اس سند سے بھی قتادہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر تین دن کے اندر ہی اس میں کوئی عیب پائے تو وہ اسے بغیر کسی گواہ کے لوٹا دے گا، اور اگر تین دن بعد اس میں کوئی عیب نکلے تو اس سے اس بات پر بینہ (گواہ) طلب کیا جائے گا، کہ جب اس نے اسے خریدا تھا تو اس میں یہ بیماری اور یہ عیب موجود تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تفسیر قتادہ کے کلام کا ایک حصہ ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Qatadah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: If he finds defect (in the slave) within three days, he may return it without evidence; if he finds a defect after three days, he will be required to produce evidence that he (the slave) had the defect when he bought it. Abu Dawud said: This explanation is from the words of Qatadah.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٩١٧) (ضعیف) وسندہ إلی قتادة صحیح (حسن بصری کا سماع عقبہ ؓ سے نہیں ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خراج ضمان سے جڑا ہوا ہے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Profit follows responsibility.
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً خریدار نے ایک غلام خریدا اسی دوران غلام نے کچھ کمائی کی تو اس کا حق دار مشتری ہوگا بائع نہیں کیونکہ غلام کے کھو جانے یا بھاگ جانے کی صورت میں مشتری ہی اس کا ضامن ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٥٣ (١٢٨٥)، سنن النسائی/ البیوع ١٣ (٤٤٩٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٣ (٢٢٤٢، ٢٢٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٩، ٢٠٨، ٢٣٧) (حسن )
( مخلد بن خفاف) غفاری کہتے ہیں میرے اور چند لوگوں کے درمیان ایک غلام مشترک تھا، میں نے اس غلام سے کچھ کام لینا شروع کیا اور ہمارا ایک حصہ دار موجود نہیں تھا اس غلام نے کچھ غلہ کما کر ہمیں دیا تو میرا شریک جو غائب تھا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور معاملہ ایک قاضی کے پاس لے گیا، اس قاضی نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کے حصہ کا غلہ اسے دے دوں، پھر میں عروہ بن زبیر ؓ کے پاس آیا اور ان سے اسے بیان کیا، تو عروہ ؓ ان کے پاس آئے اور ان سے وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اور عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی تھی آپ نے فرمایا: منافع اس کا ہوگا جو ضامن ہوگا ١ ؎۔
Narrated Makhlad ibn Khufaf al-Ghifari (RA) : I and some people were partners in a slave. I employed him on some work in the absence of one of the partners. He got earnings for me. He disputed me and the case of his claim to his share in the earnings to a judge, who ordered me to return the earnings (i. e. his share) to him. I then came to Urwah ibn az-Zubayr, and related the matter to him. Urwah then came to him and narrated to him a tradition from the Messenger of Allah ﷺ on the authority of Aisha (RA) : Profit follows responsibility.
Notes · وضاحت
١ ؎: عروہ نے اس حصہ دار سے یہ حدیث اس لئے بیان کی تاکہ وہ مخلد سے غلہ نہ لے کیونکہ غلام اس وقت مخلد کے ضمان میں تھا اس لئے اس کی کمائی کے مستحق بھی تنہا وہی ہوئے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ غلام جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے پاس رہا، پھر اس نے اس میں کوئی عیب پایا تو اس کا مقدمہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا، رسول اللہ ﷺ نے غلام بائع کو واپس کرا دیا، تو بائع کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام کے ذریعہ کمائی کی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خراج (منافع) اس شخص کا حق ہے جو ضامن ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ سند ویسی (قوی) نہیں ہے (جیسی سندوں سے کوئی حدیث ثابت ہوتی ہے )
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A man bought a slave, and he remained with him as long as Allah wished him to remain. He then found defect in him. He brought his dispute with him to the Prophet ﷺ and he returned him to him. The man said: Messenger of Allah, my slave earned some wages. The Messenger of Allah ﷺ then said: Profit follows responsibility. Abu Dawud said: This chain of narrators (of this version) is not reliable.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ التجارات ٤٣ (٢٢٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٢٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٠، ١١٦) (حسن) بما قبلہ (مسلم زنجی حافظہ کے کمزور راوی ہیں )
محمد بن اشعث کہتے ہیں اشعث نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے خمس کے غلاموں میں سے چند غلام بیس ہزار میں خریدے، عبداللہ بن مسعود ؓ نے اشعث سے ان کی قیمت منگا بھیجی تو انہوں نے کہا کہ میں نے دس ہزار میں خریدے ہیں تو عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: کسی شخص کو چن لو جو ہمارے اور تمہارے درمیان معاملے کا فیصلہ کر دے، اشعث نے کہا: آپ ہی میرے اور اپنے معاملے میں فیصلہ فرما دیں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب بائع اور مشتری (بیچنے اور خریدنے والے) دونوں کے درمیان (قیمت میں) اختلاف ہوجائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو صاحب مال و سامان جو بات کہے وہی مانی جائے گی، یا پھر دونوں بیع کو فسخ کردیں ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Muhammad ibn al-Ashath said: Al-Ashath bought slaves of booty from Abdullah ibn Masud for twenty thousand (dirhams. Abdullah asked him for payment of their price. He said: I bought them for ten thousand (dirhams). Abdullah said: Appoint a man who may adjudicate between me and you. Al-Ashath said: (I appoint) you between me and yourself. Abdullah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If both parties in a business transaction differ (on the price of an article), and they have witness between them, the statement of the owner of the article will be accepted (as correct) or they may annul the transaction.
Notes · وضاحت
١ ؎: خریدار اور بیچنے والے کے مابین قیمت کی تعیین و تحدید میں اگر اختلاف ہوجائے اور ان کے درمیان کوئی گواہ موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں بیچنے والا قسم کھا کر کہے گا کہ میں نے اس سامان کو اتنے میں نہیں بلکہ اتنے میں بیچا ہے، اب خریدار اس کی قسم اور قیمت کی تعیین پر راضی ہے تو بہتر ورنہ خریدار بھی قسم کھا کر یہ کہے کہ میں نے یہ سامان اتنے میں نہیں بلکہ اتنے میں خریدا ہے، پھر بیع فسخ کردی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤٣ (١٢٧٠)، سنن النسائی/البیوع ٨٠ (٤٦٥٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٩ (٢١٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٣٥٨، ٩٥٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٤٦) (صحیح )
قاسم بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ نے ایک غلام اشعث بن قیس ؓ کے ہاتھ بیچا، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث الفاظ کی کچھ کمی و بیشی کے ساتھ بیان کی۔
Al-Qasim bin Abdur-Rahman reported on the authority of his father: Ibn Masud sold slaves to al-Ashath bin Qais. He then narrated the rest of the tradition to the same effect with some variation of words.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ التجارات ١٩ (٢١٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٣٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٦٦) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شفعہ ١ ؎ ہر مشترک چیز میں ہے، خواہ گھر ہو یا باغ کی چہار دیواری، کسی شریک کے لیے درست نہیں ہے کہ وہ اسے اپنے شریک کو آگاہ کئے بغیر بیچ دے، اور اگر بغیر آگاہ کئے بیچ دیا تو شریک اس کے لینے کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ وہ اسے دوسرے کے ہاتھ بیچنے کی اجازت دیدے ٢ ؎۔
Narrated Jabir: The Messenger of Allah ﷺ as saying: There is the right of option regarding everything which is shared, whether a dwelling or a garden. It is not lawful to sell before informing ones partner, but if he sells without informing him, he has the greatest right to it.
Notes · وضاحت
١ ؎: شفعہ وہ استحقاق ہے جس کے ذریعہ شریک اپنے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہے قیمت ادا کر کے حاصل کرسکے۔ ٢ ؎: اگر شریک لینے کا خواہش مند ہے تو مشتری نے جتنی قیمت دی ہے، وہ قیمت دے کرلے لے، مشتری کے پیسے واپس ہوجائیں گے، لیکن اگر اس نے آگاہ کردیا، اور شریک لینے کا خواہش مند نہیں ہے، تو جس کے ہاتھ بھی چاہے بیچے حق شفغہ باقی نہ رہے گا۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شفعہ ہر اس چیز میں رکھا ہے، جو تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حد بندیاں ہوگئی ہوں، اور راستے الگ الگ نکال دئیے گئے ہوں تو اس میں شفعہ نہیں ہے۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ decreed the right to buy the neighboring property applicable to everything which is not divided, but when boundaries are fixed and separate roads made, there is no option.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، اگر وہ موجود نہ ہوگا تو شفعہ میں اس کا انتظار کیا جائے گا، جب دونوں ہمسایوں کے آنے جانے کا راستہ ایک ہو ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: The neighbour is most entitled to the right of pre-emption, and he should wait for its exercise even if he is absent, when the two properties have one road.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٣٢ (١٣٦٩)، سنن ابن ماجہ/الشفعة ٢ (٢٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٢٤٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٣)، سنن الدارمی/ البیوع ٨٣ (٢٦٦٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مفلس ہوجائے، پھر کوئی آدمی اپنا مال اس کے پاس ہو بہو پائے تو وہ (دوسرے قرض خواہوں کے مقابل میں) اسے واپس لے لینے کا زیادہ مستحق ہے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone becomes insolvent and the man (i. e. creditor) finds his very property with him, he is more entitled to it than anyone else.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث کی روشنی میں علماء نے کچھ شرائط کے ساتھ ایسے شخص کو اپنے سامان کا زیادہ حقدار ٹھہرایا ہے جو یہ سامان کسی ایسے شخص کے پاس بعینہٖ پائے جس کا دیوالیہ ہوگیا ہو، وہ شرائط یہ ہیں: (الف) سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو، (ب) یا پا جانے والا سامان اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے کافی نہ ہو، (ج) سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی نہ لیا گیا ہو، (د) کوئی ایسی رکاوٹ حائل نہ ہو جس سے وہ سامان لوٹایا ہی نہ جاسکے۔
ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی نے اپنا سامان بیچا اور خریدار مفلس ہوگیا، اور بیچنے والے نے اپنے مال کی کوئی قیمت نہ پائی ہو، اور اس کا سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو تو وہ اپنا سامان واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے، اور اگر خریدار مرگیا ہو تو سامان والا دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہے ۔
Narrated Abu Bakr ibn Abdur Rahman ibn al-Harith ibn Hisham (RA) : The Prophet ﷺ said: If a man sells (his) property and the man who buys it becomes insolvent, and the seller does not receive the price of the property he had sold, but finds his very property with him (i. e. the buyer), he is more entitled to it (than others). If the buyer dies, then the owner of the property is equal to the creditors.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦١) (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، پچھلی سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: اگر بائع نے اس کی قیمت میں سے کچھ پا لیا ہے تو باقی قرض کے سلسلہ میں وہ دیگر قرض خواہوں کی طرح ہوگا، اور جو شخص مرگیا اور اس کے پاس کسی شخص کی بعینہٖ کوئی چیز نکلی تو اس میں سے اس نے کچھ وصول کیا ہو یا نہ کیا ہو، ہر حال میں وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کی روایت (بہ نسبت زبیدی کی روایت کے) زیادہ صحیح ہے۔
A similar tradition (to the No. 3513) has been transmitted by Abu Hurairah from the Prophet ﷺ . This version has: If he paid something from its price, then he will be equal to the creditors in the remaining price. If a man dies and he has the very property of a man (i. e. seller), he is equal to the creditors whether he (the buyer) pays him (the price) or not. Abu Dawud said: Maliks version of this tradition is sounder.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٥١٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦١) (صحیح )
یونس، ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے۔۔۔ پھر آگے انہوں نے مالک کی حدیث جیسی روایت ذکر کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر مشتری اس مال کی کسی قدر قیمت دے چکا ہے، تو وہ مال والا دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہوگا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Bakr bin Adb al-Rahman bin al-Harith bin Hisham from Messenger of Allah ﷺ through a different chain of narrators to the same effect as narrated by Malik. This version adds: If he paid something from the price (of the property), then he will be equal to the creditors in it.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٥١٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦١) (صحیح) (یہ بھی مرسل ہے اور حدیث نمبر (٣٥١٩) سے تقویت پاکر یہ بھی صحیح ہے )
عمر بن خلدہ کہتے ہیں ہم اپنے ایک ساتھی کے مقدمہ میں جو مفلس ہوگیا تھا ابوہریرہ ؓ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میں تمہارا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا ہے: جو مفلس ہوگیا، یا مرگیا، اور بائع نے اپنا مال اس کے پاس بعینہ موجود پایا تو وہ بہ نسبت اور قرض خواہوں کے اپنا مال واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے ۔
Umar ibn Khaldah said: We came to Abu Hurairah who had become insolvent. He said: I shall decide between you on the basis of the decision of the Messenger of Allah ﷺ : If anyone becomes insolvent or dies and the man (the seller) finds his very property with him, he is more entitled to it (than others).
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٦ (٢٣٦٠)، انظر حدیث رقم: (٣٥١٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٦٩) (ضعیف) (اس کے راوی ابو المعتمر بن عمرو بن رافع مجہول ہیں )
عامر شعبی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی ایسا جانور پائے جسے اس کے مالک نے ناکارہ و بوڑھا سمجھ کر دانا و چارہ سے آزاد کردیا ہو، وہ اسے (کھلا پلا کر، اور علاج معالجہ کر کے) تندرست کرلے تو وہ جانور اسی کا ہوجائے گا ۔ عبیداللہ بن حمید بن عبدالرحمٰن حمیری نے کہا: تو میں نے عامر شعبی سے پوچھا: یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے (ایک نہیں) نبی اکرم ﷺ کے کئی صحابہ سے سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حماد کی حدیث ہے، اور یہ زیادہ واضح اور مکمل ہے۔
Narrated Amir ash-Shabi (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone finds an animal whose owners were helpless to provide fodder to it and so they turned it out (of their house), and he took it and looked after it, it will belong to him. Abu Dawud said: This is the tradition of Hammad. It is more plain and perfect.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٠١، ١٨٨٦٣) (حسن )
شعبی سے روایت ہے، وہ اس حدیث کو نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص کوئی جانور مر کھپ جانے کے لیے چھوڑ دے اور اسے کوئی دوسرا شخص (کھلا پلا کر) تندرست کرلے، تو وہ اسی کا ہوگا جس نے اسے (کھلا پلا کر) صحت مند بنایا ۔
Narrated ash-Shabi (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone leaves an animal at a place of perishing and another man brings it to life, it belongs to him who brings it to life.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٠١، ١٨٨٦٣) (حسن )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دودھ والا جانور جب گروی رکھا ہوا ہو تو اسے کھلانے پلانے کے بقدر دوہا جائے گا، اور سواری والا جانور رہن رکھا ہوا ہو تو کھلانے پلانے کے بقدر اس پر سواری کی جائے گی، اور جو سواری کرے اور دوہے اس پر اسے کھلانے پلانے کی ذمہ داری ہوگی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک صحیح ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: The milk of milch camels may be drunk for payment when in pledge, and the animal may be ridden for payment when it is pledge; payment being made by the one who rides and the one who drinks. Abu Dawud said: In our opinion this is correct.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرھن ٤ (٢٥١١)، سنن الترمذی/البیوع ٣١ (١٢٥٤)، سنن ابن ماجہ/الرہون ٢ (٢٤٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢٨، ٤٧٢) (صحیح )