فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْ ۟ؕفَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡؕ
تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرنا
— Fateh Muhammad Jalandhari
So as for the orphan, do not oppress [him].
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْ ۟ؕفَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡؕ
تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرنا
— Fateh Muhammad Jalandhari
So as for the orphan, do not oppress [him].
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 18 of juz
Read the whole surah · Surah Ad-Dhuhaa
لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو
تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرنا
پس یتیم پر تو بھی سختی نہ کیا کر
اب جو یتیم ہے تم اس پر سختی مت کرنا۔
تو یتیم پر دباؤ نہ ڈالو
سو آپ بھی کسی یتیم پر سختی نہ فرمائیں،
پس لیکن یتیم، پس (اس پر) سختی نہ کر۔
لہٰذا کسی یتیم پر سختی نہ کیجیے
تو جو یتیم ہے اس کو مت دبائیو
پس آپ یتیم پر سختی نہ کرنا
تو آپ بھی یتیم پر سختی نہ کیجئے
تو آپ ﷺ کسی یتیم پر سختی نہ کریں۔
تو تم بھی یتیم پر ظلم نہ کرنا
Therefore, be not harsh with the orphan;
Therefore, as for orphan, do not oppress him,
Therefore, as for orphan, do not oppress him,
Therefore, treat not the orphan with oppression.
Therefor the orphan oppress not,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
So as for the orphan, do not oppress [him].
Do not oppress the orphans
Therefore, as for the orphan, do not oppress (him).
Wherefore as to the orphan, be thou not Unto him overbearing.
Therefore, treat not the orphan with harshness,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ بیمار ہوگئے اور ایک یا دو راتوں تک آپ تہجد کی نماز کے لیے نہ اٹھ سکے تو ایک عورت کہنے لگی کہ تجھے تیرے شیطان نے چھوڑ دیا اس پر یہ اگلی آیتیں نازل ہوئیں (بخاری مسلم وغیرہ) حضرت جندب فرماتے ہیں کہ جبرائیل کے آنے میں کچھ دیر ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ یہ تو چھوڑ دئیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے والضحٰی سے ماقلفی تک کی آیتیں اتاریں، اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کی انگلی پر پتھر مارا گیا تھا جس سے خون نکلا اور جس پر آپ نے فرمایا : ھل انت الا اصبع دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت یعنی تو صرف ایک انگلی ہے اور راہ اللہ میں تجھے یہ زخم لگا ہے۔ طبعیت کچھ ناساز ہوجانے کی وجہ سے دو تین رات…
Read the full tafseer →سورة الضُّحٰی 9 یعنی تم چونکہ خود یتیم رہ چکے ہو، اور اللہ نے تم پر یہ فضل فرمایا کہ یتیمی کی حالت میں بہترین طریقے سے تمہاری دستگیری کی، اس لیے اس کا شکرانہ یہ ہے کہ تمہارے ہاتھ سے کبھی کسی یتیم پر ظلم اور زیادتی نہ ہونے پائے۔
Read the full tafseer →ان تینوں نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد آپ کو تین چیزوں کا حکم دیا گیا، اول فاما البیتیم فلا تقھر، قہر کے معنے غلبہ اور جبری تسلط کے ہیں، مراد یہ ہے کہ آپ کسی یتیم کو ضعیف اور بےوارث سمجھ کر اس کے اموال و حقوق پر اس طرح مسل نہ ہوں کہ اس کا حق ضائع ہوجائے اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے یتیم کے ساتھ شفقت کے معاملے کی تاکید فرمائی اور اس کے ساتھ دل شکنی کا برتاؤ کرنے سے منع فرمایا، ارشاد ہے کہ مسلمانوں کے گھروں میں بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ احسان و محبت کا سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے برا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو اور اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو (رواہ البخاری فی الادب المفرد،…
Read the full tafseer →انعامات کا حق: قریش کے زور آوروں کو تنبیہ: یہ ان انعامات کا، جو اوپر مذکور ہوئے، حق بیان ہوا ہے اور انداز بیان ایسا ہے جس میں ان لوگوں پر نہایت لطیف تعریض بھی ہے جن کا حال پچھلی سورتوں میں بیان ہوا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں عطا فرمائیں ان کو اس کا انعام سمجھنے اور اس کے شکرگزار ہونے کی بجائے وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہو گئے کہ یہ جو کچھ ان کو ملا ہے یہ اسی کے حق دار ہیں۔ فرمایا کہ تم یہ روش نہ اختیار کرنا بلکہ تمہاری یتیمی کی حالت میں تمہارے رب نے جس طرح تم کو پناہ دی اسی طرح تم یتیموں کو پناہ دینا، ان پر شفقت اور کرم کی نظر رکھنا اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنا۔ آیت ’وَتَأْکُلُوۡنَ…
Read the full tafseer →9۔ 1 بلکہ اس کے ساتھ نرمی واحسان کا معاملہ کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
5: حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ آپ نے تجارت میں جو شرکت فرمائی، اس سے آپ کو اچھا خاصا نفع حاصل ہوا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
فاما ........................................ فحدث یہ ہدایات کہ یتیم کا اکرام کرو ، اس پر سختی نہ کرو ، اس کی دل شکنی نہ کرو ، سائل کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو ، سائل کی عزت کرو۔ یہ ہدایات مکہ کی نہایت ہی منکر حق اور دولت پرست ، سوسائٹی میں بہت ضروری تھیں ، جس میں ضعیف اور قوت نہ رکھنے والا شخص اپناحق حاصل نہ کرسکتا تھا ، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تھا ، لیکن جب اسلامی نظام نافذ ہوا تو اسلامی شریعت نے اس سوسائٹی کو حق پرست اور عدالت گستر سوسائٹی بنا دیا ، لوگ نہایت محتاط ہوگئے ، اللہ کے حدود پر رکنے لگے۔ اور وہ ایک طرف حدود اللہ کو قائم کرنے لگے اور دوسری طرف حقوق العباد کے محافظ…
Read the full tafseer →1 بلکہ اس کی خبر گیری اور دلجوئی کر۔ جس طرح تم کو یتیمی کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ٹھکانا دیا۔ تم دوسرے یتیموں کو ٹھکانا دو ۔ اسی طرح کے مکارم اخلاق اختیار کرنے سے بندہ اللہ کے رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ " صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً ۡ حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا۔ " انا وکافل الیتیم کھاتین " " واشار الی السبابۃ والوسطی۔ "
Read the full tafseer →آیت 9{ فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْہَرْ۔ } ”تو آپ ﷺ کسی یتیم پر سختی نہ کریں۔“ جیسے آپ ﷺ کی یتیمی میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی کفالت وغیرہ کا بندوبست کیا ‘ اسی طرح اب آپ ﷺ بھی یتیموں کی سرپرستی کریں اور انہیں لوگوں کی زیادتیوں سے بچائیں
Read the full tafseer →8 یتیم کی کفالت :۔ یعنی جس طرح ہم نے تمہاری یتیمی کے دوران ہر مرحلہ پر تمہارا خیال رکھا اسی طرح تم بھی یتیموں سے بہترین سلوک کرو۔ نہ انہیں دباؤ نہ ان پر سختی کرو، نہ انہیں بےیارو مددگار چھوڑ دو بلکہ ان کی ضرورتوں کا پورا پورا خیال رکھا کرو۔ چناچہ آپ ﷺ نے دوسرے مسلمانوں کو بھی یتیموں کی کفالت اور ان سے حسن سلوک کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ : میں اور یتیم کا کفیل جنت میں اس طرح (اکٹھے) ہوں گے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی اور وسطی انگلی کی طرف اشارہ کیا اور انہیں تھوڑا سا کھول دیا (بخاری، کتاب الادب۔ باب فضل من یعول یتیما)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
6۔ یعنی ان نعمتوں کا شکریہ قولی وفعلی ہر طرح ادا کرتے رہئے۔ (آیت) ” فاما الیتیم فلا تقھر “۔ عرب جاہلیت میں یتیم بیچاے کی کوئی قدر نہ تھی، اور وہ کسی عزت یا جائداد کا حقدار نہ تھا۔ وکذا کانت العرب یتیمی کو یاد کرلیاکیجئے، اور اس غریب مخلوق یعنی یتیم کے ساتھ ہر طرح کا حسن سلوک ومدارات برتاکیجئے۔ یہ آیت ماقبل کی (آیت) ” الم یجدک یتیما فاوی “۔ کے مقابلہ پر ہے، (آیت) ” واما لسآئل فلا تنھر “۔ جاہلی تہذیبیں ایسی بکثرت گزری ہیں، جن میں محتاج سائل کا کوئی حق کسی قسم کا تسلیم ہی نہیں کیا گیا تھا آپ ﷺ کو تعلیم مل رہی ہے کہ خود اپنی حاجت مندی کے زمانہ کو یاد کرلیا کیجئے۔ اور کسی صاحب احتیاج سائل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ووجدک عالاً فاغنی ” غنی کرنے “ کا مطلب ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو اپنے سواہر ایک سے بےنیاز کردیا پس آپ ﷺ فقر میں صابر اور غنی میں شاکر رہے خود نبی ﷺ کا بھی فرمان ہے کہ تو نگری ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں اصل تو نگری دل کی تو نگری ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الزکوۃ)
Read the full tafseer →فاما الیتیم فلا تقھر . یہاں سے سورت کے آخر تک معترضہ جملے ہیں یا رسول اللہ ﷺ کے یتیم اور عائل یعنی نادار ہونے کے ذکر میں یتیم اور سائل کے احکام کا ذکر کردیا اور یہاں فقیر سائل کا ذکر اس وجہ سے کیا کہ نادار اکثر سائل ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو ٹھکاناعطا کرنے ‘ غنی بنانے اور ہدایت دینے کا ذکر چونکہ مذکورۂ بالا آیات میں آیا تھا اس لیے آئندہ یاد نعمت کا حکم دیا۔ فراء اور زجاج نے لا تقھر کا معنی یہ بیان کیا کہ یتیم کے مال پر زبردستی قبضہ نہ کرو اور اس کی کمزوری کو دیکھ کر اس کا مال نہ لے لو ‘ جیسا کہ عرب کرتے تھے۔ عزت کی وجہ سے خطاب تو رسول اللہ ﷺ کو ہے مگر ممانعت کا رجوع امت کی طرف ہے۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
(8۔ 11) تو اب ان نعمتوں کے شکریہ میں آپ یتیم پر سختی نہ کیجیے اور سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کیجیے اور نہ اس کو جھڑکیے۔ اور نبوت واسلام کا لوگوں کے درمیان تذکرہ کرتے رہا کیجیے اور ان کو اس سے آگاہ کردیجیے۔ شان نزول : وَالضُّحٰى۔ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى الخ امام بخاری و مسلم نے حضرت جندب سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو کچھ تکلیف ہوگئی جس کی وجہ سے ایک یا دو راتوں کو آپ تہجد نہ پڑھ سکے تو آپ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی اے محمد ﷺ میرے خیال میں (معاذ الل) آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَالضُّحٰى۔ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى الخ سعید بن منصور اور…
Read the full tafseer →(فاما الیتیم فلا تقھر : آپ نے یتیمی اور اس کی تلخی اور بےچارگی دیکھی ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح آپ کو جگہ دی اور آپ پر بےپناہ مہربانیاں فرمائیں، اب دونوں چیزوں کا تقاضا ہے کہ یتیم پر سختی نہ کرو بلکہ زیادہ سے زیادہ حسن سلوک کرو۔
Read the full tafseer →فاما الیتیم فلاتقھر۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ فحدث۔ اس میں چار مسائل ہیں۔ تقھر کا معنی ومفہوم : مسئلہ نمبر 1۔ فامالیتیم فلاتقھر۔ اس پر ظلم کے ساتھ تسلط نہ جمائیں اس کا حق اس کو دے دیں اور اپنے یتیمی کے دور کو یاد کریں یہ اخفش کا قول ہے۔ یہ دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں مجاہد سے یہ مروی ہے کہ معنی ہے آپ ﷺ اسے حقیر نہ جانیں۔ نخعی، اشہب اور عقیلی نے کہا، تکھر کاف کے ساتھ ہے۔ حضرت ابن مسعود کے مصحف میں اسی طرح ہے اس بنا پر یہ احتمال موجود ہے کہ اس پر ظلم کرنے اور مال لینے کے ذریعے تسلط جمانے سے نہی ہے یتیم کو خاص کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ سوا کوئی مددگار نہیں اس کے معاملہ میں حتی کی کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
39۔ ابن الانباری نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما الیتیم فلا تقہر یعنی کسی یتیم کو حقیر نہ جانو۔ اور ذکر کیا گیا کہ عبداللہ ؓ کے مصحف میں یوں ہے آیت فلا تکھر۔ 41۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا تقہر یعنی کسی یتیم پر ظلم اور زیادتی نہ کیجیے۔ 42۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما الیتیم فلا تقہر یعنی کسی یتیم پر ظلم نہ کیجیے۔ 43۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما الیتیم فلا تقہر یعنی یتیم کے لیے رحیم باپ کی طرح ہوجائیے آیت وما السائل فلا تنہر اور سائل کو نہ جھڑکو یعنی کسی سائل کا جواب…
Read the full tafseer →[فَاَمَا : پس وہ جو ہے، تو ][ الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ : کسی بھی یتیم کو پس آپ ﷺ ذلیل مت کریں ] (آیات۔ 9 تا 11) ۔ اَلْیَتِیْمَ اور اَلسَّائِلَ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ لَا تَقْھَرْ اور لَاتَنْھَرْ کے مفعول مقدم میں اور حَدَّثَ کے مفعول پر بِ کا صلہ آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ یہ پورا فقرہ حَدِّثْ کا مفعول مقدم ہے۔ اَلْیَتِیْمَ اور اَلسَّائِلَ پر لام جنس ہے۔
Read the full tafseer →﴿ فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ009﴾ (سو آپ یتیم پر سختی نہ کیجئے) ۔ چونکہ آپ نے یتیمی کا زمانہ گزارا ہے اور آپ کو معلوم تھا کہ ماں باپ کا سایہ اٹھ جانے سے کیسی زندگی گزرتی ہے اس لیے آپ کو خطاب کر کے فرمایا کہ یتیم پر سختی نہ کرنا گو خطاب آپ کو ہے لیکن اس میں ساری امت کو تلقین فرما دی کہ یتیموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور ان کے ساتھ سختی کا برتاؤ نہ کریں یتیم کی پرورش کرنے اور اس کے ساتھ رحمت اور شفقت کا برتاؤ کرنے کی احادیث شریفہ میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ ہاتھ پھیرنا صرف اللہ کی رضا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
انعامات خاصہ : برذات اقدس نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم وامر باواء شکر : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والضحی والیل اذا سجی ......... الی ......... واما بنعمۃ ربک فحدث “۔ (ربط) گزشتہ چند سورتوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا گیا تھا اور ایمان کا دارومدار آخرت پر ایمان یقین کی شکل میں ہے تو اس کے دلائل بھی ذکر فرما دیئے گئے اب اس سورت میں ان خصوصی انعامات کا ذکر ہے جن سے آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو سرفراز فرمایا گیا اور ان انعامات کے ضمن میں آپ کی رسالت کے دلائل بھی ذکر کردئیے گئے اور جن خاص کمالات اور اخلاق حسنہ سے پیغمبر کی ذات متصف ہونی چاہئے، ان کو بھی بیان کردیا گیا، ارشاد ہے۔ قسم ہے دھوپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
5:۔ ” فاما الیتیم “ یہ تینوں امور پہلے تینوں امور پر مرتب ہیں بطور لف و نشر مرتب۔ امر اول، ” الم یجدک یتیما فاوی “ پر مرتب ہے۔ چونکہ آپ بھی اس حال سے گذرے ہیں اور یتیمی کا مزہ آپ نے بھی چکھا ہے اس لیے کسی یتیم پر سختی نہ کرنا اور نہ اس کو جھڑکنا۔ ” واما السائل فلا تنھر “ یہ ” ووجدک ضالا فھدی “ پر متفرع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و شریعت کے علوم و معارف سے مالا مال کردیا ہے اس لیے اگر کوئی علم دین کا سائل حاضر خدمت ہو تو اس کو مت ڈانٹنا بلکہ اس کو علم دین سے سیراب کردینا ” واما بنعمۃ ربک فحدث “ یہ ” ووجدک عائلا فاغنی “ پر متفرع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دولت عطا کی اس لیے اللہ تعالیٰ کی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
گزشتہ سے پیوستہ ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی کہ چند دن کے لئے وحی کے منقطع ہونے پر مشرکین جو اعتراضات کرتے ہیں ، وہ درست نہیں ہیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اس مقام پر دن اور رات کی قسم کھا کر آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا پروردگار مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہے۔ نہ اس نے آپ کو چھوڑا ہے اور نہ اس نے آپ سے نفرت کا اظہار فرمایا ہے۔ یہاں پر دھوپ کے روشن ہونے سے مراد وحی الٰہی کا نزول ہے جس طرح چاشت کے وقت دن خوب روشن ہوتا ہے اور ہر چیز واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح وحی الٰہی کے نزول پر حقائق کا انکشاف ہوتا ہے۔ وحی الٰہی کا منقطع ہونا بھی ترق کی علامت ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْہَرْ 9 ۭ «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء کلام کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
ترکیب ¦ الم یجدک ھذا شروع فیما انعم اللہ علیہ والہمزۃ لانکار النفی وتقریر المنفی فکانہ قال قدو جدک یتیما والوجود بمعنی العلم۔ فآ وٰی قرء الجمھور بالالف بعد الھمزۃ رباعیا من آواہ یویہ وقریٔ ثلاثیا وھوا ما بمعنی الرباعی اوھو من آوی لہ اذا رحمہ ووجدک ضا لا فہدی معطوف علی المضارع المنفی وقیل علی ما یقتضیہ الکلام السابق والضلال ھھنا بمعنی الغفلۃ کما قال الزجاج ونظیرہ قولہ تعالیٰ ولا یضل ربی ولا ینسیٰ وقولہ تعالیٰ ان تضل احدا ھما فتذکر احدا ھما الاخرٰی وقیل من الطلب والمحبتہ کقولہ تعالیٰ انک لفی ضلالک القدیم ووجدک عائلا الخ معطوف علی الکلام السابق یقال عال الرجل یعیل عیلۃ اذا افتقرا ما الیتیم منصوب…
Read the full tafseer →فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلاَ تَقْھَرْ ۔ (الضحیٰ : 9) (پس کسی یتیم پر سختی نہ کیجیے۔ ) اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے پہلے احسان کا حق اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر جو احسانات کیے جن کا اوپر کی آیات میں ذکر ہوا ہے پیش نظر آیت اور بعد کی آیات میں ان انعامات و احسانات کا حق بیان فرمایا گیا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ آپ یتیم تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے کفالت و شفقت کا غیرمعمولی انتظام فرمایا۔ اس انعام کا حق یہ ہے کہ آپ کسی یتیم پر سختی نہ فرمائیں۔ آپ کی بےپایاں شفقت و محبت کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔ چناچہ اسی ہدایت کا نتیجہ ہے کہ آپ کی ذات ہر یتیم و مسکین کے لیے سرتاپا شفقت و رحمت تھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ کو یتیموں اور غریبوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی خصوصی تلقین۔ یتیموں اور مسکینوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہر صاحب حیثیت کا فرض ہے لیکن یہ فرض اس شخص کے لیے زیادہ اہم ہوجاتا ہے جس نے یتیمی میں آنکھ کھولی اور غریبی میں پرورش پائی ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے مقام عطا فرمائے اور وسائل سے ہمکنار کرے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دوسروں سے بڑھ کر یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو امت کا سربراہ بنایا اور فتح مکہ کے بعد وسائل کے دروازے کھول دئیے۔ اس لیے آپ کو حکم دیا گیا کہ یتیم کو نہیں جھڑکنا اور سائل سے روگردانی اختیار نہیں کرنی اور اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →9 : فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلاَ تَقْھَرْ (تو آپ یتیم پر سختی نہ کیجئے) اس کی کمزوری کی وجہ سے اس کے حق اور مال پر غالب مت آئو۔
Read the full tafseer →9 ۔” فاما الیتیم فلا تقھر “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں آپ یتیم کو حقیر نہ سمجھیں کیونکہ آپ (علیہ السلام) خود یتیم تھے اور فراء اور زجاج رحمہما اللہ نے فرمایا ہے آپ اس کے مال پر قبضہ نہ کریں کہ اس کے حق کو لے لیں اس کے کمزور ہونے کی وجہ سے۔ اسی طرح عرب یتیموں کے معاملہ میں کہا کرتے تھے ان کے اموال لے لیتے تھے اور ان کے حقوق غصب کرلیتے تھے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھروہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے اور مسلمانوں کے گھروں میں برا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے۔ پھر اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا، میں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ اگرچہ مفسروں نے اس سورة کی شان نزول میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں سب سے زیادہ صحیح شان نزول وہی ہے جس کا ذکر صحیحین 1 ؎ کی جندب ؓ کی روایت میں ہے کہ حضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں کچھ بیمار ہوگئے تھے اس بیماری کے سبب سے دو تین راتوں تک آپ تہجد کی نماز کو نہیں اٹھے یہ دیکھ کر ام جمیل ابو لہب کی بی بی نے کہا محمد کے رب نے محمد کو چھوڑ دیا۔ اس لئے انہوں نے رات کو اٹھنا بند کردیا۔ ام جمیل کی اس بات سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے رنج رفع ہوجانے کی غرض سے یہ سورة نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے نبی اللہ کے ‘ نہ اللہ نے تم کو چھوڑ دیا ہے نہ وہ تم سے کچھ خفا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اس لیے فرمایا (فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ ) یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجئے۔ آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں بلکہ اس کا اکرام کریں جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے (وَاَمَّا السَّاۗىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ ) یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات، یعنی ڈانٹ اور ترش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کردیجئے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجئے۔ اس میں مال کا سوال کرنے والا علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں،…
Read the full tafseer →یتیم پر نرمی کا حکم قول باری ہے (فاما الیتیم فلا تقھمر۔ لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو) ایک قول کے مطابق ” اس پر ظلم کرکے اور اس کا مال چھین کر اس پر سختی نہ کرو۔ “ یتیم کا خصوصیت کے ساتھ اس لئے ذکر کیا کہ اللہ کے سوا اس کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔ اس لئے اس کے معاملے میں شدت اختیار کی گئی تاکہ اس پر ظلم کرنے والے کو سزا بھی سخت دی جائے۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (اتقوا ظلم من لا ناصرلہ غیر اللہ۔ اس شخص پر ظلم کرنے سے بچو جس کا اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9 ۔ یتیم پر سختی کی ممانعت کا ذکرو بیان : سو مذکورہ بالا انعامات کے حق نعمت کے ذکرو بیان کے سلسلے میں سب سے پہلے یتیم کے حق کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا " پس یتیم پر کبھی سختی نہیں کرنا " بلکہ اس سے ہمدردی اور شفقت ہی کا برتاؤ ہی کیجیے گا، کہ آپ خود اس مرحلے سے گزر چکے ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے یتیموں کی پرورش و خیر خواہی سے متعلق علمی اور عملی طور پر دنیا کو جن تعلیمات عالیہ سے نوازا ان کی نظیر تو کیا ان کا عشر عشیر بھی کہیں اور نہیں مل سکے گا، آپ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے جس طرح یہ دو انگلیاں ( انا و کا فل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
اللہ کی رحمتیں اور نبی پاک ﷺ تشریح : بڑی خوبصورت سورت پاک ہے۔ اللہ کی رحمتوں برکتوں ' فضیلتوں ' لطف وکرم اور قدرت و عظمت کا بیان بڑے خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے۔ اور اس خاص محبت کا ذکر جو اللہ جل شانہ کو اپنے پیارے رسول ﷺ سے ہے بڑے محبت بھرے انداز میں کی گئی ہے۔ وحی کے رک جانے سے جو آپ ﷺ پریشان ہوئے تو حق تعالیٰ نے آفتاب کی روشنی اور رات کے گھپ اندھیرے کی قسم کھا کر یقین دلایا کہ آپ ﷺ پریشان نہ ہوں جس طرح دن رات کا نظام انسان کے کام اور آرام کا ذریعہ ہے اسی طرح آپ ﷺ کی وحی کے اترنے کا وقفہ محض آپ ﷺ کو اعصابی آرام دینے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر وحی کی وجہ سے جو مشقت پڑتی ہے وہ وقفہ وقفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
سورة الضحی۔ آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ چھاجاتی ہے یعنی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی گواہ ہیں کہ دن کے بعد رات بھی آسکتی ہے پھر خود رات گواہ ہے کہ جب مکمل ہوچکتی ہے تو تاریکی کم ہونے لگتی ہے اور پھر دن آجاتا ہے۔ قبض وبسط۔ یہی حال کیفیات قلب کا بھی ہے کہ کبی واردات بہت تیزا ورروشن ہوتی ہیں یعنی بسط ہوتا ہے اور کبھی قبض کی کیفیت وارد ہوتی ہے اور قبض سے یہ نہیں سمجھاجاسکتا کہ پھر بسط نہ ہوگا چند روز نزول وحی نہ ہواتوکفار نے طعنہ دیا کہ رب نے انہیں چھوڑ دیا ہے تو رب کریم نے جو اباارشاد فرمایا کہ آپ کے پروردگار نے نہ تو آپ کو چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہے…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی کسی پہلو سے اس پر ظلم نہ کرو اور نہ اسے حقیر جانو بلکہ اس کی دلجوئی اور خبر گیری کرتے رہو۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جنت میں “ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا یوں ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں یہ کہتے ہوئے آپ نے بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(93:9) فاما الیتیم فلا تقھر : اما بمعنی لیکن یا سو۔ حرف شرط ہے اور اکثر حالت میں تفصیل کے لئے آتا ہے اور کبھی تاکید کے لئے بھی۔ یہاں تفصیل کے لئے آیا ہے۔ لاتقھر فعل نہی کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو نہ دبا۔ تو ظلم نہ کر۔ قھر (باب فتح) سے جس کے معنی دوسرے پر غلبہ کرنے۔ دبانے اور ذلیل کرنے کے ہیں۔ قھر کے معنی غلبہ اور تذلیل دونوں ایک ساتھ ملحوظ ہیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک معنی میں علیحدہ علیحدہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ وھو القاھر فوق عبادہ (6:18) (وہی غالب ہے اپنے بندوں پر) میں محض غلبہ کے معنی میں آیا ہے۔ اور آیر زیر مطالعہ میں محض تذلیل کے معنی میں آیا ہے کہ یتیم کو ذلیل مت کرو۔ تفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
لغات القرآن۔ سجی۔ چھا گیا۔ ماقلی۔ نہ بیزار ہوا۔ سوف یعطی۔ بہت جلد عطا کرے گا۔ ترضی۔ تو خوش ہوجائے گا۔ اوی۔ ٹھکانا رہا۔ ضال۔ تلاش حق میں سرگرداں ۔ عائل ۔ مفلس و غریب۔ اغنی۔ مال دار کردیا۔ لا تقھر ۔ مت ڈانٹ۔ لا ینتھر۔ نہ جھڑک ۔ حدت ۔ بیان کر۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد ﷺ پر ابتداء میں پہلی وحی کے بعد تیس چالیس دن تک وحی کا سلسلہ بند رہا۔ پھر اس کے بعد لگاتار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وحی بند ہونے کے زمانہ میں ایک طرف تو آپ پریشان تھے۔ ادھر کفار مکہ کی طنز آمیز باتوں اور طعنوں سے آپ بہت غمگکین رہتے تھے۔ وہ کہتے کہ اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا رب تم سے ناراض ہوگیا اور وحی کا سلسلہ بند ہوگیا ؟ ابو لہب کی…
Read the full tafseer →(ف 1) اس طرح کہ حضرت خدیجہ نے آپ سے نکاح کرلیا اور آپ تمام مال حاضر کردیا، یہ تو ظاہری غنا تھی باقی آپ کے قلبی اور باطنی غنا کا درجہ تو وہ غنی عن العالمین ہی جانتا ہے کوئی بشر اس کا کیا اندازہ کرسکے، مطلب یہ ہے کہ ابتداء سے مورد انعامات رہے ہیں آئندہ بھی رہیں گے جس پروردگار نے اسی شان سے آپ کی تربیت فرمائی ہے کیا وہ آپ کو خفا ہوکر آپ کو یونہی درمیان میں جدا کردے گا۔ استغفر اللہ۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے تونگری کثرت مال سے حاصل نہیں ہوتی حقیقی تونگری نفس کا بےنیاز ہونا ہے جیسا کہ اہل جاہلیت کا طریقہ تھا کہ یتیموں کو دباتے اور ان پر زیادتی کرتے تھے۔ سب سے اچھا گھر کون سا ؟ حدیث شریف میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–11
[3] یعنی آنے والے حالات آپ کے لئے گزشتہ حالات سے بہتر و برتر ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 1: فرمایا ۔ ان انعامات کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اظہار تشکر کے طور پر یتیموں کے حق میں بدرجہ غایت شفیق ہوجائیں ۔ ان پر سختی نہ کریں اور سائل کو نہ جھڑکیں اور اپنے قول وفعل سے اپنے رب کی نعمتوں کا اعتبار کرتے رہیں ۔ حل لغات :۔ وجدک ضآلا ۔ قطبی نے قوضلالت کے معنی ضلالت وکفر کے ہی لئے ہیں اور یہ وہ جسارت ہے جس کو نقل کرنے میں قلم کا جگر شق ہوجاتا ہے ۔ مگر امام رازی نے کوئی بیس وجوہ تاویل کا ذکر کیا ہے ۔ جن میں سے ایک وجہ جو پسندیدہ ہے ۔ یہ ہے کہ ضلالت کے معنی محبت اور شوق کے بھی ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وارفتگی و محبت کے متعلق ان کے لڑکوں نے کہا تھا ۔ انک لفی ضلالک القدیر ۔ اس…
Read the full tafseer →(9) سو آپ یتیم پر کسی قسم کا دبائو نہ ڈالیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 4۔ اس طرح کہ حضرت خدیجہ ؓ کے مال میں آپ ﷺ مضارب ہوئے اور اس میں نفع ملا، پھر حضرت خدیجہ نے آپ سے نکاح کرلیا اور اپنا تمام مال حاضر کردیا۔
Read the full tafseer →پس تو بھی جو یتیم ہے اس پر خفا نہ ہو 9 ؎ آپ ﷺ تو پیدا ہی بےباپ ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے اپنی ہی نگرانی میں آپ ﷺ کی پرورش کرائی کیونکہ ظاہری تعلقات تو ایک ایک کر کے ختم ہوتے چلے گئے جیسا کے پیچھے تفصیل سے ذکر گزر چکا ہے کہ باپ تو تھا ہی نہیں اور والدہ ماجدہ کا سایہ بھی 6 سال کی عمر ہی میں اٹھ گیا اور پھر اس دوران دادا بھی وفات پا گئے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے چچا زبیر نے آپ ﷺ کی کفالت سنبھال لی لیکن آپ ﷺ کے جوان ہونے سے قبل ہی وہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ پھر ابو طالب نے آپ ﷺ سے تعاون کیا لیکن ان کی حالت اتنی عزت کی تھی کہ ان کو آپ ﷺ کے کام کی ضرورت تھی اور آپ ﷺ نے بھی ہوش…
Read the full tafseer →Injunction [ 1] فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ (Therefore, as for orphan, do not oppress him,...93:9). The word qahr means 'to treat people who are less powerful in an unfair and cruel way'. In the present context, the verse means: 'Since you were a poor orphan, and Allah sheltered you, do not oppress the orphan.' [ In words, 'do not seize their wealth by force and squander it. Do not scorn them, humiliate them or despise them. Rather, you should be kind and gentle to them.'] As a result, the Holy Prophet ﷺ emphasised that the orphan be treated kindly and gently, and has forbidden any…
Read the full tafseer →9 That is, "As you yourself have been an orphan, and Allah graced you with the bounty that he made the best possible arrangements to help you in that state, therefore, in gratitude you should see that no orphan is treated unjustly and harshly."
Read the full tafseer →