پاکی کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 1 · 389 hadiths · Page 3 of 20

41Sunan Abu Dawood

ڈھیلے سے استنجاء کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ، فَقَالَ: بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ.

خزیمہ بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے استنجاء کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

Narrated Khuzaymah ibn Thabit (RA) : The Prophet ﷺ was asked about cleansing (after relieving oneself). He said: (One should cleanse oneself) with three stones which should be free from dung. Abu Dawud said: A similar tradition has been narrated by Abu Usamah and Ibn Numair from Hisham.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٦ (٣١٥)، (تحفة الأشراف: ٣٥٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١٣، ٢١٤) (صحیح )
42Sunan Abu Dawood

پانی سے پاکی حاصل کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى التَّوْأَمُ. ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ التَّوْأَمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عُمَرُ ؟. فَقَالَ: هَذَا مَاءٌ تَتَوَضَّأُ بِهِ، قَالَ: مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پیشاب کیا، عمر ؓ پانی کا ایک کوزہ (کلھڑ) لے کر آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ نے پوچھا: عمر! یہ کیا چیز ہے؟ ، عمر ؓ نے جواب دیا: آپ کے وضو کا پانی، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ایسا حکم نہیں ہوا کہ جب بھی میں پیشاب کروں تو وضو کروں، اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت (واجبہ) بن جائے گی ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ urinated and Umar was standing behind him with a jug of water. He said: What is this, Umar? He replied: Water for you to perform ablution with. He said: I have not been commanded to perform ablution every time I urinate. If I were to do so, it would become a sunnah.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٠ (٣٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٥) (ضعیف) (عبداللہ التوأم ضعیف ہیں، نیز سختیانی نے ان کی مخالفت کی ہے، سختیانی نے اس کو ابن عباس ؓ کی حدیث سے دوسرے سیاق میں روایت کی ہے (مؤلف: اطعمہ، باب: ١١)، (ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ١/٢٦ )
43Sunan Abu Dawood

پانی سے استنجاء کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَمَعَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ وَهُوَ أَصْغَرُنَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ السِّدْرَةِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاءِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے، آپ ﷺ کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جس کے ساتھ ایک لوٹا تھا، وہ ہم میں سب سے کم عمر تھا، اس نے اسے بیر کے درخت کے پاس رکھ دیا، آپ ﷺ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو پانی سے استنجاء کر کے ہمارے پاس آئے۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Messenger of Allah ﷺ entered a park. He was accompanied by a boy who had a jug of water with him. He was the youngest of us. He placed it near the lote-tree. He ( the Prophet, ﷺ ) relieved himself. He came to us after he had cleansed himself with water.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ١٥ (١٥٠)، ١٦ (١٥١)، ١٧ (١٥٢)، ٥٦ (٢١٧)، الصلاة ٩٣ (٥٠٠)، صحیح مسلم/الطھارة ٢١ (٢٧٠، ٢٧١)، سنن النسائی/الطھارة ٤١ (٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٧١) (صحیح )
44Sunan Abu Dawood

پانی سے استنجاء کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ قُبَاءٍ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا سورة التوبة آية 108، قَالَ: كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فيه رجال يحبون أن يتطهروا ١ ؎ اہل قباء کی شان میں نازل ہوئی ہے، وہ لوگ پانی سے استنجاء کرتے تھے، انہیں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The following verse was revealed in connection with the people of Quba: In it are men who love to be purified (ix. 108). He (Abu Hurairah) said: They used to cleanse themselves with water after easing. So the verse was revealed in connection with them.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک صاف ہونے کو پسند کرتے ہیں “ (التوبہ: ١٠٨ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/التفسیر ١٠ (٣١٠٠)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢٨ (٣٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٠٩) (صحیح )
45Sunan Abu Dawood

استنجے کے بعد زمین پر رگڑ کر ہاتھ صاف کرنا

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَهَذَا لَفْظُهُ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْمُخَرَّمِيَّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ، أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ رَكْوَةٍ، فَاسْتَنْجَى، قَالَ أَبُو دَاوُد فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ آخَرَ، فَتَوَضَّأَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ أَتَمُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب پاخانے کے لیے جاتے تو میں پیالے یا چھاگل میں پانی لے کر آپ کے پاس آتا تو آپ ﷺ پاکی حاصل کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع کی روایت میں ہے: پھر آپ ﷺ اپنا ہاتھ زمین پر رگڑتے، پھر میں پانی کا دوسرا برتن آپ کے پاس لاتا تو آپ ﷺ اس سے وضو کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسود بن عامر کی حدیث زیادہ کامل ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Prophet ﷺ went to the privy, I took to him water in a small vessel or a skin, and he cleansed himself. He then wiped his hand on the ground. I then took to him another vessel and he performed ablution. Abu Dawud said: The tradition is transmitted by al-Aswad bin Amir is more perfect.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٩ (٣٥٨)، ٦١ (٤٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٨٦)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة (١٥/٧٠٣)، مسند احمد (٢/٣١١، ٤٥٤) (حسن )
46Sunan Abu Dawood

مسواک کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَبِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں مومنوں پر دشوار نہ سمجھتا تو ان کو نماز عشاء کو دیر سے پڑھنے، اور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : (the Prophet, ﷺ ) as saying: Were it not that I might oeverburdern the believers, I would order them to delay the night (isha) prayer and use the tooth-stick at the time of every prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٥ (٢٥٢)، سنن النسائی/الطھارة ٧ (٧)، سنن ابن ماجہ/الصلاة ٧ (٢٨٧)، موطا امام مالک/الطھارة ٣٢ (١١٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٧٣)، وقد أخرجہ: خ/الجمعة ٨ (٨٨٧)، التمني ٩ (٧٢٤٠)، سنن الترمذی/الطہارة ١٨(٢٢)، حم (٢/٢٤٥، ٢٥٠، ٣٩٩، ٤٠٠، ٤٦٠، ٥١٧، ٥٣١ )، سنن الدارمی/الطھارة ١٨ (٧١٠) (صحیح )
47Sunan Abu Dawood

مسواک کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَرَأَيْتُ زَيْدًا يَجْلِسُ فِي الْمَسْجِدِ وَإِنَّ السِّوَاكَ مِنْ أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ، فَكُلَّمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اسْتَاكَ.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اگر میں اپنی امت پر دشواری محسوس نہ کرتا تو ہر نماز کے وقت انہیں مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔ ابوسلمہ (ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن) کہتے ہیں: میں نے زید بن خالد ؓ کو دیکھا کہ وہ نماز کے لیے مسجد میں بیٹھے رہتے اور مسواک ان کے کان پر ہوتی جیسے کاتب کے کان پر قلم لگا رہتا ہے، جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرلیتے (پھر کان کے اوپر رکھ لیتے) ۔

Narrated Zayd ibn Khalid al-Juhani (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Were it not hard on my ummah, I would order them to use the tooth-stick at the time of every prayer. Abu Salamah said: Zayd ibn Khalid used to attend the prayers in the mosque with his tooth-stick on his ear where a clerk carries a pen, and whenever he got up for prayer he used it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ١٨ (٢٣)، (تحفة الأشراف: ٣٧٦٦)، مسند احمد (٤/١١٦) (صحیح )
48Sunan Abu Dawood

مسواک کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ تَوضُّؤَ ابْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا وَغَيْرَ طَاهِرٍ، عَمَّ ذَاكَ ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْنِيهِ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرٍ حَدَّثَهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ بِالْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا وَغَيْرَ طَاهِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ، أُمِرَ بِالسِّوَاكِ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَرَى أَنَّ بِهِ قُوَّةً، فَكَانَ لَا يَدَعُ الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ رَوَاهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.

محمد بن یحییٰ بن حبان نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر سے کہا: آپ بتائیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ کے ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا سبب (خواہ وہ باوضو ہوں یا بےوضو) کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسماء بنت زید بن خطاب نے بیان کیا کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر ؓ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا، خواہ آپ ﷺ وضو سے ہوں یا بےوضو، پھر جب آپ ﷺ پر یہ حکم دشوار ہوا، تو آپ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیا گیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ کا خیال تھا کہ ان کے پاس (ہر نماز کے لیے وضو کرنے کی) قوت ہے، اس لیے وہ کسی بھی نماز کے لیے اسے چھوڑتے نہیں تھے۔

Narrated Abdullah bin Abdullah bin Umar (RA) : Muhammad ibn Yahya ibn Habban asked Abdullah ibn Abdullah ibn Umar about the reason for Ibn Umars performing ablution for every prayer, whether he was with or without ablution. He replied: Asma, daughter of Zayd ibn al-Khattab, reported to me that Abdullah ibn Hanzalah ibn Abu Amir narrated to her that the Messenger of Allah ﷺ was earlier commanded to perform ablution for every prayer whether or not he was with ablution. When it became a burden for him, he was ordered to use tooth-stick for every prayer. As Ibn Umar thought that he had the strength (to perform the ablution for every prayer), he did not give up performing ablution for every prayer. Abu Dawud said: Ibrahim bin Saad narrated this tradition on the authority of Muhammad bin Ishaq, and there he mentions the name of Ubaid Allah bin Abdullah (instead of Abdullah bin Abdullah bin Umar (RA) )

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٢٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٢٥)، سنن الدارمی/الطھارة ٣ (٦٨٤) (حسن )
49Sunan Abu Dawood

مسواک کرنے کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مُسَدَّدٌ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَرَأَيْتُهُ يَسْتَاكُ عَلَى لِسَانِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَاكُ، وَقَدْ وَضَعَ السِّوَاكَ عَلَى طَرَفِ لِسَانِهِ وَهُوَ يَقُولُ: آهْ آهْ يَعْنِي يَتَهَوَّعُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مُسَدَّدٌ: فَكَانَ حَدِيثًا طَوِيلًا، وَلَكِنِّي اخْتَصَرْتُهُ.

ابوموسیٰ اشعری (عبداللہ بن قیس) ؓ کہتے ہیں: (مسدد کی روایت میں ہے کہ) ہم سواری طلب کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی زبان پر مسواک پھیر رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور سلیمان کی روایت میں ہے: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ مسواک کر رہے تھے، اور مسواک کو اپنی زبان کے کنارے پر رکھ کر فرماتے تھے اخ اخ جیسے آپ قے کر رہے ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: حدیث لمبی تھی مگر میں نے اس کو مختصر کردیا ہے۔

Narrated Abu Burdah (RA) : On the authority of his father ( Abu Musa al-Ashari), reported (according to the version of Musaddad): We came to the Messenger of Allah ﷺ to provide us with a mount, and found him using the tooth-stick, its one end being at his tongue (i. e. he wsa rinsing his mouth). According to the version of Sulaiman it goes: I entered upon the Prophet ﷺ who was using the tooth-stick, and had it placed at one side of his tongue, producing a gurgling sound. Abu Dawud said: Musaddad said that the tradition was a lengthy but he shortened it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٧٣ (٢٤٤)، صحیح مسلم/الطھارة ١٥ (٢٥٤)، سنن النسائی/الطھارة ٣ (٣)، (تحفة الأشراف: ٩١٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤١٧) (صحیح )
50Sunan Abu Dawood

ایک شخص دوسرے شخص کی مسواک استعمال کرسکتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَنُّ وَعِنْدَهُ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فِي فَضْلِ السِّوَاكِ أَنْ كَبِّرْ أَعْطِ السِّوَاكَ أَكْبَرَهُمَا، قَالَ أَحْمَدُ هُوَ ابْنُ حَزْمٍ: قَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسواک کر رہے تھے، آپ ﷺ کے پاس دو آدمی تھے، ان میں ایک دوسرے سے عمر میں بڑا تھا، اسی وقت اللہ نے مسواک کی فضیلت میں آپ ﷺ پر وحی نازل فرمائی اور حکم ہوا کہ آپ اپنی مسواک ان دونوں میں سے بڑے کو دے دیجئیے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was using the tooth-stick, when two men, one older than the other, were with him. A revelation came to him about the merit of using the tooth-stick. He was asked to show proper respect and give it to the elder of the two.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧١٣٢) (صحیح )
51Sunan Abu Dawood

مسواک دھونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ الْحَاسِبُ، حَدَّثَنِيكَثِيرٌ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَيُعْطِينِي السِّوَاكَ لِأَغْسِلَهُ، فَأَبْدَأُ بِهِ فَأَسْتَاكُ، ثُمَّ أَغْسِلُهُ وَأَدْفَعُهُ إِلَيْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مسواک کر کے مجھے دھونے کے لیے دیتے تو میں خود اس سے مسواک شروع کردیتی پھر اسے دھو کر آپ کو دے دیتی۔

Aishah narrated (RA) : The Prophet of Allah ﷺ would clean his teeth with the Siwak, then he would give me the Siwak in order to wash it. So I would first use it myself, then wash it and return it.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٥٧٠) (حسن )
52Sunan Abu Dawood

مسواک کا تعلق دین فطرت سے ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ بِالْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ، قَالَ زَكَرِيَّا: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ مُوسَى،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَاوُدُ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْفِطْرَةِ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ وَزَادَ وَالْخِتَانَ، قَالَ: وَالِانْتِضَاحَ، وَلَمْ يَذْكُرِ انْتِقَاصَ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ نَحْوُهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَ: خَمْسٌ كُلُّهَا فِي الرَّأْسِ، وَذَكَرَ فِيهَا الْفَرْقَ وَلَمْ يَذْكُرْ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ نَحْوُ حَدِيثِ حَمَّادٍ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، قَوْلُهُمْ وَلَمْ يَذْكُرُوا إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ. وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، نَحْوُهُ، وَذَكَرَ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ وَالْخِتَانَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دس چیزیں دین فطرت ہیں ١ ؎: ١۔ مونچھیں کاٹنا، ٢۔ داڑھی بڑھانا، ٣۔ مسواک کرنا، ٤۔ ناک میں پانی ڈالنا، ٥۔ ناخن کاٹنا، ٦۔ انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، ٧۔ بغل کے بال اکھیڑنا، ٨۔ ناف کے نیچے کے بال مونڈنا ٢ ؎، ٩۔ پانی سے استنجاء کرنا ۔ زکریا کہتے ہیں: مصعب نے کہا: میں دسویں چیز بھول گیا، شاید کلی کرنا ہو۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Ten are the acts according to fitrah (nature): clipping the moustache, letting the beard grow, using the tooth-stick, cutting the nails, washing the finger joints, plucking the hair under the arm-pits, shaving the pubes, and cleansing ones private parts (after easing or urinating) with water. The narrator said: I have forgotten the tenth, but it may have been rinsing the mouth. Narrated Ammar bin Yasir (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: The rinsing of mouth and snuffing up water in the nose are acts that bear the characteristics of fitrah (nature). He then narrated a similar tradition (as reported by Aisha (RA) ), but he did not mention the words letting the beard grow. He added the words circumcision and sprinkling water on the private part of the body. He did not mention the words cleansing oneself after easing. Abu Dawud said: A similar tradition has been reported on the authority of Ibn Abbas. He mentioned only five sunnahs all relating to the head, one of them being parting of the hair; it did not include wearing the beard. Abu Dawud said: The tradition as reported by Hammad has also been transmitted by Talq bin Habib, Mujahid, and Bakr bin Abd Allaah bin al-Muzani as their own statement ( not as a tradition from the Prophet, ﷺ ). They did not mention the words letting the beard grow. The version transmitted by Muhammad bin Abd Allaah bin Abi Maryam, Abu Salamah, and Abu Hurairah from the Prophet ﷺ mentions the words letting the beard grow. A similar tradition has been reported by Ibrahim al-Nakhai. He mentioned the words wearing the beard and circumcision.

Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر علماء نے فطرت کی تفسیر سنت سے کی ہے، گویا یہ خصلتیں انبیاء کی سنت ہیں جن کی اقتداء اور پیروی کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے قول: فبهداهم اقتده میں دیا ہے۔ ٢ ؎: مسلم کی ایک روایت کے مطابق چالیس دن سے زیادہ کی تاخیر اس میں درست نہیں ہے۔ عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فطرت میں سے ہے ، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی، داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا، اس میں ختنہ کا اضافہ کیا ہے، نیز اس میں استنجاء کے بعد لنگی پر پانی چھڑکنے کا ذکر ہے، اور پانی سے استنجاء کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح کی روایت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے، جس میں پانچ چیزیں ہیں ان میں سب کا تعلق سر سے ہے، اس میں ابن عباس ؓ نے سر میں مانگ نکالنے کا ذکر کیا ہے، اور داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث کی طرح طلق بن حبیب، مجاہد اور بکر بن عبداللہ المزنی سے ان سب کا اپنا قول مروی ہے، اس میں ان لوگوں نے بھی داڑھی چھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور محمد بن عبداللہ بن مریم کی روایت جسے انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ ؓ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اس میں داڑھی چھوڑنے کا ذکر ہے۔ ابراہیم نخعی سے بھی اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں انہوں نے داڑھی چھوڑنے اور ختنہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٦١)، سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٧)، سنن النسائی/الزینة ١ (٥٠٤٣)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٧) (صحیح ) حدیث محمد بن عبداللہ ابن مریم تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٠٠٣، ١٠٣٥٠)، وحدیث موسیٰ بن إسماعیل قد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٤)، مسند احمد (٤/٢٦٤) (حسن) (ام المومنین عائشہ ؓ کی گذشتہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ خود اس کے اندر دو علتیں ہیں: اس کا راوی علی بن جدعان ضعیف ہے اور سلمہ نے عمار بن یاسر ؓ سے حدیث نہیں سنی ہے، اور موسیٰ کی روایت کے مطابق تو اس کے اندر ارسال کی علت بھی ہے )
53Sunan Abu Dawood

رات کو نیند سے بیدار ہو کر مسواک کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے تھے۔

Narrated Hudhaifah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ got up during the night (to pray), he cleansed his mouth with the tooth-stick.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٧٣ (٢٤٥)، الجمعة ٨ (٨٨٩)، التھجد ٩ (١١٣٦)، صحیح مسلم/الطھارة ١٥ (٢٥٥)، سنن النسائی/الطھارة ٢ (٢)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧ (٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ٣٣٣٦)، مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٩٠، ٣٩٧)، سنن الدارمی/الطھارة ٢٠ (٧١٢) (صحیح )
54Sunan Abu Dawood

رات کو نیند سے بیدار ہو کر مسواک کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوضَعُ لَهُ وَضُوءُهُ وَسِوَاكُهُ، فَإِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ تَخَلَّى ثُمَّ اسْتَاكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے لیے وضو کا پانی اور مسواک رکھ دی جاتی تھی، جب آپ ﷺ رات کو اٹھتے تو قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کرتے پھر مسواک کرتے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Ablution water and tooth-stick were placed by the side of the Prophet ﷺ . When he got up during the night (for prayer), he relieved himself, then he used the tooth-stick.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦١١١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٨ (٧٤٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٦٢ (١٣١٦)، قیام اللیل ٢(١٦٠٢)، ١٧(١٦٤٢)، ١٨(١٦٥٢)، ٤٢(١٧١٩)، ٤٣ (١٧٢١، ١٧٢٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٣ (١١٩٠)، مسند احمد (٦/٤٤) (صحیح )
55Sunan Abu Dawood

رات کو نیند سے بیدار ہو کر مسواک کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ، إِلَّا تَسَوَّكَ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب بھی رات کو یا دن کو سو کر اٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک کرتے تھے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ did not get up after sleeping by night or by day without using the tooth-stick before performing ablution.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٩)، مسند احمد (٦/١٢١، ١٦٠) (حسن) دون قوله: ” ولا نهار “
56Sunan Abu Dawood

رات کو نیند سے بیدار ہو کر مسواک کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ، أَتَى طَهُورَهُ، فَأَخَذَ سِوَاكَهُ فَاسْتَاكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَاتِ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى قَارَبَ أَنْ يَخْتِمَ السُّورَةَ أَوْ خَتَمَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ مِثْل ذَلِكَ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة آل عمران آية 190 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گزاری، جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے وضو کے پانی کے پاس آئے، اپنی مسواک لے کر مسواک کی، پھر آپ ﷺ نے آیت کریمہ إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب ١ ؎ کی تلاوت کی یہاں تک کہ سورة ختم کے قریب ہوگئی، یا ختم ہوگئی، اس کے بعد آپ ﷺ نے وضو کیا پھر اپنے مصلی پر آئے اور دو رکعت نماز پڑھی، پھر واپس اپنے بستر پر جب تک اللہ نے چاہا جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا (یعنی مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعت نماز پڑھی) پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے، پھر نیند سے بیدار ہوئے، اور اسی طرح کیا، پھر اپنے بستر پر جا کر سوئے رہے اس کے بعد نیند سے بیدار ہوئے اور اسی طرح کیا، ہر بار آپ ﷺ مسواک کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد آپ ﷺ نے وتر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن فضیل نے حصین سے روایت کی ہے، اس میں اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے مسواک کی اور وضو کیا، آپ ﷺ آیت کریمہ إن في خلق السموات والأرض پڑھ رہے تھے، یہاں تک کہ پوری سورة ختم کردی۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : I spent a night with the Prophet ﷺ . When he woke up from his sleep (in the latter part of the night for prayer) he came to his ablution water. He took the tooth-stick and used it. He then recited the verse: Verily in the creation of the heavens and the earth and the alternation of the night and the day are tokens (of His Sovereignty) for men of understanding (iii-190). He recited these verses up to the end of the chapter or he finished the whole chapter. He then performed ablution and came to the place of prayer. He then said two rakahs of prayer. He then lay down on the bed and slept as much as Allaah wished. He then got up and did the same. He then lay down and slept. He then got up and did the same. Every time he used the tooth-stick and offered two rakah of prayer. He then offered the prayer known as witr. Abu Dawud said: Fudail on the authority if Husain reported the wording: He then used the tooth-stick and performed ablution while he was reciting the verses: Verily in the creation of the heaves and the earth. . . until he finished the chapter.

Notes · وضاحت
١ ؎: ” آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں “ (سورۃ آل عمران: ١٩٠ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤١ (١١٧)، الأذان ٥٧ (٦٩٧)، ٥٩ (٦٩٩)، ٧٩ (٧٢٨)، اللباس ٧١ (٥٩١٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن النسائی/الإمامة ٢١ (٨٠٣)، ٢٢ (٨٠٥)، الغسل ٢٩ (٤٤١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٤٤ (٩٧٣)، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٧)، وراجع حدیث رقم: (١٣٥٣، ١٣٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٥٢، ٢٨٥، ٢٨٧، ٣٤١، ٣٤٧، ٣٥٤، ٣٥٧، ٣٦٠، ٣٦٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٣ (٦٨٤) (صحیح )
57Sunan Abu Dawood

خالی ہے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ.

شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کس چیز سے ابتداء فرماتے؟ فرمایا: مسواک سے۔

Shuraih asked Aisha (RA) : What would the Messenger of Allah ﷺ do as soon as he entered the house? She replied: (He would use) the siwak.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٥ (٢٥٣)، سنن النسائی/الطھارة ٨ (٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧ (٢٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٢، ١١٠، ١٨٢، ١٨٨) (صحیح )
59Sunan Abu Dawood

وضو کی فرضیت و اہمیت

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ، وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ.

ابوالملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر ؓ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چوری کے مال سے کوئی صدقہ قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی بغیر وضو کے کوئی نماز ۔

Narrated Abul Malih (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah does not accept charity from goods acquired by embezzlement as He does not accept prayer without purification.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ١٠٤ (١٣٩)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٢ (٢٧١)، (تحفة الأشراف: ١٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ٢ (٢٢٤)، مسند احمد (٥/٧٤، ٧٥)، سنن الدارمی/الطھارة ٢١ (٧١٣) (صحیح )
60Sunan Abu Dawood

وضو کی فرضیت و اہمیت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی شخص بےوضو ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کہ وہ وضو نہ کرلے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Allaah, the Exalted, does not accept the prayer of any of you when you are defiled until you performed ablution.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٢(١٣٥)، الحیل ٢ (٦٩٥٤)، صحیح مسلم/الطھارة ٢ (٢٢٥)، سنن الترمذی/الطھارة ٥٦ (٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١٨) (صحیح )
61Sunan Abu Dawood

وضو کی فرضیت و اہمیت

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت، اس کی تحریم تکبیر کہنا، اور تحلیل سلام پھیرنا ہے ١ ؎۔

Narrated Ali ibn Abu Talib (RA) : The key to prayer is purification; its beginning is takbir and its end is taslim.

Notes · وضاحت
١ ؎: تحریم سے مراد ان سارے افعال کو حرام کرنا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نماز میں حرام کیا ہے، اسی طرح تحلیل سے مراد ان سارے افعال کو حلال کرنا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نماز سے باہر حلال کیا ہے، یہ حدیث جس طرح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کا دروازہ بند ہے جسے انسان وضو کے بغیر کھول نہیں سکتا اسی طرح اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ اکبر کے علاوہ کسی اور دوسرے جملہ سے تکبیر تحریمہ نہیں ہوسکتی اور سلام کے علاوہ آدمی کسی اور چیز کے ذریعہ نماز سے نکل نہیں سکتا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٣ (٣)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣ (٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٢٣)، سنن الدارمی/الطھارة ٢٢ (٧١٤) (حسن صحیح )