خرید وفروخت کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 20 · 244 hadiths · Page 9 of 13

3487Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّعَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، نَحْوَهُ، لَمْ يَقُلْ هُوَ حَرَامٌ.

اس سند سے بھی جابر ؓ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے مگر اس میں انہوں نے هو حرام نہیں کہا ہے۔

Yazid bin Abi Habib said: Jabir wrote to me a similar tradition. But he did not say in this version It is forbidden.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٢٤٩٤) (صحیح )
3488Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ بِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ، وَخَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ بَرَكَةَ، قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِ، خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ثُمَّ اتَّفَقَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا عِنْدَ الرُّكْنِ، قَالَ: فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكَ، فَقَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ثَلَاثًا: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ. وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانِ رَأَيْتُ، وَقَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو رکن (حجر اسود) کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا، آپ نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائیں پھر ہنسے اور تین بار فرمایا: اللہ یہود پر لعنت فرمائے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی حرام کی (تو انہوں نے چربی تو نہ کھائی) لیکن چربی بیچ کر اس کے پیسے کھائے، اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم پر کسی چیز کے کھانے کو حرام کیا ہے، تو اس قوم پر اس کی قیمت لینے کو بھی حرام کردیا ہے ۔ خالد بن عبداللہ (خالد بن عبداللہ طحان) کی حدیث میں دیکھنے کا ذکر نہیں ہے اور اس میں: لعن الله اليهود کے بجائے: قال قاتل الله اليهود ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : I saw the Messenger of Allah ﷺ sitting neat the Black stone (or at a corner of the Kabah). He said: He (the Prophet) raised his eyes towards the heaven, and laughed, and he said: May Allah curse the Jews! He said this three times. Allah declared unlawful for them the fats (of the animals which died a natural death); they sold them and they enjoyed the price they received for them. When Allah declared eating of thing forbidden for the people, He declares it price also forbidden for them. The version of Khalid bin Abdullah al-Tahhan does not have the words I saw. It has: May Allah destroy the Jews!

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٧، ٢٩٣، ٣٢٢) (صحیح )
3489Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ بَيَانٍ التَّغْلِبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْيُشَقِّصْ الْخَنَازِيرَ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شراب بیچے اسے سور کا گوشت بھی کاٹنا (اور بیچنا) چاہیئے (اس لیے کہ دونوں ہی چیزیں حرمت میں برابر ہیں) ۔

Narrated Al-Mughirah ibn Shubah (RA) : The Prophet ﷺ said: He who sold wine should shear the flesh of swine.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٥١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٣)، سنن الدارمی/الأشربة ٩ (٢١٤٧) (ضعیف) (اس کے راوی عمر بن بیان لین الحدیث ہیں )
3490Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا، وَقَالَ: حُرِّمَتِ التِّجَارَةُ فِي الْخَمْرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ سورة البقرہ کی آخری آیتیں: يسألونک عن الخمر والميسر ... اتریں، تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ نے یہ آیتیں ہم پر پڑھیں اور فرمایا: شراب کی تجارت حرام کردی گئی ہے ۔

Narrated Aisha (RA) : When the last verses of Surat al-Baqarah were revealed, the Messenger of Allah ﷺ came out and recited them to us and siad: Trading in wine has been forbidden.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٣ (٤٥٩)، والبیوع ٢٥ (٢٠٨٤)، ١٠٥ (٢٢٢٦)، و تفسیر آل عمران ٤٩ (٤٥٤٠)، ٥٢ (٤٥٤٣)، صحیح مسلم/المساقاة ١٢ (١٥٨٠)، سنن النسائی/البیوع ٨٩ (٤٦٦٩)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٧ (٣٣٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٦، ١٠٠، ١٢٧، ١٨٦، ١٩٠، ٢٨٧)، سنن الدارمی/البیوع ٣٥ (٢٦١٢) (صحیح )
3491Sunan Abu Dawood

شراب اور مردار کی قیمت

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِه وَمَعْنَاهُ، قَالَ: الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ فِي الرِّبَا.

اعمش سے بھی اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں الآيات الأواخر من سورة البقرہ کے بجائے الآيات الأواخر في الربا ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Amash to the same effect through a different chain of narrators. This version adds: The last verses about usury.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٦) (صحیح )
3492Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کھانے کا غلہ خریدے وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک کہ اسے پورے طور سے اپنے قبضہ میں نہ لے لے ١ ؎۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone buys grain, he must not sell it till receives it in full.

Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء کا کہنا ہے کہ یہ حکم ہر بیچی جانے والی شے کے لئے عام ہے لہٰذا خریدی گئی چیز میں اس وقت تک کسی طرح کا تصرف جائز نہیں جب تک کہ اسے پورے طور سے قبضہ میں نہ لے لیا جائے یا جہاں خریدا ہے وہاں سے اسے منتقل نہ کرلیا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥١ (٢١٢٦)، ٥٤ (٢١٣٣)، ٥٥ (٢١٣٦)، صحیح مسلم/البیوع ٨ (١٥٢٦)، سنن النسائی/البیوع ٥٣ (٤٥٩٩)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٧ (٢٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ١٩ (٤٠)، مسند احمد (١/٥٦، ٦٣، ٢/٢٣، ٤٦، ٥٩، ٦٤، ٧٣، ٧٩، ١٠٨، ١١١، ١١٣)، سنن الدارمی/البیوع ٢٦ (٢٦٠٢) (صحیح )
3493Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَر، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَاعُ الطَّعَامَ، فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ، قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُيَعْنِي جُزَافًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں غلہ خریدتے تھے، تو آپ ہمارے پاس (کسی شخص کو) بھیجتے وہ ہمیں اس بات کا حکم دیتا کہ غلہ اس جگہ سے اٹھا لیا جائے جہاں سے ہم نے اسے خریدا ہے اس سے پہلے کہ ہم اسے بیچیں یعنی اندازے سے۔

Narrated Ibn Umar (RA) : During the time of Messenger of Allah ﷺ we used to buy grain, and he sent a man to us who ordered us to move it from the spot where we had bought it to some other place, before we sold it without weighing or measuring it.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٨ (١٥٢٧)، سنن النسائی/البیوع ٥٥ (٤٦٠٩)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣١ (٢٢٢٩)، (تحفة الأشراف: ٨٣٧١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٥٤ (٢١٣١)، ٥٦ (٢١٣٧)، ٧٢ (٢١٦٦)، موطا امام مالک/البیوع ١٩ (٤٢)، مسند احمد (١/٥٦، ١١٢، ٢/٧، ١٥، ٢١، ٤٠، ٥٣، ١٤٢، ١٥٠، ١٥٧) (صحیح )
3494Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الطَّعَامَ جُزَافًا بِأَعْلَى السُّوقِ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يَنْقُلُوهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں لوگ اٹکل سے بغیر ناپے تولے (ڈھیر کے ڈھیر) بازار کے بلند علاقے میں غلہ خریدتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ اسے اس جگہ سے منتقل نہ کرلیں (تاکہ مشتری کا پہلے اس پر قبضہ ثابت ہوجائے پھر بیچے) ۔

Ibn Umar said: They (the people) used to buy grain in the upper part of the market in the same spot without measuring or weighing it. The Messenger of Allah ﷺ forbade them to sell it there before removing it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ البیوع ٧٢ (٢١٦٧)، سنن النسائی/ البیوع ٥٥ (٤٦١٠)، (تحفة الأشراف: ٨١٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥، ٢١) (صحیح )
3495Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَدِينِيِّ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يَبِيعَ أَحَدٌ طَعَامًا اشْتَرَاهُ بِكَيْلٍ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غلہ کو جسے کسی نے ناپ تول کر خریدا ہو، جب تک اسے اپنے قبضہ و تحویل میں پوری طرح نہ لے لے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade to sell grain which one buys by measurement until one receives it in full.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ البیوع ٥٤ (٤٦٠٨)، (تحفة الأشراف: ٧٣٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١١١) (صحیح )
3496Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ، زَادَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ قَالَ أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَتَبَايَعُونَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرَجًّى ؟.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص گیہوں خریدے تو وہ اسے تولے بغیر فروخت نہ کرے ۔ ابوبکر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: کیوں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ لوگ اشرفیوں سے گیہوں خریدتے بیچتے ہیں حالانکہ گیہوں بعد میں تاخیر سے ملنے والا ہے ١ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone buys grain, he should not sell it until he measures it. Abu Bakr added in his version: I asked Ibn Abbas (RA) : Why ? He replied: Do you not see that they sell (grain) for gold, but the grain is still with the seller.

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلا: ایک آدمی نے سو روپیہ کسی کو غلہ کے لئے دیئے اور غلہ اپنے قبضہ میں نہیں لیا، پھر اس کو کسی اور سے ایک سو بیس روپیہ میں بیچ دیا جبکہ غلہ ابھی کسان یا فروخت کرنے والے کے ہاتھ ہی میں ہے، تو گویا اس نے سو روپیہ کو ایک سو بیس روپیہ میں بیچا اور یہ سود ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٤ (٢١٣٢)، ٥٥ (٢١٣٥)، صحیح مسلم/البیوع ٨ (١٥٢٥)، سنن النسائی/البیوع ٥٣ (٤٦٠١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢١، ٢٥١، ٢٧٠، ٢٨٥، ٣٥٦، ٣٥٧، ٣٦٨، ٣٦٩) (صحیح )
3497Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَهَذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ، حَتَّى يَقْبِضَهُ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ، زَادَ مُسَدَّدٌ قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسِبُ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَ الطَّعَامِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی گیہوں خریدے تو جب تک اسے اپنے قبضہ میں نہ کرلے، نہ بیچے ۔ سلیمان بن حرب نے اپنی روایت میں ( حتى يقبضه کے بجائے) حتى يستوفيه روایت کیا ہے۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ گیہوں کی طرح ہر چیز کا حکم ہے (جو چیز بھی کوئی خریدے جب تک اس پر قبضہ نہ کرلے دوسرے کے ہاتھ نہ بیچے) ١ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone buys a grain, he should not sell it until he takes possession of it. Sulaiman bin Harb said: Until he receives it in full. Musaddad added: Ibn Abbas said: And I think that everything is like grain.

Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کی اگلی مرفوع حدیث نمبر (٣٤٩٩) اسی عموم پر دلالت کرتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ البیوع ٥٥ (٢١٣٥)، صحیح مسلم/ البیوع ٨ (١٥٢٥)، سنن الترمذی/ البیوع ٥٦ (١٢٩١)، سنن النسائی/ البیوع ٥٣ (٤٦٠٢)، سنن ابن ماجہ/ التجارات ٣٧ (٢٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢١، ٢٧٠، ٢٨٥) (صحیح )
3498Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّاسَ يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَرَوْا الطَّعَامَ جُزَافًا، أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يُبْلِغَهُ إِلَى رَحْلِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں، میں نے لوگوں کو مار کھاتے ہوئے دیکھا ہے ١ ؎ جب وہ گیہوں کے ڈھیر بغیر تولے اندازے سے خریدتے اور اپنے مکانوں پر لے جانے سے پہلے بیچ ڈالتے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : I saw that during the time of the Messenger of Allah ﷺ the people were beaten when they bought grain on the same spot and sold it there without moving it to their houses.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ قبضہ میں لے کر بیچنے کے حکم کی خلاف ورزی کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ المحاربین ٢٩ (٦٨٥٢)، صحیح مسلم/ البیوع ٨ (١٥٢٧)، سنن النسائی/ البیوع ٥٥ (٤٦١٢)، (تحفة الأشراف: ٦٩٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٧، ١٥٠) (صحیح )
3499Sunan Abu Dawood

استیفاء طعام سے قبل اس کی فروخت جائز نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: ابْتَعْتُ زَيْتًا فِي السُّوقِ فَلَمَّا اسْتَوْجَبْتُهُ لِنَفْسِي، لَقِيَنِي رَجُلٌ فَأَعْطَانِي بِهِ رِبْحًا حَسَنًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِهِ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي بِذِرَاعِي فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ: لَا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ حَتَّى يَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں میں نے بازار میں تیل خریدا، تو جب اس بیع کو میں نے مکمل کرلیا، تو مجھے ایک شخص ملا، وہ مجھے اس کا اچھا نفع دینے لگا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس سے سودا پکا کرلوں اتنے میں ایک شخص نے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ زید بن ثابت ؓ تھے، انہوں نے کہا: جب تک کہ تم اسے جہاں سے خریدے ہو وہاں سے اٹھا کر اپنے ٹھکانے پر نہ لے آؤ نہ بیچنا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے سامان کو اسی جگہ بیچنے سے روکا ہے، جس جگہ خریدا گیا ہے یہاں تک کہ تجار سامان تجارت کو اپنے ٹھکانوں پر لے آئیں۔

Narrated Ibn Umar (RA) : I bought olive oil in the market. When I became its owner, a man met me and offered good profit for it. I intended to settle the bargain with him, but a man caught hold of my hand from behind. When I turned I found that he was Zayd ibn Thabit. He said: Do not sell it on the spot where you have bought it until you take it to your house, for the Messenger of Allah ﷺ forbade to sell the goods where they are bought until the tradesmen take them to their houses.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو دواد، (تحفة الأشراف: ٢٧٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩١) (حسن )
3500Sunan Abu Dawood

بیع کے وقت جو یہ کہے کہ اسمیں دھوکہ نہیں اس کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَايَعَ يَقُولُ لَا خِلَابَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ خریدو فروخت میں اسے دھوکا دے دیا جاتا ہے (تو وہ کیا کرے) رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: جب تم خریدو فروخت کرو، تو کہہ دیا کرو لا خلابة (دھوکا دھڑی کا اعتبار نہ ہوگا) تو وہ آدمی جب کوئی چیز بیچتا تو لا خلابة کہہ دیتا ١ ؎۔

Narrated Ibn Umar (RA) : A man told the Messenger of Allah ﷺ that he was being deceived in business transactions. The Messenger of Allah ﷺ then said: When you make a bargain, say: There is no attempt to deceive. So when the man made a bargain, he said: There is no attempt to deceive.

Notes · وضاحت
١ ؎: خریدار کے ایسا کہہ دینے سے اسے اختیار حاصل ہوجاتا ہے اور اگر بعد میں اسے پتہ چل جائے کہ اس کے ساتھ چالبازی کی گئی ہے تو وہ بیع فسخ کرسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٤٨ (٢١١٧)، الاستقراض ١٩ (٢٤٠٧)، الخصومات ٣ (٢٤١٤)، الحیل ٧ (٦٩٦٤)، سنن النسائی/البیوع ١٠ (٤٤٨٩)، (تحفة الأشراف: ٧٢٢٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع ١٢ (١٥٣٣)، موطا امام مالک/البیوع ٤٦ (٩٨)، مسند احمد (٢/٨٠، ١١٦، ١٢٩، ١٣٠) (صحیح )
3501Sunan Abu Dawood

بیع کے وقت جو یہ کہے کہ اسمیں دھوکہ نہیں اس کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُرُزِّيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ الْكَلْبِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ مُحَمَّدٌ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ، فَقُلْ: هَاءَ، وَهَاءَ، وَلَا خِلَابَةَ، قَالَ أَبُو ثَوْرٍ: عَنْ سَعِيدٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں خریدو فروخت کرتا تھا، لیکن اس کی گرہ (معاملہ کی پختگی میں) کمی و کمزوری ہوتی تھی تو اس کے گھر والے اللہ کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! فلاں (کے خریدو فروخت) پر روک لگا دیجئیے، کیونکہ وہ سودا کرتا ہے لیکن اس کی سودا بازی کمزور ہوتی ہے (جس سے نقصان پہنچتا ہے) تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بلایا اور اسے خریدو فروخت کرنے سے منع فرما دیا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھ سے خریدو فروخت کئے بغیر رہا نہیں جاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھا اگر تم خریدو فروخت چھوڑ نہیں سکتے تو خریدو فروخت کرتے وقت کہا کرو: نقدا نقدا ہو، لیکن اس میں دھوکا دھڑی نہیں چلے گی ١ ؎۔ اور ابوثور کی روایت میں ( أخبرنا سعيد کے بجائے) عن سعيد ہے۔

Narrated Anas ibn Malik: During the time of the Messenger of Allah ﷺ a man used to buy (goods), and he was weak in his intellect. His people came to the Prophet of Allah ﷺ and said: Prophet of Allah, stop so-and-so (to make a bargain) for he buys (goods), but he is weak in his intellect. So the Prophet ﷺ called on him and forbade him to make a bargain. He said: Prophet of Allah, I cannot keep away myself from business transactions. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: If you cannot give up making a bargain, then say: Take, and give, and there is no attempt to deceive.

Notes · وضاحت
١ ؎: پس اگر کسی نے دھوکہ اور فریب کیا، تو بیع فسخ ہوجائے گی اور لیا دیا واپس ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٢٨ (١٢٥٠)، سنن النسائی/البیوع ١٠ (٤٤٩٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٤ (٢٣٥٤)، (تحفة الأشراف: ١١٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١٧) (صحیح )
3502Sunan Abu Dawood

بیع عربان کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوْ يَتَكَارَى الدَّابَّةَ، ثُمَّ يَقُولُ: أُعْطِيكَ دِينَارًا عَلَى أَنِّي إِنْ تَرَكْتُ السِّلْعَةَ أَوِ الْكِرَاءَ فَمَا أَعْطَيْتُكَ لَكَ.

عبداللہ بن عمر و ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عربان سے منع فرمایا ہے۔ امام مالک کہتے ہیں: جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ایک غلام یا لونڈی خریدے یا جانور کو کرایہ پر لے پھر بیچنے والے یا کرایہ دینے والے سے کہے کہ میں تجھے (مثلاً ) ایک دینار اس شرط پر دیتا ہوں کہ اگر میں نے یہ سامان یا کرایہ کی سواری نہیں لی تو یہ جو (دینار) تجھے دے چکا ہوں تیرا ہوجائے گا (اور اگر لے لیا تو یہ دینار قیمت یا کرایہ میں کٹ جائے گا) ۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather told that the Messenger of Allah ﷺ forbade the type of transactions in which earnest money was paid. Malik said: This means, as we think--Allah better knows-that a man buys a slave or hires an animal, and he says: I give you a dinar on condition that if I give up the transaction or hire, what I gave you is yours.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٢ (٢١٩٢)، (تحفة الأشراف: ٨٨٢٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ البیوع ١ (١)، مسند احمد (٢/١٨٣) (ضعیف) (اس کی سند میں انقطاع ہے، یہ امام مالک کی بلاغات میں سے ہے )
3503Sunan Abu Dawood

اپنے پاس غیر موجود چیز کی فروخت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيُرِيدُ مِنِّي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَفَأَبْتَاعُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ. فَقَالَ: لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.

حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آدمی آتا ہے اور مجھ سے اس چیز کی بیع کرنا چاہتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں ہوتی، تو کیا میں اس سے سودا کرلوں، اور بازار سے لا کر اسے وہ چیز دے دوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس موجود نہ ہو اسے نہ بیچو ۔

Narrated Hakim ibn Hizam (RA) : Hakim asked (the Prophet): Messenger of Allah, a man comes to me and wants me to sell him something which is not in my possession. Should I buy it for him from the market? He replied: Do not sell what you do not possess.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ١٩ (١٢٣٢)، سنن النسائی/البیوع ٥٨ (٤٦١٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٠ (٢١٨٧)، (تحفة الأشراف: ٣٤٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٢، ٤٣٤) (صحیح )
3504Sunan Abu Dawood

اپنے پاس غیر موجود چیز کی فروخت کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ حَتَّى ذَكَرَ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ تَضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ادھار اور بیع ایک ساتھ جائز نہیں ١ ؎ اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں درست ہیں ٢ ؎ اور نہ اس چیز کا نفع لینا درست ہے، جس کا وہ ابھی ضامن نہ ہوا ہو، اور نہ اس چیز کی بیع درست ہے جو سرے سے تمہارے پاس ہو ہی نہیں ٣ ؎ (کیونکہ چیز کے سامنے آنے کے بعد اختلاف اور جھگڑا پیدا ہوسکتا ہے) ۔

Narrated Amr bin Suhaib: On his fathers authority, said that his grandfather Abdullah bin Amr reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The proviso of a loan combined with a sale is not allowable, nor two conditions relating to one transaction, nor profit arising from something which is not in ones charge, nor selling what is not in your possession.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی صورت یہ ہے کہ بائع خریدار کے ہاتھ آٹھ سو کا سامان ایک ہزار روپیے کے عوض اس شرط پر بیچے کہ بائع خریدار کو ایک ہزار روپے بطور قرض دے گا گویا بیع کی اگر یہ شکل نہ ہوتی تو بیچنے والا خریدار کو قرض نہ دیتا، اور اگر قرض کا وجود نہ ہوتا تو خریدار یہ سامان نہ خریدتا۔ ٢ ؎: مثلاً کوئی کہے کہ یہ غلام میں نے تم سے ایک ہزار نقد یا دو ہزار ادھار میں بیچا یہ ایسی بیع ہے جو دو شرطوں پر مشتمل ہے یا مثلاً کوئی یوں کہے کہ میں نے تم سے اپنا یہ کپڑا اتنے اتنے میں اس شرط پر بیچا کہ اس کا دھلوانا اور سلوانا میرے ذمہ ہے۔ ٣ ؎: بائع کے پاس جو چیز موجود نہیں ہے اسے بیچنے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس میں دھوکا دھڑی کا خطرہ ہے جیسے کوئی شخص اپنے بھاگے ہوے غلام یا اونٹ کی بیع کرے جب کہ ان دونوں کے واپسی کی ضمانت بائع نہیں دے سکتا، البتہ ایسی چیز کی بیع جو اپنی صفت کے اعتبار سے مشتری کے لئے بالکل واضح ہو جائز ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے بیع سلم کی اجازت دی ہے باوجود یہ کہ بیچی جانے والی شے بائع کے پاس فی الوقت موجود نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ١٩ (١٢٣٤)، سنن النسائی/البیوع ٦٠ (٤٦٢٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٠ (٢١٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٤، ١٧٨، ٢٠٥) (حسن صحیح )
3505Sunan Abu Dawood

بیع میں شرط لگانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بِعْتُهُ يَعْنِي بَعِيرَهُ، مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، قَالَ فِي آخِرِهِ: تُرَانِي إِنَّمَا مَاكَسْتُكَ لِأَذْهَبَ بِجَمَلِكَ خُذْ جَمَلَكَ وَثَمَنَهُ فَهُمَا لَكَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اسے (یعنی اپنا) اونٹ نبی اکرم ﷺ سے بیچا اور اپنے سامان سمیت سوار ہو کر اپنے اہل تک پہنچنے کی شرط لگا لی، اور اخیر میں آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ میں قیمت کم کرا رہا ہوں تاکہ کم ہی پیسے میں تمہارے اونٹ ہڑپ کرلے جاؤں، جاؤ تم اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور اونٹ کی قیمت بھی، یہ دونوں چیزیں تمہاری ہیں ۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : I sold it, that is, camel, to the Prophet ﷺ , but I made the stipulation that I should be allowed to ride it to home. At the end he (the Prophet) said: Do you think that I made this transaction with you so that I take your camel ? Take your camel and its price; both are yours.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٣٤ (٢٠٩٧)، الاستقراض ١ (٢٣٨٥)، ١٨ (٢٤٠٦)، المظالم ٢٦ (٢٤٧٠)، الشروط ٤ (٢٧١٨)، الجھاد ٤٩ (٢٨٦١)، ١١٣ (٢٩٦٧)، صحیح مسلم/البیوع ٤٢ (٧١٥)، الرضاع ١٦ (٧١٥)، سنن الترمذی/البیوع ٣٠ (١٢٥٣)، سنن النسائی/البیوع ٧٥ (٤٦٤١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٩ (٢٢٠٥)، (تحفة الأشراف: ٢٣٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٩، ٣٩٢) (صحیح )
3506Sunan Abu Dawood

غلام کی خریداری کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بایع پر) غلام و لونڈی کے عیب کی جواب دہی کی مدت تین دن ہے ۔

Narrated Uqbah ibn Amir: The Prophet ﷺ said: The contractual obligation of a slave is three days.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٤ (٢٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٣، ١٥٠، ١٥٢)، سنن الدارمی/البیوع ١٨ (٢٥٩٤) (ضعیف) (حسن بصری کا سماع عقبہ ؓ سے نہیں ہے )