وضو کے بعد کی دعا
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، عَنْ ابْنِ عَمِّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الرِّعَايَةِ، قَالَ: عِنْدَ قَوْلِهِ: فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ.
اس سند سے بھی عقبہ بن عامر جہنی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ابوعقیل یا ان سے اوپر یا نیچے کے راوی نے اونٹوں کے چرانے کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز آپ ﷺ کے قول: فأحسن الوضوء کے بعد یہ جملہ کہا ہے: پھر اس نے (یعنی وضو کرنے والے نے) اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ دعا پڑھی ١ ؎۔ پھر ابوعقیل راوی نے معاویہ بن صالح کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
Uqbah bin Amir al-JuhanI narrated this tradition from the Prophet ﷺ in a similar way. He did not mention about tending the camels. After the words “and he performed ablution well” he added the words: “he then raises his eyes towards the sky”. He transmitted the tradition conveying the same meaning as that of Muawiyah.