اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ جب آپ ﷺ کھانے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے، تو اپنے ہاتھ دھوتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن وہب نے بھی یونس سے روایت کیا ہے، اور کھانے کے تذکرہ کو ام المؤمنین عائشہ ؓ کا قول قرار دیا ہے، نیز اسے صالح بن ابی الاخضر نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے، مگر اس میں عن عروة أو أبي سلمة (شک کے ساتھ) ہے نیز اسے اوزاعی نے بھی یونس سے، یونس نے زہری سے، اور زہری نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے۔
This Tradition has been narrated on the Authority of al-Zuhri through a different chain. It adds: If he intends to eat while he is defiled, he should wash both his hands. Abu Dawud said: Ibn Wahb narrated this tradition on the authority of Yunus. He described the fact of eating as the statement of Aisha (RA) (not the saying of the prophet). It has also been narrated it from Urwah or Abu Salamah. Al-Awza’I narrated it from Yunus on the Authority of Al-Zuhri from the prophet ﷺ as narrated by Ibn al-Mubarak.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے اور آپ حالت جنابت میں ہوتے، تو وضو کرلیتے۔
Aishah reported: When the Prophet ﷺ wanted to eat or sleep, he would perform ablution. She meant that (the prophet did so) when he was sexually defiled.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٦(٣٠٥)، سنن النسائی/الطہارة ١٦٣ (٢٥٦)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠٣ (٥٩١)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٦، ١٩١، ١٩٢) (صحیح )
عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جنبی کو رخصت دی ہے کہ جب وہ کھانے پینے یا سونے کا ارادہ کرے تو وضو کرلے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن یعمر اور عمار بن یاسر ؓ کے درمیان اس حدیث میں ایک اور شخص ہے، علی بن ابی طالب، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ؓ نے کہا ہے کہ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو وضو کرے۔
Narrated Ammar ibn Yasir: The Prophet ﷺ granted permission to a person who was sexually defiled to eat or drink or sleep after performing ablution. Abu Dawud said: In the chain of this tradition there is a narrator between Yahya bin Yamur and Ammar bin Yasir. Ali bin Abi Talib, Ibn Umar and Abdullah bin Amr said: When a person is sexually defiled wants to eat, he should perform ablution.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجمعة ٧٨ (٦١٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٠) (ضعیف) (اس میں دو علتیں ہیں: سند میں انقطاع ہے اور عطاء خراسانی ضعیف ہیں )
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کو رات کے پہلے حصہ میں غسل جنابت کرتے ہوئے دیکھا ہے یا آخری حصہ میں؟ کہا: کبھی آپ رات کے پہلے حصہ میں غسل فرماتے، کبھی آخری حصہ میں، میں نے کہا: اللہ اکبر! شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے کہا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کو رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھتے دیکھا ہے یا آخری حصہ میں؟ کہا: کبھی آپ ﷺ رات کے پہلے حصہ میں پڑھتے تھے اور کبھی آخری حصہ میں، میں نے کہا: اللہ اکبر! اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ کو قرآن زور سے پڑھتے دیکھا ہے یا آہستہ سے؟ کہا: کبھی آپ ﷺ زور سے پڑھتے اور کبھی آہستہ سے، میں نے کہا: اللہ اکبر! اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس امر میں وسعت رکھی ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Ghudayf ibn al-Harith reported: I asked Aisha (RA) : Have you seen the Messenger of Allah ﷺ washing (because of defilement) at the beginning of the night or at the end? She replied: Sometimes he would take a bath at the beginning of the night and sometimes at the end. Thereupon I exclaimed: Allah is most Great. All Praise be to Allah Who made this matter accommodative. I again asked her: What do you think, did the Messenger of Allah ﷺ say the witr prayer (additional prayer after obligatory prayer at night) in the beginning of the night or at the end? She replied: Sometimes he would say the witr prayer at the beginning of the night and sometimes at the end. I exclaimed: Allah is most Great. All praise be to Allah Who made the matter accommodative. Again I asked her: What do you think, did the Messenger of Allah ﷺ recite the Quran (in the prayer) loudly or softly? She replied: Sometimes he would recite loudly and sometimes softly. I exclaimed: Allah is most Great. All praise be to Allah Who made the matter flexible.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنابت کی حالت میں بغیر غسل فرمائے سو جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے حسن بن علی واسطی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے یزید بن ہارون کو کہتے سنا کہ یہ حدیث یعنی ابواسحاق کی حدیث وہم ہے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ would sleep while he was sexually defiled without touching water. Abu Dawud said: Hasan bin Ali al-Wasiti said that the heard Yazid bin Harun say: This tradition is based on a misunderstanding, i. e. the tradition reported by Abu Ishaq.
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ابن العربی کی تصریح کے مطابق یہ وہم ایک طویل حدیث کے اختصار میں واقع ہوا ہے، ورنہ اصل معنی صحیح ہے، یعنی کبھی کبھی بیان جواز کے لئے آپ ﷺ نے نہ غسل کیا نہ ہی وضو، یا یہ مطلب ہے کہ آپ ﷺ نے پانی نہیں چھوا، یعنی غسل نہیں کیا، ہاں وضو کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٨٧ (١١٩)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٩٨ (٥٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣) (صحیح )
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں میں اور میرے ساتھ دو آدمی جن میں سے ایک کا تعلق میرے قبیلہ سے تھا اور میرا گمان ہے کہ دوسرا قبیلہ بنو اسد سے تھا، علی ؓ کے پاس آئے، تو آپ نے ان دونوں کو (عامل بنا کر) ایک علاقہ میں بھیجا، اور فرمایا: تم دونوں مضبوط لوگ ہو، لہٰذا اپنے دین کی خاطر جدوجہد کرنا، پھر آپ اٹھے اور پاخانہ میں گئے، پھر نکلے اور پانی منگوایا، اور ایک لپ لے کر اس سے (ہاتھ) دھویا، پھر قرآن پڑھنے لگے، تو لوگوں کو یہ ناگوار لگا، تو آپ نے کہا: رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء سے نکل کر ہم کو قرآن پڑھاتے، اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر گوشت کھاتے، آپ ﷺ کو قرآن (پڑھنے پڑھانے) سے جنابت کے علاوہ کوئی چیز نہ روکتی یا مانع نہ ہوتی۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: Abdullah ibn Salamah said: I, accompanied by other two persons, one from us and the other from Banu Asad, called upon Ali. He sent them to a certain territory (on some mission) saying: You are sturdy and vigorous people; hence display your power for religion. He then stood and entered the toilet. He then came out and called for water and took a handful of it. Then he wiped (his hands) with it and began to recite the Quran. They were surprised at this (action). Thereupon he said: The Messenger of Allah ﷺ came out from the privy and taught us the Quran and took meat with us. Nothing prevented him; or the narrator said: Nothing prevented him from (reciting) the Quran except sexual defilement.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ١١١ (١٤٦)، سنن النسائی/الطھارة ١٧١ (٢٦٦، ٢٦٧)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٥ (٥٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٤، ١٢٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن سلمہ کا حافظہ اخیر عمر میں کمزور ہوگیا تھا، اور یہ روایت اسی دور کی ہے )
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان سے ملے تو آپ (مصافحہ کے لیے) ہاتھ پھیلاتے ہوئے ان کی طرف بڑھے، حذیفہ نے کہا: میں جنبی ہوں، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمان نجس نہیں ہوتا ١ ؎۔
Hudhaifah reported: The prophet ﷺ visited him and inclined towards him (for shaking hand). He said: I am sexually defiled. The prophet ﷺ replied: A muslim is not defiled.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جنابت نجاست حکمی ہے اس سے آدمی کا بدن یا پسینہ نجس نہیں ہوتا، اسی واسطے جنبی کے ساتھ ملنا بیٹھنا اور کھانا پینا درست ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٩ (٣٧٢)، سنن النسائی/الطھارة ١٧٢ (٢٦٩)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٠ (٥٣٥)، (تحفة الأشراف: ٣٣٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٤، ٤٠٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ کے ایک راستے میں مجھ سے رسول اللہ ﷺ کی ملاقات ہوگئی، میں اس وقت جنبی تھا، اس لیے پیچھے ہٹ گیا اور (وہاں سے) چلا گیا، پھر غسل کر کے واپس آیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ابوہریرہ! تم کہاں (چلے گئے) تھے؟ ، میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، اس لیے ناپاکی کی حالت میں آپ کے پاس بیٹھنا مجھے نامناسب معلوم ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! مسلمان نجس نہیں ہوتا ۔
Abu Hudhaifah reported: The Messenger of Allah ﷺ met me on one of the streets of Madina while I was sexually defiled. I retreated and went away. I then took a bath and came to him. He asked: Where were you, O Abu Hurairah? I replied: As I was sexually defiled, I disliked to sit in your company without purification. He exclaimed: Glory be to Allah! A Muslim is not defiled. He (Abu Dawud) said: The version of this tradition reported by Bishr has the chain: Humaid reported from Bakr.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور حال یہ تھا کہ بعض صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد سے لگتے ہوئے کھل رہے تھے ١ ؎ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان گھروں کے رخ مسجد کی طرف سے پھیر کر دوسری جانب کرلو ، پھر نبی اکرم ﷺ (مسجد میں یا صحابہ کرام کے گھروں میں) داخل ہوئے اور لوگوں نے ابھی کوئی تبدیلی نہیں کی تھی، اس امید پر کہ شاید ان کے متعلق کوئی رخصت نازل ہو، پھر جب آپ ﷺ دوبارہ ان کے پاس آئے تو فرمایا: ان گھروں کے رخ مسجد کی طرف سے پھیر لو، کیونکہ میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں سمجھتا ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came and saw that the doors of the houses of his Companions were facing the mosque. He said: Turn the direction of the houses from the mosque. The Prophet ﷺ then entered (the houses or the mosque), and the people did take any step in this regard hoping that some concession might be revealed. He the Prophet) again came upon them and said: Turn the direction of these (doors) from the mosque I do not make the mosque lawful for a menstruating woman and for a person who is sexually defiled. Abu Dawud said: Aflat bin Khalifah is also called Fulait al-Amiri.
Notes · وضاحت
١ ؎: ان مکانات میں آنے جانے کے لئے لوگ مسجد سے ہو کر آیا جایا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٢٨) (ضعیف) (اس کی سند میں جسرہ بنت دجاجہ لین الحدیث ہیں، لیکن حدیث کا معنی دیگر احادیث سے ثابت ہے )
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ نے فجر پڑھانی شروع کردی، پھر ہاتھ سے اشارہ کیا کہ تم سب لوگ اپنی جگہ پر رہو، (پھر آپ ﷺ وہاں سے گھر تشریف لے گئے، غسل فرما کر) واپس آئے، تو آپ ﷺ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اس کے بعد آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔
Narrated Abu Bakrah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ began to lead (the people) in the dawn prayer. He then signalled with his hand: (Stay) at your places. (Then he entered his home). He then returned while drops of water were coming down from him (from his body) and he led them in prayer.
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٦٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١، ٤٥) (صحیح )
اس طریق سے بھی حماد بن سلمہ نے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس کے شروع میں ہے: تو آپ ﷺ نے تکبیر تحریمہ کہی ، اور آخر میں یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایا: میں بھی انسان ہی ہوں، میں جنبی تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: جب آپ مصلیٰ پر کھڑے ہوگئے اور ہم آپ کی تکبیر (تحریمہ) کا انتظار کرنے لگے، تو آپ (وہاں سے) یہ فرماتے ہوئے پلٹے کہ تم جیسے ہو اسی حالت میں رہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب بن عون اور ہشام نے اسے محمد سے، محمد بن سیرین نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ہے: آپ ﷺ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی، پھر اپنے ہاتھ سے لوگوں کو اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ، پھر آپ ﷺ چلے گئے اور غسل فرمایا۔ اور اسی طرح اسے مالک نے اسماعیل بن ابوحکیم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے (مرسلاً ) روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ: ہم سے ابان نے بیان کیا ہے، ابان یحییٰ سے، اور یحییٰ ربیع بن محمد سے اور ربیع بن محمد نبی اکرم ﷺ سے (مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی۔
This tradition has been reported by Hammad bin Salamah through the same chain of narrators and conveying a similar meaning. This version adds in the beginning: He uttered TAKBIR (Allahu akbar), and in the end: when he finished the prayer, he said: I am a human being; I was sexually defiled. Abu Dawud said: This tradition has been narrated al-Zuhri from Abu Salamah bin Abdur-Rahman on the authority of Abu Hurairah. It says: When he stood at the place of prayer, we waited for his utterance of takbir (Allah-u akbar). He went away and said: (remain) as you were. Another version on the authority of Muhammad reporting from the Prophet ﷺ says: He uttered takbir (Allah-u-Akbar) and then made a sign to the people, meaning sit down. He then went away and took a bath. This tradition has also been narrated through a different chain. It says: The Messenger of Allah ﷺ uttered takbir (Allah-u-akbar) in a prayer. Abu Dawud said: Another version through a different chain says; The Prophet ﷺ uttered takbir (Allah-u akbar).
Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٨٦٣٤، ١١٦٦٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) نماز کے لیے اقامت ہوگئی اور لوگوں نے صفیں باندھیں تو رسول اللہ ﷺ نکلے، یہاں تک کہ جب اپنی جگہ پر (آ کر) کھڑے ہوگئے، تو آپ کو یاد آیا کہ آپ نے غسل نہیں کیا ہے، آپ نے لوگوں سے کہا: تم سب اپنی جگہ پر رہو ، پھر آپ گھر واپس گئے اور ہمارے پاس (واپس) آئے، تو آپ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور حال یہ تھا کہ آپ نے غسل کر رکھا تھا اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ یہ ابن حرب کے الفاظ ہیں، عیاش نے اپنی روایت میں کہا ہے: ہم لوگ اسی طرح (صف باندھے) کھڑے آپ ﷺ کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ غسل کئے ہوئے تھے۔
Abu Hurairah reported: The prayer (in congregation) began and people stood in their rows. The Messenger of Allah ﷺ came out (from his residence). When he stood at his proper place he recalled that he did not take a bath. He then said to the people: (Remain standing) at your places. Then he returned to his house and came out upon us after taking a bath while the drops of water were coming down from his head. We were standing in the rows (of prayer). This is the version of Ibn Harb. Ayyash reported in his version: we kept on waiting for him while we were standing until he came upon us after he had taken a bath.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص (کپڑے پر) تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ غسل کرے ۔ پھر آپ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کو ایسا محسوس ہو رہا ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے، مگر وہ تری نہ دیکھے، تو کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر غسل نہیں ہے ۔ یہ سن کر ام سلیم ؓ نے کہا: اگر عورت (خواب میں) یہی دیکھے تو کیا اس پر بھی غسل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، کیونکہ عورتیں (اصل خلقت اور طبیعت میں) مردوں ہی کی طرح ہیں ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ was asked about a person who found moisture (on his body or clothes) but did not remember the sexual dream. He replied: He should take a bath. He was asked about a person who remembered that he had a sexual dream but did not find moisture. He replied: Bath is not necessary for him. Umm Salamah then asked: Is washing necessary for a woman if she sees that (in her dream)? He replied: Yes. Woman are counterpart of men.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٨٢ (١١٣)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٢ (٦١٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٥٦)، سنن الدارمی/الطھارة (٧٦/٧٩٠) (حسن) إلا قول أم سليم: المرأة ترى ... (ام سلیم کا کلام صحیح نہیں جو عبداللہ العمری کی روایت میں ہے اور یہ ضعیف راوی ہیں، بقیہ ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ام سلیم انصاریہ انس بن مالک ؓ کی والدہ نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ عزوجل حق سے نہیں شرماتا، آپ ہمیں بتائیے اگر عورت سوتے میں وہ چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا وہ غسل کرے یا نہیں؟ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہاں جب وہ تری دیکھے تو ضرور غسل کرے ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں ام سلیم کی طرف متوجہ ہوئی اور میں نے ان سے کہا: تجھ پر افسوس! کیا عورت بھی ایسا دیکھتی ہے؟ اس پر رسول اللہ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: عائشہ! تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو ١ ؎ (والدین اور ان کی اولاد میں) مشابہت کہاں سے ہوتی ہے ۔
Aishah reported on the authority of Umm Sulaim al-Ansariyah, who was the mother of Anas bin Malik (RA) , said: Messenger of Allah. Allah is not ashamed of truth what do you think, if a woman sees what a man sees in dream, should she take a bath or not? The prophet ﷺ replied: Yes, she should take a bath if she finds the liquid (vaginal secretion) Aisha (RA) said: Then I came upon her and said her: Woe to you! Does a woman see that (sexual dream)? In the meantime, the Messenger of Allah ﷺ came upon me and said: May your right hand be covered with dust! How can there be the resemblance (i. e., between the child and the mother)? Abu Dawud said: A similar version has been narrated by Zubaid, ‘Uqail, Yunus, cousin of Al-Zuhri, Ibn Abi-Wazir, on the authority of al-Zuhr, musan, al-Hajabi, like al-Zuhri, narrated on the authority of Urwah from Aisha (RA) , but Hisham bin Urwah narrated from Urwah on the authority of Zainab daughter of Abu Salamah from Umm Salamah saying. Umm Sulaim came to the Messenger of Allah ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: حیرت و استعجاب کے موقع پر اس طرح کا جملہ بولا جاتا ہے جس کا مقصد بددعا نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٦٠٧(الف)، ١٦٧٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ٧ (٣١١، ٣١٣، ٣١٤)، سنن الترمذی/الطہارة ٩٠ (١٢٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٣١ (١٩٦)، سنن ابن ماجہ/الطہارة (٦٠١)، موطا امام مالک/الطھارة ٢١ (٨٥)، مسند احمد (٦/٩٢)، سنن الدارمی/الطھارة ٧٥ (٧٩٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غسل جنابت ایک ایسے برتن سے کرتے تھے جس کا نام فرق ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عیینہ نے بھی مالک کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معمر نے اس حدیث میں زہری سے روایت کی ہے کہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے، جس میں ایک فرق (پیمانہ) کی مقدار پانی ہوتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ فرق سولہ رطل کا ہوتا ہے، میں نے انہیں یہ بھی کہتے سنا کہ ابن ابی ذئب کا صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کس نے کہا ہے کہ صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے؟ فرمایا: اس کا یہ (قول) محفوظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے: جس شخص نے صدقہ فطر ہمارے اس رطل سے پانچ رطل اور تہائی رطل دیا اس نے پورا دیا، ان سے کہا گیا: صیحانی ١ ؎ وزنی ہوتی ہے، ابوداؤد نے کہا: صیحانی عمدہ کھجور ہے، آپ نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم۔
Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ used to take bath with from a vessel (which contained seven to eight seers, i. e., fifteen to sixteen pounds) because of sexual intercourse. Abu Dawud said: The version narrated by Mu’ammar on the authority of al-Zuhri has: She (Aishah) said: I and the Messenger of Allah ﷺ took a bath from a vessel which was equal to al-faraq in measurement (i. e., containing water about seven or eight seers). Abu Dawud said: Ibn ‘Uyainah also narrated like the version of Malik. Abu Dawud said; I heard Ahmad bin Hanbal say: Al-Faraq contains sixteen rotls (of water). I also heard him say: The sa’of of Ibn Abi Dhi’b contained 5 rotls (of water). The view that a sa’ contains eight rotls (of water) is not safe. Abu Dawud said: I heard Ahmad (b. Hanbal) say: Whoever gave 5 1/3 rotls (measuring) with our rotl alms of fitr (sadaqat al-fitr), he gave in full, Thereupon he was questioned: Are the dates called al-saihani heavier (can one sa’ of them be given as alms of fitr)? He replied: The dates called al-saihani are good. But I do not know (whether water is heavier or the dates).
جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں تو تین چلو اپنے سر پر ڈالتا ہوں ، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بنا کر اشارہ کیا۔
Jubair bin Mutim reported: People made a mention of washing because of sexual defilement before the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said: I pour (water) on my head three times. And he made a sign with both his hands.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو ایک برتن منگواتے جیسے دودھ دوہنے کا برتن ہوتا ہے، پھر اپنے دونوں ہاتھ سے پانی لے کر سر کی داہنی جانب ڈالتے، پھر بائیں جانب ڈالتے، پھر دونوں ہاتھوں سے پانی لے کر (بیچ) سر پر ڈالتے۔
Aishah reported: when the Messenger of Allah ﷺ wanted to wash himself because of sexual defilement, he called for a vessel like HILAB (a vessel used for milking the camel). He then took a handful of water and began to pour it on the right side of his head and then on the left side. He then took water in both his hands together and poured it on his head.
قبیلہ بنو تیم اللہ بن ثعلبہ کے ایک شخص جمیع بن عمیر کہتے ہیں میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، تو ان میں سے ایک نے آپ سے پوچھا: آپ لوگ غسل جنابت کس طرح کرتی تھیں؟ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ (پہلے) وضو کرتے تھے جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے اور ہم اپنے سروں پر چوٹیوں کی وجہ سے پانچ بار پانی ڈالتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Jumay ibn Umayr, one of the sons of Banu Taym Allah ibn Thalabah, said: Accompanied by my mother and aunt I entered upon Aisha (RA) . One of them asked her: How did you do while taking a bath? Aisha (RA) replied: The Messenger of Allah ﷺ performed ablution (in the beginning) as he did for prayer. He then poured (water) upon his head three times. But we poured water upon our heads five times due to plaits.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٩٤ (٥٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٥٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة ١٧(٦٧)، مسند احمد (٦/١٨٨)، سنن الدارمی/الطھارة ٦٦ (٧٧٥) (ضعیف جداً ) (اس کے راوی صدقہ بن سعید اور جمیع دونوں ضعیف ہیں )