خرید وفروخت کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 20 · 244 hadiths · Page 8 of 13

3467Sunan Abu Dawood

معین درخت کے پھل میں سلم کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ رَجُلٍ نَجْرَانِيٍّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا أَسْلَفَ رَجُلًا فِي نَخْلٍ، فَلَمْ تُخْرِجْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَالَهُ ؟ ثُمَّ قَالَ: لَا تُسْلِفُوا فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ ﷺ نے بیچنے والے سے فرمایا: تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہوجائیں سلف نہ کرو ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : A man paid in advance for a palm-tree. It did not bear fruit that year. They brought their case for decision to the Prophet ﷺ . He said: for which do you make his property lawful? He then said: Do not pay in advance for a palm-tree till they (the fruits) were clearly in good condition.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٦١ (٢٢٨٤)، (تحفة الأشراف: ٨٥٩٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٢١ (٤٩)، مسند احمد (٢/٢٥، ٤٩، ٥١، ٥٨، ١٤٤) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی رجل نجرانی مبہم ہیں )
3468Sunan Abu Dawood

بیع سلم میں مسلم فیہ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ، عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي الطَّائِيَّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَلَا يَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی پہلے قیمت دے کر کوئی چیز خریدے تو وہ چیز کسی اور چیز سے نہ بدلے ١ ؎۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone pays in advance he must not transfer it to someone else before he receives it.

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً بیع سلم گیہوں لینے پر کی ہو اور لینے سے پہلے اس کے بدلہ میں چاول ٹھہرا لے تو یہ درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٠ (٢٢٨٣)، (تحفة الأشراف: ٤٢٠٤) (ضعیف) (اس کے راوی عطیہ عوفی ضعیف ہیں )
3469Sunan Abu Dawood

کھیت یا باغ پر آنے والی کسی آفت کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آگئی چناچہ اس پر بہت سارا قرض ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے خیرات دو تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی کہ جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہوجاتی تو رسول اللہ ﷺ نے (اس کے قرض خواہوں سے) فرمایا: جو پا گئے وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے ١ ؎ (یہ گویا مصیبت میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رعایت و مدد ہے) ۔

Narrated Abu Saeed Al Khudri (RA) : In the time of the Messenger of Allah ﷺ a man suffered loss affecting fruits he had bought and owed a large debt, so the Messenger of Allah ﷺ said: Give him sadaqah (alms). So the people gave him sadaqah (alms), but as that was not enough to pay the debt in full, the Messenger of Allah ﷺ said: Take what you find. But that is all you may have.

Notes · وضاحت
١ ؎: جب حاکم موجودہ مال کو قرض خواہوں کے مابین بقدر حصہ تقسیم کر دے پھر بھی اس شخص کے ذمہ قرض خواہوں کا قرض باقی رہ جائے تو ایسی صورت میں قرض خواہ اسے تنگ کرنے، قید کرنے اور قرض کی ادائیگی پر مزید اصرار کرنے کے بجائے اسے مال کی فراہمی تک مہلت دے، حدیث کا مفہوم یہی ہے اور قرآن کی اس آیت: وإن کان ذو عسرة فنظرة إلى ميسرة کے مطابق بھی ہے کیونکہ کسی کے مفلس ہوجانے سے قرض خواہوں کے حقوق ضائع نہیں ہوتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٤ (١٥٥٦)، سنن الترمذی/الزکاة ٢٤ (٦٥٥)، سنن النسائی/البیوع ٢٨ (٤٥٣٤)، ٩٣ (٤٦٨٢)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٥، (٢٣٥٦)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٦، ٥٨) (صحیح )
3470Sunan Abu Dawood

کھیت یا باغ پر آنے والی کسی آفت کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ الْمَعْنَى، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ تَمْرًا، فَأَصَابَتْهَا جَائِحَةٌ فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اپنے کسی بھائی کے ہاتھ (باغ کا) پھل بیچو پھر اس پھل پر کوئی آفت آجائے (اور وہ تباہ و برباد ہوجائے) تو تمہارے لیے مشتری سے کچھ لینا جائز نہیں تم ناحق اپنے بھائی کا مال کس وجہ سے لو گے؟ ١ ؎۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If you were to sell dried dates to your brother and they were smitten by blight, it will not be allowable for you to take your brothers property unjustly.

Notes · وضاحت
١ ؎: اور اگر کچھ پھل بچ گیا اور کچھ نقصان ہوگیا تو نقصان کا خیال کر کے قیمت میں کچھ تخفیف کر دینی چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٣ (١٥٥٤)، سنن النسائی/البیوع ٢٨ (٤٥٣١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٣ (٢٢١٩)، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٨)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع ٢٢ (٢٥٩٨) (صحیح )
3471Sunan Abu Dawood

جائحہ (آفت) کی تفسیر کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: الْجَوَائِحُ كُلُّ ظَاهِرٍ مُفْسِدٍ مِنْ مَطَرٍ، أَوْ بَرَدٍ، أَوْ جَرَادٍ، أَوْ رِيحٍ، أَوْ حَرِيقٍ.

عطاء کہتے ہیں جائحہ ہر وہ آفت و مصیبت ہے جو بالکل کھلی ہوئی اور واضح ہو جس کا کوئی انکار نہ کرسکے، جیسے بارش بہت زیادہ ہوگئی ہو، پالا پڑگیا ہو، ٹڈیاں آ کر صاف کرگئی ہوں، آندھی آگئی ہو، یا آگ لگ گئی ہو۔

Ata said: Blight means anything which obviously damages (the crop), by rain, hail, locust, blast of wind, or fire.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٠٦٤) (حسن )
3472Sunan Abu Dawood

جائحہ (آفت) کی تفسیر کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَا جَائِحَةَ فِيمَا أُصِيبَ دُونَ ثُلُثِ رَأْسِ الْمَالِ. قَالَ يَحْيَى: وَذَلِكَ فِي سُنَّةِ الْمُسْلِمِينَ.

یحییٰ بن سعید کہتے ہیں راس المال کے ایک تہائی سے کم مال پر آفت آئے تو اسے آفت نہیں کہیں گے۔ یحییٰ کہتے ہیں: مسلمانوں میں یہی طریقہ مروج ہے ١ ؎۔

Yahya bin Saeed said: Blight is not effective when less than one-third of goods are damaged. Yayha said: That has been the established practice of Muslims.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک تہائی سے کم نقصان ہو تو قیمت میں مشتری کے ساتھ رعایت نہیں کرتے ہیں، کیونکہ تھوڑا بہت تو نقصان ہوا ہی کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٥٣٤) (حسن )
3473Sunan Abu Dawood

پانی روکنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فاضل پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعہ سے گھاس سے روک دیا جائے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Excess water should not be withheld so as to prevent (cattle) by it from grass.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سوچ کر دوسروں کے جانوروں کو فاضل پانی پلانے سے نہ روکا جائے کہ جب جانوروں کو پلانے کے لیے لوگ پانی نہ پائیں گے تو جانور ادھر نہ لائیں گے، اس طرح گھاس ان کے جانوروں کے لئے بچی رہے گی، یہ کھلی ہوئی خود غرضی ہے جو اسلام کو پسند نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٣٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة ٢ (٢٣٥٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٨ (١٥٦٦)، سنن الترمذی/البیوع ٤٥ (١٢٧٢)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٩ (٢٤٢٨)، موطا امام مالک/الأقضیة ٢٥ (٢٩) (صحیح )
3474Sunan Abu Dawood

پانی روکنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ مَنَعَ ابْنَ السَّبِيلِ فَضْلَ مَاءٍ عِنْدَهُ، وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، يَعْنِي كَاذِبًا، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا: ایک تو وہ شخص جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو دینے سے انکار کر دے، دوسرا وہ شخص جو اپنا سامان بیچنے کے لیے عصر بعد جھوٹی قسم کھائے، تیسرا وہ شخص جو کسی امام (و سربراہ) سے (وفاداری کی) بیعت کرے پھر اگر امام اسے (دنیاوی مال و جاہ) سے نوازے تو اس کا وفادار رہے، اور اگر اسے کچھ نہ دے تو وہ بھی عہد کی پاسداری نہ کرے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: There are three people who Allah will not address on the Day of Judgement: a man who prevents traveller from the excess water which he has with him; and a man who swears for the goods (for sale) after the afternoon prayer, that is, (he swears) falsely; and a man who takes the oath of allegiance to a ruler (imam); if he gives him (something), he fullfils (the oath of allegiance) to him, if he does not give him (anything), he does not fulfill it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٣٥ (١٥٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشھادات ٢٢ (٢٦٧٢)، الأحکام ٤٨ (٧٢١٢)، المساقاة ١٠ (٢٣٦٩)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٦ (١٠٨)، سنن النسائی/البیوع ٦ (٤٤٦٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٠ (٢٢٠٧)، الجھاد ٤٢ (٢٨٧٠)، مسند احمد (٢/٢٥٣، ٤٨٠) (صحیح )
3475Sunan Abu Dawood

پانی روکنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ: وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، وَقَالَ فِي السِّلْعَةِ: بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا كَذَا وَكَذَا، فَصَدَّقَهُ الْآخَرُ فَأَخَذَهَا.

اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ان کو گناہوں سے پاک نہیں کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا اور سامان کے سلسلہ میں یوں کہے: قسم اللہ کی اس مال کے تو اتنے اتنے روپے مل رہے تھے، یہ سن کر خریدار اس کی بات کو سچ سمجھ لے اور اسے (منہ مانگا پیسہ دے کر) لے لے۔

The tradition mentioned above has also been related by al-Amash to the same effect through a different chain of narrators. This version adds: He used: Not purify them ; grievously will be their penalty. He said about (selling) the goods: I swear by Allah, I was given (the price) so and so for it. The other man considered it to be correct and bought it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الشہادات ٢٢ (٢٦٧٢)، صحیح مسلم/ الإیمان ٤٦ (١٠٨)، سنن النسائی/ البیوع ٦ (٤٤٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٣٨) (صحیح )
3476Sunan Abu Dawood

پانی روکنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: بُهَيْسَةُ،عَنْ أَبِيهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ، فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ: الْمَاءُ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ: الْمِلْحُ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ: أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ.

بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، (اجازت ملی) پہنچ کر آپ ﷺ کا کرتہ اٹھا کر آپ کو بوسہ دینے اور آپ سے لپٹنے لگے پھر پوچھا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نمک پھر پوچھا: اللہ کے نبی! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جتنی بھی تو نیکی کرے (یعنی جو چیزیں بھی دے سکتا ہے دے) تیرے لیے بہتر ہے ۔

Narrated Buhaisah (RA) : On the authority of her father: My father asked the Prophet ﷺ for permission (to kiss his body). (When he was given permission), lifting his shirt he approached his body, and began to kiss and stick to him. He then asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He replied: Water. He asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He replied: Salt. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He said: That you do a good work is better for you.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٦٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٩٧) (ضعیف) (اس کے راوی، اس کے رواة سیار اور ان کے والد منظور لین الحدیث ہیں اور بہیسہ مجہول ہیں )
3477Sunan Abu Dawood

پانی روکنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ اللُّؤْلُئِيُّ، أَخْبَرَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ زَيْدٍ الشَّرْعَبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَرْنٍ. ح، حَدَّثَنَامُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو خِدَاشٍ، وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ، عَنْ رَجُلٍ مِنِ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، أَسْمَعُهُ يَقُولُ: الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْكَلَإِ، وَالْمَاءِ، وَالنَّار.

نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تین بار جہاد کیا ہے، میں آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنتا تھا: مسلمان تین چیزوں میں برابر برابر کے شریک ہیں (یعنی ان سے سبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں) : (ا) پانی (نہر و چشمے وغیرہ کا جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو) ، (٢) گھاس (جو لاوارث زمین میں ہو) اور (٣) آگ (جو چقماق وغیرہ سے نکلتی ہو) ۔

Narrated A man: A man from the immigrants of the Companions of the Prophet ﷺ said: I participated in battle three times along with the Prophet ﷺ . I heard him say: Muslims have common share in three (things). grass, water and fire.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، مسند احمد (٥/٣١٤) (صحیح )
3478Sunan Abu Dawood

بچے ہوئے پانی کو فروخت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْإِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ.

ایاس بن عبد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فاضل (پینے کے) پانی کے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Iyas ibn Abd (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade the sale of excess water.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤٤ (١٢٧١)، سنن النسائی/البیوع ٨٦ (٤٦٦٥)، سنن ابن ماجہ/الرھون ١٨ (٢٤٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٨، ٤١٧)، سنن الدارمی/البیوع ٦٩ (٢٦٥٤) (صحیح )
3479Sunan Abu Dawood

بلے یا بلی کی قیمت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ. ح، وحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ، أَخْبَرَنَا،عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَالسِّنَّوْرِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کتے اور بلی کی قیمت (لینے) سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ forbade payment for dog and cat.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤٩ (١٢٧٩)، (تحفة الأشراف: ٢٣٠٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساقاة ٩ (١٥٦٧)، سنن النسائی/الذبائح ١٦ (٤٣٠٠)، البیوع ٩٠ (٤٦٧٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٩ (٢١٦١)، مسند احمد (٣/٣٣٩) (صحیح )
3480Sunan Abu Dawood

بلے یا بلی کی قیمت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْهِرَّةِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بلی کی قیمت (لینے) سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Jabir: The Prophet ﷺ forbade payment for cat.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤٩ (١٢٨٠)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢٠ (٣٢٥٠)، (تحفة الأشراف: ٢٨٩٤) ویأتی ہذا الحدیث فی الأطعمة (٣٨٠٧) (صحیح) سند میں عمر بن زید ضعیف ہیں اس لئے ترمذی نے حدیث کو غریب یعنی ضعیف کہا ہے، لیکن البانی صاحب نے سنن ابی داود میں صحیح کہا ہے، اور سنن ابن ماجہ میں ضعیف (٣٢٥٠) جبکہ الإرواء (٢٤٨٧) میں اس کی تضعیف کی ہے واضح رہے کہ ابوداود میں احادیث البیوع کا حوالہ دیا ہے تو سند کے اعتبار سے اس میں ضعف ہے لیکن سابقہ حدیث کی وجہ سے یہ صحیح ہے
3481Sunan Abu Dawood

کتوں کی قیمت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ.

ابومسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Masud (RA) : The Prophet ﷺ forbade the price paid for a dog, the hire paid to prostitute, and the gift given to a soothsayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کی کمائی سے متعلق ملاحظہ فرمائیں حدیث نمبر (٣٤٢٨) کے حواشی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٠٧، ١٠٠١٠) (صحیح )
3482Sunan Abu Dawood

کتوں کی قیمت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَإِنْ جَاءَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ، فَامْلَأْ كَفَّهُ تُرَابًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے، اور اگر کوئی کتے کی قیمت مانگنے آئے، تو اس کی مٹھی میں مٹی بھر دو۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade the price paid for a dog; if someone comes to ask for the price of a dog, fill his hand-palm with dust.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٣٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٥، ٢٧٨، ٢٨٩، ٣٥٠، ٣٥٦) (صحیح الإسناد )
3483Sunan Abu Dawood

کتوں کی قیمت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَوْنُ ابْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ.

ابوحجیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Abu Juhaifah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade the price paid for a dog.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٨١٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ١١٣ (٢٢٣٧) (صحیح )
3484Sunan Abu Dawood

کتوں کی قیمت لینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ، أَنَّ عُلَيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ ثَمَنُ الْكَلْبِ، وَلَا حُلْوَانُ الْكَاهِنِ، وَلَا مَهْرُ الْبَغِيِّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کتے کی قیمت حلال نہیں ہے، نہ کاہن کی کمائی حلال ہے اور نہ فاحشہ کی کمائی ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The price paid for a dog, the price given to a soothsayer, and the hire paid to a prostitute are not lawful.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصید والذبائح ١٥ (٤٢٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٦٠) (صحیح )
3485Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ الْمَيْتَةَ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ الْخِنْزِيرَ وَثَمَنَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، مردار اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، سور اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Allah forbade wine and the price paid for it, and forbade dead meat and the price paid for it, and forbade swine and the price paid for it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٢) (صحیح )
3486Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةَ وَالْخِنْزِيرَ وَالْأَصْنَامَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، فَقَالَ: لَا، هُوَ حَرَامٌ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا (آپ مکہ میں تھے) : اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے خریدنے اور بیچنے کو حرام کیا ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ (اس سے تو بہت سے کام لیے جاتے ہیں) اس سے کشتیوں پر روغن آمیزی کی جاتی ہے، اس سے کھال نرمائی جاتی ہے، لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں (ان سب کے باوجود بھی) وہ حرام ہے پھر آپ ﷺ نے اسی موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی جب حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کے دام کھائے ۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : That he heard the Messenger of Allah ﷺ say in the year of the Conquest when he was in Makkah: Allah has forbidden the sale of wine, animals which have dead natural death, swine and idols. He was asked: Messenger of Allah, what do you think of the fat of animals which had died a natural death, for it was used for caulking ships, greasing skins, and making oil for lamps? He replies: No, it is forbidden. Thereafter, the Messenger of Allah ﷺ said: May Allah curse the Jews! When Allah declared the fat of such animals lawful, they melted it, then sold it, and enjoyed the price they received.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١١٢ (٢٢٣٦)، المغازي ٥١ (٤٢٩٦)، تفسیر سورة الأنعام ٦ (٤٦٣٣)، صحیح مسلم/المساقاة ١٣ (١٥٨١)، سنن الترمذی/البیوع ٦١ (١٢٩٧)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٧ (٤٢٦١)، البیوع ٩١ (٤٦٧٣)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١١ (٢١٦٧)، (تحفة الأشراف: ٢٤٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٤، ٣٢٦، ٣٧٠) (صحیح )