روزوں کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 9 · 163 hadiths · Page 7 of 9

2434Sunan Abu Dawood

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نفلی روزے کس طرح رکھتے تھے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ. وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ. وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ روزے رکھنا نہیں چھوڑیں گے، پھر چھوڑتے چلے جاتے یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ ﷺ روزے نہیں رکھیں گے، میں نے آپ ﷺ کو ماہ رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور جتنے زیادہ روزے شعبان میں رکھتے اتنے روزے کسی اور ماہ میں رکھتے نہیں دیکھا۔

Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : The Messenger of Allah ﷺ used to fast to such an extent that we thought that he would never break his fast, and he would go without fasting to such an extent that we thought he would never fast. I never saw the Messenger of Allah ﷺ fast a complete month except in Ramadan, and I never saw his fast more in any month than in Shaban.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٥٢ (١٩٦٩)، صحیح مسلم/الصیام ٣٤ (١١٥٦)، سنن الترمذی/الصوم ٣٧ (٧٣٦)، سنن النسائی/الصیام ١٩ (٢١٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٧١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٠ (١٧١٠)، موطا امام مالک/الصوم ٢٢ (٥٦)، مسند احمد (٦/٣٩، ٨٠، ٨٤، ٨٩، ١٠٧، ١٢٨، ١٤٣، ١٥٣، ١٦٥، ١٧٩، ٢٣٣، ٢٤٢، ٢٤٩، ٢٦٨) (صحیح )
2435Sunan Abu Dawood

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نفلی روزے کس طرح رکھتے تھے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ. زَادَ: كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ.

ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے، سوائے چند دنوں کے بلکہ پورے شعبان میں روزے رکھتے تھے ۔

The tradition mentioned above has alos been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: He would fast all but a little of Shaban, rather he used to fast the whole of Shaban.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٠١٦) (حسن صحیح )
2436Sunan Abu Dawood

پیر اور جمعرات کاروزہ

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ، عَنْ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ أُسَامَةَ إِلَى وَادِي الْقُرَى فِي طَلَبِ مَالٍ لَهُ، فَكَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ. فَقَالَ لَهُ مَوْلَاهُ: لِمَ تَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ وَأَنْتَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ؟ فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ. وَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّ أَعْمَالَ الْعِبَادِ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا قَالَ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ: عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْحَكَمِ.

اسامہ بن زید ؓ کے غلام کہتے ہیں کہ وہ اسامہ ؓ کے ہمراہ وادی قری کی طرف ان کے مال (اونٹ) کی تلاش میں گئے (اسامہ کا معمول یہ تھا کہ) دوشنبہ (سوموار، پیر) اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے، اس پر ان کے غلام نے ان سے پوچھا: آپ دوشنبہ (سوموار، پیر) اور جمعرات کا روزہ کیوں رکھتے ہیں حالانکہ آپ بہت بوڑھے ہیں؟ کہنے لگے: نبی اکرم ﷺ دوشنبہ اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے، اور جب آپ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: بندوں کے اعمال دوشنبہ اور جمعرات کو (بارگاہ الٰہی میں) پیش کئے جاتے ہیں ۔

Narrated Usamah ibn Zayd: The client of Usamah ibn Zayd said that he went along with Usamah to Wadi al-Qura in pursuit of his camels. He would fast on Monday and Thursday. His client said to him: Why do you fast on Monday and Thursday, while you are an old man? He said: The Prophet of Allah ﷺ used to fast on Monday and Thursday. When he was asked about it, he said: The works of the servants (of Allah) are presented (to Allah) on Monday and Thursday.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٤١ (٢٣٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٠٠، ٢٠١)، سنن الدارمی/الصوم ٤١ (١٧٩١) (صحیح )
2437Sunan Abu Dawood

ذی الحجہ کی دسویں تاریخ تک روزے رکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ امْرَأَتِهِ، عَن بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ.

ہنیدہ بن خالد کی بیوی سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی کسی بیوی سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذی الحجہ کے (شروع) کے نو دنوں کا روزہ رکھتے، اور یوم عاشورہ (دسویں محرم) کا روزہ رکھتے نیز ہر ماہ تین دن یعنی مہینے کے پہلے پیر (سوموار، دوشنبہ) اور جمعرات کا روزہ رکھتے ١ ؎۔

Narrated One of the wives of the Prophet: Hunaydah ibn Khalid narrated from his wife on the authority of one of the wives of the Prophet ﷺ who said: The Messenger of Allah ﷺ used to fast the first nine days of Dhul-Hijjah, Ashura and three days of every month, that is, the first Monday (of the month) and Thursday.

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداود کی اس روایت میں اسی طرح واحد کے لفظ کے ساتھ ہے مگر نسائی کی روایت (رقم ٢٣٧٤) میں تثنیہ الخميسين کے لفظ کے ساتھ ہے، اور سیاق وسباق سے یہی متبادر ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر تین دن کی تفصیل نہیں ہو پاتی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٤١ (٢٣٧١)، ٥١ (٢٤١٩)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧١)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٤٥٢) (صحیح )
2438Sunan Abu Dawood

ذی الحجہ کی دسویں تاریخ تک روزے رکھنا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد بھی (اسے نہیں پاسکتا) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد بھی نہیں، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: There is no virtue more to the liking of Allah in any day than in these days, that is, the first ten days of Dhu al-Hijjah. They (the Companions) asked: Messenger of Allah, not even the struggle in the path of Allah (Jihad) ? He said: (Yes), not even the struggle in the path of Allah, except a man who goes out (in the path of Allah) with his life and property, and does not return with any of them.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ١١ (٩٦٩)، سنن الترمذی/الصوم ٥٢ (٧٥٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٩ (١٧٢٧)، (تحفة الأشراف: ٥٦١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٤، ٣٣٨، ٣٤٦)، سنن الدارمی/الصیام ٥٢ (١٨١٤) (صحیح )
2439Sunan Abu Dawood

ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزے نہ رکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا الْعَشْرَ قَطُّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عشرہ ذی الحجہ ١ ؎ میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔

Aishah said: I never saw the Messenger of Allah ﷺ fasting during the first ten days of Dhu al-Hijjah.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان نو دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے، خاص کر یوم عرفہ (حاجیوں کے میدان عرفات میں وقوف کے دن ) کے روزے کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے، ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے کبھی روزہ نہ رکھا ہو نیز عائشہ ؓ کے نہ دیکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ روزہ نہ رکھتے رہے ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الاعتکاف ٤ (١١٧٦)، سنن الترمذی/الصوم ٥١ (٧٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٤٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٩ (١٧٢٩)، مسند احمد (٦/٤٢، ١٢٤، ١٩٠) (صحیح )
2440Sunan Abu Dawood

عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عُقَيْلٍ، عَنْ مَهْدِيٍّ الْهَجَرِيِّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کے روزے سے منع فرمایا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Ikrimah said: We were with Abu Hurairah in his house when he narrated to us: The Messenger of Allah ﷺ prohibited fasting on the day of Arafah at Arafah.

Notes · وضاحت
١ ؎: یوم عرفہ (عرفہ کے دن) کا روزہ یعنی (٩) ذی الحجہ کے دن کا روزہ، اور سعودی عرب کے ٹائم ٹیبل اور حج کے دن کے اعلان کے مطابق عرفات میں حجاج کے اجتماع کے دن کا روزہ ہے، اور یہ امیر حج کے اعلان کے مطابق مکہ مکرمہ میں اس دن ذی الحجۃ کی (٩) تاریخ ہوگی، اختلاف مطالع کی وجہ سے تاریخوں کے فرق میں عام مسلمان مکہ کی تاریخ کا خیال رکھیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٠ (١٧٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٤، ٤٤٦) (ضعیف) (اس کے راوی ” مہدیٰ الہجری “ لین الحدیث ہیں )
2441Sunan Abu Dawood

عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ. فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَ.

ام الفضل بنت حارث ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس لوگ رسول ﷺ کے یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کے روزے سے متعلق جھگڑنے لگے، کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ آپ ﷺ روزے سے ہیں اور کچھ کہہ رہے تھے کہ روزے سے نہیں ہیں چناچہ میں نے دودھ کا ایک پیالہ آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا اس وقت آپ عرفہ میں اپنے اونٹ پر وقوف کئے ہوئے تھے تو آپ نے اسے نوش فرما لیا۔

Umm al-Fadl, daughter of al-Harith, said: On the day of Arafah some people near her argued whether the Messenger of Allah ﷺ was fasting, some saying that he was, and others saying that he was not. I, therefore, sent him a cup of milk while he was observing the halt at Arafah on his camel, and he drank it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٨٥ (١٦٥٨)، الصوم ٦٥ (١٩٨٨)، الأشربة ١٢ (٥٦٠٤)، صحیح مسلم/الصیام ١٨ (١١٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٥٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٤٣ (١٣٢)، مسند احمد (٦/٣٣٨، ٣٤٠) (صحیح )
2442Sunan Abu Dawood

عاشورہ کے دن روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةُ، وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ بھی اس کا روزہ نبوت سے پہلے رکھتے تھے، پھر جب آپ ﷺ مدینہ آئے تو آپ نے اس کا روزہ رکھا، اور اس کے روزے کا حکم دیا، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو رمضان کے روزے ہی فرض رہے، اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا اب اسے جو چاہے رکھے جو چاہے چھوڑ دے۔

Aishah said: The Quraish used to fast on the day of Ashurah in pre Islamic days. The Messenger of Allah ﷺ would fast on it in pre-Islamic period. When the Messenger of Allah ﷺ came to Madina, he fasted on it and commanded to fast on it. When the fast of Ramadan was prescribed, that became obligatory, and (fasting on) Ashurah was abandoned. He who wishes may fast on it and he who wishes may leave it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٧١٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصیام ١٩ (١١٢٥)، سنن الترمذی/الصوم ٤٩ (٧٥٣)، موطا امام مالک/الصیام ١١(٣٣)، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٣) (صحیح )
2443Sunan Abu Dawood

عاشورہ کے دن روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا نَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کے روزوں فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ (یوم عاشوراء) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے ۔

Ibn Umar said: Ashurah was a day on which we used to fast in pre-Islamic days. When (fasting of) Ramadan was prescribed, the Messenger of Allah ﷺ said: This is one of the days of Allah ; he who wishes may fast on it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٢)، والتفسیر ٢٤ (٤٥٠١)، صحیح مسلم/الصیام ٢٠ (١١٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨١٤٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٤١ (١٧٣٧)، مسند احمد (٢/٥٧)، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٣) (صحیح )
2444Sunan Abu Dawood

عاشورہ کے دن روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ، فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ، وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ.وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا، اس کے متعلق جب ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (وضاحت) کو فرعون پر فتح نصیب کی تھی، چناچہ تعظیم کے طور پر ہم اس دن کا روزہ رکھتے ہیں، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم موسیٰ (علیہ السلام) کے تم سے زیادہ حقدار ہیں ، اور آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔

Ibn Abbas said: When the Prophet ﷺ came to Madina, he found the Jews observing fast on the day of Ashurah; so they were asked about it (by the Prophet). They said: This is a day on which Allah gave Moses domination over Pharaoh. We fast on it out of reverence to him. The Messenger of Allah ﷺ said: We have a closer connection with Moses than you have. He then gave orders that it should be observed.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٤)، أحادیث الأنبیاء ٢٤ (٣٣٩٧)، المناقب ٥٢ (٣٩٤٣)، التفسیر ٢ (٤٧٣٧)، صحیح مسلم/الصیام ١٩ (١١٣٠)، (تحفة الأشراف: ٥٤٥٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ٤٩ (٧٥٣)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤١ (١٧٣٤)، مسند احمد (١/٢٣٦، ٣٤٠)، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٠) (صحیح )
2445Sunan Abu Dawood

اس بات کا بیان کہ عاشورہ نویں تاریخ کو ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ الْقُرَشِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: حِينَ صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَنَا بِصِيَامِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ صُمْنَا يَوْمَ التَّاسِعِ. فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا اور ہمیں بھی اس کے روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے کہ یہود و نصاری اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگلے سال ہم نویں محرم کا بھی روزہ رکھیں گے ، لیکن آئندہ سال نہیں آیا کہ آپ وفات فرما گئے ١ ؎۔

Ibn Abbas said: When the Prophet ﷺ on the day of Ashurah and commanded us to fast on it, they (i. e. Companions) said: Messenger of Allah, this is a day which is considered great by Jews and Christians ? The Messenger of Allah ﷺ said: When the next year comes, we shall fast on the 9th of Muharram. But the next year the Messenger of Allah ﷺ breathed his last.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہود کی مخالفت میں اس کے ساتھ نو کو بھی روزہ رکھنے کا عزم کیا تھا اور قولا اس کا حکم بھی دیا تھا، ویسے ایک دن پہلے بھی روزہ رہنے سے شکرانہ ادا ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٢٠ (١١٣٤)، (تحفة الأشراف: ٦٥٦٦) (صحیح )
2446Sunan Abu Dawood

اس بات کا بیان کہ عاشورہ نویں تاریخ کو ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ غَلَّابٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِيحَاجِبُ بْنُ عُمَرَ، جَمِيعًا الْمَعْنَى عَنْ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ. فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ. فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ التَّاسِعِ فَأَصْبِحْ صَائِمًا. فَقُلْتُ: كَذَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ؟ فَقَالَ: كَذَلِكَ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ.

حکم بن الاعرج کہتے ہیں کہ میں ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت وہ مسجد الحرام میں اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے، میں نے عاشوراء کے روزے سے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: جب تم محرم کا چاند دیکھو تو گنتے رہو اور نویں تاریخ آنے پر روزہ رکھو، میں نے پوچھا: محمد ﷺ بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: (ہاں) محمد ﷺ بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے ١ ؎۔

Al-Hakam bin al-Araj said: I came to Ibn Abbas who was leaning against his sheet of cloth in the Sacred Mosque (al-Masjid al-Haram). I asked him about fasting on the day of Ashurah. He said: When you sight the moon of al-Muharram, count (the days). When the 9th of Muharram comes, fast from the morning. I said: Would Muhammad ﷺ observe this fast ? He replied: Thus Muhammad ﷺ used to fast.

Notes · وضاحت
١ ؎: پچھلی حدیث میں ہے ” آئندہ سال آیا نہیں کہ آپ وفات پا گئے “ اور اس حدیث میں ہے، ” محمد ﷺ بھی اسی طرح (نو محرم کا) روزہ رکھتے تھے “ بات صحیح یہی ہے کہ نو کے روزہ رکھنے کا آپ ﷺ کو موقع نہیں ملا، لیکن ابن عباس ؓ نے اس بنا پر کہہ دیا کہ آپ ﷺ نے آئندہ سے روزہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا، نیز قولا اس کا حکم بھی دیا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٢٠ (١١٣٣)، سنن الترمذی/الصوم ٥٠ (٧٥٤)، (تحفة الأشراف: ٥٤١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٩، ٢٤٦، ٢٨٠، ٣٤٤، ٣٦٠) (صحیح )
2447Sunan Abu Dawood

عاشورہ کے روزے کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ أَسْلَمَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا ؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَاقْضُوهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ.

عبدالرحمٰن بن مسلمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے اپنے اس دن کا روزہ رکھا ہے؟ جواب دیا: نہیں، فرمایا: دن کا بقیہ حصہ بغیر کھائے پئے پورا کرو اور روزے کی قضاء کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی عاشوراء کے دن۔

Narrated Abdur Rahman ibn Maslamah (RA) : Abdur Rahman reported on the authority of his uncle that the people of the tribe Aslam came to the Prophet ﷺ . He said (to them): Did you fast on this day? They replied: No. He said: Complete the rest of your day, and make atonement for it.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الصیام ٣٦ (٢٣٢٠) (تحفة الأشراف: ١٥٦٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٩، ٣٦٧، ٤٠٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الرحمن لین الحدیث ہیں )
2448Sunan Abu Dawood

ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ أَحْمَدَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُعَمْرًا، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى صِيَامُ دَاوُدَ، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ، وَكَانَ يُفْطِرُ يَوْمًا وَيَصُومُ يَوْمًا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود (علیہ السلام) کے روزے ہیں، اور پسندیدہ نماز بھی داود کی نماز ہے: وہ آدھی رات تک سوتے، اور تہائی رات تک قیام کرتے (تہجد پڑھتے) ، پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے، اور ایک دن روزہ نہ رکھتے، ایک دن رکھتے ۔

Abdullah bin And (bin al-As) said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: The fast most liked by Allah is the one observed by Dawud (David), and the prayer dearer to Allah is the one offered by Dawud (David): he would sleep half the night, and stand (in prayer) one-third of it, and sleep one-sixth of it. He would go without fasting one day, and fast the other day.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/قیام اللیل ٧ (١١٣١)، صحیح مسلم/الصیام ٣٥ (١١٥٩)، سنن النسائی/الصیام ٤٠ (٢٣٤٦)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣١ (١٧١٢)، (تحفة الأشراف: ٨٨٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٠٦)، دی/ الصوم (٤٢ (١٧٩٣) (صحیح )
2449Sunan Abu Dawood

ہرمہینہ میں تین روزے رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَنَسٍ أَخِي مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ مِلْحَانَ الْقَيْسِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُنَا أَنْ نَصُومَ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ. قَالَ: وَقَالَ: هُنَّ كَهَيْئَةِ الدَّهْرِ.

قتادہ بن ملحان قیسی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ایام بیض یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخوں میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے، اور فرماتے: یہ پورے سال روزے رکھنے کے مثل ہے ۔

Narrated Qatadah Ibn Malhan al-Qaysi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to command us to fast the days of the white (nights): thirteenth, fourteenth and fifteenth of the month. He said: This is like keeping perpetual fast.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٥١ (٢٤٣٤)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٩ (١٧٠٧)، (تحفة الأشراف: ١١٠٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٥، ٥/٢٧، ٢٨) (صحیح )
2450Sunan Abu Dawood

ہرمہینہ میں تین روزے رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ يَعْنِي مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے کے شروع میں تین دن روزے رکھتے۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to fast three days every month.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٤١ (٧٤٢)، سنن ابن ماجہ/ المناسک ٣٧ (١٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ٩٢٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٦) (حسن )
2451Sunan Abu Dawood

پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ: الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ وَالِاثْنَيْنِ مِنَ الْجُمْعَةِ الْأُخْرَى.

ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مہینے میں تین دن روزے رکھتے تھے یعنی (پہلے ہفتہ کے) دوشنبہ، جمعرات اور دوسرے ہفتے کے دوشنبہ کو ۔

Narrated Hafsah, Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to fast three days every month: Monday, Thursday and Monday in the next week.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٤١ (٢٣٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٧، ٢٨٨)، وانظر ما تقدم برقم: (٢٤٣٧) (حسن )
2452Sunan Abu Dawood

پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.

ہنیدہ خزاعی اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس گئی اور ان سے روزے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کا حکم فرماتے تھے، ان میں سے پہلا دوشنبہ کا ہوتا اور جمعرات کا ١ ؎۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : Hunaydah al-Khuzai reported on the authority of her mother who said: I entered upon Umm Salamah and asked her about fasting. She said: The Messenger of Allah ﷺ used to command me to fast three days every month beginning with Monday or Thursday.

Notes · وضاحت
١ ؎: نسائی میں اس روایت کے الفاظ ہیں، أَوَّلُ خَمِيْسٍ “ ” وَالاثْنَيْنِ وَالاثْنَيْنِ یعنی: مہینے کا پہلا جمعرات اور دوشنبہ، پھر دوسرا دوشنبہ، بعض روایتوں میں تیسرا دن جمعرات ہے (حدیث نمبر: ٢٤٣٧) بعض روایتوں میں درمیان ماہ کے تین دنوں کا تذکرہ ہے، اور اگلی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی خاص دن متعین نہیں تھا، بس تین دن کا روزہ مقصود تھا، سب مختلف اوقات و حالات کے لحاظ سے تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٥١ (٢٤٢١)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٩، ٣١٠) (منکر )
2453Sunan Abu Dawood

مہینہ میں جس دن چاہے روزہ رکھے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَهْرٍ كَانَ يَصُومُ ؟ قَالَتْ: مَا كَانَ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ.

معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے پوچھا: مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے تھے؟ جواب دیا کہ آپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ مہینہ کے کن دنوں میں رکھیں۔

Muadhah (al-Adawiyyah) said: I asked Aisha (RA) : Would the Messenger of Allah ﷺ fast three days every month ? She replied: Yes. I asked: Which days in the month he used to fast ? She replied: He did not care which days of the month he fasted.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٦ (١١٦٠)، سنن الترمذی/الصوم ٥٤ (٧٦٣)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٩ (١٧٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٥) (صحیح )