Sunan Abu Dawood 3439

خرید وفروخت کا بیان

3439Sunan Abu Dawood

شہری کے لئے دیہاتی کا سامان بیچنے کی ممانعت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، فَقُلْتُ: مَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ؟، قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز بیچے، میں (طاؤس) نے کہا: شہری دیہاتی کی چیز نہ بیچے اس کا کیا مطلب ہے؟ تو ابن عباس نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ) وہ اس کی دلالی نہ کرے ١ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade a townsman to sell for a man from the desert. I asked: What do you mean by the selling of a townsman for a man from the desert ? He replied: He should not be a broker for him.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بستی والا باہر سے آئے ہوئے تاجر کا دلال بن کر نہ تو اس کے ہاتھ کوئی چیز بیچے اور نہ ہی اس کے لئے کوئی چیز خریدے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں بستی والوں کا خسارہ ہے، جب کہ باہر سے آنے والا اگر خود خریدو فروخت کرتا ہے تو وہ مسافر ہونے کی وجہ سے بازار میں جس دن پہنچا ہے اسی دن کی قیمت سے خریدو فروخت کرے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٦٨ (٢١٥٨)، ٧١ (٢١٦٣)، الإجارة ١٤ (٢٢٧٤)، صحیح مسلم/البیوع ٦ (١٥٢١)، سنن النسائی/البیوع ١٦ (٤٥٠٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٥ (٢١٧٧)، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٨) (صحیح )