Ayahs 93:1–2اللہ تبارک وتعالی نے اپنے رسول کے لیے اپنی عنایت پر دن کی قسم کھائی ہے جب چاشت کے وقت اس کی روشنی پھیل جائے اور رات کی قسم کھائی ہے جب وہ ٹھہر جائے اور اس کی تاریکی چھا جائے۔
Ayah 93:3فرمایا (مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ ) یعنی جب سے آپ پر اللہ تعالیٰ کی عنایتے اس نے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے اس نے آپ کی نشونما کی اور آپ پر مہربانی کی، اس نے آپ پر توجہ اور عنایت کو ترک نہیں کیا بلکہ وہ آپ کی کامل ترین طریقے سے تربیت کرتا رہتا ہے اور درجہ بدرجہ آپ کو بلندی عطا کرتا رہتا ہے۔ ( وَمَا قَلٰى) اور وہ آپ سے بیزار نہیں ہوا۔ یعنی جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کی ہے وہ آپ سے ناراض نہیں ہوا۔ کیونکہ ضد کی نفی، اس کی ضد کے ثبوت کی دلیل ہے محض نفی جب تک ثبوت کمال کی متضمن نہ ہومدح نہیں ہوتی۔ یہ رسول اللہ کے ماضی کا حال ہے، جبکہ موجودہ حالت اللہ تعالیٰ کی آپ کے ساتھ محبت اس میں استمرار کمال کے درجات میں آپ کی ترقی اور آپ پر اللہ تعالیٰ کی دائمی عنایت کے لحاظ کامل ترین حال ہے۔
Ayahs 93:4–5رہامستقبل میں آپ کا حال تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَلَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى) یعنی آپ کے احوال میں سے ہر متاخر حال کو سابقہ احوال پر فضیلت حاصل ہے چناچہ رسول اللہ درجات عالیہ پر ترقی کرتے رہے اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو تمکن عطا کرتارہا، آپ کے دشمنوں کے خلاف آپ کو فتح ونصرت سے بہرہ مند کرتا رہا اور آپ کے احوال کے درست کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے وفات پائی۔ آپ فضائل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کے ایسے حال پر پہنچ گئے جہاں اولین وآخرین نہیں پہنچ سکے۔ پھر اس کے بعد آخرت میں آپ کے حال سے متعلق اکرام و تکریم اور انواع و اقسام کے انعامات کی تفصیلات کے بارے میں مت پوچھیے اس لیے فرمایا (وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى) اور وہ عنقریب آپ کو وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی اس جامع عبارت کے بغیر تعبیر ممکن ہی نہیں۔
Ayah 93:6پھر اللہ تعالیٰ ان خاص احوال کے ذریعے سے جنہیں وہ جانتا ہے آپ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے چناچہ فرمایا (اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى) یعنی آپ کو اس طرح پایا کہ آپ کی ماں تھی نہ باپ بلکہ آپ کے ماں باپ اس وقت وفات پاگئے جب کہ آپ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کرسکتے تھے آپ کے دادا عبدالمطلب نے آپ کی کفالت کی پھر آپ کے دادا بھی وفات پاگئے تو آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کفالت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت اور اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔
Ayah 93:7(وَوَجَدَكَ ضَاۗلًّا فَهَدٰى) یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے پس اس نے آپ کو وہ علم عطا کیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ کو بہترین اعمال اور بہترین اخلاق کی توفیق بخشی۔
Ayah 93:8(وَوَجَدَكَ عَاۗىِٕلًا) یعنی آپ کو محتاج پایا ( فَاَغْنٰى) پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہروں کی فتوحات کے ذریعے سے جہاں سے آپ کے لیے مال اور خراج آیا غنی کردیا۔ جس ہستی نے آپ کی یہ کمی دور کی ہے وہ عنقریب آپ کی ہر کمی کو دور کردے گی اور وہ ہستی جس نے آپ کو تونگری تک پہنچایا آپ کو پناہ دی آپ کو نصرت عطا کی اور آپ کو راہ راست سے نوازا اس کی نعمت پر شکر ادا کیجئے۔
Ayahs 93:9–10اس لیے فرمایا (فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ ) یعنی یتیم کے ساتھ برا معاملہ نہ کیجئے۔ آپ اس پر تنگ دل ہوں نہ آپ اسے جھڑکیں بلکہ اس کا اکرام کریں جو کچھ میسر ہے آپ اسے عطا کریں اور آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں جیسا کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد سے کیا جائے (وَاَمَّا السَّاۗىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ ) یعنی آپ کی طرف سے سائل کے لیے کوئی ایسی بات، یعنی ڈانٹ اور ترش روئی وغیرہ صادر نہ ہو جو سائل کو اس کے مطلوب سے رد کرنے کی مقتضی ہو بلکہ آپ کے پاس جو کچھ میسر ہے اسے عطا کردیجئے یا اسے معروف اور بھلے طریقے سے لوٹا دیجئے۔ اس میں مال کا سوال کرنے والا علم کا سوال کرنے والا دونوں داخل ہیں، بناب ریں معلم متعلم کے ساتھ حسن سلوک، اکرام و تکریم اور شفقت و مہربانی سے پیش آنے پر مامور ہے کیونکہ ایسا کرنے میں اس کے مقصد میں اس کی اعانت اور اس شخص کے لیے اکرام و تکریم ہے جو قوم وملک کو نفع پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔
Ayah 93:11(فرمایا وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ) اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتا رہ۔ یعنی ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ کی حمد وثنا بیان کیجئے اور اگر کوئی مصلحت ہو تو ان کا خاص طور پر ذکر کیجئے ورنہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعلی الاطلاق ذکر کیجئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر اس پر شکرگزاری کا موجب اور دلوں میں اس ہستی کی محبت کا موجب ہے جس نے نعمت عطا کی، کیونکہ محسن کے ساتھ محبت کرنا دلوں کی فطرت ہے۔