پاکی کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 1 · 389 hadiths · Page 10 of 20

182Sunan Abu Dawood

شرمگاہ کو چھونے سے وضو کے نہ ٹوٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ: هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ ؟ أَوْ قَالَ: بَضْعَةٌ مِنْهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وشعبة، وابن عيينة، وجرير الرازي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ.

طلق بن علی ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اتنے میں ایک شخص آیا وہ دیہاتی لگ رہا تھا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! وضو کرلینے کے بعد آدمی کے اپنے عضو تناسل چھونے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تو اسی کا ایک لوتھڑا ہے ، یا کہا: ٹکڑا ہے ١ ؎۔

Narrated Talq (RA) : We came upon the Prophet of Allah ﷺ . A man came to him: he seemed to be a bedouin. He said: Prophet of Allah, what do you think about a man who touches his penis after performing ablution? He ﷺ replied: That is only a part of his body. Abu Dawud said: The tradition has been transmitted through a different chain of narrators.

Notes · وضاحت
١ ؎: طلق بن علی ؓ کی حدیث میں عضو تناسل کے چھونے سے وضو نہ ٹوٹنے کی دلیل ہے، جب کہ بسرہ بنت صفوان ؓ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عضو تناسل کے مس (چھونے) کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اس لئے علماء نے ان دونوں کے درمیان تطبیق و توفیق کی صورت یہ نکالی ہے کہ عضو تناسل پر پردہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا، اور پردہ نہ ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ طلق بن علی کی حدیث کے الفاظ الرجل يمس ذكره في الصلاة سے یہی مفہوم نکلتا ہے، دوسری صورت تطبیق کی یہ ہے کہ اگر شہوت کے ساتھ ہے تو ناقض وضو ہے بصورت دیگر نہیں، واللہ اعلم بالصواب۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٦٢ (٨٥)، سنن النسائی/الطھارة ١١٩ (١٦٥)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٤ (٤٨٣)، (تحفة الأشراف: ٥٠٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢، ٢٣) (صحیح )
183Sunan Abu Dawood

شرمگاہ کو چھونے سے وضو کے نہ ٹوٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ فِي الصَّلَاةِ.

مسدد کا بیان ہے کہ ہم سے محمد بن جابر نے بیان کیا ہے، محمد بن جابر نے قیس بن طلق سے، قیس نے اپنے والد طلق سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اور اس میں في الصلاة کا اضافہ ہے۔

The tradition has also been reported by Qais bin Talq through a different chain of narrators. This version adds the wording: during the prayer

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٥٠٢٣) (صحیح )
184Sunan Abu Dawood

اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو لازم ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: تَوَضَّئُوا مِنْهَا، وَسُئِلَ عَنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: لَا تَوَضَّئُوا مِنْهَا، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: لَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: صَلُّوا فِيهَا فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے وضو کرو ، اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے وضو نہ کرو ، آپ سے اونٹ کے باڑے (بیٹھنے کی جگہ) میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین میں سے ہے ، اور آپ سے بکریوں کے باڑے (رہنے کی جگہ) میں نماز پڑھنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں نماز پڑھو کیونکہ وہ برکت والی ہیں ۔

Narrated Al-Bara ibn Azib: The Messenger of Allah ﷺ was asked about performing ablution after eating the flesh of the camel. He replied: Perform ablution, after eating it. He was asked about performing ablution after eating meat. He replied: Do not perform ablution after eating it. He was asked about saying prayer in places where the camels lie down. He replied: Do not offer prayer in places where the camels lie down. These are the places of Satan. He was asked about saying prayer in the sheepfolds. He replied: You may offer prayer in such places; these are the places of blessing.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٦٠ (٨١)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٧ (٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٨)، ویأتی المؤلف برقم: (٤٩٣) (صحیح )
185Sunan Abu Dawood

کچا گوشت چھونے سے وضو کرنے یا ہاتھ دھونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ المعنى، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، قَالَ هِلَالٌ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَقَالَ أَيُّوبُ وَعَمْرٌو أراه عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِغُلَامٍ وَهُوَ يَسْلُخُ شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الْإِبْطِ، ثُمَّ مَضَى فَصَلَّى لِلنَّاسِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي لَمْ يَمَسَّ مَاءً، وَقَالَ: عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُرْسَلًا، لَمْ يَذْكُرْا أَبَا سَعِيدٍ.

ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا، وہ ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: تم ہٹ جاؤ، میں تمہیں (عملی طور پر کھال اتار کر) دکھاتا ہوں ، چناچہ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا، اور اسے دبایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک چھپ گیا، پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور (پھر سے) وضو نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے پانی چھوا تک نہیں، نیز عمرو نے اپنی روایت میں أخبرنا هلال بن ميمون الجهني کے بجائے عن هلال بن ميمون الرملي (بصیغہ عنعنہ) کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے عبدالواحد بن زیاد اور ابومعاویہ نے ہلال سے، ہلال نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور ابوسعید (صحابی) کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ passed by a boy who was skinning a goat. The Messenger of Allah ﷺ said: Give it up until I show you. He (the Prophet) inserted his hand between the skin and the flesh until it reached the armpit. He then went away and led the people in prayer and he did not perform ablution. The version of Amr added that he did not touch water. Abu Dawud said: This tradition has been narrated though another chain of transmitters, making no mention of Abu Saeed.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الذبائح ٦ (٣١٧٩)، (تحفة الأشراف: ٤١٥٨) (صحیح )
186Sunan Abu Dawood

مردہ کو چھونے سے وضو لازم نہیں ہوتا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلًا مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ وَالنَّاسُ كَنَفَتَيْهِ، فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ، فَتَنَاوَلَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ ؟وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ کے قریب کی بستیوں میں سے ایک بستی کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے، اور لوگ آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے دائیں بائیں جانب ہو کر چل رہے تھے، آپ چھوٹے کان والی بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے اس کا کان پکڑ کر اٹھایا، پھر فرمایا: تم میں سے کون شخص اس کو لینا چاہے گا؟ ، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ١ ؎۔

Jabir narrated: The Messenger of Allah ﷺ passed by the market when on his return from one of the villages of Aliyah. People accompanied him from both sides. One the way he found a dead kid with both its ears joined together. He caught hold of it by its ear. He then said: Which of you likes to take it ? The narrator transmitted the tradition in full.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ حلال جانوروں کے مردار کا چھونا جائز ہے، اور اس کے چھونے سے دوبارہ وضو کی حاجت نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزھد ١ (٢٩٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦٥)، والبخاری فی الأدب المفرد (٩٦٢) من حدیث جعفر (صحیح )
187Sunan Abu Dawood

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔

Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ took (the meat of) a (goats) shoulder and offered prayer and did not perform ablution.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٤ (٣٥٤)، (تحفة الأشراف: ٥٩٧٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ١٥ (٢٠٧)، سنن النسائی/الطھارة ١٢٣ (١٨٤)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٦ (٤٨٨)، موطا امام مالک/الطھارة ٥(١٩)، مسند احمد (١/٢٢٦) (صحیح )
188Sunan Abu Dawood

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: ضِفْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ، وَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ، قَالَ: فَجَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، قَالَ: فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ، وَقَالَ: مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ ؟ وَقَامَ يُصَلِّ، زَادَ الْأَنْبَارِيُّ: وَكَانَ شَارِبِي وَفَى فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ، أَوْ قَالَ: أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات نبی اکرم ﷺ کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ران بھوننے کا حکم دیا، وہ بھونی گئی، آپ ﷺ نے چھری لی، اور میرے لیے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے، اتنے میں بلال ؓ آئے، اور آپ ﷺ کو نماز کی خبر دی، تو آپ نے چھری رکھ دی، اور فرمایا: اسے کیا ہوگیا؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں؟ ، اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے۔ انباری کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: میری موچھیں بڑھ گئی تھیں، تو آپ ﷺ نے مونچھوں کے تلے ایک مسواک رکھ کر ان کو کتر دیا ، یا فرمایا: میں ایک مسواک رکھ کر تمہارے یہ بال کتر دوں گا ۔

Narrated Al-Mughirah ibn Shubah (RA) : One night I became the guest of the Prophet ﷺ . He ordered that a piece of mutton be roasted, and it was roasted. He then took a knife and began to cut the meat with it for me. In the meantime Bilal came and called him for prayer. He threw the knife and said: What happened! may his hands be smeared with earth! He then stood for offering prayer. Al-Anbari added: My moustaches became lengthy. He trimmed them by placing a took-stick; or he said: I shall trim your moustaches by placing the tooth-stick there. Al-Anbari said: My moustaches became lengthy. He trimmed them by placing a tooth-stick ; or he said: I shall trim your moustaches by placing the tooth-stick there.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے اتنی جلدی پڑی تھی کہ میرے کھانے سے فارغ ہوجانے کا انتظار تک نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، سنن الترمذی/الشمائل (١٦٧)، (تحفة الأشراف: ١١٥٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥٢) (صحیح )
189Sunan Abu Dawood

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کا شانہ کھایا پھر اپنا ہاتھ اس ٹاٹ سے پوچھا جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ took a shoulder (of goats meat) and after wiping his hand with a cloth on which he was sitting, he got up and prayed.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٦ (٤٨٨)، (تحفة الأشراف: ٦١١٠) (صحیح )
190Sunan Abu Dawood

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَشَ مِنْ كَتِفٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کے دست کا گوشت نوچ کر کھایا پھر نماز پڑھی اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔

Ibn Abbas said: The Prophet ﷺ ate a little meat from a (goats) shoulder. He then offered prayer and did not perform ablution.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: ٦٥٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٩، ٣٦١) (صحیح )
191Sunan Abu Dawood

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَثْعَمِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: قَرَّبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو روٹی اور گوشت پیش کیا، تو آپ نے کھایا، پھر وضو کے لیے پانی منگایا، اور اس سے وضو کیا، پھر ظہر کی نماز ادا کی، پھر اپنا بچا ہوا کھانا منگایا اور کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔

Muhammad bin al-Munkadir said: I heard Jabir bin Abdullah say: I presented bread and meat to the Prophet ﷺ . He ate them and called for ablution water. he performed ablution and offered the noon (Dhuhr) prayer. He then called for the remaining food and ate it. He then got up and prayed and did not perform ablution.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٠٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة ٥٣ (٥٤٥٧)، سنن الترمذی/الطھارة ٥٩ (٨٠)، سنن النسائی/الطھارة ١٢٣ (١٨٥)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٦ (٤٨٩)، مسند احمد (٣/٣٢٢) (صحیح )
192Sunan Abu Dawood

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ أَبُو عِمْرَانَ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا اخْتِصَارٌ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری فعل یہی تھا کہ آپ آگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ پہلی حدیث کا اختصار ہے۔

Jabir said: The last practice of the Messenger of Allah ﷺ was that he did not perform ablution after taking anything that was cooked with the help of fire. Abu Dawud said: This is the abridgment of the former tradition.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الطہارة ١٢٣ (١٨٥)، (تحفة الأشراف: ٣٠٤٧) (صحیح )
193Sunan Abu Dawood

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ ثُمَامَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مِصْرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ فِي مَسْجِدِ مِصْرَ،قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ سَادِسَ سِتَّةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ رَجُلٍ، فَمَرَّ بِلَالٌ فَنَادَاهُ بِالصَّلَاةِ، فَخَرَجْنَا فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ وَبُرْمَتُهُ عَلَى النَّارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَطَابَتْ بُرْمَتُكَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَتَنَاوَلَ مِنْهَا بَضْعَةً، فَلَمْ يَزَلْ يَعْلُكُهَا حَتَّى أَحْرَمَ بِالصَّلَاةِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ.

عبید بن ثمامہ مرادی کا بیان ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ مصر میں ہمارے پاس آئے، تو میں نے ان کو مصر کی مسجد میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: ایک آدمی کے گھر میں مجھ سمیت سات یا چھ اشخاص رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ موجود تھے کہ اتنے میں بلال ؓ گزرے اور آپ کو نماز کے لیے آواز دی، ہم نکلے اور راستے میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کی ہانڈی آگ پر چڑھی ہوئی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی سے پوچھا: کیا تمہاری ہانڈی پک گئی؟ ، اس نے جواب دیا: ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر آپ ﷺ نے اس ہانڈی سے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اس کو چباتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے نماز کے لیے تکبیر (تحریمہ) کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا ۔

Narrated Abdullah ibn Harith ibn Jaz (RA) : One of the Companions of the Prophet ﷺ , came upon us in Egypt. When he was narrating traditions in the Mosque of Egypt, I heard him say: I was the seventh or the sixth person in the company of the Messenger of Allah ﷺ in the house of a person. In the meantime Bilal came and called him for prayer. He came out and passed by a person who had his fire-pan on the fire. The Messenger of Allah ﷺ said to him: Has the food in the fire-pan been cooked? He replied: Yes, my parents be sacrificed upon you. He then took a piece out of it and continued to chew it until he uttered the first takbir (AllahuAkbar) of the prayer. All this time I was looking at him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٢٣٣) (ضعیف) (اس کا راوی عبید بن ثمامہ لَیِّن الحدیث ہے )
194Sunan Abu Dawood

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوُضُوءُ مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے ١ ؎۔

Abu Hurairah reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Perform ablution after eating anything which has been cooked by fire.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم پہلے تھا بعد میں منسوخ ہوگیا، ناسخ احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٤٧٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ٢٣ (٣٥٢)، سنن الترمذی/الطھارة ٥٨ (٧٩)، سنن النسائی/الطھارة ١٢٢ (١٧١، ١٧٢، ١٧٣، ١٧٤)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٥ (٤٨٥)، مسند احمد (٢/٤٥٨، ٥٠٣، ٥٢٩) (صحیح )
195Sunan Abu Dawood

آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَسَقَتْهُ قَدَحًا مِنْ سَوِيقٍ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ، فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي أَلَا تَوَضَّأُ ؟، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ، أَوْ قَالَ: مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، يَا ابْنَ أَخِي.

ابوسفیان بن سعید بن مغیرہ کا بیان ہے کہ وہ ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کے پاس آئے، تو ام حبیبہ ؓ نے انہیں ایک پیالہ ستو پلایا، پھر (ابوسفیان) نے پانی منگا کر کلی کی، ام حبیبہ ؓ نے کہا: میرے بھانجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: جنہیں آگ نے بدل ڈالا ہو ، یا فرمایا: جنہیں آگ نے چھوا ہو، ان چیزوں سے وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری کی حدیث میں لفظ: يا ابن أخي اے میرے بھتیجے ہے۔

Narrated Umm Habibah (RA) : Abu Sufyan ibn Saeed ibn al-Mughirah reported that he entered upon Umm Habibah who presented him a glass of sawiq (a drink prepared with flour and water) to drink. He called for water and rinsed his mouth. She said: O my cousin, dont you perform ablution? The Prophet ﷺ said: Perform ablution after eating anything cooked with fire, or he said: anything touched by fire. Abu Dawud said: The version of al-Zuhri has: O my paternal cousin.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ١٢٢ (١٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٢٦، ٣٢٧) (صحیح )
196Sunan Abu Dawood

دودھ پی کلی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیا، پھر پانی منگا کر کلی کی اور فرمایا: اس میں چکنائی ہوتی ہے ١ ؎۔

Abdullah bin Abbas said that the Prophet ﷺ drank some milk and then rinsed his mouth saying: it contains greasiness.

Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن ایسا کرنا مستحب ہے واجب نہیں ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٢ (٢١١)، والأشربة ١٢ (٥٦٠٩)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٤ (٣٥٨)، سنن الترمذی/الطھارة ٦٦ (٨٩)، سنن النسائی/الطھارة ١٢٥ (١٨٧)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٨ (٤٩٨)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٣، ٢٢٧، ٣٢٩، ٣٣٧، ٣٧٣) (صحیح )
197Sunan Abu Dawood

دودھ پی کر کلی نہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، عَنْ مُطِيعِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، فَلَمْ يُمَضْمِضْ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَصَلَّى، قَالَ زَيْدٌ: دَلَّنِي شُعْبَةُ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دودھ پیا پھر نہ کلی کی اور نہ (دوبارہ) وضو کیا اور نماز پڑھی۔

Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah ﷺ drank some milk and he did not rinse his mouth nor did he perform ablution, and he offered the prayer.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٥٨) (حسن )
198Sunan Abu Dawood

خون نکلنے سے وضو ٹوٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، فَأَصَابَ رَجُلٌ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَحَلَفَ أَنْ لَا أَنْتَهِيَ حَتَّى أُهَرِيقَ دَمًا فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَقَالَ: مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا ؟ فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: كُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ، اضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّ، وَأَتَى الرَّجُلُ، فَلَمَّا رَأَى شَخْصَهُ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةٌ لِلْقَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ حَتَّى رَمَاهُ بِثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ انْتَبَهَ صَاحِبُهُ، فَلَمَّا عَرِفَ أَنَّهُمْ قَدْ نَذِرُوا بِهِ هَرَبَ، وَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدَّمِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، أَلَا أَنْبَهْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَى ؟ قَالَ: كُنْتَ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں نکلے، تو ایک مسلمان نے کسی مشرک کی عورت کو قتل کردیا، اس مشرک نے قسم کھائی کہ جب تک میں محمد ﷺ کے اصحاب میں سے کسی کا خون نہ بہا دوں باز نہیں آسکتا، چناچہ وہ (اسی تلاش میں) نکلا اور نبی اکرم ﷺ کے نقش قدم ڈھونڈتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے چلا، نبی اکرم ﷺ ایک منزل میں اترے، اور فرمایا: ہماری حفاظت کون کرے گا؟ ، تو ایک مہاجر اور ایک انصاری اس مہم کے لیے مستعد ہوئے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم دونوں گھاٹی کے سرے پر رہو ، جب دونوں گھاٹی کے سرے کی طرف چلے (اور وہاں پہنچے) تو مہاجر (صحابی) لیٹ گئے، اور انصاری کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، وہ مشرک آیا، جب اس نے (دور سے) اس انصاری کے جسم کو دیکھا تو پہچان لیا کہ یہی قوم کا محافظ و نگہبان ہے، اس کافر نے آپ پر تیر چلایا، جو آپ کو لگا، تو آپ نے اسے نکالا، یہاں تک کہ اس نے آپ کو تین تیر مارے، پھر آپ نے رکوع اور سجدہ کیا، پھر اپنے مہاجر ساتھی کو جگایا، جب اسے معلوم ہوا کہ یہ لوگ ہوشیار اور چوکنا ہوگئے ہیں، تو بھاگ گیا، جب مہاجر نے انصاری کا خون دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! آپ نے پہلے ہی تیر میں مجھے کیوں نہیں بیدار کیا؟ تو انصاری نے کہا: میں (نماز میں قرآن کی) ایک سورة پڑھ رہا تھا، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے بند کروں ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : We proceeded in the company of the Messenger of Allah ﷺ for the battle of Dhat ar-Riqa. One of the Muslims killed the wife of one of the unbelievers. He (the husband of the woman killed) took an oath saying: I shall not rest until I kill one of the companions of Muhammad. He went out following the footsteps of the Prophet ﷺ . The Prophet ﷺ encamped at a certain place. He said: Who will keep a watch on us? A person from the Muhajirun (Emigrants) and another from the Ansar (Helpers) responded. He said: Go to the mouth of the mountain-pass. When they went to the mouth of the mountain-pass the man from the Muhajirun lay down while the man from the Ansar stood praying. The man (enemy) came to them. When he saw the person he realised that he was the watchman of the Muslims. He shot him with an arrow and hit the target. But he (took the arrow out and) threw it away. He (the enemy) then shot three arrows. Then he (the Muslim) bowed and prostrated and awoke his companion. When he (the enemy) perceived that they (the Muslims) had become aware of his presence, he ran away. When the man from the Muhajirun saw the (man from the Ansar) bleeding, he asked him: Glory be to Allah! Why did you not wake me up the first time when he shot at you. He replied: I was busy reciting a chapter of the Quran. I did not like to leave it.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث واضح طور سے اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ پیشاب اور پاخانہ کے مقام کے علاوہ جسم کے کسی اور مقام سے خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، خواہ خون اپنے نکلنے کی جگہ تک رہ جائے یا وہاں سے بہہ نکلے، یہی اکثر علماء کا قول ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ زخم کا خون زخمیوں کے لئے پاک ہے، یہ مالکیہ کا مذہب ہے اور یہی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٤٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤٣، ٣٥٩) (حسن )
199Sunan Abu Dawood

کیا سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: لَيْسَ أَحَدٌ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے لشکر کی تیاری میں مصروفیت کی بناء پر عشاء کی نماز میں دیر کردی، یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے، پھر جاگے پھر سو گئے، پھر جاگے پھر سو گئے، پھر آپ ﷺ نکلے اور فرمایا: (اس وقت) تمہارے علاوہ کوئی اور نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے ۔

Abdullah bin Umar (RA) said: One night the Messenger of Allah ﷺ was busy and he delayed the night (isha) prayer so much so that we dosed in the mosque. We awoke, then dozed, and again awoke and again dozed. He (the prophet) then came upon us and said: There is none except you who is waiting for prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مواقیت الصلاة ٢٤ (٥٧٠)، صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٣٩)، (تحفة الأشراف: ٧٧٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٨، ١٢٦) (صحیح )
200Sunan Abu Dawood

کیا سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

حَدَّثَنَا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ /agt;، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ فِيهِ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كُنَّا نَخْفِقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، بِلَفْظٍ آخَرَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب عشاء کی نماز کا انتظار کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کے سر (نیند کے غلبہ سے) جھک جھک جاتے تھے، پھر وہ نماز ادا کرتے اور (دوبارہ) وضو نہیں کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں شعبہ نے قتادہ سے یہ اضافہ کیا ہے کہ: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نماز کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے نیند کے غلبہ کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے، اور اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے دوسرے الفاظ میں روایت کیا ہے۔

Narrated Anas (RA) : The Companions during the lifetime of the messenger of Allah used to wait for the night prayer so much so that their heads were lowered down (by dozing). Then they offered prayer and did not perform ablution. Abu Dawud said: Shubah on the authority of Qatadah added: We lowered down our heads (on accounts of dozing) in the day of the Messenger of Allah . Abu Dawud said; This tradition has been transmitted through a different chain of narrators.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود (تحفة الأشراف: ١٣٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ٣٣ (٣٧٦)، سنن الترمذی/الطھارة ٥٧ (٧٨) (صحیح )
201Sunan Abu Dawood

کیا سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍقَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي حَاجَةً، فَقَامَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں عشاء کی نماز کی اقامت کہی گئی، اتنے میں ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، اور کھڑے ہو کر آپ سے سرگوشی کرنے لگا یہاں تک کہ لوگوں کو یا بعض لوگوں کو نیند آگئی، پھر آپ ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی۔ ثابت بنانی نے وضو کا ذکر نہیں کیا۔

Anas bin Malik (RA) reported: (The people) stood up for the night prayer and a man stood up and spoke forth: Messenger of Allah, I have to say something to you. He (the Prophet) entered into secret conversation with him, till the people or some of the people dozed off, ad then he led them in prayer. He (Thabit al-Bunani) did not mention ablution.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٣٣(٣٧٦)، (تحفة الأشراف: ٣٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٠، ٢٦٨) (صحیح )