روزوں کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 9 · 163 hadiths · Page 9 of 9

2474Sunan Abu Dawood

معتکف کے لئے مریض کے عیادت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَعَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَيْلَةً أَوْ يَوْمًا عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اعْتَكِفْ وَصُمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اعتکاف کرو اور روزہ رکھو ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Umar (may Allah be pleased with him) took a vow in the pre-Islamic days to spend a night or a day in devotion near the Kabah (in the sacred mosque). He asked the Prophet ﷺ about it. He said: Observe Itikaf (i. e. spend a night or a day near the Kabah) and fast.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٣٥٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاعتکاف ١٦ (٢٠٤٣)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور ٧ (١٦٥٦)، سنن الترمذی/الأیمان والنذور ١١ (١٥٣٩)، سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (٣٣٥٥)، كلهم رو وا هذا الحديث بلفظ: ” أوف بنذرک “۔ (صحیح) دون قوله: ” أو يومًا “ وقوله: ” وصم “ (سب کے یہاں صرف ” اپنی نذر پوری کر “ کا لفظ ہے اور بس )
2475Sunan Abu Dawood

معتکف کے لئے مریض کے عیادت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ إِذْ كَبَّرَ النَّاسُ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟ قَالَ: سَبْيُ هَوَازِنَ، أَعْتَقَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَتِلْكَ الْجَارِيَةُ فَأَرْسَلَهَا مَعَهُمْ.

اس سند سے بھی عبداللہ بن بدیل سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے اسی دوران کہ وہ (عمر ؓ) حالت اعتکاف میں تھے لوگوں نے الله أكبر کہا، تو پوچھا: عبداللہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازن والوں کے قیدیوں کو رسول اللہ ﷺ نے آزاد کردیا ہے، کہا: یہ لونڈی بھی (تو انہیں میں سے ہے) ١ ؎ چناچہ انہوں نے اسے بھی ان کے ساتھ آزاد کردیا۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The tradition mentioned above (No. 2468) has also been transmitted by Abdullah ibn Budayl through a different chain of narrators in a similar way. This version adds: While he (Umar) was observing Itikaf (in the sacred mosque), the people uttered (loudly): Allah is most great. He said: What is this, Abdullah? He said: These are the captives of the Hawazin whom the Messenger of Allah ﷺ has set free. He said: This slave-girl too? He sent her along with them.

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ عمر ؓ سے جب یہ سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کردیا ہے تو اپنے بیٹے عبداللہ ؓ سے کہا کہ یہ لونڈی جو میرے پاس ہے وہ بھی تو انہیں قیدیوں میں سے ہے پھر تم اسے کیسے روکے ہوئے ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٥٤) (صحیح )
2476Sunan Abu Dawood

مستحاضہ اعتکاف کرسکتی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اعْتَكَفَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ، فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا وہ (خون میں) پیلا پن اور سرخی دیکھتیں (یعنی انہیں استحاضہ کا خون جاری رہتا) تو بسا اوقات ہم ان کے نیچے (خون کے لیے) بڑا برتن رکھ دیتے اور وہ حالت نماز میں ہوتیں۔

Aishah (may Allaah be pleased with her) said “One of the wives of the Messenger of Allah ﷺ observed I’tikaf along with him (in the mosque). She would see yellowness and redness. Sometimes we would place a washbasin while she prayed. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ١٠ (٣٠٩)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦٦ (١٧٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣١)، سنن الدارمی/الطھارة ٩٣ (٩٠٦) (صحیح )
2333Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ كَانَ بِمِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ فَصَامَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَشَهِدَ رَجُلَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْأَحَدِ، فَقَالَ: لَا يَقْضِي ذَلِكَ الْيَوْمَ الرَّجُلُ وَلَا أَهْلُ مِصْرِهِ، إِلَّا أَنْ يَعْلَمُوا أَنَّ أَهْلَ مِصْرٍ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ قَدْ صَامُوا يَوْمَ الْأَحَدِ، فَيَقْضُونَهُ .

جو کسی شہر میں ہو اور اس نے دوشنبہ ( پیر ) کے دن کا روزہ رکھ لیا ہو اور دو آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے اتوار کی رات چاند دیکھا ہے ( اور اتوار کو روزہ رکھا ہے ) تو انہوں نے کہا: وہ شخص اور اس شہر کے باشندے اس دن کا روزہ قضاء نہیں کریں گے، ہاں اگر معلوم ہو جائے کہ مسلم آبادی والے کسی شہر کے باشندوں نے سنیچر کا روزہ رکھا ہے تو انہیں بھی ایک روزے کی قضاء کرنی پڑے گی ۱؎۔

Al-Hasan said about a person who was in a certain city. He fasted on Monday, and twp persons bore witness that they had sighted the moon on the night of sunday. He said: That man and the people of his city should not fast as an atonement except that they know (for certain) that the people of a certain city of Muslims had fasted on Sunday. In that case they should keep fast as an atonement.