باب کی حدیث ( اور اس دن کے صیام نبوی کی احادیث) میں کوئی تعارض نہیں باقی رہ جاتا، کہ روزہ رکھنے کی صورت میں اس دن کو مخصوص نہیں کیا گیا، ( ملاحظہ ہو: تہذیب السنن لابن القیم ٣ ؍ ٢٩٧- ٣٠١، و زاد المعاد ١ ؍ ٢٣٧- ٢٣٨، و صحیح ابی داود ٧ ؍ ١٨٠)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٤٣ (٧٤٤)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٨ (١٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٠، ١٨٩٦٤، ١٩٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٨)، سنن الدارمی/الصوم ٤٠ (١٧٩٠) (صحیح )
2422Sunan Abu Dawood

سینچر کے دن روزہ رکھنے کی اجازت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ. ح وحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ حَفْصٌ الْعَتَكِيُّ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ. فَقَالَ: أَصُمْتِ أَمْسِ ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: فَأَفْطِرِي.

ام المؤمنین جویریہ بنت حارث ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لائے اور وہ روزے سے تھیں تو آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم نے کل بھی روزہ رکھا تھا؟ کہا: نہیں، فرمایا: کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ بولیں: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر روزہ توڑ دو ۔

Narrated Juwairiyah, daughter of al-Harith (RA) : That the Prophet ﷺ entered upon her on Friday while she was fasting. He asked: Did you fast yesterday ? She said: No. He again asked: Do you intend to fast tomorrow ? She said: No. He said: So break your fast.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٣ (١٩٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ (٢٧٥٤)، مسند احمد (٦/٣٢٤، ٤٣٠) (صحیح )
2423Sunan Abu Dawood

سینچر کے دن روزہ رکھنے کی اجازت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا ذُكِرَ لَهُ أَنَّهُ نُهِيَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ، يَقُولُ ابْنُ شِهَابٍ: هَذَا حَدِيثٌ حِمْصِيٌّ.

ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ ان کے سامنے جب سنیچر (ہفتے) کے دن روزے کی ممانعت کا تذکرہ آتا تو کہتے کہ یہ حمص والوں کی حدیث ہے ١ ؎۔

Narrated Al-Laith (RA) : When it was mentioned to Ibn Shihab (al-Zuhri) that fasting on Saturday had been prohibited, he would say: This is a Himsi tradition.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس جملہ سے حدیث نمبر (٢٤٢١) کی تضعیف مقصود ہے لیکن، صحیح حدیث کی تضعیف کا یہ انداز بڑا عجیب و غریب ہے، بالخصوص امام زہری جیسے جلیل القدر امام سے، ائمۃ حدیث نے حدیث کی تصحیح فرمائی ہے ( ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٧ ؍ ١٧٩ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث (٢٤٢١)، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٠) (صحیح )
2424Sunan Abu Dawood

سینچر کے دن روزہ رکھنے کی اجازت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: مَا زِلْتُ لَهُ كَاتِمًا حَتَّى رَأَيْتُهُ انْتَشَرَ يَعْنِي حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ هَذَا فِي صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَالِكٌ: هَذَا كَذِبٌ.

اوزاعی کہتے ہیں کہ میں برابر عبداللہ بن بسر ؓ کی حدیث (یعنی سنیچر (ہفتے) کے روزے کی ممانعت والی حدیث) کو چھپاتا رہا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں میں مشہور ہوگئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: یہ روایت جھوٹی ہے ١ ؎۔

Al-Auzai said: I always concealed it, but I found that it became known widely, that is, the tradition on Ibn Busr about fasting on Saturday. Abu Dawud said: Malik said: This is a false (tradition).

Notes · وضاحت
١ ؎: امام مالک کا یہ قول مرفوض ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث (٢٤٢١)، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٠) (صحیح )
2425Sunan Abu Dawood

ہمیشہ روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَصُومُ ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِ. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عُمَرُ، قَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ. فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَدِّدُهَا حَتَّى سَكَنَ غَضَبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ ؟ قَالَ: لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ. قَالَ مُسَدَّدٌ: لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ، أَوْ مَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ، شَكَّ غَيْلَانُ. قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ: أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ: ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ. قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ ؟ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ. ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ، وَصِيَامُ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ، وَصَوْمُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ.

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ روزہ کس طرح رکھتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ کو اس کے اس سوال پر غصہ آگیا، عمر ؓ نے جب یہ منظر دیکھا تو کہا: رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا نعوذ بالله من غضب الله ومن غضب رسوله ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی و مطمئن ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں عمر ؓ یہ کلمات برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا، پھر (عمر ؓ نے) پوچھا: اللہ کے رسول! جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: نہ اس نے روزہ ہی رکھا اور نہ افطار ہی کیا ۔ پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص دو دن روزہ رکھتا ہے، اور ایک دن افطار کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی کسی کے اندر طاقت ہے بھی؟ ۔ (پھر) انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص ایک دن روزہ رکھتا ہے، اور ایک دن افطار کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے ۔ پوچھا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے، اور دو دن افطار کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ مجھے بھی اس کی طاقت ملے پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ہر ماہ کے تین روزے اور رمضان کے روزے ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہیں، یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا، اور اللہ سے یہ بھی امید کرتا ہوں کہ یوم عاشورہ (دس محرم الحرام) کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوگا ۔

Narrated Abu Qatadah (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and said: How do you fast, Messenger of Allah? The Messenger of Allah ﷺ became angry at what he said. When Umar observed this (his anger), he said: We are satisfied with Allah as Lord, with Islam as religion, and with Muhammad as Prophet. We seek refuge in Allah from the anger of Allah, and from the anger of His Messenger. Umar continued to repeat these words till his anger cooled down. He then asked: Messenger of Allah, what is the position of one who observes a perpetual fast? He replied: May he not fast or break his fast. Musaddad said in his version: He has neither fasted nor broken his fast. The narrator, Ghaylan, doubted the actual wordings. He asked: What is the position of one who fasts two days and does not fast one day? He said: Is anyone able to do that? He asked: What is the position of one who fasts every second day (i. e. fasts one day and does not fasts the next day)? He (the Prophet) said: This is the fast that David observed. He asked: Messenger of Allah, what is the position of one who fasts one day and breaks it for two days? He replied: I wish I were given the power to observe that. Then the Messenger of Allah ﷺ said: The observance of three days fast every month and of one Ramadan to the other (i. e. the fast of Ramadan every year) is (equivalent to) a perpetual fast. I seek from Allah that fasting on the day of Arafah may atone for the sins of the preceding and the coming year, and I seek from Allah that fasting on the day of Ashura may atone for the sins of the preceding year.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٦ (١١٦٢)، سنن الترمذی/الصوم ٥٦ (٧٦٧)، سنن النسائی/الصیام ٤٢ (٢٣٨٥)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣١ (١٧٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٢١١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٩٥، ٢٩٦، ٢٩٧، ٢٩٩، ٣٠٣، ٣٠٨، ٣١٠) (صحیح )
2426Sunan Abu Dawood

ہمیشہ روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، زَادَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ صَوْمَ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمِ الْخَمِيسِ ؟ قَالَ: فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ الْقُرْآنُ.

اس سند سے بھی ابوقتادہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: کہا: اللہ کے رسول! دوشنبہ اور جمعرات کے روزے کے متعلق بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا ۔

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢١١٧) (صحیح ) The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Qatadah through a different chain of narrators. This version add: He said: Messenger of Allah, tell me about keeping fast on Monday and Thursday. He said: On it I was born, and on it the Quran was first revealed to me.
2427Sunan Abu Dawood

ہمیشہ روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَقُولُ لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ ؟ قَالَ: أَحْسَبُهُ، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ قُلْتُ ذَاكَ. قَالَ: قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَذَاكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ. قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ وَهُوَ صِيَامُ دَاوُدَ. قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا مجھ سے یہ نہیں بیان کیا گیا ہے کہ تم کہتے ہو: میں ضرور رات میں قیام کروں گا اور دن میں روزہ رکھوں گا؟ کہا: میرا خیال ہے اس پر انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: قیام اللیل کرو اور سوؤ بھی، روزہ رکھو اور کھاؤ پیو بھی، ہر مہینے تین دن روزے رکھو، یہ ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے ۔ عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے اندر اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو وہ کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: میرے اندر اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر ایک دن روزہ رکھو، اور ایک دن افطار کرو، یہ عمدہ روزہ ہے، اور داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے میں نے کہا: مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ۔

Narrated Adb Allah bin Amr bin al-As: The Messenger of Allah ﷺ met me and said: Have I not been informed that you told: I shall stand at prayer all the night, and I shall fast during the day ? He said: I think so. Yes, Messenger of Allah, I have said this. He said: Get up and pray at night and sleep ; fast and break your fast ; fast three days every month: that is equivalent to keeping perpetual fast. I said: Messenger of Allah, I have more power than that. He said: Then fast one day and break your fast one day. That is the most moderate fast ; that is the fast of Dawud (David). He said: I have more power than that. The Messenger of Allah ﷺ said: There is no fast more excellent that it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٥٦ (١٩٧٦)، وأحادیث الأنبیاء ٣٨ (٣٤١٨)، /النکاح ٩٠ (٥١٩٩)، صحیح مسلم/الصیام ٣٥ (١١٥٩)، (تحفة الأشراف: ٨٦٤٥، ٨٩٦٠ )، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ٥٧ (٧٧٠)، سنن النسائی/الصوم ٤٥ (٢٣٩٤)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣١ (١٧٢١)، مسند احمد (٢/١٦٠، ١٦٤)، سنن الدارمی/الصوم ٤٢ (١٧٩٣) (صحیح )
2428Sunan Abu Dawood

حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ مُجِيبَةَ الْبَاهِلِيَّةِ، عَنْ أَبِيهَا أَوْ عَمِّهَا، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْطَلَقَ. فَأَتَاهُ بَعْدَ سَنَةٍ وَقَدْ تَغَيَّرَتْ حَالُهُ وَهَيْئَتُهُ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ قَالَ: وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ: أَنَا الْبَاهِلِيُّ الَّذِي جِئْتُكَ عَامَ الْأَوَّلِ. قَالَ: فَمَا غَيَّرَكَ وَقَدْ كُنْتَ حَسَنَ الْهَيْئَةِ ؟ قَالَ: مَا أَكَلْتُ طَعَامًا إِلَّا بِلَيْلٍ مُنْذُ فَارَقْتُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِمَ عَذَّبْتَ نَفْسَكَ ؟ ثُمَّ قَالَ: صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَيَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ. قَالَ: زِدْنِي فَإِنَّ بِي قُوَّةً. قَالَ: صُمْ يَوْمَيْنِ. قَالَ: زِدْنِي. قَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ. قَالَ: زِدْنِي. قَالَ: صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ، صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ، صُمْ مِنَ الْحُرُمِ وَاتْرُكْ. وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ الثَّلَاثَةِ، فَضَمَّهَا ثُمَّ أَرْسَلَهَا.

مجیبہ باہلیہ اپنے والد یا چچا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر چلے گئے اور ایک سال بعد دوبارہ آئے اس مدت میں ان کی حالت و ہیئت بدل گئی تھی، کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: کون ہو؟ جواب دیا: میں باہلی ہوں جو کہ پہلے سال بھی حاضر ہوا تھا، آپ ﷺ نے کہا: تمہیں کیا ہوگیا؟ تمہاری تو اچھی خاصی حالت تھی؟ جواب دیا: جب سے آپ کے پاس سے گیا ہوں رات کے علاوہ کھایا ہی نہیں ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے آپ کو تم نے عذاب میں کیوں مبتلا کیا؟ پھر فرمایا: صبر کے مہینہ (رمضان) کے روزے رکھو، اور ہر مہینہ ایک روزہ رکھو انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے کیونکہ میرے اندر طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: دو دن روزہ رکھو ، انہوں نے کہا: اس سے زیادہ کی میرے اندر طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تین دن کے روزے رکھ لو ، انہوں نے کہا: اور زیادہ کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا: حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو ، آپ ﷺ نے اپنی تین انگلیوں سے اشارہ کیا، پہلے بند کیا پھر چھوڑ دیا ٢ ؎۔

Narrated Abdullah ibn al-Harith ; or Uncle of Mujibah al-Bahiliyyah (RA) : The father or Uncle of Mujibah al-Bahiliyyah visited the Messenger of Allah ﷺ . He then went away and came to him (again) after one year when his condition and appearance had changed. He said: Messenger of Allah, do you not recognize me? He asked: Who are you? He replied: I am al-Bahili who came to you last year. He said: What has changed you? You were looking well, then you were good in appearance? He said: I have only food at night since I departed from you. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Why did you torment yourself? Fast during Ramadan (the month of patience) and fast for one day every month. He said: Increase it for me, for I have (more) strength. He said: Fast two days. He again said: Increase it for me. He said: Fast three days. He again said: Increase it for me. He said: Fast during the inviolable months and then stop; fast during the inviolable months and then stop; fast during the inviolable months and then stop. He indicated by his three fingers, and joined them and then opened them.

Notes · وضاحت
١ ؎: برابر روزے رکھ رہا ہوں۔ ٢ ؎: یعنی تین دن روزے رکھو پھر تین دن نہ رکھو، پورے مہینوں میں اسی طرح کرتے رہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/(١٧٤١)، (تحفة الأشراف: ٥٢٤٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الصیام (٢٧٤٣)، مسند احمد (٥/٢٨) (ضعیف) (مجیبة کے بارے میں سخت اختلاف ہے، یہ عورت ہیں یا مرد، صحابی ہیں یا تابعی اسی اضطراب کے سبب اس حدیث کو لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے )
2429Sunan Abu Dawood

محرم کے مہینہ میں روزے رکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْمَفْرُوضَةِ صَلَاةٌ مِنَ اللَّيْلِ. لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ: شَهْرٌ، قَالَ: رَمَضَانُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے محرم کے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے، اور فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کی نماز (تہجد) ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: The most excellent fast after Ramadan is Allahs month al-Muharram, and the most excellent prayer after the prescribed prayer is the prayer during night.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٨ (١١٦٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٧ (٤٣٨)، الصوم ٤٠ (٧٤٠)، سنن النسائی/قیام اللیل ٦ (١٦١٤)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٣ (١٧٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٢، ٣٢٩، ٣٤٢، ٣٤٤، ٥٣٥) (صحیح )
2430Sunan Abu Dawood

رجب کے مہینہ میں روزے رکھنا

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صِيَامِ رَجَبٍ. فَقَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ.

عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ابن عباس ؓ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تو رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: افطار ہی نہیں کریں گے، اسی طرح جب روزے چھوڑتے تو چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہتے: اب روزے رکھیں گے ہی نہیں۔

Narrated Uthman bin Hakim: I asked Saeed bin Jubair about fasting during Rajab. He said: Ibn Abbas told me that the Messenger of Allah ﷺ used to fast to such an extent that we thought that he would never break his fast ; and he would go without fasting to such and extent that he would never fast.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ باب کئی نسخوں میں نہیں ہے، جب کہ مولانا وحیدالزماں کے نسخہ میں موجود ہے، اور تبویب حدیث کے مطابق ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٤ (١١٥٧)، (تحفة الأشراف: ٥٥٥٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الصیام ٤١ (٢٣٤٨، ٢٣٤٨)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٠ (١٧١١)، مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٢٧، ٢٣١، ٣٢٦) (صحیح )
2431Sunan Abu Dawood

ماہ شعبان کے روزے رکھنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، سَمِعَعَائِشَةَ تَقُولُ: كَانَأَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو مہینوں میں سب سے زیادہ محبوب یہ تھا کہ آپ شعبان میں روزے رکھیں، پھر اسے رمضان سے ملا دیں۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The month most liked by the Messenger of Allah ﷺ for fasting was Shaban. He then joined it with Ramadan.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٦٢٨٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الصیام (٢٦٥٩) (صحیح )
2432Sunan Abu Dawood

ماہ شعبان کے روزے رکھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، فَقَالَ: إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي يَلِيهِ وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيسٍ، فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَافَقَهُ زَيْدٌ الْعُكْلِيُّ وَخَالَفَهُ أَبُو نُعَيْمٍ. قَالَ: مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.

مسلم قرشی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پورے سال کے روزوں کے متعلق پوچھا، یا آپ سے سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم پر تمہارے اہل کا بھی حق ہے، لہٰذا رمضان اور اس کے بعد (والے ماہ میں) روزے رکھو، اور ہر بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھو تو گویا تم نے پورے سال کا روزہ رکھا ۔

Narrated Muslim al-Qurashi (RA) : I asked or someone asked the Prophet ﷺ about perpetual fasting. He replied: You have a duty to your family. Fast during Ramadan and the following month, and every Wednesday and Thursday. You will then have observed a perpetual fast.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٤٥ (٧٤٨)، (تحفة الأشراف: ٩٧٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٦، ٤/٧٨) (ضعیف) (صحیح مسلم بن عبیداللہ ہے اور یہ لین الحدیث ہیں، ان کے والد کا نام عبیداللہ بن مسلم اور یہ صحابی ہیں )
2433Sunan Abu Dawood

شوال کے مہینہ میں چھ دن کے روزے رکھنا

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ.

ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے ۔

Narrated Abu Ayyub (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone fasts during Ramadan, then follows it with six days in Shawwal, it will be like a perpetual fast.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٢٩ (١١٦٤)، سنن الترمذی/الصوم ٥٣ (٧٥٩)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٣ (١٧١٦)، (تحفة الأشراف: ٣٤٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١٧، ٤١٩)، سنن الدارمی/الصوم ٤٤ (١٧٩٥) (صحیح )