بائع اور مشتری میں اختلاف ہوجائے اور مبیع موجود ہو
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ بَاعَ مِنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَقِيقًا، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَالْكَلَامُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ.
قاسم بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ نے ایک غلام اشعث بن قیس ؓ کے ہاتھ بیچا، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث الفاظ کی کچھ کمی و بیشی کے ساتھ بیان کی۔
Al-Qasim bin Abdur-Rahman reported on the authority of his father: Ibn Masud sold slaves to al-Ashath bin Qais. He then narrated the rest of the tradition to the same effect with some variation of words.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ التجارات ١٩ (٢١٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٣٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٦٦) (صحیح )