غلام خریدنے کے بعد اسے کسی کام پر لگا دیا پھر کوئی عیب پایا گیا تو کیا کیا جائے ؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خراج ضمان سے جڑا ہوا ہے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Profit follows responsibility.
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً خریدار نے ایک غلام خریدا اسی دوران غلام نے کچھ کمائی کی تو اس کا حق دار مشتری ہوگا بائع نہیں کیونکہ غلام کے کھو جانے یا بھاگ جانے کی صورت میں مشتری ہی اس کا ضامن ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٥٣ (١٢٨٥)، سنن النسائی/ البیوع ١٣ (٤٤٩٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٣ (٢٢٤٢، ٢٢٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٩، ٢٠٨، ٢٣٧) (حسن )