بنو عدی بن کعب کے ایک فرد معمر بن ابی معمر ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھاؤ بڑھانے کے لیے احتکار (ذخیرہ اندوزی) وہی کرتا ہے جو خطاکار ہو ۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے کہا: آپ تو احتکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا: معمر بھی احتکار کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد سے پوچھا: حکرہ کیا ہے؟ (یعنی احتکار کا اطلاق کس چیز پر ہوگا) انہوں نے کہا: جس پر لوگوں کی زندگی موقوف ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی کہتے ہیں: احتکار (ذخیرہ اندوزی) کرنے والا وہ ہے جو بازار کے آڑے آئے یعنی اس کے لیے رکاوٹ بنے۔
Narrated Mamar bin Abi Mamar, one of the children of Adi bin Kab (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: No one withholds goods till their price rises but a sinner. I said to Saeed (b. al-Musayyab): You withhold goods till their price rises. He said: Mamar used to withhold goods till their price rose. Abu Dawud said: I asked Ahmad (b. Hanbal): What is hoarding (hukrah) ? He replied: That on which people live. Abu Dawud said: Al-Auzai said: A muhtakir (one who hoards) is one who withholds supply of goods in the market.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٢٦ (١٦٠٥)، سنن الترمذی/البیوع ٤٠ (١٢٦٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦ (٢١٥٤)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ٤٥٣، ٦/٤٠٠)، سنن الدارمی/البیوع ١٢ (٢٥٨٥) (صحیح )
قتادہ کہتے ہیں کھجور میں احتکار (ذخیرہ اندودزی) نہیں ہے۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا حدثنا همام عن قتادة عن الحسن محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا: عن قتادة کے بعد عن الحسن نہ کہیے (کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان (ابن سعید ثوری) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لوگ احتکار (ذخیرہ اندوزی) کو ناپسند کرتے تھے۔ اور میں نے ابوبکر بن عیاش سے پوچھا تو انہوں نے کہا: روک لو (کوئی حرج نہیں ہے) ۔
Qatadah said: Hoarding does not apply to dried dates. Ibn al-Muthanna said that he (Yahya bin Fayyad) reported on the authority of al-Hasan. We (Ibn al-Muthanna) said to him (Yahya): Do not say: on the authority of al-Hasan. Abu Dawud said: This tradition according to us is false. Abu Dawud said: Saeed bin al-Musayyab used to hoard kernel, fodder, and seeds. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Yunus say: I asked Sufyan about hoarding fodder. He replied: They (the people in the past) disapproved of hoarding. I asked Abu Bakr bin Ayyash (about it). He replied: Hoard it.
عبداللہ (مزنی) ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے رائج سکے کو توڑنے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ کسی کو ضرورت ہو۔
Narrated Alqamah bin Abdullah (RA) : On the authority of his father, who said: The Messenger of Allah ﷺ forbade to break the coins of the Muslims current among them except for some defect.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٢ (٢٢٦٣)، (تحفة الأشراف: ٨٩٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٩) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن فضاء ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نرخ مقرر فرما دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: (میں نرخ مقرر تو نہیں کروں گا) البتہ دعا کروں گا (کہ غلہ سستا ہوجائے) ، پھر ایک اور شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے بھی کہا: اللہ کے رسول! نرخ متعین فرما دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ ہی نرخ گراتا اور اٹھاتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ سے اس طرح ملوں کہ کسی کی طرف سے مجھ پر زیادتی کا الزام نہ ہو ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A man came and said: Messenger of Allah, fix prices. He said: (No), but I shall pray. Again the man came and said: Messenger of Allah, fix prices. He said: It is but Allah Who makes the prices low and high. I hope that when I meet Allah, none of you has any claim on me for doing wrong regarding blood or property.
Notes · وضاحت
١ ؎: بھاؤ مقرر کردینے میں کسی کا فائدہ اور کسی کا گھاٹا ہوسکتا ہے تو گھاٹے والا میرا دامن گیر ہوسکتا ہے کہ میری وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٤٠٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣٧، ٣٧٢) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیجئیے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے، اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو (اس لیے میں بھاؤ مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہوں) ۔
Narrated Anas ibn Malik: The people said: Messenger of Allah, prices have shot up, so fix prices for us. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Allah is the one Who fixes prices, Who withholds, gives lavishly and provides, and I hope that when I meet Allah, none of you will have any claim on me for an injustice regarding blood or property.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٧٣ (١٣١٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٧ (٢٢٠٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٨، ١١٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٨٦)، دی/ البیوع ١٣ (٢٥٨٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو غلہ بیچ رہا تھا آپ نے اس سے پوچھا: کیسے بیچتے ہو؟ تو اس نے آپ کو بتایا، اسی دوران آپ ﷺ کو وحی کے ذریعہ حکم ملا کہ اس کے غلہ (کے ڈھیر) میں ہاتھ ڈال کر دیکھئیے، آپ ﷺ نے غلہ کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ اندر سے تر (گیلا) تھا تو آپ نے فرمایا: جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے (یعنی دھوکہ دہی ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے) ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ passed a man who was selling grain. He asked him: How are you selling? He informed him. Revelation them came down to him saying: Put your hand into it. So he put his hand into it, and felt that it was damp. The Messenger of Allah ﷺ then said: He who deceives has nothing to do with us.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بائع اور مشتری میں سے ہر ایک کو بیع قبول کرنے یا رد کرنے کا اختیار ہوتا ہے جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوجائیں ١ ؎ مگر جب بیع خیار ہو ٢ ؎۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Each one of the two parties in a business has an option (to annul it) against the other party so long as they have not separated, except in a conditional bargain.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عقد کو فسخ کرنے سے پہلے مجلس عقد سے اگر بائع اور مشتری دونوں جسمانی طور پر جدا ہوگئے تو بیع لازم ہوجائے گی اس کے بعد ان دونوں میں سے کسی کو فسخ کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ ٢ ؎: یعنی خیار کی شرط کرلی ہو تو مجلس علیحدگی کے بعد بھی شروط کے مطابق خیار باقی رہے گا۔
عبداللہ بن عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے: یا ان میں سے کوئی اپنے ساتھی سے کہے اختر یعنی لینا ہے تو لے لو، یا دینا ہے تو دے دو (پھر وہ کہے: لے لیا، یا کہے دے دیا، تو جدا ہونے سے پہلے ہی اختیار جاتا رہے گا) ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar from the Prophet ﷺ to the same effect through a different chain of narrators. This version adds: Or one of them tells the other: Exercise the right.
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خریدو فروخت کرنے والے دونوں جب تک جدا نہ ہوں معاملہ ختم کردینے کا اختیار رکھتے ہیں، مگر جب بیع خیار ہو، (تو جدا ہونے کے بعد بھی واپسی کا اختیار باقی رہتا ہے) بائع و مشتری دونوں میں سے کسی کے لیے حلال نہیں کہ چیز کو پھیر دینے کے ڈر سے اپنے ساتھی کے پاس سے اٹھ کر چلا جائے ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Both parties in a business transaction have a right to annul it so long as they have not separated unless it is a bargain with the option to annul is attached to it; and it is not permissible for one of them to separate from the other for fear that one may demand that the bargain be rescinded.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٢٦ (١٢٤٧)، سنن النسائی/البیوع ٩ (٤٤٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨٣) (حسن )
ابوالوضی کہتے ہیں ہم نے ایک جنگ لڑی ایک جگہ قیام کیا تو ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے بدلے ایک گھوڑا بیچا، اور معاملہ کے وقت سے لے کر پورا دن اور پوری رات دونوں وہیں رہے، پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی اور کوچ کا وقت آیا، تو وہ (بیچنے والا) اٹھا اور (اپنے) گھوڑے پر زین کسنے لگا اسے بیچنے پر شرمندگی ہوئی (زین کس کر اس نے واپس لے لینے کا ارادہ کرلیا) وہ مشتری کے پاس آیا اور اسے بیع کو فسخ کرنے کے لیے پکڑا تو خریدنے والے نے گھوڑا لوٹانے سے انکار کردیا، پھر اس نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابوبرزہ ؓ موجود ہیں (وہ جو فیصلہ کردیں ہم مان لیں گے) وہ دونوں ابوبرزہ ؓ کے پاس آئے، اس وقت ابوبرزہ لشکر کے ایک جانب (پڑاؤ) میں تھے، ان دونوں نے ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کر دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: دونوں خریدو فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک بیع فسخ کردینے کا اختیار ہے، جب تک کہ وہ دونوں (ایک مجلس سے) جدا ہو کر ادھر ادھر نہ ہوجائیں ۔ ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ جمیل نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ تم دونوں جدا نہیں ہوئے ہو ١ ؎۔
Narrated Abu lWadi: We fought one of our battle, and encamped at a certain place. One of our companions sold a horse for a slave. After that they remained there for the rest of day and night. When the next morning came, they prepared themselves for departure. The buyer of the horse began to saddle it, but the seller was ashamed (of the transaction). He went to the man (buyer) and asked him to annul the transaction. The man refused to hand it over (the horse) to him. He said: Abu Barzah, the companion of the Prophet ﷺ , is to decide between me and you. They went to Abu Barzah in the corner of the army. They related this story to him. He said: Do you agree that I make a decision between you on the basis of the decision of the Messenger of Allah ﷺ ? The Messenger of Allah ﷺ said: Both parties in a business transaction have an option (right) to annul it so long as they have not separated. Hisham to Hassan said that Jamil said in his version: I do not think that you separated.
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ یہ دونوں اسی جگہ ٹھہرے رہے جہاں آپس میں خریدو فروخت کا معاملہ ہوا تھا اور ایجاب و قبول کے بعد دونوں جسمانی طور پر جدا نہیں ہوئے بلکہ ابوبرزہ ؓ کی خدمت میں اپنا معاملہ بھی ایک ساتھ ہو کر لائے اسی لئے انہوں نے بیچنے والے کے حق میں فیصلہ دیا، اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صحابی رسول ﷺ آپ کے قول ما لم يتفرقا کو تفرق بالأبدان پر مجہول کرتے تھے نہ کہ تفرق بالا قوال پر۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ١٧ (٢١٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١٥٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٥) (صحیح )
یحییٰ بن ایوب کہتے ہیں ابوزرعہ جب کسی آدمی سے خریدو فروخت کرتے تو اسے اختیار دیتے اور پھر اس سے کہتے: تم بھی مجھے اختیار دے دو اور کہتے: میں نے ابوہریرہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو آدمی جب ایک ساتھ ہوں تو وہ ایک دوسرے سے علیحدہ نہ ہوں مگر ایک دوسرے سے راضی ہو کر ١ ؎۔
Narrated Yahya bin Ayyub (RA) : When Abu Zurah made a business transaction with a man, he gave him the right of option. He then would tell him: Give me the right of option (to annul the bargain). He said: I heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah ﷺ said: Two people must separate only by mutual consent.
Notes · وضاحت
١ ؎: چاہے وہ کلاس کے دو ساتھی ہوں یا ٹرین و بس کے دو ہم سفر، یا بائع و مشتری ہوں یا کوئی اور انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ اس طرح ہونا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے خوش ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٢٧ (١٢٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٣٦) (حسن صحیح )
حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کردینے کا اختیار ہے، پھر اگر دونوں سچ کہیں اور خوبی و خرابی دونوں بیان کردیں تو دونوں کے اس خریدو فروخت میں برکت ہوگی اور اگر ان دونوں نے عیوب کو چھپایا، اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان دونوں کی بیع سے برکت ختم کردی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ اور حماد نے روایت کیا ہے، لیکن ہمام کی روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: بائع و مشتری کو اختیار ہے جب تک کہ دونوں جدا نہ ہوں، یا دونوں تین مرتبہ اختیار کی شرط نہ کرلیں ۔
Narrated Hakim bin Hizam (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Both parties in a business transaction have a right of option (to annul it) so long as they are not separated ; and if they tell the truth and make everything clear, they will be blessed in their transaction, but it they conceal anything and lie, the blessing on their transaction will be blotted out. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by Saeed bin Abi Arubah and Hammad. As regards with Hammam, he said in his version: Until they separate or exercise the right of option (to annul the transaction), saying the words of option three times.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اپنے مسلمان بھائی سے فروخت کا معاملہ فسخ کرلے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ معاف کر دے گا ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone rescinds a sale with a Muslim, Allah will cancel his slip, on the Day of Resurrection.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی تشریح یہ ہے کہ ایک آدمی نے کسی سے کوئی سامان خریدا، مگر اس کو اس سامان کی ضرورت ختم ہوگئی یا کسی وجہ سے اس خرید پر اس کو پچھتاوا ہوگیا، اور خریدا ہوا سامان واپس کردینا چاہا تو بائع نے سامان واپس کرلیا، تو گویا اس نے ایک مسلمان پر احسان کیا، اس لئے اللہ تعالیٰ بھی اس پر احسان کرے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٦ (٢١٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ایک معاملہ میں دو طرح کی بیع کی تو جو کم والی ہوگی وہی لاگو ہوگی (اور دوسری ٹھکرا دی جائے گی) کیونکہ وہ سود ہوجائے گی ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone makes two transactions combined in one bargain, he should have the lesser of the two or it will involve usury.
Notes · وضاحت
١ ؎: بيعتين في بيعة ایک چیز کے بیچنے میں دو طرح کی بیع کرنا جیسے بیچنے والا خریدنے والے سے یہ کہے کہ یہ کپڑا ایک دینار کا ہے اور یہ دو دینار کا اور خریدنے والے کو دونوں میں سے ایک لینا پڑے، بعض لوگوں نے کہا کہ اس کی مثال یہ ہے کہ بیچنے والا خریدنے والے سے کہے کہ میں نے تمہارے ہاتھ یہ کپڑا نقد دس روپیہ میں اور ادھار پندرہ میں بیچا، بعضوں نے کہا: بیچنے والا خریدار سے کہے کہ میں نے اپنا باغ تمہارے ہاتھ اس شرط سے بیچا کہ تم اپنا گھر میرے ہاتھ بیچو، مگر دوسری صورت اس حدیث کے مضمون سے زیادہ مناسب ہے کیونکہ ایک چیز کی دو بیع میں دو قیمتیں کم اور زیادہ ہیں، اور اگر کم کو اختیار نہ کرے تو سود لازم ہوگا، ایک بیع میں دو بیع کی تشریح ابن القیم نے اس طرح کی ہے: بیچنے والا خریدنے والے کے ہاتھ کوئی سامان سو روپے ادھار پر بیچے، پھر خریدار سے اسی سامان کو اسی روپے نقد پر خرید لے، چونکہ یہ بیع سود تک پہنچانے والی ہے اس لئے ناجائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥١٠٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ١٨ (١٢٣١)، سنن النسائی/البیوع ٧٣ (٧/٤٦٣٦)، موطا امام مالک/البیوع ٣٣ (٧٣)، مسند احمد (٢/٤٣٢، ٤٧٥، ٥٠٣) (حسن )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم بیع عینہ ١ ؎ کرنے لگو گے گایوں بیلوں کے دم تھام لو گے، کھیتی باڑی میں مست و مگن رہنے لگو گے، اور جہاد کو چھوڑ دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا، جس سے تم اس وقت تک نجات و چھٹکارا نہ پا سکو گے جب تک اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت جعفر کی ہے اور یہ انہیں کے الفاظ ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : I heard the Messenger of Allah, ﷺ say: When you enter into the inah transaction, hold the tails of oxen, are pleased with agriculture, and give up conducting jihad (struggle in the way of Allah). Allah will make disgrace prevail over you, and will not withdraw it until you return to your original religion.
Notes · وضاحت
١ ؎: بیع عینہ کی صورت یہ ہے کہ مثلاً زید نے عمرو کے ہاتھ ایک تھان کپڑا ایک ہزار روپے میں ایک مہینہ کے ادھار پر بیچا، پھر آٹھ سو روپیہ نقد دے کر وہ تھان اس نے عمرو سے خرید لیا، یہ بیع سود خوروں نے ایجاد کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٢٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢) (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے ورنہ اس کی سند میں اسحاق الخراسانی اور عطاء الخراسانی دونوں ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے اس وقت لوگ پھلوں میں سال سال، دو دو سال، تین تین سال کی بیع سلف کرتے تھے (یعنی مشتری بائع کو قیمت نقد دے دیتا اور بائع سال و دو سال تین سال کی جو بھی مدت متعین ہوتی مقررہ وقت تک پھل دیتا رہتا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کھجور کی پیشگی قیمت دینے کا معاملہ کرے اسے چاہیئے کہ معاملہ کرتے وقت پیمانہ وزن اور مدت سب کچھ معلوم و متعین کرلے ٢ ؎۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ came to Madina, they were paying one, two and three years in advance for fruits, so he said: Those who pay in advance for anything, must do for a specified measure and weight with a specified time fixed.
Notes · وضاحت
١ ؎: سلف یا سلم یہ ہے کہ خریدار بیچنے والے کو سامان کی قیمت پیشگی دے دے اور سامان کی ادائیگی کے لئے ایک میعاد مقرر کرلے، ساتھ ہی سامان کا وزن، وصف اور نوعیت وغیرہ متعین ہو ایسا جائز ہے۔ ٢ ؎: تاکہ جھگڑے اور اختلاف پیدا ہونے والی بات نہ رہ جائے اگر مدت مجہول ہو اور وزن اور ناپ متعین نہ ہو تو بیع سلف درست نہ ہوگی۔
محمد یا عبداللہ بن مجالد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ ؓ میں بیع سلف کے سلسلہ میں اختلاف ہوا تو لوگوں نے ابن ابی اوفی ؓ کے پاس مجھے یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر ؓ کے زمانہ میں گیہوں، جو، کھجور اور انگور خریدنے میں سلف کیا کرتے تھے، اور ان لوگوں سے (کرتے تھے) جن کے پاس یہ میوے نہ ہوتے تھے۔
Muhammad or Abdullah bin Mujahid said: Abdullah bin Shaddad and Abu Burdah disputed over salaf (payment in advance). They sent me to Ibn Abi Awfa and I asked him (about it) and he replied: We used to pay in advance (salaf) during the time of the Messenger of Allah ﷺ , Abu Bakr and Umar in wheat, barley, dates and raisins. Ibn Kathir added: to those people who did not possess these things. The agreed version then goes: I then asked Ibn Abza who gave a similar reply.
عبداللہ بن ابی مجالد (اور عبدالرحمٰن نے ابن ابی مجالد کہا ہے) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ ایسے لوگوں سے سلم کرتے تھے، جن کے پاس (بروقت) یہ مال نہ ہوتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی مجالد صحیح ہے، اور شعبہ سے اس میں غلطی ہوئی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Abi al-Mujahid through a different chain of narrators. This version has: to those people who did not possess these things. Abu Dawud said: What is correct is Ibn Abi al-Mujahid. Shubah made a mistake in it.
عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شام میں جہاد کیا تو شام کے کاشتکاروں میں سے بہت سے کاشتکار ہمارے پاس آتے، تو ہم ان سے بھاؤ اور مدت معلوم و متعین کر کے گیہوں اور تیل کا سلف کرتے (یعنی پہلے رقم دے دیتے پھر متعینہ بھاؤ سے مقررہ مدت پر مال لے لیتے تھے) ان سے کہا گیا: آپ ایسے لوگوں سے سلم کرتے رہے ہوں گے جن کے پاس یہ مال موجود رہتا ہوگا، انہوں نے کہا: ہم یہ سب ان سے نہیں پوچھتے تھے۔
Narrated Abdullah ibn Abu Awfa ibn Abu Awfa al-Aslami (RA) : We made a journey to Syria on an expedition along with the Messenger of Allah ﷺ . The Nabateans of Syria came to us and we paid in advance to them (in a salam contract) in wheat and olive oil at a specified rate and for a specified time. He asked (by the people): you might have contracted with him who had these things in his possession? He replied: We did not ask them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥١٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/السلم ٣ (٢٢٤١)، ٧ (٢٢٥٣) (صحیح )