باندیوں کی اجرت لینے کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ هُرَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ هُوَ ابْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ حَتَّى يُعْلَمَ مِنْ أَيْنَ هُوَ.
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ١ ؎؟۔
Narrated Rafi bin Khadij (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade earnings of a slave-girl unless it is known from where it came.
Notes · وضاحت
١ ؎: جب تک معلوم نہ ہوجائے کہ لونڈی نے کہاں سے کمایا ہے، حلال طریقے سے یا حرام اس کی کمائی لینا صحیح نہیں ہے، علماء کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لونڈیوں کی کمائی سے اس واسطے منع کیا ہے کہ لوگ ان پر محصول مقرر کرتے تھے، اور وہ جہاں سے بھی ہوتا اسے لا کر اپنے مالک کو دیتی، اگر کام نہ پاتیں تو زنا کی کمائی سے لا کر دیتیں اس واسطے ان کی کمائی سے اس وقت تک منع فرمایا جب تک کہ اس بات کی تحقیق نہ ہوجائے کہ اس کی کمائی حلال طریقے سے ہے، بعض لوگوں کے نزدیک کمائی سے مراد زنا کاری کی کمائی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٥٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤١) (حسن) بما قبلہ