93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 93:1–5

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

آفتاب کی روشنی کی قسم

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور رات کی (تاریکی) کی جب چھا جائے

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

کہ (اے محمد ﷺ تمہارے پروردگار نے نہ تو تم کو چھوڑا اور نہ (تم سے) ناراض ہوا

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اور آخرت تمہارے لئے پہلی (حالت یعنی دنیا) سے کہیں بہتر ہے

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے

(1۔ 5) قسم ہے پورے دن کی اور رات کی جب کہ وہ تاریک اور سیاہ ہوجائے، جس وقت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس وحی بھیجی ہے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے آپ سے دشمنی کی ہے۔ رسول اکرم ﷺ انشاء اللہ کہنا بھول گئے تھے تو اس کے بعد پندرہ روز تک وحی آنا بند رہی۔ تو اس وقت کافر کہنے لگے کہ آپ کے پروردگار نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اور آپ سے دشمنی کرلی ہے اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اور آخرت کا ثواب آپ کے لیے ثواب دنیا سے بدرجہا بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ آپ کو آخرت میں مقام شفاعت ہی عطا فرمائے گا کہ جس سے آپ خوش ہوجائیں گے۔
Ayah 93:6

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی ؟ (بیشک دی)

اب اس پر نعمتیں یاد دلا کر اللہ تعالیٰ استشہاد فرماتے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر آپ کی کفات اور زمہ داری کے لے حضرت ابوطالب کو ٹھہرا دیا، حضور ﷺ نے فرمایا بےشک۔
Ayah 93:7

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

اور راستے سے ناواقف دیکھا تو سیدھا راستہ دکھایا

اور پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو گمراہ لوگوں کے درمیان پایا پھر آپ کو نبوت عطا کی حضور ﷺ نے فرمایا بےشک، اور یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نادار پایا تو حضرت خدیجہ کے مال سے آپ کو مال دار بنا دیا، یا یہ کہ جو آپ کو دیا اس سے آپ کو راضی کردیا، حضور ﷺ نے فرمایا بیشک
Ayahs 93:8–11

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اور تنگدست پایا تو غنی کردیا

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرنا

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دیں

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بیان کرتے رہنا

(8۔ 11) تو اب ان نعمتوں کے شکریہ میں آپ یتیم پر سختی نہ کیجیے اور سائل کو خالی ہاتھ واپس نہ کیجیے اور نہ اس کو جھڑکیے۔ اور نبوت واسلام کا لوگوں کے درمیان تذکرہ کرتے رہا کیجیے اور ان کو اس سے آگاہ کردیجیے۔ شان نزول : وَالضُّحٰى۔ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى الخ امام بخاری و مسلم نے حضرت جندب سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو کچھ تکلیف ہوگئی جس کی وجہ سے ایک یا دو راتوں کو آپ تہجد نہ پڑھ سکے تو آپ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی اے محمد ﷺ میرے خیال میں (معاذ الل) آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَالضُّحٰى۔ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى الخ سعید بن منصور اور فریابی نے جندب سے روایت کیا ہے کہ جبریل امین نے رسول اکرم ﷺ کے پاس آنے میں تاخیر کی تو مشرکین کہنے لگے اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو چھوڑ دیا ہے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ اور حاکم نے زید بن ارقم سے روایت کیا ہے کہ کچھ دنوں تک جبریل امین رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف نہیں لائے تو ابولہب کی بیوی ام جمیل کہنے لگی میں سمجھتی ہوں کہ ان کے صاحب نے ان کو چھوڑ دیا اور ان سے دشمنی کرلی، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور طبرانی نے اور ابن شیبہ نے اپنی مسند میں اور واحدی نے سند غیر معروف کے ساتھ حضرت خولہ سے روایت کیا ہے اور یہ حضور کی خادمہ تھیں فرماتی ہیں کہ ایک کتے کا بچہ حضور ﷺ کے مکان میں تخت کے نیچے گس گیا اور وہیں مرگیا تو چار روز تک رسول اللہ ﷺ کے پاس وحی نہیں آئی، آپ نے فرمایا اے خولہ رسول اللہ ﷺ کے گھر میں کیا بات پیش آئی کہ جبریل امین میرے پاس نہیں آرہے، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں گھر کی صفائی کر دالوں تو میں نے جھاڑ لے کر تخت کے نیچے سے صفائی کرنا شروع کی چناچہ وہاں سے کتے کے بچے کو نکال دیا۔ تو رسول اکرم ﷺ اپنے جبہ مبارک میں کانپتے ہوئے تشریف لائے اور آپ پر جب وحی آتی تھی تو آپ پر لرزہ آجاتا تھا۔ اس وقت فَتَرْضٰی تک یہ آیات نازل ہوئیں۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں جبریل کا کتے کی وجہ سے آنے میں تاخیر کرنا مشہور ہے مگر اس واقعہ کو آیت کا شان نزول قرار دینا شاذ بلکہ غیر قابل قبول ہے۔ ابن جریر نے عبداللہ بن شداد سے روایت کیا ہے کہ حضرت خدیجہ نے حضور سے فرمایا کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے پروردگار نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ اور نیز عروہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جبریل امین نے حضور کے پاس آنے میں تاخیر کی، جس سے آپ بہت سخت گھبرائے تو آپ کی یہ گھبراہٹ دیکھ کر حضرت خدیجہ نے فرمایا بظاہر آپ کے پروردگار نے آپ کو چھوڑ دیا ہے یہ آیت نازل ہوئی یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور ان کے راوی ثقہ ہیں۔ حافظ ابن حجر تطبیق کے طور پر فرماتے ہیں کہ امِّ جمیل اور حضرت خدیجہ دونوں نے یہ بات کہی، مگر ام جمیل نے طعنہ اور دشمنی کے طور پر اور حضرت خدیجہ نے اظہار افسوس اور حسرت کے طور پر کہی۔ حاکم اور بیہقی نے دلائل میں اور طبرانی وغیرہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ان تمام ممالک کو پیش کیا گیا جو آپ کی امت کے ہاتھوں فتح ہوں گے اس سے آپ خوش ہوئے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى طبرانی نے اوسط میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے وہ علاقے پیش کیے گئے جو میرے بعد میری امت کے لیے فتح ہوں گے سو اس سے مجھے خوشی ہوئی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَلَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى۔ اس روایت کی سند حسن ہے۔