پاکی کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 1 · 389 hadiths · Page 9 of 20

162Sunan Abu Dawood

موزوں پر مسح کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ، لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ.

علی ؓ کہتے ہیں اگر دین ( کا معاملہ) رائے اور قیاس پر ہوتا، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: If the religion were based on opinion, it would be more important to wipe the under part of the shoe than the upper but I have seen the Messenger of Allah ﷺ wiping over the upper part of his shoes.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٥، سنن الدارمی/ الطھارة ٤٣ (٧٤٢) (صحیح )
163Sunan Abu Dawood

موزوں پر مسح کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ إِلَّا أَحَقَّ بِالْغَسْلِ حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ.

اعمش سے یہی حدیث اس سند سے مروی ہے، اس میں ہے کہ علی ؓ نے کہا: میں دونوں پیروں کے تلوؤں کو دھونا ہی زیادہ مناسب سمجھتا رہا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔

This tradition has been transmitted through a different chain of narrators. This version adds: “I always preferred to wash the under part of the feet until I saw the Messenger of Allah ﷺ wiping the upper part of them.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٤) (صحیح )
164Sunan Abu Dawood

موزوں پر مسح کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ بَاطِنُ الْقَدَمَيْنِ أَحَقَّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا، وَقَدْ مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ، وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِهِمَا، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي الْخُفَّيْنِ، وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، كَمَا رَوَاهُ وَكِيعٌ، وَرَوَاهُ أَبُو السَّوْدَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَاهِرَ قَدَمَيْهِ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

اس سند سے بھی اعمش سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ علی ؓ نے کہا: اگر دین (کا معاملہ) قیاس پر ہوتا تو دونوں قدموں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے زیادہ بہتر ہوتا، حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ہے۔ اور اسے وکیع نے بھی اعمش سے اسی سند سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ علی ؓ نے کہا: میں دونوں پیروں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے بہتر جانتا تھا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا۔ وکیع کا بیان ہے کہ لفظ قدمين سے مراد خفين ہے، وکیع ہی کی طرح اسے عیسیٰ بن یونس نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے، نیز اسے ابوالسوداء نے ابن عبد خیر سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے علی کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پاؤں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ١ ؎ اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا، پھر ابوالسوداء نے پوری روایت آخر تک بیان کی۔

A mash transmitted this tradition saying: If religion were based on opinion, it would be more proper to wipe the under part of the feet than the upper. The Prophet ﷺ wiped over the upper part of his shoes. The narrator Waki said: I saw Ali perform ablution and wash the upper part of his feet, and say: Had I not seen the Messenger of Allah ﷺ doing like this –and he narrated the tradition in full.

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوالسوداء کی روایت میں فغسل ظاهر قدميه کے الفاظ آئے ہیں، بظاہر یہاں ” غسل “: ” مسح “ کے معنی میں ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٤) (صحیح )
165Sunan Abu Dawood

موزوں پر مسح کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفَّيْنِ وَأَسْفَلَهُمَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَبَلَغَنِي أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ ثَوْرُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَجَاءٍ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو غزوہ تبوک میں وضو کرایا، تو آپ نے دونوں موزوں کے اوپر اور ان کے نیچے مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ثور نے یہ حدیث رجاء بن حیوۃ سے نہیں سنی ہے۔

Narrated Al-Mughirah ibn Shubah (RA) : I poured water while the Prophet ﷺ performed ablution in the battle of Tabuk. He wiped over the upper part of the socks and their lower part. Abu Dawud said: I have been told that Thawr did not hear this tradition from Raja.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٧٢ (٩٧)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٥ (٥٥٠)، موطا امام مالک/الطھارة ٨ (٤١)، (تحفة الأشراف: ١١٥٣٧)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة ٤١ (٧٤٠) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے جس کو مؤلف نے واضح کردیا ہے، اور دارمی کی روایت میں عموم ہے، اعلی واسفل کا ذکر نہیں ہے )
166Sunan Abu Dawood

شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے دینے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ الثَّقَفِيِّ أَوِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَالَ يَتَوَضَّأُ وَيَنْتَضِحُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَافَقَ سُفْيَانَ جَمَاعَةٌ عَلَى هَذَا الْإِسْنَادِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: الْحَكَمُ، أَوْ ابْنُ الْحَكَمِ.

سفیان بن حکم ثقفی یا حکم بن سفیان ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب پیشاب کرتے تو وضو کرتے، اور (وضو کے بعد) شرمگاہ پر (تھوڑا) پانی چھڑک لیتے۔

Narrated Hakam ibn Sufyan ath-Thaqafi (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ urinated, he performed ablution and sprinkled water on private parts of the body. Abu Dawud said: A group of scholars agreed with Sufyan upon this chain of narrators. Some have mentioned the name of Sufyan bin al-Hakam, and others al-Hakam bin Sufyan.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ١٠٢ (١٣٤)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥٨ (٤٦١)، (تحفة الأشراف: ٣٤٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٧٩) (صحیح )
167Sunan Abu Dawood

شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے دینے کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ نَضَحَ فَرْجَهُ.

ثقیف کے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۔

A man from Thaqif on the authority of his father reported: I saw the Messenger of Allah ﷺ urinate, and he sprinkled water on the private parts of his body.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٣٤٢٠) (صحیح )
168Sunan Abu Dawood

شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے دینے کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَوِ ابْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ.

حکم یا ابن حکم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا ١ ؎۔

Hakam or Ibn al-Hakam on the authority of his father reported: The Prophet ﷺ urinated; then he performed ablution and sprinkled water on the private parts of his body.

Notes · وضاحت
١ ؎: وضو کے بعد تھوڑا سا پانی پاجامہ کی میانی پر چھڑک لے، تاکہ وہاں پیشاب کا قطرہ ہونے کا وسوسہ ختم ہوجائے، یہ وسوسہ دور کرنے کی عمدہ تدبیر ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو سکھلائی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٣٤٢٠) (صحیح )
169Sunan Abu Dawood

وضو کے بعد کی دعا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْجُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُدَّامَ أَنْفُسِنَا نَتَنَاوَبُ الرِّعَايَةَ رِعَايَةَ إِبِلِنَا، فَكَانَتْ عَلَيَّ رِعَايَةُ الْإِبِلِ فَرَوَّحْتُهَا بِالْعَشِيِّ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، إِلَّا قَدْ أَوْجَبَ، فَقُلْتُ: بَخٍ بَخٍ، مَا أَجْوَدَ هَذِهِ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ الَّتِي قَبْلَهَا: يَا عُقْبَةُ أَجْوَدُ مِنْهَا، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: مَا هِيَ يَا أَبَا حَفْصٍ ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ آنِفًا قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ وُضُوئِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ، قَالَ مُعَاوِيَةُ: وَحَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنا کام خود کرتے تھے، باری باری اپنے اونٹوں کو چراتے تھے، ایک دن اونٹ چرانے کی میری باری آئی، میں انہیں شام کے وقت لے کر چلا، تو رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں پایا کہ آپ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پوری توجہ اور حضور قلب (دل جمعی) کے ساتھ ادا کرے تو اس نے (اپنے اوپر جنت) واجب کرلی ، میں نے کہا: واہ واہ یہ کیا ہی اچھی (بشارت) ہے، اس پر میرے سامنے موجود شخص نے عرض کیا: عقبہ! جو بات رسول اللہ ﷺ نے اس سے پہلے فرمائی، وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب ؓ تھے، عرض کیا: ابوحفص! وہ کیا تھی؟ آپ نے کہا: تمہارے آنے سے پہلے ابھی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو ۔ معاویہ کہتے ہیں: مجھ سے ربیعہ بن یزید نے بیان کیا ہے، انہوں نے ابوادریس سے اور ابوادریس نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کی ہے۔

Uqbah bin Amir said: We served ourselves in the company of Messenger of Allah ﷺ . We tended our camels by turn. One day I had my turn to tend the camels, and I drove them in the afternoon. I found the Messenger of Allah ﷺ addressing the people. I heard him say: Anyone amongst you who performs ablution, and does it well, then he stands and offers two rak’ahs of prayer, concentrating on it with his heart and body, Paradise will be his lot by all means. I said: Ha-ha! How fine it is! A man in front of me said: The action (mentioned by the Prophet) earlier, O Uqbah, is finer that this one. I looked at him and found him to be Umar bin al-Khattab. I asked him: What is that, O Abu Hafs? He replied: He (the Prophet) had said before you came: If any one of you performs ablution, and does it well, and when he finishes the ablution, he utters the words: I bear witness that there is no deity except Allah, He has o associate, and I bear witness that Muhammad is His Servant and His Messenger, all the eight doors of Paradise will be opened for him; he may enter (through) any of them. Muawiyah said: Rabiah bin Yazid narrated this tradition to me from Abu Idris and the authority of Uqbah bin ’Amir.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ٦ (٢٣٤)، سنن النسائی/الطھارة ١١١ (١٥١)، سنن الترمذی/الطھارة ٤١ (٥٥)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٠ (٤٧٠)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٦، ١٥١، ١٥٣)، سنن الدارمی/الطھارة ٤٤ (٧٤٣) (صحیح )
170Sunan Abu Dawood

وضو کے بعد کی دعا

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، عَنْ ابْنِ عَمِّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الرِّعَايَةِ، قَالَ: عِنْدَ قَوْلِهِ: فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ.

اس سند سے بھی عقبہ بن عامر جہنی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ابوعقیل یا ان سے اوپر یا نیچے کے راوی نے اونٹوں کے چرانے کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز آپ ﷺ کے قول: فأحسن الوضوء کے بعد یہ جملہ کہا ہے: پھر اس نے (یعنی وضو کرنے والے نے) اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ دعا پڑھی ١ ؎۔ پھر ابوعقیل راوی نے معاویہ بن صالح کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔

Uqbah bin Amir al-JuhanI narrated this tradition from the Prophet ﷺ in a similar way. He did not mention about tending the camels. After the words “and he performed ablution well” he added the words: “he then raises his eyes towards the sky”. He transmitted the tradition conveying the same meaning as that of Muawiyah.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ ابوعقیل نے اپنی روایت میں اونٹ چرانے کے واقعے کا ذکر نہیں کیا ہے اور حدیث کی روایت ان الفاظ میں کی ہے: ما منکم من أحد يتوضأ فاحسن الوضوء ثم رفع بصره إلى السماء فقال أشهد أن لا إله إلا الله إلى آخر الحديث كما قال معاوية واللہ اعلم، رہی آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کی حکمت تو یہ شارع کو معلوم ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٠) (ضعیف) (سند کے ایک راوی ابن عم ابوعقیل مبہم ہے )
171Sunan Abu Dawood

ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ، قَالَ مُحَمَّدٌ هُوَ أَبُو أَسَدِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَكُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ.

عمرو بن عامر بجلی (محمد بن عیسیٰ کہتے ہیں: عمرو بن عامر بجلی ابواسد بن عمرو ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم لوگ ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔

Abu Asad bin Amr said: I asked Anas bin Malik (RA) about ablution. He replied: The Prophet ﷺ performed ablution for each prayer and we offered (many) prayers with the same ablution.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطھارة ٥٤ (٢١٤)، سنن الترمذی/الطھارة ٤٤ (٦٠)، سنن النسائی/الطھارة ١٠١ (١٣١)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٢ (٥٠٩)، (تحفة الأشراف: ١١١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٢، ١٩٤، ٢٦٠، سنن الدارمی/الطھارة ٤٦ (٧٤٧) (صحیح )
172Sunan Abu Dawood

ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ، قَالَ: عَمْدًا صَنَعْتُهُ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ایک ہی وضو سے پانچ نمازیں ادا کیں، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، اس پر عمر ؓ نے آپ ﷺ سے کہا: میں نے آج آپ کو وہ کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کبھی نہیں کرتے تھے ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے ۔

Buraidah on the authority of his father reported: The Messenger of Allah ﷺ performed five prayers with the same ablution of the occasion of the capture of Makkah, and he wiped over his socks. Umar said to him (the Prophet): I saw you doing a thing today that you never did. He said: I did it deliberately.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھنے کا کام۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ٢٥ (٢٧٧)، سنن الترمذی/الطھارة ٤٥ (٦١)، سنن النسائی/الطھارة ١٠١ (١٣٣)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٢ (٥١٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٠، ٣٥١، ٣٥٨)، سنن الدارمی/الطھارة ٣ (٦٨٥) (صحیح )
173Sunan Abu Dawood

وضو میں کسی عضو کا خشک رہ جانا

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمِهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَلَمْ يَرْوِهِ إِلَّا ابْنُ وَهْبٍ وَحْدَهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ،عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ: ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس وضو کر کے آیا، اس نے اپنے پاؤں میں ناخن کے برابر جگہ (خشک) چھوڑ دی تھی، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جریر بن حازم سے مروی یہ حدیث معروف نہیں ہے، اسے صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے، اس جیسی حدیث معقل بن عبیداللہ جزری سے بھی مروی ہے، معقل ابوزبیر سے، ابوزبیر جابر سے، جابر عمر سے، اور عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا: تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو ۔

Anas reported: A person came to the Messenger of Allah ﷺ . He performed ablution and left a small part equal to the space of a nail upon his foot. The Messenger of Allah ﷺ said to him: Go back and perform ablution well. Abu Dawud said: This tradition is not known through Jarir bin Hazim. It was transmitted only by Ibn Wahab. Another version adds the wording: “ Go back and perform the ablution well. ”

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٣٩ (٦٦٥)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٤٦)، وحدیث عمر أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ١٠ (٢٤٣)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٣٩ (٦٦٦) (صحیح )
174Sunan Abu Dawood

وضو میں کسی عضو کا خشک رہ جانا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى قَتَادَةَ.

اس سند سے حسن (حسن بصری) نے نبی اکرم ﷺ سے قتادہ (قتادہ ابن دعامۃ) کی حدیث کے ہم معنی (مرسلاً ) روایت کی ہے۔

Hasan narrated from the Prophet ﷺ a tradition conveying the same meaning as that of Qatadah.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٨٥١٢، ١٨٥٦٣) (صحیح )
175Sunan Abu Dawood

وضو میں کسی عضو کا خشک رہ جانا

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بُجَيْرٍ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّ وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ.

ایک صحابی رسول ؓ کا ارشاد ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا، اس کے پاؤں کے اوپری حصہ میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا، وہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے وضو، اور نماز دونوں کے لوٹانے کا حکم دیا ١ ؎۔

Narrated Some Companions of the Prophet: The Prophet ﷺ saw a person offering prayer, and on the back of his foot a small part equal to the space of a dirham remained unwashed; the water did not reach it. The Prophet ﷺ commanded him to repeat the ablution and prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: باب کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے صرف خشک جگہ دھونے کا حکم نہیں دیا، بلکہ پورا وضو کرنے کا حکم دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو کے اعضاء پے در پے مسلسل دھونے چاہئیں، اور ان کے درمیان فاصلہ نہیں ہونا چاہیے، یعنی اعضاء وضو کے دھونے میں فصل جائز نہیں، اس مسئلہ میں دونوں طرح کے اقوال ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ اگر زیادہ تاخیر نہ ہوئی ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبواداود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣) (صحیح )
176Sunan Abu Dawood

جب وضو ٹوٹنے میں شک ہو تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أُبَيِّ خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُخَيَّلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَا يَنْفَتِلْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا.

عباد بن تمیم کے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم الانصاری ؓ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے یہ شکایت کی گئی کہ آدمی کو کبھی نماز میں شبہ ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ اسے خیال ہونے لگتا ہے (کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا) ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، نماز نہ توڑے ۔

Abbad bin Tamim reported from his uncle that a person made a complaint to the Prophet ﷺ that he entertained (doubt) as if something had happened to him which had rendered his ablution invalid. He (the Prophet) said: He should not cease (to pray) unless he hears a sound or perceives a smell (of passing wind).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤ (١٣٧)، ٣٤ (١٧٧)، البیوع ٥ (٢٠٥٦)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٦ (٣٦١)، سنن النسائی/الطھارة ١١٥ (١٦٠)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٤ (٥١٣)، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩، ٤٠) (صحیح )
177Sunan Abu Dawood

جب وضو ٹوٹنے میں شک ہو تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ حَرَكَةً فِي دُبُرِهِ أَحْدَثَ أَوْ لَمْ يُحْدِثْ فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ، فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو پھر وہ اپنی سرین میں کچھ حرکت محسوس کرے، اور اسے شبہ ہوجائے کہ وضو ٹوٹا یا نہیں، تو جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، نماز نہ توڑے ۔

Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ said: If any one of you offers prayer and feels a movement between his paddocks, but is doubtful whether or not his ablution broke, he should not cease praying unless he hears a sound or perceives a smell.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، تحفة (١٢٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٢٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ٢٦ (٣٦٢)، سنن الترمذی/الطھارة ٥٦ (٧٥)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٤ (٥١٦)، مسند احمد (٤/٤١٤)، سنن الدارمی/الطھارة ٤٧ (٧٤٨) (صحیح )
178Sunan Abu Dawood

کیا عورت کا بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُ الْفِرْيَابِيُّ وَغَيْرُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ مُرْسَلٌ، إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَاتَ إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ وَلَمْ يَبْلُغْ أَرْبَعِينَ سَنَةً، وَكَانَ يُكْنَى: أَبَا أَسْمَاءَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے فریابی وغیرہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ابراہیم تیمی کا ام المؤمنین عائشہ ؓ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم تیمی ابھی چالیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا تھا، ان کی کنیت ابواسماء تھی۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ kissed me and did not perform ablution. Abu Dawud said: This tradition is Mursal (i. e. where the link of the Companions is missing and the Successor reports from the Prophet directly). Ibrahim at-Taimi did not hear anything from Aisha (RA) . Abu Dawud said: Al-Firyabi and other narrated this tradition in a like manner.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطھارة ١٢١ (١٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة ٦٣ (٨٦)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٩ (٥٠٢)، مسند احمد (٦/٢١٠) (صحیح) (اگلی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے ورنہ خود یہ سند منقطع ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے )
179Sunan Abu Dawood

کیا عورت کا بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ عُرْوَةُ: مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ، فَضَحِكَتْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا رَوَاهُ زَائِدَةُ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ،عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ایک بیوی کا بوسہ لیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور (پھر سے) وضو نہیں کیا۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: وہ بیوی آپ کے علاوہ اور کون ہوسکتی ہیں؟ یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں۔

Aishah reported: The Prophet ﷺ kissed one of his wives and went out for saying prayer. He did not perform ablution. Urwah said: I said to her: Who is she except you! Thereupon she laughed. Abu Dawud said: The same version has been reported through a different chain of narrators.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧١) (صحیح )
180Sunan Abu Dawood

کیا عورت کا بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَخْلَدٍ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَغْرَاءَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، أَخْبَرَنَا أَصْحَابٌ لَنَا، عَنْ عُرْوَةَ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو دَاوُد، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ لِرَجُلٍ: احْكِ عَنِّي أَنَّ هَذَيْنِ يَعْنِي حَدِيثَ الْأَعْمَشِ هَذَا، عَنْ حَبِيبٍ، وَحَدِيثَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، أَنَّهَا تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ يَحْيَى: احْكِ عَنِّي أَنَّهُمَا شِبْهُ لَا شَيْءَ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرُوِيَ عَنْ الثَّوْرِيِّ، قَالَ: مَا حَدَّثَنَا حَبِيبٌ إِلَّا عَنْ عُرْوَةَ الْمُزَنِيِّ يَعْنِي لَمْ يُحَدِّثْهُمْ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ بِشَيْءٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَى حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ حَدِيثًا صَحِيحًا.

اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید قطان نے ایک شخص سے کہا: میرے حوالہ سے بیان کرو کہ یہ دونوں حدیثیں یعنی ایک تو یہی اعمش کی حدیث جو حبیب سے مروی ہے، دوسری وہ جو اسی سند سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی لا شىء کے مشابہ ہے (یعنی یہ دونوں حدیثیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم سے حبیب نے صرف عروہ مزنی کے طریق سے بیان کیا، یعنی ان لوگوں سے حبیب نے عروہ بن زبیر کے واسطہ سے کچھ نہیں بیان کیا ہے (یعنی: عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت ثابت نہیں) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لیکن حمزہ زیات نے حبیب سے، حبیب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے ایک صحیح حدیث روایت کی ہے (یعنی: عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت صحیح ہے) ۔

This tradition has been reported through another chain of narrators on the authority of Aisha (RA) . Abu Dawud said: Yahya bin Saeed al-Qattan said to a person: Narrate these two tradition from me, that is to say, one tradition on the authority of al-Amash from Habib (about kissing); another through the same chain about a woman who has prolonged flow of bloos and she is asked to perform ablution for every prayer. Yahya said: Narrate from me that both these traditions are weak in respect of their chains. Abu Dawud said: Al-Thawri is reported to have said: Habib narrated this tradition to us only on the authority of Urwat al-Muzani, that is, he did not narrated any tradition on the authority of Urwah bin al-Zubair. Abu Dawud said: Hamzah al-Zayyat reported a sound tradition on the authority of Habib, from Urwah bin al-Zubair from Aisha (RA) .

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٨٧٦٨، ١٧٣٧١) (صحیح )
181Sunan Abu Dawood

شرمگاہ کو چھونے سے وضو کے ٹوٹ جانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: وَمِنْ مَسِّ الذَّكَرِ ؟، فَقَالَ عُرْوَةُ: مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ.

عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ انہوں نے عروہ کو کہتے سنا: میں مروان بن حکم کے پاس گیا اور ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو مروان نے کہا: اور عضو تناسل چھونے سے بھی (وضو ہے) ، اس پر عروہ نے کہا: مجھے یہ معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان ؓ نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو اپنا عضو تناسل چھوئے وہ وضو کرے ۔

Narrated Busrah daughter of Safwan (RA) : Abdullah ibn Abu Bakr reported that he heard Urwah say: I entered upon Marwan ibn al-Hakam. We mentioned things that render the ablution void. Marwan said: Does it become void by touching the penis? Urwah replied: This I do not know. Marwan said: Busrah daughter of Safwan reported to me that she heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who touches his penis should perform ablution.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطھارة ٦١ (٨٢)، سنن النسائی/الطھارة ١١٨ (١٦٣)، الغسل ٣٠ (٤٤٥)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٣ (٤٧٩)، موطا امام مالک/الطھارة ١٥(٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠٦، ٤٠٧)، سنن الدارمی/الطھارة ٥٠ (٧٥١) (صحیح )