بولی بڑھانے کے لئے قیمت لگانا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَنَاجَشُوا.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نجش نہ کرو ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ forbade to bid against one another.
Notes · وضاحت
١ ؎: نجش یہ ہے کہ بیچی جانے والی چیز کی تعریف کر کے بائع کی موافقت کی جائے، یا خریداری کا ارادہ نہ ہو لیکن دوسرے کو پھنسانے کے لئے بیچنے والے کے سامان کی قیمت بڑھا دی جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٤٠)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٣)، والبیوع ٤ (١٥٢٠)، سنن الترمذی/البیوع ٦٥ (١٣٠٤)، سنن النسائی/البیوع ١٢ (٤٤٩٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات (٢١٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٤٥ (٩٦)، مسند احمد (٤/٣٣٨، ٣٥٤، ٣٩٤، ٤٠٢، ٤١٠) (صحیح )