عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ ﷺ نے بیچنے والے سے فرمایا: تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہوجائیں سلف نہ کرو ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : A man paid in advance for a palm-tree. It did not bear fruit that year. They brought their case for decision to the Prophet ﷺ . He said: for which do you make his property lawful? He then said: Do not pay in advance for a palm-tree till they (the fruits) were clearly in good condition.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٦١ (٢٢٨٤)، (تحفة الأشراف: ٨٥٩٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٢١ (٤٩)، مسند احمد (٢/٢٥، ٤٩، ٥١، ٥٨، ١٤٤) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی رجل نجرانی مبہم ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آگئی چناچہ اس پر بہت سارا قرض ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے خیرات دو تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی کہ جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہوجاتی تو رسول اللہ ﷺ نے (اس کے قرض خواہوں سے) فرمایا: جو پا گئے وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے ١ ؎ (یہ گویا مصیبت میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رعایت و مدد ہے) ۔
Narrated Abu Saeed Al Khudri (RA) : In the time of the Messenger of Allah ﷺ a man suffered loss affecting fruits he had bought and owed a large debt, so the Messenger of Allah ﷺ said: Give him sadaqah (alms). So the people gave him sadaqah (alms), but as that was not enough to pay the debt in full, the Messenger of Allah ﷺ said: Take what you find. But that is all you may have.
Notes · وضاحت
١ ؎: جب حاکم موجودہ مال کو قرض خواہوں کے مابین بقدر حصہ تقسیم کر دے پھر بھی اس شخص کے ذمہ قرض خواہوں کا قرض باقی رہ جائے تو ایسی صورت میں قرض خواہ اسے تنگ کرنے، قید کرنے اور قرض کی ادائیگی پر مزید اصرار کرنے کے بجائے اسے مال کی فراہمی تک مہلت دے، حدیث کا مفہوم یہی ہے اور قرآن کی اس آیت: وإن کان ذو عسرة فنظرة إلى ميسرة کے مطابق بھی ہے کیونکہ کسی کے مفلس ہوجانے سے قرض خواہوں کے حقوق ضائع نہیں ہوتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٤ (١٥٥٦)، سنن الترمذی/الزکاة ٢٤ (٦٥٥)، سنن النسائی/البیوع ٢٨ (٤٥٣٤)، ٩٣ (٤٦٨٢)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٥، (٢٣٥٦)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٦، ٥٨) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اپنے کسی بھائی کے ہاتھ (باغ کا) پھل بیچو پھر اس پھل پر کوئی آفت آجائے (اور وہ تباہ و برباد ہوجائے) تو تمہارے لیے مشتری سے کچھ لینا جائز نہیں تم ناحق اپنے بھائی کا مال کس وجہ سے لو گے؟ ١ ؎۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If you were to sell dried dates to your brother and they were smitten by blight, it will not be allowable for you to take your brothers property unjustly.
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اگر کچھ پھل بچ گیا اور کچھ نقصان ہوگیا تو نقصان کا خیال کر کے قیمت میں کچھ تخفیف کر دینی چاہیے۔
عطاء کہتے ہیں جائحہ ہر وہ آفت و مصیبت ہے جو بالکل کھلی ہوئی اور واضح ہو جس کا کوئی انکار نہ کرسکے، جیسے بارش بہت زیادہ ہوگئی ہو، پالا پڑگیا ہو، ٹڈیاں آ کر صاف کرگئی ہوں، آندھی آگئی ہو، یا آگ لگ گئی ہو۔
Ata said: Blight means anything which obviously damages (the crop), by rain, hail, locust, blast of wind, or fire.
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں راس المال کے ایک تہائی سے کم مال پر آفت آئے تو اسے آفت نہیں کہیں گے۔ یحییٰ کہتے ہیں: مسلمانوں میں یہی طریقہ مروج ہے ١ ؎۔
Yahya bin Saeed said: Blight is not effective when less than one-third of goods are damaged. Yayha said: That has been the established practice of Muslims.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک تہائی سے کم نقصان ہو تو قیمت میں مشتری کے ساتھ رعایت نہیں کرتے ہیں، کیونکہ تھوڑا بہت تو نقصان ہوا ہی کرتا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فاضل پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعہ سے گھاس سے روک دیا جائے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Excess water should not be withheld so as to prevent (cattle) by it from grass.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سوچ کر دوسروں کے جانوروں کو فاضل پانی پلانے سے نہ روکا جائے کہ جب جانوروں کو پلانے کے لیے لوگ پانی نہ پائیں گے تو جانور ادھر نہ لائیں گے، اس طرح گھاس ان کے جانوروں کے لئے بچی رہے گی، یہ کھلی ہوئی خود غرضی ہے جو اسلام کو پسند نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٣٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة ٢ (٢٣٥٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٨ (١٥٦٦)، سنن الترمذی/البیوع ٤٥ (١٢٧٢)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٩ (٢٤٢٨)، موطا امام مالک/الأقضیة ٢٥ (٢٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا: ایک تو وہ شخص جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو دینے سے انکار کر دے، دوسرا وہ شخص جو اپنا سامان بیچنے کے لیے عصر بعد جھوٹی قسم کھائے، تیسرا وہ شخص جو کسی امام (و سربراہ) سے (وفاداری کی) بیعت کرے پھر اگر امام اسے (دنیاوی مال و جاہ) سے نوازے تو اس کا وفادار رہے، اور اگر اسے کچھ نہ دے تو وہ بھی عہد کی پاسداری نہ کرے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: There are three people who Allah will not address on the Day of Judgement: a man who prevents traveller from the excess water which he has with him; and a man who swears for the goods (for sale) after the afternoon prayer, that is, (he swears) falsely; and a man who takes the oath of allegiance to a ruler (imam); if he gives him (something), he fullfils (the oath of allegiance) to him, if he does not give him (anything), he does not fulfill it.
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ان کو گناہوں سے پاک نہیں کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا اور سامان کے سلسلہ میں یوں کہے: قسم اللہ کی اس مال کے تو اتنے اتنے روپے مل رہے تھے، یہ سن کر خریدار اس کی بات کو سچ سمجھ لے اور اسے (منہ مانگا پیسہ دے کر) لے لے۔
The tradition mentioned above has also been related by al-Amash to the same effect through a different chain of narrators. This version adds: He used: Not purify them ; grievously will be their penalty. He said about (selling) the goods: I swear by Allah, I was given (the price) so and so for it. The other man considered it to be correct and bought it.
بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، (اجازت ملی) پہنچ کر آپ ﷺ کا کرتہ اٹھا کر آپ کو بوسہ دینے اور آپ سے لپٹنے لگے پھر پوچھا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نمک پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جتنی بھی تو نیکی کرے (یعنی جو چیزیں بھی دے سکتا ہے دے) تیرے لیے بہتر ہے ۔
Narrated Buhaisah (RA) : On the authority of her father: My father asked the Prophet ﷺ for permission (to kiss his body). (When he was given permission), lifting his shirt he approached his body, and began to kiss and stick to him. He then asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He replied: Water. He asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He replied: Salt. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He said: That you do a good work is better for you.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٦٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٩٧) (ضعیف) (اس کے راوی، اس کے رواة سیار اور ان کے والد منظور لین الحدیث ہیں اور بہیسہ مجہول ہیں )
نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تین بار جہاد کیا ہے، میں آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنتا تھا: مسلمان تین چیزوں میں برابر برابر کے شریک ہیں (یعنی ان سے سبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں) : (ا) پانی (نہر و چشمے وغیرہ کا جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو) ، (٢) گھاس (جو لاوارث زمین میں ہو) اور (٣) آگ (جو چقماق وغیرہ سے نکلتی ہو) ۔
Narrated A man: A man from the immigrants of the Companions of the Prophet ﷺ said: I participated in battle three times along with the Prophet ﷺ . I heard him say: Muslims have common share in three (things). grass, water and fire.
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بلی کی قیمت (لینے) سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Jabir: The Prophet ﷺ forbade payment for cat.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤٩ (١٢٨٠)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢٠ (٣٢٥٠)، (تحفة الأشراف: ٢٨٩٤) ویأتی ہذا الحدیث فی الأطعمة (٣٨٠٧) (صحیح) سند میں عمر بن زید ضعیف ہیں اس لئے ترمذی نے حدیث کو غریب یعنی ضعیف کہا ہے، لیکن البانی صاحب نے سنن ابی داود میں صحیح کہا ہے، اور سنن ابن ماجہ میں ضعیف (٣٢٥٠) جبکہ الإرواء (٢٤٨٧) میں اس کی تضعیف کی ہے واضح رہے کہ ابوداود میں احادیث البیوع کا حوالہ دیا ہے تو سند کے اعتبار سے اس میں ضعف ہے لیکن سابقہ حدیث کی وجہ سے یہ صحیح ہے
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے، اور اگر کوئی کتے کی قیمت مانگنے آئے، تو اس کی مٹھی میں مٹی بھر دو۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade the price paid for a dog; if someone comes to ask for the price of a dog, fill his hand-palm with dust.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٣٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٥، ٢٧٨، ٢٨٩، ٣٥٠، ٣٥٦) (صحیح الإسناد )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کتے کی قیمت حلال نہیں ہے، نہ کاہن کی کمائی حلال ہے اور نہ فاحشہ کی کمائی ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The price paid for a dog, the price given to a soothsayer, and the hire paid to a prostitute are not lawful.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، مردار اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، سور اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Allah forbade wine and the price paid for it, and forbade dead meat and the price paid for it, and forbade swine and the price paid for it.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا (آپ مکہ میں تھے) : اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے خریدنے اور بیچنے کو حرام کیا ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ (اس سے تو بہت سے کام لیے جاتے ہیں) اس سے کشتیوں پر روغن آمیزی کی جاتی ہے، اس سے کھال نرمائی جاتی ہے، لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں (ان سب کے باوجود بھی) وہ حرام ہے پھر آپ ﷺ نے اسی موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی جب حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کے دام کھائے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : That he heard the Messenger of Allah ﷺ say in the year of the Conquest when he was in Makkah: Allah has forbidden the sale of wine, animals which have dead natural death, swine and idols. He was asked: Messenger of Allah, what do you think of the fat of animals which had died a natural death, for it was used for caulking ships, greasing skins, and making oil for lamps? He replies: No, it is forbidden. Thereafter, the Messenger of Allah ﷺ said: May Allah curse the Jews! When Allah declared the fat of such animals lawful, they melted it, then sold it, and enjoyed the price they received.