پاکی کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 1 · 389 hadiths · Page 13 of 20

242Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کا طریقہ

حدثنا سليمان بن حرب الواشحي. ح حَدَّثَنَا وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَ سُلَيْمَانُ: يَبْدَأُ فَيُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: غَسَلَ يَدَيْهِ يَصُبُّ الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ اتَّفَقَا: فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: يُفْرِغُ عَلَى شِمَالِهِ وَرُبَّمَا كَنَتْ عَنِ الْفَرْجِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ فَيُخَلِّلُ شَعْرَهُ، حَتَّى إِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدْ أَصَابَ الْبَشْرَةَ أَوْ أَنْقَى الْبَشْرَةَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، فَإِذَا فَضَلَ فَضْلَةٌ صَبَّهَا عَلَيْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے (سلیمان کی روایت میں ہے: تو آپ ﷺ پہلے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، اور مسدد کی روایت میں ہے: برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیل کر دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دونوں سیاق حدیث کے ذکر میں متفق ہیں کہ) تو آپ ﷺ (اس کے بعد) اپنی شرمگاہ دھوتے (اور مسدد کی روایت میں ہے: آپ ﷺ اپنے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے، کبھی ام المؤمنین عائشہ نے فرج (شرمگاہ) کو کنایۃً بیان کیا ہے) پھر آپ ﷺ نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرتے اور (پانی لے کر) اپنے بالوں کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ یہ جان لیتے کہ پانی پوری کھال کو پہنچ گیا ہے یا کھال کو صاف کرلیا ہے، تو اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر جو پانی بچ جاتا اسے اپنے اوپر بہا لیتے۔

Aishah reported: When the Messenger of Allah ﷺ would take a bath because of sexual defilement, according to the version of Sulaiman, in the beginning he would pour water with his right hand (upon his left hand); and according to the version of Musaddad, he would wash both (hands) pouring water from the vessel upon his right hand. According to the agreed version, he then would wash the private part. He would then perform ablution as he did for prayer, then put his hands in the vessel and made the water go through his hair. When he knew that water had reached the entire surface of the body and cleaned it well, he would pour water upon his head three times. If some water was left, he would pour it also upon himself.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٩ (٢٦٢)، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٧٣، ١٦٨٦٠) (صحیح )
243Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کا طریقہ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ النَّخَعِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، بَدَأَ بِكَفَّيْهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ غَسَلَ مَرَافِغَهُ وَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، فَإِذَا أَنْقَاهُمَا أَهْوَى بِهِمَا إِلَى حَائِطٍ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْوُضُوءَ وَيُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو پہلے اپنے دونوں پہونچوں کو، پھر اپنے جوڑوں کو دھوتے (مثلاً کہنی بغل وغیرہ جہاں میل جم جاتا ہے) اور ان پر پانی بہاتے، جب دونوں ہاتھ صاف ہوجاتے تو انہیں (مٹی سے) دیوار پر ملتے، (تاکہ مکمل صاف ہوجائے) پھر وضو شروع کرتے اور اپنے سر پر پانی ڈالتے۔

Aishah said; When the Messenger of Allah ﷺ intended to take a bath because of sexual defilement, he would begin with his hands and wash them. Then he would wash the joints of his limbs and pour water upon him when he cleansed both his (hands), he would rub them on the wall (to make them perfectly clean with the dust). Then he would perform ablution and pour water over his head.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٩٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٧١) (صحیح )
244Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کا طریقہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عُرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَئِنْ شِئْتُمْ لَأُرِيَنَّكُمْ أَثَرَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَائِطِ حَيْثُ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ.

شعبی کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں تم کو رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ کا نشان دیوار پر دکھاؤں جہاں آپ ﷺ غسل جنابت کیا کرتے تھے (اور دیوار پر اپنا ہاتھ ملتے تھے) ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : If you want, I can certainly show you the marks of the hand of the Messenger of Allah ﷺ on the wall where he took a bath because of sexual defilement.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦١٦٨) (ضعیف) (شعبی کا سماع عائشہ رضی+اللہ+عنہا سے ثابت نہیں ہے )
245Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا يَغْتَسِلُ بِهِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ صَبَّ عَلَى فَرْجِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَغَسَلَهَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى نَاحِيَةً فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، فَنَاوَلْتُهُ الْمِنْدِيلَ فَلَمْ يَأْخُذْهُ وَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ عَنْ جَسَدِهِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: كَانُوا لَا يَرَوْنَ بِالْمِنْدِيلِ بَأْسًا، وَلَكِنْ كَانُوا يَكْرَهُونَ الْعَادَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مُسَدَّدٌ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ: كَانُوا يَكْرَهُونَهُ لِلْعَادَةِ، فَقَالَ: هَكَذَا هُوَ، وَلَكِنْ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي هَكَذَا.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کے لیے غسل جنابت کا پانی رکھا، تاکہ آپ غسل کرلیں، آپ ﷺ نے برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر جھکایا اور اسے دو بار یا تین بار دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، اور بائیں ہاتھ سے اسے دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر اور جسم پر پانی ڈالا، پھر کچھ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، میں نے بدن پونچھنے کے لیے رومال دیا، تو آپ ﷺ نے اسے نہیں لیا، اور پانی اپنے بدن سے جھاڑنے لگے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا، تو انہوں نے کہا: رومال سے بدن پونچھنے میں لوگ کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، لیکن اسے عادت بنا لینا برا جانتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: اس پر عبداللہ بن داود سے میں نے پوچھا العادة یا للعادة ؟ تو انہوں نے جواب دیا للعادة ہی صحیح ہے، لیکن میں نے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے۔

Maimunah reported: I placed (the vessel of) water for the Prophet ﷺ to wash himself because of sexual intercourse. He lowered down the vessel and poured water on his right hand. He then washed it twice or thrice. He then poured water over his private parts and washed them with his left hand. Then he put it on the ground and wiped it. He then rinsed his mouth and snuffed up water, and washed his face and hands. He then poured water over his head and body. Then he moved aside and washed his feet. I handed him a garment, but he began to shake he moved aside and washed his feet. I handed him a garment, but he began to shake off water from his body. I mentioned it to Ibrahim. He said that they (companions) did not think there was any harm in using the garment (to wipe the water), but they disliked its use as a habit. Abu Dawud said: Musaddad said: I asked Abdullah bin Dawud whether they (the companions) disliked to make it a habit. He replied: it (the tradition) goes in a similar way and I found it in a similar way in this book of mine.

Takhrij · تخریج
* تخريج: صحیح البخاری/الغسل ١ (٢٤٩)، ٥ (٢٥٧)، ٧ (٢٥٩)، ٨ (٢٦٠)، ١٠ (٢٦٥)، ١١ (٢٦٦)، ١٦ (٢٧٤)، ١٨ (٢٧٦)، ٢١ (٢٨١)، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٧)، سنن الترمذی/الطھارة ٧٦ (١٠٣)، سنن النسائی/الطھارة ١٦١ (٢٥٤)، الغسل ٧ (٤٠٨)، ١٤ (٤١٨)، ١٥(٤١٩)، ٢٢ (٤٢٨)، سنن ابن ماجہ/ الطہارة ٩٤ (٥٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٠، ٣٣٥، ٣٣٦)، سنن الدارمی/الطھارة ٣٩ (٧٣٨)، ٦٦ (٧٧٤) (صحیح )
246Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کا طریقہ

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، يُفْرِغُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى سَبْعَ مِرَارٍ، ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ، فَنَسِيَ مَرَّةً كَمْ أَفْرَغَ، فَسَأَلَنِي: كَمْ أَفْرَغْتُ ؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، وَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْرِيَ ؟ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جِلْدِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ يَقُولُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَهَّرُ.

شعبہ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ جب غسل جنابت کرتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر سات مرتبہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ دھوتے، ایک بار وہ بھول گئے کہ کتنی بار پانی ڈالا، تو آپ نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے کتنی بار پانی ڈالا؟ میں نے جواب دیا: مجھے یاد نہیں ہے، آپ نے کہا: تیری ماں نہ ہو ١ ؎ تمہیں یہ یاد رکھنے میں کون سی چیز مانع ہوئی؟ پھر آپ وضو کرتے جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے، پھر کہتے: اسی طرح رسول اللہ ﷺ طہارت حاصل کرتے تھے۔

Shubah reported: when Ibn Abbas took a bath because of sexual defilement, he poured (water) over his left hand with his right hand seven times. Once he forgot how many times he had poured (water). Therefore he asked me: how many times did I pour (water)? I do not know. He said: may you miss your mother! What prevented you from remembering it? He then performed ablution as he did for prayer and poured water over his skin (body). He then said: this is how the Messenger of Allah ﷺ purified (himself).

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جملہ اہل عرب تعجب کے وقت بولتے ہیں، اس سے بددعا مقصود نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٦٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠٧) (ضعیف) (اس کے راوی شعبہ بن دینار ابوعبد اللہ مدنی ضعیف ہیں )
247Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کا طریقہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ /agt;، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتِ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سَبْعَ مِرَارٍ، وَغَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ سَبْعَ مِرَارٍ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ، حَتَّى جُعِلَتِ الصَّلَاةُ خَمْسًا، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ مَرَّةً، وَغَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ مَرَّةً.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں پہلے پچاس (وقت کی) نماز (فرض ہوئی) تھیں، اور غسل جنابت سات بار کرنے کا حکم تھا، اسی طرح پیشاب کپڑے میں لگ جائے تو سات بار دھونے کا حکم تھا، لیکن رسول اللہ ﷺ (اپنی امت پر برابر اللہ تعالیٰ سے تخفیف کا) سوال کرتے رہے، یہاں تک کہ نماز پانچ کردی گئیں، جنابت کا غسل ایک بار رہ گیا، اور پیشاب کپڑے میں لگ جائے تو اسے بھی ایک بار دھونا رہ گیا۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : There were fifty prayers (obligatory in the beginning); and (in the beginning of Islam) washing seven times because of sexual defilement (was obligatory); and washing the urine from the cloth seven times (was obligatory). The Messenger of Allah ﷺ kept on praying to Allah until the number of prayers was reduced to five and washing because of sexual defilement was allowed only once and washing the urine from the clothe was also permitted only once.

Takhrij · تخریج
تفرد أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٢٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٠٩) (ضعیف) (اس کے دو راوی ایوب اور عبد اللہ بن عصم ضعیف ہیں )
248Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کا طریقہ

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةً، فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا تم (غسل کرتے وقت) بالوں کو اچھی طرح دھوو، اور کھال کو خوب صاف کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن وجیہ کی حدیث منکر ہے، اور وہ ضعیف ہیں ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: There is sexual defilement under every hair; so wash the hair and cleanse the skin. Abu Dawud said: The tradition narrated by Harith bin Wajih is rejected (Munkar). He is weak (in transmission).

Notes · وضاحت
١ ؎: صرف پہلا ٹکڑا منکر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٧٨ (١٠٦) سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٦(٥٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٠٢) (ضعیف) (حارث ضعیف ہے جیسا کہ مؤلف نے تصریح کی ہے )
249Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا، فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ، قَالَ عَلِيٌّ: فَمِنْ، ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي ثَلَاثًا، وَكَانَ يَجُزُّ شَعْرَهُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے غسل جنابت میں ایک بال برابر جگہ دھوئے بغیر چھوڑ دی، تو اسے آگ کا ایسا ایسا عذاب ہوگا ۔ علی ؓ کہتے ہیں: اسی وجہ سے میں نے اپنے سر (کے بالوں) سے دشمنی کر رکھی ہے، اس جملے کو انہوں نے تین مرتبہ کہا، وہ اپنے بال کاٹ ڈالتے تھے۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone who is sexual defiled leaves a spot equal to the breadth of a hair without washing, such and such an amount of Hell-fire will have to be suffered for it. Ali said: On that account I treated my head (hair) as an enemy, meaning I cut my hair. He used to cut the hair (of his head). May Allah be pleased with him.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٦ (٥٩٩) مسند احمد (١/١٠١، سنن الدارمی/الطھارة ٦٩(٧٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٩٠) (ضعیف) (عطاء بن سائب اخیر عمر میں اختلاط کا شکار ہوگئے تھے، اور حماد بن سلمہ نے ان سے دونوں حالتوں میں روایت کی ہے، اب پتہ نہیں یہ روایت اختلاط سے پہلے کی ہے یا بعد کی؟ )
250Sunan Abu Dawood

غسل کے بعد وضو کی ضرورت نہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ، وَلَا أَرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غسل (جنابت) کرتے تھے، اور دو رکعتیں اور فجر کی نماز ادا کرتے، میں آپ ﷺ کو غسل جنابت کے بعد تازہ وضو کرتے نہ دیکھتی ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ took a bath and offered two rakahs of prayer and said the dawn prayer. I do not think he performed ablution afresh after taking a bath.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ غسل جنابت کے وقت رسول اللہ ﷺ وضو کرلیا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: ١٦٠٢١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة ٧٩ (١٠٧)، سنن النسائی/الطھارة ١٦٠ (٢٥٢)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٩٦ (٥٧٩)، مسند احمد (٦/٦٨، ١١٩، ١٥٤، ١٩٢، ٢٥٣، ٢٥٨) (صحیح )
251Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کے وقت عورت کے لئے چٹیا کھولنا ضروری نہیں ہے

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ زُهَيْرٌ: أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضُفُرَ رَأْسِي، أَفَأَنْقُضُهُ لِلْجَنَابَةِ ؟ قَالَ: إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْفِنِي عَلَيْهِ ثَلَاثًاوَقَالَ زُهَيْرٌ: تُحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تُفِيضِي عَلَى سَائِرِ جَسَدِكِ، فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ.

ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک مسلمان عورت نے کہا (اور زہیر کی روایت میں ہے خود ام سلمہ نے ہی کہا) : اللہ کے رسول! میں اپنے سر کی چوٹی مضبوطی سے باندھتی ہوں، کیا غسل جنابت کے وقت اسے کھولوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے تین لپ پانی اپنے سر پر ڈال لینا کافی ہے ، اور زہیر کی روایت میں ہے: تم اس پر تین لپ پانی ڈال لو، پھر سارے بدن پر پانی بہا لو اس طرح تم نے پاکی حاصل کرلی ۔

Umm Salamah said: one of the Muslims asked, and Zubair reported: Umm Salamah (herself) asked: Messenger of Allah. I am a women who keeps her hair closely plaited; should I undo it when I wash after sexual defilement? He replied (no), it is enough for you to throw three handfuls over it. Then pour water over all your body and will be purified.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٢ (٣٣٠)، سنن الترمذی/الطھارة ٧٧ (١٠٥)، سنن النسائی/الطھارة ١٥٠ (٢٤٢)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٨ (٦٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٨١٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٩، ٣١٤)، سنن الدارمی/الطھارة ١١٥ (١١٩٦) (صحیح )
252Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کے وقت عورت کے لئے چٹیا کھولنا ضروری نہیں ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ نَافِعٍ يَعْنِي الصَّائِغَ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ: فَسَأَلْتُ لَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ: وَاغْمِزِي قُرُونَكِ عِنْدَ كُلِّ حَفْنَةٍ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ ان کے پاس ایک عورت آئی، پھر آگے یہی حدیث بیان ہوئی، ام سلمہ کہتی ہیں: تو میں نے اس کے لیے اسی طرح کی بات نبی اکرم ﷺ سے پوچھی، اس روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے بدلے میں فرمایا: ہر لپ کے وقت تم اپنی لٹیں نچوڑ لو ۔

Umm Salamah said: A women came to her, this is according to the version of the former tradition. I asked the Prophet ﷺ a similar question (as in the former tradition). But this version adds: “And wring out your locks after every handful of water”.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨١٥١) (حسن )
253Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کے وقت عورت کے لئے چٹیا کھولنا ضروری نہیں ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا أَصَابَتْهَا جَنَابَةٌ، أَخَذَتْ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ هَكَذَا تَعْنِي بِكَفَّيْهَا جَمِيعًا، فَتَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا، وَأَخَذَتْ بِيَدٍ وَاحِدَةٍ فَصَبَّتْهَا عَلَى هَذَا الشِّقِّ وَالْأُخْرَى عَلَى الشِّقِّ الْآخَرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں ہم (ازواج مطہرات) میں سے جب کسی کو غسل جنابت کی ضرورت ہوتی تو وہ تین لپ پانی اس طرح لیتی یعنی اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ایک ساتھ کر کے، پھر اسے اپنے سر پر ڈالتی اور ایک ہاتھ سے پانی لیتی تو ایک جانب ڈالتی اور دوسرے سے لے کر دوسری جانب ڈالتی۔

Aishah said: When any of us was sexually defiled, she took three handfuls (of water) in this way, that is to say, with both hands together and poured (water) over her head. She took one handful (of water) and threw it on one side and the other on the other side.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ١٩ (٢٧٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٥٠) (صحیح )
254Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کے وقت عورت کے لئے چٹیا کھولنا ضروری نہیں ہے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنَّا نَغْتَسِلُ وَعَلَيْنَا الضِّمَادُ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُحِلَّاتٌ وَمُحْرِمَاتٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں ہم غسل کرتے تھے اور ہمارے سروں پر لیپ لگا ہوتا تھا خواہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حالت احرام میں ہوتے یا حلال (احرام سے باہر) ۔

Aishah said: we took a bath while having an adhesive substance over us (our head) in both states, namely, when wearing a robe for Hajj (ihram) and when wearing ordinary clothes (not meant for Hajj).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوادود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧٩، ١٣٨) (صحیح )
255Sunan Abu Dawood

غسل جنابت کے وقت عورت کے لئے چٹیا کھولنا ضروری نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، قَالَ ابْنُ عَوْفٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْأَبِيهِ، حَدَّثَنِي ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: أَفْتَانِي جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ، عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، أَنَّ ثَوْبَانَحَدَّثَهُمْ: أَنَّهُمُ اسْتَفْتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَمَّا الرَّجُلُ فَلْيَنْشُرْ رَأْسَهُ فَلْيَغْسِلْهُ حَتَّى يَبْلُغَ أُصُولَ الشَّعْرِ، وَأَمَّا الْمَرْأَةُ فَلَا عَلَيْهَا أَنْ لَا تَنْقُضَهُ لِتَغْرِفْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ بِكَفَّيْهَا.

شریح بن عبید کہتے ہیں: جبیر بن نفیر نے مجھے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ بتایا کہ ثوبان ؓ نے ان سے حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے غسل جنابت کے متعلق مسئلہ پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مرد تو اپنا سر بالوں کو کھول کر دھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، اور عورت اگر اپنے بال نہ کھولے تو کوئی مضائقہ نہیں، اسے چاہیئے کہ وہ اپنی دونوں ہتھیلیوں سے تین لپ پانی لے کر اپنے سر پر ڈال لے ۔

Narrated Thawban (RA) : Shurayh ibn Ubayd said: Jubayr ibn Nufayr gave me a verdict about the bath because of sexual defilement that Thawban reported to them that they asked the Prophet ﷺ about it. He (the Prophet) replied: As regards man, he should undo the hair of his head and wash it until the water should reach the roots of the hair. But there is no harm if the woman does not undo it (her hair) and pour three handfuls of water over her head.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٠٧٨) (صحیح )
256Sunan Abu Dawood

جنبی اپنا سر خطمی پانی سے دہو سکتا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ، وَلَا يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حالت جنابت میں اپنا سر خطمی ١ ؎ سے دھوتے اور اسی پر اکتفا کرتے، اور اس پر (دوسرا) پانی نہیں ڈالتے تھے۔

Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ used to wash his head with marsh-mallow while he was sexually defiled. It was sufficient for him and he did not pour water upon it.

Notes · وضاحت
١ ؎: خطمی ایک گھاس ہے جو سر دھلنے میں استعمال ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٨١١) (ضعیف) (اس کے اندر واقع ایک راوی رجل مبہم ہے )
257Sunan Abu Dawood

عورت اور مرد کے درمیان بہنے والے پانی (مزی منی کا بیان)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنَ الْمَاءِ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ يَصُبُّ عَلَيَّ الْمَاءَ، ثُمَّ يَأْخُذُ كَفًّا مِنْ مَاءٍ ثُمَّ يَصُبُّهُ عَلَيْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے نکلنے والی منی کے متعلق کہتی ہیں: (اگر وہ کپڑے یا جسم پر لگ جاتی تو) رسول اللہ ﷺ ایک چلو پانی لے کر لگی ہوئی منی پر ڈالتے، پھر ایک اور چلو پانی لیتے، اور اسے بھی اس پر ڈال لیتے۔

On being asked about (washing) the fluid that flows between man and woman Aisha (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ used to take a handful of water and pour it on the fluid. Again, he would take a handful of water and pour it over the fluid.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٥٣) (ضعیف) ( اوپر مذکور سبب سے یہ حدیث بھی ضعیف ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: ٢٥٦ )
258Sunan Abu Dawood

حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور جماع کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانَتْ إِذَا حَاضَتْ مِنْهُمُ امْرَأَةٌ، أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبَيْتِ وَلَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَاصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ غَيْرَ النِّكَاحِ، فَقَالَتْ الْيَهُودُ: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ ؟ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا. فَخَرَجَا، هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتوں میں جب کسی کو حیض آتا تو وہ اسے گھر سے نکال دیتے تھے، نہ اس کو ساتھ کھلاتے پلاتے، نہ اس کے ساتھ ایک گھر میں رہتے تھے، اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ويسألونک عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض اے محمد! لوگ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، تو کہہ دیجئیے کہ وہ گندگی ہے، لہٰذا حالت حیض میں تم عورتوں سے الگ رہو ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے ساتھ گھروں میں رہو اور سارے کام کرو سوائے جماع کے ، یہ سن کر یہودیوں نے کہا: یہ شخص کوئی بھی ایسی چیز نہیں چھوڑنا چاہتا ہے جس میں وہ ہماری مخالفت نہ کرے، چناچہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہود ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں، پھر ہم کیوں نہ ان سے حالت حیض میں جماع کریں؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ ان دونوں پر خفا ہوگئے ہیں، وہ دونوں ابھی نکلے ہی تھے کہ اتنے میں آپ کے پاس دودھ کا ہدیہ آگیا، آپ ﷺ نے ان دونوں کو بلا بھیجا اور (جب وہ آئے تو) انہیں دودھ پلایا، تب جا کر ہم کو یہ پتہ چلا کہ آپ ﷺ ان دونوں سے ناراض نہیں ہیں۔

Anas bin Malik (RA) said: Among the jews, when a women menstruated, they ejected her from the house, and they did not eat with her, nor did they drink with her, nor did they associate with her in (their houses) so the Messenger of Allah ﷺ was questioned about that. Thereupon Allah revealed: “They question thee concerning menstruation. Say: I: is an illness, so let woman alone at such times” (ii 222). The Messenger of Allah ﷺ then said: Associate with them in the houses and do everything except sexual intercourse. Thereupon the Jews said: This man does not want to leave anything we do without opposing us in it. Usaid bin Hudair and Abbad bin Bishr came and said: Messenger of Allah, the jews are saying such and such a thing. Shall we not then have intercourse with women during mensuration? The face of the Messenger Allah ﷺ underwent such a change that we thought he was angry with them; but when they went out they received a gift of milk which was being brought to the Messenger of Allah ﷺ , and he sent after them and gave them a drink, whereupon we thought that he was not angry with them.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٣ (٣٠٢)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة ٣ (٢٩٧٧)، سنن النسائی/الطھارة ١٨١ (٢٨٩)، والحیض ٨ (٣٦٩)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٥ (٦٤٤)، (تحفة الأشراف: ٣٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٤٦، دی/الطھارة ١٠٦ (١٠٩٣)، ویأتي برقم (٢١٦٥) (صحیح )
259Sunan Abu Dawood

حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور جماع کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَأُعْطِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي فِيهِ وَضَعْتُهُ، وَأَشْرَبُ الشَّرَابَ فَأُنَاوِلُهُ فَيَضَعُ فَمَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي كُنْتُ أَشْرَبُ مِنْهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں حالت حیض میں ہڈی سے گوشت نوچتی، پھر اسے رسول اللہ ﷺ کو دیتی، آپ ﷺ اپنا منہ اسی جگہ پر رکھتے جہاں میں رکھتی تھی اور میں پانی پی کر رسول اللہ ﷺ کو دیتی تو آپ اپنا منہ اسی جگہ پر رکھ کر پیتے جہاں سے میں پیتی تھی۔

Aishah said: I would eat flesh from a bone when I was menstruating, then hand it over to the Prophet ﷺ and he would put his mouth where I had put my mouth: I would drink, then hand it over to him, and he would put his mouth ( at the place) where I drank.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٣ (٣٠٠)، سنن النسائی/الطھارة ٥٦ (٧٠)، ١٧٧ (٢٨٠)، ١٨٧ (٢٨١)، والمیاہ ٩ (٣٤٢)، والحیض ١٤ (٣٧٧)، ١٥ (٣٨٠)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٥ (٦٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٢، ٦٤، ١٢٧، ١٩٢، ٢١٠، ٢١٤) دی/الطہارة ١٠٨(١١٠١) (صحیح )
260Sunan Abu Dawood

حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور جماع کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي فَيَقْرَأُ وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر مبارک میری گود میں رکھ کر قرآن پڑھتے اور میں حائضہ ہوتی۔

Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ would recline on my lap when I was menstruating, then recite the Quran.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٣ (٢٩٧)، والتوحید ٥٢ (٧٥٤٩)، صحیح مسلم/الحیض ٣ (٣٠١)، سنن النسائی/الطھارة ١٧٥ (٢٧٥)، والحیض ١٦ (٣٨١)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٠ (٦٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١١٧، ١٣٥، ١٩٠) (صحیح )
261Sunan Abu Dawood

حائضہ کا مسجد سے کوئی چیز اٹھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دو ، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔

Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ said to me; Get me the mat from the mosque. I said ; I am menstruating. The Messenger of Allah ﷺ then replied: Your menstruation is not in your hand.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢ (٢٩٨)، سنن الترمذی/الطھارة ١٠١ (١٣٤)، سنن النسائی/الطھارة ١٧٣ (٢٧٢)، والحیض ١٨ (٣٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٤٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٠ (٦٣٢)، مسند احمد (٦/٤٥، ١٠١، ١١٢، ١١٤، ١٧٣، ٢١٤، ٢٢٩، ٢٤٥) سنن الدارمی/الطھارة ٨١ (٧٩٨) (صحیح )