ام المؤمنین حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے فجر ہونے سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث اور اسحاق بن حازم نے عبداللہ بن ابی بکر سے اسی کے مثل (یعنی مرفوعاً ) روایت کیا ہے، اور اسے معمر، زبیدی، ابن عیینہ اور یونس ایلی نے ام المؤمنین حفصہ ؓ پر موقوف کیا ہے، یہ سارے لوگ زہری سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٣٣ (٧٣٠)، سنن النسائی/الصیام ٣٩ (٢٣٣٣)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٦ (١٧٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٠٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام ٢ (٥)، مسند احمد (٦/٢٧٨)، سنن الدارمی/الصوم ١٠(١٧٤٠) (صحیح )
Narrated Hafsah, Ummul Muminin: The Messenger of Allah ﷺ said: He who does not determine to fast before dawn does not fast.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب میرے پاس تشریف لاتے تو پوچھتے: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ جب میں کہتی: نہیں، تو فرماتے: میں روزے سے ہوں ، ایک دن آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیے میں (کھجور، گھی اور پنیر سے بنا ہوا) ملیدہ آیا ہے، اور اسے ہم نے آپ کے لیے بچا رکھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: لاؤ اسے حاضر کرو ۔ طلحہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے روزے سے ہو کر صبح کی تھی لیکن روزہ توڑ دیا۔
Aishah said: When the Prophet ﷺ entered upon me, he would ask: Do you have food ? When we said: No, he would say: I am fasting. Waki added in his version: Another day when he entered upon us, we said: Messenger of Allah, some pudding (hair) has been presented to us and we have retained it for you. He said: Bring it to me. Talhah said: He fasted in the morning, but broke his fast (that day).
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٢ (١١٥٤)، سنن الترمذی/الصوم ٣٥ (٧٣٤)، سنن النسائی/الصیام ٣٩ (٢٣٢٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٦ (١٧٠١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٩، ٢٠٧) (حسن صحیح )
ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ فتح مکہ کا دن تھا، فاطمہ ؓ آئیں اور رسول اللہ ﷺ کے بائیں جانب بیٹھ گئیں اور میں دائیں جانب بیٹھی، اس کے بعد لونڈی برتن میں کوئی پینے کی چیز لائی، اور آپ ﷺ کو پیش کیا، آپ نے اس میں سے نوش فرمایا، پھر مجھے دے دیا، میں نے بھی پیا، پھر میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی، میں نے روزہ توڑ دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم کسی روزے کی قضاء کر رہی تھیں؟ جواب دیا نہیں، فرمایا: اگر نفلی روزہ تھا تو تجھے کوئی نقصان نہیں ١ ؎۔
Narrated Umm Hani (RA) : On the days of the conquest of Makkah, when Makkah was captured, Fatimah came and sat on the left side of the Messenger of Allah ﷺ , and Umm Hani was on his right side. A slave-girl brought a vessel which contained some drink; she gave it to him and he drank of it. He then gave it to Umm Hani who drank of it. She said: Messenger of Allah, I have broken my fast; I was fasting. He said to her: Were you making atonement for something? She replied: No. He said: Then it does not harm you if it was voluntary (fast).
Notes · وضاحت
١ ؎: ام المومنین حفصہ ؓ کی پچھلی روایت سے فجر ہی سے نیت کا وجوب ثابت ہوتا ہے اور اس باب کی دونوں روایتوں سے عدم وجوب! دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ حفصہ کی روایت فرض روزے سے متعلق ہے، اور باب کی دونوں روایتیں نفلی روزے سے متعلق ہیں، سیاق سے یہ صاف ظاہر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٠٠٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ٣٤ (٧٣٢)، مسند احمد (٦/٣٤٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے اور ام المؤمنین حفصہ ؓ کے لیے کچھ کھانا ہدیے میں آیا، ہم دونوں روزے سے تھیں، ہم نے روزہ توڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہم نے آپ سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ آیا تھا ہمیں اس کے کھانے کی خواہش ہوئی تو روزہ توڑ دیا (یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا: روزہ توڑ دیا تو کوئی بات نہیں، دوسرے دن اس کے بدلے رکھ لینا ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Some food was presented to me and Hafsah. We were fasting, but broke our fast. Then the Messenger of Allah ﷺ entered upon us. We said to him: A gift was presented to us; we coveted it and we broke our fast. The Messenger of Allah ﷺ said: There is no harm to you; keep a fast another day in lieu of it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٣٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ٣٦ (٧٣٥)، موطا امام مالک/الصیام ١٨ (٥٠) (ضعیف) (اس کے راوی زُمَیل مجہول ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت روزہ نہ رکھے سوائے رمضان کے، اور بغیر اس کی اجازت کے اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: It is not allowable for a woman to keep (voluntary) fast when her husband is present without his permission, and she may not allow anyone to enter his house without his permission.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ البیوع ١٢ (٢٠٦٦)، النکاح ٨٤ (٥١٩٢)، النفقات ٥ ٥٣٦٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٦ (١٠٢٦)، سنن الترمذی/الصوم ٦٥ (٧٨٢)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٣ (١٧٦١)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٩٥، ١٤٧٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٦١)، سنن الدارمی/الصوم ٢٠ (١٧٦١) (صحیح) دون ذکر رمضان
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، ہم آپ کے پاس تھے، کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے شوہر صفوان بن معطل ؓ جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں، اور روزہ رکھتی ہوں تو روزہ تڑوا دیتے ہیں، اور فجر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے۔ صفوان اس وقت آپ ﷺ کے پاس موجود تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو ان کی بیوی نے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا یہ الزام کہ نماز پڑھنے پر میں اسے مارتا ہوں تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے جب کہ میں نے اسے (دو دو سورتیں پڑھنے سے) منع کر رکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ اگر ایک ہی سورت پڑھ لیں تب بھی کافی ہے ۔ صفوان نے پھر کہا کہ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس سے روزہ افطار کرا دیتا ہوں تو یہ روزہ رکھتی چلی جاتی ہے، میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کر پاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس دن فرمایا: کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفل روزہ) نہ رکھے ۔ رہی اس کی یہ بات کہ میں سورج نکلنے سے پہلے نماز نہیں پڑھتا تو ہم اس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم اٹھ ہی نہیں پاتے، آپ ﷺ نے فرمایا: جب بھی جاگو نماز پڑھ لیا کرو ١ ؎۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : A woman came to the Prophet ﷺ while we were with him. She said: Messenger of Allah, my husband, Safwan ibn al-Muattal, beats me when I pray, and makes me break my fast when I keep a fast, and he does not offer the dawn prayer until the sun rises. He asked Safwan, who was present, about what she had said. He replied: Messenger of Allah, as for her statement he beats me when I pray, she recites two surahs (during prayer) and I have prohibited her (to do so). He (the Prophet) said: If one surah is recited (during prayer), that is sufficient for the people. (Safwan continued:) As regards her saying he makes me break my fast, she dotes on fasting; I am a young man, I cannot restrain myself. The Messenger of Allah ﷺ said on that day: A woman should not fast except with the permission of her husband. (Safwan said:) As for her statement that I do not pray until the sun rises, we are a people belonging to a class, and that (our profession of supplying water) is already known about us. We do not awake until the sun rises. He said: When you awake, offer your prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: صفوان بن معطل ؓ کے اس بیان سے یہ معلوم ہوا کہ گویا آپ شرعی طور پر اس بات میں معذور تھے، اور یہ واقعہ کبھی کبھار کا ہی ہوسکتا ہے، جس کو مسئلہ بنا کر ان کی بیوی نے عدالت نبوی میں پیش کیا۔ صحابی رسول کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ قصداً و عمداً وہ نماز میں تساہلی کرے گا، رات بھر کی محنت و مزدوری کے بعد آدمی تھک کر چور ہوجاتا ہے، اور فطری طور پر آخری رات کی نیند سے خود سے یا جلدی بیدار ہونا مشکل مسئلہ ہے، اگر کبھی ایسی معذوری ہوجائے تو بیداری کے بعد نماز ادا کرلی جائے، ایک بات یہ بھی واضح رہے کہ صفوان اور ان کے خاندان کے لوگ گہری نیند اور تاخیر سے اٹھنے کی عادت میں مشہور تھے، جیسا کہ زیر بحث حدیث میں صراحت ہے، نیز مسند احمد میں صفوان کا قول ہے کہ: میں گہری نیند والا ہوں، اور ایسے خاندان سے ہوں جو اپنی گہری نیند کے بارے میں مشہور ہیں ( ٣ ؍ ٨٤- ٨٥ )۔ نیز مسند احمد میں ہے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا کہ کن وقتوں میں نماز مکروہ ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فجر کے بعد نماز سے رک جاؤ حتیٰ کہ سورج نکل آئے، جب سورج نکل آئے تو نماز پڑھو ... ( ٥ ؍ ٣١٢ )۔ چناچہ غزوات میں اپنی اسی عادت کی بنا پر قافلہء مجاہدین میں سب سے بعد میں لوگوں کے گرے پڑے سامان سمیٹ کر قافلہ سے مل جاتے ( ملاحظہ ہو واقعہ إفک جو کہ غزوہ بنی مصطلق میں ہوا )۔ یہ بھی واضح رہے کہ فجر میں مسلسل غیر حاضری کا معاملہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے مخفی نہیں رہ سکتا، بلکہ یہ حرکت تو منافقین سے سرزد ہوتی تھی، اور صحابہ کرام کے بارے میں یا صفوان ؓ کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٠١٢)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٣ (١٧٦٢)، مسند احمد (٣/٨٠، ٨٤)، سنن الدارمی/الصوم ٢٠ (١٧٦٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، اگر روزے سے نہ ہو تو کھالے، اور اگر روزے سے ہو تو اس کے حق میں دعا کر دے ۔ ہشام کہتے ہیں: صلا ۃ سے مراد دعا ہے۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you receives an invitation (for a meal), he should accept it. If he isn to fasting, he should eat, and if he is fasten, he should pray. Hisham said: The word salat means to pray (for him to Allah). Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Hafs bin Ghiyath from Hisham.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٥٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٢)، سنن الدارمی/الصوم ٣١ (١٧٧٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، اور آپ ﷺ کا یہ معمول وفات تک رہا، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔
Aishah said: The Prophet ﷺ used to observe retirement (Itikaf) to the mosque during the last ten days of Ramadan till Allah took him, and then his wives observed retirement to the mosque after his death.
ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، ایک سال (کسی وجہ سے) اعتکاف نہیں کرسکے تو اگلے سال آپ ﷺ نے بیس رات کا اعتکاف کیا۔
Narrated Ubayy ibn Kab (RA) : The Prophet ﷺ used to observe Itikaf during the last ten days of Ramadan. One year he did not observe Itikaf. When the next year came, he observed Itikaf for twenty nights (i. e. Days).
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٨ (١٧٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ آپ ﷺ نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، خیمہ لگا دیا گیا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لیے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا، اسے بھی لگایا گیا، نیز میرے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا، جب آپ ﷺ نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے؟ ١ ؎، پھر آپ ﷺ نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لیے مؤخر کردیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا۔
Aishah said: When the Messenger of Allah ﷺ intended to observe Itikaf, he prayed the fajr prayer and then entered his place of seclusion. Once he intended to observe Itikaf during the last ten days of Ramadan. She said: He ordered to pitch a tent for him, and it was pitched. She said: The other wives of the Prophet ﷺ also ordered to pitch tents for them and they were pitched. When he offered the fajr prayer, he saw the tents, and said: What is this ? Did you intend to do an act of virtue ? She said: He then ordered to demolish his tent, and it was demolished. Then his wives also ordered to demolish their tents and they were demolished. He then postponed Itikaf till the first ten days, that is of Shawwal. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Ibn Ishaq and al-Auzai from Yahya bin Saeed in a similar manner, and Malik narrated it from Yahya bin Saeed, saying: He observed Itikaf during twenty days of Shawwal.
Notes · وضاحت
١ ؎: استفہام انکاری ہے یعنی اس کام سے تم سب کے پیش نظر نیکی نہیں ہے، غیرت کی وجہ سے یہ کام کر رہی ہو۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے۔ نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد کے اندر وہ جگہ دکھائی جس میں رسول اللہ ﷺ اعتکاف کیا کرتے تھے۔
Ibn Umar said: The Prophet ﷺ used to observe Itikaf during the last ten days of Ramadan. Nafi said: Abdullah (bin Umar) showed me the place in the mosque where Messenger of Allah ﷺ used to observe Itikaf.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ١ (٢٠٢٥) (دون قولہ: قال نافع ۔۔۔ )، صحیح مسلم/الاعتکاف ١ (١٧٧١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦١ (١٧٧٣)، (تحفة الأشراف: ٨٥٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٣٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
Abu Hurairah said: The Prophet ﷺ used to observe Itikaf during ten days of Ramadan every year. But when the year in which he died, he observed Itikaf for twenty days.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ١٧ (٢٠٤٤)، فضائل القرآن ٧ (٤٩٩٨)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٨ (١٧٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٨١، ٣٣٦، ٣٥٥، ٤١٠)، سنن الدارمی/الصوم ٥٥ (١٨٢٠) (حسن صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف میں ہوتے تو (مسجد ہی سے) اپنا سر میرے قریب کردیتے اور میں اس میں کنگھی کردیتی اور آپ ﷺ گھر میں کسی انسانی ضرورت ہی کے پیش نظر داخل ہوتے تھے۔
Aishah said: When the Messenger of Allah ﷺ observed Itikaf, he would put his head near me, and I would comb it. and he entered the house only to fulfill human needs (i. e. to urinate or to relieve himself).
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
A similar tradition has been transmitted by Aisha (RA) from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. Abu Dawud said: And Yunus also narrated in a similar way from al-Zuhri, and no one supported Malik in his narration from Urwah from Umrah ; and Mamar, Ziyad bin Sad and others have also narrated it from al-Zuhri from Urwah on the authority of Aisha (RA) .
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجرے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کردیتے میں آپ ﷺ کا سر دھو دیتی، کنگھی کردیتی، اور میں حیض سے ہوتی تھی۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ used to observe Itikaf in the mosque and put his head near me through the opening of the apartment, and I would wash his head. Musaddad said: And I would comb it while I was menstruating.
ام المؤمنین صفیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ ﷺ سے میں نے بات چیت کی، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ ﷺ بھی مجھے واپس کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے، (اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید ؓ کے مکان میں تھی) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی (میری بیوی) ہے (ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوجائے) ، وہ بولے: سبحان اللہ! اللہ کے رسول! (آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی) آپ ﷺ نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کچھ (یا کہا: کوئی شر) نہ ڈال دے ۔
Safiyyah said: When the Messenger of Allah ﷺ was observing Itikaf (in the mosque), I would come to him to visit him. I had a talk with him and then stood up. I then returned and he (the Prophet) also stood up to accompany me (to my house). Her dwelling place was in the house of Usamah bin Zaid. Two men from the Ansar (helpers) passed (by him at the moment). When they saw the Prophet ﷺ , they walked quickly. The Prophet ﷺ said: Be at ease, she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Be glory to Allah, Messenger of Allah! He said: Satan runs in man like blood. I feared he might inspire something in your mind, or he said: evil (the narrator doubted).
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ١١ (٢٠٣٨)، ١٢ (٢٠٣٩)، بدء الخلق ١١ (٣٢٨١)، الأحکام ٢١ (٧١٧١)، صحیح مسلم/السلام ٩ (٢١٧٥)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦٥ (١٧٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥٦، ٢٨٥، ٣٠٩، ٦/٣٣٧)، سنن الدارمی/الصوم ٥٥ (١٨٢١)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (٤٩٩٤) (صحیح )
زہری سے اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے جس میں ام المؤمنین صفیہ ؓ کا بیان ہے کہ جب آپ ﷺ مسجد کے اس دروازے پر پہنچے جو ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے دروازے کے پاس ہے تو ان کے قریب سے دو شخص گزرے، اور پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al Zuhri through a different chain of narrators. In this version she said “When he was at the gate of the mosque which was near the gate of Umm Salamah, two men passed them. The narrator then transmitted the tradition to the same effect.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹھہرتے اس کا حال پوچھتے۔
According to the version of Al Nufaili, Aisha (RA) said “The Prophet ﷺ used to pass by a patient while he was observing I’tikaf (in the mosque) but he passed as usual and did not stay asking about him. ” According to the version of Ibn Isa she said “The Prophet ﷺ would visit a patient while he was observing I’tikaf. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٥١٥) (ضعیف) (اس کے راوی لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں قالت السنة کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسے ام المؤمنین عائشہ ؓ کا قول قرار دیا ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The sunnah for one who is observing Itikaf (in a mosque) is not to visit a patient, or to attend a funeral, or touch or embrace ones wife, or go out for anything but necessary purposes. There is no Itikaf without fasting, and there is no Itikaf except in a congregational mosque.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٣٥٤) (حسن صحیح )