خرید وفروخت کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 20 · 244 hadiths · Page 6 of 13

3427Sunan Abu Dawood

باندیوں کی اجرت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ هُرَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ هُوَ ابْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ١ ؎؟۔

Narrated Rafi bin Khadij (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade earnings of a slave-girl unless it is known from where it came.

Notes · وضاحت
١ ؎: جب تک معلوم نہ ہوجائے کہ لونڈی نے کہاں سے کمایا ہے، حلال طریقے سے یا حرام اس کی کمائی لینا صحیح نہیں ہے، علماء کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لونڈیوں کی کمائی سے اس واسطے منع کیا ہے کہ لوگ ان پر محصول مقرر کرتے تھے، اور وہ جہاں سے بھی ہوتا اسے لا کر اپنے مالک کو دیتی، اگر کام نہ پاتیں تو زنا کی کمائی سے لا کر دیتیں اس واسطے ان کی کمائی سے اس وقت تک منع فرمایا جب تک کہ اس بات کی تحقیق نہ ہوجائے کہ اس کی کمائی حلال طریقے سے ہے، بعض لوگوں کے نزدیک کمائی سے مراد زنا کاری کی کمائی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٥٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤١) (حسن) بما قبلہ
3428Sunan Abu Dawood

باندیوں کی اجرت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ.

ابومسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کتے کی قیمت ١ ؎، زانیہ عورت کی کمائی ٢ ؎، اور کاہن کی اجرت ٣ ؎ لینے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Abu Masud (RA) : The Prophet ﷺ forbade the price paid for a dog, the hire paid to a prostitute, and the gift given to a soothsayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: کتا نجس ہے اس لئے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب سے کتے کی خریدو فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے الا یہ کہ کسی اشد ضرورت مثلاً گھر، جائداد اور جانوروں کی حفاظت کے لئے ہو۔ ٢ ؎: چونکہ زنا گناہ کبیرہ ہے اور فحش امور میں سے ہے اس لئے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد عورت۔ ٣ ؎: علم غیب رب العالمین کے لئے خاص ہے اس کا دعویٰ کرنا عظیم گناہ ہے اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی عوام سے باطل طریقے سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١١٣ (٢٢٣٧)، الإجارة ٢٠ (٢٢٨٢)، الطلاق ٥١ (٥٣٤٦)، الطب ٤٦ (٥٧٦١)، صحیح مسلم/المساقاة ٩ (١٥٦٧)، سنن الترمذی/البیوع ٤٦ (١٢٧٦)، النکاح ٣٧ (١١٣٣)، الطب ٢٣ (٢٠٧١)، سنن النسائی/الصید والذبائح ١٥ (٤٢٩٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٩ (٢١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٢٩(٦٨)، مسند احمد (٤/١١٨، ١٢٠، ١٤٠، ١٤١)، سنن الدارمی/البیوع ٣٤ (٢٦١٠) (صحیح )
3429Sunan Abu Dawood

نرجانور کو مادہ جانور پر چڑھانے کی اجرت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَال: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade (taking hire for) a stallions covering.

Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ مادہ کے حاملہ اور غیر حاملہ ہونے دونوں کا شبہ ہے اسی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإجارة ٢١ (٢٢٨٤)، سنن الترمذی/البیوع ٤٥ (١٢٧٣)، سنن النسائی/البیوع ٩٢ (٤٦٧٥)، (تحفة الأشراف: ٨٢٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٤) (صحیح )
3430Sunan Abu Dawood

سنار کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ، قَالَ: قَطَعْتُ مِنْ أُذُنِ غُلَامٍ أَوْ قُطِعَ مِنْ أُذُنِي، فَقَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ حَاجًّا، فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَرَفَعَنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ هَذَا قَدْ بَلَغَ الْقِصَاصَ ادْعُوا لِي حَجَّامًا لِيَقْتَصَّ مِنْهُ، فَلَمَّا دُعِيَ الْحَجَّامُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنِّي وَهَبْتُ لِخَالَتِي غُلَامًا، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُبَارَكَ لَهَا فِيهِ، فَقُلْتُ لَهَا: لَا تُسَلِّمِيهِ حَجَّامًا، وَلَا صَائِغًا، وَلَا قَصَّابًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق، قَالَ ابْنُ مَاجِدَةَ: رَجُلٌ مَنْ بَنِي سَهْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ.

ابوماجدہ کہتے ہیں میں نے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، یا میرا کان کاٹ لیا گیا، (یہ شک راوی کو ہوا ہے) ابوبکر ؓ ہمارے یہاں حج کے ارادے سے آئے، ہم سب ان کے پاس جمع ہوگئے، تو انہوں نے ہمیں عمر بن خطاب ؓ کے پاس بھیج دیا، عمر ؓ نے کہا: یہ معاملہ تو قصاص تک پہنچ گیا ہے، کسی حجام (پچھنا لگانے والے) کو میرے پاس بلا کر لاؤ تاکہ وہ اس سے (جس نے کان کاٹا ہے) قصاص لے، پھر جب حجام (پچھنا لگانے والا) بلا کر لایا گیا، تو عمر ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام ہبہ کیا اور میں نے امید کی کہ انہیں اس غلام سے برکت ہوگی تو میں نے ان سے کہا کہ اس غلام کو کسی حجام (سینگی لگانے والے) ، سنار اور قصاب کے حوالے نہ کردینا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالاعلی نے اسے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ابن ماجدہ بنو سہم کے ایک فرد ہیں اور انہوں نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے (عمر ؓ سے ان کی روایت مرسل ہے )

Abu Majidah said: I cut the ear of a boy, or he cut my ear (the narrator is doubtful). Abu Bakr then came to us to perform hajj and we got together with him. But he referred us to Umar ibn al-Khattab. Umar (ibn al-Khattab) said: This reached the extent of retaliation. Call a cupper to me so that he may retaliate. When the cupper was called, he (Umar) said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: I gave a boy to my maternal aunt, and I hope that she will be blessed in respect of him. I said to her: Do not entrust him to a supper, nor to a goldsmith, nor to a butcher. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Abd al-Ala from Ibn Ishaq who said: Abu Majidah is a man of Banu Sahm narrating from Umar bin al-Khattab.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧) (ضعیف) (اس کے راوی ابو ماجدہ مجہول ہیں نیز عمر ؓ سے ان کا سماع نہیں ہے )
3431Sunan Abu Dawood(3432)

سنار کا بیان

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق،حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُرَقِيُّ، عَنِابْنِ مَاجِدَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

اس سند سے بھی ابن ماجدہ سہمی عمر بن خطاب ؓ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔

Abu Majidah quoted Umar bin al-Khattab as saying: I heard the Prophet ﷺ say. . . narrating the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٤٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٣) (ضعیف) (دیکھئے حدیث سابق )
3432Sunan Abu Dawood(3431)

سنار کا بیان

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُرَقِيِّ، عَنِابْنِ مَاجِدَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

ابن ماجدہ سہمی نے عمر بن خطاب ؓ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

A similar tradition has also been transmitted by Abu Majidah al-Sahmi from Umar bin al-Khattab through a different chain of narrators.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٣) (ضعیف) (عمر ؓ سے ابو ماجدہ کی روایت مرسل ہے نیز وہ مجہول ہیں )
3433Sunan Abu Dawood

جو مالدار غلام فروخت کیا جائے اس کا بیان کہ مال کس کی ملکیت ہوگا؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ بَاعَ عَبْدًا، وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا مُؤَبَّرًا، فَالثَّمَرَةُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی غلام کو بیچا اور اس کے پاس مال ہو، تو اس کا مال بائع لے گا، الا یہ کہتے ہیں کہ خریدار پہلے سے اس مال کی شرط لگالے ١ ؎، (ایسے ہی) جس نے تابیر (اصلاح) کئے ہوئے (گابھا دئیے ہوئے کھجور کا درخت بیچا تو پھل بائع کا ہوگا الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگالے (کہ پھل میں لوں گا) ۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone buys a slave who possesses property. his property belongs to the seller unless buyer makes a provision and if anyone buys palm-trees after they have been fecundated, the fruit belongs to the seller unless the buyer make a provision.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ شرط لگائے کہ غلام کے پاس جو مال ہوگا، وہ میرا ہوگا، تو پھر وہ خریدار کو ملے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٩٠ (٢٢٠٣)، ٩٢ (٢٢٠٦)، المساقاة ١٧ (٢٣٧٩)، الشروط ٢ (٢٧١٦)، صحیح مسلم/البیوع ١٥ (١٥٤٣)، سنن الترمذی/البیوع ٢٥ (١٢٤٤)، سنن النسائی/البیوع ٧٤ (٤٦٤٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣١ (٢٢١٠)، (تحفة الأشراف: ٦٨١٩، ٨٣٣٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٧ (١٠)، مسند احمد (٢/٦)، سنن الدارمی/البیوع ٢٧ (٢٦٠٣) (صحیح )
3434Sunan Abu Dawood

جو مالدار غلام فروخت کیا جائے اس کا بیان کہ مال کس کی ملکیت ہوگا؟

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِقِصَّةِ الْعَبْدِ، وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِقِصَّةِ النَّخْلِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَاخْتَلَفَ الزُّهْرِيُّ، وَنَافِعٌ، فِي أَرْبَعَةِ أَحَادِيثَ هَذَا أَحَدُهَا.

عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے غلام کا واقعہ روایت کیا ہے، اور نافع نے ابن عمر ؓ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کھجور کے درخت کے واقعہ کی روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری اور نافع نے چار حدیثوں میں اختلاف کیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے۔

This tradition has also been narrated by Umar from the Messenger of Allah ﷺ through a different chain of narrators. It mentions only the sale of the slave. It has also been transmitted by Nafi on the authority of Ibn Umar from the Prophet ﷺ indicating only the sale of palm-trees. Abu Dawud said: Al-Zuhri and Nafi differed among themselves in four traditions. This is one of them.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٨٣٣٠، ١١٥٥٨) (صحیح )
3435Sunan Abu Dawood

جو مالدار غلام فروخت کیا جائے اس کا بیان کہ مال کس کی ملکیت ہوگا؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَاعَ عَبْدًا، وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ، لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو مال بیچنے والے کو ملے گا، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگالے (کہ مال میں لوں گا تو پھر خریدار ہی پائے گا) ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone buys a slave who possesses property, his property belongs to the seller unless the buyer makes a proviso.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣١٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠١) (صحیح )
3436Sunan Abu Dawood

تاجروں سے شہر سے باہر ہی سودا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا تَلَقَّوْا السِّلَعَ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا الْأَسْوَاقَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے ١ ؎ اور تاجر سے پہلے ہی مل کر سودا نہ کرے جب تک کہ وہ اپنا سامان بازار میں نہ اتار لے ٢ ؎۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: None of you must buy in opposition to one another ; and do not go out to meet the merchandise, (but one must wait) till it is brought down to the market.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک کے خریدار کو دوسرا نہ بلائے، یا اس کے گاہک کو نہ توڑے، مثلا، یہ کہے کہ یہ اتنے میں دے رہا ہے، تو چل میرے ساتھ میں تجھے یہی مال اس سے اتنے کم میں دے دوں گا۔ ٢ ؎: چونکہ تاجر کو بازار کی قیمت کا صحیح علم نہیں ہے اس لئے بازار میں پہنچنے سے پہلے اس سے سامان خریدنے میں تاجر کو دھوکہ ہوسکتا ہے، اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے تاجروں کے بازار میں پہنچنے سے پہلے ان سے مل کر ان کا سامان خریدنے سے منع فرما دیا ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تاجر کو اختیار حاصل ہوگا بیع کے نفاذ اور عدم نفاذ کے سلسلہ میں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٧١ (٢١٦٨)، صحیح مسلم/البیوع ٥ (١٥١٧)، سنن النسائی/البیوع ١٨ (٤٥٠٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات (٢١٧٩)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٩، ٨٠٥٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ البیوع ٤٥ (٩٥)، مسند احمد (٢/٧، ٢٢، ٦٣، ٩١) (صحیح )
3437Sunan Abu Dawood

تاجروں سے شہر سے باہر ہی سودا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ فَإِنْ تَلَقَّاهُ مُتَلَقٍّ مُشْتَرٍ، فَاشْتَرَاهُ، فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ، يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ: لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، أَنْ يَقُولَ: إِنَّ عِنْدِي خَيْرًا مِنْهُ بِعَشَرَةٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جلب سے یعنی مال تجارت بازار میں آنے سے پہلے ہی راہ میں جا کر سودا کرلینے سے منع فرمایا ہے، لیکن اگر خریدنے والے نے آگے بڑھ کر (ارزاں) خرید لیا، تو صاحب سامان کو بازار میں آنے کے بعد اختیار ہے (کہ وہ چاہے اس بیع کو باقی رکھے، اور چاہے تو فسخ کر دے) ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ سفیان نے کہا کہ کسی کے بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ (خریدار کوئی چیز مثلاً گیارہ روپے میں خرید رہا ہے تو کوئی اس سے یہ نہ کہے) کہ میرے پاس اس سے بہتر مال دس روپے میں مل جائے گا۔

Abu Hurairah said: Do not go our to meet what is being brought (to market for sale). If anyone does so and buys some of it, the owner of merchandise has a choice (of canceling the deal) when it comes to the market. Abu Ali said: I heard Abu Dawud say: Sufyan said: none of you must buy in opposition to one another ; that is he says: I have a better one for ten (dirhams).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع (١٢٢١، ١٢٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع ٥ (١٥١٩)، سنن النسائی/البیوع ١٦ (٤٥٠٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٦ (٢١٧٩)، مسند احمد (٢/٢٨٤، ٤٠٣، ٤٨٨)، سنن الدارمی/البیوع ٣٢ (٢٦٠٨) (صحیح )
3438Sunan Abu Dawood

بولی بڑھانے کے لئے قیمت لگانا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَنَاجَشُوا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نجش نہ کرو ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ forbade to bid against one another.

Notes · وضاحت
١ ؎: نجش یہ ہے کہ بیچی جانے والی چیز کی تعریف کر کے بائع کی موافقت کی جائے، یا خریداری کا ارادہ نہ ہو لیکن دوسرے کو پھنسانے کے لئے بیچنے والے کے سامان کی قیمت بڑھا دی جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٤٠)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٣)، والبیوع ٤ (١٥٢٠)، سنن الترمذی/البیوع ٦٥ (١٣٠٤)، سنن النسائی/البیوع ١٢ (٤٤٩٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات (٢١٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٤٥ (٩٦)، مسند احمد (٤/٣٣٨، ٣٥٤، ٣٩٤، ٤٠٢، ٤١٠) (صحیح )
3439Sunan Abu Dawood

شہری کے لئے دیہاتی کا سامان بیچنے کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، فَقُلْتُ: مَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ؟، قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز بیچے، میں (طاؤس) نے کہا: شہری دیہاتی کی چیز نہ بیچے اس کا کیا مطلب ہے؟ تو ابن عباس نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ) وہ اس کی دلالی نہ کرے ١ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade a townsman to sell for a man from the desert. I asked: What do you mean by the selling of a townsman for a man from the desert ? He replied: He should not be a broker for him.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بستی والا باہر سے آئے ہوئے تاجر کا دلال بن کر نہ تو اس کے ہاتھ کوئی چیز بیچے اور نہ ہی اس کے لئے کوئی چیز خریدے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں بستی والوں کا خسارہ ہے، جب کہ باہر سے آنے والا اگر خود خریدو فروخت کرتا ہے تو وہ مسافر ہونے کی وجہ سے بازار میں جس دن پہنچا ہے اسی دن کی قیمت سے خریدو فروخت کرے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٦٨ (٢١٥٨)، ٧١ (٢١٦٣)، الإجارة ١٤ (٢٢٧٤)، صحیح مسلم/البیوع ٦ (١٥٢١)، سنن النسائی/البیوع ١٦ (٤٥٠٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٥ (٢١٧٧)، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٨) (صحیح )
3440Sunan Abu Dawood

شہری کے لئے دیہاتی کا سامان بیچنے کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الزِّبْرِقَانِ أَبَا هَمَّامٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ زُهَيْرٌ: وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت حَفْصَ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَهِيَ كَلِمَةٌ جَامِعَةٌ لَا يَبِيعُ لَهُ شَيْئًا، وَلَا يَبْتَاعُ لَهُ شَيْئًا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے حفص بن عمر کو کہتے ہوئے سنا: مجھ سے ابوہلال نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے محمد نے بیان کیا انہوں نے انس بن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: لوگ کہا کرتے تھے کہ شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، یہ ایک جامع کلمہ ہے (مفہوم یہ ہے کہ) نہ اس کے واسطے کوئی چیز بیچے اور نہ اس کے لیے کوئی چیز خریدے (یہ ممانعت دونوں کو عام ہے) ۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: A townsman must not sell for a man from the desert, even if he is his brother or father. Abu Dawud said: Anas bin Malik (RA) said: It was said: A townsman must not sell for a man from the desert. This phrase carries a broad meaning. It means that the (the townsman) must not sell anything for him or buy anything for him.

Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ اسے خود بیچنے دے کیونکہ رعایت سے بیچے گا اور خریداروں کو اس سے فائدہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ١٥ (٤٤٩٧)، (تحفة الأشراف: ٥٢٥، ١٤٥٤)، حدیث حفص بن عمر قد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٧٠ (٢١٦١)، صحیح مسلم/البیوع ٦ (١٥٢٣)، وحدیث زہیر بن حرب قد أخرجہ (صحیح )
3441Sunan Abu Dawood

شہری کے لئے دیہاتی کا سامان بیچنے کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَالِمٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا حَدَّثَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ بِحَلُوبَةٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى السُّوقِ فَانْظُرْ مَنْ يُبَايِعُكَ، فَشَاوِرْنِي حَتَّى آمُرَكَ أَوْ أَنْهَاكَ.

سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اپنی ایک دودھاری اونٹنی لے کر آیا، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا، اور طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے پاس قیام کیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے (اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا دلال بن کر تو نہ جاؤں گا) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خریدو فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو۔

Narrated Salim al-Makki (RA) : That a bedouin told him that he brought a milch she-camel in the time of the Messenger of Allah ﷺ . He alighted with Talhah ibn Ubaydullah (and wanted to sell his milch animal to him). He said: The Prophet ﷺ forbade a townsman to sell for a man from the desert. But go to the market and see who buys from you. consult me thereafter, and then I shall ask you (to sell) or forbid you.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٠١٩) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک راوی اعرابی مبہم ہے )
3442Sunan Abu Dawood

شہری کے لئے دیہاتی کا سامان بیچنے کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا عُبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَذَرُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو (انہیں خود سے لین دین کرنے دو ) اللہ بعض کو بعض کے ذریعہ روزی دیتا ہے ۔

Narrated Jabir: The Messenger of Allah ﷺ as saying: A townsman must not sell for a man from the desert ; and leave people alone, Allah will give them provision from one another.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٦ (١٥٢٢)، (تحفة الأشراف: ٢٧٢١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ١٣ (١٢٢٣)، سنن النسائی/البیوع ١٥ (٤٥٠٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٥ (٢١٧٧)، مسند احمد (٢/٣٧٩، ٤٦٥) (صحیح )
3443Sunan Abu Dawood

جس بکری کے تھن میں کی روز کا دودھ جمع ہو اگر اسے کسی نے خریدنے کے بعد ناپسند کیا تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تجارتی قافلوں سے آگے بڑھ کر نہ ملو ١ ؎، کسی کی بیع پر بیع نہ کرو، اور اونٹ و بکری کا تصریہ ٢ ؎ نہ کرو جس نے کوئی ایسی بکری یا اونٹنی خریدی تو اسے دودھ دوہنے کے بعد اختیار ہے، چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو پسند کر کے اسے واپس کر دے، اور ساتھ میں ایک صاع کھجور دیدے ٣ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not go out to meet riders to conduct business with them ; none of you must buy in opposition to one another; and do not tie up the udders of camels and sheep, for he who buys them after that has been done has two courses open to him after milking them: he may keep them if he is pleased with them, or he may return them along with a sa of dates is he is displeased with them.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مال بازار میں پہنچنے سے پہلے راستہ میں مالکان سے مل کر سودا نہ طے کرلو۔ ٢ ؎: تھن میں دو یا تین دن تک دودھ چھوڑے رکھنے اور نہ دوہنے کو تصریہ کہتے ہیں تاکہ اونٹنی یا بکری دودھاری سمجھی جائے اور جلد اور اچھے پیسوں میں بک جائے۔ ٣ ؎: کسی ثابت شدہ حدیث کی تردید یہ کہہ کر نہیں کی جاسکتی کہ کسی مخالف اصل سے اس کا ٹکراو ہے یا اس میں مثلیت نہیں پائی جارہی ہے اس لئے عقل اسے تسلیم نہیں کرتی بلکہ شریعت سے جو چیز ثابت ہو وہی اصل ہے اور اس پر عمل واجب ہے، اسی طرح حدیث مصراۃ ان احادیث میں سے ہے جو ثابت شدہ ہیں لہٰذا کسی قیل وقال کے بغیر اس پر عمل واجب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٦٤ (٢١٥٠)، صحیح مسلم/البیوع ٤ (١٥١٥)، سنن النسائی/ البیوع ١٥ (٤٥٠١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٣ (٢١٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٠٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ١٣ (١٢٢٣)، موطا امام مالک/البیوع ٤٥ (٩٦)، مسند احمد (٢/٣٧٩، ٤٦٥) (صحیح )
3444Sunan Abu Dawood

جس بکری کے تھن میں کی روز کا دودھ جمع ہو اگر اسے کسی نے خریدنے کے بعد ناپسند کیا تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٌ، وَحَبِيبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے تصریہ کی ہوئی بکری خریدی تو اسے تین دن تک اختیار ہے چاہے تو اسے لوٹا دے، اور ساتھ میں ایک صاع غلہ (جو غلہ بھی میسر ہو) دیدے، گیہوں دینا ضروری نہیں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone buys sheep whose udders have been tied up, he has option for three days: he may return it if he desires with a sa of any grain, not (necessarily) wheat.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٤٣١، ١٤٥٦٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٦٤ (٢١٤٩)، ٦٥ (٢١٥١)، صحیح مسلم/البیوع ٧ (١٥٢٥)، سنن الترمذی/البیوع ٢٩ (١٢٥٢)، سنن النسائی/البیوع ١٤ (٤٤٩٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٢ (٢٢٣٩)، موطا امام مالک/البیوع ٤٥ (٩٦)، مسند احمد (٢/٢٤٨، ٣٩٤، ٤٦٠، ٤٦٥)، سنن الدارمی/البیوع ١٩ (٢٥٩٥) (صحیح )
3445Sunan Abu Dawood

جس بکری کے تھن میں کی روز کا دودھ جمع ہو اگر اسے کسی نے خریدنے کے بعد ناپسند کیا تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَخْلَدٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ،أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اشْتَرَى غَنَمًا مُصَرَّاةً احْتَلَبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا فَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے تھن میں دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدی اسے دوہا، تو اگر اسے پسند ہو تو روک لے اور اگر ناپسند ہو تو دوہنے کے عوض ایک صاع کھجور دے کر اسے واپس پھیر دے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone buys sheep or goat whose udders have been tied up and he milked it, he may keep it if he is pleased with it, or he may return it if he is displeased with it. There is one sa of dates (which he must give to the seller) for milking it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٦٥ (٢١٥١)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٢٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع ٧ (١٥٢٤) (صحیح )
3446Sunan Abu Dawood

جس بکری کے تھن میں کی روز کا دودھ جمع ہو اگر اسے کسی نے خریدنے کے بعد ناپسند کیا تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ ابْتَاعَ مُحَفَّلَةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا مِثْلَ أَوْ مِثْلَيْ لَبَنِهَا قَمْحًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی تھن میں دودھ جمع کی ہوئی (مادہ) خریدے تو تین دن تک اسے اختیار ہے (چاہے تو رکھ لے تو کوئی بات نہیں) اور اگر واپس کرتا ہے، تو اس کے ساتھ اس کے دودھ کے برابر یا اس دودھ کے دو گنا گیہوں بھی دے ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone buys a sheep whose udders have been tied up, he has option for three days (for decision). If he returns it, he should return with it wheat equal to its milk or double of it.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٢ (٢٢٤٠)، (تحفة الأشراف: ٦٦٧٥) (ضعیف) (اس کا راوی جمیع ضعیف اور رافضی ہے، اور یہ صحیح احادیث کے خلاف بھی ہے )