جو مالدار غلام فروخت کیا جائے اس کا بیان کہ مال کس کی ملکیت ہوگا؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ بَاعَ عَبْدًا، وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا مُؤَبَّرًا، فَالثَّمَرَةُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی غلام کو بیچا اور اس کے پاس مال ہو، تو اس کا مال بائع لے گا، الا یہ کہتے ہیں کہ خریدار پہلے سے اس مال کی شرط لگالے ١ ؎، (ایسے ہی) جس نے تابیر (اصلاح) کئے ہوئے (گابھا دئیے ہوئے کھجور کا درخت بیچا تو پھل بائع کا ہوگا الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگالے (کہ پھل میں لوں گا) ۔
Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone buys a slave who possesses property. his property belongs to the seller unless buyer makes a provision and if anyone buys palm-trees after they have been fecundated, the fruit belongs to the seller unless the buyer make a provision.